[0:00]الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونؤمن به ونتوكل عليه ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادي له ونشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له ونشهد ان سيدنا ومولانا محمد عبده ورسوله صلى الله عليه وسلم. اما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم من عمل صالحا من ذكر او انثى وهو مؤمن فلنحيينه فلنحيينه حياه طيبه ولنجزينهم اجرهم باحسن ما كانوا يعملون وقال تبارك وتعالى ولا تكونوا كالتي نقضت غزلها من بعد قوه انفا صدق الله العظيم
[1:36]اللہ رب العزت نے انسان کی زندگی میں یہ ترتیب رکھی ہوئی ہے یہ انسان جو کوئی عمل کرتا ہے
[1:57]اس کا اجر اس کا بدلہ اللہ اخرت میں عطا فرماتا ہے لیکن اس کے عمل کا جو اثر ہے وہ اللہ انسان کی زندگی میں ظاہر کرتا ہے یہ انسان نیک اعمال کرتا ہے تو اس کے بھی اثرات ہوتے ہیں اس سے گناہ ہو جاتا ہے تو بھی اس کے اثرات ہوتے ہیں یہ بات اللہ نے ہمیں قرآن مجید کے اندر سمجھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات سے سمجھائی پھر انسان کا جو نیک اعمال کا اجر و ثواب ہے وہ اللہ اخرت میں عطا فرماتا ہے اور گناہوں کی جو سزا ہے وہ بھی اللہ اخرت میں دیتا ہے یہ انسان اس کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ وہ نیک اعمال کے اثرات کو باقی رکھے یا نہ رکھے یہ اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے اللہ نے انسان کو یہ بھی اختیار دیا ہے کہ وہ گناہوں کے اثرات کو باقی رکھے یا نہ رکھے اس بات کا بھی اختیار اللہ نے انسان کو دیا ہے بالکل اسی طرح انسان اپنے اعمال کا بدلہ اخرت میں چاہتا ہے نیک اعمال کا تو انسان اپنے کسی عمل سے اخرت کے اجر و ثواب کو خود ختم کر لیتا ہے اور جو گناہوں کا عذاب ہے اخرت میں وہ بھی اللہ نے انسان کے اختیار میں رکھا ہے کہ اگر یہ انسان خود چاہے تو وہ اپنے گناہوں کے ان عذاب کو اپنے آپ سے دور کر لے ان چاروں بنیادی باتوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ ان چاروں باتوں پر آج کی پوری بات کا مدار ہے یہی آج کا موضوع ہے انسان جو اچھے اعمال کرتا ہے نمبر ایک اس کے اثرات اس کی زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں اور انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ ان اثرات اچھے اثرات کو ختم کر ڈالتا ہے کبھی اپنی حرکتوں سے دلائل دوں گا ایک ایک بات پر عرض کروں گا انشاءاللہ نمبر دو انسان کے جو اچھے اعمال کا بدلہ اخرت میں انسان کو اللہ نے دینا ہے یہ انسان اپنی زندگی میں کچھ حرکتیں ایسی کرتا ہے جس سے اس کے اخرت کے اچھے اعمال کا بدلہ ثواب ختم ہو جاتا ہے دو باتیں ہوئیں تیسری بات انسان گناہ کرتا ہے اور اس گناہ کے اثرات اس کی زندگی میں ہوتے ہیں لیکن اگر وہ چاہے تو ان برے کاموں کے اثرات کو زندگی میں سے ختم کر دے اللہ نے اس انسان کو اس کا اختیار اور طاقت دی ہے تین باتیں ہو گئیں چوتھی بات یہ ہے کہ انسان جو گناہ کرتا ہے اس کی سزا اللہ نے اخرت میں دینی ہے اور پوری زندگی میں اس انسان کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ وہ اخرت کی سزاؤں کو ختم کروا لے بالکل ختم کروا لے
[6:08]ان چاروں باتوں کا اختیار انسان کو دیا ہے اب جو بات سمجھنے کی وہ یہ کہ اللہ نے رمضان میں اتنے نیک اعمال کرنے کی توفیق دی ان تمام اعمال کے اثرات انسان کی زندگی میں ظاہر ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے لیکن یہ انسان ان اچھے اعمال کا اثر بسا اوقات خود ختم کر دیتا ہے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھنے والی ہے اللہ نے سورہ نحل کی آیت نمبر 97 میں فرمایا جو میں نے شروع میں تلاوت کی اللہ نے توفیق دی من عمل صالحا من ذکر او انثی و هو مؤمن جو کوئی مرد یا عورت نیک اعمال کرے اس حال میں کہ وہ ایمان والا ہو
[7:33]وہو مؤمن کی شرط بڑی زوردار قسم کی ہے جو کوئی مرد یا عورت نیک اعمال کرے اس حال میں کہ ایمان والا ہو
[7:47]فلنحيينه حياه طيبه تو ہم ضرور بالضرور اس دنیا میں اس کو پاکیزہ زندگی دیں گے یہ اللہ کا وعدہ ہے یہ اثرات ہیں نیک اعمال کے یہ بندہ اچھے کام کرے نیک کام کرے اللہ اس کو اس دنیا میں پاکیزہ زندگی دے گا ولنجزينهم اجرهم باحسن ما كانوا يعملون اور ہم ضرور بالضرور اس کو بدلہ دیں گے اس کے اعمال کا جو یہ کرتا ہے اخرت کے اندر تو دونوں باتیں ہوئیں اس آیت میں نمبر ایک اچھے کاموں کے ذریعے اللہ پاکیزہ زندگی دیتا ہے پاکیزہ زندگی حیات طیبہ اس کی تعریف بہت آسان سی حیات طیبہ کس کو کہتے ہیں پاکیزہ زندگی پاک زندگی بہت آسان گناہوں سے پاک زندگی
[8:59]اب فورا بات سمجھ میں آ گئی جو بندہ اچھے کام کرتا رہتا ہے ظاہر ہے اس کے گناہوں سے زندگی پاک ہوتی ہے اس کو اللہ زندگی میں حیات طیبہ دیتا ہے سارے مفسرین اس حیات طیبہ پر متفق ہیں اور حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ نے یہاں اس آیت کا سورہ نحل کی آیت 97 کا ترجمہ کرتے ہوئے ایک ایسا لفظ ترجمے میں ذکر کیا جو کسی اور مفسر نے ذکر نہیں کیا اس کو غور سے سنیے گا ترجمہ من عمل صالحا من ذك او انثى وهو مؤمن فلنحيينه حياه طيبه جو کوئی مرد یا عورت نیک اعمال کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ ایمان والے ہوں فلنحيينه حياه طيبه تو حضرت تھانوی یہاں ترجمہ کر رہے ہیں بیان القرآن میں کہ ہم ضرور بالضرور اس کو پر لطف زندگی دیں گے کمال کر دیا ترجمے نے ہم ان کو پر لطف زندگی دیں گے مزے والی زندگی معلوم ہوا نیک کاموں میں اس انسان کو مزہ آنے لگتا ہے اس کو گناہوں میں مزہ نہیں آتا
[10:20]یہ مزاج اللہ بنا دیتا ہے نیک اعمال کی وجہ سے انسان کے اوپر ایک اثر تو یہ ہوتا ہے اس کی پاکیزہ زندگی ہوتی ہے روزہ رکھ کر آپ کی پاکیزہ زندگی کیسے ہوئی تھی کہ آپ نے روزے کے اندر گناہ کرنے چھوڑ دیے تھے روزے کے اندر کیا کیا گناہ تھے جس سے انسان رکا روزے کی حالت میں کھانا گناہ تھا روزہ ٹوٹ جاتا پینا گناہ تھا روزہ ٹوٹ جاتا ازدواجی تعلق بیوی سے قائم کرنا گناہ تھا روزے کے اندر حالانکہ سارے حلال کام لیکن چونکہ روزہ رکھ لیا اب اس کے لیے وہ منع ہو گئے تھے گناہ ہو گئے تھے تو اس انسان نے روزوں کی حالت میں گناہوں سے بچ کر زندگی گزاری ہے
[11:28]اللہ نے روزے کی حالت میں پاکیزہ زندگی عطا کی تھی اب میں مثالیں دے رہا ہوں کہ اللہ نیک اعمال کے ذریعے پاکیزہ زندگی کیسے دیتا ہے تو اللہ نے کم از کم ان تین گناہوں سے بچنے والی زندگی تو دی تھی نا رمضان میں آپ نماز پڑھتے رہے اب بھی پڑھنے آئے ہیں جمعے کی نماز تو 21 ویں پارے کی پہلی آیت پڑھ لیجیے گا آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ نماز پڑھنے سے اللہ پاکیزہ زندگی کیسے دیتا ہے ہر نمازی کو یہ نہ سمجھے وہ اولیاء اللہ ہوتے ہیں اللہ کے ولی ہوتے ہیں نیک لوگ ہوتے ہیں وہ تو جن کو نمازوں میں بڑا لطف آتا ہے فلاں ہوتا ہے ہم تو ٹوٹی پھوٹی نمازیں پڑھتے ہیں یہ ناشکری کے کلمات ہیں ناشکری کے کلمات ہیں ہر بندہ جو نماز پڑھتا ہے اس کو 21 ویں پارے کی پہلی آیت کے مطابق پاکیزہ زندگی ہر صورت میں ملتی ہے کوئی بندہ انکار نہیں کر سکتا کوئی نمازی انکار نہیں کر سکتا آیت پڑھتا ہوں ترجمہ کروں گا اس لیے کہ آج معاشرے میں انسان کو گناہ گار قرار دے دے کر دے دے کر دے دے کر ایسی مایوسی ذہنوں میں آ جاتی ہے کہ یہ نماز پڑھنے والا بھی مایوس نعوذ باللہ من ذالک اللہ کہتا ہے لا تقنطوا من رحمه الله اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو اس لیے مایوسی مت پھیلائیے اپنے بیانات سے اپنی باتوں سے الٹے الٹے مسئلے بتا کے مایوسی نہ پھیلائیں لوگوں میں کم از کم دین کے اعتبار سے تو نماز پڑھنے والا ہر ایک شخص اس کو اللہ پاکیزہ زندگی دیتا ہے 21 ویں پارے کی پہلی آیت اتل ما اوحی الیک من الکتاب واقم الصلاه ان الصلاه تنہ عن الفحشاء والمنکر اللہ کہہ رہا ہے ان الصلاه تنہ عن الفحشاء والمنکر بے شک نماز انسان کو بے حیائیوں اور برائیوں سے روکتی ہے جتنی دیر یہ نماز پڑھتا رہتا ہے اتنی دیر کم از کم بے حیائیوں برائیوں سے رکا رہتا ہے کم از کم اتنی دیر تو پاکیزہ زندگی ملی نا اس کو تو ماننا پڑے گا ہر نمازی کو ماننا پڑے گا کہ اللہ بہت سچا من غدق من الله قیل اللہ سے زیادہ کون سچا ہو سکتا ہے اللہ کہتا ہے نماز بے حیائیوں برائیوں سے روکتی ہے ہر ایک کو روک کے چھوڑتی ہے کہ کچھ کر لو میں نے کہا نا ایک ایک نمازی جو نماز پڑھنے ایا ہے وہ آج جمعے کے اندر پاکیزہ زندگی پا رہا ہو گا یقینی طور پر تو نماز پڑھنے سے بے حیائی برے کاموں سے بچ رہا تو یہ پاکیزہ زندگی پاتا رہا اب آپ نے بات کو سمجھنا ہوگا اگر کوئی شخص اپنے گھر میں بیوی بچوں کے اندر گھریلو زندگی میں بچوں میں بچیوں میں بے حیائی اور برے کام دیکھ رہا ہے تو اس کو اس کا علاج بھی پتہ چل گیا 21 ویں پارے کی پہلی آیت سے کہ بچوں اور بچیوں کو نماز میں مصروف کر دیجئے نماز کا پابند بنا دیجئے اللہ ان کو پاکیزہ زندگی دے دے گا اور بے حیائی اور برائیوں سے روک لے گا اتنا تو کر لے نا اتنا تو کر لے پھر اسی طرح آپ نے روزے رکھے تو اللہ نے تقوی پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ اللہ نے روزے کے تین مقصد بتائے اس پر بڑی تفصیل سے گزشتہ ملاقاتوں میں بات ہوئی کہ اللہ نے روزے کے ذریعے تین مقصد بتائے روزے کی آیات میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 182 سے لے کر 187 تک اللہ تعالی نے تین مقصد بتائے روزے کے تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ تاکہ تم شکر گزار بندے بن جاؤ تاکہ وہ ہدایت پا جائیں تو روزے کے اللہ نے تین فائدے بتائے تین اثرات بتائے تاکہ تم متقی ہو جاؤ یہ اتنا متقی ہو گیا تھا روزے کے اندر کہ بند کمرے میں حلال کھانا حلال پینا اس نے صبح سے شام تک نہیں کیا حلال سے رکا رہا اتنا متقی ہو گیا اللہ نے تقوی کی تربیت کر کے چھوڑی تاکہ تم شکر گزار ہو جاؤ صبح سے لے کے شام تک اللہ نے نعمتوں کو روک لیا کھانے پینے کو تو اب جب افطار کرتا ہے تو اس کے شکر کے کلمات نکلتے ہیں تاکہ وہ ہدایت پا جائیں تو اللہ نے روزے کے ذریعے ہدایت دی اب ہدایت کے اثرات کو یہ باقی رکھے اب ہدایت کے اثرات کو باقی رکھے شروع میں میں نے عرض کیا کہ یہ انسان جب نیک عمل کرتا ہے تو اللہ اس کو زندگی میں اس نیک عمل کے اثرات دکھاتا ہے اور میں نے شروع میں عرض کیا کہ اللہ نے اس انسان کو طاقت دی ہے کہ وہ ان اچھے اثرات کو باقی رکھے یا ختم کر دے
[18:45]نمبر دو نیک اعمال کے جو اللہ نے بدلہ رکھا اخرت کے اندر کہ میں اس عمل کا یہ بدلہ دوں گا یہ بدلہ دوں گا ان اعمال کا بدلہ اچھے کاموں کا بدلہ ثواب اخرت کے اندر باقی رکھنا یا نہ رکھنا اس انسان کے اختیار میں اللہ نے دے دیا ہے یہ بات بڑے غور سے یہ نمبر دو بات بڑے غور سے سمجھنی ہے کہ آخرت میں جو اجر و ثواب ہے کبھی کبھی انسان اپنے اعمال کے ذریعے اپنی حرکتوں کے ذریعے آخرت کے ثواب کو ختم کر بیٹھتا ہے یہ بات اللہ نے ہمیں قرآن مجید میں بتائی کبھی کبھی کچھ اعمال تو انسان ایسے کرتا ہے کہ اس کی زندگی کے سارے اعمال ختم ہو جاتے ہیں
[19:45]آیت پڑھ کر اس بات کو سمجھانا مقصود ہے کبھی کبھی انسان ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جس سے آخرت کے اندر تمام نیک کاموں کا اجر و ثواب ختم ہو جاتا ہے جیسے اللہ تعالی نے فرمایا ان اشرک عملک اگر تم شرک کیا تو ساری زندگی کے پچھلے نیک اعمال ضائع ہو جائیں گے اتنا اللہ ناراض ہو جاتا ہے تو معلوم ہوا نمبر ایک شرک ایک ایسی چیز ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ انسان کے سابقہ اعمال کو ضائع کر دیتا ہے سارے
[20:45]ایک یہ بات ہمیں قرآن مجید سے معلوم ہوتی ہے ایک اور عمل سورہ حجرات میں اللہ ہمیں سمجھاتا ہے کہ ایک اور حرکت انسان کبھی کبھی کر بیٹھتا ہے جس سے انسان کی زندگی کے سارے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں
[21:18]اے ایمان والو تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے زیادہ اونچی آواز مت کرو اور ان کو باہر سے زور زور سے کمرے کے باہر سے مت پکارو لا تجعلوا له بالقول كجہ بعضکم ان حبت اعمالکم وانتم لا تشعرون کہ تمہارے سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا معلوم ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے سے نیک انسان کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں جتنا مرضی پہلے نیک ہو دو باتیں ہوئیں
[22:48]تیسری اور آخری بات جو اللہ نے سمجھائی کہ انسان کے سارے اعمال کیسے ضائع ہوتے ہیں وہ ہے مرتد ہونا اسلام دین اسلام اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد ساری زندگی بیچارہ مسلمان رہا لیکن کسی مرحلے میں آ کر یہ دین سے پھر گیا اور مرتد ہو گیا تو ایسی صورت میں بھی اس کے سارے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں یہ بات بھی اللہ نے قرآن مجید میں سمجھائی
[23:27]جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے پھر وہ مر جائے اس حال میں کہ وہ کافر ہو چکا تھا بس یہ وہ لوگ ہیں جن کے سارے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں
[37:51]اس انسان کو چاہیے کہ ان اچھے اثرات کو ختم نہ ہونے دے جیسے رمضان ابھی گزرا تو اب گناہوں والی زندگی کی طرف نہ جائے انسان تاکہ اس کے اثرات باقی رہ جائیں نمبر دو یہ انسان جو نیک اعمال کرتا ہے اخرت کے اندر اس کا بدلہ ملے گا اس انسان کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ اگر چاہے تو ان اعمال کا بدلہ ختم کروا دے انسان کچھ حرکتیں ایسی کر بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے آخرت میں نیک اعمال کا ثواب سارا کا سارا ختم ہو جاتا ہے ابھی اس کی میں مثالیں قرآن مجید سے دیں اور تیسری بات میں نے عرض کی کہ اگر انسان گناہ کرتا ہے تو گناہ کے اثرات بھی انسان کی زندگی میں ہوتے ہیں اور اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ ان اثرات کو ختم کر ڈالے کر کے دیکھ لے گھر میں کبھی کبھی لڑائی جھگڑے ہو جاتے ہیں کبھی بیوی سے جھگڑا کبھی بھائیوں سے جھگڑا ٹھیک اپنے رویے کو درست فرما لے اور اچھا سلوک کرنا شروع کر دے بیوی بھی سابقہ جتنی باتیں وہ بھول جائے گی بھائی ہے وہ بھی بھول جائے گا اگر انسان کا بھائی کا عمل ٹھیک ہو جائے معلوم ہوا انسان اپنے عمل سے زندگی میں گناہوں کے اثرات ختم کر سکتا ہے آیت بھی میں نے پڑھ کے سنائی اللہ نے قانون بنایا آپ برائی ہو جائے کوئی غلطی ہو جائے آپ اس کے بعد نیکیاں کرنا شروع کر دیں اللہ وہ معاف کر دے گا نمبر چار انسان سے گناہ ہو جائیں تو اس کا عذاب اللہ نے اخرت میں رکھا ہے اور اللہ نے انسان کو زندگی میں اختیار دیا ہے کہ وہ اخرت کے عذاب کو اپنے نامہ اعمال میں سے ختم کروا لے اب لوگ سوال کرتے ہیں یہ جملہ سننے کے بعد کہ مولانا اگر کوئی بڑے بڑے گناہ ہو چکے ہوں تو وہ بھی ان کی بھی سزا آخرت کی مجھ سے معاف ہو جائے گی تو اس کا جواب ہے کہ جی ہاں بعض لوگ کہتے ہیں ہم سے بہت زیادہ گناہ ہو گئے تو کیا ایسی صورت میں اللہ سارے گناہوں کو معاف کر دے گا بعض لوگ اس میں بھی الجھتے ہیں



