Thumbnail for "Most Secure" Museum Robbed in 8 Mins by Zem TV

"Most Secure" Museum Robbed in 8 Mins

Zem TV

10m 36s1,820 words~10 min read
Auto-Generated

[0:00]پیرس میں موجود لوو میوزیم جسے دنیا کا سب سے زیادہ محفوظ اسٹرکچر سمجھا جاتا تھا سرعام دن دہاڑے لوٹ لیا گیا. The hunt is underway for thieves who stole jewelry from one of the world's most famous museums. کوئی یقین ہی نہیں کر پا رہا کہ جن حیرت انگیز رابریز کو ہالی ووڈ موویز میں دیکھا جاتا تھا وہ حقیقت میں سب کے سامنے بھی ہو سکتی ہیں. زیم ٹی وی کی ویڈیوز میں ایک بار پھر سے خوش امدید. ناظرین 19 اکتوبر 2025 کی صبح لوو میوزیم روٹین کے مطابق عام لوگوں کے لیے کھلتا ہے. گارڈز اپنی اپنی جگہ پر تھے اور دنیا بھر سے ائے ٹورسٹس میوزیم کے اندر داخل ہوتے ہیں. صبح کے ساڑھے اٹھ بجے اب میوزیم کو کھلے 30 منٹ ہو چکے تھے. تبھی میوزیم کی دوسری سائیڈ جو ریور سین کو لگتی ہے وہاں ایک غیر معمولی حرکت ہوتی ہے. ایک ٹرک جو عام طور پر فرنیچر کو ہائی فلورز پر پہنچانے کے استعمال میں اتا ہے ا کر میوزیم کی دیوار کے پاس روکتا ہے. اس ٹرک پر ایک مکینیکل لفٹ لگی ہوئی تھی. پر نہ تو اس ٹرک کو کوئی فرنیچر اوپر چڑھانا تھا اور نہ ہی اس میں بیٹھے لوگوں کی نیت صاف تھی. اس گروپ میں ٹوٹل چار لوگ شامل تھے انہوں نے یلو اور اورنج کلرز کی ویسٹ پہنی ہوئی تھی. بالکل ویسے ہی جیسے کنسٹرکشن ورکرز پہنتے ہیں پر انہوں نے اپنے چہرے بلکلاواز پہن کر چھپائے ہوئے تھے. چار میں سے دو لوگ بنا کوئی پرواہ کیے مکینیکل لفٹ کو ایکسٹینڈ کر کے میوزیم کی پہلی منزل پر موجود ایک بالکنی تک پہنچتے ہیں. یہ بالکنی میوزیم کے سب سے شاندار حصوں میں سے ایک گیلری دی اپولون یعنی گیلری اف اپولو تک جاتی ہے. یہ وہی گیلری ہے جہاں فرانس کے شاہی خزانے نمائش کے لیے رکھے گئے تھے. پر اپولو گیلری کے اندر گھسنے کے لیے یہاں ایک بڑی رکاوٹ تھی. ایک انتہائی موٹے شیشے کی دیوار بالکنی پر پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنے بیگ سے انڈسٹریل گریڈ ڈسک کٹر نکالا اور چند ہی سیکنڈز میں گیلری کے شیشے میں سوراخ کر کے اندر گھسنے میں کامیاب ہو گئے. یہ سب کچھ اتنا جلدی ہوا کہ ابھی تک سیکورٹی گارڈز کو اس کا علم نہیں تھا. پر اس حرکت سے میوزیم کا سیکورٹی الارم بج اٹھا اور گیلری میں موجود گارڈز نے چوروں کو دیکھ لیا. پر چوروں کو کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی انہوں نے گارڈز کو پاور ٹولز دکھا کر دھمکایا اور اپنے کام پر لگے رہے. گارڈز نے فورا پروٹوکول کو فالو کرتے ہوئے گیلری میں سے ٹورسٹس کو نکالنا شروع کیا. میوزیم میں اب افرا تفری مچ چکی تھی. ایک عینی شاہد نے بعد میں بتایا کہ وہاں مکمل خوف و حراس کا عالم تھا. لوگ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ ہو کیا رہا ہے. جب تک پولیس اور اسٹاف ممبرز پریشان لوگوں کو میوزیم سے باہر نکالنے میں مصروف تھے ان دو چوروں نے انتہائی اطمینان سے گیلری میں موجود ڈسپلے کیسز کے شیشے توڑے نو قیمتی خزانے اٹھائے اور پھر اسی کٹے ہوئے شیشے سے باہر نکل کر بالکنی میں چلے گئے. وہاں نیچے ان کے دو ساتھی اب اسکوٹرز پر ان کا انتظار کر رہے تھے. وہ لفٹ کی سیڑھیوں سے تیزی سے نیچے اترے اسکوٹرز پر بیٹھے اور وہاں سے فرار ہو گئے. یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ کسی کو سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا. پولیس کے مطابق چور میوزیم کے اندر چار منٹوں تک رہے اور پورا اپریشن یعنی ٹرک کو پارک کرنا، اسٹیرز ایکسٹینڈ کرنا، شیشہ کاٹنا اور لوٹ مچا کر بھاگ جانا. اس میں صرف اور صرف آٹھ منٹس کا وقت لگا. جاتے جاتے انہوں نے لفٹ والے ٹرک کو اگ لگانے کی کوشش بھی کی تاکہ پولیس کو پیچھے ٹرک پر کوئی ثبوت یا فنگر پرنٹس نہ مل سکیں. لیکن میوزیم کے ایک بہادر سٹاف ممبر نے فورا مداخلت کی اور انہیں ایسا کرنے سے روک دیا. یہ چور دریا کے کنارے سے ہوتے ہوئے بولیورڈ پیریفیرک یعنی پیرس کے رنگ روڈ سے اے 6 موٹروے کے ذریعے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے. یہ ڈے لائٹ رابری فرانس کے لیے ناقابل برداشت ذلت تھی. لیکن سوال یہ ہے کہ میوزیم سے اخر چوری کیا ہوا. چوروں نے کن چیزوں کو نشانہ بنایا تھا. جب نقصان کا اندازہ لگایا گیا تو پورے فرانس میں سوگ کی لہر دوڑ گئی. جو چیزیں چوری ہوئی تھیں ان کی فائنینشل قیمت تو تھی ہی لیکن ان کی تاریخی اور ثقافتی ویلیو کو پرائس لیس کہا گیا ہے. منسٹری اف کلچر کے مطابق لووا میوزیم سے ٹوٹل آٹھ قیمتی چیزیں چوری ہوئی ہیں. اب یہاں اپ سوچیں گے کہ پہلے تو میں نے نو کہا تھا. جی ہاں چوروں نے نو چیزیں ہی چوری کی تھیں لیکن بھاگتے وقت ان سے ایک چیز سڑک پر ہی گر گئی. یہ 170 سال پرانا ایمپریس یوجینی کا تاج تھا. ایمپریس یوجینی جو نپولین تھری کی بیوی تھی یہ تاج خاص ان کے لیے 1855 میں بنوایا گیا تھا. جب چور اس تاج کو شیشے کے سوراخ سے نکال رہے تھے تو سوراخ چھوٹا ہونے کی وجہ سے یہ نکل نہیں رہا تھا. زبردستی باہر نکالنے سے اس تاج کو کافی نقصان بھی پہنچا اور اخر میں روڈ پر گرنے کی وجہ سے بھی اس پر کئی سکریچز لگے. میوزیم کے ڈائریکٹر نے بعد میں کہا کہ اس کی ریپیئر شاید ممکن ہو. لیکن جو اٹھ چیزیں چلی گئیں ان کا نقصان پورا نہیں ہو سکتا. ان میں شامل تھے ایمپریس یوجینی کا ایک خوبصورت ٹیارا اور ایک بروچ. ایمپریس میری لوئز جو نپولین بونا پارٹ کی دوسری بیوی تھیں ان کا ایمرلڈ کا ہار اور اسی سیٹ کی بالیاں. اس کے علاوہ کوئین میری ایلی اور کوئین ہارٹنس کے سفائر سیٹ کا ایک ٹیارا ایک ہار اور ایک بالی اور ایک خاص قسم کا بروچ جسے ریلی کویری بروچ کہا جاتا تھا. یہ تمام چیزیں 19 سینچری کی تھیں اور ان میں ہزاروں ہیرے، ایمرلڈز، نیلم اور دیگر قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے. یہ صرف زیور ہی نہیں بلکہ یہ فرانس کی شاہی تاریخ کا حصہ تھے. ایک ایسٹیمیٹ کے مطابق ان تمام جولری میں استعمال ہونے والے سونے، پتھر اور ہیروں کی قیمت 102 ملین ڈالرز تھی. لیکن یہ جس شاہی خاندان کے تھے اس حساب سے دیکھا جائے تو 102 ملین ڈالرز میں کیا ون بلین ڈالرز میں بھی اس کی بھرپائی نہیں ہو سکتی. تبھی اسے پرائس لیس کہا گیا ہے. حیرانی کی بات یہ تھی کہ چوروں نے اس گیلری میں موجود سب سے قیمتی چیزوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا. جیسا کہ وہاں کے مشہور زمانہ ریجنٹ ڈائمنڈ جس کی اکیلے کی قیمت 51 ملین یوروز یا 60 ملین ڈالرز ہے. اس کے علاوہ سینسی اور ہارٹنسیا نامی ڈائمنڈ بھی وہاں رکھے تھے لیکن چوروں نے انہیں نظر انداز کر دیا. اسی وجہ سے ایسا مانا جا رہا ہے کہ شاید وہ کسی خاص ارڈر پہ ائے تھے اور انہیں پتہ تھا کہ انہیں کیا چرانا ہے. پیرس پروسیکیوٹرز افس نے کہا ہے کہ یہ نقصان پیسوں کا نہیں بلکہ فرانس کے اتحاس کا نقصان ہے. پر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کے سب سے مشہور میوزیم جہاں ہر سال کروڑوں لوگ اتے ہیں اتنی سیکورٹی کے باوجود اخر کمی کہاں رہ گئی. جب انویسٹیگیشن شروع ہوئی تو کئی حیرت انگیز انکشافات ہوئے. فرینچ میڈیا نے ابتدائی رپورٹس میں بتایا ہے کہ میوزیم کے اس حصے میں جہاں چوری ہوئی ہر تین کمروں میں سے ایک کمرے میں کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ ہی نہیں تھا. جی ہاں دنیا کے سب سے بڑے میوزیم میں سی سی ٹی وی کوریج ہی مکمل نہیں تھی. اور جو ایکسٹرنل کیمرہز لگے تھے وہ بھی اس بالکنی کو پوری طرح کور نہیں کر رہے تھے جہاں سے چور شیشہ کاٹ کر داخل ہوئے. لیکن اس سے بھی بڑا جھٹکا تب لگا جب فرینچ سینٹ کی ایک ممبر نیٹیلی گولے نے بی بی سی کو بتایا کہ جو الارم بجا تھا وہ اصل میں میوزیم کا وائیڈر الارم تھا. اس بالکنی میں ایک لوکلائزڈ الارم سسٹم بھی لگا تھا لیکن وہ کچھ دنوں پہلے ہی خراب ہو گیا. اگر وہ الارم صحیح ہوتا تو سیکورٹی کو بالکنی میں چوروں کی اینٹری کا پتہ چل جاتا. میوزیم کی ڈائریکٹر نے چوری کے فورا بعد سیکورٹی کی اس ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے منسٹری اف کلچر کو اپنا ریزگنیشن بھی پیش کیا لیکن ان کا یہ استعفی قبول نہیں کیا گیا. اس چوری نے فرانس کے میوزیمز کی سیکورٹی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے. اور اپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ چوری کا کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا. اسی میوزیم میں 1911 میں مونا لیزا کی پینٹنگ بھی چوری ہوئی تھی. میوزیم کے ایک پرانے ایمپلائی نے لیوناڈو ڈونچی کی مشہور پینٹنگ مونا لیزا کو چرایا تھا. اس نے پینٹنگ کو کورٹ کے نیچے چھپایا اور اسانی سے باہر نکل گیا. پینٹنگ دو سال بعد اٹلی سے برامد ہوئی جب چور اسے بیچنے کی کوشش کر رہا تھا. اس واقعے نے ہی مونا لیزا کو دنیا کی سب سے مشہور پینٹنگ بنایا تھا. اس کے بعد 1976 میں اسی میوزیم سے کنگ چارلز ایکس کی تلوار بھی چوری ہو چکی ہے. تین چوروں نے میوزیم کی کھڑکی توڑی اور اندر گھس کر کنگ چارلز ایکس کی تلوار چرائی تھی جو اج تک برامد نہیں ہوئی. اور اخری بار 1998 میں بھی یہ میوزیم واردات کا مرکز رہا ہے. اس دوران بھی چوروں نے ایک پینٹنگ کو دن دہاڑے فریم سے نکالا اور بھاگنے میں کامیاب ہو گئے. یہ پینٹنگ بھی اج تک لاپتہ ہے. اور اب 27 سال بعد یہ رابری ہوئی ہے. اس وقت 60 سے زائد بلکہ کچھ رپورٹس کے مطابق 100 سے بھی زیادہ انویسٹیگیٹرز اس کیس پر کام کر رہے ہیں. خوش قسمتی سے سیٹرڈے 25 اکتوبر 2025 کو پولیس نے دو سسپیکٹس کو اریسٹ کیا ہے جن کے اس رابری کے ساتھ گہرے لنکس نظر ا رہے ہیں. پولیس نے موقعے سے 150 کے قریب ڈی این اے سیمپلز اور فنگر پرنٹس کلیکٹ کی تھیں. یہ سیمپلز چوروں کے سامان جیسا کہ ہیلمٹ، گلوز اور ٹرک کے اندر سے لیے گئے تھے. اور پولیس کا کہنا ہے کہ ان کو ڈی این اے سیمپلز میچ ہونے کی بیس پر اریسٹ کیا گیا ہے. جس میں سے ایک سسپیکٹ کا پرانا گولڈ تھفٹ کا ریکارڈ بھی موجود ہے. پولیس کو امید ہے کہ پیرس میوزیم رابری میں ملوث تمام چوروں اور ماسٹر مائنڈ کو جلد ہی پکڑ لیا جائے گا. پر ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان سسپیکٹ سے چوری شدہ سامان ملا ہے کہ نہیں. چوری کے بعد میوزیم کو 22 اکتوبر تک بند رکھا گیا تھا لیکن ابھی بھی اپولو گیلری بند پڑی ہے. پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ہائیلی ارگنائزڈ اور پروفیشنل چوری تھی اور جانچ ابھی بھی جاری ہے. امید ہے زیم ٹی وی کی یہ ویڈیو بھی اپ لوگ بھرپور لائک اور شیئر کریں گے. اپ لوگوں کے پیار بھرے کمنٹس کا بے حد شکریہ ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں.

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript