Thumbnail for Chandham Asr ki Roshni Mein Abdul Haq ki Khaka Nigari by CH 01: CEC: SANSKAR: Language and Literature...

Chandham Asr ki Roshni Mein Abdul Haq ki Khaka Nigari

CH 01: CEC: SANSKAR: Language and Literature...

21m 58s3,458 words~18 min read
Auto-Generated

[0:20]عزیز طلباء و طالبات ہمارا اج کا موضوع ہے چند ہم عصر کی روشنی میں عبدالحق کی خاک نگاری خاکہ نگاری ایک فن ہے جس میں اختصار کے ساتھ اشاروں کے ذریعے کسی شخص کی سیرت کے کچھ ایسے نقوش ابھارے جاتے ہیں جو اس کے کردار کا ایک زندہ اور حقیقی تصور دے سکیں۔ خاکہ نگاری میں زیر بحث شخصیت کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ اس کے اوصاف و کمال سامنے آتے ہیں اور پڑھنے والوں پر وہ شخصیت پوری طرح روشن ہو جاتی ہے۔ شخصیت کے تاریخ گوشوں کو بھی سامنے لایا جاتا ہے مگر نہیں کسی شخصیت کو مسخ کرنا چاہیے اور نہیں کسی کو فرشتہ بنا کر پیش کرنا چاہیے۔ خاکہ نگاری کی شوری کوشش پہلی بار محمد حسین آزاد نے آب حیات میں کی ہے اور ان کی اس تصنیف کی خاکہ نگاری کی تاریخ میں ہمیشہ ایک درخشاں باب کی حیثیت رہے گی۔ آزاد کے بعد کئی فنکاروں نے اس روایت کو اگے بڑھایا اور ان میں سے جن فنکاروں نے خاکہ نگاری کے فن کو کامیابی کے ساتھ بھرتا ہے ان میں مولوی عبدالحق کا نام خصوصا کے ساتھ قابل ذکر ہے۔ عبدالحق کو مرقع نگاری میں بڑا کمال حاصل تھا انہوں نے اپنے عہد کی متعدد شخصیتوں پر قلم اٹھایا اور انہیں حیات جاودانی عطا کی۔ ان شخصیتوں میں نامور اہل کرم بھی ہیں صاحب ثروت حضرات اور بے حیثیت غریب افراد بھی۔ عبدالحق ایک شاگرد شیخ چاند نے ان کے مضامین کو چند ہم عصر کے نام سے یکجا کر دیا جو سب سے پہلے 1937 میں منظر عام پر آیا۔ یہ ان کے ان خاکہوں کا مجموعہ ہے جو مولوی عبدالحق نے عام طور پر اپنے معاصرین یا عزیز و اقارب کی موت کی خبر سن کر لکھے تھے۔ چند ہم عصر میں شامل خاکوں کے مطالعے کے بعد عبدالحق کی خاکہ نگاری کی جو خصوصیت ابھر کر سامنے اتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انہوں نے محض اکابر و مشاہیر کے خاکے نہیں بلکہ نادار اور معمولی انسانوں پر بھی خاکے لکھے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عبدالحق کو جہاں بھی انسانی خوبیاں نظر ائی اور انہوں نے اسے متاثر کیا ان پر مولوی صاحب نے ضرور خاکہ لکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خاکوں میں تاثر اور دلکشی بدرجۃ اتم پائی جاتی ہے۔ اس ضمن میں نام دیو مالی اور گڑی کا لال نور خان کا ذکر کیا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنی انسانی خوبیوں سے عبدالحق کو اس قدر متاثر کیا کہ وہ ان پر خاکہ لکھنے کے لیے مجبور ہو گئے ان افراد پر عبدالحق نے اتنے جاندار خاکے لکھے کہ یہ خاکے اردو ادب میں شہکار کا درجہ حاصل کر گئے۔ اس ضمن میں گڈی کا لال نور خان کے شروع میں عبدالحق کا یہ بیان بے حد دلچسپ ہے کہ لوگ بادشاہوں اور امیروں کے قصیدے اور مرثیے لکھتے ہیں نامور اور مشہور لوگوں کے حالات قلمبند کرتے ہیں میں ایک غریب سپاہی کا حال لکھتا ہوں اس خیال سے کہ شاید کوئی پڑھے اور سمجھے کہ دولت مندوں امیروں اور بڑے لوگوں کے ہی حالات لکھنے اور پڑھنے کے قابل نہیں ہوتے بلکہ غریبوں میں بھی بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی ہمارے لیے سبق اموز ہو سکتی ہے انسان کا بہترین مطالعہ انسان ہے اور انسان ہونے میں امیر اور غریب کا کوئی فرق نہیں ہے اگے چل کر نور خان کی شرافت، دیانت اور جفا کشی کا ذکر کیا ہے اور ان کی زندگی کے ایسے واقعات بیان کیے ہیں جو نور خان کی ہی خوبیوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مولوی عبدالحق لکھتے ہیں کہ خان صاحب میں بعض خوبیاں ایسی بھی تھی جو ان کے زوال اور بربادی کا سبب بنی۔ وہ بہت صاف گو انسان تھے اور کھری بات کھردے الفاظ میں کہتے تھے اور افسر کو بھی نہیں بخشتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ انہوں نے وائس رائے لارڈ کرزن کو قلعے میں سگریٹ پینے سے روک دیا اس واقعے کا ذکر مولوی صاحب نے ان الفاظ میں کیا ہے لارڈ کرزن جب قلعے کے اوپر بالا حسار پر گئے تو وہاں سستانے کے لیے کرسی پر بیٹھ گئے اور جیب سے سگریٹ دان نکال کر سلگایا ہی تھا کہ یہ فوجی سلامی کر کے اگے بڑھے اور کہا کہ یہاں سگریٹ پینے کی اجازت نہیں ہے لارڈ کرزن نے جلتا ہوا سگریٹ نیچے پھینک دیا اور جوتے سے رگڑ دیا۔ اس صاف گوئی اور بے باکی کے سبب نور خان کو ساری عمر تکلیفیں اٹھانا پڑی اس ضمن میں عبدالحق نے ٹھیک ہی لکھا ہے کہ انسان کی برائیاں ہی اس کی تباہی کا باعث نہیں ہوتیں بعض اوقات اس کی خوبیاں بھی اسے لے ڈوبتی ہیں گڈی کا لال نور خان کے خاکے سے زیادہ نام دیو مالی کا خاکہ جاندار اور سبق آموز ہے۔ نور خان اگرچہ نادار اور مفلس تھے مگر ان کا شمار شرفاء میں ہوتا تھا۔ اس کے برعکس نام دیو غریب ہونے کے ساتھ ساتھ نچلی ذات سے تعلق رکھتا تھا لیکن عبدالحق ذاتوں کے اس تفریق کو صحیح نہیں سمجھتے تھے ان کے نزدیک شریف وہ ہے جس میں شرافت کا مادہ ہو۔ مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ جب کبھی مجھے نام دیو کا خیال اتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ نیکی کیا ہے اور بڑا ادمی کسے کہتے ہیں ہر شخص میں قدرت نے کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھی ہے اس صلاحیت کو درجے کمال تک پہنچانے میں ساری نیکی اور بڑھائی ہے درجے کمال تک نہ کبھی کوئی پہنچا ہے نہ پہنچ سکتا ہے لیکن وہاں تک پہنچنے کی کوشش ہی میں انسان انسان بنتا ہے یہ سمجھو کندن ہو جاتا ہے حساب کے دن جب اعمال کی جانچ پڑتال ہوگی خدایا نہیں پوچھے گا کہ تو نے کتنی اور کس کی پوجا پاٹ یا عبادت کی وہ کسی عبادت کا محتاج نہیں وہ پوچھے گا تو یہ پوچھے گا کہ میں نے جو استع داد تجھے میں ودیعت کی تھی اس کے کمال تک پہنچانے اور اس سے کام لینے میں تو نے کیا کیا اور خلق اللہ کو اس سے کیا فیض پہنچایا اگر نیکی اور بڑھائی کا یہ معیار ہے تو نام دیو نیک بھی تھا اور بڑا بھی تھا تو ذات کا ڈھیر پر اچھے اچھے شریفوں سے زیادہ شریف تھا۔ نام دیو مالی کی جس خوبی نے مولوی عبدالحق کو خاکہ لکھنے پر مجبور کیا وہ اس کا اپنے کام سے عشق تھا۔ وہ سلاہ و ستائش سے بے پرواہ ہم وقت کام میں مصروف رہتا۔ اسے یہ خبر نہ ہوتی کہ کوئی اس کے کام کو دیکھ رہا ہے۔ ملاحظہ ہو اس خاکے کا اخری پیراگراف۔ جب کبھی مجھے نام دیو کا خیال اتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ نیکی کیا ہے اور بڑا ادمی کسے کہتے ہیں ہر شخص میں قدرت نے کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھی ہے اس صلاحیت کو درجے کمال تک پہنچانے میں ساری نیکی اور بڑھائی ہے درجے کمال تک نہ کبھی کوئی پہنچا ہے نہ پہنچ سکتا ہے لیکن وہاں تک پہنچنے کی کوشش ہی میں انسان انسان بنتا ہے یہ سمجھو کندن ہو جاتا ہے حساب کے دن جب اعمال کی جانچ پڑتال ہوگی خدایا نہیں پوچھے گا کہ تو نے کتنی اور کس کی پوجا پاٹ یا عبادت کی وہ کسی عبادت کا محتاج نہیں وہ پوچھے گا تو یہ پوچھے گا کہ میں نے جو استعداد تجھ میں ودیعت کی تھی اس کے کمال تک پہنچانے اور اس سے کام لینے میں تو نے کیا کیا اور خلق اللہ کو اس سے کیا فیض پہنچایا اگر نیکی اور بڑھائی کا یہ معیار ہے تو نام دیو نیک بھی تھا اور بڑا بھی تھا تو ذات کا ڈھیر پر اچھے اچھے شریفوں سے زیادہ شریف تھا۔ مولوی سید علی بلگرامی کے اوصاف کے عبدالحق بہت قائل تھے۔ ان پر لکھے گئے خاکے میں بھی انہوں نے نہایت تفصیل سے بلگرامی صاحب کی لیاقت علم دوستی، نیک نفسی اور بے تعصبی کو سراہا ہے اور ان کے عیبوں کی پردہ پوشی بھی نہیں کی ہے۔ ان کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے کہ مرحوم میں ایک بڑا نقص یہ تھا کہ وہ متلون مزاج تھے اور بعض اوقات خود غرض لوگوں کے بھٹکانے سے بھٹک جاتے تھے یا حب جہاں میں ایسی باتیں کر گزرتے تھے جو ان کی شان کے شایان نہ ہوتی تھی الطاف حسین حالی پر جو خاکہ لکھا ہے اس میں بھی غیر جانب داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ مولوی صاحب نے جہاں حالی کے حسن اخلاق، مہمان نوازی، خاکساری رفیق القلبی اور بے تعصبی کا ذکر کیا ہے وہیں ان کی غیر مستقل مزاجی کا واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ اس ضمن میں ان کا قلمبند کیا ہوا واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔ ایک بار علی گڑھ کالج میں محمدن ایجوکیشن کانفرنس کا سالانہ جلسہ تھا۔ مولانا کا مزاج کچھ علیل تھا۔ انہوں نے اپنی نظم پڑھنے کے لیے مولوی وحید الدین سلیم صاحب کو دی۔ جو بہت بلند اواز مقرر اور پڑھنے میں کمال رکھتے تھے۔ سلیم صاحب ایک ہی بند پڑھنے پائے تھے کہ مولانا سے رہا نہ گیا۔ نظم ان کے ہاتھ سے لے لی اور خود پڑھنی شروع کی۔ ذرا سی دیر میں ساری مجلس میں کوہرام مچ گیا۔ چند ہم عصر کا سب سے طویل مضمون سرسید پر ہے۔ اس میں سواح نگاری اور خاکہ نگاری کی خصوصیات گھل مل گئی ہیں۔ ان کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم کر کے عبدالحق نے اسے سواح کی حدود میں داخل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس مضمون میں خاکہ نگاری کی یہ خصوصیت بھی موجود ہے کہ مولوی صاحب سرسید کی جن خوبیوں کے بہت قائل ہیں ان کا نقش ابھارنے میں انہوں نے کافی توجہ کی ہے۔ مولوی عبدالحق کی زندگی پر سرسید کی بہت گہری چھاپ تھی۔ انہوں نے ہمیشہ سرسید کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی اور چاہا کہ قوم سرسید کے جوش عمل اور جذبہ دلی سے سبق سیکھے۔ دراصل انہوں نے نامور ہستیوں کے حالات اسی خیال سے قلمبند کیے کہ لوگ انہیں مشعل راہ بنائیں۔ سرسید سے قربت کی وجہ سے مولوی صاحب ان کے تمام اوصاف سے واقف تھے اور ان کا ذکر انہوں نے اس مضمون میں بھی کیا ہے۔ مولوی عبدالحق کے اس مضمون سے سرسید کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں۔ مولوی صاحب نے ہمیشہ سرسید کے اصلاحی کاموں کو وقت و احترام کی نظر سے دیکھا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس مضمون میں سعید صاحب پر زور قلم صرف کیا ہے اور ان کے بارے میں سب سے زیادہ تفصیل سے لکھا ہے۔ مولوی عبدالحق نے شخصیت کا مطالعہ کرتے وقت اس کو اپنے عہد کے کینوس میں رکھ کر دیکھا ہے۔ سماجی و معاشرتی تحریکات، اجتماعی میلانات اور اسری واقعات کے اثرات کا گہرا مشاہدہ کیا ہے جو ایک بہت ہی بڑی خوبی ہے۔ محسن الملک، محمد علی جوہر، حالی، راس مسعود اور سرسید احمد خان کی شخصیتیں ایسی تھی جن کا صحیح مطالعہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا تھا کہ انہیں اپنے عہد کے واسطے سے دیکھا جائے اور مولوی صاحب نے یہ فریضہ بتائے کے احسن سرانجام دیا ہے۔ ان کی خاکہ نگاری کی یہ بھی خصوصیت رہی ہے کہ وہ بڑی سے بڑی شخصیت سے بھی مرعوب نہیں ہوئے اور مدوحین کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کی خامیاں بھی بیان کی ہیں۔ البتہ انہوں نے اپنی شائستگی اور سنجیدگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔ انہوں نے اگرچہ کسی کی خامیوں کا ذکر کیا ہے تو کچھ اس انداز سے کیا ہے کہ اس سے اس کی تذلیل یا تحقیر نہیں ہوتی بلکہ وہ عام انسانی کمزوریوں کے طور پر سامنے اتی ہیں۔

[12:35]خاکہ نگار کا کام مشکل اور بے حد نازک ہوتا ہے اس لیے کہ وہ زیر تذکرہ شخصیت کے نہ تو کسی عیب پر پردہ ڈال سکتا ہے اور نہ ہی اس کی ایسی تصویر پیش کر سکتا ہے کہ پڑھنے والے کو اس سے نفرت ہو جائے۔ ہونا یہ چاہیے کہ جس شخصیت کے بارے میں ہم پڑھ رہے ہوں اس سے ہمیں انست محسوس ہو اور اس کی کمزوریوں پر بھی پیار انا چاہیے۔ تو جہاں تک چند ہم عصر میں شامل خاکوں کا تعلق ہے تو ان کے مطالعے کے بعد قاری اس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ مولوی عبدالحق ہمدردانہ اور غیر جانبدارانہ مرقع کشی میں کتنا کمال رکھتے ہیں۔ وہ شخصیت کے دونوں یعنی تاریک اور روشن پہلو پیش کرتے ہیں مگر اس طرح کہ ہم اس شخصیت سے خاص لگاؤ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اگرچہ مولوی عبدالحق نے بھی اپنی بعض پسندیدہ شخصیتوں میں پسندیدگی کے عناصر کی نشاندہی کی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کی خامیاں بھی اجاگر کی ہیں۔ انہوں نے انسان کو نہ ہی فرشتہ بنا کر پیش کیا ہے اور نہ ہی شیطان بنا کر جو خاکے کی اہم خصوصیت مانی جاتی ہے۔ انہوں نے جس انسان کو محبوب جانا اسے اس کی تمام خامیوں کے ساتھ جانا۔ مولوی عبدالحق نے جن شخصیات پر قلم اٹھایا ہے تو ان کی وفات کے بعد اٹھایا۔ اس کا یہی فائدہ ہوا کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد جذباتی وابستگی ایک قسم کے معروزی فاصلے سے ہم اہنگ ہو جاتی ہے۔ اس مناسب فاصلے اور موزوں وقت کے انتخاب سے ان کے خاکوں میں توازن برقرار رہا ہے۔ خاکہ نگاری کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ اس میں خاکہ نگار اپنے مشاہدات و تجربات کو ایک چابک دست صناع کی طرح الفاظ میں ڈھالتا چلا جاتا ہے اس میں تصنع کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ عام طور پر خاکہ نگار خاکے میں اپنی ذات کو نمایاں کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس میں اپنی ذاتی تعلقات کے حوالے سے ایسے واقعات سامنے لاتا ہے جن میں اس کی شخصیت نمایاں ہو کر اتی ہے۔ تاہم بابائے اردو کی مرقع نگاری اس سکم سے پاک ہے وہ اپنے قلم کو اس شخصیت کی سیرت تک محدود رکھتے ہیں جس کا خاکہ تحریر کیا جا رہا ہے تاہم اگر کہیں مصنف کی شخصیت جھلکتی بھی ہے تو اس کا عکس برائے نام ہوتا ہے جو چند جملوں یا ایک اد پیراگراف تک محدود رہتا ہے۔ مولوی عبدالحق میں چونکہ گہری تحقیقی نظر، شگفتہ اسلوب بیان، پہم لگن اور والہانہ شیفتگی پائی جاتی تھی اس لیے ان کے خاکوں میں ایک خاص قسم کی جاذبیت اور دلکشی پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے سادہ سلیس اور شگفتہ انداز تحریر کو اختیار کیا ہے۔ اگرچہ کہیں سکیل الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے جس سے کہیں کہیں ان کا اسلوب دقیق معلوم پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے جس ہنرمندی سے اکائیوں اور الفاظ کے درمیان مطابقت پیدا کی ہے جملوں کی دروبست اور تنظیم میں اقتصار صحت اور جامعت سے کام لیا ہے اس سے ان کے خاکوں میں ایک خاص قسم کی ادبی شان پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے اگرچہ تنز مزہ سے بھی کام لیا ہے لیکن سنجیدگی اور شستگی بھی برقرار رہی ہے۔ کردار نگاری، سماجی پس منظر اور معروضی انداز بیاں سے عبدالحق کی خاکہ نگاری میں ایک خاص قسم کی جان پیدا ہو گئی ہے۔ مولوی عبدالحق نے اگرچہ خاکہ نگاری میں نام کمایا مگر اس کے باوجود ان کے خاکوں میں بھی ناقدین نے خامیوں کو اجاگر کیا ان کا کہنا ہے کہ جس شخصیت کا خاکہ لکھا جائے اس پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن عبدالحق نے ان شخصیات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ دوسری خامی جس کا ناقدین نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ مولوی عبدالحق نے زیادہ تر اپنی محبوب خوبیوں مثلا سادہ مزاجی، سلامت روی، انسان دوستی و وضع داری و غیرہ کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے بقول اس کتاب میں شامل تقریبا ہر ایک مضمون میں افراد کی سیرتوں کے یہی پہلو نمایاں نظر اتے ہیں۔ بعض لوگوں نے ان مضامین کو سرے سے ہی خاکے ماننے سے انکار کیا ہے اور انہیں سیرت کے زمرے میں لایا۔ اس ضمن میں یحیی امجد نے یوں رقم کیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالحق کا انداز تنقیدی مقالے کا سا ہے اور شخصیت کا مطالعہ قدیم مشرقی انداز میں کیا ہے لہذا میری رائے میں تو چند ہم عصر خاکہ نگاری کے زیل میں اتی ہی نہیں سیرت نگاری کا اعلا نمونہ بے شک ہو سکتی ہے لیکن کیا ضروری ہے کہ مختصر سیرتوں کی عمدہ کتاب کو خاکہ نگاری کے میدان میں لایا جائے جہاں اس کا مرتبہ زیادہ اونچا نہیں ہوگا۔ مگر ان چند خامیوں کی وجہ سے ان کی خاکہ نگاری کے بلند مرتبے پر اج نہیں ا سکتی۔ خاکہ نگار دراصل اپنی پسند کے مطابق کسی کی سیرت کے چند پہلو منتخب کر لیتا ہے اور اس انتخاب میں اس کی پسند اور ناپسند کو بہت دخل ہوتا ہے۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خاکہ داخلی فن ہے۔ مولوی صاحب اگرچہ اپنے بعض مضامین میں ایسی تفصیلیں اور تاریخ کے درج کرتے ہیں جو سوانح مضامین یا سیرت نگاری کے لیے ضروری ہیں مگر پھر وہ اس شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر داخلی انداز سے اس طرح روشنی ڈالتے ہیں کہ خاکے کا انداز غالب ا جاتا ہے۔ دراصل شرافت، نیکی، خیر اور انسانیت کسی ایک مذہب کی ملکیت نہیں یا یہ وہ دولت نہیں جو صرف مالداروں، دولت مندوں یا عالموں کے پاس ہی ہو سکتی ہے بلکہ بعض اوقات تو ایسے ایسے عالم، فاضل، دولت مند اور شرافت کی سند لیے لوگ مل جاتے ہیں جن کے پاس نہ شرافت ہوتی ہے نہ نیکی، نہ خیر اور نہ ہی انسانیت ایسی صورت میں مذکورہ چیزوں کا تعلق اس کی اپنی ذات پر منحصر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبدالحق نے جہاں بھی انسانی خوبیاں دیکھیں یا یہ دیکھا کہ اس کا خاکہ قلم بند کرنے سے معاشرے کو فائدہ ہو سکتا ہے انہوں نے لکھ دیا اور جس خلوص اور ایمانداری کا ثبوت فراہم کیا وہ عبدالحق کا ہی حصہ ہے۔ الگرز مولوی عبدالحق نے جن شخصیات کے خاکے لکھے ہیں ان کے مطالعہ سے ان شخصیات کی جیتی جاگتی تصویریں نظروں کے سامنے پھر جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مولوی عبدالحق اپنے بنیادی مقصد میں بھی کامیاب ہیں یعنی ان شخصیات کی قابل تقلید زندگی پڑھنے والوں کے دلوں میں جوش اور ولولہ پیدا کرتی ہے اور ہر ایک کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود کو ان کے سادے میں ڈھال لے اور مولوی عبدالحق بھی یہی چاہتے تھے۔ سرسید پر لکھے گئے خاکے کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو۔ اب ایک صورت ہے کہ ان بزرگ اور اولو العظم ہستیوں کے سواح حیات اور کارنامے لکھنے، پڑھنے اور پڑھانے کا شوق پیدا کیا جائے جنہوں نے اپنی قوم یا ملک یا بنی نوح انسان کی بھلائی کے لیے طرح طرح کی افتیں اور مصیبتیں جھیلیں اور دکھ سہے اور اپنے ایسے نقش چھوڑ گئے جو انے والوں کے لیے ہمیشہ ہدایت و رہنمائی کا کام دیں گے۔ ان کی قربانیوں، صبر و استقلال اور بے تعصبی کا ذکر ازکار سننے اور پڑھنے والوں کے دلوں پر کچھ نہ کچھ اثر کیے بغیر نہیں رہیں گے۔ نام دیو مالی غریب تھا مگر مالی ہونے کے سبب جڑی بوٹیوں کے خواص جان گیا تھا اور لوگوں کا علاج کرنے دور دور جاتا تھا اور اس کا کوئی معاوضہ قبول نہیں کرتا تھا۔ سرسید اس طرح لوگوں کی مدد کرتے تھے کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہوتی تھی۔ میرن صاحب غریب تھے مگر استاد کی بے سہار بیٹیوں کو استاد کے مرنے کے بعد ڈھونڈ کر اپنے پاس لے اتے تھے۔ اپنی سگی بیٹی کو بھول گئے مگر مرتے دم تک ان دونوں بچوں کی خدمت کرتے رہے۔ نور خان نے اپنی روزی کو خطرے میں ڈال دیا مگر صاف گوئی سے منہ نہ موڑا۔ محسن الملک نے بھی اپنا خطاب با معنی کر دیا۔ وہ واقعی قوم کے محسن تھے۔ مولوی چراغ علی ذہین معاملہ فہم اور کم گو تھے۔ بات چیت میں صرف اتنے ہی الفاظ استعمال کرتے جن سے ماہفی ضمیر ادا ہوتا۔ سید محمود دولت اور شہرت کو حق جانتے تھے۔ مولانا حالی شرافت کا نمونہ تھے۔ ملنے والوں سے ایسی شفقت سے پیش اتے کہ وہ ان کی محبت کا نقش دل پر لے کر اٹھتے۔ مولوی وحید الدین غریب تھا مگر انہوں نے اپنی علمیت کا سکہ ایسا جمایا تھا کہ ان کے انتقال پر پوری دنیا سوگوار ہوئی۔ غرض مولوی عبدالحق نے ایسی نامور شخصیات کے خاکے قلم بند کیے جو لوگوں کے لیے ہر دور میں مشعل راہ کا کام کریں گے۔ مولوی عبدالحق کے یہ خاکے زبان اور بیان کا شاندار نمونہ ہیں۔ انہوں نے سادہ، سلیس اور شگفتہ زبان کا استعمال کیا ہے۔ الگرس مولوی عبدالحق نے جو چند خاکے تصنیف کیے ان میں انہوں نے اپنی ہمدردی اور خلوص کے ساتھ ساتھ حقیقت بیانی اور معروض نقطہ نظر کو کچھ اس طور پر شامل کیا ہے کہ اس سے ان کے یہ خاکے شہکار کا درجہ اختیار کر گئے۔ عزیز طلباء و طالبات امید ہے کہ اج اس موضوع پر ہم نے بات کی اپ نے اس سے استفادہ کیا ہوگا۔ اپ سے دوبارہ ملاقات ہوگی ایک نئے موضوع کے ساتھ تب تک دیجیے اجازت اداب۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript