[0:12]محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے رحمت ہی کے وعدے پر طیبہ کا نظارہ تھا رحمت ہی کے وعدے پر طیبہ کا نظارہ تھا وہ دیکھ حقیقت وہ میداں میں سمائی ہے وہ دیکھ حقیقت وہ میداں میں سمائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے جلوہ جو دکھا ان کا محشر بھی بنا طیبہ جلوہ جو دکھا ان کا محشر بھی بنا طیبہ
[2:37]جنت نے بھی خوشبو یہ کس ذات کی پائی ہے جنت نے بھی خوشبو یہ کس ذات کی پائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے سنتا تھا کہ عاصی کے وہ عیب چھپاتے ہیں سنتا تھا کہ عاصی کے وہ عیب چھپاتے ہیں اس نور میں ناری کی یہ کیسی رسائی ہے اس نور میں ناری کی یہ کیسی رسائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے جنت کی طلب کیا اب دیکھ لیا طیبہ جنت کی طلب کیا اب دیکھ لیا طیبہ رب خلد و طیبہ کے دامن میں بسائی ہے رب خلد و طیبہ کے دامن میں بسائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے مجرم ہوں مگر میرے اس جرم کا کیا کہنا مجرم ہوں مگر میرے اس جرم کا کیا کہنا جس جرم نے بات مری قدموں میں بنائی ہے جس جرم نے بات مری قدموں میں بنائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے دل ٹوٹ گیا جب سے اک آنکھ کھلی دوجی دل ٹوٹ گیا جب سے اک آنکھ کھلی دوجی یہ آنکھ ملی جو اب گنبد پہ جمائی ہے یہ آنکھ ملی جو اب گنبد پہ جمائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے مکہ بھی مرا رونا طیبہ بھی مرا رونا مکہ بھی مرا رونا طیبہ بھی مرا رونا مکہ میں تھی نم آنکھیں طیبہ میں دھائی ہے مکہ میں تھی نم آنکھیں طیبہ میں دھائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے اک عشق ہی تھا ممکن وہ بھی نا ہوا تجھ سے اک عشق ہی تھا ممکن وہ بھی نا ہوا تجھ سے یہ تیری محبت بھی اس در کی عطائی ہے یہ تیری محبت بھی اس در کی عطائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے اک بار نگاہ اٹھی اک آگ لگائی ہے اک بار نگاہ اٹھی اک آگ لگائی ہے شیدائی ہے آج اس کے آقانے نبھائی ہے شیدائی ہے آج اس کے آقانے نبھائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے دنیا کی نگاہوں میں رسوا ہی سہی انس دنیا کی نگاہوں میں رسوا ہی سہی انس رسوائی نے اک در کی امید جگائی ہے رسوائی نے اک در کی امید جگائی ہے محشر کا تجھے غم کیا یہ عید تو آئی ہے دیدار ملا ان کا لو جن سے لگائی ہے



