[0:15]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم رب اشرح لی صدری و یسر لی امری واحلل عقدة من لسانی یفقهوا قولی رب یسر ولا توثر وتم بالخیر آمین یا رب العالمین لسان القران کورس 2024 کے تیسرے لیکچر میں اپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور ذہن میں تازہ کر لیجئے کہ پچھلے لیکچر میں ہم نے لفظ کو دو اقسام میں تقسیم کر کے با معنی لفظ کو کلمہ کہہ کر اس کی تین اقسام کے بارے میں پڑھا تھا کہ کلمہ کی تین اقسام ہیں ایک ہے اسم ایک ہے فعل اور ایک ہے حرف اور ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ قران مجید میں استعمال ہونے والا ہر لفظ جو ہے وہ ایک کلمہ ہے اور کلمہ کی قسم یا تو اسم سے تعلق رکھتا ہے یا فعل سے یا حرف سے. تو اگر ہم ان تین اقسام کو یعنی اسم فعل اور حرف کو اچھی طرح سے سمجھ لیں گے تو انشاء اللہ تعالی قران مجید کے الفاظ ہماری سمجھ میں انے لگ جائیں گے اور پھر ان الفاظ کو انشاء اللہ تعالی ہم جوڑ کر جملے بنائیں گے اور جملے بنانے کے بعد قران مجید کی آیات بھی ہماری سمجھ میں انے لگ جائیں گی. تو چلتے ہیں جی کلمہ کی پہلی قسم اسم کی طرف اسم اردو زبان میں جانا پہچانا لفظ ہے اور اس کے لغوی معنی جو ہیں وہ نام کے ہیں. ہمارے ہاں جب بھی کسی سے تعارف حاصل کرنا ہوتا ہے تو اس سے سوال کیا جاتا ہے جی اپ کا اسم شریف تو جواب میں وہ اپنا نام بتاتا ہے. تو اسم کے جو لغوی معنی ہیں وہ ہیں نام اب عربی گرامر میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ اسم جو ہے کس کس کا نام ہو سکتا ہے تو نوٹ کر لیں عربی گرامر میں اسم جو ہے یہ کسی شخص کا نام ہو سکتا ہے. جیسے زید مریم تو میں دو ایگزیمپلز اپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ایک میں نے مذکر کی ایگزیمپل رکھی ہے اور ایک مونث کی ایگزیمپل رکھی ہے. اسم جو ہے عربی گرامر میں کسی چیز کا نام ہو سکتا ہے جیسے کتاب اور قلم تیسرے نمبر پہ اسم کسی جگہ کا نام بھی ہو سکتا ہے. جیسے بیت بیت کہتے ہیں گھر کو مسجد اور مسجد سے اپ سب واقف ہیں تو یہ تین چیزیں ایسی تھیں جن کو ہم اردو زبان میں بھی اسم کے حوالے سے جانتے تھے. اب جو چوتھی چیز میں اپ کے سامنے رکھنے لگا ہوں کہ یہ عربی گرامر میں کس کا نام ہو سکتا ہے تو نوٹ کر لیجئے کہ عربی گرامر میں اسم جو ہے یہ کام کا نام بھی ہو گا. ہر کام کا ایک نام ہوتا ہے ہم جو بھی کام کرتے ہیں اس کو کسی نہ کسی زمانے میں ہم کرتے ہیں کبھی ماضی میں کرتے ہیں کبھی حال میں کرتے ہیں کبھی مستقبل میں کرتے ہیں. لیکن ہر کام کا ایک نام ضرور ہوتا ہے جیسے میں اپ کو پڑھا رہا ہوں تو میرے اس کام کا نام ہے پڑھانا. اپ مجھ سے پڑھ رہے ہیں تو اپ جو کام کر رہے ہیں اس کا نام ہے پڑھنا تو یہ پڑھنا پڑھانا لکھنا لکھانا دیکھنا دکھانا یہ جتنے بھی الفاظ ایسے ہیں جن کے اخر میں اپ کو نہ نظر اتا ہے. یعنی وہ الفاظ جن کو ہم اردو زبان میں فعل کے حوالے سے جانتے ہیں یہ عربی گرامر میں کام کے نام کہلاتے ہیں اور کام کا نام جو ہے عربی گرامر میں یہ بھی اسم کی کیٹگری میں اتا ہے. تو شخص چیز جگہ کے نام تو اپ کے علم میں پہلے بھی تھے اردو گرامر کے حوالے سے لیکن جو اضافہ ہوا ہے نئی چیز کا وہ ہے کام کا نام. تو میں اپ کے سامنے دو کاموں کے نام رکھ رہا ہوں جو کہ عربی کے ہی لفظ ہیں جیسے ایک لفظ ہے جی انفاق اور انفاق کے معنی ہیں خرچ کرنا اور دوسرا وہ ہے ضرب ضرب کے معنی ہوتے ہیں مارنا. تو اسم جو ہے اس کے لغوی معنی نام کے ہوتے ہیں عربی گرامر میں اسم جو ہے یہ کسی شخص کا نام بھی ہو سکتا ہے کسی چیز کا نام بھی ہو سکتا ہے کسی جگہ کا نام بھی ہو سکتا ہے یا کسی کام کا نام بھی ہو سکتا ہے. تو اسم ابھی مکمل نہیں ہوا ذہن میں رکھیے گا کیونکہ عربی ایک وسیع فصیح اور بلیغ زبان ہے اس میں مزید بھی کچھ چیزیں ائیں گی. اپ کو میں نے پچھلے لیکچر میں بتایا تھا کہ کلمہ جو ہے انگریزی کے پارٹس اف سپیچ کے ایکولنٹ ہے اور انگریزی میں میں نے اپ کو بتایا تھا کہ نو پارٹس اف سپیچ اپ کو ملتے ہیں جبکہ عربی میں جو پارٹس اف سپیچ ہیں وہ صرف تین ہیں. تو اب وہ نو جو ہیں انگریزی کے وہ ظاہر بات ہے ان تین میں ہی فٹ ہونے ہیں تو یہ بات اچھی طرح ذہن میں رکھیے گا کہ انگریزی کا جو ناؤن ہے نا ناؤن وہ عربی کے اسم میں داخل ہے. تو اسم میں یعنی عربی گرامر میں جو اسم ہے اس میں ایک تو ناؤن شامل ہے اور اپ ناؤن کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ناؤن از نیم اف اینی پرسن تھنگ اور پلیس تو یہ اپ انگریزی میں پڑھ چکے ہیں. تو ناؤن جو ہے وہ عربی میں اسم میں شامل ہے ناؤن ہی اسم نہیں ہے یہ اچھی طرح بات نوٹ کر لیجئے گا. اگر اپ سے کوئی پوچھے کہ عربی گرامر میں جو اسم ہے اس کے ایکولنٹ انگریزی میں کون سا لفظ ہے تو اپ کبھی نہ کہیے گا کہ اسم کے ایکولنٹ عربی میں ناؤن ہے نہیں اسم کی انگریزی اپ نے اسم کے طور پر ہی کرنی ہے. اس لیے کہ اگر اپ اسم کو ناؤن کہہ دیں گے تو عربی میں یہ بڑا لمیٹڈ سا کنسیپٹ بنے گا جبکہ میں نے اپ کے سامنے تفصیل سے اس بات کو رکھا ہے کہ انگریزی والا ناؤن جو ہے وہ اسم میں داخل ہے. تو ایک بات تو یہ کلیئر ہو گئی کہ ناؤن اسم میں شامل ہے اب اسم میں اور کیا کیا چیزیں ا سکتی ہیں تو میں زیادہ چیزیں اپ کو نہیں بتاؤں گا موٹی موٹی دو چیزیں اور بتاؤں گا. جو اپ کی عربی گرامر کے اسم میں شامل ہیں ان میں دوسری چیز جو ہے وہ انگریزی کا پروناؤن ہے. پروناؤن اپ جانتے ہیں کہ پروناؤن از ورڈ از یوزڈ ان پلیس اف ا ناؤن یعنی انگریزی میں اپ ناؤن کے لیے جو ورڈ یوز کرتے ہیں اس کو پروناؤن کہتے ہیں. مثلا زید کے لیے میں انگریزی میں ہی کا لفظ استعمال کرتا ہوں ہز کا لفظ استعمال کرتا ہوں ہم کا لفظ استعمال کرتا ہوں مریم کے لیے میں انگریزی میں شی کا لفظ استعمال کرتا ہوں ہر کا لفظ استعمال کرتا ہوں. اپنے لیے میں انگریزی میں ائی کا لفظ استعمال کرتا ہوں مائی کا لفظ استعمال کرتا ہوں می کا لفظ استعمال کرتا ہوں اپ کے لیے میں انگریزی میں یو کا لفظ استعمال کرتا ہوں یا یور کا لفظ استعمال کرتا ہوں. تو یہ جو پروناؤنز ہیں اپ کے انگریزی والے یہ بھی عربی گرامر کے اسم میں داخل ہیں یا اسم میں شامل ہیں. اب پروناؤنز کو عربی گرامر میں کیا کہتے ہیں تو نوٹ کر لیں پروناؤنز کے لیے عربی گرامر میں جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ ہے ضمائر. تو جب بھی اپ کے سامنے کوئی ایسا لفظ ائے جو پروناؤن کا مفہوم دے رہا ہو تو اپ نے اسے اسم ہی کنسیڈر کرنا ہے یہ بات اچھی طرح ذہن میں رکھ لیجئے. تو میں اپ کے سامنے ضمائر کی کچھ ایگزیمپلز جو ہیں وہ لکھ دیتا ہوں عربی زبان میں یو کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ انت بھی ہے اور انت بھی ہے. انت جو ہے یہ مذکر یو کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور انت جو ہے یہ مونث یو کے لیے استعمال کیا جاتا ہے انشاء اللہ تعالی ضمائر کو ہم تفصیل سے پڑھیں گے جب ہمیں ضرورت ہوگی. ابھی ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں عربی گرامر میں اسم میں کیا کیا چیزیں داخل ہو سکتی ہیں یا شامل ہو رہی ہیں. اسی طرح ائی کے لیے عربی زبان میں ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے وہ انا ہے چاہے مذکر ہو چاہے مونث ہو. تو میں نے اپ کو بس دو پروناؤنس کے بارے میں بتایا ہے باقی انشاء اللہ تعالی تفصیل سے ہم پڑھیں گے پروناؤنز کے بارے میں جب اگے چلیں گے. اب مزید عربی گرامر کے اسم میں اور کیا کیا ا سکتا ہے تو نوٹ کر لیں کہ عربی گرامر میں اسم میں صفات بھی داخل ہیں. یعنی عربی گرامر میں جب اپ اسم کو کیٹگرائز کریں گے تو اسم میں انگریزی گرامر کے ناؤنس بھی ہیں پروناؤنس بھی ہیں اور ایڈجیکٹوز بھی ہیں. صفات جمع ہے صفت کی اور صفت کو انگریزی زبان میں ایڈجیکٹو کہتے ہیں اور اپ جانتے ہیں کہ ایڈجیکٹو کو کیسے ڈیفائن کیا جاتا ہے انگریزی میں کہ ایڈجیکٹو از ورڈ وچ کوالیفائز ا ناؤن اور پروناؤن. یعنی ایسا لفظ جو کسی چیز کی کسی شخص کی اچھائی یا برائی کو بیان کرے تو صفات جو ہیں یہ عربی گرامر کے اسم میں شامل ہیں. اب یہاں پر ایک بات اچھی طرح نوٹ کر لیجئے کہ ہمارا اردو زبان کا جو صفات کا تصور ہے وہ بڑا محدود ہے. عربی گرامر میں جب بھی صفت کا لفظ اپ کے سامنے ائے گا یعنی کہا جائے گا کہ یہ اسم صفت ہے تو اس میں صرف کسی چیز کی یا کسی شخص کی اچھائی یا برائی ہی شامل نہیں ہو گی بلکہ اور بہت ساری چیزیں بھی شامل ہوں گی. تو اس کو میں اپ کے سامنے ایگزیمپلز دے کے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں دیکھیں عربی زبان کا ایک لفظ ہے صالح اپ اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں صالح کے معنی ہیں نیک. اور اگر اپ نیک لفظ کو دیکھیں تو نیک لفظ ایک ایڈجیکٹو ہے اسی طرح عربی زبان کا ایک لفظ ہے جمیل اب جمیل کے معنی ہیں خوبصورت خوبصورت جو ہے یہ ایک ایڈجیکٹو ہے جس کی انگریزی جو ہے وہ بیوٹی فل ہوتی ہے. اسی طرح جمیل کا جو اپوزٹ ہوتا ہے عربی زبان میں وہ ہوتا ہے قبیح اور قبیح لفظ بھی ہم اردو زبان میں استعمال کرتے ہیں جس کے معنی بدصورت کے ہوتے ہیں جسے اپ انگریزی میں اگلی کہتے ہیں. تو یہ دو ایگزیمپلز اپ کو سمجھا دیں گی کہ ایڈجیکٹو جو ہیں وہ کسی ناؤن کی اچھائی یا برائی کے لیے استعمال ہوتا ہے. لیکن عربی زبان میں عربی گرامر میں جتنے بھی رنگ ہیں یہ سب بھی صفات کی کیٹگری میں اتے ہیں اور انگریزی میں بھی ایسے ہی ہے. انگریزی میں بھی کلرز کو ایڈجیکٹو ہی قرار دیا جاتا ہے تو اب میں اپ کے سامنے عربی گرامر میں جو صفات والا ٹاپک ہے نا اس کو ذرا ایکسپلور کر رہا ہوں اس کو کھول کر بیان کر رہا ہوں تاکہ اگے اسباق میں جب بھی میں کہوں کہ یہ لفظ جو ہے یہ صیغہ صفت ہے تو اپ کے ذہن میں فوری طور پر یہ والا ٹاپک جو ہے وہ ا جانا چاہیے. تو ایک تو عربی گرامر میں صفات میں عام صفات شامل ہیں جیسے صالح جمیل اس کے علاوہ رنگ بھی شامل ہیں جیسے عربی زبان میں اسود لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا معنی سیاہ ہے یعنی بلیک کے لیے لفظ استعمال ہوتا ہے اور اپ فورا پہنچ گئے ہوں گے حجر اسود کی طرف تو حجر اسود کو حجر اسود کیوں کہتے ہیں اس لیے کہ وہ ایک بلیک سٹون ہے. عربی زبان میں سفید کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے ابیض اسی طرح سرخ کے لیے عربی زبان میں جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے احمر اور بلو کے لیے یعنی نیلے رنگ کے لیے عربی زبان میں جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے ازرق اور سبز کے لیے عربی زبان میں جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے اخضر اور پھر پیلے کے لیے یا زرد کے لیے جو عربی زبان میں لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے اصفر اور یہ جو میں نے اپ کے سامنے رنگ بولے ہیں یہ سب رنگ مذکر کے لیے استعمال ہوتے ہیں مونث کے لیے الگ سے لفظ ہیں لیکن اس وقت میں اپ کو رنگوں کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتا رہا یہ میں نے صرف اپ کے سامنے بنیادی رنگ جو کہ مذکر کے لیے استعمال ہوتے ہیں وہ رکھے ہیں. تو عربی گرامر میں صفات میں دوسری چیز جو شامل ہے وہ رنگ ہیں اب تیسری چیز صفات میں عربی گرامر کے جو شامل ہے نام لینے سے پہلے میں اپ کو کنسیپٹ دے دوں پھر انشاء اللہ نام لوں گا تو اپ کو یاد رہے گا ورنہ اپ نام میں ہی الجھے رہیں گے. دیکھیں ہم نے ابھی اسم میں پڑھا ہے کہ عربی گرامر میں اسم میں کام کا نام بھی شامل ہے. اب میں اپ کے سامنے ایک کام کا نام ذکر کر رہا ہوں کام کا نام ہے سجود اور یہاں پر نوٹ کر لیں اضافی طور پہ اپ کو ایک انفارمیشن دے رہا ہوں کہ عربی گرامر میں کام کے نام کو مصدر کہا جاتا ہے. تو سجود عربی زبان میں ایک کام کا نام ہے اس کے معنی ہیں سجدہ کرنا اگر کوئی شخص یہ کام سرانجام دے رہا ہو گا تو اس کو عربی گرامر میں ساجد کہیں گے. ساجد کے معنی ہیں سجدہ کرنے والا یعنی جس کام کا ذکر ہوا ہے نا پرٹیکولر اس کام کو کرنے والا سجود سجدہ کرنا اور سجدہ کرنے والا جو ہے عربی گرامر میں کہلائے گا ساجد. اور یہ ساجد جو ہے یہ بھی عربی گرامر میں صفات کی کیٹگری میں ائے گا اور صفات کی کیٹگری میں اس کو ایک خاص نام دیا جائے گا اور وہ نام ہے اسم الفاعل پھر نوٹ کر لیجئے ساجد عربی زبان میں اسم الفاعل کہلائے گا. اور اسم الفاعل جو ہے صفات میں شامل ہے اور صفات جو ہیں وہ عربی گرامر کے اسم میں شامل ہیں مزید اگے چلتے ہیں.
[15:40]زید اور ابراہیم دو دوست ہیں زید جو ہے وہ ابراہیم کی نسبت زیادہ سجدے کرتا ہے. تو جب ہم سجدہ کرنے میں زید اور ابراہیم کا کمپیریزن کریں گے نا تو ہم اب زید کو نہ تو ساجد کہیں گے نہ سجاد کہیں گے بلکہ کہیں گے اسجد اسی طرح اگر 10 یا 20 طلبہ میں زید سب سے زیادہ سجدہ کرنے والا ہے. یعنی پہلے ہم نے زید کا کمپیریزن کیا صرف ایک شخص سے ابراہیم سے اب ہم زید کا کمپیریزن کر رہے ہیں تمام طلبہ سے تو دونوں صورتوں میں زید کو اسجد ہی کہا جائے گا اور اسجد لفظ جو ہے عربی گرامر میں اسم التفضییل کہلاتا ہے. اب یہ اسم التفضییل اپ کے لیے ایک مشکل اور نئی ٹرمینالوجی ہوگی لہذا اس کو ہم اسان کر کے سمجھتے ہیں کہ انگریزی میں ایڈجیکٹوز میں جو اپ کا کمپیریٹو اور سپرلیٹو ڈگریز والا تصور ہے نا وہ یہی اسم التفضییل والا ہے. انگریزی میں بگ ایڈجیکٹو یوز کرتے ہیں اور بگ کے لیے جو کمپیریٹو ڈگری یوز کرتے ہیں وہ ہے بگر اور بگ کے لیے جو سپرلیٹو ڈگری یوز کرتے ہیں وہ ہے دا بیگیسٹ تو ہم یاد کیا کرتے تھے بگ کی تینوں ڈگریز یعنی بگ بگر اور بیگیسٹ. تو عربی زبان میں بگ کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے کبیر اور کبیر کی کمپیریٹو اور سپرلیٹو ڈگری جو ہے وہ ایک ہی لفظ سے بیان کی جاتی ہے اور وہ ہے اکبر اور یہ پھر انشاء اللہ تعالی ہم اگے جا کے دیکھیں گے کہ کہاں پر اکبر سے کمپیریٹو ڈگری کا مفہوم لینا ہے اور کہاں پر اکبر سے سپرلیٹو ڈگری کا مفہوم لینا ہے. بہرحال یہ جو کمپیریٹو اور سپرلیٹو ڈگری والا کنسیپٹ ہے نا عربی گرامر میں یہ اسم التفضییل کہلاتا ہے تو اب صفات میں کیا کیا چیزیں ا گئی صفات میں اپ کے سامنے اسم الفاعل بھی ا گیا اسم المفعول بھی ا گیا اسم المبالغہ بھی ا گیا اسم التفضییل بھی ا گیا. مزید صفات میں ایک چیز اور میں اپ کے سامنے ایڈ کرتا ہوں اور وہ بھی پہلے ایگزیمپل سے سمجھ لیں اور اب ایگزیمپل میں میں اپ کے لیے جو مصدر لے کر ایا ہوں وہ ہے علم. علم عربی زبان میں ایک مصدر ہے یعنی کام کا نام ہے اور علم کے معنی ہیں جاننا جسے اپ انگریزی میں ٹو نو کہتے ہیں تو علم کے لفظی معنی ہیں جاننا اب جاننے والے کو عربی زبان میں کہیں گے عالم اور یہ اسم الفاعل کہلائے گا. جس کو جانا جائے عربی زبان میں اس کو کہیں گے معلوم اور عربی گرامر میں یہ اسم المفعول کہلائے گا جو بہت زیادہ جانتا ہے عربی زبان میں اس کو کہیں گے علام یا علامہ بھی اسے کہتے ہیں اور یہ علام یا علامہ جو ہے یہ اسم المبالغہ کہلائے گا. اب علم سے اسم التفضییل جو عربی زبان میں بنے گا نا وہ ہوگا عالم عالم کے معنی ہیں کسی سے یا سب سے زیادہ جاننے والا اس لیے ہم اللہ کے ساتھ یہی لفظ استعمال کرتے ہیں کہ اللہ عالم اللہ زیادہ جانتا ہے. اب یہ جو جاننے کی صفت ہے جس میں مسلسل پائی جائے یعنی جو ہر وقت ہر چیز کو اپنے علم میں رکھتا ہو اس کو عربی گرامر میں کہیں گے کہ وہ علیم ہے اور علیم کا لفظ جو ہے عربی گرامر میں صفت مشبہ کہلائے گا اور صفت مشبہ جو ہے یہ بھی صفات میں داخل ہے اور صفات جو ہیں وہ عربی گرامر میں اسم میں شامل ہیں. تو میں نے بہت تفصیل کے ساتھ اپ کو صفات سمجھا دیں اور عربی گرامر میں اسم میں کیا کیا شامل ہے وہ بھی ہم نے پڑھ لیا مزید بھی کچھ چیزیں شامل ہیں لیکن اپ کے لیے ان تین چیزوں کو جاننا ہی ضروری ہے. یعنی عربی گرامر میں اپ سے اگر پوچھا جائے جی اسم میں کیا کیا اتا ہے تو اپ کے علم میں ہونا چاہیے جی اسم میں انگریزی کا ناؤن بھی اتا ہے اور ناؤن سے مراد ہے کسی شخص کا نام کسی چیز کا نام کسی جگہ کا نام یا کسی کام کا نام. اسم میں انگریزی زبان کا پروناؤن بھی شامل ہے اور پروناؤن سے مراد ہے وہ لفظ جو کسی ناؤن کے لیے استعمال کیے جائیں اور عربی گرامر میں اسم میں صفات بھی شامل ہیں جنہیں ایڈجیکٹوز کہا جاتا ہے اور صفات کی ایک طویل فہرست ہے جس میں عام صفات بھی شامل ہیں. رنگ بھی شامل ہیں اسم الفاعل بھی شامل ہے اسم المفعول بھی شامل ہے اسم المبالغہ بھی شامل ہے اسم التفضییل بھی شامل ہے صفت مشبہ بھی شامل ہے تو کم از کم یہ تین چیزیں ناؤنس پروناؤنس اور ایڈجیکٹوز یہ اپ کے ذہن میں ہونی چاہیے کہ یہ سب کے سب اسم میں شامل ہیں. اب میں اپ کو بتاؤں گا کہ عربی زبان کا جب بھی کوئی لفظ اپ کے سامنے اتا ہے اور اپ سے سوال کیا جاتا ہے کہ اپ بتائیں کہ یہ لفظ اسم ہے یا نہیں تو اپ نے پہلا کام تو یہ کرنا ہے اپ نے اس لفظ میں اسم کی ظاہری علامت دیکھنی ہے.
[21:19]اب یہاں پر میں جو اپ کو اگلی بات بتانے لگا ہوں یہ بہت ہی اہم ہے تو اسم کی کچھ ظاہری علامات بھی ہیں ظاہری علامات کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگر اپ کو لفظ کے معنی نہیں بھی اتے اپ اس ظاہری علامت کو دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ یہ لفظ اسم ہے یا نہیں. ابھی ہم نے ان علامات جن کا میں ذکر کرنے لگا ہوں ان میں سے صرف ایک ہی علامت پڑھی ہے باقاعدہ باقی دو علامات جو میں مزید بتاؤں گا وہ ابھی ہم نے باقاعدہ نہیں پڑھیں لیکن ان کا چونکہ تذکرہ پچھلے لیکچرز میں مختصر ہو چکا ہے اس لیے وہ میں اپ کے سامنے رکھ رہا ہوں.
[22:06]تو اسم کی پہلی ظاہری علامت جو ہے نا وہ نوٹ کر لیں جو اپ کو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں وہ ہے لفظ کے اخر میں گول تا کا ہونا یہ گول تا جو ہے نا یہ عربی زبان میں صرف اسم کے اخر میں ہی اتی ہے. نہ تو یہ فعل کے اخر میں اتی ہے اور نہ ہی یہ حرف کے اخر میں اتی ہے تو جس بھی لفظ کے اخر میں اپ کو گول تا نظر ائے اپ کو اس کے معنی اتے ہوں یا نہ اتے ہوں اپ نے اس کو اسم فائنل کر دینا ہے. اسم کی دوسری موٹی علامت جو انشاء اللہ تفصیل سے ہم اگے پڑھیں گے وہ ہے لفظ کے اخر میں تنوین کا یعنی ڈبل حرکت کا ہونا. یعنی کسی بھی لفظ کے اخر میں اگر اپ کو دو پیش نظر ا جائیں یا دو زبر نظر ا جائیں یا دو زیر نظر ا جائیں تو اپ نے اس لفظ کو اسم ڈکلیئر کر دینا ہے چاہے اپ کو اس کے معنی نہ بھی اتے ہوں. تنوین کے بارے میں میں چونکہ اپ کو پہلے بتا چکا ہوں تو اس لیے یہاں پر وہ علامت گنوا رہا ہوں کہ یہ جو تنوین ہے لفظ کے اخر میں انے والی ڈبل حرکت یہ بھی اسم کی ہی علامت ہے. اور اسم کی جو تیسری ظاہری علامت ہے وہ ہے جی لفظ کے شروع میں الف لام کا ہونا یہ بھی انشاء اللہ تعالی ہم اگے جا کے پڑھیں گے لیکن میں اپ کو ابھی سے قران مجید کے ساتھ جوڑنا چاہ رہا ہوں کہ کم از کم اپ قران پڑھتے ہوئے اب اسماء کو پہچاننا تو شروع کر دیں. تو کسی بھی لفظ کے شروع میں اگر اپ کو ال نظر ا جائے یعنی حمزہ زبر والا اور ساتھ لام ہو تو یہ ال جو ہے یہ اسم کی ہی علامت ہے جیسے اپ کو سورت الفاتحہ میں الحمد میں ال شروع میں نظر ا رہا ہے تو الحمد جو ہے یہ اسم ہے. تو یہ تین علامات ہیں جی اسم کی جو ظاہری علامات ہیں اسم کی اور بھی علامات ہیں لیکن ابھی وہ بتانا بہت ہی قبل از وقت ہے لہذا اپ یہ پیج جو ہے اپنا تیار رکھیں جب بھی مزید کوئی اسم کی علامت ائے گی یا ہم پڑھیں گے تو میں اپ کو نوٹ کروا دوں گا انشاء اللہ تعالی. تو اسم کو پہچاننے کے لیے پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ اسم کی ظاہری علامت دیکھی جائے اگر اپ کو ظاہری علامت نہیں نظر اتی جیسے لفظ کے شروع میں نہ تو الف لام نظر اتا ہے نہ ہی کسی لفظ کے اخر میں ڈبل حرکت نظر ارہی ہے نہ ہی گول تا نظر ارہی ہے. تو اب اپ نے فورا سے فیصلہ نہیں کر دینا کہ یہ اسم نہیں ہے بلکہ اب اپ نے اس لفظ کے معنی جاننے کی کوشش کرنی ہے اب جب اپ کو اس لفظ کے معنی معلوم ہو جائیں تو اپ نے غور کرنا ہے کہ وہ معنی جو ہیں کسی شخص کا نام تو نہیں ہے کسی چیز کا نام تو نہیں ہے کسی جگہ کا نام تو نہیں ہے کسی کام کا نام تو نہیں ہے. اگر وہ معنی ان چار میں سے کسی کا نام ہے تو پھر وہ بھی اسم ہے اگر وہ نام نہیں ہے تو پھر اپ نے نوٹ کرنا ہے کہ اس لفظ کے معنی جو ہیں وہ ہمیں کسی پروناؤن کے بارے میں تو نہیں بتا رہے. اگر ہمیں پروناؤن کے بارے میں پتہ چل رہا ہے اس لفظ کے معنی جاننے سے تو پھر بھی ہم نے اسے اسم ڈکلیئر کرنا ہے اگر پروناؤن کے معنی نہیں بتا رہا وہ لفظ تو پھر ہم نے دیکھنا ہے کہ وہ لفظ جو ہے وہ صفات میں سے تو نہیں کسی کے معنی دے رہا. اور صفات میں ایک تو سمپل صفات ہیں پھر رنگوں کے نام ہیں پھر اسم الفاعل اسم المفعول اسم المبالغہ اسم التفضییل اور صفت مشبہ یہ سب اپ نے غور کرنا ہے اور پھر غور کرنے کے بعد اپ نے نتیجہ نکالنا ہے کہ یہ اسم ہے یا نہیں. اب میں اس کی اپ کے سامنے کچھ ایگزیمپلز رکھوں گا تاکہ بات اپ کو 100 پرسنٹ جو ہے وہ سمجھ میں ا جائے. تو پہلا لفظ میں اپ کے سامنے لکھ رہا ہوں جیسا کہ اپ سکرین پہ دیکھ رہے ہیں یہ لفظ ہے جی کتاب اب کتاب لفظ جو ہے اس کے بارے میں ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہ اسم ہے یا نہیں ہے. تو سب سے پہلے ہم اس لفظ میں اسم کی جو تین ظاہری علامات ہیں وہ چیک کرتے ہیں اب میں بالکل اپ کو بیسک طور پہ سمجھا رہا ہوں حالانکہ اپ سب کو کتاب کے معنی معلوم ہے لیکن میں اپ کو بتا رہا ہوں کہ کس طرح سے اپ نے کام کرنا ہے تو کتاب لفظ میں اپ اسم کی جو تین ظاہری علامات ہیں وہ چیک کیجئے. علامت نمبر ایک کتاب کے شروع میں الف لام ہے نہیں کتاب کے اخر میں ڈبل حرکت ہے نہیں کتاب کے اخر میں گولتا ہے نہیں تینوں ظاہری علامات نہیں ہیں لیکن اپ نے فورا فیصلہ نہیں کر دینا کہ یہ اسم نہیں ہے بلکہ اب اس کے معنی جاننے کی کوشش کرنے ہیں جب اس کے معنی اپ نے جانے تو پتہ چلا اپ کو کہ اس کے معنی ہیں بک. اور بک جو ہے یہ ایک نام ہے اور چیز کا نام ہے اور چیز کا نام عربی گرامر میں اسم ہوتا ہے لہذا اپ نے اس کو اسم ڈکلیئر کر دینا ہے اور اسم میں جو تین کیٹگریز ہم نے پڑھی ہیں نا ناؤن پروناؤن اور ایڈجیکٹو کی اس میں بھی اس کو فٹ کرنا ہے تو اس کتاب لفظ کو ہم ناؤن میں فٹ کر دیں گے کہ یہ اسم ہے اور اسم کی کیٹگری ناؤن سے تعلق رکھتا ہے. اب دوسرا لفظ میں اپ کے سامنے لکھ رہا ہوں تو یہ لفظ ہے جی بیضا اب بیضا لفظ اپ کے سامنے ایا اس لفظ کو ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ اسم ہے یا نہیں ہے تو سب سے پہلے ہم اسم کی ظاہری علامات جو ہیں ان کو چیک کرتے ہیں اس لفظ کے شروع میں الف لام نہیں ہے اس لفظ کے اخر میں تنوین بھی نہیں نظر ارہی ہے اپ کو اس لفظ کے اخر میں گول تا بھی نہیں نظر ارہی. اب اس لفظ کے معنی اپ جاننے کی کوشش کریں گے اس لفظ کے معنی اپ کو پتہ چلیں گے وہ ہیں جی سفید اب اپ کے ذہن میں فوری طور پر ا گیا کہ سفید جو ہے یہ تو رنگ کا نام ہے اور ہم نے پڑھا ہے کہ جو رنگ ہیں یہ عربی زبان میں اسم ہوتے ہیں اور اسم کی کس کیٹگری میں اتے ہیں اسم کی کیٹگری صفات میں اتے ہیں. تو گویا اپ بیضا کو کہیں گے کہ یہ اسم ہے اور اسم کی کیٹگری ایڈجیکٹو میں ا رہا ہے اب اپ کے ذہن میں ایا ہو گا کہ سفید کے لیے تو ہم نے ابید کا لفظ پڑھا تھا تو وہاں میں نے اپ کو بتایا تھا کہ یہ جو رنگ ہے میں نے اپ کے سامنے بولے ہیں یہ مذکر کے رنگ بولے ہیں اب یہ جو بیضا ہے یہ مونث سفید کے لیے عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے. لفظ اپ کے سامنے ایا عربی زبان میں مومن اب مومن لفظ میں اپ نے اسم کی جو تین ظاہری علامات ہیں وہ چیک کی شروع میں الف لام نہیں ہے اخر میں تنوین نہیں ہے اخر میں گول تا نہیں ہے. اب جب اپ نے معنی پر غور کیا تو اپ کو پتہ چلا کہ اس کے معنی ہیں ایمان لانے والا اب یہ ایمان لانا جو کام کا نام ہے اس سے اسم الفاعل کا لفظ بن رہا ہے یعنی ایمان لانا کام کا نام ہے اور اس کام کے نام سے اس کام کو کرنے والا جو ہے ایمان لانے والا اس کو عربی زبان میں مومن کہتے ہیں اور مومن جو ہے یہ اسم الفاعل ہے اور اسم الفاعل جو ہے وہ صفات میں اتا ہے اور صفات جو ہیں وہ عربی زبان میں اسم کی کیٹگری میں شامل ہیں.
[29:26]اور ایک لفظ اخری جو اپ کے سامنے رکھ رہا ہوں وہ ہے عربی زبان میں ہوا جو کہ اپ کو اکثر قران مجید میں نظر اتا ہے اب ہوا لفظ کو اپ نے دیکھا اپ کو اس میں اسم کی کوئی بھی ظاہری علامت نظر نہیں ارہی اب جب اپ نے اس کے معنی جاننے کی کوشش کی تو اپ کو بتایا گیا کہ اس کے معنی ہیں جی وہ یعنی یہ ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے. تو اپ کے ذہن میں فورا ا گیا کہ ہی یا وہ جو ہے یہ تو پروناؤن ہے اور پروناؤن جو ہے اسے عربی میں ضمیر کہا جاتا ہے اور ضمیر جو ہے وہ اسم میں شامل ہے تو اپ کو پتہ چل گیا کہ جو ہوا جو ہے یہ عربی زبان میں اسم ہے اور اسم کی جو پروناؤنز کی کیٹگری ہے اس میں شامل ہے. تو الحمدللہ جی ہم نے اج اسم کے حوالے سے تفصیل سے پڑھ لیا کہ عربی گرامر میں اسم کہتے کسے ہیں اسم کی ظاہری علامات کیا ہیں اور اسم میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں امید کرتا ہوں کہ اپ کو اج کا لیکچر بھی پسند ایا ہوگا اور بہت مفید ثابت ہوا ہوگا اپ کے لیے انشاء اللہ تعالی اگلے لیکچر میں اپ سے ملاقات ہوگی لسان القران کورس کے سبحانک اللہم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک. Thanks For Watching



