Thumbnail for Pakistan Studies Series 03| Factors for the creation of Pakistan| Dr. Basharat by The House of Wisdom with Basharat

Pakistan Studies Series 03| Factors for the creation of Pakistan| Dr. Basharat

The House of Wisdom with Basharat

22m 41s3,868 words~20 min read
Auto-Generated

[0:10]اور یہی ہمارے اس لیکچر کے ابجیکٹوز ہیں۔ جنگ آزادی کی وجوہات اور اس کے کونسیکونسز کو جاننا۔ فریڈم موومنٹ اور پاکستان موومنٹ میں فرق کو جاننا۔ اور پاکستان موومنٹ کا جو ایولوشنری پروسس ہے یا وہ فیکٹرز جس کے بعد جا کر پاکستان موومنٹ وجود میں آیا اس کو سمجھنا۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں 1857 کی جنگ آزادی اور اس کے کازیز کے اوپر۔ اصل میں جنگ آزادی ہندوستان کی تاریخ میں ایک بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ جنگ جو تھی یہ انڈینز اور برٹش کے خلاف لڑی گئی تاکہ برطانیہ کو یہاں سے نکال باہر کیا جائے۔ اور تاریخ میں برٹش ہسٹری میں اس کو انڈین ریبیلین انڈین میوٹینی اور انڈین ریمورٹ جیسے نام دیے گئے ہیں چونکہ یہ ان کے خلاف ایک بغاوت تھی ایک غدر تھی۔ لیکن چونکہ ہم یہ ازادی کے لیے کر رہے تھے تو ان اس لیے انڈین ہسٹری میں اس کو وار آف انڈیپنڈنس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور یہ وہ ایکسٹریم ایفرٹ تھی جو انڈینز نے کی، انڈینز مینز مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر کی۔ لیکن ناکام ہوئی اور اس کی ناکامی کی وجوہات بہت ہیں لیکن عام جو ہے وہ ہے اپس کی جو جیلیسی ہے نااتفاقی ہے اور ایک سینٹرل لیڈرشپ کی کمی جیسے وجوہات کی بنا پر یہ جنگ ہندوستانیوں نے ہاری اور نتیجے میں برطانیہ کی حکومت شروع ہوئی۔ یہاں پر ایک بات جان لینی ضروری ہے کہ یہ جنگ پورے ہندوستان میں نہیں تھی بلکہ یہ لمیٹڈ تھی فیو ایریاز تک۔ لائک میرٹ، دلہی، کانپور، لکھنؤ ایٹسٹرا یہاں تک تھی۔ اور اس کا جو مین ایونٹ جو امیجیٹ کاوز تھی وہ یہ تھی کہ برطانیہ نے ایک قسم کی کے کارتوث بنائے تھے جس کے اوپر ایک چربی لگی ہوئی ہوتی۔ اور اس کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ یہ چربی جو تھی وہ سوور کی ہے اور یا کاؤ کی ہے۔ تو چونکہ مسلمان سوور کو حرام مانتے ہیں اور ہندو جو ہے وہ گائے کو حرام تصور کرتے ہیں لہذا دونوں نے اس قسم کے کارتوث کو استعمال کرنے سے انکار کیا اور 23 جنوری 1857 کو ایک انڈین سولجر تھا جس کا نام تھا منگل پانڈے اس نے دو برٹش افسرز کو بیرک پور میں جو ہے وہ قتل کیا جس کے نتیجے میں اس کو پانسی پر چڑھا دیا گیا اور یہ خبر جو تھی یہ پورے ہندوستان میں پھیل گئی اور جنگ کی امیجیٹ وجہ بنی۔ لیکن یہ امیجیٹ وجہ تھی۔ وجوہات اور بھی تھی جس کو میں ڈسکس کرنے جا رہا ہوں۔ ان وجوہات کو ہم یہاں پر مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کرتے ہیں۔ چونکہ اس سے پہلے میں پچھلے لیکچر میں بیان کر چکا ہوں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی یہاں پر ائی تھی تجارت کے لیے 1608 میں اور ایک سال تک 100 سال تک یعنی 1707 تک وہ یہاں پر باقاعدہ ٹریڈ کرتے تھے۔ لیکن اورنگزیب عالمگیر کے مرنے کے بعد انہوں نے اپنے جو ارادے تھے وہ تبدیل کیے اور ہندوستان کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے لگے۔ لہذا اگلے 50 سال انہوں نے اپنی تیاری پر لگائیں اور پہلی جو بنیادی فتح انہوں نے حاصل کی وہ نواب آف بنگال کو انہوں نے شکست دے کر بنگال کو فتح کیا۔ پھر اس کے خلاف دیگر جنگیں لڑی لائک باکسر کی جنگ لڑی۔ باکسر جس جس میں بنگال کو واپس لینے کے لیے ایک جدوجہد ہوئی لیکن وہ بھی ناکام ہوئی میسور میں ٹیپو سلطان کے خلاف پہ دہلی کو فتح کیا اور اس طرح علاقوں کو وہ فتح کرتے چلے گئے۔ لیکن چونکہ اس وقت پورے ہندوستان میں نہ صرف یہ بڑے بڑے صوبے بلکہ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی کئی ریاستیں لاتعداد سینکڑوں کی تعداد میں قریب 560 کے قریب ریاستیں وہاں پر موجود تھیں اور ہر ریاست کے ایک راجہ یا اپ کہیں کہ ایک رولر ہوا کرتا تھا حکمران ہوا کرتا تھا۔ تو ان کو قبضہ کرنے کے لیے انہوں نے مختلف قسم کے پولیٹیکل جو ہے وہ اپ کہیں کہ دغا بازیاں کیں یا پولیٹیکلی طور پر ان کو اینیکس کرنے کی کوشش کی۔

[4:05]اس حوالے سے ایک ڈاکٹرائن لارڈ دلہوزی نے بنایا لارڈ دلہوزی ایک گورنر جنرل تھے ایسٹ انڈیا کمپنی کے انہوں نے ایک ڈاکٹرائن بنایا جس کو ڈاکٹرائن اف لیپس کہتے تھے ڈاکٹرائن اف لیپس یہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ جو ریاستوں کے راجہ ہیں وہ حکومت جاری رکھیں۔ لیکن ان کی وفات کے بعد ان کے مرنے کے بعد وہ ریاست اٹومیٹکلی برطانیہ کا حصہ ہو جائے گی اور وہ اپنی زندگی میں اپنا نومینیشن اپنا جو ہے وہ سکسیسر نومینیٹ نہیں کر سکتے۔ تو لہذا ایک ایک کر کے جو ریاستوں کے بادشاہ مرتے تھے ریاستوں کے جو رولر ہوا کرتے تھے وہ مرتے تھے تو وہ ریاست اٹومیٹکلی برطانیہ کے خلاف برطانیہ کے ساتھ جو ہے وہ انیکس ہوتی تھی۔ تو جو ریاستیں جو ہے وہ برطانیہ نے اس حوالے سے انیکس کی تو ان کے راجاؤں اور ان کے جو حکمرانوں کے دلوں میں برطانیہ کے خلاف ایک دشمنی اور ایک مطلب ایک نفرت کی لہر جو تھی وہ پائی جاتی تھی۔ تو یہ وہ پولیٹیکل کاز تھی۔ اس کے علاوہ کچھ اکنامک کازیز بھی تھیں اکنامک کازیز میں دو تین میں بحث اس پر بحث کر لیتا ہوں۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں ایگرین پالیسی کی۔ ایگرین پالیسی ایک پالیسی تھی جس کے تحت یہ کہا گیا زمینداروں سے کہ اپ کے پاس جس جو زمینیں ہیں اگر ان کی اپ کے پاس پروف نہیں ہے تو وہ زمینیں اپ کی نہیں ہیں پھر وہ برطانیہ حکومت حاصل کر لیتی تھی۔ اور اس کے علاوہ ان کا جو ٹیکسز کا ریٹ تھا وہ بھی بڑھا دیا گیا۔ یہ وجہ تھی کہ جنگ جب شروع ہوئی تو زیادہ تعداد میں جو ہے وہ لوگ موجود ہیں جو ایگرین پالیسیز سے متاثر ہوئے تھے۔ اس سے اس کے علاوہ ڈسٹرکشن اف لوکل انڈسٹری کی بھی بات کریں تو ہندوستان میں برطانیہ یہاں پر جب ائی تھی برٹش کی گورنمنٹ یہاں پر شروع ہوئی تھی وہ جو یہاں پر ائے تھے تو وہ اس لیے نہیں ائے تھے کہ وہ ہندوستان کے خواہ خواہ تھے۔ یا کوئی وہ اچھا کام کرنا چاہتے تھے یہاں کے لوگوں کے لیے کچھ اچھا کرنا چاہتے تھے۔ نہیں اصل میں ان کو ایک مارکیٹ کی تلاش تھی۔ وہاں پر انڈسٹریل ریولوشن ایا اور ان کو وہ سامان بیچنے کے لیے ایک مارکیٹ چاہیے تھا اور ہندوستان ان کو ایک مارکیٹ مل گیا۔ لہذا وہ اپنا سامان یہاں پر امپورٹ کرتے تھے اور یہاں پر وہ بیچتے تھے۔ جس کی وجہ سے یہاں کی جو لوکل انڈسٹریز تھی وہ بالکل تباہ و برباد ہو کر رہ گئی جس کی وجہ سے لوگ متاثر ہوئے اور جو ہے وہ بیروزگاری بڑھی۔

[6:22]اس کے علاوہ ان ایمپلائمنٹ بہت زیادہ بڑھ گئی تھی چونکہ انڈینز جو تھے برٹش جو تھی وہ انڈینز پر اعتماد نہیں کرتے تھے لہذا بڑے بڑے پوسٹوں پر انہوں نے برطانویوں کو اور برٹیشرز کو جو ہے وہ یہاں پر تعینات کیا۔ تو جس کے نتیجے میں یہاں ہندوستان کے جو ایجوکیٹڈ کلاس تھی وہ بھی تقریبا بیروزگار ہو گئی۔ اور اس کے علاوہ کورٹ فی سٹیمپس ایک بنا دی گئیں کہ اب عدالت میں جاتے تھے تو اپ سے باقاعدہ فیس لی جاتی تھی تو وہ جو فری جسٹس تھا وہ ختم ہوا اور وہاں پر بھی لوگوں سے باقاعدہ پیسے لیے جاتے تھے تو یہ اکنامک کازیز تھی۔ اس کے علاوہ ریلیجس وجوہات بھی تھیں ریلیجس وجوہات میں سب سے پہلے بات کرتے ہیں پروپیگیشن اف کرسچنٹی کی۔ ابتدا میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں پر چارٹ سنبھالا اور علاقوں کو فتح کیا تو ابتدا میں تو یہ تھا کہ دیگر مذاہب کے حوالے سے وہ رسپیکٹ رکھتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہاں پر کرسچنٹی کو فروغ دینا شروع کیا۔ اور یہ بات ظاہری بات ہے کہ مسلمانوں کے لیے اور ہندو کے لیے بھی ناقابل قبول تھی کیونکہ مذہب کو تبدیل کرنا یا اپنے مذہب کو تبدیل ہوتے ہوئے دیکھنا یہ جو ہے وہ کسی کے لیے بھی ناقابل قبول اور برداشت ہوتا ہے۔ اور جہاد موومنٹ۔ یہاں پر سید احمد شہید نے اس ظالمانہ حکومت کے خلاف جہاد کا اغاز کیا 19ویں صدی کے تقریبا تیسری دہائی میں 1826 راؤنڈ اباؤٹ میں اگرچہ پانچ سال کے اندر وہ تحریک تقریبا بیٹھ گئی مکمل طور پر کہ سید احمد شہید کو شہید کیا گیا ان کے ساتھیوں سمیت بالاکوٹ میں 1831 میں لیکن تحریک کے اثرات ابھی جاری تھیں۔ اور جنگ ازادی میں تحریک مجاہدین نے بہت اہم رول جو تھا وہ پلے کیا۔ اس کے علاوہ سوشل وجوہات بھی تھیں سوشل وجوہات میں یہ تھا کہ برطانیہ جو تھی وہ مسلمانوں کے کلچر ہیریٹیج جو کہ ایک رچ کلچر ہے مسلمانوں کا ان سے خوف زدہ تھے۔ لہذا اپنے اپ کو سپیریئر ثابت کرنے کے لیے وہ مسلمانوں کا استہزاء کرنے لگے اور مختلف پالیسیز سے اور مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے سوشل ویلیوز کو جو ہے وہ ڈی گریڈ کرنا انہوں نے شروع کیا تو جس کی وجہ سے مسلمانوں کا بالخصوص برطانیہ سے ایک نفرت کی فضا جو ہے وہ قائم ہوئی۔ اس کے علاوہ جنرلی بات کریں انڈینز کو وہ بہت ایک کمتر لوگ سمجھتے تھے خود کو سپیریئر سمجھتے تھے تو اس لیے جنرلی انڈینز جو ہے وہ انگریزوں کو برا مانتے تھے اور برا جانتے تھے۔ اس کے علاوہ ملٹری کازیز بھی تھیں ملٹری کازیز میں سب سے پہلے بات کرتے ہیں کہ جو ریاستیں برطانیہ نے مختلف طریقوں سے یا وہ ڈاکٹرائن اف لیپس کے ذریعے یا پھر وہ بزور بازو حاصل کر لیتے تھے تو اس علاقے کے جو جو ارمی ہوا کرتی تھی ان کو وہ بھیج دیتے تھے گھروں میں اور ان سے وہ اسلحہ وہ لے لیتے تھے۔ اور وہاں سے فارغ کر دیتے تھے ارمی سے کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم ان کو ارمی میں رکھیں گے تو یہ ان علاقوں کے لوگ ہیں کہیں پر وہ بغاوت نہ کر دیں کہیں پر وہ جو ہے وہ ریبیلین نہ کر دیں تو اس حوالے سے وہ ان ایمپلائیڈ ہو گئے۔ تھوزنڈز کی تعداد میں جو تھے وہ سولجرز جو تھے وہ ان ایمپلائیڈ ہو گئے۔ اس کے علاوہ چونکہ اس وقت برطانیہ کی فوج جو تھی وہ کم تھی تقریبا 40 ہزار یورپین ٹروپس تھی اس وقت اور ہندوستان کی اگر اپ بات کریں تو تین لاکھ سے اوپر تھی تو اس وجہ سے یہ تمام تر جو میں نے ذکر کیں یہ وجوہات اس کی بنا پر انڈینز کو ایک امید تھی کہ ہم جنگ جیت سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم ریشو میں زیادہ ہیں۔ لہذا انہوں نے ایک جدوجہد کا اغاز کیا لیکن وہ جدوجہد ناکام ہوئی اور ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے حوالے سے میں بحث کر چکا ہوں۔ کہ اپس کی جیلیسی ڈس یونٹی اور ایک سینٹرل لیڈرشپ کی کمی کی وجہ سے ہندوستانیوں نے وہ جنگ ہار لی۔ جنگ ازادی کے جنگ ازادی ہوئی اور انڈینز نے ہار لی۔ نتیجہ کیا ہوا کونسیکونسز کیا ہوئے سب سے پہلی وجہ سب سے پہلا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان سے مسلمانوں کا خاتمہ ہوا۔ اسپیشلی مغلز اس وقت ظاہری بات ہے مغلوں کی حکومت تھی تو مغلوں کا خاتمہ ہوا اور ہندوستان جو ہے وہ باقاعدہ ڈائریکٹ برٹش کران کے کنٹرول کے تحت اگیا۔ دوسری وجہ یہ تھی دوسری بات کونسیکونسز یہ ہوئے کہ یورپین سولجرز کی تعداد کو بڑھا دیا گیا۔ چونکہ ڈائریکٹ کنٹرول میں اگئے تو برطانوی افواج کی تعداد کو زیادہ کیا گیا۔ ایک برا افیکٹ یہ ہوا۔ کہ چونکہ انہوں نے مسلمانوں سے حکومت لی تھی اور وہ اس جنگ ازادی کی بنیادی وجہ مسلمانوں کو تصور کرتے تھے۔ لہذا انہوں نے مسلمانوں کو اپنا غلام بنایا اور ہندو کی بنسبت مسلمانوں پر زیادہ ظلم و تشدد اور جبر کرنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کے لیڈرز کو جو ہے وہ پانسی پر چڑھا دیا گیا ان کو قتل کیا گیا اور ان کو توپ خانوں کے اگے ڈال کر اس کو اڑا دیا گیا۔ اور ان کو خنزیر کی چربیوں میں اور مطلب ان کے چمڑوں میں باقاعدہ سی کر ان کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا تو اس طرح ظلم و جبر جو ہے وہ مسلمانوں کو زیادہ سہنے پڑے۔ اور تیسری بات یہ تھی چوتھی بات ان فیکٹ کہ نتیجتا جب ان کی یہاں پر باقاعدہ حکومت شروع ہوئی تو کرسچنٹی کو زیادہ فروغ دینے کے لیے انہوں نے باقاعدہ مشنریز بھیجے اور باقاعدہ کرسچنٹی کو پروپیگیٹ کرنے لگے۔ اس کے علاوہ جس طرح میں نے پہلے ذکر کیا کہ 1857 سے 1947 تک باقاعدہ برٹش کی حکومت شروع ہوئی تو اس ان مطلب اس 90 سالہ دور میں انہوں نے ہندوستان کے لیے چھ قوانین بنائے۔

[11:58]اس کو گورنمنٹ اف انڈیا ایکٹ بولتے تھے۔ 1858، 1861، 1892، 1909، 1919 اور 1936 چھ قوانین ہندوستان کے لیے باقاعدہ برٹش پارلیمنٹ بناتے تھے اور یہاں پر ان کو لاگو کرتے تھے۔ لیکن یہ جو ایکٹ تھے یہ بیسیکلی لالی پاپز تھے جو وہ اپنے ہندوستان میں حکومت کو طول دینے کے لیے وہ بنا رہے تھے۔ اور اس کے علاوہ 1857 سے لے کر 1947 تک تقریبا 20 وائسرائز۔ اس کو وائسرائے بولتے تھے پہلے گورنر جنرل بولتے تھے پھر وائسرائے کا لقب دیا۔ وائسرائے بولتے تھے لارڈ کیننگ پہلا وائسرائے تھا جنگ ازادی کے بعد اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن اخری وائسرائے جو ہے وہ ثابت ہوا تقریبا 20 وائسرائے جو ہے وہ یہاں پر بھیجے گئے برطانوی برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے۔ اب جب میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ 1857 سے لے کر 1947 تک کا جو دور ہے اس کو ہم ہندوستان کی تاریخ میں فریڈم موومنٹ کہتے ہیں۔ اور فریڈم موومنٹ کو اس طرح ڈیفائن کیا جاتا ہے کہ یہ وہ انڈینز کی کا کمبائن سٹرگل جو وہ برطانیہ کو یہاں سے نکالنا چاہتے تھے اس کو ہم فریڈم موومنٹ کہتے ہیں۔ لیکن اس فریڈم موومنٹ کے دوران کچھ واقعات ایسے ہوئے جن سے ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ محسوس ہوا کہ انگریزوں کے نکالنے کے بعد ہندو اپنے میجورٹی کے بل پر مسلمانوں کو اپنا غلام بنائیں گے اور یہاں پر اپنے میجورٹی کے بل پر ہندو راج قائم کریں گے۔ تو لہذا جب انہوں نے یہ محسوس کیا تو وہاں سے انہوں نے اپنے لیے ایک ازاد ریاست جس کو بعد میں پاکستان کا نام دیا گیا شروع کوشش شروع کی۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ تحریک ازادی یعنی فریڈم موومنٹ سے فریڈم پاکستان موومنٹ نے کیسے جنم لیا تو اس کے حوالے سے مختلف ایکسپرٹس کے مختلف رائے ہیں جس کو میں یہاں پر بحث کرنا چاہوں گا اس پر کہ پاکستان موومنٹ کا سٹارٹنگ پوائنٹ کون سا ہے؟ اس کے بارے میں کچھ ایکسپرٹس کا خیال ہے کہ تحریک پاکستان جو ہے وہ اردو ہندی کنٹرورسی سے شروع ہوا جو 1867 میں جو تنازعہ ہوا کہ بنارس کے کچھ ہندوؤں نے جو ہے وہ پروٹیسٹ کیا کہ ہم اردو کو اپنی قومی زبان نہیں بلکہ ہندی کو بنانا چاہیے۔ تو یہ وہ وقت تھا جب سر سید احمد خان نے کہا تھا کہ اگر ایک قوم کو اپ کی زبان سے اتنی نفرت ہے تو اپ کا وجود کیسے برداشت کر سکتی ہے؟ تو یہی وہ ٹائم تھا جب دو قومی نظریہ انہوں نے پیش کیا اور یہی دو قومی نظریہ پھر بعد میں تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کی بنیاد بنی تو بعض ایکسپرٹس کا خیال ہے کہ تحریک پاکستان نے جنم لیا 1867 میں اردو ہندی تنازعہ سے۔ بعض ایکسپرٹس کہتے ہیں کہ نہیں جی اصل میں تحریک پاکستان نے جنم لیا 1905 میں جب بنگال کی تقسیم ہوئی۔ بنگال اصل میں ایک بہت بڑا صوبہ تھا اور اس کو انتظامی امور کے تحت 1905 میں تقسیم کیا گیا چونکہ مشرقی بنگال میں مسلمان زیادہ تھے لہذا ایک مشرقی بنگال کو ایک علیحدہ مسلمانوں کا میجورٹی صوبہ بنا دیا گیا۔ جس سے مسلمان کافی ترقی کرتے اور ان کی ترقی کی راہیں جو ہیں وہ ان پر گامزن ہوتے لیکن اس پر پورے ہندوستان کے ہندو نے اور بالخصوص ویسٹ بنگال کے ہندو نے اور بالخصوص کانگریس نے جو ہے وہ واویلا مچایا کہ یہ تو گائے ماتا کی تقسیم ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے لہذا انہوں نے پروٹیسٹ کرنا شروع کر دیا اور نتیجتا 1911 میں اس تقسیم کو منسوخ کیا گیا۔ لیکن اس سے پہلے مسلمانوں کو ایک سبق حاصل ہو چکا تھا کہ ہندو کبھی بھی مسلمانوں کے خواہاں نہیں ہو سکتے اور ہندو ہندو جو ہے وہ کبھی بھی مسلمانوں کی اچھائی اور بھلائی ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تو اسی وجہ سے انہوں نے فورا اس کے بعد 1906 میں ہی اپنے لیے مسلم لیگ ایک الگ پولیٹیکل پارٹی بنائی۔ چونکہ اس سے پہلے کانگریس موجود تھی 1885 میں بنائی گئی تھی اور کانگریس کا دعوی تھا کہ وہ ہندو اور مسلمانوں کی مشترکہ پارٹی ہے لیکن تقسیم بنگال پر اعتراض اور احتجاج کے باعث مسلمانوں کو یہ محسوس ہوا کہ کانگریس بھی صحیح طور پر ترجمانی نہیں کر رہی تو اس حوالے سے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک پولیٹیکل پارٹی بنائی۔ تو پولیٹیکل پارٹی کا بنانا یہ اصل میں پارٹیشن اف بنگال کی وجہ سے تھا زیادہ اس کا بھی اثر تھا اس پر اور پھر یہی پولیٹیکل پارٹی جو تھی مسلم لیگ کی اس کی پلیٹ فارم سے پاکستان بنا تو اس لیے تحریک پاکستان کا نقطہ اغاز جو ہے وہ پارٹیشن اف بنگال سے بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہاں سے شروع ہوا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلافت موومنٹ جو چلی ہے 1919 سے لے کر 1924 تک ہندوستان میں وہ پاکستان کا نقطہ اغاز ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں برطانیہ نے ترکی کو شکست دی وہاں پر خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا خلافت عثمانیہ کو بحال کرنے کے لیے ہندوستان میں تحریک خلافت شروع ہوئی۔ تحریک خلافت کا ساتھ دینے کے لیے کانگریس نے بھی جو ہے مسلمانوں کا ساتھ دیا اپنے پس پردہ مقتصد کے حصول کے لیے لیکن عین اس وقت پر 1922 میں جب خلافت موومنٹ اپنے پیک پر تھی اور قریب تھا کہ ہندوستان کو چھوڑ کر چلے جائیں برطانیہ گاندھی نے خلافت سے اپنا دست اور اپنا ہاتھ جو تھا وہ اٹھا دیا جس کی وجہ سے تحریک کمزور ہوئی اور بعد میں ختم بھی ہوئی لیکن ایک سبق جو مسلمانوں نے سیکھا تحریک خلافت سے وہ یہ تھا کہ ہندو کبھی بھی سنسیرلی مسلمانوں کو سپورٹ نہیں کریں گے۔ تو لہذا یہی وہ پوائنٹ ہے کہ مسلمانوں نے پولیٹکس کو جانا مسلمانوں نے انٹرنیشنل پولیٹکس کو جانا مسلمانوں نے ہندو رویے کو جانا تو لہذا یہی وہ پوائنٹ ہے جس کے بارے میں بعض ایکسپرٹس کا خیال یہ ہے کہ تحریک پاکستان نے یہاں سے جنم لیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ 1928 میں جو نہرو رپورٹ پیش ہوئی اس سے تحریک پاکستان نے جنم لیا۔ نہرو رپورٹ اصل میں کانسٹیٹیشنل فارمولا تھا۔ جس کو موتی لال نہرو کے لیڈرشپ کے اندر پیش کیا گیا تھا۔ نہرو رپورٹ میں اصل میں ان تمام رائٹس مسلمانوں کے اور ڈیمانڈز کی مخالفت کی گئی تھی جو مسلمان پچھلے تین دہائیوں سے بلکہ اس سے بھی پہلے وہ بیان کرتے چلے ا رہے تھے۔ تو یہی وجہ تھی کہ جب نہرو رپورٹ پیش ہوئی اور جب پیش ہوئی اور اس میں جب یہ مسلمانوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کے تمام تر مطالبات جو مسلمان پچھلے 30 سالوں سے بلکہ اس سے بھی پہلے وہ بیان کرتے چلے ا رہے تھے ان سب کی نیگیشن کی گئی تو اس حوالے سے قائد اعظم جو ابھی تک ون نیشن تھیوری کے قائل تھے اور ہندو مسلم یونٹی کے خواہاں تھے انہوں نے بھی کہا کہ اج سے ہمارے راستے جدا ہیں۔

[18:39]تو جب یہاں سے کہا کہ ہمارے راستے جدا ہیں تو بعض ہسٹورینز جو ہیں وہ اس پوائنٹ کو تحریک پاکستان کا نقطہ اغاز کہتے ہیں۔ جبکہ بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ 1937 سے 1939 تک جو کانگریس منسٹریاں بنی 1935 کے ایکٹ کے تحت صوبائی انتخابات ہو گئے جس کے نتیجے میں کانگریس کی حکومتیں قائم ہوئی مختلف صوبوں میں کانگریس نے اپنے دو سالہ اقتدار میں جو پالیسیاں بنائی اور جو اینٹی اسلامک پالیسیاں تھیں لائک وندے ماترم کا ترانہ ہوا یا پھر وردا سکیم کے تحت غیر اسلامی نصاب یا پھر گاندھی کے تصویر کے سامنے جھکنا جیسی پالیسیز کو امپلیمنٹ کیا باقاعدہ بزور اور یہ مسلمانوں کے لیے بھی لازم تھا یہ کرنا یہ سب کچھ۔ تو لہذا ان پالیسیز کی بنا پر جب کانگریس منسٹریز ختم ہوئیں اور کس طرح ختم ہوئی کہ دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی اور برطانیہ نے کانگریس منسٹریز سے پوچھے بغیر ہندوستان کو جنگ میں دھکیل دیا تو پروٹیسٹ کے طور پر کانگریس سے اپنی وزارتوں سے استعفے دیے۔ یہ مسلمانوں کے لیے اس طرح تھا جس طرح بلیسڈ ان ڈس گائز جس کو ہم کہتے ہیں۔ تو قائد اعظم نے ان کی استیفو کے بعد یوم نجات منایا اور اس کے فورا بعد مسلمانوں نے 1940 میں قرارداد لاہور جس کو قرارداد پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ پیش کیا اور جس میں کلیئر کٹ یہ کہا گیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کوئی بھی ائینی فارمولا منظور نہیں ہے۔ جب تک کہ اپ جو نارتھ ویسٹ کے مسلم میجورٹی پروینسز ہیں یا ایریاز ہیں ان کو اپ اسٹیٹس ازاد نہ بنائیں۔ ازاد اسٹیٹس لیکن بعد میں ایک سال بعد اس کو ترمیم کی گئی اور اسٹیٹس کے لفظ کو لفظ ریاست یعنی ایک ریاست نہ بنائیں۔ یہ کہا گیا۔ تو کانگریس منسٹریز کو بھی پاکستان کا نقطہ اغاز کہتے ہیں اور صحیح معنوں میں کیونکہ ظاہری بات ہے اس کے بعد جا کر اپ دیکھیں کہ ایک سال بعد قرارداد پاکستان بھی پیش ہوتا ہے تو بعض لوگ کانگریس منسٹریز میں ہندوؤں کے اس رویے کو پاکستان کا نقطہ اغاز سمجھتے ہیں۔ کنکلوڈ کرتے ہیں اپنے اس ٹاپک کو کہ نقطہ اغاز سب کا جنہوں نے بیان کیا ایکسپرٹس کے جو اوپینینز ہیں وہ اپنی اپنی جگہوں پر بالکل صحیح ہیں۔ ال دیز انسیڈنٹس کین بی اپلائیڈ ان سچ وے دیٹ اے رفٹ ارائز بٹوین مسلمز اینڈ ہندوز ان 1867 اینڈ ایوری سب سیکوینٹ انسیڈنٹ وائڈن اٹ ایونچولی کانگریس گورنمنٹ ٹرن اٹ انٹو اے گلف وچ واز امپاسبل فار دیز نیشنز ٹو یونائیٹ اگین سو تحریک پاکستان کیم ان ٹو بینگ تھرو اے گریجویل پروسیس نو سنگل انسیڈنٹ کین بی لنکڈ ٹو تحریک پاکستان تو لہذا یہ ایک ایولوشنری پروسس ہے کہ جس کے تھرو پاکستان کا جو تحریک پاکستان کی جو تحریک ہے وہ وجود میں اتی ہے اور ایک ایسا خاص واقعہ جس کے اوپر ہم یہ کہیں کہ یہ تحریک پاکستان کا نقطہ اغاز ہے۔

[21:58]یہ کہنا صحیح نہیں ہو گا بلکہ یہ ایک ایولوشنری پروسس کے تھرو تحریک پاکستان نے فریڈم موومنٹ سے یعنی تحریک ازادی سے جنم لیا۔ تو تحریک ازادی تو کمبائن سٹرگل تھی لیکن پھر اس کمبائن سٹرگل میں یہ واقعہ جو میں نے ذکر کیے یہ تحریک پاکستان کی وجہ بنی اور جس کے نتیجے میں پاکستان جو ہے وہ وجود میں ایا۔ تو یہ اج کی ہماری ڈسکشن تھی جس میں ہم نے 1857 میں جو جنگ ازادی لڑی گئی اس میں جو وجوہات تھیں وہ ہم نے بحث اس پر کی۔ پھر جنگ ازادی کے ہارنے کے نتیجے میں اس کے کونسیکونسز کیا ہوئے اس پر ہم نے بحث کی پھر وہ جو 90 سالہ دور ہے جس کو ہم فریڈم موومنٹ کہتے ہیں اس کو ہم نے ڈیفائن کیا اور پھر اس سے پاکستان موومنٹ نے کیسے جنم لیا اس پر ہم نے بحث کی۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript