Thumbnail for Surah Al-Nisa part 05 (verse 15 - 18) - Javed Ahmed Ghamidi by Dars e Quran (Javed Ahmed Ghamidi)

Surah Al-Nisa part 05 (verse 15 - 18) - Javed Ahmed Ghamidi

Dars e Quran (Javed Ahmed Ghamidi)

31m 21s5,561 words~28 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
[0:30]Section 1

الحمد لله رب العالمين والسلام على محمد وامين اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم خواتین حضرات سورہ نساء کی ایت 15 سے ہم ق...

[18:01]Section 2

لوگوں کو جو مشکل ان ایات میں پیش ائی وہ یہ ہے کہ اوپر صرف عورتوں کا ذکر کیوں ہے اور نیچے پھر مرد اور عورت کا ذکر کیوں ہے؟ جو مشکل پیش ائی...

[21:37]Section 3

اس موقع پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری انہی لوگوں کے لیے ہے۔ جو جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کر بیٹھتے...

[21:54]Section 4

اب یہ چند چیزیں ہیں جو اس میں سمجھ لینی چاہیے۔ ایک تو یہ کہ اس میں لفظ جہالت استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی اگرچہ نہ جاننے کے بھی اتے ہیں لیک...

[24:26]Section 5

یہ تو ایک بات بیان کی۔ اس کے بعد فرمایا ولیست التوبة للذین یعملون السیئات حتى إذا حذر احدھم الموت قال إنی تبت الآن۔

[25:31]Section 6

ان لوگوں کی توبہ البتہ کوئی توبہ نہیں۔ جو گناہ کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت قریب ا جاتا ہے۔ اس وقت وہ کہتا...

Pull quotes
[21:37]اس موقع پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری انہی لوگوں کے لیے ہے۔ جو جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں ثم یتوبون من قريب پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔
[24:26]یہ تو ایک بات بیان کی۔ اس کے بعد فرمایا ولیست التوبة للذین یعملون السیئات حتى إذا حذر احدھم الموت قال إنی تبت الآن۔
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:30]الحمد لله رب العالمين والسلام على محمد وامين اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم خواتین حضرات سورہ نساء کی ایت 15 سے ہم قران مجید کا مطالعہ شروع کر رہے ہیں اس سوره سے متعلق میں یہ بات عرض کر چکا ہوں اس میں قران مجید کے طریقے کے مطابق تزکیہ و تطہیر کا مضمون اس وغموز ہے۔ تزکیہ و تطہیر کا مطلب بھی میں بیان کر چکا۔ یعنی انسان کو اپنے اخلاقی وجود کو کیسے پاکیزہ بنانا ہے، اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کیا خوبیاں پیدا کرنی ہیں؟ یہ تزکیہ و تطہیر کے لفظ سے ادا کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، اور وہ پہلو یہ ہے کہ اس وقت جو مسلمانوں کی جماعت تھی، اس کے اندر ہر طرح کے عناصر تھے، ان میں سے سچے ایمان کو کمزور لوگوں کو اور منافقین کو الگ الگ کرنا، اس کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے، اور اس کی وجہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ اس وقت چونکہ رسالت میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو چکی تھی، تو اللہ کے پیغمبر کی طرف سے اکمام حجت کے بعد اللہ کا فیصلہ اتا ہے۔ اسی دنیا میں فیصلے سے پہلے لوگوں کو الگ الگ کرنا ضروری ہوتا ہے تو یہ دو مفاہیم ہیں جس کے لیے تزکیہ و تطہیر کا لفظ بولا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں ایسا ہے کہ امام حجت کا مضمون شروع ہوا اور پھر مضمون کا رخ تزکیہ و تظیر کی طرف مڑ گیا۔ بعض صورتوں میں اس سے برعکس ہے۔ اس سورہ میں اس سورہ نساء میں اور اس کے بعد سورہ مائدہ میں ترتیب دوسری ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے بقرہ اور ال عمران میں پہلے یہود پر اتمام حجت کیا گیا ہے، اہل کتاب پر اللہ کی حجت پوری کی گئی ہے اور اس کے بعد مضمون کا رخ مسلمانوں کے تزکیہ و تحریر کی طرف مڑ گیا ہے۔ اصل میں قران کے یہ دو ہی مظالم ہیں۔ یعنی اس میں یا تو مخاطبین پر اللہ کی حجت پوری کی جا رہی ہوگی اور یا جو لوگ مان کر قریب ا گئے ہیں ان کو پاکیزہ بنانے کے لیے اللہ تعالی اپنی تعلیمات بھی بیان فرمائیں گے اور ان کو الگ الگ بھی کریں گے۔ اس سورہ میں معاشرت سے متعلق چیزیں زیر بحث ہیں۔ اور اس میں ابتدا کی گئی تھی اس بنیادی تصور کو واضح کرنے سے کہ اللہ تعالی نے انسان کی خلقت کس اصول پر کی ہے۔ اس کے بعد پھر یتامی کے مسائل زیر بحث ا گئے اور پھر میراث کا معاملہ موضوع بحث بن گیا ہے۔ اس کا ہم مطالعہ کر چکے ہیں اب ارشاد ہوا۔ والذین یاتین الفاحشہ من نساءکم فاستشہدوا علیهم اربع منکم فان شهدوا فامسکوہن فی البیوت حتی یتوفهن الموت او یجعل اللہ لهن سبیلا بدکاری کے معاملے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ تین بڑے گناہوں میں سے قران مجید میں ویسے تو 10 بڑے گناہ بیان کیے ہیں جن کو کبیرہ گناہ کہا جاتا ہے اور ان کی فہرست سورہ بنی اسرائیل میں بیان کر دی ہے۔ یہ کم و بیش وہی گناہ ہے جو تورات میں بھی 10 کمانڈمنٹس یا احکام عشرہ کی صورت میں بیان کیے ہیں۔ لیکن ان میں پھر جو اکبر القبائل ہیں سب سے بڑے گناہ ہیں وہ تین ہیں۔ قران مجید میں جگہ جگہ ان کو واضح کیا ہے۔ ایک شرک ہے، دوسرے قتل ہے اور تیسرے بدکاری ہے۔ بدکاری کے معاملے میں اگر اپ تھوڑا سا غور کریں تو یہ بات بھی معلوم ہو جاتی ہے کہ بالعموم اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی عورت قہبغری شروع کر دے جس کو ہمارے ہاں ڈیرے والی کہہ سکتے ہیں قوائد کہہ سکتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک مرد و عورت کے درمیان کوئی یاری اشقائی کا تعلق پیدا ہو گیا اور اس سے بدکاری وجود میں انے لگے۔ قران مجید جگہ جگہ ان دونوں قسموں کو بیان کرتا ہے۔ اس کے لیے قران کی تعبیر یہ ہے کہ مسافہات غیر مسافہات او متخذات اخدان۔ یعنی مسافہات کھلے بدوں بدکاری کرنے والی ہیں۔ متخذات اخدان چوری چھپے جانے یا اشنائی کرنے والی ہیں۔ یعنی ان دونوں ہی صورتوں میں ایک تو یہ ہے نا کہ انسان کے اوپر کچھ جذبات کا غلبہ ہوا کسی سے غلطی ہو گئی وہ ایک الگ چیز ہے۔ لیکن جب بدکاری فی الواقعی ایک مسئلہ بنتی ہے تو ان دو ہی صورتوں میں بنتی ہے۔ سوسائٹی کے لیے مسئلہ بنتی ہے، تمدن کے لیے مسئلہ بنتی ہے کیونکہ بدکاری کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ اگر اس کو روا رکھا جائے گا تو پھر نکاح کے ادارے کے تقدس کو قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ یعنی دونوں میں سے ایک ہی چیز ہو سکتی ہے۔ یا تو نکاح کے ادارے کے تقدس کو قائم کیا جائے گا، رشتوں کے تقدس کو قائم کیا جائے گا اور یہ اگر ہوگا تو پھر عفت اور پاکیزگی کو ایک قدر کے طور پر ماننا پڑے گا۔ اور اگر اس کو قائم رکھنا پیش نظر نہیں ہے تو پھر ازادانہ جنسی تعلق پر بھی کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ اللہ کا دین چونکہ تمدن کی بنیاد ہی اس کو قرار دیتا ہے کہ ایک مرد و عورت یہ تعلق پیدا کرے اور یہ میاں اور بیوی کی حیثیت سے پیدا کرے پھر اس کو ایک مقدس رشتے کے طور پر یہ چاہتا ہے کہ اس سے دوسرے رشتے اور دوسرے تعلقات وجود میں ائیں اور انسان ان تعلقات کو بھی ہمیشہ حرمت کی نگاہ سے دیکھے۔ یہ جو چیز ہے یہ چیز تمدن کی کتنی بڑی ضرورت ہے، انسانی تہذیب اس سے کس طرح نش و نما پاتی ہے، اس کو اگر اپ ملحوظ نہ رکھیں تو اس سے کیا خرابیاں پیدا ہوتی ہیں وہ اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔ جس وقت سورہ بنی اسرائیل میں زنا کی شرات کو قران بیان کرے گا تو اس پر ہم اس وقت گفتگو کریں گے۔ یہاں صرف ایک خاص پہلو زیر بحث ا گیا ہے اور وہ پہلو یہ ہے کہ یہ جو دونوں قسمیں ہیں بدکاری کی یعنی جس میں ایک تو قہبغری شروع ہو جاتی ہے، پراسٹیٹیوشن شروع ہو جاتی ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ کسی جگہ یاری اشنائی کا کوئی تعلق پیدا ہوتا ہے اس سے بدکاری وجود میں ا جاتی ہے۔ ان دونوں صورتوں کو مدینے کی اس سوسائٹی میں کیسے کنٹرول کیا جائے؟ یعنی پہلا مرحلہ تو ظاہر ہے کہ وہی تھا کہ اللہ تعالی نے تعلیم دی اور زنا کی شناخت بیان کی اور لوگوں کو پاکیزگی کی طرف بلایا۔ لیکن سوسائٹی کی جب اپ تطہیر کر رہے ہوتے ہیں سوسائٹی کا تزکیہ کر رہے ہوتے ہیں تو اس میں بعض اوقات اپ کو کچھ قانونی اقدامات بھی کرنے پڑتے ہیں۔ دنیا بھر کا تجربہ یہی ہے تو معاشرہ وجود میں ا چکا ہے۔ معاشرے کے اندر اپ کچھ ہدایات وہ دے رہے ہیں جن کو فرد بحثیت فرد اپناتا ہے اور پھر کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جو ساری ہدایت ساری نصیحت کے باوجود جرم سے باز نہیں اتے۔ اس طرح کے مجرموں سے اب کیسے نمٹا جائے؟ رسالت مااب صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔ مدینے کی ایک چھوٹی سی ریاست وجود پذیر ہو گئی ہے۔ اس میں اس طرح کے معاملات اگر سامنے اتے ہیں تو کیا طریقہ اختیار کرنا ہے؟ یہ یہاں موضوع بحث ہے۔ میں نے عرض کیا کہ تزکیہ و تطہیر کا مضمون ہے اور اسی کے ضمن میں بہت سی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ یتیم ہو گئے ہیں بچے ان کے مال کی نگہداشت کرنی ہے اس کے لیے کیا ہدایات ہیں۔ لوگ اپنے پیچھے کچھ مال چھوڑ کے دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں اس میں جو جھگڑے اور تنازعات پیدا ہو رہے ہیں ان کا کیا حل ہے۔ اور اس کے بارے میں کیا اقدامات کرنے ہیں تزکیہ و تطہیر کے مضمون کو اگر اپ اس کی وسعت میں دیکھیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انفرادی زندگی جو مسائل پیدا کر رہی ہے ان میں بھی پاکیزگی اختیار کی جائے اور پاکیزگی کی تعلیم دی جائے اور اجتماعی زندگی اور اجتماعی زندگی ظاہر ہے کئی سطحوں پر وجود میں اتی ہے۔ یعنی جب میں شادی کرتا ہوں تو اس سے ایک خاندان وجود میں اتا ہے میں باہر نکلتا ہوں معاش کی جد و جہد کرتا ہوں تو اس سے سوسائٹی کا تمدن وجود پذیر ہونا شروع ہو جاتا ہے پھر اس کے بعد جب ہم ایک ریاست یا ایک قبیلی سطح کی کہہ لیجیے بناتے ہیں تو اس سے ایک سیاسی نظم پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ان تمام معاملات میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کو کیسے پاکیزہ بنایا جائے اس کی ہدایات یہاں دی جا رہی ہیں۔ تو اس میں اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ سوسائٹی میں جو یہ دو قسمیں ہیں یعنی ایک وہ عورتیں ہیں اور وہاں عورت ہی زیر بحث ہوتی ہے۔ یعنی جو لوگ جا رہے ہیں ظاہر ہے کہ وہ تو گرفت میں قانون کی اس طرح نہیں اتے۔ ائیں گے تو ان کے ساتھ الگ معاملہ ہوگا لیکن چونکہ ایک عورت نے اپنا ڈیرہ بنا کے یہ کاروبار شروع کر دیا ہے۔ اب اس کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے ہر سوسائٹی میں جو مسئلہ زیر بحث ہے اور دوسری چیز یہ ہے کہ یاری اشنائی کا تعلق ہے وہ قانون کی گرفت میں ا گیا ہے۔ اس کے معاملے میں کیا کرنا ہے تو پہلے ایک چیز کو لیا پھر دوسری چیز کو لیا۔ یہ جو فرق ہے کہ ایک میں صرف عورت مسئلہ ہوتی ہے اور دوسرے میں مرد و عورت دونوں مسئلہ ہوتے ہیں۔ یہ اتنی بدیہی اتنی صاف بات ہے کہ جگہ جگہ قران اس کو بیان بھی کرتا ہے اور اپ ذرا سا غور کریں سمجھ میں ا جاتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ ایت ایک لائن حل معما بن گئی اور لوگ اس کو نہیں سمجھ پائے۔ تو یہ سادہ ہے بالکل مضمون ارشاد فرمایا ہے کہ تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کرتی ہیں۔ یہ بدکاری کرتی ہیں اس میں جو فعل ایا ہے یہ بیان مدمت کے لیے ہے۔ یعنی بدکاری جن کا پیشہ بن گیا ہے جن کا شب و روز کا شکل بن گیا ہے۔ جو بدکاری کرتی ہیں۔ یہ مطلب ہے اس کا ان عورتوں کے ساتھ کیا کرو فاستشہدوا علیہن اربعۃ منکم۔ ان کے معاملے میں چار گواہ طلب کرو۔ یہ چار گواہ کس چیز کے ہیں؟ چار گواہ اس چیز کے ہیں کہ یہ کب اور کو۔ یعنی ان کا پیشہ بدکاری ہے۔ یہ وہ مسئلہ نہیں ہے جو سورہ نساء نور میں زیر بحث ائے گا اور جس میں یہ بتایا جائے گا کہ بدکاری کے ساتھ جب کبھی اپ کے سامنے کوئی مقدمہ اتا ہے تو کیا معاملہ کرنا ہے۔ کعبہ عورتیں ہیں سوسائٹی میں ایک چھوٹی سی بستی میں ہیں لوگ عام طور پر واقف ہی ہوتے ہیں اس طرح کی عورتوں سے لیکن قانونی کاروائی کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔ تو فرمایا کہ سوسائٹی کے اندر سے چار گواہ طلب کرو جو پہلے اس چیز کو اسٹیبلش کریں کہ یہ پھروا کے کعبہ اور ہے۔ قانون کا تقاضا یہ ہے۔ اس تقاضے کو پورا کر لینے کے بعد اب کیا کیا جائے؟ فرمایا کہ جب وہ گواہی دے دیں تو پھر ان کو گھروں میں بند کر دو۔ یعنی اب معلوم ہو گیا ویسے تو اپ کو کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ اپ اس کو گھر میں مداخلت کریں۔ لیکن یہ معلوم ہو گیا کہ یہ گھر اسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اور یہ چیز بھی واضح ہو گئی کہ اسی نوعیت کی عورت ہے محلے میں رہ رہی ہے کسی جگہ پر ظاہر ہے مدینے میں یہ صورتحال نہیں تھی کوئی قوائفوں کا الگ محلہ بنا دیا گیا ہو۔ کچھ گھروں میں یہ معاملات ہو رہے تھے تو ارشاد فرمایا کہ ان کو گھروں میں بند کر دو اور پھر اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی اس معاملے میں کوئی باقاعدہ قانون نہیں دیا جا رہا۔ یعنی یہ بات خود ان الفاظ سے واضح ہے۔ الفاظ یہ ہیں کہ حتی یتوفهن الموت۔ دو صورتیں ہوں گی۔ یا تو یہ ہوگا کہ یہ اسی صورتحال میں اللہ کی حضور پہنچ جائیں۔ تو اللہ ان کا معاملہ دیکھ لے گا۔ او یجعل اللہ لهن سبیلا یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے گا۔ یعنی موت کے بعد جب دوسرا راستہ ہے تو مطلب یہ ہے کہ اب ان کے ساتھ کیسے نمٹا جائے؟ کیا سزا دی جائے؟ کیسے تنبیہ کی جائے؟ کس طریقے سے اس چیز کو روکا جائے؟ اس چیز کے لیے اللہ کوئی قانون دے گا۔ یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہ ایک بالکل ابتدائی نوعیت کی تدبیر ہے کہ فوری طور پر یہ کیا جائے۔ یعنی پہلا کام تو یہ کیا جائے اور پھر انتظار کیا جائے کہ اللہ اس معاملے میں کیا قانون دے گا۔ یہ بات دوسری بات یہ فرمائی کہ واللذین یاتیانہم منکم اب یہ دوسری قسم زیر بحث ا گئی۔ اور اس نے اس نے دیکھیے مرد اور عورت دونوں زیر بحث ہیں اور ہونے چاہیے۔ کہ جو مرد و عورت تمہارے لوگوں میں سے اس جرم کا ارتکاب کریں۔ یہ وہی یاری اشنائی کا تعلق ہے۔ فرمایا جو یہ کس جرم کا ارتکاب کرے تو فاذوہما انہیں ایذا دو۔ یعنی انہیں کوئی جسمانی سزا دو۔ فین تابا واسلح پھر اگر وہ توبہ کریں اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ ان اللہ کان تواب الرحیما بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے اس کی شفقت ابدی ہے۔ یعنی جو یاری اشنائی کے تعلق میں ہیں ان کے ساتھ یہ معاملہ کرو اور جو کعبہ خواتین ہیں ان کے ساتھ یہ معاملہ کرو۔ ان دونوں قسموں کے بارے میں جو اس وقت کی صورتحال ہے وہ بتا دی۔ اب یہ سمجھ لیجئے کہ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ ایک بالکل عارضی نوعیت کی تدبیر ہے جب اپ سوسائٹی کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو سوسائٹی کی اصلاح کرتے وقت اپ کو دیکھنا ہوتا ہے کہ کس مرحلے پر قانون نافذ کیا جائے۔ کس مرحلے پر سزا دی جائے؟ کہاں ابتدائی کوئی تدابیر کی جائے۔ جو ادمی بھی حکمت کے ساتھ معاملات کی اصلاح کرنا چاہے گا وہ یہیں سے شروع کرے گا۔ اس میں کئی چیزیں مانے ہوتی ہیں۔ یعنی پہلے ہی مرحلے میں بعض اوقات ایک متعین قانون دینا یا ایک متعین قانون بنا دینا یا اس کا نفاذ کر دینا ممکن نہیں ہوتا۔ معاشرے میں بے شمار عوامل کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ جب کبھی اپ اپنے معاشرے کو دیکھیں گے تو اندازہ ہو جائے گا کہ معاشرے کی اصلاح کرنے کے لیے یا معاشرے میں قانون سازی کے لیے کن چیزوں کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے قران مجید نے ہمیں بھی یہ تربیت دی ہے کہ اگر کسی معاشرے کو ہم درست کرنا چاہتے ہیں یا اس میں کوئی قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں تو قانون سے صرف معاشرے کی اصلاح نہیں ہو جاتی۔ بلکہ اس کے لیے اپ کو تعلیم تربیت کے بے شمار اور چیزیں ہیں جو اختیار کرنا پڑتی ہیں اور پھر ایک مرحلہ اتا ہے کہ جس میں بھی اپ ہو سکتا ہے کچھ حفاظتی تدابیر کر کے معاملے کو تھوڑا سا روکنے کی کوشش کریں۔ اور پھر وہ وقت اتا ہے کہ جب سوسائٹی اس قابل ہو جاتی ہے کہ ہر چیز بالکل متعین ہو جاتی ہے۔ اب سوسائٹی کسی سزا کے نفاذ کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر جب کبھی لوگ اس طرح کے جرائم کے بارے میں کوئی اپنی رائے بیان کرتے ہیں تو وہ اس چیز کو نہیں سمجھتے ابھی اپ نے دیکھا کہ ایک سزا ہمارے ہاں بعض لوگوں نے قانون کی خلاف ورزی کر کے دے ڈالی۔ جیسے ہی وہ لوگوں کے سامنے ائی تو ایک رد عمل ہونا شروع ہو گیا۔ اس سے معاشرے کو سمجھنا چاہیے کہ وہ چیزوں کو کیسے دیکھ رہا ہوتا ہے تو رسالت مااب صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قران مجید کے قانون کو نافذ کیا ہے تو یہ ایات ہمیں بتاتی ہیں کہ اس میں قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ابتدائی اقدامات کیا کیے گئے ہیں۔ اور اسی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قانون کے نفاذ میں تدریج ملحوظ رکھنی چاہیے۔ یعنی معاشرہ کب کس چیز کو گوارا کرتا ہے؟ کب کس چیز کو قبول کرتا ہے؟ یہاں پر اب صورتحال دیکھیے اس کے چند نازک پہلوؤں کے بارے میں اپ سے عرض کروں۔ ایک خاتون کے بارے میں اس طرح ایک گواہی ہو گئی ہے۔ قبائلی نظام ہے۔ اپ دیکھیں کہ بعض اوقات گواہ جو اپ کو ملے ہیں چار کے چار وہ سارے کے سارے ایک قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیجئے کہ عورت کسی دوسرے قبیلے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں بھی کوئی اگر اقدام کر ڈالا جائے تو قبائلی نظام کے اندر بعض اوقات یہ چیز اسلیت کا باعث بن جاتی ہے۔ یعنی اس کا ایک بڑا غیر معمولی نمونہ اس وقت سامنے ایا جب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جیسے روایات میں معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے ایک سکینڈل بنا دیا۔ سیدہ عائشہ سے متعلق بیان کیا جاتا ہے۔ اس سکینڈل کی اگر اپ تفصیلات پڑھیں تو یہ معلوم ہوگا کہ جیسے ہی ایک شخص کی طرف اشارہ ہوا اور اس کے بارے میں لوگوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا تو اپ تاریخ کی کتابوں میں دیکھیے کہ دوسرے قبیلے والوں نے اس کے خلاف رد عمل کا اظہار کیا۔ یعنی قبائلی اسلیتیں بڑی گہری اتری ہوئی ہوتی ہیں یہ اسانی سے نہیں جاتیں۔ تو اس طرح کی چیزیں بعض اوقات اس کا تقاضا کر رہی ہوتی ہیں کہ اپ کسی معاشرے کے اندر جب کسی قانون کا نفاذ کرتے ہیں تو اس میں اپ کو کیا تدریجی طریقے اختیار کرنے چاہیے۔ تو یہاں پہلے صرف دو کام کیے گئے۔ ایک یہ کہ اگر چار گواہ ہیں اور وہ یہ بات کہہ دیتے ہیں کہ یہ کبہ عورتیں ہیں تو قانون کو اب کچھ کاروائی کا حق ہو گیا لیکن وہ کیا کاروائی کی جائے؟ وہ کاروائی یہ کی جائے کہ ان کو فی الحال انہی کے گھروں میں بند کر دیا جائے اور انتظار کیا جائے کہ اللہ ان کے لیے کیا راستہ نکالتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس کے دوران میں موت انہیں ا لے اور ہو سکتا ہے کوئی قانون نازل کر دیا جائے۔ دوسرے جو لوگ ہیں جن کے بارے میں یہ کہا کہ جن کا یاری اشنائی کا تعلق ہے اس میں مرد اور عورت دونوں زیر بحث ائیں گے۔ اس میں زانی اور زانیہ بدکاری کرنے والا مرد اور بدکاری کرنے والی عورت بالکل متعین ہے دونوں کا ذکر ا گیا ہے۔

[18:01]لوگوں کو جو مشکل ان ایات میں پیش ائی وہ یہ ہے کہ اوپر صرف عورتوں کا ذکر کیوں ہے اور نیچے پھر مرد اور عورت کا ذکر کیوں ہے؟ جو مشکل پیش ائی ہے وہ یہ ہے حالانکہ اگر اپ غور کریں تو یہ بالکل سادہ بات ہے اور قران مجید نے جگہ جگہ اس کا ذکر کیا ہے جگہ جگہ یہ بیان کیا ہے۔ کہ یہ دو ہی قسمیں ہوتی ہیں۔ اپ بھی اپنی سوسائٹی کو دیکھیں دنیا کے کسی معاشرے کو دیکھ لیں۔ دیہاتی معاشرے میں خاص طور پر یہ چیزیں بڑی نمایاں ہو جاتی ہیں۔ تو یہ چیزیں جو ہیں یہ کوئی سمجھنے میں ایسی دقت نہیں ہوتی یہ بالکل ایک معمول کی چیز ہے کہ یا تو پراسٹیٹیوشن ہوگی اس میں ظاہر ہے عورت ہی زیر بحث ہوتی ہے ہمیشہ اور یا یہ ہے کہ یاری اشنائی کا تعلق ہوگا دونوں متعین ہوتے ہیں۔ دونوں متعین ہوتے ہیں تو ان کو اپ دونوں کو سزا دیں گے۔ تو یہ بتایا گیا یہ جو ایزا دیں کہا یا کچھ سزا دے یا گوشمالی کریں یہی اصل میں وہ چیز ہے کہ جو بعد میں پھر سو کوڑوں کی سزا کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ یعنی جب اللہ تعالی نے قانون دیا یہاں پر اس کو متعین نہیں کیا گیا۔ کچھ ایذا دے دو ان کو۔ اور اس کے بعد اگر اصلاح کر لیں تو اللہ معاف کرنے والا ہے۔ پھر ایک متعین باقاعدہ قانون اس کے بارے میں سورہ نور میں نازل کر دیا گیا۔ تو اس زاویے سے اگر اپ دیکھیں گے تو ان ایتوں میں کوئی مشکل نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ایک بڑے گناہ کا ذکر ا گیا ہے۔ یعنی ایک غیر معمولی گناہ جو بدکاری کی صورت میں یہاں زیر بحث ایا۔ تو یہ اگر کسی ادمی سے اس طرح کا کوئی بڑا گناہ ہو جائے۔ یعنی ایک پہلو تو اس کا یہ ہے نا کہ اس گناہ کے ہو جانے کے بعد ریاست کو معاشرے کو کیا کرنا ہے؟ سزا دے گا۔ جرم کے خلاف کاروائی کرے گا۔ لیکن دین کا معاملہ تو صرف اتنا نہیں ہے نا اس میں تو ایک چیز یہ ہے کہ پھر انسان کو کیا کرنا ہے؟ اس انسان کے لیے کیا توبہ کا دروازہ کھلا ہے؟ یہاں بھی یہ فرمایا کہ اگر وہ توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ لیکن یہاں توبہ اور اصلاح کا جو نتیجہ بیان کیا ہے وہ اصل میں لوگوں کے درگزر کرنے کے حوالے سے ہے کیونکہ وہاں قانون کا پہلو زیر بحث ہے۔ اللہ کے ساتھ معاملے کی نوعیت کیا ہے۔ یہ بدکاری ایک جرم ہے، بڑا جرم ہے۔ کسی ادمی سے شرک کا ارتکاب ہو گیا ہے۔ کسی ادمی سے قتل جیسا بڑا جرم ہو گیا ہے۔ تو توبہ کا قاعدہ کیا ہے؟ یعنی اگر اپ یہ سمجھ لیں کہ وہ 10 کے 10 جرائم جو قران مجید نے بیان کیے ہیں جن کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو ادمی کے پاس اللہ تعالی کے حضور میں اپنے اپ کو پاک کرنے کے لیے کیا راستہ ہے؟ یعنی ایک تو پاکیزگی ہو ہے جو اپ سوسائٹی میں چاہتے ہیں اس کے لیے اپ تعلیم دیتے ہیں تربیت دیتے ہیں تنبیہ کرتے ہیں سزا بھی دیتے ہیں مجرم کو لیکن اللہ تعالی کے ساتھ معاملے کی کیا نوعیت ہے تو یہ بڑا مناسب موقع پیدا ہو گیا کیونکہ ایک بڑے جرم کا ذکر ا گیا اور اس جرم کی بھی انتہائی صورت کا ذکر ا گیا ہے۔ اس وجہ سے ایک مناسب موقع پیدا ہو گیا کہ توبہ کا ضابطہ واضح کر دیا جائے۔ ارشاد فرمایا انما التوبة على الله للذین یعملون السوء بجهالة یہ بات البتہ واضح رہنی چاہیے کہ اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری یعنی ایک تو سوسائٹی کو توبہ قبول کرنے کی وہ پیچھے بیان ہو گئی۔

[21:37]اس موقع پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری انہی لوگوں کے لیے ہے۔ جو جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں ثم یتوبون من قريب پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔

[21:54]اب یہ چند چیزیں ہیں جو اس میں سمجھ لینی چاہیے۔ ایک تو یہ کہ اس میں لفظ جہالت استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی اگرچہ نہ جاننے کے بھی اتے ہیں لیکن اس کا غالب استعمال عربی زبان میں جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی شرارت یا کسی گناہ کا ارتکاب کرنے کا ہوتا ہے۔ یعنی عربی زبان میں جہالت کا لفظ ہماری اردو کے طریقے پر استعمال نہیں ہوتا۔ ایسے موقعوں پر بلکہ اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ ادمی جذبات سے مغلوب ہو گیا اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکا اور اس نے گناہ کا ارتکاب کر لیا۔ تو اس سے قران نے ایک بات یہ واضح کی کہ دو صورتیں ہوتی ہیں گناہ کی۔ ایک یہ کہ ادمی نے سرکشی کے ساتھ گناہ کیا ہے۔ وہ خدا کے مقابل میں کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ تو ناقابل معافی کام ہے۔ یعنی یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے کہ ادمی سرکش ہو کر خدا کے مقابل میں کھڑا ہو جائے۔ ایک چیز یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کو مانتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے لیکن جذبات سے مغلوب ہو کر جو انسان کی کمزوریاں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر جنسی نوعیت کے گناہ ہوں گے تو اس میں بھی انسان کے اندر کچھ کمزوری ہے۔ اگر کوئی اور اس نوعیت کا گناہ ہوگا چوری بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی انسان کے اوپر مال کی ہوس کا غلبہ ہو گیا۔ اپنی کسی ضرورت سے مغلوب ہو گیا۔ اس طرح کی جتنے محرکات بھی ہو سکتے ہیں ان کو یہ لفظ ادا کر دیتا ہے یا عملوں نہ سوبے جہالت۔ یعنی جذبات سے مغلوب ہو کر وہ کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک بات یہ بیان فرمائی۔ دوسری بات یہ بیان کی کہ توبہ فورا کر لیتے ہیں۔ یعنی ظاہر ہے کہ جب جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کیا گیا ہے سرکشی باعث نہیں بنی۔ تو پھر تو یہ ہونا چاہیے نا کہ جذبات کا غلبہ ختم ہوتے ہی ادمی کے اندر ندامت پیدا ہو گا۔ تو یہ ندامت ہی اصل میں توبہ ہے۔ یعنی ادمی نے کہا کہ پروردگار غلطی ہو گئی۔ یعنی اس صورتحال سے نکلے اور جس گناہ کا خاص طور پر یہاں قریب میں ذکر ہوا ہے اس میں تو یہ کیفیت ادمی خود اندازہ کر سکتا ہے کہ فورا پیدا ہو جاتی ہے۔ تو ارشاد فرمایا پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ یہ دو باتیں ہو گئیں۔ یہ دو باتیں بیان کرنے کے بعد جو کہا وہ یہ کہا کہ اگر یہ ہے اگر گناہ کا باعث یہ بنا ہے کہ کوئی سرکشی اس کا باعث نہیں بنی۔ اور توبہ بھی فورا کر لی ہے تو مسئلہ یہ نہیں ہے کہ توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ فرمایا نہیں پھر تو اللہ پر ذمہ داری ہے کہ توبہ قبول کر لے۔ یعنی اللہ نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے کہ توبہ قبول کر لے۔ پھر تو اطمینان رکھو کہ اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ان لوگوں کے معاملے میں اللہ لازما ان کی توبہ قبول فرما لے گا۔ فرمایا فاوولیک یتوب اللہ علیہم وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے وکان اللہ علیما حکیما اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

[24:26]یہ تو ایک بات بیان کی۔ اس کے بعد فرمایا ولیست التوبة للذین یعملون السیئات حتى إذا حذر احدھم الموت قال إنی تبت الآن۔

[25:31]ان لوگوں کی توبہ البتہ کوئی توبہ نہیں۔ جو گناہ کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت قریب ا جاتا ہے۔ اس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کر لی ہے۔ اسی طرح ان کے لیے بھی توبہ نہیں ہے جو مرتے دم تک منکر ہی رہیں۔ ولا الذین یموتون وہم کفار اسی طرح ان کے لیے بھی کوئی توبہ نہیں ہے جو مرتے دم تک منکر ہی رہتے ہیں۔ اولائک اعتدنا لهم عذابا الیما فرمایا یہی لوگ ہیں۔ یعنی یہ لوگ ہیں یہ کیٹگری ہے لوگوں کی جن کے لیے ہم نے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ تو یہ دو انتہائیں اگر اپ غور کریں بیان کر دیے۔ اب توبہ کی قبولیت عدم قبولیت کی دو صورتیں تو متعین ہو گئی۔ یہ معلوم ہو گیا کہ اگر ادمی نے کوئی بڑے سے بڑا گناہ بھی کیا ہے۔ اور فورا توبہ کر لی ہے تو اللہ تعالی اس کو لازما قبول کر لے گا۔ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اگر اس کو موت تک مؤخر کیا ہے۔ یا اللہ تعالی پر ایمان ہی نہیں۔ سرے سے تو پھر کوئی توبہ کا بھی سوال نہیں۔ یعنی توبہ کے لیے ایمان بھی ضروری ہے اور یہ کہ ادمی فورا کر بھی لے۔ اس کے بعد صرف ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ کوئی شخص گناہ کے بعد جلد ہی توبہ کر لینے کی سعادت کو حاصل نہیں کر سکا۔ لیکن اس نے اتنی دیر بھی نہیں کی کہ موت کا وقت ا پہنچا۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت باقی رہ جائے گی نا۔ یعنی ایک صورت یہ ہے کہ فورا توبہ کر لی۔ ایک صورت یہ ہے کہ انتظار کیا موت کب اتی ہے۔ اس وقت توبہ کر لیں گے۔ ایک یہ ہے کہ اتنی دیر تو نہیں کی کہ موت کا وقت ا پہنچا لیکن بہرحال کسی وقت زندگی میں اللہ نے توفیق دے دی۔ جب تک ادمی جیتا ہے اس کو موقع ہوتا ہے کہ توبہ کر لے۔ اس صورت کے بارے میں قران خاموش ہے۔ یعنی اگر اپ غور کریں اس ایت کے اوپر تو قران مجید نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ یہ خاموشی امید پیدا کرتی ہے خوف بھی پیدا کرتی ہے۔ اگر اپ دیکھیں تو ایک اس میں پہلو یہ ہے کہ چونکہ دوسری بات تو واضح کر دی ہے نا توبہ نہیں ہے۔ اس میں امید تو ہے کہ قبول ہو جائے گی۔ اور خوف بھی پیدا کرتی ہے کہ بہرحال واضح تو نہیں کیا۔ یہ تو نہیں کہا کہ مجھ پر لازم ہے کہ توبہ قبول کر لوں۔ صاف واضح ہوتا ہے کہ قران کا منشا ہی یہی ہے کہ معاملہ خوف اور امید کے درمیان میں رہے۔ یعنی اگر کسی ادمی نے یہ معاملہ نہیں کیا تو پھر بہرحال امید ٹوٹی نہیں چاہیے۔ دوسری جگہ واضح کر دیا کہ لا تقلوا برحمت اللہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو۔ اور یہ خوف بھی ہونا چاہیے تاکہ یہ معلوم رہے اس کو کہ گناہ کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ ادمی کہے کہ چلیں کر لیں گے کسی وقت توبہ۔ یعنی یہ دونوں چیزیں پیدا نہ ہو جائیں۔ اس سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہ ہیں اصل میں وہ لوگ یہ کیٹگری ہے لوگوں کی جن کے بارے میں امید کی جا سکتی ہے۔ یعنی انہوں نے کیا کیا ہے ان سے گناہ ہوئے ہیں ان سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے فورا توبہ کی توفیق تو نہیں پائی موت تک مؤخر بھی نہیں کیا۔ ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے ہیں زندگی میں کچھ وقت کے بعد جب مہلت ملی ہے رجوع بھی کر لیا ہے اپنی اصلاح بھی کر لی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ نے چونکہ وعدہ نہیں کیا۔ تو اگر اللہ قیامت میں صالحین سے یہ کہیں کہ اپ حضرات بھی ان کے حق میں کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہیں۔ تو یہ چیز ایسی نہیں ہے جس کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ میرا خیال اور نقطہ نظر یہ ہے کہ شفاعت کا تعلق اصل میں نہیں لوگوں سے جن کے بارے میں قران نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ باقی رہ گئی یہ بات کہ جن کے بارے میں کیٹگریکلی کوئی بات کر دی ہے جیسے پہلے لوگوں کے بارے میں کر دی دوسرے لوگوں کے بارے میں کر دی۔ وہاں اس کا کوئی سوال نہیں۔ یہاں اللہ تعالی نے معاملہ اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اور اگر اپ دیکھیں تو انصاف کے نقطہ نظر سے دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالی قبول کرنے سے انکار کر دیں تو بے انصافی نہیں کہہ سکتے۔ ان ایات فرما کے قبول کر لیں۔ تو اپ ان کے اوپر کوئی اعتراض نہیں کر سکتے اس لیے کہ جو دو ایکسٹریم صورتیں ہیں وہ انہوں نے بیان کر دی ہے۔ تو یہ جو خاموشی ہے جس طرح میں نے عرض کیا یہ امید اور خوف کے مابین کی ایک صورتحال میں رکھتی ہے۔ اسی چیز کو شاید ایک عارف نے بیان کیا تھا بہت سے لوگ اسے سیدنا ابوبکر صدیق کی طرف نسبت دیتے ہیں کہ اگر مجھے یہ معلوم ہو۔ کہ دنیا میں جتنے لوگ ہیں سب جہنم میں ڈال دیے جائیں گے اور ایک ادمی جنت میں جائے گا تو میں اپنے پروردگار سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میں ہوں۔ اور اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ سارے لوگ جنت میں جائیں گے ایک ادمی جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو مجھے خوف رہتا ہے کہ کہیں وہ نہ ہو جائے۔ تو ایک بندہ مومن اصل میں اس صورتحال کے اندر جیتا ہے۔ یعنی اس کے اندر امید بھی ہوتی ہے۔ اس کے اندر خوف بھی ہوتی ہے۔ امید اللہ سے محبت پیدا کرتی ہے۔ خوف گناہوں کے بارے میں متربہ رکھتا ہے۔ اور توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے جس وقت بھی ادمی رجوع کرتا ہے اللہ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔ لیکن توبہ بڑے گناہوں کے معاملے میں جب اللہ نے لازم کر رکھا ہے وہ قبول کر لے گا اس کو بیان کر دیا۔ دوسری جگہ اگر اپ دیکھیں تو اللہ تعالی نے مزید اس کو واضح کیا ہے سورہ فرقان میں اور وہاں تین بڑے گناہوں کو گنوایا ہے۔ شرک کو، قتل کو اور بدکاری کو۔ اس میں بھی یہ کہا ہے کہ یہ تین گناہ ایسے ہیں کہ جن پر ادمی کو ابدی جہنم کی سزا مل سکتی ہے۔ اور پھر اس کو فورا بعد یہ کہا ہے لیکن اگر توبہ کر لو اصلاح کر لو ائندہ کے لیے اپنی زندگی کو بہتر بنا لو تو پھر میں صرف معافی نہیں کروں گا بلکہ ان گناہوں کی جگہ نیکیوں کا دے دوں گا۔ تو وہاں سے یہ امید بھی دلا دی ہے۔ یہ امید اور بین کی درمیانی کیفیتیں ہیں جن کو قران مجید نے یہاں بیان کر دیا ہے۔ تو یہ زمنا زیر بحث ا گیا اصل میں یہاں جو چیز زیر بحث تھی وہ ایک ایسے جرم کا معاملہ تھا جس سے سوسائٹی کو پاک کرنے کے لیے کچھ ہدایات دیے ہیں اور پھر انہی ہدایات کے ضمن میں انہی کے باب میں اللہ تعالی نے یہ ارشاد فرمایا کہ توبہ کرنے کا معاملہ کیا ہے اور اس میں اپنا ضابطہ اپنا قانون بھی بیان کر دیا اب ان ایتوں کا سادہ ترجمہ سن لیجیے

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript