Thumbnail for French Revolution # 03 | Bread March in Paris | Usama Ghazi by Dekho Suno Jano

French Revolution # 03 | Bread March in Paris | Usama Ghazi

Dekho Suno Jano

21m 59s4,001 words~21 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:06]فرانس میں ایک روٹی بنتی ہے جسے بیگٹ کہتے ہیں انقلاب سے پہلے کے فرانس میں بھی روٹی کچھ اسی طرح بنتی تھی لیکن سائز میں بڑی ہوتی تھی یہ وہی مشہور زمانہ روٹی ہے جس کی خاطر فرانس میں انقلاب برپا ہوا تھا میں ہوں محمد اسامہ غازی اور دیکھو سنو جانوں کی طرف سے فرینچ ریولوشن کی کہانی میں ہم اپ کو بھوک سے جنم لینے والے انقلاب کی داستان دکھا رہے ہیں جب 1788 شروع ہوا تو فرانس میں گویا قیامت اگئی ہوا یہ کہ ان دنوں فرانس میں ایک پاؤنڈ روٹی کی قیمت دگنی ہوگئی اب وہی روٹی جو پہلے 200 میں ملتی تھی وہ اب چار یا پانچ 100 میں ملنے لگی تھی تو حالت یہ تھی کہ ایک غریب فرانسیسی خاندان جو عام طور پر دن کے 12 یا 1500 کماتا تھا وہ دو پاؤنڈ روٹی کھاتا تھا یعنی روٹی کی قیمت دگنی ہونے کا مطلب یہ تھا کہ غریب کے پاس اب دو وقت کی روٹی چھوڑ کر زندگی کی کسی ضرورت کے لیے کوئی پیسہ نہیں ہوگا یہ قیامت ایک قدرتی افت کی وجہ سے نازل ہوئی تھی ویسے تو فرانس کے خالی خزانے کے ساتھ 10 سال سے بارشیں بہت کم ہونے کی وجہ سے بھی فرانسیسی عوام پہلے ہی روٹی سے بڑی حد تک محروم تھے لیکن 1788 میں بحران زیادہ شدید ہوگیا پہلے تو بارشیں بالکل ہی ختم ہوئیں اور جب شروع ہوئیں تو اسمان سے اولے برسے اور پیرس کے گرد ساڑھے 300 کلومیٹر کے علاقے میں ساری فصل تباہ ہوگئی یہی نہیں موسم سرما تو اتنا سخت تھا کہ فرانس کا اہم دریا سین بالکل جم گیا شدید سردی سے زیتون یعنی اولو سمےت بہت سے پھلدار درخت لاکھوں کی تعداد میں سوکھ کر ختم ہوگئے مارکیٹ سے روٹی ایسی غائب ہوئی کہ پیسے خرچ کرنے کے باوجود کسی کو نہیں ملتی تھی فرانس بھر میں بیکریوں کے باہر میل و لمبی قطاریں لگ گئیں

[2:06]لوگ ایک روٹی کے لیے سارا سارا دن اپنے کام چھوڑ کر قطاروں میں کھڑے رہتے مہنگی روٹی خریدتے لیکن جانتے ہیں جو روٹی ملتی تھی وہ کیسی ہوتی تھی مٹی اور کیڑوں سے بھرے ہوئے اٹے سے تیار کردہ غلیظ روٹی جسے کھا کر پیٹ میں درد ہوتا تھا لیکن لوگ اس گندی بدبودار اور بیماریوں سے بھرپور روٹی کے لیے بھی اپس میں جانوروں کی طرح لڑ رہے تھے لیکن بیکریوں سے بھی روٹی جلد ہی ختم ہوجاتی تھی چنانچہ اس خراب روٹی کو حاصل کرنے کے لیے لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے پھر بات مارپیٹ تک پہنچی قتل ہونے لگے اور اخر بھوک سے ستائے لوگوں نے بیکریوں پر ہی دھاوا بول دیا سارے فرانس میں ہزاروں بیکریوں کو لوٹ لیا گیا لوگ روٹی کے لیے دیوانے ہو رہے تھے اور روٹی کی تلاش نے اخر عوام کو انقلاب لانے پر مجبور کردیا عوام کو اس بات کا غصہ تھا کہ وہ تو بھوکے مر رہے تھے جبکہ امیروں نے گھروں میں گندم سٹاک کر رکھی تھی کئی جگہوں پر تو امیر لوگ عوام کو مارکیٹ سے بھی زیادہ ریٹ پر گندم بیچ کر پیسہ کما رہے تھے بھوک اور ظلم کے ستائے عوام اخر کار امیر طبقے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے جگہ جگہ اعلان ہونے لگے کہ عوام امیروں کے گھر لوٹ لیں کیونکہ غریب تو بھوکے مر رہے ہیں جبکہ امیروں کے گوداموں میں اٹے کے ڈھیر لگے ہیں چنانچہ عوام کے بڑے بڑے گروپوں نے امیروں کے گھروں پر حملے اور لوٹ مار شروع کردی عوام کا مقصد تو صرف کھانا حاصل کرنا تھا لیکن ہجوم کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ درست اور غلط ادمی کی پہچان نہیں کر سکتا عوام کو یہ بات معلوم نہیں ہو سکی کہ ڈاکوؤں اور چوروں کی بڑی تعداد بھی ہجوم میں شامل ہو کر لوٹ مار میں مصروف ہوگئی تھی یوں فرانس کے کونے کونے میں ایک خوفناک کھیل شروع ہوگیا روزانہ زیادہ تر دیہات اور شہروں میں صبح کے وقت ڈھول بجائے جاتے

[3:55]پھر ہزاروں کا مجمع جمع ہوجاتا اور یہ لوگ سارے علاقے میں گھومتے ہر دولت مند کے گھر کے سامنے جا کر پیسے اور کھانا مانگتے اور جہاں کچھ نہ ملتا تو توڑ پھوڑ شروع کر دیتے ان حملوں میں کچھ لوگ مارے بھی گئے تاہم زیادہ تر لوگ ڈر کے مارے خود ہی روٹی اور کھانے پینے کی چیزیں ہجوم کے حوالے کر دیتے تھے لیکن ظاہر ہے خوراک کی قلت تو تھی گندم کا جو تھوڑا بہت سٹاک رہ گیا تھا جب وہ بھی لوٹ مار سے ختم ہوگیا تو مارکیٹ میں روٹی کا ریٹ پہلے سے بھی ڈبل ہوگیا اور ساتھ ہی عوام کا پارہ بھی چڑھ گیا لوگوں نے مارکیٹس پر دھاوا بول دیا ہزاروں لوگ ڈنڈے لے کر بازاروں میں گھس جاتے اور دکانداروں کو روٹی کی قیمت 200 کرنے پر مجبور کر دے اور پھر زیادہ تر پیسے ادا کیے بغیر ہی گندم یا روٹی جو ہاتھ لگتا لوٹ کر لے جاتے دکاندار اس لوٹ مار سے اتنا گھبرائے کہ گندم کی مارکیٹس کو تالے لگ گئے کچھ مارکیٹس میں فوج تعینات کردی گئی عام دکاندار عوام کی پہنچ سے نکل تو گئے لیکن ظاہر ہے بھوکے لوگوں نے کسی طرح تو پیٹ بھرنا تھا انہوں نے اٹا سپلائی کرنے والے قافلوں پر حملے شروع کر دیے مرد، عورتیں، بچے، تلواریں، چاقو اور ڈنڈے لے کر جنگل میں چھپ جاتے اور راستے میں انے والے قافلوں پر حملہ کر دیتے کئی بار قافلے والوں نے منت بھی کی کہ ہم سے گندم لے لو لیکن اس کے پیسے تو دو لیکن پیسے نہیں مل رہے تھے حد تو یہ ہوگئی تھی کہ ہنڈو بدمعاشوں کے گروہ کسی گھر میں سٹاک کی ہوئی گندم لوٹتے تو کہتے کہ اگلی کٹائی پر تمہیں پیسے مل جائیں گے لیکن کل کس نے دیکھا تھا مالک کو معلوم ہوتا تھا کہ اسے اب کوئی پیسے نہیں ملیں گے کئی جگہوں پر تو ہجوم نے دکانداروں اور تاجروں کا سارا کاغذی ریکارڈ جلا دیا تاکہ وہ کوئی حساب کتاب نہ کر سکیں یعنی پورے فرانس میں ایک خوفناک قسم کی لوٹ مار شروع ہو چکی تھی دلچسپ بات یہ تھی کہ فرانس میں لوٹنے والے زیور یا پیسہ نہیں بلکہ روٹی لوٹ رہے تھے اور اس دوڑ نے سارے فرانس میں کاروبار ٹھپ کر دیے تھے مزدور لوگ اپنے کام چھوڑ کر سارا سارا دن ہجوم کے ساتھ روٹی کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے نتیجہ یہ کہ فرانس میں کاروبار زندگی مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا تھا اور صرف روٹی کی لڑائی جاری تھی ایسا نہیں تھا کہ حکومت بالکل ہی ہاتھ پر ہاتھ دھڑے بیٹھی تھی اور ان ہنگاموں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی تھی حکومت نے تو فوری طور پر کسانوں اور گندم کے ڈیلرز کو ہدایت کی تھی کہ مارکیٹ میں گندم کی کمی نہ ہونے دی جائے گندم کے امپورٹرز کو زیادہ مرات یا فیسلیٹیز بھی دے دی گئی تھی بہت سے دولت مند لوگ اور پادری بھی خیرات کر رہے تھے حکومت نے تو چار لاکھ فرانکس کا قرضہ بھی لے کر مزید گندم منگوائی لیکن فرانس میں روٹی کا بحران ختم نہیں ہوا بھوک کی وجہ سے فرانس میں اتنے زیادہ بھکاری ہو گئے تھے کہ صرف فرانس کے علاقے سینٹ انٹونیو میں 30 ہزار بھکاری موجود تھے بھوکے لوگ اب حکومت کی بوٹیاں نوچ لینے پر تل گئے تھے اس دوران ایک ایسا موڑ ایا جس نے روٹی کی لڑائی کو سیاسی جدوجہد میں تبدیل کردیا ہوا یہ کہ عوام میں یہ افواہیں پھیلنے لگیں کہ روٹی مہنگی ملنے کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ حکومت نے گندم پر طرح طرح کے ٹیکس لگا رکھے ہیں اگر یہ ٹیکس ختم کردیے جائیں تو روٹی سستی ہوجائے گی عوام تو پہلے ہی روسوں کے خیالات سے متاثر ہو چکے تھے اور سمجھتے تھے کہ انسان ازاد پیدا ہوا ہے اور عوام کی مرضی کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا چنانچہ اب عوام کا غصہ حکومتی اداروں کی طرف ہوگیا عوام میں اس طرح کی باتیں مشہور ہونے لگیں کہ بھائی بادشاہ تو اچھا ہے لیکن یہ جو اس کے افسر اور درباری ہیں یہ عوام پر ظلم کر رہے ہیں یعنی جان بوجھ کر زیادہ ٹیکس لے رہے ہیں چنانچہ کسٹم حکام اور دوسرے حکومتی حتداروں کو سبق سکھانے کے لیے عوام نے کسٹم افسز، مجسٹریٹس، سرکاری کلرکوں اور دیگر حکومتی دفاتر پر بھرپور حملے شروع کیے لوگوں نے گندم کے سرکاری سٹاک بھی لوٹ لیے سرکاری دفتروں کا سامان چھکڑوں میں لاد لاد کر دریا میں پھینکا گیا حتی کہ سرکاری افسروں کے گھروں سے زیور اور دوسری قیمتی چیزیں لوٹ کر کنوں میں پھینک دی گئیں اور پھر جانتے ہیں کیا ہوا عوام نے ہر علاقے میں ٹیکس جمع کرنے والی میونسپل کمیٹیوں کو حکم دیا کہ اب انہوں نے عوام سے کوئی ٹیکس لیا تو ان کی خیر نہیں یوں دیکھتے ہی دیکھتے سارے فرانس میں زیادہ تر عوام نے ٹیکس دینا ہی بند کر دیا بلکہ کچھ ٹیکس افسر تو موقع سے فائدہ اٹھا کر کرپشن کرنے لگے فرانس میں نمک کی تجارت حکومت کے کنٹرول میں تھی اور حکومت کے علاوہ کوئی نمک بیچ نہیں سکتا تھا لیکن سرکاری افسروں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنے گھروں میں غیر قانونی طور پر نمک اور تمباکو کے ذخیرے کر لیے یعنی جیسے جیسے انقلاب اگے بڑھ رہا تھا ویسے ویسے کرپشن بھی بڑھ رہی تھی

[8:43]جب عوام نے ٹیکس دینا بند کر دیے تو حکومت نے زبردستی ٹیکس وصول کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش اسے بہت مہنگی پڑی عوام تو اب ٹیکس افسروں کو قتل کر دینے پر بھی تیار ہوگئے تھے ایک ایکسائز افسر کے تو چھ سالہ بیٹے کی گردن پر چھری رکھ کر اسے دھمکیاں دی گئیں ایک اور علاقے میں لوگوں نے ٹیکس حملے کو الٹیمیٹم دیا کہ 24 گھنٹوں میں شہر چھوڑ دو ورنہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا فرانس میں پہلے یہ طریقہ کار تھا کہ حکومت ٹیکس نہ دینے والوں کی زمینیں ضبط کر لیتی تھی لیکن اب کسانوں نے بھی تلواریں نکال لیں اور وہ کھلے عام دھمکیاں دیتے تھے کہ جس میں ہمت ہے زمین ضبط کر کے دکھائے ان حالات میں حکومت کو صرف فوج سے امید تھی کہ وہ حالات پر قابو پاسکتی ہے لیکن فوج میں بھی بغاوت کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے بہت سے سپاہی اور جونیئر افسر بھی سادہ لباس پہن کر عوام کے ساتھ لوٹ مار میں حصہ لینے لگے تھے فوجی افسروں کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ فوج میں پہلے جیسا ڈسپلن نہیں رہا اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ یہ ہوا کہ فوجی افسروں نے اپنے جوانوں کا ڈسپلن بحال کرنے کے لیے ایک ترکیب نکالی انہوں نے پیرا ملٹری فورس یعنی نیشنل گارڈز اور فوج کی ایک پارٹی منعقد کرائی ان کا خیال تھا کہ اس طرح فوجی اپس میں گھلے ملیں گے اور ان میں یونٹی پیدا ہوگی لیکن پارٹی میں جو ہوا وہ افسروں کی مرضی کے بالکل الٹ تھا پارٹی میں شریک سارے فوجی شراب پی کر مدہوش ہوگئے ہر طرف ٹیبلز اور فرش پر نشے میں دھت فوجی بکھرے ہوئے تھے یعنی سارے ڈسپلن کی ایسی کی تسی ہوگئی اور یہ تجربہ ناکام رہا پارٹی میں مدہوش ہونے والے فوجی اگلی صبح اسی ہینگ اوور میں اٹھے اور ارد گرد کے علاقوں میں لوٹ مار شروع کر دی یہ ایک طرح کی بغاوت ہی تھی چار روز بعد شاہی فوج کے وہ دستے جو ابھی تک حکومت کا ساتھ دے رہے تھے وہ ان باغی فوجیوں پر ٹوٹ پڑے کچھ کو پھانسی پر لٹکایا اور باقیوں کو گرفتار کر کے بغاوت پر کچھ قابو پا لیا فوج جب بھی لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرتی عوام ان کی حمایت میں کھڑے ہو جاتے ایک جگہ فوج نے کچھ ڈاکوؤں کو پکڑ لیا جو عام لوگوں کے بھیس میں ایک سرکاری دفتر پر حملہ کر رہے تھے جب ان ڈاکوؤں کو قید کیا گیا تو عوام نے جیل توڑ کر انہیں نکال لیا فوج نے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا اور پھانسی دینے لے گئی پھانسی گھاٹ کے قریب ہزاروں لوگ جمع ہوگئے اور نعرے لگانے لگے کہ مجرموں کو چھوڑ دو جب بپھرے ہوئے عوام اؤٹ اف کنٹرول ہو گئے تو فوجی ایک توپ لے ائے اور اس کا رخ عوام کی طرف کر کے کہا اب کوئی بولا تو توپ سے اڑا دیں گے کوئی نہیں بولا اور مجرموں کو لٹکا دیا گیا لیکن یہ تو صرف ایک واقعہ تھا پورے ملک میں ہر جگہ عوام کو توپ سے اڑانے کی دھمکی دے کر روکا نہیں جا سکتا تھا عوام میں تو یہ بھی مشہور ہو گیا تھا کہ حکومت نے جیلوں میں معصوم لوگوں کو قید کر رکھا ہے تو اب ٹیکس بند ہونے کے بعد جیلیں ٹوٹنے کی باری تھی لوگوں نے بہت سی جیلیں توڑ کر گناہ گاروں اور بے گناہوں سب کو ازاد کروا لیا فرانس میں اتنا کچھ ہو رہا تھا اس سب کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک طاقتور لیڈر کی ضرورت تھی یہ وہی امتحان تھا جس سے ڈر کر بادشاہ کہتا تھا کاش میں بھی استعفی دے سکتا لوئیس دا 16 سخت فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ بیوروکریسی اور اپنے درباریوں کو سبق بھی سکھانا چاہتا تھا اس لیے جب عوام فرانس کے ہر علاقے پر قابض ہو رہے تھے تو بادشاہ کو کوئی خاص فکر نہیں تھی ویسے بھی انقلاب کا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک وہ محل کے دروازوں سے نہ ٹکرا جائے اندر بیٹھے لوگوں کو اس کی سنگینی کا اندازہ ہی نہیں ہوتا بادشاہ بھی سمجھ رہا تھا کہ عوام چونکہ بھوک سے بےتاب ہیں اس لیے انہیں اپنا غصہ امیروں پر نکالنے دو کچھ عرصے میں سب ٹھیک ہو جائے گا بادشاہ نے فوج کو سختی سے حکم دے دیا تھا کہ انتہائی ضرورت کے بغیر عوام پر گولی نہ چلائی جائے فوجی کمانڈرز بھی اپنے سپاہیوں کو یہی حکم دے رہے تھے یعنی ایک طرح سے بادشاہ انقلاب لانے والوں کا ساتھ ہی دے رہا تھا وہ یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ کل انقلاب کسی کا لحاظ نہیں کرے گا بروقت فیصلہ نہ کرنے ہی کی وجہ سے بادشاہ نے انقلاب روکنے کا اہم ترین موقع کھو دیا یہ موقع بادشاہ کو کیسے ملا ہوا یوں کہ بادشاہ کے حکم پر 150 برس بعد پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن جسے فرانس میں اسٹیٹس جنرل کہتے تھے طلب کر لیا گیا تھا 1789 میں پیرس کے اندر پارلیمنٹ کے اجلاس جاری تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ لوگ ان اجلاسوں کے بارے میں بہت جذباتی ہو گئے تھے عوام پارلیمنٹ کے تیسرے حصے یعنی تھرڈ اسٹیٹ کے ساتھ تھے لیکن تھرڈ اسٹیٹ میں ایسے لوگ سلیکٹ ہو گئے تھے جو عوام کو بھڑکا کر اپنا مطلب نکالتے تھے یہ لوگ اپنے دشمنوں کو عوام کا دشمن قرار دیتے تھے اور سارے فرانس میں میونسپل کمیٹیوں کو خط لکھتے تھے ان کے لکھے ہوئے خط میونسپل کمیٹی کا کوئی ممبر چوک میں کھڑا ہو کر سناتا اور ہزاروں لوگ اس کو سنتے تھے یعنی ان خطوط کے ذریعے عوام پارلیمنٹ کی کاروائی سے باخبر رہتے تھے اگرچہ زمانے میں بھی اخبارات چھپتے تھے لیکن زیادہ تر لوگ ان خطوں پر بھروسہ کرتے تھے اب اس خط میں اگر کسی شخص کے متعلق کوئی غلط بات لکھ دی جاتی تو عوام اس سے نفرت کرنے لگتے تھے پیرس میں بھی اراکین اسمبلی کے متعلق اسی طرح کی باتیں سرعام ہوا کرتی تھی اور پھر ایک شخص کے بارے میں ایسی ہی افواہ اڑی اور سارے پیرس میں اگ لگ گئی

[14:10]اس شخص کا نام تھا جین باپٹائز ریویلیین وہ وال پیپر تیار کرنے والی ایک فیکٹری کا مالک تھا جس میں کوئی ساڑھے 300 مزدور کام کرتے تھے بزنس میں خوشحال تھا سیاست کے میدان میں اترا تو وہاں بھی کامیاب ہو کر اسمبلی کا رکن بن گیا 25 اپریل 1789 کو اس کے بارے میں ایک افواہ اڑ گئی کہ اس نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر عوام کے خلاف بات کر دی ہے اب وہ بات کیا تھی اور اس نے کی بھی تھی یا نہیں یہ کسی کو نہیں پتہ تھا ریویلیین کے دشمنوں یا بے خبر عوام نے اس کے بارے میں یہ کہانی تراش لی کہ ریویلیین نے کہا ہے کہ کوئی بھی مزدور صرف 1500 روزانہ میں بھی بیوی بچوں کا پورا خرچ اٹھا سکتا ہے تو اس کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے جب یہ افواہ اڑی تو عوام غصے سے کھول اٹھے ہر طرف نعرے لگنے لگے کہ ریویلیین عوام کا غدار ہے اور اسے قتل کر کے اس کی ساری جائیداد کو جلا دیا جائے حالانکہ یہ بات سچ نہیں تھی ریویلیین تو خود اپنے کم سے کم کام کرنے والے مزدور کو بھی 2500 روزانہ اجرت دیتا تھا بلکہ ایسے وقت میں جب سارے دولت مند لوگ اپنی فیکٹریاں بند کر رہے تھے ریویلیین نے اپنے مزدوروں کا خیال کر کے فیکٹری بند کی تھی نہ کسی کی تنخواہ کم کی تھی پھر بھی عوام ایک افواہ پر یقین کر کے غصے میں پاگل ہو رہے تھے اور ہر قیمت پر ریویلیین کو مار دینا چاہتے تھے منگل 28 اپریل 1789 کو شراب کے نشے میں بدمست لوگوں کا ایک بڑا گروہ جس میں لٹیرے بھی شامل تھے ریویلیین کے گھر کی طرف چل پڑا لوگوں نے ڈنڈے چاقو اور پچ فورک اٹھا رکھے تھے ہجوم کے راستے میں دکانیں دھڑا دھڑ بند ہو رہی تھی کسی نے چیخ کر کہا بغاوت ہوگئی ہے بغاوت ہوگئی ہے ہر طرف کوہرام مچ گیا تھا یوں لگتا تھا اج پیرس پر کوئی قیامت ٹوٹنے والی ہے ہجوم نے اگے بڑھ کر ریویلیین کے گھر کو گھیر لیا فسادیوں نے چوک میں ریویلیین کا ایک پتلا بھی جلا دیا پھر انہوں نے روڈ بلاک کر کے وہاں سے گزرنے والی ہر بگی اور دوسری گاڑیوں کو روکنا شروع کر دیا مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی گاڑیوں سے اتار کر انہیں حکم دیا گیا کہ وہ یہ نعرہ لگائیں جاگو تھرڈ اسٹیٹ جاگو جو نعرہ لگاتا اسے چھوڑ دیا جاتا اور جو تھوڑی سی بھی مزاحمت کرتا اس کی ٹھکائی ہو جاتی ہجوم پادریوں کے خلاف بھی نعرہ لگا رہا تھا کوئی پادری قریب سے گزرتا تو لوٹنگ شروع ہوجاتی لوگوں نے پادریوں کی طرف پتھر بھی پھینکے یہ لوگ مسلسل کہہ رہے تھے اج ہم متحد ہیں ہمیں الگ نہیں ہونا چاہیے دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ ایک بڑا انقلاب انے والا ہے جس کی شروعات ایک بے گناہ کے گھر کی تباہی سے ہونے جا رہی ہے انقلاب اور فساد میں فرق کرنے والی لکیر بہت باریک ہوتی ہے اور یہ لکیر اج مٹ گئی تھی اور انقلابی فسادی بن گئے تھے ریویلیین کے گھر کی حفاظت کے لیے 30 مسلح گارڈز موجود تھے لیکن ہزاروں انسانوں کے سامنے ان کی کیا اہمیت تھی ریویلیین خود تو پہلے ہی گھر سے بھاگ چکا تھا اب اس کے گارڈز بھی بھاگ گئے ہجوم گھر میں داخل ہو گیا اور پھر تسلی سے گھر کی توڑ پھوڑ کی فرنیچر اور کپڑوں سمیت سارا سامان جلا دیا گیا حتی کہ گھر کی مرغیاں بھی اگ میں پھینک دی گئی لوگوں نے گھر کے سٹور روم میں پڑے سارے شراب کے کنستر پی لیے اور درجنوں لوگ وہیں مدہوش ہو کر گر پڑے صبح پتہ چلا کہ ان میں سے 30 لوگ مر گئے ہیں بہرحال جب لوگ گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے تھے ایسے میں فوج کے تین دستے فسادیوں کے سر پر ان پہنچے ایک دستہ پیدل اور چند گھوڑ سواروں پر مشتمل تھا دوسرے دستے میں رائل کروڈز کے 100 گھوڑ سوار تھے اور ان کے پیچھے سوئس گارڈز چلے ا رہے تھے فوج نے فسادیوں کے گرد گھیرا تنگ کر لیا تھا ہجوم نے فوج کو اتے دیکھا تو وہ گھبرائے نہیں ان کے حوصلے غیر معمولی طور پر بڑھ چکے تھے اکثر لوگ تو نشے میں دھت تھے اور بھاگنے کی بجائے فوج کو چیلنج کر رہے تھے جب فوجیوں نے ہجوم کو منتشر ہونے کے لیے کہا تو لوگ انہیں گالیاں دینے لگے اور اس پاس کے گھروں کی چھتوں سے ٹائلیں اور چمنیاں اکھاڑ اکھاڑ کر فوج پر پھینکنے لگے جواب میں فوج نے بھی پوزیشن لے لی اس دور میں فوجی لائن میں کھڑے ہو کر فائر کیا کرتے تھے فوجیوں نے چار لائنیں بنائی گنز لوڈ کر کے ہجوم کی طرف سیدھی کیں پھر اواز گونجی فائر اور ہجوم پر گولیوں کی بارش شروع ہوگئی اور ایک دم جیسے سارے شرابیوں کا نشہ ٹوٹ گیا اینٹیں مارنے والے گولیوں کے سامنے بے بس ہو گئے انقلاب فرانس میں یہ پہلا موقع تھا جب فوج نے اتنے بڑے ہجوم پر گولی چلائی تھی اگر اس روز فرانسیسی فوج کے پاس جدید ہتھیار ہوتے یا اگر انہیں بادشاہ نے ہی یہ حکم دیا ہوتا کہ فسادیوں کو ہر قیمت پر کچل دیا جائے تو 28 اپریل 1789 کے اس روز پیرس میں وہی کچھ ہوتا جو 200 برس بعد چینی فوج نے 1989 میں تیانمن اسکوئر میں کیا تھا فوج کا مقصد فسادیوں کو مارنا نہیں بلکہ منتشر کرنا تھا چنانچہ فائرنگ اور بھگدڑ مچنے سے 200 سے زائد لوگ مارے گئے اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے یہ تعداد ہزاروں میں بھی ہو سکتی تھی لیکن زیادہ تر انقلابی محفوظ رہے جب فوج نے دیکھا کہ ہجوم کسی طرح پیچھے نہیں ہٹ رہا تو اس نے توپ کے گولے چلانا شروع کیے اس پر لوگ بھاگ کھڑے ہوئے لیکن منتشر ہونے کے بعد بھی یہ لوگ سکون سے گھروں میں نہیں بیٹھے بلکہ شہر کے دوسرے حصوں میں لوٹ مار شروع کر دی اب انقلابی اگے اگے تھے اور فوجی ان کے پیچھے پیچھے توڑ پھوڑ لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات سارا دن جاری رہے لوگ دولت مندوں کے گھروں پر بار بار حملے کرتے اور انہیں روکنے کے لیے پیرس گارڈز بار بار گولی چلاتے ادھی رات کے قریب کچھ لوگوں نے ایک بیکری اور گوشت کی ایک دکان لوٹ لی یہاں سے لوٹا جانے والا کھانا کچھ بھوکی عورتوں میں بھی تقسیم کیا گیا اخر رات کے تیسرے پہر کہیں جا کر شہر میں کچھ سکون ہوا ریویلیین کے حوالے سے ہونے والے ہنگامے کئی روز جاری رہے اس لڑائی کے بعد تھرڈ اسٹیٹ کا نعرہ ہر جگہ مقبول ہو چکا تھا لوگوں کی نظر میں تھرڈ اسٹیٹ صرف پارلیمنٹ کا حصہ نہیں تھی بلکہ اس کا مطلب تھا عوام لوگ اب عام بول چال میں بھی عوام نہیں کہتے تھے بلکہ تھرڈ اسٹیٹ کا لفظ استعمال کرتے تھے فقیر بھی بھیک مانگتے تو وہ اپنے ہیٹ لوگوں کے اگے کر کے کہتے تھرڈ اسٹیٹ پر ترس کھاؤ یعنی فرانس میں اب بھیک بھی خدا کے نام پر نہیں بلکہ عوام کے نام پر مانگی جا رہی تھی یہ فرانس میں جمہوریت کے ساتھ سیکولرازم کی بھی ابتدا تھی یعنی بادشاہ اور چرچ دونوں کی حکمرانی کے سامنے عوام کی حکمرانی سر اٹھا رہی تھی لیکن ذرا پرتشدد انداز میں پیرس میں جو کچھ ہوا اس سے یہ واضح تھا کہ حکومت اور عوام میں اب کھلی جنگ شروع ہو چکی ہے پیرس میں کوئی محفوظ نہیں رہا تھا لیکن پیرس کے عین درمیان میں ایک جگہ تھی جہاں کے رہنے والے خود کو بہت محفوظ سمجھ رہے تھے یہ جگہ تھی بسٹل کا شاہی قید خانہ وہ قید خانہ جہاں مشہور زمانہ فلسفی والٹیر کبھی قید رہا تھا قلے کے گرد مضبوط دیواریں بنی تھیں تو پے نصب تھی اور چاک و چوبند فوجی تیار کھڑے تھے اس قلعے میں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی لیکن اس قلعے میں ایک ایسی چیز تھی جو اس سے جڑے ہر شخص کے لیے موت کا پیغام لانے والی تھی بسٹل کے گارڈز اور قید خانے کے گورنر کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ قدرت نے انہیں صرف چند ماہ کی مہلت اور دے دی تھی بسٹل کی گہرائیوں میں کیا راز چھپا تھا پیرس کے ٹینس کورٹ میں کون سا کھیل کھیلا گیا فوج بنانے کے لیے چوروں نے اسلحہ دیا وہ کیسے یہ سب دلچسپ واقعات اپ کو دکھائیں گے لیکن انقلاب فرانس کی اگلی قسط میں فرانسیسی انقلاب کی کہانی اپ دیکھ رہے ہیں لیکن اگر اپ چینی انقلاب کی کہانی دیکھنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کیجئے روس کے طاقتور صدر پیوٹین کی بائیوگرافی کے لیے یہاں اور کائنات کے عظیم الشان سفر پر جانے کے لیے یہاں کلک کیجئے

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript