[0:00]یہ سٹوری ہمیں سندیپ نے یو ایس اے سے بھیجی ہے یہ بتاتے ہیں ویسے تو میرا تعلق انڈیا سے ہے لیکن میں کئی سال سے یو ایس اے میں ٹرک چلا رہا ہوں۔ اور اسی دوران مجھے کئی ایسے راستوں سے اور کئی موسموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ راستے ایسے ہیں کہ کہیں پہاڑ اور کہیں جنگلات اسی دوران میری لائف میں ایک ایسا واقعہ پیش ایا جو ناقابل فراموش تھا۔ یہ بتاتے ہیں میں ٹرک میں ارام کرنے کے لیے ٹرک روکتا ہوں۔ اپنے کیبن میں ارام کر رہا ہوتا ہوں اور میں نے ٹرک کی وڈ پہ اور اپنی سائیڈ شیشوں پر بھی ایک شیٹ لگا دی۔ وہاں برفباری ہو رہی تھی کچھ دیر ارام کرنے کی غرض سے میں ٹرک میں لیٹ گیا۔ میں نے ٹرک کی لائٹس اف کر لیں۔ اور پھر مجھے برف پر کسی کے چلنے کی اواز اتی ہے۔ کوئی میرے ٹرک کے بہت قریب ا جاتا ہے۔ سٹوری بہت انٹرسٹنگ ہے۔ اگر اپ میرے اولڈ چینل کے لسنرز ہیں تو اپ کو اندازہ ہوگا کہ میں اس چینل پر کیسی ٹرک سٹوریز اپلوڈ کیا کرتا تھا۔ یہ اسی لیول کی سٹوری ہے۔ سٹوری کو لاسٹ تک سنیے گا یہ سٹوری اپ کو حق کر دے گی۔ سٹوری شروع کرنے سے پہلے پوچھنا چاہوں گا کافی لوگوں کا سنا ہے کہ لائک کا بٹن نیچے نظر نہیں ا رہا ہے۔ وہ سبسکرائب والا اور لائک والا ا رہا ہے اپ کو نظر دیکھیں۔ زرا ا رہا ہے۔ ا رہا ہے نا سر تو اس کو لائک کیوں نہیں کرتے ہو یار یار یہی تو موٹیویشن ہوتی ہے اپ کے بھائی کی۔ چلیں جلدی سے لائک کر دیں اور جن لوگوں نے ابھی تک سبسکرائب نہیں کیا یار اپ کو بھی نظر ا رہا ہوگا۔ تو اپ بھی سبسکرائب کر دیں۔ اپ یقین جانے اپ سبسکرائب کریں انے والی سٹوریز میں اس چینل پر ایسی لے کر ا رہا ہوں کہ اپ یاد کریں گے۔ تو چلتے ہیں اپنی سٹوری کی طرف۔ السلام علیکم عدنان میرا نام سندیپ ہے میں انڈیا سے ہوں۔ اور یو ایس اے میں ٹرک چلاتا ہوں۔ مجھے یہاں ٹرک چلاتے ہوئے تقریبا اٹھ سال ہو گئے ہیں۔ میرے ساتھ لائف میں ایک ایسا واقعہ ہو چکا ہے جو میں اپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں معمول کے حساب سے اپنی لاجسٹک کمپنی سے اپنا ٹرک لے کر نکلتا ہوں۔ میرے ٹرک کے ساتھ دو ٹریلر لگے ہوتے تھے۔ ویران راستوں سے جنگلوں سے ہو کر اپنی منزل پر پہنچتا تھا۔ میں اپنے سفر پر روا دواں تھا۔ میں اب سٹی کو چھوڑ چکا تھا۔ سردی انتہا کی تھی۔ میں نے اپنے ٹرک میں ہیٹر ان کر رکھا تھا اور میں اس سفر میں اکیلا ہی تھا۔ کیونکہ وہاں ٹرک بہت زبردست ہیں اور فلی اٹومیٹکلی ہیں کہ ڈرائیور بھی نام کا ہوتا ہے ان میں۔ خیر بیک ٹو دا ٹاپک میں سفر پر رواں دواں تھا۔ مجھے وہ پورا دن پوری رات سفر کرنا تھا۔ اچھا ہوتا ایسا تھا کہ راستے میں موٹلز پڑتے تھے۔ جیسے پاکستان انڈیا میں جو راستے میں ڈھابے بنے ہوتے ہیں اور وہاں پر موٹل کہلاتے ہیں۔ عموما ان موٹلز پہ سٹاپ لے لیا کرتے تھے تاکہ فریش ہو سکیں اور کچھ کھانا پینا کر سکیں اور پھر اگے نکلیں۔ میری عادت تھی کہ میں ان موٹلز پہ کم ہی رکتا تھا کیونکہ ہم انڈینز چٹپٹے کھانوں کے عادی ہوتے ہیں۔ اور وہاں کے کھانے میری سمجھ میں نہیں اتے تھے۔ تو میں نے اپنے پاس ہی کچھ کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا تھا۔ تو مجھے پسند تھا کہ میں کسی خوبصورت جگہ پر جہاں بہت پیاری سینری ہو میں وہاں گاڑی روک کے اپنے ٹرک میں ہی اپنی فوڈ میکنگ کیا کرتا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد تھوڑا ارام اور پھر اگے کا سفر کیا کرتا تھا۔ ایسے میرا پیشن بھی پورا ہوتا تھا گھومنے پھرنے کا اور میرا پروفیشن بھی۔ اب مجھے سفر کرتے ہوئے پورا دن گزر چکا تھا۔ میں اب جس ایریا میں انٹر ہوا تھا یہاں بہت برفباری ہو رہی تھی۔ ٹرک کی سپیڈ کافی سلو ہونے کی وجہ سے سفر کافی سلو ہو رہا تھا۔ بہرحال کمپنی والوں نے گاڑی میں ٹریکر لگا رکھے تھے۔ وہ ٹرک کو فالو کر رہے ہوتے تھے اور انہیں راستوں میں پڑتے ہوئے موسموں کا کافی اچھے سے اندازہ ہوتا تھا۔ تو کوئی پوچھ گاش نہیں تھی۔ ہم تھے تو ڈرائیور مگر ٹرک ایسے ڈرائیو کرتے تھے جیسے اس کے مالک ہوں۔ اب سنو فال ہونے لگی رات بھی کافی ہو چکی تھی اور سنو فال کے باعث ہیڈ لائٹ کی بھی اتنی رینج نہیں تھی۔ میں ویسے بھی تھک چکا تھا۔ میں نے ایک جگہ دیکھی اور میں نے ٹرک وہاں پر پارک کر لیا اور کچھ کھانے کا سوچا اور یہ بھی سوچا کہ تھوڑا ارام کر لوں گا۔ اب میں نے اپنے ٹرک کی ونڈ پر اور سائیڈ والوں شیشوں پر لائک کرٹنز ٹائپ کی۔ اپ انہیں کرٹنز کہہ سکتے ہیں۔ ان شیٹس سے میں نے بند کر دیا تھا۔ اور اب یہ کیبن بالکل پیک ہو گیا تھا اور اندر سے باہر اور باہر سے اندر کچھ نظر نہیں ا رہا تھا۔ میں نے پانی گرم کیا زیادہ تھکاوٹ کے باعث میں نے میگی کھانے کا ارادہ کیا۔ میں نے ٹرک بند کر دیا تھا اور میگی بنا کر کھانے لگا۔ اچھا یہاں ایک بات بتاتا چلوں جس جگہ میں موجود تھا۔ یہاں بہت گھنا جنگل تھا لیکن برف باری کی وجہ سے سب ٹھکا ہوا تھا۔ کہ عام انسان یہاں رات کی پرسراریت سے ہی ڈر جائے۔ مگر ہم اس چیز کے عادی تھے۔ یہاں میں اپنی تعریف نہیں کر رہا بلکہ یہ سچ میں ہے۔ ان فیکٹ میں نے لائف میں 48 اورز ایک جنگل میں اکیلے کاٹے ہیں۔ تب میرا ٹرک خراب ہو گیا تھا اور 48 اورز بعد مجھے ریسکیو کیا گیا تھا وہ بھی بہت خوفناک جگہ تھی۔ مگر میں نے وہ ٹائم وہاں اکیلے کاٹا تھا۔ خیر وہ بھی ایک الگ قصہ ہے۔ کبھی اپ سے شیئر کروں گا۔ نہ صرف ہم میل ٹرک چلایا کرتے تھے۔ بلکہ لڑکیاں بھی ان ٹرکس کو ان راستوں پہ اکیلے ڈرائیو کرتی ہیں۔ خیر جی میں میگی کھا کے اب اپنے ٹرک کے ڈرائیونگ سیٹ کے بیک سائیڈ پہ لے جا کر لیٹ جاتا ہوں۔ اور اپنا موبائل یوز کرنے لگتا ہوں کہ تھوڑا ارام بھی کر لوں گا۔ خیر اب باہر کا ماحول ایسا تھا کہ کوئی ہلکی سی بھی چون کی اواز بھی نکلے تو بھی سنائی دے۔ باہر بہت خاموشی تھی۔ میں سو نہیں سکتا تھا کیونکہ سنو فال کے باعث ٹرک پھنسنے کا خطرہ تھا۔ میرے پاس صرف ایک گھنٹہ تھا ارام کرنے کے لیے ایک گھنٹے بعد مجھے اس ٹرک کو وہاں سے موو کرنا تھا۔ خیر میں بھی لیٹا ہوا تھا اور میں نے کیبن کی لائٹ اف کر دی۔ مجھے ایسا لگا باہر سے کوئی دور سے برف پر چلتا ہوا ا رہا ہے۔ پہلے تو میرے دماغ نے یہ بات ایکسیپٹ نہیں کی۔ پھر میں نے ذرا غور کیا تو ہاں باہر واقعی کسی کے چلنے کی اواز ا رہی تھی۔ جیسے کوئی برف پر چلتا ہوا ا رہا ہے۔ مگر اس میں ٹینشن والی بات یہ تھی کہ یہ جنگل میں یہاں کون ہو سکتا ہے؟ جتنا میں جانتا ہوں یہاں دور دور تک کوئی ابادی نہیں ہے۔ پھر کون ہو سکتا ہے؟ اور دوسری بات یہ تھی کہ وہ قدم چلتے ہوئے میرے کیبن کے پاس ا رہے ہیں۔ میں یہ بالکل فیل نہیں کروانا چاہتا تھا کہ جو بھی باہر ہے۔ اسے یہ پتہ چلے کہ اندر کیبن میں کوئی ہے۔ میں نے بس ایسے جیسے سانس روک لی ہو میں اندر بے جان پڑا رہا۔ وہ قدم میرے کیبن کے بہت قریب ا چکے تھے۔ اور پھر کچھ ایسا ہوا کہ میری جیسے روح نکل جائے گی۔ کیونکہ میرا پورا دھیان ان قدموں کی اواز پہ تھا۔ تو میں نے سنا کہ وہ قدم میرے کیبن کے بالکل پاس ا کر رک گئے ہیں۔ اب جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ میں نے اندر کرٹن کیے ہوئے تھے۔ کہ باہر کا کچھ اندر نہیں اور اندر کا کچھ باہر نہیں دکھ سکتا تھا۔ میں بس چپ چاپ دم ساتھ ہے۔ سانس کھینچے اواز پر کنسنٹریٹ کر رہا تھا کہ باہر جو بھی تھا نہ جانے کوئی حرکت نہیں کر رہا تھا۔ جیسے سکون سے کھڑا ہوا تھا۔ اس کی کوئی مومنٹ نہ بھی کرنا مجھے خوف میں مبتلا کر رہی تھی۔ میں بس اس کا اگلا ایکشن جاننا چاہتا تھا۔ یہاں ایک بات بتاتا چلوں میں نے اندر سے کیبن کے دونوں ڈور لاک کیے ہوئے تھے۔ اب اپ یقین کریں کہ کوئی باہر ہے وہ کوئی مومنٹ نہیں کر رہا اور ٹائم بھی گزرے جا رہا۔ اب ایسا بھی لگ رہا تھا کہ شاید جو تھا وہ چلا گیا ٹرک کی لائٹس اف دیکھ کر کہ شاید اس ٹرک میں جو بھی تھا وہ نہیں ہے۔ مگر اگر ایسا تھا تو اس کے جاتے ہوئے اس کے پاؤں کی اواز مجھے انی چاہیے تھی۔ مگر وہ بھی نہیں ا رہی تھی۔ دماغ بہت طرح کی چیزیں سوچ رہا تھا۔ اب تقریبا 15 سے 20 منٹ گزر جاتے ہیں۔ تو میں دیکھتا ہوں کہ ڈرائیونگ والے ڈور کا جو لاک ہے جیسے اسے کوئی پکڑ کے گھما رہا ہے۔ مگر وہ ڈور تو لاک تھا میری ہارٹ بیٹ تیز ہونے لگی کہ میں بہت بری طرح ڈر جاتا ہوں۔ باہر اتنی ٹھنڈ میں اتنی دیر کوئی انسان اتنا پرسکون نہیں کھڑا ہو سکتا تھا۔ وہ مسلسل میرے ڈور کو لاک کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ میں سوائے بے بسی کے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ یہ پہلی بار تھا میں اتنا ڈر گیا تھا۔ خیر کچھ دیر زور ازمائی کے بعد وہ لاک کو چھوڑ دیتا ہے۔ اب پھر وہی خوفناک خاموشی اور پھر اس کے بعد مجھے وہی برف میں چلنے کی اواز سنائی دیتی ہے۔ اب کوئی ڈرائیونگ سائیڈ کی سائیڈ سے ہٹ کر دوسری سائیڈ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میں نے بس قدموں کی اواز سے ہی یہ اندازہ لگایا تھا۔ خیر وہ اب اس طرف اتا ہے۔ اور اس طرف کے لاک کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب میں ویسے ہی ڈرے سہمے بیٹھا ہوا تھا۔ اور یہ دیکھ رہا ہوں اندر کی سائیڈ مجھے باقاعدہ لاک میں حرکت محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے دل میں سوچا کہ کبھی بھی یہ لاک کو توڑے گا اور اندر ا جائے گا۔ اب ہوتا یہ ہے کہ وہ تھوڑی زور ازمائی کے بعد لاک کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور پھر وہی گہری خاموشی میرے کان صرف باہر کی اواز کو محسوس کر رہے تھے۔ باہر اب پھر سے مکمل خاموشی تھی۔ اب وہی خاموشی کافی دیر جاری رہی۔ میں نے محسوس کیا کہ ایک شخص ہے یا جو بھی ہے۔ وہ خاموش میرے کیبن کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ پہلے اس نے میرے کیبن کے ساتھ زور ازمائی کی اس کے بعد وہ وہیں کھڑا تھا۔ جو وہاں سے گیا نہیں تھا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اب کچھ اور ہونا باقی تھا۔ مجھے دو اور لوگوں کے دور سے برف میں چلنے کی اواز ا رہی تھی۔ یاد رہے میں باہر دیکھ نہیں سکتا تھا۔ میں بس اواز سے ہی اندازہ لگا رہا تھا۔ اب جب ان دو اور لوگوں کی اواز اتی ہے۔ تو میں اور زیادہ ڈر جاتا ہوں کہ ایک بلا بھی ٹلی نہیں تھی اور یہ دو اور ا رہے ہیں۔ وہ چلتے چلتے میرے کیبن کے بہت قریب پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں پہلے والا شخص کھڑا تھا۔ اب وہ تینوں اپس میں بات کرتے ہیں۔ لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ وہ باتیں بھی وسپرنگ کی طرح کر رہے تھے۔ اور جس لینگویج میں بات کر رہے تھے وہ لینگویج میری سمجھ سے باہر تھی۔ لیکن ان سب میں یہ چیز نوٹ کی کہ ایک ادمی تھا ایک لیڈی تھی اور ایک 12 13 سال کا بچہ تھا۔ پھر کبھی دل میں یہ ائے کہ ڈور اوپن کر کے دیکھتا ہوں شاید انسان ہے۔ مگر باہر ہڈیاں جما دینے والی ٹھنڈ میں یہ لوگ کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ میں اپنی جگہ سے اٹھتا ہوں اور کرٹن سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتا ہوں کہ دیکھوں کون ہے۔ اور میں نے اس سٹائل سے باہر جھانکا کہ اگر کوئی باہر کھڑا بھی ہو تو مجھے اندر دیکھ نہ پائے۔ لیکن میرے دیکھنے پر باہر کوئی نہیں تھا۔ مجھے کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ میں اپنی طرف سے بہت چھپ کر دیکھتا ہوں لیکن جیسے ہی میں باہر کی طرف دیکھتا ہوں تو وہ اوازیں بھی بند ہو جاتی ہیں اور باہر کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ میں یہ تو نہیں بتا سکتا میری در کی کیفیت کیا تھی۔ مگر بس یہ بتا سکتا ہوں کہ میں مرنے کے بہت قریب تھا۔ باہر کوئی نظر نہیں ا رہا تھا تو وہ اوازیں کیسی تھیں۔ اب میں واپس بالکل خاموش ہو کر پیچھے لیٹا رہتا ہوں۔ اور اس کے بعد میں اب ان کے نیکسٹ ایکشن کا ویٹ کر رہا ہوتا ہوں۔ مجھے یہاں رکے ہوئے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔ ارام تو مجھے کیا کرنا تھا۔ خوف نے مجھ میں ایک الگ ہی کرنٹ پیدا کر دیا۔ مجھے اب محسوس ہوا کہ وہ ٹرک کے سامنے ہی چلتے ہوئے میرے ٹرک سے کچھ دور جا رہے ہیں۔ میں اپنے دماغ میں پلان بناتا ہوں۔ کہ میں ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھتا ہوں اور ٹرک سٹارٹ کر کے ایک دم سے وہاں سے نکلتا ہوں۔ کیونکہ جتنا جلدی ہو سکے مجھے ٹرک کو یہاں سے نکالنا ہے۔ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو اور سب مجھے سڈن کرنا تھا۔ وہ کرٹن سامنے سے ہٹانا ہے ایک دم سے ٹرک سٹارٹ کرنا ہے اور ایک دم سے یہاں سے نکلنا ہے۔ کیونکہ ٹائم اوور ہو رہا تھا ورنہ میرا ٹرک یہاں برف میں پھنس جائے گا۔ اور ایسی جگہ پر بالکل رسک نہیں لے سکتا رکنے کا اور اب مجھے چانس بھی ملا ہے۔ وہ جو بھی تھے ٹرک سے دور ہو چکے تھے۔ میں صحیح کرتا ہوں ڈرائیونگ سیٹ پر جا کر بیٹھتا ہوں اور بنا کوئی کھٹپٹ کیے اور بنا ادھر ادھر دیکھ کرٹن ہٹاتا ہوں۔ اور ٹرک سٹارٹ کرتا ہوں اور میں وہاں سے نکلنے کی کرتا ہوں۔ میں نے جیسے ہی ٹرک سٹارٹ کیا ہیڈ لائٹ ان کی۔ میں نے دور لائٹ کی روشنی میں کچھ لوگ دیکھے مگر میرا دھیان ٹوٹلی یہاں سے نکلنے کا تھا۔ لیکن میں بس ادھر دیکھ نہیں رہا تھا۔ میں ٹرک سٹارٹ ہوتے ہی میں نے ٹرک کو گیئر میں ڈالا اور جیسے ہی گاڑی چلانے لگا تو بدقسمتی سے ٹرک زور لینے لگا۔ مطلب اب چل نہیں رہا تھا۔ شاید میرا ٹرک پھنس چکا تھا۔ اب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ میری طرف پلٹے۔ اور اہستہ اہستہ چلتے ہوئے میرے ٹرک کی اور بڑھ رہے ہیں۔ میں مسلسل ایکسیلیٹر دے رہا ہوں۔ کہ کیسے بھی ٹرک یہاں سے نکل جائے۔ مگر ٹرک بہت زور لے رہا تھا۔ وہ لوگ میری طرف بڑھتے جا رہے تھے۔ اب وہ لوگ میری ہیڈ لائٹ کی رینج میں ا چکے تھے۔ میں نے غور کیا تو واقعی وہ ایک بچہ تھا ایک لیڈی تھی اور ایک بندہ تھا۔ ان کے حلیے ایسے تھے جیسے وہ لاش ہوں۔ جیسے برف میں پڑی ہوئی لاشیں گل سڑ جاتی ہیں۔ وہ گلی سڑی لاشیں ہوں۔ ناک منہ چہرے پر خون ہی خون جمع ہوا تھا۔ بس وہ بہت قریب ا چکے تھے۔ کہ اچانک میرا ٹرک بھی جہاں پھنسا ہوا تھا وہاں سے نکل جاتا ہے۔ اور میں ان کے سامنے سے ٹرک نکال کے چلنے لگتا ہوں اور میرا ان سے ائی کانٹیکٹ ہوتا ہے۔ وہ جو بچہ تھا وہ بڑی معصومیت سے مجھے بائے بائے کر رہا ہوتا ہے۔ میں اس جگہ سے نکل جاتا ہوں اور وہ مجھے بس جاتا دیکھ رہے تھے ان کا کوئی ری ایکشن نہیں تھا۔ کافی اگے بڑھ جاتا ہوں اور سائیڈ مرر سے انہیں دیکھتا رہتا ہوں۔ وہ تینوں پیچھے سے مجھے جاتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ اور میں وہاں سے نکل جاتا ہوں۔ مگر اب بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اب بہت کچھ ہونا باقی تھا۔ مصیبت ابھی ٹلی نہیں تھی بلکہ اور بڑھ گئی تھی۔ چونکہ برف باری کی وجہ سے ویزیبلٹی بہت کم تھی اور سامنے کچھ اتنا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کہ اتنے میں اگے بلیک ائس کے باعث ٹرک سکیٹ کر جاتا ہے۔ اور روڈ سے تھوڑا نیچے سائیڈ پر پھنس جاتا ہے۔ اب میں اسے بہت نکالنے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ بالکل بھی نہیں اپنی جگہ سے ہل رہا تھا۔ اب یہاں میں اپ کو بتاتا چلوں کہ ہماری ٹرک کے اندر ایک واکی ٹوکی ہوتی ہے۔ میں نے اس سے اپنی بیس پر کال کی اور انہیں بتایا کہ میرا ٹرک ایسے سٹک ہو گیا ہے۔ اور میں یہاں پھنس گیا ہوں۔ تو میں وہاں کال کرتا ہوں۔ اب وہ جو بیس پہ بیٹھے تھے ان کے سسٹم میں میری لوکیشن ا رہی ہوتی ہے۔ تو وہ وہاں میپ پہ دیکھتے ہیں کہ کوئی میری لوکیشن کے قریب کوئی ورک شاپ ہے۔ تو وہ اسے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور مجھے بھی کہتے ہیں کہ اپ جہاں ہیں وہاں سے ایسٹ کی جانب پانچ کلومیٹر پہ ایک ورک شاپ ہے۔ اگر اپ وہاں جا کے ان سے ہیلپ لے لیں۔ کیونکہ ہمارا ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ ہم بھی رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ویل میں انہیں کہتا ہوں کہ یہاں کچھ نظر نہیں ا رہا۔ اور ٹھنڈ ہڈیاں جما دینے والی ہے۔ اپ کیسے بھی کر کے ان سے رابطہ کریں۔ میں اسے پوری بات نہیں بتا سکتا تھا کہ یہاں اب نارمل ایکٹیویٹیز ہو رہی ہیں۔ ویل اب یہ بات ہوئی اور میں سوچنے لگا کہ اگر میں نے خود نہ کچھ کیا تو یہ جو سنو فال ہو رہی ہے کچھ کچھ گھنٹوں میں ہی میرا ٹرک اتنا دھنس جائے گا کہ پھر شاید کوئی ہیلپ کے لیے ا بھی جائے تو تو میں مشکل میں پڑ جاؤں گا۔ میں اپنے اپ کو پیک کرتا ہوں۔ جیکٹ پہنتا ہوں اور ایک ہیوی ڈیوٹی ٹارچ اور واکی ٹوکی لے کر نیچے اترتا ہوں۔ کہ جا کے خود ڈھونڈتا ہوں وہ ورک شاپ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ مجھے واپس اسی راستے پر جانا تھا۔ جس راستے سے میں ایا تھا اور میں نے وہاں وہ فیملی دیکھی تھی۔ میاں بیوی اور ان کا بیٹا۔ خیر میں اب چلتا رہا اور جب میں اس لوکیشن پر پہنچتا ہوں۔ تو وہی پاؤں کے نشان ان تینوں کے۔ جو اس راستے کی طرف جا رہے تھے۔ یہ میرے لیے اور ڈرا دینے والی بات تھی۔ پر کہیں نہ کہیں تجسس بھی تھا کہ وہ کون تھے۔ اب جہاں مجھے جانا تھا وہیں وہ پیروں کے نشان جا رہے تھے۔ اس ٹارچ کی لائٹ میں میں ان پیروں کے نشان کو فالو کرتا رہا۔ اور چلتا رہا۔ برف میں چلنا کتنا دشوار ہوتا ہے یہ شاید اپ بھی جانتے ہیں۔ تقریبا ادھا گھنٹہ لگ گیا تھا چلتے چلتے۔ اور اسی دوران میں واکی ٹوکی پہ اپنے بیس سے بھی کوارڈینیشن میں تھا۔ کہ کیا میں صحیح ڈائریکشن میں چل رہا ہوں۔ وہ بھی مجھے گائیڈ کر رہے تھے کہ بالکل اپ ٹھیک جا رہے ہیں۔ تو میں دیکھتا ہوں کہ اسی جنگل کے بیچوں بیچ ایک گھر ہے۔ اور وہ پیروں کے نشان بھی اس گھر کے اندر جا رہے تھے۔ میں پہلے تو اوپنلی ان پیروں کے نشان کو فالو کر رہا تھا مگر جب میں نے اس گھر کو دیکھا تو میں نے اپنے اپ کو چھپانا شروع کر دیا۔ وہ گھر بہت پرانا تھا بہت ونٹیج گھر تھا۔ اور چھپ چھپ کے میں نے کوشش یہ کی کہ اس گھر کی ونڈو سے اندر جھانک کر دیکھوں کہ یہ لوگ کون ہیں اور یہاں کیوں رہتے ہیں۔ خیر میں ونڈو کی جانب بڑھتا ہوں۔ مجھے اندر کوئی نظر نہیں اتا۔ اب بات یہ تھی کہ روم میں گیٹھی میں اگ جل رہی تھی۔ جیسے ابھی کوئی اس روم میں تھا۔ مگر میں دوسرے روم کی ونڈو سے بھی جھانکتا ہوں۔ مجھے وہاں کوئی نظر نہیں اتا۔ میں چپ چاپ اس گھر کے مین ڈور پہ اتا ہوں۔ اور پھر اہستہ اہستہ ڈور اوپن کرتا ہوں۔ وہ ڈور اوپن ہو جاتا ہے۔ میں ویسے ہی اپنے اپ کو چھپائے اندر انٹر ہوتا ہوں اور اہستہ اہستہ ہر روم کو ایکسپلور کرتا ہوں۔ مگر پورے روم میں کوئی نہیں ہوتا۔ اتنے میں میں نے یہاں ایک غلطی کر دی تھی۔ ویسے تو میں اپنی طرف سے جیمز بانڈ کی طرح چپ چاپ چل رہا تھا۔ مگر میرے پاس لگی واکی ٹوکی کا والیم فل تھا۔ اور پھر اس پہ ایک کال اتی ہے۔ کالنگ سندیپ سندیپ کالنگ سندیپ اپ یہ ایک لوکیشن پر کیوں رک گئے؟ اپ خیریت سے تو ہیں۔ اپ ٹھیک ہیں؟ کیوں نہیں دیر تھی کہ باہر ایک کتے کے بھونکنے کی اواز انے لگی۔ میں نے محسوس کیا کوئی اس گھر کی طرف ا رہا ہے۔ میں نے فورا سے اپنے اپ کو اس روم کے اندر بنے ایک سٹور کے اندر چھپا لیا اور سانس کھینچ کر بیٹھ گیا۔ میں نے اس سٹور سے ایک باری جگہ تلاش کی جہاں سے میں روم کے اندر دیکھ سکتا تھا۔ پھر کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ وہی فیملی اس روم میں داخل ہوئی ہے۔ اور وہ لوگ عجیب طرح سے سمیل لے رہے ہیں۔ اور عجیب بھٹی انکھوں سے ادھر ادھر بس سونگھ رہے تھے جیسے کمرے میں انہیں میری موجودگی کا احساس ہو گیا تھا۔ ان میں سے جو بچہ تھا وہ اہستہ اہستہ میرے سٹور روم کے پاس اتا ہے اور اب وہ لوگ بھی سمیل لیتے لیتے سٹور کے سامنے ا گئے۔ میرا دل بند ہو گیا۔ یہ منظر دیکھ کے کہ شاید اب انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ کوئی انسان ہے جو یہاں چھپا ہوا ہے۔ میں نے جلدی جلدی ادھر ادھر دیکھا مجھے اس سٹور میں بھی ایک روشن دان نظر ایا اور اس میں دقت یہ تھی کہ وہاں ایک شیشہ لگا ہوا تھا۔ میں نے ایک بھاری سی چیز اندھیرے میں اٹھائی۔ بس یہ نہیں پتہ تھا کیا ہے میرے ہاتھ میں اور اس روشن دان پہ تھے مارا۔ اور جلدی سے وہاں سے باہر کی جانب کود گیا اور باہر پڑی برف پر جا گرا اب مجھے اتنے میں ایسا محسوس ہوا کہ کتا جو شاید اب گھر کے مین ڈور سے میری جانب ا رہا تھا۔ اور وہ بہت ایگریسو تھا اس کے بھونکنے کی اواز مجھے ا رہی تھی وہ مجھے پیچھے اتا محسوس ہوا۔ میں نے جلدی سے وہاں سے بھاگنا شروع کیا اور وہاں سے اوپر پہاڑ کی جانب چڑھنا شروع کیا۔ ہائٹ تھی مگر میری جان پہ بنی ہوئی تھی۔ میں کیسے بھی بچ نکلا۔ تقریبا کوئی 15 20 منٹ اور چلنے کے بعد مجھے ایک روڈ نظر ایا۔ جیسے وہاں کے مقامی لوگوں نے اپنے یوز کے لیے ایک چھوٹا سا روڈ بنایا ہوا تھا۔ اب میں نے اپنے کنٹرول روم سے پوچھا انہوں نے کہا کہ یہاں قریب ہی کچھ گھر اور ورک شاپ اور ٹائی شاپ اور موٹل ہے۔ وہاں جانا ہے۔ میں اب وہاں پوچھا انہیں اپنے ٹرک کے بارے میں بتایا۔ اب میں بیسکلی ایک ایسی جگہ تھا جہاں اگر میں اپنے ٹرک سے اگے جاتا تو مجھے اس جگہ سے ہو کے جانا پڑتا۔ لیکن میں جو اندر والے راستے سے ایا تھا تو ایک شارٹ کٹ تھا۔ ورنہ جب میں ان کے ساتھ ان کی گاڑی میں گیا تو مجھے اپنے ٹرک تک پہنچنے میں تقریبا 30 سے 35 منٹ لگ گئے۔ خیر انہوں نے میری حالت دیکھی پہلے تو مجھے کافی افر کی۔ اب سردی کے باعث نہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور پھر مجھ سے پوچھنے لگے کہ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو۔ وہ بیسکلی ایک فیملی تھی جو کہ باپ بیٹا اور ان کی بیٹیاں سب ورک شاپ کا کام کرتے تھے۔ ویل میں نے انہیں پوری بات بتائی تو انہوں نے بتایا اپ جس جگہ گئے تھے وہ ایک ہانٹڈ ہاؤس ہے۔ وہاں کوئی نہیں جاتا ایون ہم بھی نہیں۔ وہ ایک فیملی کا گھر ہے ان کے ساتھ 1915۔ یعنی 1915 میں ایک حادثہ پیش ایا تھا۔ جنگل کے ڈاکو ڈکیتی کی گھر سے ان کے گھر میں گھسے اور پھر اس فیملی کا مرڈر کر دیا۔ وہ فیملی اج بھی ہائی وے پہ لوگوں کو نظر اتی ہے۔ اور ان میں ایک بچہ ہے اور میاں بیوی۔ لیکن وہ کسی کو کہتے کچھ نہیں ہیں۔ لیکن لوگ ان سے ہیلپ مانگتے ہیں۔ خیر وہ قصہ میں بہت شارٹ میں بتا رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے بہت تفصیل سے بتایا تھا۔ اب میں ان کے ساتھ اپنے ٹرک پہ پہنچا اور وہاں انہوں نے کیسے بھی کر کے میرے ٹرک کو سیدھا کر کے مجھے دے دیا۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور پھر میں نے اس فیملی کی پکچر لی۔ اس ٹائم میرے پاس ایک کیمرہ ہوا کرتا تھا جس میں پکچر کلک کرتے ہی کارڈ میں پکچر باہر ا جاتی تھی۔ میں نے جب وہ پکچر لی تو اسے دیکھنے کے بعد میری حیرانگی کی حد نہیں تھی۔ جب میں بائے کر رہا تھا ٹرک میں بیٹھے میں نے ان کی یہ پکچر لی تھی۔ اور چلتے چلتے میں نے وہ پکچر دیکھی۔ اس فیملی کے پیچھے وہی تینوں تھے۔ وہی پراسرار فیملی جو مجھے اس ہائی وے پہ نظر ائی تھی۔ بہرحال یہ تھی میری سٹوری اور اگر اس سٹوری پر اپ کی اڈینس نے اچھا رسپانس دیا تو میں اپ سے وہ سٹوری بھی شیئر کروں گا جو میں 48 اورز کے لیے ایک جنگل میں پھنس گیا تھا۔ اور پھر مجھے 48 اورز کے بعد اس جنگل سے ریسکیو کیا گیا تھا وہ بھی بہت خوفناک سٹوری ہے۔ وہ بھی میں اپ سے لازمی شیئر کروں گا پر اگر اپ کی اڈینس کو یہ سٹوری اچھی لگی تو۔ تو بہت شکریہ سندیپ اپ نے اپنی سٹوری شیئر کی تو دوستو جلدی سے کمنٹ کریں ان کو بتائیں کہ اپ کو ان کی سٹوری کیسی لگی تاکہ یہ اپنی نیکسٹ سٹوری ہم سے شیئر کریں۔ تو دوستو امید کرتا ہوں اج کی سٹوری اپ کو پسند ائی ہوگی اگر سٹوری اچھی لگی ہو تو ویڈیو کو لائک کرنا نہ بھولیے گا اور اگر اپ میرے چینل پر نئے ہیں تو وہ لائک کا بٹن نظر ایا اپ کو ایا نا تو جلدی سے لائک کر دیں یار سبسکرائب بھی کر دیں اپنا بہت خیال رکھیے گا دعاؤں میں یاد رکھیے گا مجھے دیں اجازت ملتے ہیں کسی اور انٹرسٹنگ سٹوری میں اللہ حافظ۔

It Was a Snowy Forest Road and Something Was Outside My Truck | True Horror Story
Adnan Scary Stories 2.0
30m 3s4,384 words~22 min read
Auto-Generated
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


