Thumbnail for Maulana Jami Ka Aimanafroz Waqia |Tanam Farsooda Jan Para With Urdu Translation |Sabri Mian Official by Sabri Mian Official

Maulana Jami Ka Aimanafroz Waqia |Tanam Farsooda Jan Para With Urdu Translation |Sabri Mian Official

Sabri Mian Official

3m 50s654 words~4 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]ابتدائے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے دیکھتی انکھوں، سنتے کانوں صابری میاں کا سلام پہنچے ناظرین محترم حضرت مولانا عبدالرحمن جامی رحمتہ اللہ علیہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک نعت لکھی تنم فرسودہ جہاں پارہ زحجران یا رسول اللہ یہ نعت لکھنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ قدس کے پاس کھڑے ہو کر اس نعت کو پڑھیں گے۔ چنانچہ حج بیت اللہ شریف کے لیے تشریف لے گئے اور حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا تو امیر مکہ کو خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کو یعنی جامی کو مدینہ طیبہ کی جانب نہ انے دیں۔ امیر مکہ نے ممانعت کر دی۔ مولانا جامی عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ان کے دل پر عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غالب تھا کہ چھپ کر مدینہ طیبہ کی جانب چل پڑے۔ کچھ سیرت نگار لکھتے ہیں کہ قافلے میں ایک صندوق میں بند ہو گئے۔ لیکن پھر بھی امیر مکہ نے جانے نہ دیا اور کچھ لکھتے ہیں کہ بھیڑوں کے ریوڑ میں ان کی کھال اوڑھ کر چلتے چلتے مدینہ طیبہ میں داخل ہونے لگے پھر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ انے دیا۔ جب دوبارہ امیر مکہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور فرمایا جامی کو میرے روضے پر نہ انے دینا جب اس نے یہ حکم سنا تو اس نے اپنے ادمی دؤڑائے جو مولانا جامی کو مدینہ منورہ کے راستے سے پکڑ کر لے ائے اور امیر مکہ نے مولانا جامی علیہ الرحمہ کو سختی سے جیل میں بند کر دیا۔ چنانچہ تیسری مرتبہ پھر امیر مکہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جامی کوئی مجرم نہیں بلکہ ہم اس لیے اسے اپنے روضہ پر انے سے روکتے ہیں کہ اس نے کچھ اشعار لکھے ہیں جن کو وہ میری قبر پر کھڑے ہو کر پڑھنا چاہتا ہے۔ اگر یہ مدینہ طیبہ پہنچ گیا اور میری قبر انور پر حاضر ہو کر اس نے یہ اشعار پڑھے تو قبر انور سے نکل کر مصافحہ کرنا پڑے گا۔ چنانچہ امیر مکہ نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو قید خانے سے نکالا اور بڑی عزت و تکریم کے ساتھ پیش ایا۔ تنم فرسودہ جہاں پارہ ز حجرہ، یا رسول اللہ دلن پزمردہ اوارہ، زی عصیاں، یا رسول اللہ یا رسول اللہ آپ کی جدائی میں میرا جسم بے کار اور جان پارہ پارہ ہو گئی ہے گناہوں کی وجہ سے دل نیم مردہ اور اواہ ہو گیا ہے چوں سوئے من گزر اری من مسکین ز نا داری فدائے نقش نالینت کنم جا یا رسول اللہ یا رسول اللہ اگر کبھی آپ میرے جانب قدم رنجہ فرمائیں تو میں غریب و ناتواں آپ کی جوتیوں کے نشان پر جان قربان کر دوں زجام حب تو مسم با زنجیر تو دل بستم نہ گویم کہ من بستم سخن دا یا رسول اللہ یا رسول اللہ آپ کی محبت کا جام پی چکا ہوں آپ کی عشق کی زنجیر میں بندھا ہوں پھر بھی میں نہیں کہتا کہ عشق کی زبان سے شناسا ہوں یا رسول اللہ ز گرد خویش حیرانم سے شد روز عصام پشیماں پشیماں پشیماں یا رسول اللہ یار سول اللہ میں اپنے کیے پر حیران ہوں اور گناہوں سے سیاہ ہو چکا ہوں پشیمانی اور شرمندگی سے پانی پانی ہو رہا ہوں یا رسول اللہ چوں بازوئے شفاعت را کشائی بر گنہگاراں من محروم جا را دراں یا رسول اللہ روز محشر جب آپ شفاعت کا بازو گناہ گاروں کے لیے کھولیں گے یا رسول اللہ اس وقت جامی کو محروم نہ رکھیے گا۔ کاش ہمیں بھی ایسا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم عطا ہو۔ امین یا رب العالمین

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript