Thumbnail for NAMAZ E NABAWI | PROPHETIC PRAYER | ہم نبی کریم صلی اللہ کی طرح نماز کیوں پڑھیں؟ | LECTURE 01 by Sabiqoon Institute

NAMAZ E NABAWI | PROPHETIC PRAYER | ہم نبی کریم صلی اللہ کی طرح نماز کیوں پڑھیں؟ | LECTURE 01

Sabiqoon Institute

25m 19s2,979 words~15 min read
Auto-Generated

[0:03]ان الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله يا ايها الذين امنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن الا وانتم مسلمون يا ايها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحده وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا الله الذي تساءلون به والارحام ان الله كان عليكم رقيبا يا ايها الذين امنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم اعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما اما بعد فان خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد صلى الله عليه وسلم وشر الامور محدثاتها وكل محدثه بدعه وكل بدعه ضلاله والضلاله في النار اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ابراهيم وعلى ال ابراهيم انك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ابراهيم وعلى ال ابراهيم انك حميد مجيد رب اشرح لي صدري ويسر لي امري وحلل عقده من لساني يفقهوا قولي رب زدني علما فقد قال الله عز وجل في كلامه المجيد اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه بسم الله الرحمن الرحيم ويل للمصلين الذين هم عن صلاتهم ساهون الذين هم يراؤون ويمنعون الماعون

[2:07]سب تعریفات اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے ہیں جس نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت کے طریقے سکھائے اور سمجھائے اور اپنی طرف سے ہمیں نہایت معزز رسول اور نبی دے کر مبعوث کیے جنہوں نے اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف سے ائی ہوئی شریعت کو مکمل حق کے ساتھ ہم تک پہنچایا ہے اللہ تعالی پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف سے امت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات اج بھی ہمارے لیے روز روشن کی طرح ایا ہے اور ہم اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چراغ سے اج بھی روشنی لے رہے ہیں اور اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو جنہوں نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دن رات کی خلوت جلوت کی ایک ایک نیکی کے بارے میں اور اس نیکی کے انداز کے بارے میں ہم تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں پہنچائیں

[3:48]اور یہ خاصہ صرف اہل اسلام کو حاصل ہے کہ ہماری دین کی کوئی بات بے بنیاد نہیں ہے

[3:59]بلکہ ایک ایک سنت ایک ایک حدیث سندوں پر مشتمل ہے اور سندوں کے اندر جتنے لوگوں کا ذکر اتا ہے ائمہ محدثین نے ان لوگوں کی اچھائی ان کی برائی ان کے حفظ ان کے عدل ان کے اسلام ان کی سنت اور توحید ان کی عقیدوں کے بارے میں سب کچھ ہمیں بتایا ہے تاکہ ہم حدیث لیتے ہوئے سنت لیتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لیں اور وہ لوگ جو حدیث سنانے کے حدیث پڑھانے کے قابل ہیں ان سے حدیث قبول کریں یہ چند باتیں انشاءاللہ العزیز اللہ تعالی نے توفیق دی تو ہم مزید بھی کریں گے جو ہماری اج کی کلاس کا حصہ ہے سب سے پہلے تو اپ کو اور مجھے سمجھنا چاہیے کہ اس نماز کی کتنی اہمیت ہے اور یہ نماز جو ہے وہ ہمارے لیے اتنی ضروری کیوں ہے یہ سب سے پہلے ہمیں سمجھنا چاہیے تاکہ ہم اس نماز کو سمجھنے کے لیے اور اس کو ادا کرنے کے لیے پھر اسی قدر اپنی طرف سے کوشش کریں اپنی طرف سے اس نماز کے لیے ہم وقت نکالیں اس نماز کو سیکھنے کی کوشش کریں

[5:21]وگرنہ کیا ہوتا ہے کہ لوگ چونکہ ایک چیز کی اہمیت کو نہیں جانتے تو پھر وہ اس کی قدر کو کم کر دیتے ہیں نماز کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا ہے

[5:36]جیسا کہ اپ کے سامنے ایت ہے سورہ روم کی فرمایا کہ منیبین الیہ و اتقوه و اقیموا الصلاۃ ولا تكونوا من المشرکین اس کی طرف مڑتے ہوئے اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو

[6:01]مشرکوں میں سے مت ہونا اس ایت کا صاف مطلب یہ ہے کہ جب تک اپ نماز قائم کریں گے اپ اہل توحید کی صف میں کھڑے رہیں گے

[6:14]اور اگر اپ سے نماز چھوٹ گئی تو یوں سمجھیے کہ اپ سے توحید چھوٹ گئی اور اللہ نہ کرے ہم میں سے کوئی مشرکوں میں سے ہو جائے اسی بات کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بین الرجل والکفر والشرکی ترک الصلاۃ ادمی کے بیچ میں اور کفر و شرک کے بیچ میں نماز حائل ہوتی ہے جس ادمی نے نماز چھوڑی اس ادمی نے نعوذ باللہ کفر و شرک کیا ہے

[6:51]اپ اندازہ کیجیے کہ ہم جس دین اسلام کے ساتھ وابستہ ہیں اس اسلام کا ڈائریکٹلی تعلق اس نماز کے ساتھ ہے اگر نماز قائم ہے تو یہ دین قائم ہے اور اگر یہ نماز رہ گئی تو سمجھیے دین رہ گیا ہے یہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کی اہمیت سمجھائی اس اہمیت کے پیش نظر اگر ہم نماز پڑھیں گے تو ہمیں کیا ملے گا یہ بھی ہمارے لیے جاننا بہت زیادہ ضروری ہے اللہ سبحانہ و تعالی نے توفیق دی تو انشاءاللہ العزیز یہ ساری باتیں ہم اج کی اس کلاس میں سیکھنے کی کوشش کریں گے

[7:41]اگر ہم اس اہمیت کے پیش نظر جو اہمیت قران اور حدیث سے ہم نے پڑھی ہے ہم اگر نماز پڑھیں گے تو ہمیں اس سے کیا حاصل ہوگا تو ائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہم پڑھتے ہیں جس سے ہمیں پتہ چل جائے گا کہ ہم اگر اس طریقے سے نماز پڑھیں گے جس طریقے سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے اور جو اللہ تعالی نے مقرر کی ہے نماز تو ہمیں کیا ملے گا یہ واقعہ ہے اصل میں سنن ابی داؤد کے اندر امام ابو داؤد نے ذکر کیا ہے ابن محریز کہتے ہیں کہ دو کنا کا ایک ادمی تھا اس کا نام محمدی تھا اس نے شام کے ایک ادمی سے سنا ابو نے پوچھا کہتے ہیں کہ وتر واجب ہے محمدی کہتے ہیں کہ میں عبادہ بن صامت سے کہا اس نے فرمایا محمدی نے غلط کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اپ نے فرمایا پانچ نمازیں ہیں جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں چنانچہ جو یہ نمازیں دے کر ائے گا اور ان میں سے کچھ بھی ضائع نہ کی ان کے حقوق کو کم سمجھتے ہوئے تو اللہ تعالی کے پاس اس کا ایک عہد ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جو یہ نمازیں نہیں دے کر ائے گا اللہ تعالی کے ساتھ اس کا کوئی عہد نہیں وہ چاہے تو اللہ اس کو عذاب دے اور چاہے تو اللہ جنت میں داخل کرے

[10:00]پانچ نمازیں اپ دیکھیے کہ پورا دین ایک طرف ہے ان پانچ نمازوں کے بارے میں فرمایا اگر یہ ہوئی نا پاس تو اللہ تعالی ادمی کو جنت میں ضرور داخل کرے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اگر میرے پاس یہ نمازیں نہ ہوئی اور بہت کچھ بھی ہو تو اللہ تعالی کا اس طرح کا کوئی ایگریمنٹ نہیں ہے کہ جنت میں جائے گا اللہ چاہے تو عذاب میں مبتلا کرے اور چاہے تو اللہ تعالی جنت میں بھیجے وہ پھر اللہ کی مرضی پر منحصر ہے اس میں میرا اور اللہ کا کوئی معاہدہ نہیں ہے

[11:18]لیکن اگر یہ نمازیں ہوئیں تو ہم ایک معاہدے کے مطابق اس دنیا کو چھوڑیں گے اور اللہ تعالی ہمیں جنت میں داخل کرے گا اللہ تعالی ہمیں توفیق دے ہمارا اصل موضوع نماز کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کرنا نہیں ہے یہ تو صرف اپ کو نماز کے متعلق تھوڑا سا ایک ترغیبی بیان تھا اصل ہمارا موضوع یہ ہے کہ یہ نماز ہم کیسے پڑھیں اصل موضوع یہ ہے کہ نماز ہم نے پڑھنی ہے تو کیسے پڑھیں تو ہم نے چونکہ اپنا ٹاپک جو رکھا ہے وہ کیا ہے نماز نبوی کورس نماز نبوی کا مطلب ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو سب سے پہلے تو اپ کو اور مجھے یہ سمجھنا چاہیے کہ نماز نبوی ہی کیوں ہمارے ہاں مارکیٹ میں چلتی ہے بہت ساری نمازیں نماز حنفی نماز شافعی نماز جعفری نماز غوثیہ بہت کچھ چلتا ہے پھر نماز نبوی کیوں صلى الله عليه وسلم اس کی کچھ وجوہات ہم نے بڑی ڈیٹیل کے ساتھ ذکر کی اس لیے تاکہ فرقوں کے اس دور میں جہاں ہر ادمی کی الگ الگ دکان ہے ہر ادمی کا اپنا اپنا اسٹیشن ہے ہر ادمی کا اپنا اپنا سسٹم ہے وہاں پر اپ اور میں نبوی نماز کیوں تلاش کریں گے یہ بہت ضروری ہے تو سب سے پہلا تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرح نماز پڑھنا حکم نبوی صلى الله عليه وسلم ہے

[12:50]حضرت سلیمان مالک بن حویث کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم چند نوجوان قریب قریب عمر کے ائے اپ نے فرمایا اپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھ کر ائے ہیں چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس 20 راتیں قیام کیا اپ کو لگا کہ ہم اپنے گھر والوں کو یاد کر رہے ہیں اپ نے ہمیں ہمارے گھر والوں کے بارے میں پوچھا اور اپ بہت نرم اور مہربان شخصیت تھے اپ نے فرمایا جاؤ جا کر گھر والوں کو بھی نماز پڑھاؤ اور نماز اس طرح پڑھاؤ جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان دے اور بڑا ادمی نماز پڑھائے

[15:03]اپ دیکھیے کہ اگر اس نماز کے بارے میں جتنی ہم غفلت کرتے ہیں کہ نہیں جی مجھے تو سمجھ نہیں اتی بس یہ بھی ٹھیک پڑھتا ہے وہ بھی ٹھیک پڑھتا ہے وہ بھی ٹھیک پڑھتا ہے یاد رکھیے اگر ہم نے پاکستان اور انڈیا اور بنگلہ دیش اور امریکہ اور یو کے کے مطابق نماز پڑھنی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کہتے کہ نماز اپنے حساب سے دیکھ لینا لیکن ایسا نہیں تھا ایسا بالکل نہیں فرمایا گیا بلکہ حکم کیا ہو رہا ہے کہ تم نے نماز اس طرح پڑھنی ہے جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ابزرو کرنا پڑے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے پڑھتے تھے نماز ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ میرے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام کیسا تھا اپ کا رکوع کیسا تھا اپ کا سجدہ کیسا تھا اپ علیہ السلام کا تشہد کیسا تھا اپ کا اغاز کیسا تھا اپ کا اختتام کیسا تھا اپ نے نیتیں کیسے کیسے کی تھیں اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیسے پھیرا تھا یہ سب چیزیں ہمیں سیکھنی پڑیں گی کیونکہ حکم یہ ہے تم نے میری طرح کی نماز پڑھنی ہے اور یہ بات ہم انشاءاللہ الگ ایک لیکچر میں ڈسکس کریں گے کہ ہمارے ہاں عورتوں اور مردوں کی نماز بھی الگ الگ کہی جاتی ہے اس کے اوپر بھی ہم ڈسکس کریں گے کہ اس کے اندر کس لیول کا اور کتنا فرق ہے وہ انشاءاللہ العزیز ہم اینڈ اف دی لیکچرز جو ہے نا ہم ایک موضوع خالص ان مسائل پر بھی رکھیں گے جن مسائل میں ہمارے جو پاک انڈیا کا علاقہ ہے یہاں پر جو اختلاف کیا جاتا ہے تو بہرحال ہم نے ابھی تک یہ سیکھا اس کلاس میں کہ نماز اس طرح پڑھنی ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ہے اب ہم نے دیکھا تو نہیں لیکن دیکھنے والوں سے سنا ضرور ہے دیکھنے والوں نے ہمیں بتایا ضرور ہے اور جب ہم دیکھیں گے نا انشاءاللہ ہم پڑھیں گے اگے نماز کا طریقہ پڑھیں گے تو اپ دیکھیں گے کہ ہم کیسے کیسے کس طرح ہمیں صحابہ کرام سکھاتے رہے تھے بہرحال اس حدیث کے بعد اگے چلتے ہیں انشاءاللہ نماز نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسے سکھائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز اللہ تعالی نے سکھائی ہے وہ کیسے ذرا ایت دیکھیے اللہ تعالی نے فرمایا سورہ بقرہ ایت نمبر 239 اور 238 فرمایا حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطی وقوموا للہ قانتین اس کا مطلب ہے کہ نمازوں کی حفاظت کرو خاص طور پر درمیانی نماز کی اور اللہ کے سامنے بڑے خوشبو کے ساتھ ادب کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ لیکن اگر خوف کا معاملہ ہو یعنی جہاد کے دوران دشمن کا خوف ہو تو پیدل چلتے چلتے بھی پڑھ لینا اور سواری پر بیٹھے بیٹھے بھی پڑھ لینا لیکن پڑھنی ضرور ہے عام طور پر روٹین یہ ہے کہ اپ نے اللہ تعالی کے سامنے انتہائی ادب اور خوشبو کے ساتھ کھڑے ہونا ہے لیکن اگر معاملہ لڑائی کا ہے جنگ کے دوران معاملات اگئے ہیں اور نماز کا وقت ہو گیا ہے تو چلتے چلتے پڑھ لینا سواری پر بیٹھے بیٹھے پڑھ لینا لیکن پڑھنی ضرور ہے فاذا امنتم فاذکروا اللہ کما علمکم ما لم تكونوا تعلمون جب تم امن میں ا جاؤ اب لڑائی نہیں ہے اب خوف نہیں ہے اب جنگ والا معاملہ نہیں ہے تو اب تم نے اللہ کو یاد اس طرح کرنا ہے جس طرح اللہ نے سکھایا ہے تمہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ چونکہ نماز کی بات ہے اور نماز خوف کی حالت میں فرمایا پیدل بھی پڑھ لینا سواری پر بیٹھے بیٹھے بھی پڑھ لینا لیکن اگر خوف نہیں ہے پھر اسی طرح پڑھنا جس طرح اللہ نے سکھایا ہے گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز کا طریقہ ہمیں بتایا ہے وہ خود سے نہیں بتایا وہ اللہ تعالی نے سکھایا ہے اور فرمایا ما لم تكونوا تعلمون میرے سکھانے سے پہلے تمہیں کچھ نہیں پتہ تھا اس سے پہلے تمہیں نہیں پتہ تھا نماز کیسے پڑھنی ہے اللہ کو راضی کیسے کرنا ہے اللہ کے دربار پہ حاضری کیسے دینی ہے اللہ نے سکھایا ہے اور پھر یہی بات امام عبدالرزاق فرماتے ہیں اہل کہ اہل مکہ نے نماز ابن جری سے سکھائی ہے عطا نے ابن زبیر سے اسن الکبری المسیطی 2520 سے عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے ابن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جبریل امین علیہ السلام سے اور جبریل نے اللہ تعالی سے نماز سیکھی

[19:45]گویا یہ ایک پوری چین ہے نماز سیکھنے اور سکھانے کی یعنی ہم جس کلاس میں بیٹھے ہیں یہ کلاس ایک عام کلاس نہیں ہے یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے نماز سیکھنے کی جب اللہ تعالی نے جبریل کو سکھائی جبریل نے محمد الرسول اللہ کو سکھائی صلی اللہ علیہ وسلم محمد الرسول اللہ نے ابوبکر صدیق کو سکھائی ابوبکر صدیق نے عبداللہ ابن زبیر کو سکھائی عبداللہ ابن زبیر نے امام عطا ابن ابی رباح کو سکھائی امام عطا ابن ابی رباح نے ابن جری کو سکھائی اور ابن جری نے سارے مکے والوں نے سیکھی یہ وہی چین ہے جس چین کے ایک کڑی اج ہماری کلاس ہے جس کا ہم اغاز کرنے جا رہے ہیں تو یہ کوئی عام کلاس نہیں ہے یہ اللہ سبحانہ و تعالی کا لگایا ہوا سلسلہ ہے انشاءاللہ تو نبی علیہ الصلوۃ والسلام سے ہم نے سیکھنی ہے نا تو نبی علیہ السلام کو کس نے سکھائی اللہ تعالی نے نماز سکھائی مجھے امید ہے کہ اپ میرے اس مقدمے کو سمجھ گئے ہوں گے اور سکھانے کا طریقہ بھی اپ دیکھیے ایسا نہیں ہم بے دلیل بات کر رہے ہیں اور صرف ایک مفروضہ قائم کر رہے ہیں بلکہ دیکھیے ذرا یہ حدیث جو میں نے نقل کی ہے یہ اصل میں نماز کے اوقات کے لیے ہے کہ نماز کی ٹائمنگز کیا ہیں اور اپ کو بتاؤں کہ بتایا جا سکتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فلانہ نماز فلانا ٹائم پہ پڑھنی فلانہ نماز فلانا ٹائم پہ پڑھنی لیکن اگر اپ نماز کو ایک ایک ہائی لائٹ کریں پوری عبادتوں میں سے تو اپ کو لگے گا کہ باقی تمام احکام باقی تمام عبادتیں جو ہیں وہ اللہ تعالی نے وحی کے ذریعے سے زمین پر اس کا حکم بھیجا لیکن نماز اسپیشلی رسول اللہ کو اپنے پاس بلا کر تحفہ دی گئی اس کا مطلب اس کے لیے بہت خاص معاملہ کیا گیا نماز کے حوالے سے اب یہاں پر بھی سکھایا جا سکتا تھا کہ وقت کیا کیا ہے لیکن نہیں اپ دیکھیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امی جبریل علیہ السلام عند البیت مرتین بيت اللہ کے پاس جبریل امین نے دو مرتبہ میری امامت کرائی چنانچہ مجھے اس وقت پڑھائی جب زوال تھا اور سایہ ایک ذرا برابر تھا پھر مجھے عصر کی پڑھائی جب سایہ ایک مثل ہو گیا اور مجھے مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار افطار کرتا ہے اور عشاء شفق ہونے پر پڑھائی اور پھر مجھے عصر روزے دار کے کھانا حرام ہو جاتا ہے پھر اگلے دن مجھے عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا اور مغرب افطار کے وقت عصر ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھائی اور عشاء کا وقت ہو چکا تھا جب شفق ہو کر پڑھائی تو اپ نے فرمایا اے محمد اپ سے پہلے انبیاء کا بھی یہی حکم تھا اور ان دونوں اوقات کے بیچ کا ہے

[24:20]نماز نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کیسے سکھائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور نماز کی مشکات

[24:57]عمر بن میمون عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بيت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک ادمی نے کہا کہ کون ہے ایسا جو بنو فلانا سے اوجڑی لائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جائیں تو اس کی پیٹھ پر رکھ دے میں دیکھ رہا تھا کچھ کر نہیں پا رہا تھا کاش میرے پاس کچھ طاقت ہوتی

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript