[0:06]بسم اللہ الرحمن الرحیم موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار ممکن نہیں ہے اور ہم سب نے اس دنیا سے چلے جانا ہے انتقال کرنا ہے ایک دنیا سے دوسری دنیا کی طرف ہم میں سے بعض افراد ایسے ہیں کہ جن کی موت معمولی موت نہیں ہے ان کی موت خاص قسم کی موت واقع ہوتی ہے اور بعض افراد کے ساتھ جو واقعات اور حالات پیش آتے ہیں وہ نارملی عام انسانوں کے ساتھ پیش نہیں آتے ہوتا اس طرح سے ہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے پریکٹیکلی بھی کہ ان کی ہارٹ کی بیٹ جو ہے دل کی دھڑکن وہ رک گئی ہے کچھ ٹائم کے لیے اور ڈاکٹروں نے بھی ان کو ڈائیگنوز یہ کیا ہے کہ مانیٹر پر بھی آیا تھا برین ٹیپ جب ہو رہی ہوتی ہے اس پہ مانیٹر پر بھی ایک لائن آ جاتی تھی تو کچھ لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ مانیٹر بھی شو کر رہا ہے کہ یہ مر چکے ہیں ڈاکٹرز بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ مر چکے ہیں اور وہ خود بھی بتا رہے ہیں کہ کچھ ٹائم کے لیے ان کی روح ان کے بدن سے نکل گئی اور یہ نکل کر روح اس نے کچھ مشاہدات دیکھے ہیں کچھ چیزیں دیکھی ہیں وہ چیزیں معمولا ہم سب کے لیے اس کو تصور کرنا یا سوچنا مشکل ہے عام انسانوں کے ساتھ یوں نہیں ہوتا نارملی یوں نہیں ہے لیکن کچھ لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے اس کو انگلش میں کہتے ہیں کہ نیئر ڈیتھ ایکسپیرینس آپ لوگ ابھی بھی جو افراد بیٹھے ہیں موبائل ہاتھوں میں لیے ہوئے وہ اگر سرچ کریں گے گوگل پر نیئر ڈیتھ ایکسپیرینس تو اس میں مختلف افراد کی بکس مل جائیں گی فقط مسلم نہیں ہیں ہندو ہیں ان کو بھی یہ تجربہ ہوا ہے کرسچنز ہیں ان کو بھی ان میں سے بھی بعض لوگ ایسے ہیں جن کے ساتھ یہ ہوا ہے اور ہمارے مسلمان اور شیعہ بھی کچھ ایسے افراد ہیں کہ جن کے ساتھ یہ ہوا ہے ہوا کیا ہے ہوا یہی ہے کہ ان کے جسم سے روح نکل گئی ہے کچھ ٹائم کے لیے چند منٹوں کے لیے اور اس روح نے کچھ جا کے کچھ چیزیں دیکھی ہیں اور وہ کچھ چیزیں دیکھنے کے بعد دوبارہ جسم میں ملحق ہو گئی ہے اور انسان زندہ ہو گیا ہے جبکہ ڈاکٹروں کا یہ کہنا ہے کہ یہ اس ٹائم میں زندہ نہیں تھے مر گئے تھے تو یہ فقط مسلمانوں اور شیعوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوا بلکہ مختلف مذاہب والوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے انہی میں سے ایک شخص کی سٹوری آپ کو سنانے جا رہا ہوں کہ جو شیعہ تھا اور وہ اپنی سٹوری خود بیان کر رہا ہے اب جب میں بولوں گا تو میں سے مراد وہ شخص ہے کہ جس کے ساتھ یہ سب کچھ پیش آیا ہے وہ یہ بتا رہا ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو بچپن سے ہی میں اہل مسجد میں سے تھا نماز پڑھنے مسجد میں جایا کرتا تھا اور جو بھی عالم دین آتے تھے میں ان کی اسپیچز بڑے دھیان سے سنتا تھا منبر کے نیچے بیٹھتا تھا اور علماء کو بڑی عقیدت کے ساتھ سنتا تھا اور اس وقت سے ہی چونکہ علماء موت کے بارے میں شہیدوں کے بارے میں شہادت کے بارے میں مختلف سٹوریز بیان کرتے تھے تو میں بھی بڑے شوق سے یہ سٹوریز سنتا تھا اس لیے بچپن سے ہی اور نوجوانی سے ہی میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ میں جلدی اس دنیا سے چلا جاؤں اور اس وجہ سے میں بعض اوقات دعا مانگا کرتا تھا بچہ تھا دعا مانگا کرتا تھا کہ یا اللہ مجھے موت دے دے حتی کہ جب مجھے پتہ چلا کہ حضرت عزرائیل علیہ الصلوۃ والسلام ہم سب کی روحوں کو قبض کرتے ہیں تو میں حضرت عزرائیل سے متوسل ہوتا تھا کہ حضرت عزرائیل آئیے اور میری روح کو قبض کر لیجیے میں اس دنیا میں زیادہ نہیں رہنا چاہتا کیوں میں نہیں چاہتا ہوں کہ میری روح آلودہ ہو جائے گناہوں سے بھری رہے میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے حضور جب بھی ملاقات کروں تو پاک اور پاکیزہ ہوں یہ کہہ رہا ہے کہ میں جب نوجوانی میں آیا تو اس ٹائم بھی جب 15 17 سال کا تھا تو اس وقت بھی میں یہی دعا مانگا کرتا تھا کہ یا اللہ مجھے جلدی موت آ جائے یہ کہتا ہے کہ مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ اہل بیت اطہار علیہم الصلوۃ والسلام نے اس بات سے منع کیا ہے اس قسم کی موت نہیں مانگنی چاہیے شہادت مانگنی چاہیے لیکن یہ والی موت نہیں مانگنی چاہیے یہ کہتا ہے کہ میں ہوا یہ کہ بعض اوقات رات کو سونے سے پہلے بھی حضرت عزرائیل سے متوسل ہوتا تھا کہ ائیے اور میری روح کو قبض کیجئے
[6:05]کہتا ہے کہ میں سو گیا اور آدھی رات کو اٹھ گیا آدھی رات کو اٹھ کے نماز شب پڑھی اور نماز شب پڑھنے کے بعد پھر سو گیا جب سویا تو میں نے خواب میں ایک نوجوان کو دیکھا یہ نوجوان بہت خوبصورت تھا بہت خوبصورت تھا میں خواب میں ہی اس نوجوان کو اور اس کی خوبصورتی کو دیکھتا ہی رہ گیا یہ اتنے زیادہ نوجوان خوبصورت تھا کہ میں اٹھا اور اٹھ کے سلام کیا
[6:37]اس نوجوان نے مجھے سلام کا جواب دیا اور میرے سے ایک بات پوچھی کہا کہ تمہیں اتنی جلدی کیا ہے مرنے کی تو اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس دنیا سے بڑا پاک اور پاکیزہ ہو کر جاؤں میں نہیں چاہتا ہوں کہ آلودہ ہو کر جاؤں تو اس نوجوان جو بہت خوبصورت تھا اس نے کہا کہ نہیں ابھی تمہاری باری نہیں ائی تو یہ کہتا ہے کہ مجھے پتہ چل گیا کہ یہ نوجوان جو مجھے خواب میں آ رہا ہے یہ حضرت عزرائیل علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور لیکن جب مجھے پتہ چلا تو میں خواب میں ہی ان کی طرف آگے بڑھا اور میں نے ان سے اصرار کیا انسسٹ کیا کہ مجھے اس دنیا میں نہیں رہنا ہے مجھے لے جائیے تو کہتے ہیں کہ جیسے ہی میں بڑھا حضرت عزرائیل کی طرف تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے پیچھے یوں کیا پیچھے چلے جاؤ کہتا ہے خواب میں ہی میں نے دیکھا کہ جیسے انہوں نے یوں پیچھے کیا اور میں پیچھے ہوا اور پیچھے گر گیا جیسے گرا میں تو میں خواب میں یہ دیکھتا ہوں کہ میری جیسے گرا اور بایاں حصہ یہ جو لیفٹ سائیڈ ہے سب اس میں سخت درد شروع ہو گیا خواب میں ہی اور خواب میں ہی میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھوں پر اسی ہاتھ میں گھڑی ہے واچ ہے اور میں نے ٹائم دیکھا ہے خواب میں ہی ٹائم دن کے بارہ بجے ہوئے تھے خواب میں یہ دیکھ رہا تھا اس نے کہا کہ تھوڑی دیر کے بعد میری آنکھ کھلی اور یہ سارا سین جو میں نے خواب میں دیکھا میں پریشان ہوا اس کے بعد دوبارہ سویا اور اگلی صبح جو ہم نے امام رضا علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کے لیے جانا تھا تھرسڈے کو اس زیارت کا ٹائم آ گیا گاڑی کے جانے کا ٹائم آ گیا کاروان کا ٹائم آ گیا اور میں تھوڑا سا لیٹ ہو گیا جو جس جگہ پر بس تھی کہ سارے زائر وہاں اکٹھے ہوں اور وہاں سے ہم زیارت کے لیے جائیں کہتا ہے کہ میں لیٹ ہو گیا جو ٹائم تھا اس سے لیٹ ہو گیا اب میں نے کہا کہ کیا کروں پھر میں نے یہی مناسب سمجھا کہ میں جلدی سے موٹرسائیکل لوں اور موٹر سائیکل پر جلدی سے پہنچ سکوں اس بس پر کہتا ہے کہ میں نے سٹارٹ کیا اور جوان تھا میں اور میں نے سٹارٹ کرنے کے بعد اسپیڈ لگائی اتنی اسپیڈ دی کہ ایسا میں لیٹ تو ہو گیا تھا میں نے کہا کہ اور زیادہ لیٹ نہ ہو جاؤں اور بس نکل نہ جائے تو یہ کہتے ہیں کہ میں نے جب زیادہ سپیڈ دی تو میں ایک چوک کے پاس پہنچا اور اس چوک سے جیسے ہی کراس کرنے لگا تھا آگے سے ایک گاڑی ائی اور میرا موٹرسائیکل اس گاڑی کے ساتھ ٹکرایا جیسے ہی ٹکرایا میں موٹرسائیکل سے بڑے شدید انداز میں گرا جیسے ہی میں سڑک پر گرا چند سیکنڈ تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میری روح چلی گئی ہے لیکن چند سیکنڈ کے بعد میں نے دیکھا کہ مجھے کچھ نہیں ہوا میں نے آنکھیں کھولی تو میں خود حیران تھا کہ اتنا شدید ایکسیڈنٹ لیکن پھر بھی مجھے کچھ نہیں ہوا اور فوری طور پر جیسے ہی میں گرا میری لیفٹ سائیڈ پر درد شروع ہو گئی اور فورا سے میں نے دیکھا تو ٹائم بھی بارہ بجے ہوئے تھے ظہر کے اور جیسے ہی میں نے ٹائم دیکھا اتنے میں وہ ڈرائیور جو تھا وہ گاڑی جس کے ساتھ میرا موٹر سائیکل ٹکرایا فوری اتر کے آیا اس نے کہا تم زندہ ہو اس نے کہا میں زندہ ہوں مجھے کچھ نہیں اس نے کہا شور ہاں اس نے کہا شور فقط یہ لیفٹ سائیڈ پر درد ہے لیکن میں زندہ ہوں مجھے الحمدللہ کچھ نہیں ہوا اس نے کہا کہ میں اٹھا اور دوبارہ کک ماری اس نے کہا پکی بات ہے تم ٹھیک ہو ایکسیڈنٹ تو بہت شدید ہوا ہے اس نے کہا ہاں پکی بات ہے اور اس کے بعد اس نے موٹرسائیکل سٹارٹ کیا اور جو بس تھی اس تک پہنچ گیا اس کو راستے میں یہ خیال آ گیا اور پتہ چل گیا کہ ابھی یہ جو میں تقاضہ موت کا کر رہا ہوں یہ ابھی مجھے ملنے نہیں والی موت کا ایک ٹائم ہے جس ٹائم آنا ہے اسی ٹائم پر ہی آنا ہے یہ جوان جو ہے اب بڑا ہوتا گیا آہستہ آہستہ اس کی ایج ہوتی گئی لیکن اس کے دل میں کیونکہ بچپن سے ہی علماء سے بھی شہید اور شہادت اور موت کے بارے میں سٹوریز سنتا رہا تھا
[11:03]اس کے دل میں شہادت کی تڑپ بہت زیادہ تھی اس لیے موت اور شہادت کی تڑپ کی وجہ سے اس نے آرمی جوائن کی
[11:15]جب اس نے آرمی جوائن کی تو ہوا یہ کہ شروع میں آپ کو پتہ ہے کچھ عرصہ ٹریننگ ہوتی ہے کچھ عرصہ ٹریننگ ہوئی اور ٹریننگ کے بعد جو چھ ماہ ایک سال اس کے بعد جب فل ٹرینڈ ہو گیا یہ اس کے بعد اس کو ایک پوری ٹیم کے ساتھ بھیجا گیا مقابلے کے لیے کچھ علاقوں میں ٹیررسٹ ائے ہوئے تھے ان سے مقابلے کے لیے اس شخص کو بھیجا گیا کہ جاؤ اس اس جگہ پر ان لوگوں کے ساتھ ان کا محاصرہ کرو اور ان سے لڑو اور ان کو اس جگہ سے بھگاؤ یہ کہتا ہے کہ میں ان اپنی ساری ٹیم کے ساتھ اس جگہ پر جہاں ٹیررسٹ تھے ہم لوگ چلے گئے ہم لوگوں نے چند دن لگائے اور اس کے بعد ان لوگوں کو ان کا احصار کر لیا محاصرہ کر لیا اب جب ٹیررسٹ ہمارے حسار میں اور محاصرے میں آ گئے تو ان لوگوں نے آخری آخر پر کچھ ایسے ویپنز استعمال کیے جو کیمیکلز ویپن تھے کہہ رہے تھے کیونکہ میرے میں جذبہ پیشن اور شوق شہادت کا موت کا بہت زیادہ تھا اس لیے میں آگے آگے تھا اور جو میرے ساتھی تھے وہ پیچھے پیچھے تھے جب انہوں نے کچھ کیمیکلز ویپن پھینکے تو میں آگے آگے تھا مجھے جو سب سے پہلا نقصان ہوا وہ یہ کہ میں نے دیکھا کہ میری آنکھوں میں سے جیسے انہوں نے یہ ویپنز چھوڑے ہیں تو مجھے بائیں آنکھ جو ہے وہ میری کام کرنا چھوڑ گئی بہت شدید میرا مجھے درد ہوا حتی کہ میرے سے دیکھا بھی نہیں جا رہا تھا میرے ساتھیوں نے جب یہ دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے فوری طور پر پیچھے لے کر گئے اب کہتا ہے کہ بالکل میں آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا تھا اور مجھے لے گئے ڈاکٹر کے پاس وہ جو آرمی کے ڈاکٹر ہوتے ہیں اور ڈاکٹرز نے ڈاکٹرز دو تین لوگ تھے ان لوگوں نے معائنہ کیا اور دیکھا اور انہوں نے کچھ ڈراپس ڈالے اس نے کہا کہ مجھے بہت زیادہ درد ہے انہوں نے کہا ہم نے ڈراپس ڈال دیے ہیں دو تین گھنٹے کے بعد تم ٹھیک ہو جاؤ گے یہ کہتا ہے کہ دو تین گھنٹے گزر گئے لیکن میری درد نہیں رکی میری درد جو ہے وہ شدید ہوتی گئی اور انہوں نے کہا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں ٹھیک ہو جاؤ گے کہتا ہے ایک دو دن گزر گئے میں ٹھیک نہیں ہوا ایک ہفتہ گزر گیا میں ٹھیک نہیں ہوا پھر میں نے دوبارہ ان ڈاکٹر سے کہا تو انہوں نے کہا ایک اور ہاسپٹل ریفر کیا جو آرمی کا دوسرا ہاسپٹل تھا کہتا ہے میں وہاں گیا ڈاکٹرز نے چیک اپ کیا اور مجھے کچھ میڈیسن دی اور کہا کہ دو تین ماہ لگیں گے اس کے بعد تم ٹھیک ہو جاؤ گے دو تین ماہ گزر گئے اس کے بعد میں ٹھیک نہیں ہوا میری درد بڑھتی گئی کہتا ہے پھر میں ڈاکٹر پر ڈاکٹر چینج کرتا گیا لیکن میری درد نہیں رکی یہاں تک کہ تین سال گزر گئے اور میری بائیں آنکھ اس کی درد نہیں رکی اور پھر کہتا ہے کہ ایک دن جب تین سال گزر گئے میں صبح اٹھا اور میں نے شیشے میں دیکھا کہ یہ جو میری بائیں آنکھ ہے یہ باہر ا رہی ہے اندر والا حصہ جو اس کا ہے تو یہ کہتا ہے کہ اب میرے سے رہ نہیں گیا میں فوری ہاسپٹل گیا اور میں نے وہ جو آرمی کا ہاسپٹل تھا وہاں ڈاکٹرز سے چیخا چلایا کہ میری درد نہیں جا رہی تین سال ہو گئے ہیں اور اب یہ جو تمہاری جھوٹی تسلیاں ہیں یہ بھی میں برداشت نہیں کر سکتا اس کا فوری طور پر اپریشن کرو تو کہتا ہے تو کہ میں نے انسسٹ کیا انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہماری پوری ایک ٹیم بیٹھے گی ڈاکٹرز کی اور پھر وہ ڈائیگنوز کرے گی کہ اپریشن کرنا ہے یا نہیں تو اس نے کہا نہیں سب کو ابھی بلاؤ کیونکہ آرمی کا بندہ تھا تو ڈاکٹرز کو بلایا گیا ڈاکٹرز نے سب نے چیک اپ کیا اور ڈاکٹرز نے ڈاکٹرز نے یہ ڈائیگنوز کیا کہ اگر ہم اپ کی آنکھ کا اپریشن کریں گے تو ہوگا یہ دو چیزیں ہوں گی یا تو یہ آنکھ بالکل ختم ہو جائے گی نابینہ ہو جاؤ گے تم نہیں دیکھ سکو گے یا یہ ہوگا کہ تم کچھ دیکھ سکو گے لیکن جو آنکھ کے پیچھے جو چیزیں ہیں جو گلینڈز ہیں ان کا تعلق مائنڈ کے ساتھ ہے تو تمہارے مائنڈ پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا تمہارا چانس نہیں ہے کہ تم پھر بچ سکو تو اس نے کہا جو کچھ بھی ہو مجھے اپریشن کروانا ہے جو کچھ بھی ہو میں تمہاری بات نہیں مانوں گا جو ڈاکٹرز کی ٹیم تھی ان میں سے ایک ڈاکٹر نے اس کا ساتھ دیا کہا کہ کوئی بات نہیں ہم اس کا اپریشن کرتے ہیں لیکن بقیہ دوسرے جو ڈاکٹرز تھے انہوں نے کہا کہ نہیں یہ خطرناک ہے تو اس نے کہا کہ میں اپنی گارنٹی پر یہ کرواتا ہوں میں سائن کر کے دیتا ہوں تمہیں اور تم لوگ کرو اپریشن یہ کہتے ہیں کہ جب میں نے اتنا زیادہ انسسٹ کیا انہیں انہوں نے کہا کہ تین سال ہو گئے ہیں میرا درد نہیں رک رہا کچھ بھی ہے تم یہ سٹیپ لو ڈاکٹر مان گئے اور ڈاکٹرز نے ایک دن ایک ٹائم دیا کہ اس ٹائم پر آ جاؤ ہم تمہیں اپریٹ کریں گے اپریشن کریں گے تمہاری آنکھ کا اپریشن ہوگا یہ وہ دن جو دیا گیا جو اس کو ٹائم دیا گیا اس ٹائم پر پہنچ گیا ہاسپٹل اور اپنے گھر والوں سے بھی خدا حافظی کر کے گیا اور اپنے دوستوں سے بھی کہتا ہے کہ ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ خدانخواستہ یا تو آنکھ چلی جائے گی اگر آنکھ نہیں گئی تو یہ مائنڈ پر بہت اس کا اثر پڑے گا اور جان بھی جا سکتی ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن میں نے پھر بھی انسسٹ کیا کہ میرا اپریشن کرو تو یہ میں ہاسپٹل جا رہا ہوں اور گھر والوں سے بھی خدا حافظی کر کے ہاسپٹل چلا گیا جب ہاسپٹل گیا تو ڈاکٹرز کی ٹیم نے دوبارہ اس سے کہا کہ یہ رسک ہے اس نے کہا جو کچھ بھی ہو میں تیار ہوں تم اپریشن شروع کرو یہ کہتا ہے کہ میرا اپریشن شروع ہوا مجھے لٹایا گیا اور میرا اپریشن شروع ہوا اور میرا اپریشن بہت لمبا ہو گیا تقریبا چھ گھنٹے تک کوئی خبر نہیں تھی چھ گھنٹے کے بعد میں نے ایک دم سے یہ فیل کیا کہ میں ٹھیک ہو گیا ہوں میری درد ختم ہو گئی ہے
[17:36]اور میں نے یہ فیل کرنا شروع کیا کہ میں اب بیڈ سے جو میرا اپریشن ہو رہا تھا ڈاکٹر سارے اپریشن کر رہے ہیں لیکن میں وہ جو بیڈ جس پر لیٹا ہوا ہوں اس پر اٹھ کے بیٹھ گیا ہوں اور میں ڈاکٹرز کی یہ باتیں بھی سن رہا تھا کہ ڈاکٹرز نے کہا کہ ہم نے بڑی کوشش کی لیکن ہم اسے بچا نہیں سکے ہم نے اس کو کہا تھا لیکن اس نے ہماری بات نہیں مانی اب یہ ہمارے ہاتھوں سے چلا گیا ہے کہتا ہے میں نے اس ٹائم جب میں بیٹھا تھا یہ ڈاکٹرز کی ساری باتیں سن رہا تھا اور لوگوں کی بھی ریئلٹیز میں دیکھ رہا تھا کہ کتنی جلدی میں لوگوں کی حقیقتیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ کیا کیا ان کے اندر نیت کیا ہے وہ بھی میں سب سمجھ رہا تھا میں نے دیکھا کہ اسی لمحے میں جب میں ہاسپٹل کے بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا تب میں نے دیکھا کہ میرے سامنے وہی ایک خوبصورت شخص آیا جو بچپن میں بھی مجھے خواب میں آتا تھا میں نے دیکھا اس کو اور دیکھ کے میں بہت خوش ہوا لیکن میرے ذہن میں مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ چند سال پہلے میں نے اس شخص کو دیکھا ہوا ہے لیکن کہاں دیکھا ہے مجھے کچھ یاد نہیں تھا اور یہ جو خوبصورت جوان شخص تھا تو اس نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آؤ یہ کہتا ہے کہ اسی لمحے میں میں نے دیکھا کہ اس کے ساتھ ہی لیفٹ سائیڈ پر میرے ایک چچا اور ایک کزن کہ جن کا انتقال ہو چکا تھا چند سال پہلے وہ بھی اس کے ساتھ ہیں اور وہ بھی بہت خوش نظر آ رہے ہیں کہتا ہے کہ جیسے میں نے انہیں دیکھا تو مجھے پتہ چل گیا کہ ہاں یہ تو حضرت عزرائیل ہیں اور حضرت عزرائیل اب پھر مجھے بلا رہے ہیں کہ آؤ تو یہ کہتا ہے کہ مجھے نہیں جانا ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں تمہیں انا پڑے گا اس نے کہا میں نے ابھی کچھ نہیں کیا ابھی مجھے نہیں مرنا ہے مجھے تو شہادت کی موت چاہیے تو حضرت عزرائیل علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی بات نہیں مانی اور اشارہ کیا کہ آؤ کہتا ہے کہ جب میں نے زیادہ انہیں اصرار کیا کہ مجھے نہیں جانا تو انہوں نے پھر اشارہ کیا اور دو شخص ایک نے رائٹ سائیڈ سے اور ایک نے لیفٹ سائیڈ سے مجھے پکڑ لیا کہ اور لے جانے کے لیے ان لوگوں نے مجھے پکڑ کے اٹھایا کہ اٹھو چلو ہمارے ساتھ تو کہتے ہیں اب میں نے دیکھا کہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں رہا اب کیا کیا میں نے میں نے کہا کہ اب کیا کروں کچھ نہیں کر سکتا ہوں میں نے دیکھا کہ ہاسپٹل کے بیڈ سے ہی مجھے ان دونوں نے پکڑا ہے اور پکڑ کے جیسے یوں آگے کیا ہے تو میں نے دیکھا کہ ایک بیابان آ گیا ہے ایک بیابان ہے اور وہ اتنا بڑا بیابان ہے اور میں دور سے دیکھ رہا ہوں کہ دور ایک شخص ہے کہ جس نے ٹیبل اور ایک چیئر لگائی ہوئی ہے اور مجھے یہ دو شخص پکڑ کر اس کے اس شخص کے قریب لے کر جا رہے ہیں دور سے ہی دیکھ رہا ہوں اور یہاں تک کہ یہ دونوں شخص مجھے پکڑ کر ان کے اس شخص کے قریب لے کر آئے جو ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا جو کرسی پر اب چیئر پر بیٹھا ہوا تھا اور ٹیبل بھی سامنے رکھی ہوئی تھی میں نے دیکھا کہ اس کے رائٹ سائیڈ پر میں نے دیکھا کہ بہت خوبصورت سینری ہے باغ ہیں گارڈنز ہیں ٹریز ہیں بہت زبردست سین ہے میں نے دیکھا اور وہاں سے خوبصورت ہوائیں چل رہی ہیں بہت خوش ہوا پھر میں نے لیفٹ سائیڈ پر دیکھا بہت زیادہ بہت بڑی اور بہت انتہا کی آگ جلی ہوئی ہے اور اس آگ کے شولے اور اس کی حرارت اور تپش کا احساس میں اس شخص کے پاس جو ٹیبل اور کرسی رکھ کے بیٹھا ہوا تھا اس کے پاس کر رہا تھا جبکہ وہ بہت دور تھیں مجھے احساس ہو گیا کہ رائٹ سائیڈ پر جنت ہے اور لیفٹ سائیڈ پر جہنم ہے کہتا ہے مجھے پتہ چل گیا اور اس کے بعد یہ جو شخص بیٹھا ہوا تھا اس کو میں نے سلام کیا جو کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور ٹیبل بھی رکھ کے اس کو میں نے سلام کیا اس نے جواب دیا اور جواب دینے کے بعد اس نے ایک بات کہی اس نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ ٹیبل پر ایک بہت بڑی بک رکھی ہوئی تھی اور یہ جو چیئر پر بیٹھا ہوا تھا شخص اس نے مجھے کہا کہ اس بک کو کھولو اس بک کو کھولو اس شخص نے پوچھا کہ یہ کیا ہے اس شخص نے مجھے بتایا کہ یہ تمہارا نامہ اعمال ہے تمہارا نامہ اعمال ہے انشاء اللہ خداوند تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ خداوند تبارک و تعالی ہم سب کے نام اعمال کو اہل بیت اطہار علیہم الصلوۃ والسلام کی محبت سے منور فرمائے ایک درود کی برکت کے ساتھ الل



