[0:00]رب العزت نے اس ایت میں جو رمضان کا مہینہ پھر اس میں نزول قران پھر اس میں روزے کے احکام اللہ تعالی نے اس ایت میں سمجھائے کہ شہر رمضان الذی انزل فیہ القران کہ رمضان کا مہینہ جس میں قران حکیم نازل کیا گیا ہدا للناس یہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔ و بینات من الہدی والفرقان اور حق اور باطل کی فرق کرنے والی کھلی دلیلیں ہیں اس کتاب کے اندر اللہ رب العزت نے اپ سب کو یہ نعمتیں عطا فرمائی۔ یہ رمضان کی نعمت، یہ قران کی نعمت، یہ روزے کی نعمت اور اس ایت کے اخیر میں اللہ تعالی نے اس کا مقصد بھی بتایا۔ کہ یہ رمضان کا مہینہ اس کی برکتیں اللہ نے عطا فرمائیں۔ اور یہ قران حکیم اس کے پڑھنے اور سننے کی اللہ نے توفیق عطا فرمائی۔ اور پھر اسی ایت میں بتایا کہ روزے رکھنے کی اللہ نے توفیق عطا فرمائی۔ اب ایت کے اخیر میں اللہ نے کہا کہ ان سب باتوں کا مقصد یہ ہے کہ لعلکم تشکرون تاکہ تم شکر گزار بندے بن جاؤ۔ اس سارے کا مقصد اللہ نے خود بتایا۔ لعلکم تشکرون تاکہ تم شکر گزار بندے بن جاؤ۔ اج وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ انسان اس اللہ کے بیان کردہ مقصد کو حاصل کرے اور وہ ہے شکر۔ یہ شکر انسان کیسے کرے؟ یہ شکر ہوتا کیا ہے؟ اگر انسان شکر کرے تو اللہ نے یہ رمضان کی نعمتیں دیں، قران کی نعمتیں دیں، روزے کی نعمتیں دیں۔ عبادات اور دعاؤں کی نعمتیں دیں۔ تو یہ انسان شکر کیسے ادا کرے؟ انسان شکر ادا کرتا رہے زندگی میں تو اس کا فائدہ اس کو کیا ہوتا ہے؟ اور نہ شکر ادا کرے ناشکری کرے تو اس کا نقصان انسان کو کیا ہوتا ہے؟ قران و سنت کی روشنی میں اج کی نشست میں یہی عرض کرنا مقصود ہے بس کہ اللہ نے اس ایت میں یہ رمضان، یہ روزے، یہ قران ان سب کا مقصد بتایا لعلکم تشکرون تاکہ تم شکر گزار بندے بن جاؤ۔ تو یہ بندہ شکر گزار بندہ کیسے بنے؟ اس کے لیے ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ شکر کہتے کس کو ہیں؟ یہ جو قران حکیم میں الفاظ اتے ہیں نا بہت سے لوگ لفظ بولتے ہیں ماشاءاللہ سمجھتے بھی ہیں فلاں بندہ شکر گزار ہے فلاں بندہ ناشکرا ہے کہتے ہیں لیکن اگر شکر کی تعریف ذہن میں لائی جائے تو وہ مشکل کام محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ قران مجید کے جتنے مفرد الفاظ ہیں ان کے معنی خود اللہ کے نزدیک کیا مراد ہیں قران کے ان الفاظ سے کیا مطلب مراد لیا جاتا ہے اس کو علامہ راغب اسفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب مفردات القران میں لکھا۔ ایک ایک لفظ کا مطلب اب یہ شکر کی تعریف وہ لکھتے ہیں۔ امام راغب رحمہ اللہ شکر کس کو کہتے ہیں؟ فرماتے ہیں ہوا الثناء باللسان علی النعمہ ہوا الثناء باللسان علی النعمہ نعمت ملنے پر انسان زبان سے تعریف کرے تو اس کو شکر کہتے ہیں۔
[3:44]یہ انسان دل سے بھی شکر ادا کرے۔ زبان سے بھی شکر ادا کرے۔ اپنے عمل سے بھی شکر ادا کرے۔ یہ اللہ تعالی نے ہمیں قران مجید میں سکھایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کر کے دکھایا۔ دل سے شکر کیا دو طریقے ہم دل سے کیسے شکر ادا کریں؟ اور اپ معاشرے میں رہتے ہوئے محسوس کر سکتے ہیں کہ فلاں بندہ دل سے شکر گزار بندہ ہے۔ زبان سے چاہے ایک لفظ نہ بولے۔ دل سے شکر ادا کرنے کے دو طریقے ہیں۔ محبت منعم نمبر دو احترام منعم منعم کہتے ہیں نعمت دینے والا۔
[4:37]محبت منعم نعمت دینے والے سے محبت کرنا۔ یہ دل کا شکر ہے۔ اور احترام منعم نعمت دینے والے کا احترام کرنا اس کی عزت کرنا۔ دل سے یہ شکر کا طریقہ ہے۔ ایک دوست اپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہو۔ اپ کو نعمتیں دینے کا ذریعہ بنتا ہو۔ اپ اس سے محبت کرتے ہوں نا نفرت نہ کرتے ہوں۔ تو یہ دل کا شکر ہے۔ اور اگر محبت نہ کرتا ہو انسان ایسے شخص ہے جو اپ کو پیسے بھی دے رہا ہے اپ کی مدد بھی کر رہا ہے تعاون بھی کر رہا ہے اپ کے کام بھی ا رہا ہے اور یہ بندہ اس سے محبت نہیں کرتا وہ کہتا ہے کیسے ناشکرا بندہ ہے۔ ساری نعمتیں دینے والا اللہ۔ بندوں کو اللہ ذریعہ بناتا ہے۔ ساری نعمتیں دینے والا اللہ۔ یہ انسان سب سے زیادہ محبت اللہ سے کرے۔ اور اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا ہو اتنی محبت کہ لا یؤمن احدکم حتی یکون ہوا تبع لما جئت بہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تمام خواہشات کو تابع کر دے اس دین کے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر ائے۔ اور فرمایا لا یؤمن احدکم حتی اکونا احب الیہ من والدیہ و ولدہ والناس اجمعین کہ تم میں سے کسی شخص کا ایمان کامل نہیں ہوگا جب تک کہ وہ مجھے اپنے باپ سے اپنے بچوں سے سب لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت کرنے والا ہو۔ اور محبت کی نشانی پتہ ہے کیا ہوتی ہے؟ انسان جس سے پھر محبت کرتا ہے اس کا کہنا مان کر چلتا ہے۔ اباجی میں اپ سے بڑی محبت کرتا ہوں اپ عظیم باپ ہیں۔ اچھا بیٹا یہ ذرا دودھ لا دو سودا لا دو ماں کو ذرا کھانا پکانا ہے۔ یہ نہیں ہوتا بس میں اپ سے محبت بہت کرتا ہوں۔ زبانی جمع خرچ ہے۔ دل سے محبت کرتا ہے اس کی نشانی ہوتی ہے بات مان کر چلتا ہے۔ اس کو خوش کرنے کی فکر کرتا ہے۔ اللہ کو خوش کرنے کی فکر کرے بندہ۔ روزہ رکھ کے نماز پڑھ کے قران پڑھ کے۔ مقصود صرف اللہ کو راضی کرنا ہے۔ تو دل سے شکر ادا کرنا۔ نمبر ایک انسان نعمت دینے والے سے محبت کرے۔ نمبر دو نعمت دینے والے کا احترام کرے۔ اس کی عزت کرے۔ پھر زبان سے شکر ادا کرنا۔
[7:16]اس کے بھی دو طریقے زبان سے شکر ادا کرنا۔ کہ بندہ تعریف کرے نعمت دینے والے کی۔ اب نعمت دینے والے سامنے دو ہو سکتے ہیں۔ ایک اللہ اور ایک وہ ذریعہ جو بندہ بنتا ہے۔ انسان نعمت دینے والا ہے بن کر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طریقے سکھائے۔ کہ اگر اللہ نعمت دے تو یہ کیا کہے؟ الحمدللہ۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے۔ ابھی میں نے بتایا شکر کس کو کہتے ہیں؟ نعمت دینے پر ہوا الثناء باللسان علی النعمۃ نعمت ملنے پر انسان زبان سے تعریف کرے اس کو زبان کا شکر کہتے ہیں۔ اللہ نعمت دے تو یہ کہے الحمدللہ۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے۔ اج وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کو نہ شکر سکھائیں۔ شکر سکھائیں بہت ضرورت ہے۔
[8:21]اس لیے کہ ہم لوگ بہت پریشان ہیں اس مسئلے میں۔ کہ ساری زندگی بچوں کے لیے کمایا محنت کی ان کے لیے سب کچھ کیا۔ بڑی اچھی تعلیم دلائی اچھی فیسیں ادا کی اچھے کپڑے پہنائے اچھی گاڑی لے کے دی اچھا گھر بنا کے دیا جوان ہوتے ہیں نا تو ہمارے سامنے کھڑے ہو کر کہتے ہیں اباجی اپ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟ سارے پانی پھر دی۔ کیوں کہ ان کی تربیت نہیں ہوئی نا شکر کی تربیت نہیں۔ ناشکرے جوان ہو کے بھی بچے اور بچیاں ناشکرے کاش کہ بچپن میں یہ تربیت ہوتی شکر کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی کہ اپ بچے سے پوچھتے بیٹا کھانا کھا لیا؟ ایک جواب یہ ہے کہ ہاں کھا لیا۔ ایک جواب یہ ہے کہ الحمدللہ میں نے کھانا کھا لیا۔ بیٹا ہوم ورک کر لیا جی کر لیا۔ ایک جواب یہ ہے کہ جی الحمدللہ۔ بیٹا اپ کی طبیعت کیسی ہے؟ جی الحمدللہ بہتر ٹھیک ہوں بات بات پہ اللہ کا ذکر بات بات پہ اللہ کا شکر۔ بچپن سے چھوٹے ہوتے سے۔ ان شاء اللہ بڑے ہو کر یہ ناشکرا نہیں ہوگا۔ یہ اللہ کا شکر ادا کرنے والا ہے۔ اور پھر بندوں کا شکر ادا کرنا۔ یہ بھی بڑا لازم ہے۔ بسا اوقات ہوتا ہے ہم لوگ کسی انسان کا شکر ادا کریں نا جناب اپ کا بہت شکریہ تو وہ اگے سے پتہ کیا کہتے ہیں؟ اپ اللہ کا شکر ادا کریں۔ اللہ کا شکر ادا کریں۔ ہمارا کیا شکر ادا کریں گے؟ یہ جملہ قران حکیم کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ سورہ لقمان میں اللہ تعالی نے سکھایا انشکر لی و لوالدی کہ میرا بھی شکر ادا کرو ماں باپ کا بھی شکر ادا کرو۔ معلوم ہوا انسانوں کا بھی شکر ادا کرنا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کچھ اور فرمایا۔ فرمایا من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ۔ من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ بہت مسترد حدیث۔ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ معلوم ہوا لوگوں کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ اور ایک محدث نے اس حدیث کی تشریح میں بڑی عجیب بات لکھی ہے۔ کہ ان دو جملوں میں تعلق کیا ہے؟ یہ دو جملوں میں ربط کیا ہے؟ کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہ کرے وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ کمال کر دیا اس محدث نے۔ انہوں نے لکھا کہ من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ۔ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ اس لیے کہ جو نعمت دیتا ہوا بندہ نظر ا رہا ہے یہ اس کا شکر نہیں ادا کرے گا تو جو نظر نہیں ا رہا اس کا شکر کہاں ادا کرے گا؟
[11:28]من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ۔ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا بھی شکر ادا کرنے کا طریقہ بتایا کہ ہم کہیں الحمدللہ۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے۔ اور بندوں کا شکر کیسے ادا کرنا ہے؟ اس کا طریقہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا۔ کہ جب کوئی اپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے اپ کو نعمت دے تو اپ جواب میں کہیں جزاک اللہ جزاک اللہ خیرا جزاک اللہ احسن الجزاء جامع ترمذی کی حدیث ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بندہ کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے کسی کو نعمت دے جواب میں وہ دوسرا بندہ کہے جزاک اللہ تو اس نے اس بندے کا بدلہ اتار دیا۔ پیسے بھی نہیں خرچ ہوئے۔ جزاک اللہ۔ کاش کہ ہم بچوں کو گھر میں جا کر چاکلیٹ دیں نا ائس کریم دیں۔ وہ اگے سے کہیں جزاک اللہ۔ کاش اس پر محنت ہوتی۔ بعض لوگ کہتے ہیں وہ تھینکس بھی تو کہہ سکتے ہیں نا تھینک یو بھی تو کہہ سکتے ہیں نا۔ کیا اس کی گنجائش ہے؟ تو ہم انگریزی کے تو خلاف نہیں ہیں نا۔ انگریزی تو پڑھاتے ہیں بچوں کو۔ انگریز پڑھائیں انگریزی خوب پڑھائیں بچوں کو۔ کسی نے منع نہیں کیا۔ بس تھوڑا سا ایک جملہ ذہن میں رکھ لیجیے کہ انگریزی خوب اچھی طرح پڑھائیں لیکن انگریز نہ بنائیں۔ مسلمان بنائے۔ بس اتنی سی بات ہے۔ پھر انگریزی پڑھائیں دبا کے۔ تھینک یو میں اور جزاک اللہ میں اپ جو مرضی فرق بیان کرتے رہیں۔ ایک فرق تو اپ کو کھلی انکھوں سے نظر ائے گا نا کہ تھینک یو کہنے میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا جزاک اللہ کہنے میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ اتنا سا فرق تو ہے نا۔ جزاک اللہ کہنے کی عادت ڈالیں۔ اگرچہ تھینک یو سے شکریہ تو ادا ہو جائے گا۔ ہاں۔ تھینک یو سے شکریہ ادا ہو جائے گا تھینکس سے شکریہ ادا ہو جائے گا۔ لیکن اللہ کا ذکر نہیں ہوگا۔ اور جب یہ جزاک اللہ کہے گا تو اللہ کا ذکر بھی ہوگا ان شاء اللہ۔
[13:43]ایک تو اس چیز کی عادت ڈالی جائے بچوں کو بھی نئی نسل کو۔ کہ وہ اللہ کا بھی شکر ادا کرے اور انسانوں کا بھی شکر ادا کرے۔ ماں باپ کا بھی شکر ادا کرے۔ اللہ نے حکم دیا انشکر لی ولوالدی کہ میرا بھی شکر ادا کرو ماں باپ کا بھی شکر ادا کرو۔ پھر یہ ناشکرا نہیں ہوگا بڑے ہو کر۔ اور جب یہ انسان اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو اللہ نے قران حکیم میں وعدہ کیا ہے لئن شکرتم لازیدنکم۔ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے میں اور زیادہ دوں گا۔ ولئن کفرتم ان عذابی لشدید اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ وہ پتہ ہے عذاب کیا ہوتا ہے؟ سب نعمتیں ہوتے ہوئے بھی یہ ناشکرا انسان بے چین ہوتا ہے بے سکون ہوتا ہے اس کو خوشی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ سب چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں مولا میرے پاس سب کچھ ہے۔ فیکٹریاں بھی ہیں گاڑی بھی ہے گھر بھی ہے بچے بھی بڑے قابل بچے ہیں پتہ نہیں کیا میرے اندر سے خوشی کا احساس ختم ہو گیا۔ عام جملہ ہے لوگوں کا۔ وہ لوگ جو انزائیٹی میں مبتلا ہیں۔ بے چینی میں، پریشانی میں مبتلا ہے۔ یاد رکھ لیجیے گا بے چینی میں، اضطراب میں، انزائیٹی میں ہمیشہ ناشکرا شخص مبتلا ہوتا ہے۔ ماہر نفسیات نے لکھا ہے۔ اور جو شکر گزار بندہ ہوتا ہے وہ انزائیٹی میں مبتلا نہیں ہوتا وہ تو ہر وقت کہتا ہے یا اللہ تیرا شکر۔ انزائیٹی میں کون مبتلا ہوتا ہے جو ہائے ہائے کرتا ہے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ناشکرا۔ پریشان۔ تو یہ انسان زبان سے شکر ادا کرے۔
[15:23]اللہ کا شکر ادا کرے۔ الحمدللہ کہے۔ بندوں کا شکر ادا کرے۔ جزاک اللہ کہے۔ پھر انسان اپنے عمل سے شکر ادا کرے۔
[15:37]عمل سے شکر ادا کریں۔
[15:43]اللہ نے جو چیز دی ہے اس کو استعمال کریں۔ یہ عمل سے شکر ہے۔ اللہ نے کوئی چیز دی ہے اس کا اس کو استعمال کیجیے۔ پڑی ہوئی ہے چیز پڑی رہتی ہے پرانی ہو جاتی ہے ڈت ہو جاتی ہے ضائع ہو جاتی ہے۔ استعمال نہیں کرتے۔ اللہ نے نعمتیں دی ہیں اس کو استعمال کیجیے۔ اللہ نعمتیں دے۔ بندہ ان نعمتوں کو استعمال کرے اللہ خوش ہوتا ہے۔ یہ شکر کا انداز ہے۔ وہ ایک صحابی ائے نا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تو ان کے کپڑے کچھ میلے تھے کچھ بال بکھرے ہوئے تھے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان صحابی سے اپ کے پاس کچھ مال ہے؟ تو صحابی نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بکریاں بھی ہیں اونٹ بھی ہیں اور میرا باغ بھی ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جائیے اپنی ذرا حالت تبدیل کر کے ائیے۔ اور پھر جملہ سننے والا ہے۔ ان اللہ تعالی یحب ان یر انعم علی عبد ان اللہ تعالی یحب ان یر انعم علی عبد اللہ تعالی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے بندے پر اپنی دی ہوئی نعمت کا اثر دیکھیں۔
[16:53]یہ بندہ اس نعمت کو استعمال کر رہا ہے نا۔ یہ بھی ایک شکر کا انداز ہوتا ہے۔ اپ کسی کو نعمت دیں۔ اور پھر وہ استعمال کرے۔ بہت خوشی ہوتی ہے۔ یہ اپ حضرات میں سے جتنے بزرگ ہیں نا وہ ایک اس بات کو ذرا سمجھیں گے فورا۔ یہ جو نوجوان نسل ہے یہ نہیں سمجھے گی جو میں بات کروں گا۔ وجہ بھی بتاؤں گا۔ جتنے بزرگ بیٹھے ہیں نا ان کو یاد ہوگا کہ بچپن میں ان کی والدہ کبھی کہتی تھی کہ اج خالہ کے ہاں جانا ہے۔ خالہ کے ہاں جانا ہے۔ ماں کہتی تھی میں نے اپنی بہن کے ہاں۔ دیکھو وہ جو اپ کی خالہ نے جو پچھلی عید پہ سوٹ دیا تھا نا وہ پہن کے جاؤ خالہ کے ہاں۔ کچھ بات سمجھ میں ا رہی ہوگی۔ وہ جو خالہ نے تمہیں سوٹ دیا تھا نا وہ پہن کے جاؤ۔ تو ہم پہن کے جاتے تھے۔ اس لیے کہ خالہ دیکھ کر خوش ہوتی تھی۔ اج بھی اپ کے ساتھ ہوتا ہے یہ۔ اپ کسی کو سوٹ دے نا اور وہ سلوا کے پہنے اور اپ کو نظر ائے کہ اس نے سوٹ پہنا ہے بڑا خوش ہوتا ہے دیکھو میں نے ایک چیز دی تھی اس کو یہ استعمال کر رہا ہے۔ اور اگر اپ کو کوئی سوٹ دے نا اور اپ چپ کر کے اگے کسی کو چلا دیں اور اس بندے کو پتہ چل جائے کہ اس نے یہ سوٹ اگے چلا دیا ہے اس کا دل ٹوٹتا ہے اچھا میں نے دیا تھا اپ کو اپ نے پھر اگے چلا دیا۔ اور اپ استعمال کریں تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور میں نے کہا دور جدید کے بچے نہیں سمجھیں گے ان کی تربیت ہم نے کچھ اور کی ہے۔ ان بچوں کو کہیں نا دیکھو خالہ نے جو سوٹ دیا تھا وہ پہن کے جاؤ خالہ دیکھ کر خوش ہوگی تو یہ نوجوان بچے بچیاں پتہ کیا کہتے ہیں؟ نہیں نہیں وہ نہیں پہن کے جانا خالہ کہیں گی شاید ان کے پاس یہی کپڑے اور ہیں ہی نہیں ہم دیتے ہیں تو یہ پہنتے ہیں۔ دل کو الٹ ہو گیا۔ دل کو الٹ ہو گیا سوچ بدل گئی۔ سوچ بدل گئی۔ نہیں تربیت ہو کہ بیٹا نعمت استعمال کرو۔ اللہ اس سے خوش ہوتا ہے۔ شکر کرنے کا عمل ہی دوسرا طریقہ۔ ایک یہ کہ اللہ نے جو نعمت دی ہے اس کو استعمال کریں۔ نمبر دو بڑے غور سے سننے والی بات اللہ نعمت دے اس کو ڈھنگ سے استعمال کریں۔ بے ڈھنگے طریقے سے استعمال نہ کرے۔ اپ اپنے کسی بھتیجے بھانجے کو موبائل دیتے ہیں نا اج کل بڑی نعمت سمجھی جاتی ہے نا یہ۔ دور جدید کی۔ موبائل دیں۔ اور ایک دو ہفتے کے بعد دیکھیں تو وہ موبائل کے اوپر سکریچ پڑے ہوئے ہوں اور اس کے شیشہ بھی ٹوٹا ہوا ہے اس کا عجیب سا ہولیا بنایا ہوا ہے اور ادھر پڑا ہوا ہے تو اپ کا دل ٹوٹتا ہے اتنا اچھا موبائل دیا ہے اس اللہ کے بندے نے اس کو ڈھنگ سے استعمال نہیں کیا۔ لیکن اپ کسی بھانجے بھتیجے کو موبائل دے اور پھر جناب چھ مہینے سال کے بعد دیکھیں نیا موبائل ایک سکریچ بھی پڑا ہوا استعمال بھی کر رہا ہے اپ خوش ہوتے ہیں اپ کہتے ہیں بڑا ہم بڑا سنبھال کے رکھا ہے اس نے استعمال بھی کر رہا ہے۔ اللہ نعمتیں دے۔ یہ بندہ ان نعمتوں کو ڈھنگ سے استعمال کرے یہ بھی شکر کا طریقہ ہے۔ اب اس جملے کو اگے جملے کو غور سے سنیے گا۔ اللہ نے انکھیں دی ہیں نا۔ یہ اللہ کی نعمت ہے۔ اس کو ذرا ڈھنگ سے بندہ استعمال کر لے۔ بے ڈھنگے طریقے سے استعمال نہ کرے۔ اللہ ناراض ہوگا۔ اللہ نے کہا یہ نہ دیکھو یہ نہ دیکھو یہ نہ دیکھو غیر محرم کو نہ دیکھو فلاں نہ دیکھو ہاں یہ بندہ انکھوں کو بھی ڈھنگے طریقے سے استعمال کرتا ہے اللہ ناراض ہو جاتا ہے میں نے اتنی خوبصورت اچھی انکھیں دی ہیں یہ بندہ اس کو کیسے استعمال کرتا ہے۔ اللہ نے زبان دی ہے نعمت۔ اس کو بندہ ڈھنگ سے استعمال کرے۔ اسے اللہ کا ذکر کرے۔ اسے اچھی باتیں لوگوں کو بتائیں۔ اس کو خیر کی بات خیر کی باتیں منہ سے نکالے۔ یہ کیا ہے؟ اسی زبان کو جھوٹ میں استعمال کر رہا ہے اسی زبان سے غیبت نکل رہی ہے اسی بات سے اسی سے تہمتے لگا رہا ہے اسی سے چغلیاں کر رہا ہے اسی سے دوسری کی بے عزتی کر رہا ہے اسی زبان سے گندا ہی استعمال ہے بے ڈھنگا ہی استعمال ہے زبان کا اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اللہ نے ابھی میں نے دو نعمتیں بتائیں باقی سب نعمتوں کو اپ سمجھ گئے۔ زبان بھی اللہ کی نعمت ہے انکھ بھی اللہ کی نعمت ہے اس کو ڈھنگ سے بندہ استعمال کرے یہ بھی شکر کا انداز ہے۔ اور اخری بات عرض کرنے لگا ہوں کہ یہ انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال کرے ڈھنگ سے استعمال کرے نمبر تین اللہ نے جو نعمتیں دی ہیں اس سے خلق خدا کو فائدہ پہنچائے۔ یہ بھی شکر کا انداز ہے۔ وہ حدیث قدسی بہت مشہور حدیث ہے بڑی مسترد حدیث ہے حدیث قدسی۔ لیکن اس کا مضمون ذرا بڑا پیچیدہ قسم کا ہے۔ اس کو ذرا سمجھ لیجیے گا حوصلہ کر کے نا۔ حدیث قدسی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا۔ کہ اللہ تعالی نے فرمایا۔
[22:06]اے بندے میں بیمار تھا۔ تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔ اللہ کہتا ہے۔ حدیث قدسی ہے۔ اے بندے میں بیمار تھا تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔ اللہ کہتا ہے اے میرے بندے میں بھوکا تھا۔ تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ اے بندے میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔ یہ بندہ کہے گا اے اللہ تو تو نہ بیمار ہو سکتا ہے نہ کھانا کھاتا ہے نہ پانی پیاس لگتی ہے تجھے۔ اللہ کہے گا ہاں وہ فلاں بندہ بیمار تھا نا اگر تو بیمار پرسی کے لیے اتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ وہ فلاں بندہ بھوکا تھا نا اگر تو اس کو کھانا کھلاتا نا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ وہ فلاں بندہ پیاسا تھا نا اگر تو اس کی پیاس بجھاتا نا تو تو مجھے اپنے اس کے پاس پاتا۔ اب حدیث قدسی سمجھ میں اتی ہے۔ یہ انسان جس کو اللہ نے نعمتیں دی ہوں نا یہ اس سے خلق خدا کو اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچائے۔ اللہ راضی ہوتا ہے۔ اللہ خوش ہوتا ہے۔ اور پھر یہ انسان کو روزے کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب باتیں سکھائیں۔ یہ انسان روزے کے اندر کھانا پینا چھوڑتا ہے۔ دیکھا رمضان کی ایت ہے اور اخر میں اللہ کہہ رہا ہے لعلکم تشکرون تاکہ تم شکر گزار بندے بن جاؤ۔ اللہ نے روزہ رکھنے کو کہا۔ یہ اللہ کے حکم کے تحت وہ چیز جو کھانا پینا جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ اللہ کی محبت میں ا کر اللہ کے کہنے کے مطابق پورا مہینہ الحمدللہ اس نے کھانا پینا چھوڑے رکھا۔ حلال کھانا پینا چھوڑے رکھا۔ اس بندے نے جب یہ افطار کے وقت ایک کھجور کھاتا ہے پانی پیتا ہے۔ افطار کے وقت اس بندے کو جو خوشی ہوتی ہے نا سارے جسم میں شکر کی ایک لہر دوڑتی ہے۔ ہر ایک کے ساتھ ہوا ہے اس رمضان میں۔ افطار کے وقت یہ افطار کے وقت جو خوشی ہوتی ہے نا یہ کھانا کھلنے کی خوشی نہیں ہوتی۔ وہ جیسے ولیموں کے اندر ہوتا ہے۔ نہ بالکل نہیں یہ کچھ اور ہے۔ یہ تو صرف ایک گھونٹ پانی پیتا ہے اور ایک کھجور کھاتا ہے اور اس کے سارے جسم کے اندر سرشاری ا جاتی ہے۔ کمال ہے۔ یہ پتہ ہے کیا چیز ہے؟ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی جامع ترمذی کی حدیث بہت مستند حدیث۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھیے گا بندہ جب شکر گزار ہوتا ہے نا اس کی کیفیات کیسی ہوتی ہیں؟ اور اللہ اس کو انعام پھر کیا دیتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا للصائم فرحتان۔ روزے دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں۔ جب بندہ شکر گزار بنتا ہے نا
[25:09]تو اس کی دو خوشیاں۔ فرحۃ عند فطرہ ایک خوشی اس کو افطار کے وقت ہوتی ہے۔ وہ فرحۃ عند لقاء ربہ اور ایک خوشی اس کو ہوگی روزے دار کو اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ کس خوشی کو کس خوشی کے ساتھ ذکر کیا جا رہا ہے اس حدیث میں ارشاد نبوی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا للصائم فرحتان۔ روزے دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں جب بندہ شکر گزار بنتا ہے نا تو اس کی دو خوشیاں۔ فرحۃ عند فطرہ ایک خوشی اس کو افطار کے وقت ہوتی ہے۔ وہ فرحۃ عند لقاء ربہ اور ایک خوشی اس کو ہوگی روزے دار کو اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔
[25:57]اب حدیث قدسی سمجھ میں اتی ہے۔ یہ انسان اللہ جس کو اللہ نے نعمتیں دی ہو نا یہ اس سے خلق خدا کو اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچائے۔ اللہ راضی ہوتا ہے۔ اللہ خوش ہوتا ہے۔ اور پھر یہ انسان کو روزے کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب باتیں سکھائیں۔ یہ انسان روزے کے اندر کھانا پینا چھوڑتا ہے۔ دیکھا رمضان کی ایت ہے اور اخر میں اللہ کہہ رہا ہے لعلکم تشکرون تاکہ تم شکر گزار بندے بن جاؤ۔ اللہ نے روزہ رکھنے کو کہا یہ اللہ کے حکم کے تحت وہ چیز جو کھانا پینا جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ اللہ کی محبت میں ا کر اللہ کے کہنے کے مطابق پورا مہینہ الحمدللہ اس نے کھانا پینا چھوڑے رکھا۔ حلال کھانا پینا چھوڑے رکھا۔ اس بندے نے جب یہ افطار کے وقت ایک کھجور کھاتا ہے پانی پیتا ہے۔ افطار کے وقت اس بندے کو جو خوشی ہوتی ہے نا سارے جسم میں شکر کی ایک لہر دوڑتی ہے۔ ہر ایک کے ساتھ ہوا ہے اس رمضان میں۔ افطار کے وقت یہ افطار کے وقت جو خوشی ہوتی ہے نا یہ کھانا کھلنے کی خوشی نہیں ہوتی۔ وہ جیسے ولیموں کے اندر ہوتا ہے۔ نہ بالکل نہیں یہ کچھ اور ہے۔ یہ تو صرف ایک گھونٹ پانی پیتا ہے اور ایک کھجور کھاتا ہے اور اس کے سارے جسم کے اندر سرشاری ا جاتی ہے۔ کمال ہے۔
[27:35]یہ پتہ ہے کیا چیز ہے؟ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی جامع ترمذی کی حدیث بہت مستند حدیث۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھیے گا بندہ جب شکر گزار ہوتا ہے نا اس کی کیفیات کیسی ہوتی ہیں؟ اور اللہ اس کو انعام پھر کیا دیتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا للصائم فرحتان۔ روزے دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں۔ جب بندہ شکر گزار بنتا ہے نا تو اس کی دو خوشیاں۔ فرحۃ عند فطرہ ایک خوشی اس کو افطار کے وقت ہوتی ہے۔ وہ فرحۃ عند لقاء ربہ اور ایک خوشی اس کو ہوگی روزے دار کو اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ اب حدیث قدسی سمجھ میں اتی ہے۔ یہ انسان اللہ جس کو اللہ نے نعمتیں دی ہو نا یہ اس سے خلق خدا کو اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچائے۔ اللہ راضی ہوتا ہے۔ اللہ خوش ہوتا ہے۔ اور پھر یہ انسان کو روزے کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب باتیں سکھائیں۔



