[0:00]فیصل شفقت بھٹی سرگودھا کا وہ ڈان کہ جس نے متعدد قتل کیے گرفتار ایک دفعہ بھی نہیں ہوا۔ فیصل شفقت بھٹی سے پولیس ہی خوفزدہ نہیں تھی بیوروکریسی بھی ڈرتی تھی۔ اس نے مجموعی طور پر 14 افراد کو قتل کیا اپنے کسی دشمن کو چھوڑا نہیں دو وجوہات تھیں۔ ایک جس نے اس کی مخبری کی۔ دوسرا جس نے اس کے خلاف توہین امیز جملے کچھ کہے۔ جھنگ سے بھکر تک جتنے معروف مشہور شوٹر تھے وہ سب اس نے رکھے ہوئے تھے۔ پنجاب کے وڈیروں کو وہ یہ شوٹر سپلائی کرتا تھا۔ خواجہ تعریف گلشن المعروف ٹیفی بھٹ۔ اس کے بعد ہم نے دوسرا بڑا گینگسٹر مارا ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ یہ جو فیصل شفقت بھٹی ہے اس کو بھی ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ ناظرین جرائم کی دنیا میں کچھ نام ایسے سامنے اچانک آ جاتے ہیں اور پھر کئی سوال چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ خبروں میں رہتے ہیں اور ان کی دہشت اور خوف عوام کے سامنے آ جاتا ہے ایساہی ایک نام ہے فیصل شفقت بھٹی۔ جس کا تعلق سرگودھا سے تھا لیکن اس کے خوف لاہور نہیں بلکہ پورے پاکستان میں تھا۔ کون تھا فیصل شفقت بھٹی کتنے قتل کیے اور آخر اس کا انجام کیا ہوا اس پر بات کریں گے ہمارے ساتھ موجود ہیں نعیم مصطفیٰ صاحب۔
[1:11]اچھا نعیم صاحب فیصل شفقت بھٹی سرگودھا کا وہ ڈان کہ جس نے متعدد قتل کیے گرفتار ایک دفعہ بھی نہیں ہوا اور وہ صلح صفائی کے لیے دباؤ ڈالتا تھا۔ وہ مارا گیا۔ سی سی ڈی نے ایک اور مقابلہ کیا اور ایک اور ناسور سے جان چھوٹی۔ کیا کہنا درست ہو گا؟ سی سی ڈی کا یہ کلیم ہے کہ خواجہ تعریف گلشن المعروف ٹیفی بھٹ۔ اس کے بعد ہم نے دوسرا بڑا گینگسٹر مارا ہے۔ ان کے بقول خواجہ تعری ف گلشن کے حوالے سے جتنے جرنلسٹ یو ٹیوبرز میڈیا انفلنسرز دانشور تجزیہ کار تبصرہ نگار کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ سی سی ڈی اس طرح کا ایکٹ کر سکتی ہے۔ جو تعریف گلشن کو مار کے کیا ممکن نہیں تھا۔ اسی طرح کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ یہ جو فیصل شفقت بھٹی ہے اس کو بھی ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس نے خود فیصل نے بیرون ملک روانگی سے قبل ایک ویڈیو میں یہ کہا تھا کہ میری اپیل ہے کہ میرے ساتھ کوئی ایسا ایکٹ نہ کیا جائے جو ماورا عدالت ہو۔ یہ اس نے خود کہا تھا۔ لیکن اہل سرگودھا یہ کہتے ہیں اس کے اقربا بھی خاص کر فیصل شفقت بھٹی کے کہ فیصل شفقت بھٹی سے پولیس ہی خوفزدہ نہیں تھی۔
[2:34]بیوروکریسی بھی ڈرتی تھی۔ کئی اعلیٰ افسران جو بڑے بڑے مناصب پر فائز ہیں۔ وہ اس سے خوفزدہ تھے۔ یہ خوف کی علامت تھا کیوں؟ ہاں اس کی وجہ کیا ہے؟ کہاں سے یہ منتقم مزاج تھا۔ انتقام لیتا تھا جس شخص کو ٹارگٹ کر لیتا بالخصوص دو وجوہات کی بنا پہ۔ کہ اس نے میری مخبری کی یا اس نے میرے خلاف وہ کہتے ہیں توہین امیز جملے کچھ کہے۔ اچھا یہ 97 میں ایا کرائم میں جب اس کے والد کا مرڈر ہوا۔ اس کے بعد اس نے کلیار برادری کے تقریبا سات لوگ مار دیے۔ کلیار برادری کے آٹھ اور پانچ دوسرے خاندان کے۔ نواز وغیرہ نواز فقیر وغیرہ یہ جس کی مدیت میں پرچہ تھا جس پہ مدیا بھی پیش ہوئی۔ جی۔ اس نے مجموعی طور پر 14 افراد کو قتل کیا۔ سی سی ڈی کے بقول میں ساری رپورٹ سی سی ڈی کی بتا رہا ہوں آپ کو۔ آج ہی جو ریجنل سربراہ ہیں سی سی ڈی لاہور کے ریجنل سربراہ ایس ایس پی آفتاب پھلروان انہوں نے نیوز کانفرنس کی ہے۔
[3:36]اس میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس میں یہی لب و لباب ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ خواجہ تعریف گلشن کے بعد ہم نے بڑا ایک دوسرا پل صراط عبور کر لیا ہے۔ فیصل شفقت بھٹی کو ٹھکانے لگا کے۔ اب فیصل شفقت بھٹی کے بارے میں ایک بات بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ 14 قتل اس پہ جتنی تفتیشیں ہیں صفائی مثل پر وہ ثابت ہوئے ہیں۔
[4:08]14 قتل پہلے 13 تھے اب 14 یہ جو آخری بتایا ہے ایس ایس پی صاحب نے وہ 14 کہہ رہے ہیں۔ ان 14 قتلوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے۔ وہ ہوا ہو جب یہ پاکستان میں یا کہیں اور موجود ہو۔ پاکستان اپنے شہر سرگودھا کے علاوہ کسی اور شہر میں بھی نہیں تھا۔ جتنے اس نے قتل کیے یا جو اس پہ پولیس نے ڈالے یا ثابت ہوئے جو بھی ہٹ کہے آپ جتنے میں ملزم ہے یہ۔ دو طرح کا ملزم ہے کسی میں 302 کا ہے کسی میں 109 کا ہے۔ ایک مقدمے میں 302 میں تھا 109 میں تھا بعد میں 302۔ یعنی وہ شوٹر کے جائے وقوعہ پر۔ یہ بیرون ملک ہوتا تھا۔ جانے سے پہلے اب یہ جو فقیر کے خاندان کا آخری جو بچہ نوجوان نواز فقیر کے خاندان کا اس کا بھی قتل ہونے کے بعد یہ باہر دو دن بعد قتل ہوا۔ یہ دو دن پہلے چلا گیا دو دن بعد قتل ہوتا ہے۔ یہ جہاں بھی جاتا تھا نا یہ جاتا تھا اپنی علی بھائی اپنا ڈیفنس بنانے کے لیے۔ کہ جب میں قابو آؤں پولیس کے تو مجھے یہ رعایت مل جائے سہولت مل جائے اس علی بھائی علی بھائی کہتے ہیں اپنا ڈیفنس دفاع اپنے دفاع کے لیے یہ کری ایٹ کرتا تھا۔ کہ میں تو جناب چیک کریں میری فلاں تاریخ کی ٹکٹ تھی ایگزٹ ہوا ہوں انٹر ہوا ہوں دوبارہ فلاں تاریخ کو آیا ہوں میرا ایسے قتل سے تعلق نہیں ہے۔ میں تو یہاں موجود نہیں تھا۔ اسی بنا پہ اس نے یہ آخری قتل جو تھا 14واں جسے کہہ رہے ہیں وہ۔ اس میں بھی اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنا تھا۔ عدالت میں جا کے اور یہ جملہ اپنی ویڈیو میں اس نے کہا ہے۔ جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے بڑے پیمانے پہ اس میں اس نے جملہ کہا فیصل شفقت بھٹی نے کہ میں پاکستان آ رہا ہوں کسی نے مجھے نہیں گرفتار کیا خود اپنی مرضی سے آ رہا ہوں۔ اور یہاں آ کے اس کے بیٹے نے یہ کلیم کیا بقول ایس ایس پی بیٹے نے اس کی ویڈیو بھی وائرل ہے۔ اس نے یہ کلیم کیا کہ میرے والد نے پروٹیکٹو بیل کرائی تھی۔ بیرون ملک سے جب چل رہے تھے وہاں سے حفاظتی بیل ضمانت حفاظتی ضمانت لے کے پاکستان آئے تھے اور متعلقہ عدالت میں پیش ہو کے یہاں پاکستان کنسرنٹ کوٹ جو ہے۔ اس میں اپنی بے گناہی ثابت کرنی تھی یا۔ یعنی سرنڈر کرنا تھا ان کو قانون کے سامنے سرنڈر کرنا تھا قانون کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کرنی تھی جو بھی آپ کہیں۔ یہ اپنی جگہ پہ ہے۔ لیکن ایک بات ثابت ہے کہ نہایت ہوشیار چلا اکھ ادمی تھا۔ اچھا اب کرتا کیا تھا یہ؟ اچھا دشمن داری کلیاروں سے تھی۔ پھر نواز فقیر۔ ہاں ان کے ساتھ ہو گئی۔ دو خاندانوں سے۔ اس نے اپنے کسی دشمن کو پولیس والا بھی مارتا تھا یہ۔ اپنے کسی دشمن کو چھوڑا نہیں دو بنا پہ دو وجوہات تھیں۔ ایک جس نے اس کی مخبری کی۔ دوسرا جس نے اس کے خلاف وہ کہتے توہین امیز جملے کچھ کہے۔
[7:11]تیسری بات اہم یہ گن پوائنٹ پہ قتل کرتا یا کرواتا تھا اور گن پوائنٹ پہ ہی صلح کرتا تھا۔ ہاں مسلح لوگوں کو بھیج دیتا تھا جیسے وہ مدیا کہتی ہیں ہاں۔ نہیں ساتھ پیسے بھی 50 لاکھ روپے لے کے آتا تھا۔ 50 لاکھ روپے بھی لے کے ائے۔ اچھا اب بقول ایس ایس پی 50 لاکھ بھی لے کے گئے۔ ساتھ کہ یہ پکڑو پیسے اور اگر نہیں لو گے انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا جی ہم اپنے سارا کچھ خاندان تباہ ہو گیا۔ ہم کس بات کے پیسے لیں؟ کس بات کا خون بات دیت کیا؟ ہم تو رہے ہی نہیں ہمارا کچھ رہا ہی نہیں ہاں دو بھتیجے بھی مارے گئے بھانجے اس کے اور انہوں نے کہا ہم تو ختم ہو گئے۔ لیکن خون کا سودا نہیں کریں گے۔ انہوں نے انکار کیا تو انہوں نے بندوقیں تان لیں۔ یہ عجیب طرح کی صلح ہے۔ یہ دیت کا قصاص کا نیا انداز۔ کہ مارے کو مارے شاہ مدار۔ کہ جو پہلے بیچارے اس سٹیج پہ نہج پہ پہنچ گئے ہیں۔ کچھ رہا نہیں ان کا۔ ان کو ایک ہاتھ میں پتھر بھی ہے اور ایک ہاتھ میں پھول بھی ہے۔ ہاں پھول نہیں لیں گے تو پتھر ماریں گے۔ پھول پکڑ لیں ہماری بات مان لیں۔ اور لکھ دیں۔ تحریر تو کلیاروں سے بھی تو ایسی ہی صلح کی تھی نا اس کا طوطی جب بولنے لگا کلیاروں کو جب مارا تو اس کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کا خاندان تو ختم ہو گیا۔ ابھی بھی ٹائم ہے صلح کر لو۔ پھر انہوں نے صلح مجبوری میں کی کہ ہمارا خاندان تو بچا نہیں ہے۔ اور فیصل بھائی صرف یہی نہیں ہے۔ کلیاروں نے اپنے بندے بھی مروائے اور معافی بھی مانگی۔ اچھا جا کے فیصل بھٹی سے معافی مانگ۔ فیصل بھٹی۔ اپ نے سنی نہیں نیوز کانفرنس پھلروان صاحب کی۔ انہوں نے کہا جی کہ ایک وہی قتل کرے وہی لے ثواب الٹا قتل بھی کیا معافی بھی منوا لی۔ کہتے ہیں کہ جب کلیار برادری کے اتنے قتل ہونے کے بعد جب وہ جا کے ان سے معافی مانگتے ہیں فیصل شفقت بھٹی سے تو فیصل شفقت بھٹی پھر نہیں رکتا پھر خوفزدہ نہیں ہوتا اور پھر پورا علاقہ اس سے خوف کھاتا ہے۔ بھائی پوری دنیا میں یہ اصول بن گیا ہے کہ ڈسپیوٹڈ پراپرٹی 50 پیسے میں لی جاتی ہے۔ یہ 15 سے 25 فیصد پرسنٹ کے درمیان لیتا تھا۔ کوئی پراپرٹی دو 25 پیسے میں ڈسپیوٹڈ ہے یہ جانے اس کا کام جانے۔ 15 پیسے سے شروع ہوتا تھا 25 پیسے لیتا تھا۔ ایک بات دوسری اہم بات۔ ساڑھے چار مرلے کا کمرشل پلاٹ وہ نواز بابا کا جو پھڈا پڑا تھا۔ اس چار مرلے کے پلاٹ پہ اس نے بابے کو دھمکایا کہ یوں کر دوں گا فلاں کر دوں گا۔ اس کا ایک بندہ قتل بھی کر دیا۔ یہ پچھلے الیکشن کی بات ہے۔ یہ جو ابھی الیکشن ہوا ہے جس میں نون لیگ اور پے اوز پارٹی ا تہہ کے ساتھ۔ موجودہ ریجیم کے بنیاد جو بنا تھا۔ اسی الیکشن میں بابے نے ایک نظم لکھ دی اس کے والد کے خلاف۔ شفقت بھٹی کے خلاف۔ شفقت بھٹی کے خلاف اور اس میں فیصل شفقت بھٹی بھی ہے۔ ایک دو مصرے ڈال دیے اب وہ بڑا پڑھا لکھا خاندان ہے یہ بات ذہن میں رکھیے گا۔ یہ جو نواز فقیر وغیرہ یہ وہ خاندان بتایا ان کے دشمن دار کلیار بھی ایون یہ سارے بڑے پڑھے لکھے لوگ تھے اور وہ شاعر ادیب قلمکار۔ اس نے ایک نظم لکھ دی۔ جس میں تین چار مصرے اس کو گراں گزرے۔ فیصل شفقت بھٹی نے کہا کہ میرے باپ کو بھی معطون کیا اہانت کی اس کی توہین کی۔ اور مجھے بھی رگیدا ہے اس میں۔ اب میں اس شاعری کا بدلہ دوں گا۔ ایک اور جملہ سن لیں۔ اہل سرگودھا یہ کہتے ہیں کہ فیصل شفقت بھٹی خوف کی خطر کی علامت تھا صرف سرگودھا ریجن کے اضلاع جو ہیں نا سرگودھا، خوشاب، جوہر آباد، منڈی بہاؤالدین جو بھی گد گد وہ۔ اب منڈی بھی شامل کر لیں نہر سے آگے وہاں جاتی ہے۔ اب وہ گجرات میں اتی ہے لیکن بہرحال اس کی جو منڈی تو ڈسٹرکٹ ہے ایک۔ حدود ضلع ہے مطلب فیصل فیصل اباد اپنا سرگودھا ڈویژن سرگودھا ڈویژن کے جو حصے ہیں اور گرد و نوا کے ہاں بالکل۔ ان علاقوں کی پولیس اس کے گھر سے قریب سے گزرنے سے ڈرتی تھی۔ یہ سرگودھا کے لوگوں نے مجھے خود بتایا ہے۔ اس سے ہٹ کے اس سے بات بات کریں گے کہ پولیس مقابلہ کیا ہوا۔ آپ یہ سمجھیں کہ فیصل شفقت بھٹی علامت تھا خوف کی۔ کیسے؟ اس نے کہا کہ میرے والد کے خلاف نظم لکھی مجھ پہ جو ہے نا طعن و تشنیع کیا۔ اب میں اسے نہیں چھوڑوں گا ایک جملہ اور سن لیں جو اس کے ایک بہت بڑے قریبی شخص نے بتایا مجھے ایک وکیل صاحب نے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ فیصل شفقت بھٹی کسی سے زبان سے گفتگو نہیں کرتا تھا۔ بندوق سے۔ اچھا جتنی گولی سے گفتگو کرتا تھا۔ اور اسلحہ بھی ناجائز ہوتا تھا اس کے پاس۔ اس نے جملہ کہا وکیل صاحب پنجابی ہیں سرگودھا کے وہ کہتے ہیں کہ پتر گال گل گل ہور چیز گال ہور چیز گولی تیسری چیز۔ یہ گال کی بجائے گولی اور گال۔ ان کا استعمال کرتا تھا۔ انحصار کرتا تھا اس نے اس نے بابا جی جو نظم تھی۔ ان سے کہا جی کہ ہوشیار ہو جاؤ میں بدلہ لوں گا۔ اب نظم لکھ دی اس کو اگر برداشت تحمل ہوتا اور میں ہوتا ان کی جگہ پہ تو میں اس پہ انجوائے کرتا اس کو کہ یار بھلے یہ ہجو ہے ہجو کہتے ہیں اس کو۔ اس قسم کی شاعری کو ہجو کہتے ہیں۔ ہجو گوئی۔ میں کہتا کہ بھلا ہجو ہے بھلے میرے ہجو ہے۔ مجھ پہ تنقید کی ہے۔ میرا تمسخر اڑایا کچھ بھی کیا ہے۔
[12:38]لیکن مجھ کے میرا نام لے کے شاعری تو کی نا۔ مجھے ریفر تو کیا۔ یعنی آپ کہتے ہیں کہ ف ف فیصل شوکت بھٹی کو یہ پوزیٹو لینا چاہیے تھا جو شاعری کی تھی۔ کوئی بھی پڑھا لکھا اچھا سمجھدار شخص ہو قانون پسند ہو باشعور ہو۔ لیکن وہ اس میں شاعری میں بتا رہے ہیں کہ یہ جو پلاٹ تھا اس پہ اس نے قبضہ کیا وہ ساری کتھا سنا رہے ہیں اس میں ساری کہانی بتا رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ اتنے پیسوں میں مجھے پلاٹ دے دو ورنہ تیار ہو جاؤ۔ تو اور وہ پلاٹ بھی آپ بتا رہے ہیں چار ساڑھے چار مرلے کا تھا۔ ہاں چھوٹا پلاٹ تو اس کے تو اتنی زمین تھی تو یہ چار ساڑھے چار مرلے کا کیوں؟ بس یہی بات پولیس بتا رہی ہے لوکل پولیس سرگودھا پولیس بھی کہتی ہے۔ یہ علیحدہ گفتگو ہے بحث ہے۔ کہ لوکل پولیس پہلے خاموش رہتی ہے۔ جب سی سی ڈی ایکٹ کر لیتی ہے تو وہ بھی پکے تھانے دار بن جاتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے۔ اب وہ ایک صحافی نے سوال بھی کیا کہ آپ کے ساتھ سرگودھا پولیس نے تعاون کیا تھا تو اس نے کہا جو نواز فقیر کی بیٹی تھی کہ ہاں بالکل انہوں نے کیا تھا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تعاون کیا تھا تو پھر یہ آٹھ قتل وہ اور پھر سات ان کے قتل یہ کیسے ہو گئے؟ بھائی جب جیل میں جاتا تھا وہ اتنے قتل میں نامزد ہوتا تھا۔ 35 مقدمات وہ ہیں۔ 35۔ جو اس کے خلاف سنگین نوعیت کے ہیں قتل سمیت 302 سمیت۔ وہ 35 مقدمات میں ایک بندہ ملوث ہو جن میں 302 بھی شامل ہے۔ بھتا بھی اقوا برائے تاوان سارا کچھ اچھا اگر سنگین واقعات پولیس کہہ رہی ہے۔ سنگین واقعات میں ایک شخص تھا تو لوکل پولیس نے ایک دفعہ بھی اس کو ڈیٹین کیوں نہیں کروایا۔ پولیس کو یہ اختیار ہے کہ وہ ہوم سیکرٹری کو لکھے کہ اس کے اور کچھ نظر بندی کے احکامات جاری کر دے کہ جیل سے باہر آیا ہے۔ اور نہیں تو پھر س س تو آپ حفاظت خود اختیاری کہیں گے اس کو ہم ڈیفنس اس کی حفاظت۔ نہیں اس کا نام جو ہے وہ ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا تھا کہ باہر رہ۔ کچھ کرتے سو۔ انسدادی کاروائیاں 15 قسم کی ہیں۔ جو کر سکتی تھی سرگودھا پولیس۔ کیوں نہیں کیا ایک۔ اب یہ موقف کہ جی پولیس اس کے نام سے خوف کھاتی تھی تو پولیس کیا ہوئی۔ جس ادارے کو عوام کے تحفظ کی ذمہ داری دی گئی ہے وہ اتنی غیر محفوظ ہے کہ وہ ڈرتی ہے شفقت بھٹی سے یا اس کے بچے سے۔ کیوں ڈرتی ہے؟ وہ ڈرتی اس لیے ہے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے عدلیہ کے خوف کی وجہ سے۔ اس کے ڈر کی وجہ سے فیصل شفقت کے۔ اور یہ بھی پوسیبل ہے۔ کہ اس کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے تعاون کرتی ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے۔ پولیس پہ تو الزام اسی طرح کے ہیں نا۔ آپ یہ دیکھیں کہ اتنے جھگڑے کی زمینیں پورے فیصل آباد صرف فیصل آباد سرگودھا منڈی بہاؤالدین خوشاب جوہر آباد سون سکیسر۔ ان علاقوں میں وہ کہتا ہے یہ ذمہ داری کرتا تھا۔ اور جھگڑے کی زمین ہی لیتا تھا۔ ایک سودا اس نے وہ نہیں ظاہر ہے اپنا ٹکا اس کا وجک کا۔ اس کو کوئی پوچھتا نہیں تھا۔ اب جہاں یہ اطلاع آ جائے گی کہ فیصل شفقت بھٹی نے جگہ خرید لی بیانا کر لیا۔ اب وہاں پہ کون جائے گا اتنا اسلحہ اس کے پاس اس کی دشمنی۔ بس میں یہ کہہ رہا ہوں کہ کلیاروں اور بابا فقیر فیملی جو ہے۔ ان کے ساتھ جھگڑے جو تھے نا تنازعے وہ تھے تو پراپرٹی کا ہی۔ قبضہ کرتا تھا چھڑواتا تھا۔ یہ اپنی جگہ۔ پوری بیلٹ جھنگ سے بھکر تک یہ پولیس کی ا مال نامہ اس کا۔ جھنگ سے بھکر تک۔ جتنے معروف مشہور شوٹر تھے وہ سب اس نے رکھے ہوئے تھے۔ پولیس کے بقول سارے شوٹر کون شوٹر کسے کہتے ہیں؟ ظاہر ہے جو اجرتی قتل۔ ہاں۔ پیسے لے کے مارتے ہیں۔ ہاں۔ پنجاب کے وڈیروں کو وہ یہ شوٹر سپلائی کرتا تھا۔ پولیس کہہ رہی ہے۔ سرگودھا پولیس بھی کہہ رہی ہے سی سی ڈی بھی کہہ رہی ہے۔ اب ایک اور نئی بات کہ یہ بچ اس لیے جاتا تھا۔ پولیس کہتی ہے۔ بچ اس لیے جاتا تھا کہ اپنا ڈیفنس علی بھائی باہر جا کے طے کر لیتا تھا۔ آخری قتل جو 14واں ہے۔ 14ویں قتل میں پہلے 13 قتل تھے اب 14ویں نئی فہرست جاری کی ہے۔ ہاں جو اس کے دوست کو قتل کیا ہے۔ اس میں بھی یہ دو دن پہلے مطلب 26 کو چلا گیا 28 کو واقعہ ہو گیا۔ ایک سال گزر گیا اس کو۔ تو یہ اپنی ڈیفنس کی مطلب ہوشیار شاطر قبی تو تھا سخت گیر تھا متشدد تھا اسے ظالم جابر صفاک سب کہہ رہی ہے نا پولیس۔ سب کچھ تھا لیکن ان سب پہ بھاری اس کی ایک ہوشیاری تھی کہ چالاک اس قدر تھا کہ اپنے آپ کو قانون کی گرفت میں نہیں آنے دیتا تھا۔ اور میرا خیال ہے اسی زعم میں یہ واپس آیا ہے۔ میرا اندازہ اپنا یہ ہنچ ہے۔ کہ اسی زوم میں واپس آیا ہے۔ اگر وہ واپس نہ آتا تو لایا جا سکتا تھا وہاں پہ انٹرپول کا کوئی معاہدہ ہے ہمارے ساتھ۔ انٹرپول کا معاہدہ انٹرپول سے رابطہ ہو گیا تھا اس کا۔ اس کی صرف ساری ہاں ایکسٹرا ڈیشن کی۔ وزارت داخلہ نے خط لکھ دیا تھا انٹرپول کو اور انٹرپول اس کے پیچھے تھی میرا خیال ہے اس کو ڈیپورٹ کرنے کا آرڈر بھی ہوا تھا جس کی وجہ سے واپس آیا ہے۔ لیکن واپس آنے سے پہلے اس نے ایک ایئر پورٹ کی جو ویڈیو لگائی ہے کہ میں واپس آ رہا ہوں۔ اچھا اس میں تو بڑا مختلف ہے وہ پہلے جوانی کے عالم میں تو کچھ اور تھا بعض پولیٹیکل رہنماؤں کے ساتھ میاں شہباز شریف صاحب کے ساتھ بھی ایک پکچر ہے جو وائرل کی جا رہی ہے۔ اس طرح کے لوگ جو ہیں نا اچھا وہ میں سمجھتا ہوں کوئی اے ائی کے ساتھ ہے۔ وہ پکچر۔ اگر ہے بھی تو اس طرح کے لوگ کسی کو کیا پتا کہ یہ کریمنل ہے۔ نہیں نہیں نہیں نہیں نہیں اس سے ہٹ یہ بہت ہوشیار لوگ ہوتے ہیں۔ یہ ایسے ہی موٹا مارک کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ ہاں مل جاتے ہیں بالکل ایسے۔ اب شہباز شریف صاحب کو کیا پتا کہ ہاں یہ کون؟ انہیں کوئی تو نام یاد ہے۔ وہ تو جوانی میں ہے اس وقت شاید کوئی جس نے جرم نہیں کیا ہو گا یا پھر ہلکا پھلکا ہو گا کسی کو پتا نہیں ہو گا۔ بھائی ان لوگوں کی اگر اشرافیہ بڑے سیاستدان بیوروکریٹس پولیس کے اعلیٰ افسران ایون ہمارے عسکری اداروں کے کئی افسر ریٹائرڈ۔ وہ بھی ان کی سرپرستی کرتے دکھائی دیتے رہے ہیں ماضی میں اور میرا خیال ہے کہ یہ ایسی بات ہے۔ کہ جو اب ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اگر ان کی سرپرستی نہ کی جائے تو یہ اتنے ڈیر ڈیول نہیں ہو سکتے۔ یہ اتنے نڈر بے خوف جو ہے نا یہ اسی وجہ سے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے سرپرستوں کی تعداد بہت بڑی ہے۔ جو قانون سے ان کو بچا لیتی ہے بچتے یہ قانون کی پیچیدگیوں کو۔ پیچیدگیاں بھی ہیں مشکافیاں بھی ہیں۔ ہاں بالکل ایسے۔ ان کی وجہ سے بچتے ہیں لیکن سرپرستی بھی ایک بڑا اہم ایلیمنٹ ہے۔ اب پولیس جتنے مرضی آرگومنٹ دے سرگودھا پولیس میں نہیں مانتا اس بات کو۔ اب وہ جو ڈی پی اوز ہیں وہ ان کا پورا ریکارڈ کریمنل ریکارڈ جو ہے وہ دے رہے ہیں اس۔ لیکن اس سے پہلے کیا کیا پولیس نے اسے س۔ اس کے پہلے جو ڈی پی اوز تھے دیکھیں۔ اگر آپ نے جرم واقعی کم کرنا ہے۔ تو محض سی سی ڈی کی جو خون کی دیوار ہے جو رکاوٹ ہے۔ اس سے نہیں کنٹرول ہو گا۔ اگر جرم واقعی اپ نے کم دکھانا ہے تو اور بات ہے کم کرنا ہے تو اور بات ہے۔ پریکٹیکلی کم ہو۔ تو اس کے لیے آپ جو اس کے سرپرست رہے۔ جو اب نعرہ لگ رہا ہے۔ محفوظ پنجاب کا۔ تو واقعتا ان کو بھی تختہ دار پہ لٹکا دیں۔ نہیں تو اب سب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب اس کو اس کے پاس بیل موجود تھی جیسے اس کا بیٹا کہہ رہا ہے تو اس کے بعد سی سی ڈی نے یہ اقدام کیوں کیا؟ اب میرا خیال ہے سی سی ڈی کے شاید علم میں نہیں ہو گا۔ دیکھیں بیل اس نے کونسی بھیجی تھی متعلقہ لوگوں کو تو ساتھ ہی لے کے آ رہا تھا نا آرڈر بیل آرڈر۔ ہو سکتا ہے کہ سی سی ڈی بے خبر ہو لا علم ہو اس سے اس سے۔ کیونکہ سی سی ڈی نے اس پہ کمنٹ کوئی نہیں کیا۔ لیکن میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر فیصل شفقت بھٹی اتنا بڑا کریمنل تھا۔ جو ثابت ہو رہا ہے۔ اگر تھا تو یہ پریس کانفرنس ضروری نہیں تھی۔ یہ نیوز کانفرنس جو کی گئی۔ یہ ایک لاحاصل سی ہے۔ نہیں ہم ڈیفینسو دکھائی دے رہے ہیں اس میں۔ پولیس جو ہے نا پولیس کا ادارہ محکمہ اس نیوز کانفرنس میں ڈیفینسو ہو گیا دفاعی پوزیشن پہ آ گیا۔ ہاں یہ سوشل میڈیا پہ ہائپ کرئیٹ ہونے سے پہلے انکاؤنٹر کے فوری بعد کی جاتی۔
[21:01]اب انکاؤنٹر جو ہے۔ اس میں انہوں نے تیفی بھٹ سے جو واقعہ پولیس کا مدبھیڑ ہوئی ہے اس سے مختلف اس کو تو ساتھی دکھائی دیے نا مارنے کے لیے گوگی بھٹ بھی نامزد کر دیا۔ اس میں براہ راست انکاؤنٹر دکھایا گیا ہے کہ ہم نے حفاظت خود اختیاری کے تحت کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ایئر پورٹ سے جیسے نکلا ہے وہاں پہ مختلف جگہوں پہ تھڑے لگے ہوئے تھے فیصل شفقت بھٹی نے لگائے ہوئے تھے اور اس کے بعد مسلح گن میں نے اس کے ساتھ موجود تھے مسلح گاڑیاں موجود تھیں۔ تو جیسے ہی پولیس نے نے اس کا ہاں جس نے پولیس نے تعاقب شروع کیا تو انہوں نے فائر کر دیا اور جوابی فائر میں جو ہے وہ اس کو وہ بھی مارا گیا شہباز شریف۔ اب دیکھیں اس میں ایک بات ہے۔ اس کی جوڈیشل انکوائری بھی ہونی ہے۔ انکاؤنٹر ہے نا۔ بلکہ وہ ایک ایڈوکیٹ صاحب ہیں انہوں نے باقاعدہ طور پر استدا کی ہے کہ اس کی انکوائری ایف ائی اے کے حوالے کی جائے۔ اچھا وہ میں بتا دوں آپ کو کیوں ایف آئی اے کے حوالے کی ہے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں اس کی ریزن۔ ایک پروگرام میں ہم نے یہ عرض کیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس علی ضیا باجوہ۔ ابھی ہیں ماشااللہ بہت بڑے۔ سٹوریل ڈیتھ کے حوالے سے جن کا فیصلہ۔ سٹوریل ڈیتھ کے حوالے سے انہوں نے یہ کہا کہ جب کسی ایجنسی کے ادارے کے قانون نافذ کرنے والوں کے کسی فورس کے کسٹڈی میں کوئی شخص مارا جائے براہ راست حفاظت خود اختیاری کے تحت یا بالواسطہ ساتھی آ گئے۔ تو اس پہ انکوائری ایف آئی اے کی نہیں ہے۔ ابھی پانچ افراد جو سی سی ڈی نے ریسنٹ ہفتے 10 دن کی بات ہے۔ یہ جب مرے تھے بہاولپور والے پانچ۔ ایک خاندان کے تین بھائی اس کی بھی انکوائری ایف آئی اے کر رہی ہے۔ ایف آئی اے انکوائری کر رہی ہے یا آفتاب باجوہ صاحب معروف قانون دان ہے۔ انہوں نے یہ پٹیشن کی ہے ان کا علاقہ ہے جہاں جامپور کرمپور جو ہے انہی کا علاقہ ہے۔ جہاں یہ واقعہ ہوا تھا۔ یہ وہاڑی کے ساتھ کے ساتھ بہاولپور کے ساتھ یہ بہاولپور میں ہوا تھا جنوبی پنجاب میں اس سے پہلے وہاڑی میں ہوا تھا۔ پہلے وہاڑی میں ہوا تھا۔ وہ ذیشان ڈڈی صاحب ہیں۔ وہاڑی کے رہنے والے ہیں۔ تو انہوں نے ایک پٹیشن کی ہے جس کے جواب میں اچھا کنٹیمپٹ بھی موو کی انہوں نے ان دنوں میں۔ شوکاس بھی دیا ہے ہائی کورٹ نے۔ ہائی کورٹ نے شوکاس دیا ہے اس کو پنجاب کے ڈائریکٹر کو ایف آئی اے کو کہ آ کے وضاحت کریں آپ نے امپلیمنٹ ایگزیکیوٹ کیوں نہیں کیا ہمارا آرڈر رپورٹ ساتھ پیش کریں۔ اس میں مختلف اضلاع میں لاشیں پھینکی گئی تھی پانچوں بھائیوں کی۔ وہ سارے ڈی پی او بلائے گئے تھے۔ وہاں سے لاشیں ریکور ہوئی تھیں۔ اور عجیب سی بات میں آپ کو بتاؤں یہ انسانیت سو سلوک ہے۔ بڑا انسانیت پہ کرب ہے۔ میں اس سے ان کے جرم کی بات نہیں کر رہا۔ کہ پولی تھن کے لفافوں میں لاشیں بند کر کے بغیر جنازے کے تدفین۔ بے گورو کفن جسے کہتے ہیں نا بے گورو کفن دفنائی گئی تھی وہ پیش ہو گئی۔ پھر نماز جنازہ بھی دوبارہ ہوئی۔ پہلے تو ہوئی نہیں تھی۔ اب یہ جو کسٹوڈیل ڈیتھ ہے۔ اس کا ایکٹ بھی 1922 میں بن گیا۔ یہ سوری 2022 میں۔ 2022 میں کسٹوڈیل ایکٹ ہے۔ اس کے بعد سے جو واقعات ہو رہے ہیں وہ سب کی سب انکوائری ان کی ہو رہی ہیں۔ کچھ ری اوپن بھی ہو گئی ہیں میری اطلاع کے مطابق۔
[24:00]تو یہ جو معاملہ ہے نا اب ایک بندہ عدالت میں جاتا ہے نا تو اس کے ہاتھ کھل جاتے ہیں۔ ہم بھی جائیں گے۔ راستہ کھل گیا۔ ایک دروا ہوتا ہے نا اوپر سے ایچ آر سی پی کی رپورٹ ا گئی ہے کہ 900 سے زائد لوگوں کو جو ہے وہ مار دیا گیا ہے۔ ہاں وہ رپورٹ بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ جو ہے وہ الجزیرہ ٹی وی نے بہت ڈیٹیل میں چلائی ہے آپ نے دیکھو الجزیرہ ٹی وی اور اس کے اخبار میں۔ وہ بہت ڈسکس ہو رہی ہے۔ ڈسکس ہو رہی ہے کہ جی اتنے لوگ کیسے مرے۔ لیکن سر ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ جیسے سرگودھا پولیس نے کیا کیا جب اتنے مقدمات تھے۔ جب پولیس اپنا کام نہیں کرے گی تو پھر اس کی جگہ کوئی نہ کوئی ایسی فورس ا کے لے گی کہ جس نے الٹیمیٹ فیصلے جو ہے وہ کرنے ہوں گے۔ اب میں آپ کو چھوٹی سی ایک بات ضمنی بتاؤں۔ میں یہ تلاش کر رہا تھا کہ سی سی ڈی جب اپریل میں بنی ہے پچھلے ماہ پچھلے سال اپریل میں۔ ایک سال ہونے والا ہے۔ جب یہ بنی ہے تو خدشات کا اظہار بھی تھا کچھ توقعات بھی تھیں۔ کچھ تحفظات بھی تھے۔ اس وقت ایک لسٹ جاری ہوئی تھی بعد میں سی سی ڈی نے اسے ڈس اون کر دیا۔ ایک لسٹ جاری ہوئی تھی کہ یہ یہ سی سی ڈی کے ریڈار پہ ہے۔ اب میں تلاش کر رہا تھا کہ فیصل شفقت بھٹی کا نام اس میں نہیں ہے۔ نہیں ہے۔ مجھے نظر نہیں آیا۔ مجھے نظر نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے ہو اتنے صفحات میں تو میں تو وہ پونی لسٹ نکال کے دیکھی ہے اس نے ویسے تو انہوں نے ڈس اون کیا ہے۔
[25:05]لا تعلقی۔ اس میں نام نہیں مجھے فیصل شفقت بھٹی کا دکھائی دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ جن لوکل پولیس سٹیشن سے ڈسٹرکٹ پولیس سے سی سی ڈی نے لسٹیں لی تھیں تفصیلات لی تھیں۔ وہ لیک نہیں ہوئی۔ نہیں نہیں نہیں نہیں نہیں وہ صحیح نہیں بھجوائی گئی۔ اس کا مطلب ہے سرگودھا پولیس نے سی سی ڈی کو بھی مامو بنا دیا۔ وہ کیسے کہ ان کو کیوں نہیں بھیجا فیصل شفقت بھٹی کا نام کہ اتنے مقدمات میں نامزد ہے۔ یعنی آپ کہہ رہے ہیں کہ فیصل شفقت بھٹی یہ ایک سال ہو گیا سی سی ڈی بنے کو تب سے اب تک مقابلہ کیوں نہیں ہوا اب کیوں ہوا؟ نہیں نہیں یہ نہیں کہہ رہا۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ وہ فہرست جو بھجوائی تھی انہوں نے سی سی ڈی نے تو لی تھی نا لوکل پولیس سے۔ وہ لوکل پولیس نے لسٹ بنوائی تھی اس میں تو مجھے کہیں فیصل شفقت بھٹی کا نام نہیں نظر نہیں آیا۔ اتنے مقدمات تھے اس پہ۔ نہیں وہ نام وہ اصل نہیں تھی نا۔ او بھائی جالی تو میں نے گھر میں سے تو بنا نہیں سکتا میں وہ لسٹ۔ اپ بنا سکتے ہیں۔ وہ جالی کسی نے بنا دی۔ وہ کیسے ایڈریس لیا آپ نے شناختی کارڈ نمبر کہاں سے لیے میں کیسے لے سکتا ہوں بھائی۔ وہ بس وہ کسی نے ڈیپارٹمنٹ کے اندر ہی کوئی بندہ ہو گا جس نے۔ او بھائی اندر کی تھی نا۔ ڈیپارٹمنٹ کی تھی۔ سی آر او سیکشن نے نہیں دی ہو گی چلیں ختم۔ لوکل پولیس نے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے ڈسٹرکٹ پولیس نے دی ہو گی۔
[26:12]ضلع انتظامیہ نے دی ہو گی۔ تو اس میں فیصل بھٹی کا نام نہیں تھا۔ نہیں تھا۔ مجھے تو نہیں ملا۔ نہیں اب تو سی سی ڈی نے مدیا بھی بٹھا دی ہے۔ اور اس کا بھائی بھی بٹھا دیا ہے۔ اور پھر اس کے بعد خود ایس پی صاحب بیٹھ گئے۔ وہ تو سب کچھ ہو گیا۔ میں کہہ رہا ہوں لوکل پولیس پہ بھی شکنجہ کسیں۔ او بھائی سات کے اٹھ ڈی پی او ابھی ریسنٹ پاسٹ میں اٹھ ڈی پی او سرگودھا میں۔
[26:36]نو اور نو اور دو 11 آر پی او چینج ہوئے ہیں۔ ہاں 20 ہو گئے۔ ان کے ادوار میں لسٹ میں تک نام نہیں آیا اس کا۔ ہاں کیسے نہیں آیا کیا سرپرست تھے اس کے؟ اثر و رسوخ والا تھا؟ اثر و رسوخ والا تھا پیسے دیتا تھا؟ یہ کہے نا۔ کہ منتھلی دیتا تھا ان کو یہ کیا ہوا؟ اس بات کی تحقیق کریں تب سی سی ڈی کے قیام کا مقصد حل ہو جائے گا۔ ٹھیک ہے۔ میں آفتاب پھلروان کی اور چٹا صاحب کی ہر بات کی مشروط تائید کرتا ہوں۔ میں نے پہلے بھی کسی چینل پہ یہ جملہ کہا ہے۔ ان کے دعووں کی ان کی کارکردگی کی۔ اور کریڈٹ لینے کی جستجو جو ہے۔ اس کی مشروط تائید کرتا ہوں بشرط کہ صرف فیصل شفقت بھٹی پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ اس کے سرپرستوں پر کرم فرماؤں پر سہولت کاروں پر سب پر قانون کا شکنجہ کسا جائے۔ بالکل صحیح ہے بہت بہت شکریہ آپ کا نعیم مصطفیٰ صاحب ناظرین آج کا یہ پوڈکاسٹ آپ کو کیسا لگا کمنٹ سیکشن میں جا کر اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیے گا۔



