[0:00]درود پڑھنا زبانوں کے بس کی بات نہیں
[0:14]یا اللہ جن کی آوازیں آج اونچی ہیں اس غوث پاک کی گیارہویں کے صدقے اگلی گیارہویں انہیں غوث پاک کے قدموں میں دکھا یہ سنی اپنی آنکھ سے غوث پاک کا گنبد دیکھیں۔ وہ نیلا نور والا گنبد دیکھے۔ یہ دعا اس کے لیے جو میرے ساتھ بولے درود پڑھنا زبانوں کے بس کی بات نہیں درود پڑھنا زبانوں کے بس کی بات نہیں۔ سنیوں عطائے رب ہے یہ مردوں کے بس کی بات نہیں۔ عطائے رب ہے یہ مردوں کے بس کی بات نہیں۔ علامہ صاحب اب تک چونکہ اس میں عقیدہ ہے ابھی آئے گا۔ اب تک میں نے جن
[1:47]میں یہ کلام سنایا ہے کیا آوازیں آئی ہیں بھائی سنیوں کی۔ ٹھیک ہے نا۔ تو آپ لوگ یہ فرماتے ہیں نا ہمارا نہیں کمال ہوتا۔ سننے والوں کا ہوتا ہے۔ بات سمجھ رہے ہو بھائی مظفر۔ تو آپ تو چاہ رہے ہیں نا۔ وہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے وہ ماحول یہ سنی بنائیں گے۔ میں صرف شعر سنا سکتا ہوں۔ ان میں جو شیر کا بچہ سنی ہوگا نا اس کی آواز اب تم خود سن لینا۔ سلام سنتے ہیں آقا جواب دیتے ہیں۔
[2:29]ابھی اور اونچی ہوگی۔ سلام سنتے ہیں آقا جواب دیتے ہیں منکر تیرے کانوں کے بس کی بات نہیں۔ منکر تیرے کانوں کے بس کی بات نہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے جو سنی
[3:37]حضور اللہ کے نام پر جانے دے سکتے ہیں۔ ان کے لیے آواز کا کیا مسئلہ ہے۔
[3:48]ہیں؟ وہ بات ہو گئی یار۔ ہیں؟ اب سننا آواز۔ ہیں؟ اور آپ کو ایسا ہوگا کہ یار کیا بات ہے بھائی۔ حضور زندہ ہے اور زندوں کا یہ عقیدہ ہے۔ نعرہ رسالت۔ نعرہ رسالت۔ نعرہ رسالت۔ نعرہ رسالت۔ نعرہ رسالت۔
[4:26]حضور زندہ ہے۔ بولو نا حضور یا اللہ ان سب کو حاجی بنا دے۔ یہ لائن آپ نے ابھی ابھی فورا یاد کرنی ہے۔ اور ابھی کے ابھی میرے ساتھ مل کر کرنی ہے۔ اور دونوں ہاتھ اٹھا کر اٹھاؤ۔ حضور زندہ ہے زندوں کا یہ عقیدہ ہے۔ بولو حضور زندہ ہے زندوں کا یہ عقیدہ ہے۔ یہ نجدی منافق گندا ہے واللہ نا پاک بلکہ بلند ہے واللہ۔
[5:33]پہ نام اس کا کنڈا ہے واللہ۔ جو مردہ کہے تم کو وہ مردہ ہے واللہ سنی ماں کی اولادیں بولیں گی۔ حضور زندہ ہے زندوں کا یہ عقیدہ ہے۔ حضور زندہ ہے زندوں کا یہ عقیدہ ہے۔
[6:11]علامہ صاحب آج آپ کے علاقے میں آ کر دل خوش ہو گیا بھائی ان سنیوں سے۔ طبیعت تو اتنی اچھی گئی۔ پر طبیعت کا کیا ہے روح اچھی ہونی چاہیے۔ اور وہ اللہ کا شکر ہے اچھی ہے۔ اب شعر سنو۔ اور سننا، سمجھنا پھر بولنا سبحان اللہ ایسے نہیں۔ سننا، سمجھنا پھر بولنا۔ ادھر سے سنو، ادھر سے سمجھو، ادھر اتارو یہ خود ہی بولے گی۔ سنو۔ قریب مصطفیٰ ہے کوئی کوئی مزے یہ لوٹتا ہے کوئی کوئی۔ بلال بھائی آپ نے مجھے بتانا ہے۔ آگے والوں کی آواز زیادہ ہے۔ جو بیک پر ہیں ان کی۔ قریب مصطفیٰ ہے کوئی کوئی مزے یہ لوٹتا ہے کوئی کوئی۔ کھلے ہیں پھول گلشن میں ہزاروں مگر من میں بسا ہے کوئی کوئی۔ عقیدہ۔ میرے آقا وہ ہر محفل میں آ سکتے ہیں یقینا انہیں بس دیکھتا ہے
[7:43]کوئی اب اٹھاؤ ہاتھ۔ حضور زندہ ہے زندوں کا یہ عقیدہ ہے۔
[8:00]حیات ماننا مردوں کے بس کی بات نہیں نہیں نہیں نہیں حیات ماننا مردوں کے بس کی بات نہیں۔
[8:29]بولو سبحان اللہ۔ بلال قادری زندگی ہے حالات تو اوپر نیچے آتے ہیں ہوتے رہتے ہیں۔ پر حالات جو بھی ہوں۔ بہار ختم نبوت رہے گی حشر تلک۔ تاجدار ختم نبوت زندہ باد۔ زندہ باد۔ تاجدار ختم نبوت بہار ختم نبوت رہے گی حشر تلک۔
[9:19]اجاڑ دینا خزانوں کے بس کی بات نہیں۔
[9:30]اجاڑ دینا خزانوں کے بس کی بات نہیں۔ مقتہ۔ حضور خود ہی
[10:11]کھلاتے ہیں شہریان ہمیں زمانے بھر کے نوالوں کے بس کی بات نہیں زمانے بھر کے نوالوں کے بس کی بات نہیں۔



