[0:00]جنہوں نے دنیا فتح کی ہوتی ہے نا بیٹا ان کے منہ بند ہوتے ہیں ان کے میں تمہیں ڈانٹنے نہیں آیا ہوں سدھارنے آیا ہوں سمجھانے آیا ہوں کوئی نہیں پوچھے گا پتر تجھے چیں پیں چیں پیں نہیں چلتا مگر بچے ہیں ہمارے کر لے تھوڑا خراب کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اس ڈپریشن سے بچا رہا ہوں میں تم کو اینڈ میں مامو ہی بننا ہے تو نے اور اگر تم نے 20 20 سال کی لمبی جنگیں لگ کے اپنے آپ کو ضائع کر کے سیکھنا ہے تو بچے ہم تجھے بچا تو نہیں سکتے اگر تو چاہتا ہے اور چاہتی ہے میری بچیاں بیٹھی ہیں میری بیٹیاں بیٹھی ہیں یہاں بچے بیٹھے ہیں ہمارے کہ میں کم عرصے میں سیکھ لوں تو بیٹا آج سے
[0:53]اپنے خود ہی کو ایک خود ہی کو تکبر والی ختم کرنا اور ایک نفس کو اسٹیبلش کرانا طوفانوں کے آگے کھڑے ہونے کے لیے مذاق بازیاں نہیں چلتی بچے بڑے بڑے شیروں کو مستیوں سے نہیں گرا سکتا تو یہ دم پیدا کرنے کے لیے کلیجے کے اندر سمندر زہر کے اتارنے پڑیں گے تجھے تب جا کے بنے گا تو کچھ ڈوبے ہوئے لوگوں سے مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے پتر می مائی سیلف اینڈ آئی کی کمپلیکسز کے اندر نہیں ہوتا وہ یہ یوف و شوف و کے کلچر میں نہیں ہوتا وہ یہ مغلوبیت اور مروبیت کے کلچر میں نہیں ہوتا وہ شیر ہوتا ہے وہ جنگل کا شیر کلیم کرتا ہے وہ اپنا سلطان اپنے من میں ڈوب کے دیکھ کہاں کھڑا ہے تو ٹیبل پہ بیٹھ کے کسی پٹے کو پٹھے کو قائل کرنے کے لیے تیری بونگیاں نہیں چلیں گی پتر ٹیبل پہ بیٹھ کے اپنا آپ بیچنے کے لیے تیری آنکھیں ہونی چاہیے کہاں ہے وہ آنکھیں جو آنکھیں بنتی ہی اس تقریب کے بعد آج ہمارے معاشرے میں جو نئے ہیں اس پولرائزیشن کے اندر صبر نہیں حبس النفس اپنے نفس کو روکنے کی طاقت نہیں ہے جس نفس کو چڑھتی ہے اور تیزیاں بولے جا رہا ہے بولے جا رہا ہے بولے جا رہا ہے سب کے آگے بونگیوں پہ بونگیوں کی تاریخ رقم کرتا جا رہا ہے بیٹھ اور دشمن تیرا لکھ رہا ہو گا بیٹھ ہاں اور بول اور نکال اپنے اندر کا گند تجھے مارنے کا سرٹیفکیٹ تیرے ہاتھ سے ہی ملے گا جنہوں نے دنیا فتح کی ہوتی ہے نا بیٹا ان کے منہ بند ہوتے ہیں ان کے کیونکہ تیرا دشمن تیرے پہلے سینٹنس کے آبجیکٹ سبجیکٹ مبتدا خبر حال تمیز فعل فاعل مفعول اور ورب اور ناون کی کمپوزیشن سے پہچان لے گا تیری اوقات کیا ہے
[2:55]تیرے جملوں کے اندر لفظی سے تیری اوقات نکال لیں گے لوگ میں تمہیں ڈانٹنے نہیں آیا ہوں سدھارنے آیا ہوں سمجھانے آیا ہوں کوئی نہیں پوچھے گا پتر تجھے بیٹھا ہوگا کسی چونیاں کے نکڑ کے اوپر کاش اگر مگر چونکہ چناچے اف سن بٹس دٹس اٹ چیپٹر الیون تیرے پہ فائل کریں گے اٹھا کے پھینک دیں گے تجھے لائف سے تیری چل نکل جب اوقات ہوگی نا پھر بات کرنے آنا اس دنیا میں بھرم بازیاں لونڈوں کے ساتھ مارنا نا بہت آسان ہے ہمارے ڈیرے پہ آ کبھی چائے پلائیں گے تجھے اچھی والی لوگ کیوں سنیں گے تجھے کیوں سنیں گے لوگ وہ سننا تب ہوتا ہے جب تو سننا شروع کرے گا اپنے من کی سن اپنے رب کی سن چھوڑ دے لیو دی لائیم لائٹ چلا جا ادھر سے دور یہ رنگینیاں چھوڑ گمنام کر اپنے آپ کو لوٹا اٹھا جا کے استادوں کا ختم کر دے اپنے اندر کے کبر کو
[4:05]وزن چاہیے تجھے تاثیر چاہیے تجھے جنگیں لے اپنے آپ سے وہ زندگی کیا جس میں ہجرت نہ کرنی پڑی انسان کو وہ زندگی کیا جو نکال ہی نہ دے تجھے گھر سے باہر یہ بھی کوئی زندگی ہے صبر روک کے رکھ بڑے بیٹھے ہوئے بات روک کے رکھ ابھی میرا وقت نہیں ہے روک کے رکھ پہلے ان کی منزلیں پوری ہو جائیں پھر ہماری باری آئے گی صبر یوسف علیہ السلام کا بیٹھ کے صبر غار میں بیٹھا ہوا ایک امام مچھلی کے پیٹ میں یونس علیہ السلام کا صبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر خاموشیاں ہیں چپ ہیں اندر آگ جل رہی ہے آتے سش ہا جل رہا ہے ایک لیڈر کا اور کیپ ہولڈنگ یور گراؤنڈز کیپ ہولڈنگ یور گراؤنڈز بچے اور آئے گا وقت تیرا یہ بدلے گا سب کچھ لگام دے اپنے نفس کو جن لوگوں کی چھلانگیں تیز ہوتی ہیں نا انہیں کچھ بولنے کی ضرورت نہیں ہوتی شکلیں بتا دیتی ہیں ان کی ٹھہراؤ کتنا ہے اس کے اندر ٹھہراؤ نہیں ہے ابھی تمہارے اندر اس لیے تو تم استعمال ہوتے ہو صرف دھرنے میں لے جانے کے لیے تم صرف دھرنے کے لیے تو استعمال ہو سکتے ہو انٹلیکچول بینچ کی آئیڈیلز بننے کے لیے علم پڑھنا پڑے گا بیٹا تجھے ان کا بھی پڑھنا پڑے گا ان کا بھی پڑھنا پڑے گا اور جنہوں نے اپنے آپ کو ڈبانا ہوتا ہے شک کی وادیوں میں یقین تک پہنچنا ہوتا ہے وہ ایسی زندگی نہیں گزار سکتے وہ زندگی جو وقت ضائع کر اصول ضائع کر روابط ضائع کر کے سارا ہیومن ریسورس ضائع کر کے ساری رشتے داریاں ضائع کر کے سارے تعلقات خراب کر کے سب کچھ برباد کر کے سب کچھ اگل کے اپنے بارے میں سب کچھ ایکسپوز کر کے اپنے بارے میں اگر کہنا ہن مینوں سکھاؤ یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ اینڈ میں جا کے کہنا لا ادری ڈو ناٹ نو ٹیچ می عالم نہیں دس دا کائنڈ آف لائف یو وانٹ کہ تو نے بھی 35 سال میں آ کے اگر یہی کہنا ہن سکھاؤ مینوں تو سویلائزیشنل وار میں تو پیچھے رہ گئے نا ہماری قوم ان سے اگر تو نے بھی 10 سال سارے فنڈ مار کے یہ کہنا جی ہن سکھاؤ مینوں مجھے پیرنٹنگ نہیں آئی مجھے ٹیم مینجمنٹ نہیں آئی مجھے اسٹریٹجک مینجمنٹ نہیں آئی مجھے مجھے آٹو وار نہیں آیا مجھے شنزو نہیں آیا مجھے کرائسس مینجمنٹ نہیں آیا مجھے پبلک سپیکنگ نہیں آئی مجھے ایموشنل کوششنٹ نہیں سمجھ آیا مجھے انٹلیکچول کوششنٹ نہیں سمجھ ایا کہ سب کچھ اپنے خود ہی کی تکبر والی خود ہی پہ چل گئی اسی گر ہے تو اللہ ہدایت تو کبھی بھی دے سکتا ہے ریسورس تو ضائع ہو گیا نا ہمارا عمریں تو نکل گئی نا تمہاری جو تمہارا اصل تمہاری جو جان اور طاقت اور عمر ہے ضائع ہو گئی نا کہ تو 20 سال کرپے سے پانچ سال میں کور کر سکتا تھا لیکن کلاس کے اندر ادھر کے بجائے ادھر کے بجائے اوپر کر اٹینشن اپنی اور تم بھی ادھر کے بجائے اوپر کرو ورنہ اوپر ہی ہوگی تو تھلے تینوں زمین نہیں ملنی پھر اور وہ عشق کیا جو دنیا میں کامل ہو جائے یہ دنیا کی دلیزوں پہ جا کے اپنے دل بانٹ لے مل جائے سکون تو آ کے بتائیں ہمیں بڑے بڑے عیوانوں میں سکون ڈھونڈا نہیں ملا ملے تو الا ب ذکر اللہ تطمعن القلوب یہ مسجدوں میں تھا سکون ہمارا یہ علم کی مسندوں پہ سکون ملتا ہے چیں پیں چیں پیں نہیں چلتا مگر بچے ہیں ہمارے کر لے تھوڑا خراب کوئی مسئلہ نہیں ہے تینوں اجازت ہے کی کچھ بربادیاں کریں لیکن اس ڈپریشن سے بچا رہا ہوں میں تم کو اینڈ میں مامو ہی بننا ہے تو نے وہ نہیں ملنی تینوں کچھ بھی کر لے ہاں میں تینوں کہہ رہے تیرے اللہ ہی حافظ ہے پتر لوگ ملتے ہیں حوصلے والے صبر والے خاموشیوں والے یقین نہیں ہے یقین نہیں ہے آج یقین نہیں ملتا آج شک ہے آج سب کچھ شک تو انہوں نے تو کچھ زیادہ ہی یقین ہے یار اس عمر میں بڑا یقین ہوتا ہے میں بم بن کے بن جاؤں گا پوری دنیا دا چوہدری پھر یہ یقین ٹوٹے گا بھی کچھ عرصے بعد پھر اتنا ٹوٹ جائے گا سوال کرتا پھرے گا مینٹر مونٹر مل جائے سانوں یقین فوکس ویژن گول منزل قید زندان تڑپ خاموشیاں تنہائیاں گمنامیاں بدنامیاں اکیلا پن ہارٹیسٹ واک آل الون نو بڈی دیر اللہ سپیکنگ ٹو آ مینز ہارٹ یقین درد جھلکتا ہے یقین والوں کی شکلوں سے درد اہل زہد اور اہل قرب کے قبیلے کا حصہ بن تجھے دیکھ کے لوگوں کو حوصلہ ملے شک کی باتیں ہیں ہمارے اندر کاش اگر پتہ نہیں ہوگا نہیں ہوگا ڈاؤٹ فل اللہ قرآن کا سفر شروع کرتا ہے ذالک الکتاب لا ريب فی فرسٹ تھنگ ہی ایڈریس ڈاؤٹ اللہ کے ساتھ چل رہا ہے شک کے ساتھ چل رہا ہے رشتے نبھا رہا ہے شک کے ساتھ نبھا رہا ہے تعلقات بنا رہا ہے شک کے ساتھ کر رہا ہے جیسے تیرے پنچ کے اندر وہ پاور آئے گی جیسے تیرے لفظوں کے اندر وہ تاثیر آئے گی اگر تجھے یقین نہیں ہے کیسے دکھے گا تیرا منجن مارکیٹ میں اگر تجھے یقین نہیں ہے پروڈکٹ کے اوپر تو لوگ ملے مگر لوگ نہیں ملے لوگ ملے مگر یقین نہیں تھا کچھ عرصہ رکنے کا یقین نہیں تھا کچھ سال بیٹھنے کا یقین نہیں تھا یہ چار سال اپنی گریجویشن کے نکالنے کا یقین نہیں ہے تم لوگوں کو جلدی فری لانسنگ کروں جلدی ایمیزون میں آؤں جلدی آسمانوں سے میرے اوپر من و سلوہ اترے جلدی جلدی چاہیے ہمارے بچوں کو آج اے اوپر والوں سائیڈ ہے مارو میں جتنا جلدی آئے گا نا تو اتنا جلدی جائے گا یہاں سے جو اصلہ ثابت جڑیں مضبوط کر کے جو درخت کھڑا ہوتا ہے نا وقت لگتا ہے پتر مگر اس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں وہ اور تو ہاف اس سماء دیکھ کیسے کھڑا ہوا ہے تناور سامنے مگر اس کے غم کو ہم سمجھ سکتے ہیں کتنی کاٹ بہادر شاہ ظفر کہتا ہے نا لوگوں کو پھل بننا ہے پھول بننا ہے چمکنا ہے لوگوں کے آگے پیپل وانٹس ٹو بی ایکنالج بائی دا ورلڈ ہم بیچ بننے والی قوم ہے بھیا دفن کرتے ہیں زمین میں اپنے آپ کو قوموں کے درخت اکھڑتے ہیں ہمارے اوپر دفن کر اپنے آپ کو چلا جا سکرین سے ہٹ جا جا چلا جا ایسے علاقوں میں جا تجھے ڈھونڈنا بھی مشکل ہو علم پڑھ اب شہروں میں کہاں ملتا ہے بڑے بڑے چیدہ چیدہ تجھے استاد ملیں گے کہیں بیٹھے ہوں گے غریب علم کے سمندر ہوں گے وہ تلاش استاد دعاؤں سے ملتا ہے لنکڈن پہ پروفائل ڈالنے سے نہیں ملتا مانگ کے ملتا ہے ایسی بات نہیں ہے لیکن دعاؤں سے ملتا ہے استاد رہبر گائیڈ ہو ٹیلس یو یہ مت کر یہ صحیح نہیں ہے کسی نے پوچھا نا واٹ از دا واٹ از دا ڈیفینیشن اف ایکسپیرینس استاد جی ایکسپیرینس کی ڈیفینیشن کیا ہے تجربے کی سب نے اپنی اپنی دی ہمارے جیسا پینڈو آدمی ہم نے کہا ہم بھی اپنے ففٹی سینٹ دے دیتے ہیں جو تم نے کر لیا ہے یا جو تم نے ماسٹر کر لیا ہے نا وہ ایکسپیرینس نہیں ہے کیونکہ وہ تو تمہاری وجہ سے ہوا ہی نہیں ہے دنیا میں جتنی بھی سکسیس کھڑی ہے میتھس کے مطابق وہ تمہاری تو ہے نہیں وہ تو اللہ نے کرائی ہے جو تم سے نہیں ہو سکا نا زہر الفساد فی البری والبحر وہ ہے تجربہ کہ جس پر اللہ کا کن نہیں ائے گا وہ سلسلہ جو اللہ نے کامیاب نہیں ہونے دیا اسے تجربہ کہتے ہیں وہ سلسلہ جس کے اللہ نے نہیں گزرنے دیا انسان کو وہ سلسلہ جو انسان نے فیل ہی ہوا ہے جو فیلیر ہے وہ ایکسپیرینس ہے سکسیس ایکسپیرینس نہیں ہوتی سکسیس تو ہوتی ہے اللہ کی طرف سے سکسیس اور سکسیس فلنس یہ اگر کھڑا بھی ہے نا سٹرکچر کوئی انسان کلیم نہیں کر سکتا جی میری میتھس ہے جس نے کھڑا کیا ہے اسی میتھس کے ساتھ ہم تجھے دس اور دکھا سکتے ہیں جو نہیں کھڑے ہوئے ہوں گے یہ کھڑا اللہ کے حکم سے ہے کیونکہ اللہ نے کن انما امر اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون جو نہیں جتنا اس کو کھڑا کرنے میں جو فیلیر ہے نا وہ ہے اس انسٹیٹیوشن کا ایکسپیرینس اس لیے تو دنیا میں اس لیے بجا لیجئے گا اس لیے تو دنیا میں سب سے قیمتی چیز ہے تجربے اور تجربے یا استادوں سے آتے ہیں یا جنگوں سے آتے ہیں اور اگر تو نے 20 20 سال کی لمبی جنگیں لگ کے اپنے آپ کو ضائع کر کے سیکھنا ہے تو بچے ہم تجھے بچا تو نہیں سکتے ہاں اگر تو چاہتا ہے اگر تو چاہتا ہے اور چاہتی ہے میری بچیاں بیٹھی ہیں میری بیٹیاں بیٹھی ہیں یہاں بچے بیٹھے ہیں ہمارے کہ میں کم عرصے میں سیکھ لوں اس کھڈ میں جا کے نہ گھسو جہاں پہ ہمارے بڑے جا کے تباہ و برباد ہوئے غلط ٹرن لے لیا میں نے اور تین سال ضائع ہو گئے میرے تو بیٹا آج سے یہ یاریاں چھوڑ اور استادوں کے پیروں سے لپک جا جا کر باپ کو جا کے گلے لگا آج اپنے سب سے بڑا استاد تیرے گھر میں تیرا باپ بیٹھا ہے وہ باپ جس کی ناکامیوں کے اندر تیری کامیابیاں چھپی ہیں پوچھ جا کے ان سے کہ توسی کیوں نہیں کر سکے یا توسی کیوں کیتا کس طرح ہوئے سانوں دسو کوسمیٹک مصنوعی دنیا کو چھوڑ دے آ روحانیت کی طرف آ سپرچویلٹی کی طرف آ ختم کر دے اپنے اندر کی اس میں کو عاجزی اپنا علم والوں کے آگے اسی انسٹیٹیوشن کے اساتذہ کی تکریم اور تعظیم کرنا سیکھ میں تجھے بتا رہا ہوں کہ تیرے رٹے تجھے نہیں چلا سکتے ادب تجھے لے جائے گا کہیں پر عبداللہ بن مبارک سیز و وی یوز ٹو لرن ایتھکس اینڈ ایڈیکٹس فور تھرٹی ایرز ہم 30 سال ادب سیکھتے تھے 20 سال علم پڑھتے تھے ہم 30 سال بھنڈ مار رہے ہیں 20 سال اس پر مزید بھنڈ مار رہے ہیں بونگیوں پہ بونگیاں ہیں ہماری زندگی تو اگلی نسل جو تیز ہے یہ گوگل اور سوشل میڈیا والی بیٹا آن لائن استاد مل سکتا ہے مگر جوتا اور پیر کہاں سے لائے گا اس کا سکرین کے اوپر اس کے لیے تو سفر کرنا ہے تو نے کہاں ایک جن بیٹھا ہوا ہوگا اللہ کے ہاتھ کے نیچے کیسے تلاش کرے گا کیسے اس کی صبح شام دیکھے گا جا کر صبر اور یقین رکھ تیری منزل آسان ہے یہ ٹوٹی خلاص گیا تو تو درد سینے چوڑے کرتا ہے تکلیف سینے چوڑے کرتا ہے ہجرتیں انسان کا سینہ بڑا کر دیتے ہیں لوگ پوچھتے ہیں نا شیخ فیمینین بڑیاں بڑیاں گلاں توسی کرتے ہو اوئے وڈی گل کرے گا تو وڈے میدان مارے گا نا اور یہ دنیا پانی ہے اور تیرا دل ہے کشتی میں تجھے دنیا کو کنکر کرنے سے یہ علم حاصل کرنے سے ڈگریاں حاصل کرنے سے بزنس کرنے سے سرداریاں رکھنے سے منع نہیں کرتا مگر دنیا کو دل سے باہر رکھ ہی اگر پانی کشتی کے اندر ہوا نا تو گیا تو اس پاور کے بعد بھی اس شہرت کے بعد بھی ہم دیسی آدمی ہیں زمین پہ بیٹھ کے کھاتے ہیں اور چارپائیوں منجیوں اور کھیتوں میں سونے والی سوچ ہے ہماری اللہ تجھے طاقت دے دعا ہے میری تجھے مقام دے دعا ہے میری تجھے مرتبہ دے تجھے علم دے مگر تجھے غنا بھی دے اس دنیا سے کہ تیری آنکھیں اور تیرا دل اس دنیا میں نہ سوتا ہو یور ہارٹ شوڈ ناٹ لیو ان دس ورلڈ یور ہارٹ شوڈ بی اپ دیر پھر کنکر کر اس کو پھر بنا بنا سلطان اپنے آپ کو مگر یہ جیسے ہی دنیا گھسی اندر اوئے اوئے بڑے بڑے لوگ گرا دیے اس نے بڑے بڑے سورماں دیکھے ہیں ہم نے باتیں تھیں ان کی آج کہیں بکھے پڑے ہوئے ہیں جھکے پڑے ہوئے ہیں بوٹ پالشیاں کر رہے ہیں تھلے لگے ہوئے ہیں وہ علم بھی کیا جو سجدہ دے دے کسی کو میرے بچوں دس سال بعد میں اور بوڑھا ہو جاؤں گا مجھے ملنا ہمیں اچھی باتیں سننے کا شوق ہے آدمی ہم بہت جنگی ہیں اچھی بات سنانا کہ استاد جی اے میدان مار رہا ہے میں کلے نے فخر کرے گا شیخ عاطف تمہارے اوپر انشاءاللہ فخر کرے گا سر جھکا کے نہیں ائی اکرا کے نہیں ائی ذلیل کرا کے نہیں ہم لوگ سر بلند کر کے ائے ہیں وہاں سے دانت کھٹے کر کے ائے ہیں اپنے دشمنوں کے تجھے مارنے کا مزا آنا چاہیے اس معاشرے کو ایسا لیڈر پیدا کرنا چاہتا ہوں میں اس سسٹم میں گلا گلا کے اوپر اسے وہ کہتے ہیں نا زندگی ایسی جی کہ جس دن تو گرے دو عیوانوں میں ایک عیوانوں میں جشنوں کے جام ہوں اور دوسرے میں غم کے دریا بہہ جائیں آنکھوں سے ایسی زندگی جی تیرا دشمن بھی مارتے ہوئے سوچے کسی پٹھے کو گرایا ہے اس نے ویلیوز بنا اپنی وہ ویلیوز رکھ جس کے تحت ہمارے مشرق سے چلیں یا مغرب سے تجھے نہ ہلا سکے اپنی جگہوں پہ اپنی بنیاد پکی کر پتر اصلح ہا ثابتہ اپنا عقیدہ اپنی توحید پکی کر اپنے سینے کے اندر جن کی بنیاد اور ویلیوز کلچر اور تہذیب اپنے ان پنڈو دیہاتوں کا سمجھ اس کو اپنے اندر ڈال بڑے بڑے ایوان تجھے ہلا نہیں سکیں گے اور زندگی ایسی جی کہ ٹیبل پہ بیٹھ کے تیرے تعارف کے اندر یہ بولا جائے اگے ہی کرم وفا اگے ہی کرم وفا صبر تمنا احساس میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ ہنسنا سارے جزاک اللہ خیر باجود جدا السلام علیکم ورحمۃ اللہ



