[0:08]الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی نبی الامین اج ہم انشاءاللہ طالب علم و عنایۃ بالکتب یعنی طالب علم جو ہے وہ کیسے کتابوں کا اہتمام کرے اور اس کا خیال کرے اس کے متعلق ہم بات کریں گے انشاءاللہ سب سے پہلی بات اس میں کوئی شک نہیں کہ طالب علم علم حاصل کرتا ہے دو طریقوں سے یا تو وہ مشائخ، علماء، اساتذہ، اہل علم سے مشافہت بتلق علم حاصل کرتا ہے یا پھر وہ یعنی کتابوں سے مطالعہ کر کر پڑھ کر اور سوچ سمجھ کر اس میں تفکر اور تدبر کرتا ہے اسی لیے بعض اہل علم کہا کرتے تھے کہ علم فی صدور رجال ثم انتقل الکتب و مفاتحه بایدی رجال یعنی علم پہلے لوگوں کے سینوں میں ہوتا تھا علماء کے سینوں میں منور ہوتا تھا پھر ان علوم صدریہ کو صدر سے سینے سے منتقل کر کر کتابوں میں نقل کرنے کی کوشش کی گئی پھر و مفاتحہ بایدی رجال لیکن وہ علوم جو کتابوں میں منتقل کی گئی ہیں ان کی چابیاں ان کی کنجیاں وہ کن کے پاس ہیں وہ علماء کے پاس ہیں تو بغیر عالم دین کے اپ وہ علوم جو کتابوں میں چھپی ہوئی ہے ان سے اپ مستفید اور مستفید نہیں ہو سکتے جب تک اپ علم کی سیڑیوں سے گزر نہ جائے اور علم کی پہلی سیڑی وہ استاذ وہ شیخ وہ عالم دین اور معلم ہوتا ہے جو اپ کو ان علوم کی مفاتيح اور چابیاں فراہم کرتا ہے اس لیے طالب علم کو یہ چاہیے کہ وہ کتب اور علماء کے درمیان اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھے اسی لیے امام مالک نے مواطب میں جو کتاب العلم ہے اس میں بیان کیا ہے کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو یہ وصیت اور یہ نصیحت کی اے میرے بیٹے جال العلمی
[2:59]علماء کی مجلس اختیار کرو اور ان کے مجلس میں زن تلمز حاصل کرے اللہ تعالی قلوب بنور اللہ تعالی دلوں کو زندہ کر دیتے ہیں مردے دلوں کو زندگانی بخشی جاتی ہے حکمت کے نور سے نور خداوندی کی حکمتوں سے اللہ تعالی زمینوں کو جو بنجر ہو چکی ہوتی ہے اس کو زندہ کر دیتا ہے اس لیے یہ جان لیجیے کہ تدوین لکھا جانا یہ پرانے زمانے سے موجود ہے یعنی مختلف سیولیزیشنز اور حارات العلم وہ کتابیں اور مدونات لکھا کرتے تھے جیسے کہ اللہ تعالی نے قران میں سورہ سبا کی ایت نمبر میں فرمایا کتب اور اسی طرح اللہ تعالی نے سورۃ بینہ کی ایت نمبر میں فرمایا اور اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام نے اللواح میں یعنی چیزیں لکھی تو اس سے ہمیں پتہ چلتا پتہ چلتا ہے کہ کتابچے لکھے جاتے رہے ہیں
[4:33]لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پچھلی امتوں کی جو مکتوبات ہے کیا وہ محفوظ ہے وہ ہرگز محفوظ نہیں سوائے اللہ تعالی نے ہمارے نبی پر جو کتاب مکرم اور کتاب مقدس کلام اللہ کتاب اللہ قران مجید نازل کیا اس کو اللہ تعالی نے محفوظ کیا اس کی حفاظت کی اللہ تعالی نے گرانٹی لی اور دی اور اللہ تعالی نے فرمایا ہم نے بے شک اس ذکر کو نازل کیا اور ہم اس کی حفاظت کرتے ہیں
[5:10]اور ذکر سے مراد ادھر قران ہے اور سنت سے مراد ادھر وہ سنت جو کھول کے مبین اور محفوظ ہے تو اللہ تعالی قران کی حفاظت کرتا ہے اور سنت کی حفاظت کرتا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم یہ اپنے ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالی نے اپنے قران کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے اور اسی طرح یعنی اس امت کی ابتدا میں بھی سنت کو صرف چند صحابہ نے لکھا جیسے کہ اپ کے علم میں ہوگا اور اسی طرح تابعین میں سے بھی بہت کم تابعین ہے جنہوں نے احادیث لکھے مثال کے طور پر صحف حمام بن منبہ انہوں نے یہ صحف لکھا اسی طرح یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو بعض خطوط اور وسائل تھے مختلف بادشاہوں اور امراء اور اپنے مال کی طرف تو وہ بھی محفوظ ہے اسی طرح خلفاء راشدین کے بھی اور صحابہ کے بھی بعض مصنفات اور جو مکتوبات ہیں وہ محفوظ موجود ہیں اسی لیے یعنی
[6:20]علماء نے اپنے طلباء کو اس چیز کی ترغیب دی کہ وہ کتاب کی حفاظت کرے اور کتاب کا خیال رکھے اور نسخ الکتب ایک کتاب دوسرے کتاب میں منتقل کرنے کے لیے پرانے زمانے میں پوری کتاب ایک طالب علم خود بخود لکھا کرتا تھا نہ کہ وہ کسی اور کی مدد سے یا کتابوں کو چھاپا جانے کا کوئی طریقہ کار موجود تھا اس لیے طالب علم کو چاہیے کہ وہ جانے کہ کتابوں کے ساتھ کیسے تعاون کیا جاتا ہے اور کتابوں کی کیا اداب ہیں تو اگے شیخ فرماتے ہیں کہ طالب علم کتب کے ساتھ کن اداب کو مدنظر رکھے نمبر ترتیب المکتب بحسب العلوم اگر اس کے پاس ایک لائبریری ہے تو وہ اس لائبریری میں جو کتابیں ہیں اس کی ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھے اس علوم اور فنون کی بنیاد پر یعنی تاکہ جب اس کو کسی مسئلے کی ضرورت ہو تو وہ بااسانی اس کتاب تک پہنچ سکے جیسے کہ وہ ایک شیلف میں یا ایک خانے میں کتب التفسیر کو جمع کر لے پھر ایک خانے میں کتب الحدیث کو جمع کر لے پھر ایک خانے میں اصول الحدیث اور اسی طرح اصول الفقه اور فقہ اگر مختلف مذاہب کے ہیں یا کسی اور ترتیب سے لیکن ایک مرتب چیز ہو ایک ترتیب شدہ چیز ہو کہ طالب علم کو پتہ ہو کہ یہ کتاب جو مجھے چاہیے وہ کس خانے میں ہوگی اور جو دوسری علم اور دوسرے فن کی کتاب وہ کون سے شیلف میں موجود ہوگی تاکہ اس کے لیے اسانی ہو اور کتابیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک کتب الرسائل صغیرہ یعنی چھوٹی کتابیں رسائل صغیرہ چھوٹی رسائل ایک کتب کبیرہ بڑی کتابیں جس کے مجلدات بہت زیادہ ہے جو انسان بااسانی دیکھ سکتا ہے مثال کے طور پر مجموع فتاوی شیخ الاسلام اگر ایک شلف میں موجود ہو تو ایک دم پتہ چلتا ہے کہ یہ مجموع الفتاوی ہے اسی طرح مثال کے طور پر الموسعہ کویتہ یہ اگر ایک اس میں پتہ چل جاتا ہے اسی طرح مجموع الشیخ موسوعہ الشیخ العلما عبدالرحمن الیمنی اسی طرح مثال کے طور پر مختلف جو ابن رجب تو اپ کو پتہ چل جاتی کہ یہ بہت سارے کیونکہ یہ کتب کثیرہ ہیں بہت سارے مجلدات ہیں تو اگر وہ اس کو ترتیب سے نہ رکھے تو کوئی حرج نہیں اس کو پتہ چل جائے گا کہ یہ فتاوی ہے یہ ابن رجب ہے یہ معلمی کی کتابیں ہیں ٹھیک ہے جی اسی طرح اگر مختلف رسائل فقہیہ ہے یا چھوٹی کتابیں تو وہ اس کو بھی اپنی ایک ترتیب سے رکھے اور ان چیزوں کا خیال رکھے دوسری چیز شیخ نے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اہتمام الطالب علم بالنسخ المصحح یعنی طالب علم اس چیز کا خیال رکھے کہ وہ جس ایڈیشن جس نسخے کو حاصل کرنا چاہ رہا ہے وہ سب سے اچھا اور بہترین نسخہ ہو یعنی لیٹسٹ اور بیسٹ ایڈیشن ہو یعنی اس میں کوئی کمی بیشی یا اس میں کوئی مسئلہ نہ ہو ورنہ انسان کئی بار یعنی قدیم یا پرانی ایڈیشنز کو خریدتا ہے اور وہ اس کو پڑھ بھی نہیں پاتا استفادہ تو دور کی بات ہے کیونکہ اس زمانے میں خطوط بڑے چھوٹے ہوتے تھے مثال کے طور پر اج کل کوئی کہتا ہے کہ مجھے فتح الباری کا النخ کا نسخہ طلب بولاق الثانیه سب سے قدیم نسخہ چاہیے بڑی خوشی سے وہ ڈھونڈتا ہے لیکن اس طالب علم میں وہ ملکہ یا وہ مہارت یا وہ فن نہیں ہے کہ وہ اس قدیم نسخے کو پڑھ سکے شوق اور ذوق اپنی جگہ لیکن جیسے کہ کہتے ہیں کہ انسان کو چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا چاہیے تو طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ یعنی تبعت الکتب یعنی اس کا خیال رکھے اور یہ نہ کرے کہ وہ ایسا ایڈیشن خریدے جس سے وہ مایوس ہو اور بعد میں پچھتائے اور حسرت بھری نگاہوں سے اپنے ان پیسوں کی طرف دیکھے کہ وہ جو اس کو لگے گا کہ وہ ضائع ہو گئے کیونکہ وہ اس نسخے سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتا جس کو اس نے بڑے شوق سے خریدا اس لیے علم کو یہ چاہیے کہ وہ جو کتاب جس فن میں خریدنا چاہتے ہیں اس فن کے متخصصین سے پوچھے مثال کے طور پر اگر اپ تفسیر طبری خریدنا چاہتے ہیں تو اپ یہ ایک مفسر یا متخصص تفسیر سے ضرور پوچھے کہ کوئی سا نسخہ کوئی سا ایڈیشن سب سے بہترین ہے تفسیر ابن کثیر کون سا نسخہ کون سا ایڈیشن سب سے بہترین ہے یعنی تفسیر طبری کی یا تفسیر قرطبی کی یا اسی طرح صحیح بخاری کی مثال کے طور پر میں خریدنا چاہتا ہوں صحیح بخاری تو میں شیخ الحدیث فضیلت شیخ العلما مسعود علم یا حافظ محمد شریف یا حافظ ارشاد الحق عطری سے پوچھتا ہوں یا شیخنا صحیح بخاری کا سب سے بیسٹ ایڈیشن کونسا ہے اگر شیخ نے کہا نسخہ جو ابھی چھپ کے ائی ہے یا مختلف جو نسخے ہیں دارالسلام یا جو بھی ہے وہ خریدیں تو ہم پھر اس کی طرف جائیں گے اگر کتاب کی تحقیق ہو چکی ہو تو اپ نے محقق کی طرف نظر دہرانی ہے اور یہ دیکھنا کہ کیا یہ جو محقق جس نے تحقیق کی ہے کتاب کی کیا وہ دقیق ہے کیا وہ صاحب علم ہے کیا اس کا کوئی بیک گراؤنڈ ہے کیا وہ معروف ہے تحقیق الکتب میں نہ کہ تحقیق اور حدیث اور حدیث کی تحقیق کی بات کر رہا ہوں یہ اس چیز کا مدنظر رکھے
[13:04]تو جدھر ان کا نام ہو اس کو انکھیں بند کر کے خریدیں اور اسی طرح طالب علم ان کمرشلائزڈ تجارتی نسخوں سے گریز کرے جس میں محقق کا عطا پتہ ناپتہ ہو کہ یہ محقق کون ہے کیا اس نے کوئی علم حاصل کیا اور جا کے اپ اس کی کتابیں لیں تو یہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تیسری چیز شیخ نے جس چیز کا ہمیں اہ جس کی اس کی طرف اشارہ کیا ہے وہ تیسری چیز الحرس عل کتاب والقرا اس چیز کا طالب علم کو حریص ہونا چاہیے کہ وہ کتابوں کی حفاظت کرے نظافت کرے اس کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھے اور اس میں پڑھے اور اس کو پڑھے اور اس کو ایک اچھے انداز میں رکھے اور اس کو ایک اچھی جگہ پر رکھے جہاں اس کے اوپر کوئی غبار نہ رکھے اور نہ لگے اور اس میں گندے برے خطوط سے نہ لکھنے کی کوشش کرے اور اسی طرح اس کو ایسی جگہ پہ نہ رکھے جدھر بچے اس کتاب کو کھلواڑ بنا کے رکھ دیں باذیشا اطفال مت بنائیے کتابوں کو اسی لیے شیخ فرماتے ہیں کتاب دلیل علم کی صفائی ستھرائی نظافت کا خیال رکھنا یہ علم کے اوپر دلالت کرتی ہے اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بندہ صاحب الکتاب الحقیقی ہے وہ علم کی علم کا خیال رکھنے والا ہے اور یہ تقوی پرہیزگاری کی بھی علامت ہو سکتی ہے اللہ تعالی قران میں فرماتے ہیں جو اللہ تعالی کے شاعر اللہ تعالی کی نشانیوں اور علامتوں کا کی تعظیم کرتا ہے تو یہ تقوی کی علامت اور دلالت ہے تقوی قلبی کی تو اسی لیے طالب علم کو چاہیے کہ وہ کتابوں کا خیال رکھے اور اس کو یعنی نعوذ باللہ بھوک نہ بنائے
[15:15]یعنی اس کتاب کو اپ نے بگلگیر لاوبلی پن میں نہیں رکھنا اور نہ اس کو صندوقچہ بنانا ہے کہ بھائی جان نعوذ باللہ جیسے کہ اج کل بعض لوگ کرتے ہیں قران میں اپنے پیسوں کو محفوظ کرتے ہیں یا کسی علمی کتاب میں پیسے رکھتے ہیں یہ کلام اللہ ہے یہ اپ کا صندوقچہ نہیں ہے یہ کتاب اللہ ہے یہ کتاب الحدیث ہے اس لیے ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے اسی طرح کتابوں کے اوپر ہمارے معاشرے میں کوئی گلاس رکھنا اور یا مشروبات کی چیزیں رکھنا یا اس کے اوپر دسترقان بچھا کے کھانا کھانا یا اس کو نعوذ باللہ کچھ لوگ اج کل بیک گراؤنڈ وہ بنانا بیک گراؤنڈ کیا بولتے ہیں اس کو بیک گراؤنڈ بنانا کیمرے کے لیے صرف اس لیے کتب کو رکھا ہے کہ وہ زینت ہے زینت کا سامان بن کے رہ گیا یا پھر نعوذ باللہ کتاب کے اوپر لیپ ٹاپ رکھنا تاکہ وہ ا جائے یا پھر کیمرے کے یا موبائل کے کو کتاب کے اوپر ہی رکھنا یا لائٹ کو یہ کیا طریقہ ہے کیا یہ تعظیم الکتاب ہے کتاب کی تعظیم میں سے ہے اس لیے بہت ضروری ہے کہ انسان اس چیز کا خیال رکھے اسی طرح شیخ فرماتے ہیں کہ کتابوں پر اگر اپ لکھیں تو اچھے طریقے سے لکھیں برے انداز میں نہ لکھیں کیونکہ بعد میں اپ کے کام ائے گا ورنہ اپ پچھتائیں گے اسی لیے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے جب دیکھا کہ حمبل بن اسحاق بہت ہی دقیق خط سے بہت چھوٹے خط سے لکھ رہے ہیں تو کیا کہا نہیں کہ وہ سب سے زیادہ اس تعلقات اس حاشیے کی ضرورت میں ہوں گے تو تب تم اس سے فائدہ حاصل نہیں کر پاؤ گے اس لیے یعنی طالب علم کو اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے اور چوتھا ادب جو شیخ نے جس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ طالب علم کتاب الذی یقرہ اسے دفتر خاص ہو یا کتاب
[17:36]وہ کہتے ہیں کہ طالب علم کو چاہیے کہ وہ جب کوئی کتاب پڑھے اس کے فوائد کے لیے الگ سے دفتر الگ سے کاپی ہو یا اسی کے اوپر وہ حاشیے میں یا شروع میں اشارہ کر دے تاکہ وہ اس کے لیے ایک فہرست کے مانند ہو تاکہ جب ضرورت ہو تو وہ اس سے فائدہ حاصل کر سکے اسی طرح انسان کو چاہیے کہ مثال کے طور پر شیخ فرماتے ہیں اپنے ایک واقعہ ذکر کرتے ہیں کہ ایک کتاب الفضل مبین علی عقد الجوہر السیمین شرہ الینییہ لجمال الدین القاسیمی یہ کتاب جمال الدین قاسمی کی ہے جو شرہ ہے بولے کہ ایک بار میں نے دیکھا اپنے مکتبے میں اس کتاب کو اور میں نے اس کو تقریبا دس سال پہلے پڑھا تھا تو جب میں نے اس کے شروع میں دیکھا تو اس میں بہت سارے فوائد تھے یعنی نوے سے زیادہ فوائد تھے یعنی ایک سو نوے سے زیادہ تو ان میں سے بعض میں بھول چکا تھا تو بجائے کہ میں پوری کتاب پڑھ تو پڑھوں تو میں نے کیا کیا میں نے پورے کے پورے فوائد کو پڑھا اور اس سے فائدہ اٹھایا اور ان میں سے کئی کو میں نے الگ سے یعنی جگہ پر لکھ دیا اسی طرح شیخ فرماتے ہیں کہ بہت سارے علماء اس طرح کیا کرتے تھے اسی لیے علماء کیا کہتے ہیں الفہم ی ی جو فہم ہے انسان کی سمجھ بوجھ ہے وہ اتی جاتی رہتی ہے لیکن الکتاب قید لیکن جو لکھنے والی چیز ہے وہ قید ہے اس کو اپ نے قید کر لیا اس کو اپ نے پکڑ لیا اس کو اپ نے اپنے شکنجے میں دبوچ لیا کہ وہ اپ کے پاس رہے گی تو اس لیے اللہ تعالی سے دعا ہوں اللہ تعالی ہمیں کتابوں کی حفاظت کتابوں کا احترام کتابوں کی نظافت صفائی اس کے ایڈیشنز اس کے محققین اور ان سارے چیزوں کا اللہ تعالی ہمیں خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے انشاءاللہ اگلی نشست میں اپ کو کتابوں کی باقی اداب پیش کی جائے گی ہمارے ساتھ رہیے گا سبحانک اللہ اشہد لا الہ الا انت استغفرک وا و السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



