[0:00]آج کل یوٹیوب پر ایک ویڈیو جو بہت زیادہ وائرل ہے اس کا ا بہت زیادہ چرچہ بھی ہے اور ہر بندہ اس کے اوپر ویڈیو بھی بنا رہا ہے۔ اور مگر میں نے کچھ اس میں سے ویڈیوز سنی بھی ہیں۔ تو اس کے اندر وہ بہت کم انفارمیشن یا نامکمل انفارمیشن دے رہے ہیں، نامکمل انفارمیشن جو ہے وہ بجائے فائدہ ہونے کے نقصان دہ۔ وہ ویڈیو کون سی ہے اپ کو اج اس کے بارے میں بتاتے ہیں۔ناظرین میں ہوں عدیل حیدر۔ ناظرین انکم ٹیکس کے حوالے سے کچھ ایگزیمپشنز جو ہیں وہ موجود ہیں انکم ٹیکس ارڈیننس کے اندر مگر ان کو استعمال کرنے کے لیے اس کی کچھ شرائط بھی ایسی رکھی گئی ہیں۔ کہ جو لوگ ان شرائط پر پورا اتریں گے وہی وہ ایگزیمپشن کلیم کر سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک ایگزیمپشن یہ ہے کہ سیکشن 115 جو ہے انکم ٹیکس ارڈیننس کا، سیکشن 115 کیا کہتا ہے؟ پرسنز ناٹ ریکوائرڈ ٹو فرنش ا ریٹرن آف انکم۔
[1:04]کہ وہ کون سے لوگ ہیں جو انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ وہ چار جو ڈیپارٹ جو انکم ٹیکس ارڈیننس کہتا ہے کہ چار لوگ ایسے ہیں، چار قسم کے لوگ ایسے ہیں وہ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے پابند نہیں ہیں مگر اس کے ساتھ کچھ شرطیں ہیں۔ وہ شرط کیا ہے؟ انکم ٹیکس ارڈیننس کا 115 سیکشن کہتا کیا ہے؟ سیکشن یہ کہتا ہے میں اس کی اپ کو بے ریڈنگ کر کے سناتا ہوں: دا فالوونگ پرسنز شیل ناٹ ریکوائرڈ ٹو فرنش ا ریٹرن آف انکم ٹیکس فار ا ٹیکس ایئر سوللی۔ اب یہاں سے جو ہے وہ بات سننے والی ہے۔ ٹیکس ایئر سوللی بائے دا ریزن آف سب سیکشن تھری، فور، فائیو، اینڈ سکس، آف کلاس بی آف سب سیکشن ون۔ آف سب آف سیکشن 114۔ کیونکہ سیکشن 114 یہ کہتا ہے کہ انکم ٹیکس کی ریٹرن کس نے فائل کرنی ہے؟ اب اس سیکشن 114 میں سے ان چار لوگوں کے اوپر جو ہے وہ ایگزیمپشن ہے۔ اس کی مگر کچھ کنڈیشنز ہیں اس کا کچھ کوئی کوئی ایسی صورتحال ہو گی تو وہ ریٹرن فائل کرنے کے جو پابند نہیں ہیں وہ کون سے چار لوگ ہیں؟ اس میں وڈو اتی ہے، اس میں اورفن آتا ہے یتیم، بلو دا ایج آف 25 ایئرز۔ اور ڈسیبل بندہ آتا ہے اور چوتھا بندہ اس کے اندر وہ ہے جو نان ریزیڈنٹ ہے اور جس کی پراپرٹی یہاں پر موجود ہے۔ اب اس کو صرف اس کی سیکشن 115 جو ہے اس کی بیر ریڈنگ ہم کر کر کے تو اس کا اصل جو مقصد ہے، اصل جو مطلب ہے اس کا ایگزیمپشن لینے کا وہ ہم حاصل نہیں کر سکتے جتنی دیر تک ہم 114 سیکشن نہیں پڑھیں گے۔ اب سیکشن 114 کیا کہتا ہے کہ ریٹرن آف انکم ٹیکس ریٹرن آف انکم ٹیکس کس بندے نے فائل کرنی ہے؟ اب وہ اس نے سب کچھ بتا دیا ہے۔ اب انکم ٹیکس کی ریٹرن فائل کرنے کے لیے جیسے کہ انکم ٹیکس اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ اگر آپ کو کوئی آمدن ہوئی ہے تو اس کے اوپر آپ نے ٹیکس دینا ہے۔ تو اس کے اندر جو کیچ ہے وہ یہ ہے کہ اس ان یہ چار لوگ جو ہیں
[3:09]یہ چار لوگ جو ہیں ان کے لیے پہلی شرط یہ ہے ایک چار لوگ وڈو، اورفن 25 سال سے کم عمر والا ڈسیبل پرسن اور جو نان ریزیڈنٹ پرسن جس کی کوئی امویبل پراپرٹی ہے۔ اگر ان کی پاکستان میں کوئی انکم نہیں ہے، تو یہ لوگ ریٹرن فائل نہیں کریں گے مگر اس کے لیے بھی کلاز تھری، فور، فائیو، اینڈ سکس آف سب سیکشن ون آف آف سیکشن 114 کی جو ہے وہ شرط لگائی گئی ہے اب وہ جو کلازز ہیں۔ سیکشن 114 ایک بی کی وہ ہم پڑھ کے سنا سکتے سن سنا دیتے ہیں کہ جس بندے کے پاس میونسپل کمیٹی میں 500 سکیئر یارڈ کا پلاٹ ہو۔ یا کوئی فلیٹ ہو جو میونسپل کمیٹی کے انڈر آتا ہو اور جو ریٹڈ ایریاز نہ ہو۔ معاف کیجیے گا۔
[4:58]اس کے علاوہ جو اس کا سب کلاس سکس ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ اس کے پاس 1000 سی سی سے نیچے نیچے اس کے پاس گاڑی ہو۔ تو سیکشن 114 تو کہتا ہے کہ یہ لوگ ریٹرن فائل کرنے کے پابند ہیں اگر ان کی کوئی انکم ہے۔ تو سیکشن 115 یہ کہتا ہے کہ اگر جن لوگوں کے پاس صرف یہ چیزیں ہیں اور ان کی امدن کوئی نہیں ہے، تو وہ ریٹرن فائل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ سو اس کے لیے ان کو اگر فرض کیا اب اگلا سوال یہ ہے کہ اگر فرض کیا کہ کسی بندے کے پاس کوئی 500 جو سکیئر یارڈ کی کوئی پرا لینڈ ہے۔
[5:37]یا اس کے پاس کوئی 2000 سکیئر فٹ کا کوئی فلیٹ ہے تو اگر فرض کیا کہ وہ اپنی زندگی میں اس کو سیل کرنا چاہتا ہے تو ڈیفینیٹلی اس کو جو ہے وہ اس کے اوپر ٹیکس لگے گا۔ اب وہ ٹیکس اس نے ظاہری بات ہے کہ وہ ریٹرن فائل کرنے کا پابند نہیں ہے جب وہ ریٹرن فائل کرنے کا پابند نہیں ہے تو وہ نان فائلر ہوگا۔ جو نان فائلر ہوگا اس کے اوپر جو پراپرٹی سیل کرنے کے جو ریٹس ہیں وہ آپ سب کو پتہ ہے کہ وہ کتنے ہائی ہیں۔ اور اگر وہ اس نے ان کی ایگزیمپشن لینی ہے اس کے لیے اگر کوئی پراپرٹی اس نے سیل کرنی ہے تو اس کو اس جہاں پہ وہ رہ رہا ہے اس کا جو انکم ٹیکس کا ایف بی آر کا ریلیونٹ زون ہے اس کے کمشنر کو اسے اپلائی کرنا پڑے گا اور اس کے اندر یہ اس کو ثابت کرنا پڑے گا کہ یہ میری پراپرٹی ہے وہ تو ثابت ہو جائے گی اس کے نام پہ ہے۔ یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ اس کا سورس آف انکم کوئی نہیں ہے۔ جب اس کا سورس آف انکم کوئی نہیں ہے تو اس کے اندر یہ ایمبیڈز میں اگر پورا اترتا ہے تو وہ اب اس کو ایگزیمپشن سرٹیفیکیٹ انکم ٹیکس ایف بی آر کا جو کمشنر ہے ریلیونٹ زون کا وہ اس کو جاری کر دے گا اور وہ اپنی پراپرٹی جو ہے وہ سیل کر دے گا اس کو ایگزیمپشن سرٹیفیکیٹ مل جائے گا۔ اگر اس کے اندر دوسری صورت یہ ہے کہ بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کی پراپرٹی ہے مگر وہ کوئی کام تو نہیں کر رہے۔ کوئی بزنس نہیں کر رہے، کہیں پہ نوکری نہیں کر رہے۔ مگر ان کا کوئی جو انویسٹمنٹ ہے ایسی پڑی ہوئی ہے بینک میں، قومی بچت میں یا کسی اور کسی ایسے انسٹی ٹیوشن میں پڑی ہوئی ہے جہاں سے ان کو پرافٹ آ رہا ہے اور پرافٹ کے اوپر ٹیکس ڈیڈکٹ ہو رہا ہے، ایٹ سورس ریڈکشن ہو رہی ہے تو وہ لوگ بھلے وہ وڈو ہو۔
[7:27]ارفن ہو۔ وہ ڈسیبل ہو یا وہ کوئی بھی نان ریزیڈنٹ پرسن ہو۔ وہ اس سیکشن 115 کی ایمبیڈز سے سیکشن 115 کے دائرہ کار سے باہر نکل جائیں گے کیونکہ ان کی پرافٹ آن ڈیٹ انکم آ رہی ہے اس لیے وہ ریٹرن فائل کرنے کے پابند ہوں گے۔ یا اگر کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی پینشن آ رہی ہے تو وہ پینشن ان کی امدن تصور ہو گی حالانکہ وہ ایگزیمپٹ ہے تو وہ اس کو جو ہے اس کی امدن کو وہ اپنی انکم ٹیکس کی ریٹرن فائل کریں گے۔ ہاں اس کے اندر ایک اور چیز ہے کہ اگر کوئی ایسا بندہ جس کے اوپر ہم ایک ویڈیو بنا بھی چکے ہیں کہ اگر کوئی ایسا بندہ جس نے 15 سال اپنی انکم ٹیکس کی ریٹرن فائل کی ہو اور 15 سال سے اس نے کوئی اگر پراپرٹی وہ جو سیل کرنا چاہ رہا ہے وہ اس نے اپنی انکم ٹیکس کی ریٹرن اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ڈکلیئر کی ہو تو وہ اس کو سیل کرنے کا ایگزیمپشن سرٹیفیکیٹ کمشنر ریلیونٹ زون کے کمشنر سے لے سکتا ہے۔
[8:21]ناظرین یہ ایک ایسی انفارمیشن تھی جو میں یہ کافی دنوں سے جو ہے وہ اس کو یوٹیوب پہ سوشل میڈیاز پہ سن رہا تھا مگر جو ہے وہ مجھے سمجھ نہیں ائی کہ نامکمل انفارمیشن جو ہے وہ لوگ کیوں دے رہے ہیں اور اس سے لوگوں کا نقصان ہوتا ہے اور یہ ایک کیونکہ نامکمل انفارمیشن جو ہے وہ نقصان کا باعث بنتی ہے نہ کہ حالانکہ وہ جو انفارمیشن دے رہے ہیں وہ جو وی لاگ بنا رہے ہیں وہ کسی کو انفارمیشن دینے کے لیے ہی بنا رہے ہیں مگر جب جب نامکمل انفارمیشن ہو گی تو وہ بجائے فائدہ دینے کے نقصان دے گی آج کے لیے اتنا ہی اجازت دیجیے اللہ حافظ۔



