[0:01]نہمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین صدق اللہ العلی العظیم و صدق رسول النبی الکریم عقیدت المحبت کے ساتھ عقیدو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھیں اللھم صلی علی سیدنا و مولانا محمد و علی آل سیدنا و مولانا محمد و بارک وسلم صلواۃ و سلام علیک یا سیدی یا سیدی یا سیدی یا مکی یا مدنی یا رسول اللہ سورۃ النحل آیت نمبر 89 میں اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے ونزلنا علیک الکتاب تبیان کل شیئ آپ پر ہم نے وہ کتاب نازل فرمائی جس میں ہر چیز کا روشن بیان موجود ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں لو دعالی قال بعیر لوجدتہ فی کتاب اللہ اگر میرے اونٹ کی رسی بھی کھو جائے
[2:05]تو میں اللہ کی کتاب میں تلاش کر سکتا ہوں اور آگے فرماتے ہیں جمیع العلم فی القرآن تمام کا تمام علم قرآن میں موجود ہے لیکن تقاصر عنھو افہام الرجال لیکن لوگوں کی عقلیں سمجھنے سے قاصر ہیں قرآن مجید فرقان حمید وہ واحد آسمانی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ رب العالمین نے خود لیا سورہ حجر آیت نمبر نو انا نحن نزلنا ذکر و انا لہ لحافظون بے شک اس قرآن کو ہم نے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے قرآن مجید فرقان حمید وہ پیاری کتاب ہے جس میں ظاہری باطنی جسمانی روحانی تمام بیماریوں کی شفا موجود ہے۔ سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 80 ارشاد فرمایا وننزل من القرآن ما هو شفاء ورحمۃ للمومنین اور ہم قرآن نازل فرماتے ہیں جس میں مومنین کے لیے شفا اور رحمت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان هذه القلوب تستع کما یستع الحدید اذا اصاب الماء نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس طرح لوہے پر پانی لگ جائے تو زنگ لگ جاتا ہے۔ ویسے دلوں پر بھی زنگ لگ جاتا ہے قیل یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم و ما جلوا ہا عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم جب دلوں پر زنگ لگ جائے تو اب یہ زنگ دور کیسے ہو قال کثرت ذکر الموت و تلاوت القران عقد جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا موت کو کثرت سے یاد کیا جائے اور قرآن پاک کی تلاوت کی جائے اس کی برکت سے دلوں کے زنگ دور ہو جاتے ہیں آخر میں قرآن پاک کی فضیلت میں یہ روایت سماعت کر لیں جب کوئی قوم اللہ کے گھر میں جمع ہوتی ہے اور اللہ کی کتاب قرآن کو پڑھتی ہے پڑھاتی ہے سیکھتی ہے سکھاتی ہے تو اس پر کیا رحمتوں کی بارشیں ہوتی ہیں مسلم اور ابو داؤد شریف میں روایت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ماجما قوم فی بیت من بیوت اللہ جب کچھ لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوتے ہیں یعنی مسجد میں اتے ہیں یلون کتاب اللہ اور وہ اللہ کی کتاب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ویا رسول بینہم اور اپس میں ایک دوسرے کو سیکھتے سکھاتے ہیں جب یہ سلسلہ ہوتا ہے تو وہ کتنے خوش نصیب ہیں الا علیہم السکینۃ رب العالمین ان پر سکینہ کو نازل فرماتا ہے۔ سکینہ فرشتوں کی ان جماعت کو کہتے ہیں۔ کہ جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ جب وہ کسی پر اتے ہیں تو اس کے دل میں سکون چین اطمینان کو نازل کر دیتے ہیں۔ یہ فرشتوں کی خاص جماعت ہے جسے سکینہ کہتے ہیں الرحمہ اور انہیں اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے الملاکہ اور اے قرآن کی محبت میں جمع ہونے والوں خوش ہو جائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زمین و اسمان ہل سکتے ہیں میرے محبوب کا فرمان غلط نہیں ہو سکتا میرے محبوب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا قران کی محبت میں جمع ہونے والوں کو فرشتے اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں۔ فی کتاب اور رب العالمین ایسے لوگوں کا ذکر اپنے فرشتوں کے سامنے فرماتا ہے۔ سورہ فاتحہ مکی سورت ہے۔ مکے کے یہ معنی ہیں کہ ہجرت سے پہلے اس سورہ مبارکہ کا نزول ہوا اس میں سات آیتیں ہیں سورہ فاتحہ کے متعلق دارمی شریف میں اور امام بہقی نے شعب الایمان میں یہ روایت لکھی کہ حضرت عبدالملک بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا فی فاتحہ الکتاب شفاء من کل داع سورہ فاتحہ میں ہر بیماری کی شفا موجود ہے۔ بزرگان دین نے لکھا کہ سات مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور 111 مرتبہ یا سلامو پڑھا جائے سات مرتبہ سیون ٹائمز سورہ فاتحہ پڑھی جائے 111 مرتبہ یا سلامو پڑھا جائے اول اخر درود پاک پڑھ کر پانی پہ دم کر کے مریض کو پلا دیں مریض خود پڑھ کے اپنے اوپر دم کر لے اللہ تعالی کی رحمت پر امید رکھیں ان شاء اللہ تعالی شفا ہو جائے گی۔ جب بھی ہم قرآن مجید فرقان حمید کی تلاوت شروع کرتے ہیں تو اعوذ باللہ پڑھتے ہیں اس کے معنی ہیں اعوذ میں پناہ مانگتا ہوں باللہ ہی اللہ کی من الشیطان الرجیم شیطان مردود کے شر سے گویا کہ بندہ جب اعوذ باللہ پڑھتا ہے تو وہ اپنی عاجزی اور اپنی کمزوری کا اظہار کرتا ہے۔ کہ پروردگار میری تو طاقت نہیں کہ میں شیطان کا مقابلہ کر سکوں میں تیری پناہ لیتا ہوں تو کرم کر دے اور شیطان کے وار سے مجھے محفوظ فرما۔ صبح فجر کی نماز کے بعد جو 11 مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ لے اور اس کے ساتھ 11 مرتبہ سورہ اخلاص قل ہو اللہ احد پڑھ لے فرمایا اللہ تعالی اس کی ایسی حفاظت فرماتا ہے کہ اگر شیطان اپنے تمام چیلوں سمیت اس پر حملہ اور ہو اور اسے بہکانے کی کوشش کرے پھر بھی شیطان پورے دن اسے بہکا نہیں سکتا اعوذ باللہ 11 مرتبہ اور 11 مرتبہ سورہ اخلاص فجر کی نماز کے بعد جب بھی ہم کوئی سورت شروع کرتے ہیں یا تلاوت شروع کرتے ہیں تو بسم اللہ شریف پڑھتے ہیں بسم اللہ اللہ کے نام سے شروع الرحمن جو بہت ہی زیادہ مہربان الرحیم رحم کرنے والا جامع البیان اور دیگر تفاسیر میں بسم اللہ کی بے شمار فضیلتیں لکھی گئیں بس اتنا یاد رکھ لیجئے کہ جس شخص کی یہ عادت بن جائے کہ ہر جائز اور نیک کام کے شروع میں بسم اللہ شریف پڑھ لے وہ کبھی ناکام اور نامراد نہیں ہوگا بس یہ عادت بنا لیجیے کہ کوئی بھی کام ہو جو جائز ہے اس کام کو شروع کریں تو بسم اللہ شریف پڑھ لیں ان شاء اللہ تعالی کامیابی ہی کامیابی ہے۔ الحمد کے معنی تمام حمد خوبیاں الحمد تمام خوبیاں للہ اللہ کے لیے ہیں رب العالمین رب کے معنی پالنے والا عالمین سارے جہان والوں کا تمام خوبیاں اس اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہان والوں کا پالنے والا سب کو روزی وہی دے رہا ہے عزت دینے والا وہی ہے بیماریوں سے شفا دینے والا وہی ہے بگڑے کام بنانے والا وہی ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس نے دنیا کو ایک ذریعہ بنایا ہم جب پانی پیتے ہیں تو ہماری پیاس بجھ جاتی ہے۔ پیاس بجھانے والا کون ہے اللہ تعالی پانی کو اللہ نے ذریعہ بنایا اگر اللہ تعالی چاہے تو ہزار مرتبہ کوئی پانی پیئے اس کی پیاس نہ بجھے اور رب العالمین چاہے تو بغیر پانی پیئے وہ پیاس بجھانے پر قادر ہے۔ لیکن اس نے ایک ذریعہ بنایا وسیلہ بنایا ایک سبب بنایا بھوک لگی ہے کھانا کھاتے ہیں بھوک مٹ جاتی ہے تو بھوک مٹانے والا رب العالمین ہے کھانا ایک ذریعہ ہے ایک سبب ہے ایک وسیلہ ہے وہ چاہے تو بغیر کھائے بھوک مٹ جائے اور وہ چاہے تو کتنا بھی کھانا کھا لیں لیکن بھوک میں کمی واقع نہ ہو۔ عقیدہ یہی ہونا چاہیے اور یہی اسلامی عقیدہ ہے کہ سب کچھ کرنے والا اللہ تعالی ہے انبیاء اولیاء یہ اسباب ہیں یہ ذرائع ہیں یہ وسیلے ہیں اللہ تعالی نے انہیں مقام و مرتبہ عطا فرمایا یہ فرشتے اللہ تعالی کی مشیت ہے اللہ تعالی فرشتوں کا محتاج نہیں ہے وہ چاہے تو ان فرشتوں کے بغیر پوری کائنات کا نظام چل جائے لیکن اس کی مشیت ہے اس کی مرضی ہے کہ اس نے فرشتوں کو یہ نظام دیا الحمدللہ رب العالمین میں یہی درس ہے کہ حقیقی طور پر پالنے والا صرف اور صرف اللہ تعالی ہے فرشتے ہوں انبیاء ہوں اولیاء ہوں انہیں اللہ تعالی نے ذریعہ اور وسیلہ بنایا رب العالمین نے ان پر کرم فرمایا اور انہیں مقام و مرتبہ عطا فرمایا الرحمن بہت زیادہ مہربان الرحیم رحم کرنے والا اللہ رب العالمین اس قدر مہربان اور اس قدر رحم کرنے والا ہے کہ اس سے اندازہ لگائیے کہ فرمایا جس قدر ماں اپنے بچے سے پیار کرتی ہے اس سے بھی 70 گنا زائد رب العالمین اپنے بندے سے محبت فرماتا ہے۔ جب رب العالمین اتنا کریم ہے اتنا رحمان ہے اتنا رحیم ہے تو کتنا بد نصیب ہے وہ بندہ جو رب العالمین کا کہنا نہ مانے رب العالمین کی نافرمانی کرے اس کریم رحیم پروردگار کی بارگاہ میں ہمیشہ کے لیے ہمیں جھک جانا چاہیے۔ مالک یوم الدین قیامت کے دن کا مالک دین کے معنی فیصلہ دین کے معنی جزا یوم کے معنی دن قیامت کے دن کا مالک فیصلے کے دن کا مالک جزا کے دن کا مالک قیامت کے دن رب العالمین اگر ناراض ہو گیا اور کسی شخص کا مرتے وقت ایمان برباد ہو گیا تو بتائیے رب العالمین کے غضب سے کیا ہماری دنیا کی دولت یہ ہمارا منصب یہ سورس ہمیں بچا سکتی ہے مالکی یوم الدین قیامت کے دن کا تو وہی مالک ہے۔ ایاک ایا خاص کا تیری خاص تیری نعبدو ہم عبادت کرتے ہیں نعبدو ہم عبادت کرتے ہیں و ایاک و کے معنی اور ایا معنی خاص کا معنی تیری اور خاص تیری نستعین ہم مدد مانگتے ہیں۔ لفظی ترجمہ تو یہی ہے۔ مگر چونکہ یہ دعا ہے اور عربی گرامر کا یہ اصول ہے یہ قاعدہ ہے کہ دعا کے مقام پر ترجمہ دعائیہ ہونا چاہیے۔ اسی لیے اس کا ترجمہ مفسرین نے فرمایا اس طرح ہوگا اے پروردگار تو ہمیں ہمیشہ یہ توفیق عطا فرما کہ ہم تیری ہی عبادت کریں اور تجھ ہی سے مدد مانگیں۔ تو یہ دعا ہے۔ جہاں پر سوال یہ ہے کہ ایاک ایاک قران میں اس ایت میں دو مرتبہ ہے۔ اگر عربی گرامر جو جانتا ہو وہ اس بات کو جانتا ہے کہ دو مرتبہ ایاک کی حاجت نہیں۔ ایک دفعہ اگر ایاک ا جائے تو وہ وہی معنی دے گا جو دو مرتبہ ایاک دیتا ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں کسی بھی لفظ کی تکرار فضول نہیں ہے۔ اس کی حکمتیں ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ مفسرین نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادت اور مدد مانگنے کو الگ الگ کرنا مقصود ہے۔ عبادت تو صرف اللہ ہی کی کی جا سکتی ہے۔ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا یا پوجا کرنا یہ شرک ہے۔ لیکن جہاں تک مدد کا تعلق ہے مدد میں یہ ہے کہ حقیقی مددگار تو صرف اور صرف اللہ تعالی ہے۔ لیکن انسان اگر اپنی زندگی کو دیکھے تو اس کی زندگی مخلوق کی مدد کے بغیر کامل اور مکمل نہیں ہوتی ماں باپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے دوستوں کی مدد کی ضرورت ہے بلکہ علم جو ہے وہ استاد کی مدد سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اور پھر اللہ تعالی نے انبیاء اولیاء اور فرشتوں کو بھی مقام عطا فرمایا۔ تو مدد میں عقیدہ یہ ہے حقیقی مددگار صرف اللہ تعالی ہے اور باقی جو بھی مدد کرے گا چاہے فرشتہ کرے چاہے نبی کرے چاہے ولی کرے چاہے عام مخلوق کو جو تھوڑا بہت مدد کرنے کا اختیار ہے حقیقی مددگار اللہ ہی ہے اور یہ تمام ذرائع اور وسائل اور اسباب ہیں۔ رب العالمین نے انبیاء اولیاء اور فرشتوں کو مقام اور مرتبہ عطا فرمایا۔ اس مضمون کو اگر دیکھنا چاہیں تو سورہ تحریم آیت نمبر چار اللہ و رسول و الذین امنوا پس بے شک اللہ ان کا مددگار ہے۔ وجبریل اور جبریل مددگار ہیں و صالح المومنین اور نیک مومن صالح مومن مددگار ہیں۔ اس ایت کریمہ میں اللہ بھی مددگار ہے جبریل بھی مددگار ہے صالح مومنین بھی مددگار ہیں۔ تو اللہ کا مددگار ہونا حقیقی ہے۔ جبریل اور صالح مومنین کا مددگار ہونا اللہ کی عطا سے ہے۔ اللہ نے انہیں مقام و مرتبہ دیا۔ سورۃ المائدہ ایت نمبر 55 انما ولیکم اللہ و رسول و الذین امنو تمہارا مددگار اللہ ہے اور اس کے رسول تمہارے مددگار ہیں۔ اور نیک مومنین تمہارے مددگار ہیں۔ اب اپ دیکھیں سورۃ المائدہ کی ایت نمبر 55 میں یہ فرمایا گیا کہ اللہ تمہارا مددگار ہے۔ اس کے رسول تمہارے مددگار ہیں اور نیک مومنین تمہارے مددگار ہیں۔ تو اس ایت کا مفہوم یہی ہے۔ حقیقی مددگار صرف اور صرف کون ہے اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور مومنین مددگار ہیں اللہ کی عطا سے۔ اس مضمون کو اگر اپ سمجھنا چاہیں تو کیسٹ کا نام ہے شرک کی حقیقت یہ کیسٹ اپ بہار شریعت مسجد سے حاصل کر لیجئے۔ شرک کی حقیقت اور اگر اپ کتاب پڑھنا چاہیں تو معیار ہدایت یہ کتاب حاصل کر لیجئے اس کا مطالعہ کیجئے تو چلا اھدی کے دو معنی ہیں۔ تو دکھا تو چلا جب ایک مومن قرآن کے راستے کو دیکھ چکا تو اب وہ جب یہ دعا پڑھے گا تو اس کے معنی ہے پروردگار اس صراط مستقیم کو ہم دیکھ تو چکے اب ہمیں اس پر چلنے اور ثابت قدمی کی بھی توفیق عطا فرما۔ ادی چلا نا ہمیں الصراط راستہ المستقیم سیدھا تو ہمیں سیدھے راستے پر چلا امین کہیے۔ اے اللہ تو ہمیں سیدھے راستے پر چلا اب سیدھے راستے کا تعین قرآن مجید فرقان حمید نے خود کیا۔ یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ سیدھا راستہ وہ راستہ ہے جو قرآن کا راستہ ہے سیدھا راستہ وہ راستہ ہے جو حدیث کا راستہ ہے۔ لیکن قرآن مجید فرقان حمید پر قربان جائیے۔ قرآن کا یہ معجزہ ہے کہ قیامت تک انے والی تمام باتوں کو قرآن نے ذکر کر دیا۔ اللہ رب العالمین جانتا ہے۔ کیسے لوگ پیدا ہوں گے جو قران کا نام لیں گے حدیث کا نام لیں گے لیکن وہ قران و حدیث کو سمجھے نہیں ہوں گے قادیانی ہیں تو وہ بھی یہی کہتے ہیں ہم قران کو مانتے ہیں قران کا نام لیتے ہیں حدیث کا انکار کرنے والے ہیں تو وہ بھی اپنے اپ کو اہل قران کہتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو قران کو ماننے والے ہیں۔ تو قران مجید فرقان حمید نے سیدھے راستے کا تعین کر دیا۔ فرمایا صراط الذین انعمت سیدھا راستہ ان لوگوں کا راستہ انعت انعام کیا اے پروردگار تو نے علیہم جن پر یعنی جن اللہ کے نیک بندوں پر انعام کیا گیا ان نیک بندوں کے راستے پر چلنے کی اے پروردگار ہمیں توفیق عطا فرما اب وہ نیک بندے قران و حدیث کو صحیح سمجھے ہیں۔ وہ نیک بندے قران و حدیث کو سمجھنے میں کامیاب ہوئے ہیں وہ کون ہیں وہ صحابہ ہیں وہ صالحین ہیں وہ شہداء ہیں وہ انبیاء ہیں سورہ نساء ایت نمبر 69 میں انعام یافتہ لوگوں کی تفصیل بیان کی گئی اور سب سے پاور فل تفسیر یہی ہے کہ قران کی تفسیر قران بیان کرے۔ ومن اللہ والرسول اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے فاولئک مع الذین اللہ علیھم تو یہ وہ لوگ ہیں کہ ان لوگوں کے ساتھ جنت میں ہوں گے۔ جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔ وہ کون لوگ ہیں من النبیین انعام یافتہ لوگ انبیاء ہیں والصدیقین اور صدیقین ہیں والشہداء اور شہداء ہیں والصالحین اور نیک صالح لوگ ہیں اب اپ دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ کرام کا عمل دیکھیں۔ البدایہ والنہایہ چھٹی جلد صفحہ نمبر 24 ابن کثیر یہ بات لکھتے ہیں جن کا سن انتقال 774 ہجری ہے اج سے تقریبا سات سو سال قبل اپ نے یہ کتاب لکھی الکامل فی التاریخ دوسری جلد صفحہ نمبر 246 ابن اثیر لکھتے ہیں جن کا سن وصال 630 ہجری ہے۔ الکامل فی التاریخ اپ نے تقریبا 800 سال قبل لکھی تھی یہ دونوں کتابیں اس وقت پورے عالم اسلام میں بڑی مشہور و معروف ہیں۔ اس پر لکھتے ہیں مسیلمہ کذاب سے صحابہ کرام نے جب جہاد کیا اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ 60 ہزار کا لشکر تھا۔ مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ ایک وقت وہ ایا کہ محسوس ہوتا تھا کہ اب شکست کھا جائیں گے۔ اس موقع پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ پہ سالار ہے۔ صدیق اکبر کا دور خلافت ہے۔ حضور کے وصال کے بعد کا واقعہ ہے اور مدینے سے سینکڑوں میل دور پر ہیں فاصلے پر ہیں۔ اس جنگ کا نام ہے جنگ یمامہ جب مشکل ائی اور صحابہ کرام کو شکست محسوس ہونے لگی ابن کثیر بھی یہ بات لکھتے ہیں اور علامہ ابن اثیر بھی یہ بات لکھتے ہیں کہ انا شعار یوم اذا یا محمد اس وقت صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مدد کے لیے پکارا اور ان کی شکست فتح میں تبدیل ہو گئی۔ صراط الذین انعمت علیھم جن لوگوں پر اے پروردگار تو نے انعام کیا ان کے راستے پر چلنے کی اے پروردگار ہمیں توفیق عطا فرما تو صحابہ کرام کا اگر عمل دیکھنا چاہیں حضور سے انہیں کیا محبت تھی وہ حضور کی کیسے تعظیم کرتے تھے تو اپ یہ کتاب کا نام نوٹ کر لیں ذکر جمیل حضرت علامہ مولانا شفیع اوکاڑوی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی لکھی ہوئی تالیف ہے ذکر جمیل صحابہ کرام کی محبت کا بھی ذکر ہے اور حضور کے معجزات کا بھی ذکر ہے۔ حضور کی شان بھی ہے حضور کی طاقت جو اللہ نے اپ کو عطا فرمائی اس کا ذکر بھی ہے۔ اور مختصر پڑھنا چاہیں تو معتبرک شریف کی برکتیں اس عنوان سے اپ کتاب حاصل کر لیجئے مفتی غلام غوث بغدادی دامت برکاتہ العالیہ کی لکھی ہوئی تالیف ہے۔ اس میں صحابہ کرام کو تبرکات سے جو عقیدت تھی اور خصوصا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے منہ مبارک سے اس عقیدت کا بیان ہے۔ اللہ تعالی ہمیں بھی صحابہ کرام کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعظیم و توقیر کرنے کی توفیق عطا فرما۔ غیر المغضوب علیہم غیر کے معنی نہ مغضوب غضب کیا گیا علیہم جن پر نا ان لوگوں کا غضب کیا گیا جن پر وضالین گمراہ اب اس ایت کا مفہوم یہ ہے اے پروردگار تو ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تو نے اپنا فضل فرمایا اور ان لوگوں کے راستے پر چلنے سے محفوظ فرما جن پر غضب کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے ان کے راستے سے پروردگار ہم سب کو محفوظ فرما اس کے اخر میں ہم کہتے ہیں امین امین کے معنی الہی قبول فرما الہی ایسا ہی کر حدیث پاک میں ہے کہ جب بندہ امین کہتا ہے تو امین کی برکتوں سے اللہ تعالی اس کی افات و بلیات کو دور فرما دیتا ہے۔ ائیے سورہ فاتحہ ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اس لیے اس کا ترجمہ ایک مرتبہ ہم مل کے پڑھ لیتے ہیں تاکہ نماز کے دوران جب ہم اس سورت کو پڑھیں تو یہ ترجمہ ہمارے ذہنوں میں رہے۔ بسم اللہ اللہ کے نام سے شروع الرحمن جو بہت زیادہ رحم کرنے والا الرحیم مہربان الحمد تمام خوبیاں للہ اللہ ہی کے لیے ہیں رب العالمین جو سارے جہان والوں کا پالنے والا الرحمن بہت ہی زیادہ رحم کرنے والا الرحیم بہت مہربان مالکی یوم الدین قیامت کے دن کا مالک ایاک خاص تیری نعبد ہم عبادت کریں و ایاک اور خاص تیری نستعین ہم مدد مانگیں اہدی تو چلا نا ہمیں الصراط المستقیم سیدھے راستے پر



