Thumbnail for Shan e Quran | Qazi Matiullah Saeedi | Qazi Matiullah Saeedi New Bayan 2025 by SM786

Shan e Quran | Qazi Matiullah Saeedi | Qazi Matiullah Saeedi New Bayan 2025

SM786

18m 3s2,331 words~12 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[0:08]کتابیں پہلے بھی نازل ہوئیں۔ توارات بھی اللہ کی کتاب، انجیل بھی اللہ کی کتاب، زبور بھی اللہ کی کتاب.
[0:08]دائیں بائیں دیکھ رہے ہوں گے تو میں تو چہرے پڑھ کے بات کرنے کا عادی ہوں۔ توارات ائی کتاب کی شکل میں، انجیل نازل ہوئی کتاب کی شکل میں، زبور نازل ہوئی کتاب کی شکل میں۔ اللہ فرماتے ہیں موسیٰ کوہ طور پہ آئیے توارات دوں گا.
[0:08]توارات کتاب کی شکل میں اور کتاب کی شکل ہوتی ہے کہ یوں کتاب آپ کے گھروں میں موجود ہے.
[0:08]آپ کے بچے کے اسکول کے بیگ میں ہے دونوں طرف گتا ہے کتاب کی ایک شکل ہے۔ توارات بھی کتاب کی شکل میں، انجیل بھی کتاب کی شکل میں، زبور بھی کتاب کی شکل میں.
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]قرآن اللہ کی لاریب کتاب ہے بے عیب کتاب ہے.

[0:08]کتابیں پہلے بھی نازل ہوئیں۔ توارات بھی اللہ کی کتاب، انجیل بھی اللہ کی کتاب، زبور بھی اللہ کی کتاب. وہ ساری کتاب اللہ ہے، یہ اعزاز فقط قرآن کے حصے میں آیا ہے یہ کلام اللہ ہے۔ ان چار کتابوں کے علاوہ 110 صحیفے بھی نازل ہوئے۔ یہ جتنے صحیفے اور کتابیں نازل ہوئیں یہ ساری کی ساری کتاب کی شکل میں۔ کس شکل میں؟ مجھے دیکھیں گے تو میں بات سناؤں گا آپ کو. دائیں بائیں دیکھ رہے ہوں گے تو میں تو چہرے پڑھ کے بات کرنے کا عادی ہوں۔ توارات ائی کتاب کی شکل میں، انجیل نازل ہوئی کتاب کی شکل میں، زبور نازل ہوئی کتاب کی شکل میں۔ اللہ فرماتے ہیں موسیٰ کوہ طور پہ آئیے توارات دوں گا. عیسیٰ اپنے عبادت خانے میں تشریف لائیے، انجیل عطا کروں گا. داؤد اپنے عبادت خانے میں ائیے، زبور عطا کروں گا. توارات کتاب کی شکل میں اور کتاب کی شکل ہوتی ہے کہ یوں کتاب آپ کے گھروں میں موجود ہے. آپ کے بچے کے اسکول کے بیگ میں ہے دونوں طرف گتا ہے کتاب کی ایک شکل ہے۔ توارات بھی کتاب کی شکل میں، انجیل بھی کتاب کی شکل میں، زبور بھی کتاب کی شکل میں. وہ کتاب کی شکل میں نازل ہوئیں، آ کر بکھر گئیں، ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔ قرآن کتاب کی شکل میں نہیں آیا بکھر کر آیا۔ کبھی کوئی آیت آئی، کبھی کوئی پاہ پارہ، پارے کا کوئی حصہ، کبھی کوئی سورت. وہ کتاب کی شکل میں نازل ہوئیں، آ کر بکھر گئیں، یہ بکھر کر آیا، ایسا جڑا اب قیامت تو آ سکتی ہے اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔

[2:19]ایک دفعہ ذرا پھر مسکرا دو۔

[2:30]اب یہ ٹائم تو میرے خیال میں اپ کو پیار کرنے میں لگ جائے گا منت کرنے میں لگ جائے گا۔

[2:36]اب دیکھیں اگر اجازت ہو تو میں آپ کے ذہن پہ ابتداء کے پانچ منٹ بس وزن دے لوں تھوڑا سا. جو میں بات پوچھ رہا ہوں اس بات کا جواب دوں. آپ کی اجازت ہو تو آپ کے ذہن پہ تھوڑا سا زور دے لوں.

[3:00]اگر اپ توجہ سے سنیں گے نا تو آپ کو بے تکے داد بھی نہیں دینی پڑے گی۔

[3:09]صرف توجہ سے سن لیں مجھے۔ چاچا جی تشریف لا رہے ہیں۔ ماشاء اللہ.

[3:19]یہ چونکہ اچھا میری بات سنیں، یہ حضرت نے فرما دیا تھا کہ حرکت ہو برکت ہو، لیکن میرے خیال میں اگر صرف سن لیں نا تو وہ بہتر رہے گا۔ اس طرح آنے جانے میں میری، میرے لفظ سارے جو ہے نا وہ دائیں بائیں بکھر جائیں گے۔

[3:38]اب آپ کی اجازت لے کر میں تھوڑا سا زور دے رہا ہوں، ورنہ زیادہ نہیں انشاء اللہ اس کے بعد آسان کر لیتا ہوں بات. یہ آپ کا منٹھار کا علاقہ اس کا تعارف ہے۔ کوئی شخصیت ہے اس کا ایک تعارف ہے. آپ تشریف فرما ہیں آپ کا ایک تعارف ہے۔ قرآن کا تعارف کیا ہے۔ میں اپنے ذوق میں ایک جملہ حضرات علماء کرام کی خدمت میں سنانے چلا ہوں سبق سنانے چلا ہوں۔ میں نے جب قرآن سے پوچھا قرآن کیا ہے تو اللہ رب العزت فقط تین جملے ارشاد فرماتے ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں ہدن الناس وبینات من الھدی والفرقان. ہدایت ہے انسانوں کے لیے. وہ بینات من الھدی ہدایت کی نشانیاں لے کر آیا. والفرقان. اللہ فرماتے ہیں اسے میں نے فرقان بنا کے بھیجا ہے. یہ فرق کر دیتا ہے۔ حق علیحدہ کر دیتا ہے۔ باطل علیحدہ کر دیتا ہے۔ سچ علیحدہ کر دیتا ہے۔ جھوٹ علیحدہ کر دیتا ہے۔ کھرا علیحدہ کر دیتا ہے۔ کھوٹا علیحدہ کر دیتا ہے۔ مومن علیحدہ کر دیتا ہے، منافق علیحدہ کر دیتا ہے۔ اس میں میں نے فرقان بنا کے بھیجا۔ اب اس میں صرف میں پہلا جملہ لے رہا ہوں جو میں نے آپ کی اجازت لے کر آپ کے دماغ پہ زور ڈالنے لگا ہوں. هدن الناس ہدایت ہے کس کے لیے؟ انسان کیا ہے؟ دو چیزوں کا مرکب ہے انسان۔ ایک ہے جسم اور ایک ہے روح۔ ایک ہے جسم اور ایک ہے روح۔ جسم کا تعلق زمین سے ہے۔

[5:35]عناصر اربعہ سے بنایا اللہ نے آپ کا جسم. مٹی زمین سے. پانی زمین سے. آگ زمین سے. ہوا.

[5:50]میری بات سمجھ آ رہی ہے۔ ہوا کہاں سے؟ مٹی کہاں سے؟ ہوا بھی زمین سے۔ ہوا وہاں تک ہے جہاں تک زمین کی کشش ثقل ہے۔

[6:05]تو ہوا کا تعلق بھی زمین سے ہے. اللہ نے آپ کا جسم بنایا زمین سے تو اس کے لیے غذا بھی بنائی ہے زمین سے. روح کا تعلق آسمان سے ہے تو اس کے لیے غذا بھی اتاری ہے آسمان سے۔

[6:38]اب آپ دیکھیں گے مجھے. سبحان اللہ.

[6:44]اب حضرت تشریف لائے ہیں مجھے کیسے پتہ چلتا میں تو ادھر دیکھ رہا ہوں۔ آپ کے چہروں سے پتہ چلا کہ حضرت تشریف لے آئے۔

[6:55]قرآن مجید اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کے قلب اطہر پر نازل فرمایا۔ اپنے محبوب کے قلب اطہر پر نازل فرمایا۔ اور جیسے حضرت فاروقی صاحب فرما رہے تھے نا کہ دو قرآن. اب یہ جملہ ہو سکتا ہے. کسی کو کھٹکے بھی سہی لیکن بات یہ ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ سے سوال کیا گیا کہ حضور کا اخلاق کیا ہے. تو ام المومنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا.

[7:28]اور بلند آواز سے کہہ دو میں نے تو کہا پہلے آسانی سے مان جاؤ گے لیکن آپ کی منت کرنی ہی پڑی مجھے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا ہے. قرآن جتنا ہے وہ سارے میرے آقا کی سیرت ہے۔ اسی قرآن مجید سے ایک ائے کریمہ میں نے آپ حضرات کے سامنے تلاوت کی ہے اگر آپ توجہ دیں گے سادہ سا ترجمہ آپ کی خدمت میں انشاء اللہ نقش ہو جائے گا۔ اللہ فرماتے ہیں یا ایھان الناس اے انسانوں. یا ایہان الناس اے نسل انسانیت. یا ایہان الناس اے آدم کے بیٹوں. یا ایہان الناس اے انسان کہلانے والو. یا ایہان الناس انسانیت کا دعویٰ رکھنے والو. جی اللہ کیا حکم ہے؟ اللہ فرماتے ہیں قد جاکم الرسول آ گیا. کم تمہارے پاس آ گیا رسول آ گیا. اللہ رسول تو پہلے بھی آئے ہیں آپ نے اس انداز میں بات نہیں فرمائی. اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ کب کہا کہ قد جاکم الرسول رسول آ گیا. نہیں قد جاکم الرسول رسول نہیں الرسول آ گیا. انگلش میں کسی لفظ سے پہلے ٹی ایچ ای دی لگ جائے معنی خاص ہو جاتا ہے. عربی میں کسی لفظ سے پہلے الف لام لگ جائے معنی خاص ہو جاتا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ نہیں کہا قد جااکم رسول رسول آ گیا. نہیں قد جااکم الرسول الرسول آ گیا. میرا پیارا آ گیا، میرا حبیب آ گیا، میرا محبوب آ گیا. سیدہ آمنہ کی گودی میں میرا محبوب آ گیا. عبداللہ کا در یتیم آ گیا. صدیق کا یار آ گیا. بلال کا غمخوار آ گیا. آنے والے پہلے بہت سے آئے۔ لیکن اب وہ آئے جن کے آنے کی زمانے کو ضرورت تھی. وہ آئے جن کے لیے بے چین فطرت تھی. وہ آئے نغمہ داؤد میں جن کا ترانہ تھا. وہ آئے مسترق تھی جن کے لیے وادی بطحہ. وہ آئے جن کی بشارت دے گئے حضرت عیسیٰ. وہ آئے جن کے دم سے عرش اعظم پر اجالا تھا. ارے لوگوں وہ آئے جن کے قدموں کے لیے کعبہ ترستا تھا۔ رسول نہیں الرسول آ گیا، میرا پیارا آ گیا، میرا لاڈلا آ گیا. آنے والے پہلے بہت سے آئے۔ جو پہلے آئے وہ صرف نبی آقا نبیوں کے نبی. جو پہلے آئے وہ صرف رسول آقا رسولوں کے رسول. جو پہلے آئے ان کے لیے صرف نبوت آقا کے لیے ختم نبوت. جو پہلے آئے ان کے لیے کتاب اللہ آقا کے لیے کلام اللہ. جو پہلے آئے ان کا معراج فرش پر رہا آقا کا معراج. یہ سمجھ کے بول رہے ہو یا ویسے ہی مجھے خوش کرنے کے لیے بول رہے ہو۔

[10:25]الرسول میرا پیارا آ گیا میرا لاڈلا آ گیا میرا حبیب آ گیا. آمنہ کا لال آ گیا. عبداللہ کا در یتیم آ گیا. صدیق کا یار آ گیا. بلال کا غمخوار آ گیا۔ وہ آ گیا. جملہ آتے گئے میں کی کراں.

[10:54]میں کہوں وہ حساب نہ ہو جائے وہ ایک حضرت صاحب. اظہر یونیورسٹی تو پڑھ کے ائے مصر تو. پرانے دور دی. دے بعد. مصر تو الازہر یونیورسٹی تو پڑھ کے ائے اپنے اسٹیشن تے اک پنڈ اچ ا کے اترے تے سامنے ویکھیا اک بندہ ریڑی تے گلگپے پیا ویچدا. جدوں بندہ پڑھ کے آ وے تے ذہن تے خمار ہوندا ہے نا یونیورسٹی دا. او وں ا کے کہندے نے بھیا یہ جو تم بیچ رہے ہو یہ آددا بیچتے ہو یا و زنا بیچتے ہو.

[11:37]بھئی گن کے ویچدے ہو یا تول کے. اور ریڑی والا کہندا ہے حضرت میں نہ آددن بیچتا ہوں نہ و زنن بیچتا ہوں میں گل گپے بیچتا ہوں۔

[11:51]الرسول آ گیا. آج لو اللہ ایسے حضرات کو ہدایت عطا فرمائے. جو قوم میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں کہ کون کیسا سمجھتا ہے حضور کو میرے آقا جیسا کوئی نبی بھی نہیں ہے. میرے آقا جیسا کوئی رسول بھی نہیں ہے. میرے آقا جیسا کوئی پیغمبر بھی نہیں ہے. آقا تو امیر حرم. میں فقیر عجم تیرے گن اور یہ لب میں طلب ہی طلب تو عطا ہی عطا. تو کجا من کجا. تو حقیقت میں میں صرف احساس ہوں. تو سمندر میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں. میرا گھر خاک پر تیری رہ گزر سدرۃ المنتہی. تو کجا من کجا. میرا ملبوس ہے پردہ پوشی تیری مجھ کو تاب سخن دے خاموشی تیری. تو جلی میں خفی تو اٹل میں نفی تو ظلہ میں گلا تو کجا من کجا۔ تو کجا من کجا سمجھ نہ ائے تو یوں سمجھو جیسے پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی انہوں نے کہا تھا کتھی مہر علی. کتھی تیری ثنا. گستاخ اکھیاں کتھی جا اڑیاں. اور میاں محمد بخش کھڑی شریف والے جنہوں نے سیف الملوک کا کلام لکھا ان دا نام ہے محمد وہ کہتے ہیں میں محمد ٹھگو لوگو میں محمد چور. میں محمد ٹھگو لوگو میں محمد چور۔ جدہا لوکی کلمہ پڑھدے او محمد ہو۔ الرسول آ گیا. میرا پیارا آ گیا. میرا لاڈلا آ گیا. جس کی انتظاریں تھی وہ آ گیا. جس کے سر پر میں نے ختم نبوت کا تاج سجایا ہے وہ آ گیا. مقصود کائنات بن کر، مرکز کائنات بن کر، ہادی کائنات بن کر، روح کائنات بن کر. طبیب کائنات بن کر، حسن کائنات بن کر، رونق کائنات بن کر، بہار کائنات بن کر، فخر موجودات بن کر، جمیل الحسنات بن کر، جامع البرکات بن کر، خیر الانام بن کر، سید العرب والعجم بن کر. جمیل السیم بن کر، تاجدار حرم بن کر، چراغ حرم بن کر، عدل بے عدل بن کر، دعائے خلیل بن کر، لطف رب جلیل بن کر، صادق و امین بن کر، خیر الوراء بن کر، بدرالدجیٰ بن کر، شمس الضحیٰ بن کر احمد مجتبیٰ بن کر آ گیا ہے۔ وہ صبح ربی کی سحر کا اجالا. وہ جس کو پہاڑوں نے صدیوں میں پالا. جسے حق نے خود آپ سانچے میں ڈالا. وہ جس نے اندھیروں سے ہم کو نکالا. وہ برکت کا پرتو وہ رحمت کا جھالا. وہ آدم تا عیسیٰ سبھی کا حوالہ. فلک چاند سورج ستارے گواہ ہیں. زمیں کے حسیں سب نظارے گواہ ہیں. وہ آیا ہے جس نے جہاں کو سنبھالا. حسن کی نزاکت امنگوں کی مالا. وہ ہر نوری بشری سے بہتر و بالا. جو سمجھے تو کوئی اسے ہوش والا. وہ ہر معجزے میں نبیوں سے اعلیٰ. وہ تقویم احسن میں سب سے نرالا. وہ آدم نے اپنی نگاہوں میں دیکھا. وہ تخلیق قدرت کی باہوں میں دیکھا. وہ عزت میں اول، عظمت میں اول، شوکت میں اول، رفعت میں اول، عفت میں اول، عصمت میں اول، چاہت میں اول، یوسف سے پہلے، صالح سے پہلے، یحییٰ سے پہلے. وہ توحید رب کی سنانے ہے آیا. وہ امت کو سینے لگانے ہے آیا۔ وہ آباد کرنے جہاں آ گیا ہے. وہ سب کی خوشی کا سامان آ گیا ہے. کون آیا؟ وہ کسریٰ کے کنگرے گرے جا رہے ہیں. یہودی بھی دیکھو مرے جا رہے ہیں. مسیحی بھی ماتم کرے جا رہے ہیں. جمال معلیٰ کمال تعالیٰ نگاہوں کی جنت نبوت کا تالہ. وہ مقصود کون و مکان آ گیا ہے. حرا سے وہ سوئے فاران آ گیا ہے. روایت بتانے اسانہ آ گیا ہے. خدا کا زمین پر بیان آ گیا ہے. وہ سارے کا سارا قرآن آ گیا ہے۔ دس تے وج گئے نے.

[16:04]میں کہا دس ہو گئے.

[16:11]صدقے جاواں.

[16:16]وہ سارے کا سارا قرآن آ گیا. وہ سارے کا سارا آپ علماء سے سنتے رہتے ہیں. قرآن مجید کا ترجمہ حضرت لاہوری نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا حضرت شاہ عبدالعزیز مقدسی دہلوی نے لکھا. میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں مجھ سے پوچھو تو قرآن کا ترجمہ سب سے پہلے رب نے خود لکھا۔ خوش کا بندہ نہ بولے بے ذوق والے کے. رب نے خود لکھا خود لکھا ہاں سیدہ آمنہ کے لال کی صورت میں۔

[16:56]اسی لیے کہا کرتا ہوں ایک یہ قرآن جو 30 پاروں میں ہے اور ایک وہ قرآن جو سیدہ عائشہ کے حجرے میں ہے. یہ بھی اعلی وہ بھی اعلی. یہ بھی بالا وہ بھی بالا. یہ بھی نرالا وہ بھی نرالا. یہ بھی سچا وہ بھی سچا. یہ بھی سچا وہ بھی سچا. یہ بھی لا رہب وہ بھی لا رہب. یہ بھی بے عیب وہ بھی بے عیب. یہ بھی حسین جو والضحیٰ کے چہرے والا ہے۔ اس کے پارے حسین اس کے نظارے حسین. اس کی ستریں کالی اس کی زلفیں کالی. یہ ہدایت وہ ہادی یہ وعظ وہ وعظ. یہ دعوی وہ دلیل.

[17:40]جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ مقصود کون و مکان آ گیا ہے. حرا سے وہ سوئے فاران آ گیا ہے. روایت بتانے اچھا یہ بھی کوئی نہ کہہ دے کہ یہ محض الفاطی ہے. اگر اسی آیت مبارکہ میں 10 بندے بھی میرے مزاج والے ہوتے تو میں ایک جملہ پیش کرتا آپ کی خدمت میں یہ یا ایھا الناس.

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript