[0:00]انسان کی کان انسان کی انکھیں انسان کا دل کل اولئک کان عنہ مسولہ کل قیامت والے دن ان سب کے بارے میں انسان سے پوچھا جائے گا۔ لہذا انسان جو ہے وہ ایسی باتوں کے پیچھے مت پڑھے جاسوسی نہ کرے کنسویاں نہ لے جس کے بارے میں انسان کو جو ہے وہ علم نہیں ہے اور اسی طرح سے جس سے انسان کی کوئی غرض اور مقصد نہیں ہے۔ یقینا باطل مٹ نہیں والا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چھڑی تھی اور اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہ مکہ کے اندر رکھے ہوئے 360 بتوں کو اپنی چھڑی سے گراتے جاتے اور ساتھ میں یہ ایت پڑھتے جاتے تھے۔ وقل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوق یہ اصحاب کہف کون تھے۔ ان کی تفصیلات اللہ رب العزت نے تقریبا جو ہے وہ یہاں پر دو رکوع میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان کا واقعہ اللہ رب العزت نے بیان کیا ہے۔ یہ ایک بادشاہ گزرا ہے جس کا نام دکیا نوس تھا۔ اس کے زمانے کی بات ہے وہ بذات خود بتوں کی پوجا کرتا، بتوں کی عبادت کرنے کا لوگوں کو حکم دیتا۔
[0:58]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم بااحسان الی یوم الدین۔ رمضان المبارک کی مناسبت سے خلاصہ مضامین نے قران مجید کے حوالے سے اج ہماری پندرویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم پندرویں پارے میں سورہ بنی اسرائیل اور اس کے بعد تقریبا تین حصے ایک تہائی جو ہے وہ سورۃ الکہف کے بارے میں اس کے مضامین کے بارے میں انشاء اللہ تعالی جاننے کی کوشش کریں گے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور اپ سب کو قران مجید کے ساتھ اس رمضان میں بطور خاص اپنے تعلق کو گہرا اور مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیوں میں قران مجید کے جو احکام ہیں ان کو حقیقت میں اپنی زندگیوں میں لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ سب سے پہلے سورہ بنی اسرائیل ہے جس میں اللہ رب العزت نے بنی اسرائیل کے حوالے سے کچھ چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ ابتدائی ایت میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ لنریہ من ایاتنا انہ هو السمیع البصیر۔ یقینا وہ ذات بڑی پاکیزہ ہے جس نے اپنے بندے کو مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصی تک اسرا کا سفر کروایا اور وہ اللہ رب العزت جس نے اس اقصی میں اس سرزمین کے اندر اپنی بڑی برکتیں رکھی ہیں تاکہ اپنی نشانیاں اللہ رب العزت اپنے اس بندے کو دکھائیں۔ اس سورت کی ابتداء میں اللہ رب العزت نے ایک خاص واقعہ جو کہ اسرا اور معراج کا واقعہ کہلاتا ہے یہ ہجرت سے قبل پیش ایا اور بعض کا موقف ہے کہ یہ واقعہ جو ہے وہ رجب میں پیش ایا اور بعض کا موقف ہے کہ یہ واقعہ جو ہے وہ ربیع الاول کے مہینے میں پیش ایا۔ معاملہ دراصل کچھ یوں ہوا کہ اللہ رب العزت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ مختلف روایات کے اندر موجود ہے اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام حطیم میں سو رہے تھے تو وہاں سے فرشتوں نے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو جگایا اور جو ہے وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی ایک سواری جس کو براق کہا جاتا ہے جو ہے وہ خچر نما سواری تھی اس کے اوپر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا اور اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو مسجد اقصی تک سفر کروایا تو جو پہلا حصہ ہے وہ اسرا کہلاتا ہے اور جو دوسرا حصہ ہے وہ مسجد اقصی سے پھر اللہ رب العزت نے اسمانوں پر نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو بلوایا اور وہاں پر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف انبیاء سے ملاقاتیں ہوئیں سدرۃ المنتہی جو عرش اللہ رب العزت کے عرش کے نیچے کا حصہ ہے ساتویں اسمان کے اوپر وہاں اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو لے جایا گیا۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت اور جہنم کے مختلف مناظر دکھائے گئے اور اس کے علاوہ بے شمار نشانیاں ہیں اب اس حوالے سے جو مختلف اراء پائی جاتی ہیں بعض لوگوں نے یہ کہا کہ یہ اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو جو اسرا اور معراج کروایا گیا یہ حالت بیداری میں نہیں تھا۔ بلکہ یہ خواب کی ایک کیفیت تھی یہ بات درست نہیں ہے اگر خواب کی کیفیت ہوتی ہے تو یہ معجزہ نہیں کہلاتا بلکہ جو ہے وہ حقیقت میں یہ معجزہ بنتا ہی تب ہے کہ جب اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ رب العزت نے حالت بیداری میں اور فزیکل اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے جسم کے ساتھ اللہ رب العزت نے اپ کو یہ سفر کروایا اور اس کے اندر اللہ رب العزت نے اپنی بہت ساری نشانیاں جو ہیں وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائیں۔ تو یہ ایک خاص معجزہ ہے جو اللہ رب العزت نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا اور اس کے بعد اللہ رب العزت نے اسی سورت کے اندر اس بات کا ذکر بھی فرمایا کہ اس جو واقعہ ہے اس کو اللہ رب العزت نے بہت سارے لوگوں کے لیے فتنہ بنا دیا اور جیسے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے اس واقعہ کے حوالے سے جب خبر پہنچی تو کفار نے بطور خاص پوچھا کہ کیا ایک شخص کہتا ہے کہ وہ اتنا میلوں کا سفر جو ہے وہ کر کے جائے اور یہاں سے جو ہے وہ یروشلم پہنچ جائے پھر اس کے بعد وہاں سے وہ اسمانوں کا سفر کر کے ائے تو کیا ایک رات کے اندر ایسا ممکن ہے تو ظاہری اسباب کے اعتبار سے تو ایسا ممکن نہیں تھا سو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس بات کا انکار کیا فرمایا ایسا تو ممکن نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا لو بھائی بات تو بن گئی اور فورا کہا کہ اپ کے وہ ساتھی جن کی اپ جو ہے وہ نبوت پر ایمان لائے ہیں وہ ایسا کہتے ہیں فرمایا اگر وہ کہتے ہیں تو پھر یقینا یہ بات سچ ہے اور اسی وجہ سے اللہ رب العزت نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو صدیق کا لقب تصدیق کرنے والے کا لقب جو ہے وہ عطا فرمایا تو اس واقعہ کا اس سورت کے ابتداء میں ذکر ہے۔ اس کے بعد جو ہے وہ اس سورت کی ایت نمبر تھری میں اللہ رب العزت نے فرمایا ذریۃ من حملنا مع نوح انہ کان عبدا شکورا اس کے بعد اللہ رب العزت نے یہ جو نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا کے حوالے سے طوفان نوح کے بعد کا طوفان نوح کے بعد کی جو حالات ہیں ان کا ذکر کیا ہے اور ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد اسی وجہ سے نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو ادم ثانی کہا جاتا ہے۔
[5:21]کہ بعد کی جتنی بھی نسل ہے وہ اللہ رب العزت نے نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے ان تینوں بیٹوں سے جاری رکھی جو کہ سام حام اور یافت تھے ان بیٹوں سے اللہ رب العزت نے نسل انسانی کو اگے بڑھایا تو اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ایت نمبر تھری اور فور میں اللہ رب العزت نے بنی اسرائیل کے ایک جو ایٹیٹیوڈ ہے اور ان کا جو بیہیو ہے اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ بات کتاب میں لکھ دی کہ تم زمین کے اندر دو مرتبہ فساد مچاؤ گے اور بہت بڑی جو ہے وہ تم اس طرح کے اللہ تعالی کی نافرمانی کے کام کرو گے۔ اور اس کے بعد جب ان لوگوں نے بطور خاص جو ہے وہ ان فسادات میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے جو ہے وہ تقریبا یہ 600 قبل از مسیح کی بات ہے اس وقت ان لوگوں نے یا تو اللہ رب العزت کے نبی شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو قتل کیا یا پھر اللہ تعالی کے نبی ارمیا علیہ الصلوۃ والسلام کو قتل کیا تو اللہ رب العزت نے ان کے اوپر ایت نمبر فائیو کے مطابق بخت نصر کو جو ہے وہ مسلط کیا اور اس نے ان یہودیوں کا گاجر مولی کی طرح اور درختوں کی طرح بے دریغ قتل کیا جس کا اللہ رب العزت نے یہاں ذکر فرمایا ہے۔ فذا جاء وعد اولاهما بعثنا علیکم عباد لنا اولی باس شدید فجاسوا خلال الدیار وکان وعدا مفعولا یعنی بڑا ہی سخت اور جنگلو قسم کا بندہ اللہ رب العزت نے ان کے اوپر جو ہے وہ مسلط کیا اور اس نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دی تو یہ یہود ہیں جن کے اوپر تقریبا چھ مرتبہ بہت بڑی بڑی اللہ رب العزت کی اس طرح کی ازمائشیں ائی کہ ان کو پورا نیست و نابود کر دیا گیا ان کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا اور پھر جو چند لوگ باقی بچے تو پھر پھر ان سے ان کی نسل جو ہے وہ اگے بڑھتی چلی گئی۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر نائن میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے ان ھذا القران یهدی للتی هی اقوم و بشر المومنین الذی عملون الصالحات قران مجید ہی ذریعہ ہدایت ہے اگر کوئی شخص ہدایت پانا چاہتا ہے تو قران مجید کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے اس کو اسی راستے کو اپنانا چاہیے۔ اور اسی طرح سے یہ قران مجید جو ہے وہ نیکیاں کرنے والے کو نیک اعمال کرنے والوں کو مومنین کو خوشخبری دیتا ہے کہ اللہ رب العزت کے ہاں ان کا جو ہے وہ بہت بڑا اجر اللہ تعالی نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 13 میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ وکل انسان الزمنا طائرہ فی عنق ہم نے ہر انسان کی جو تقدیر ہے اس کے گلے میں لٹکا دی ہے۔ اس سے بعض مفسرین نے نامہ اعمال مراد لیا ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کا نامہ اعمال اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے اور بعض نے تقدیر جو ہے وہ اس کے گلے میں لٹکانے کی جو ہے وہ یہاں سے تفصیل کی ہے۔ اور اللہ رب العزت فرماتے ہیں اس کے بعد اقرا کتابک کفا بنفسک الیوم علیک حسیبا قیامت والے دن اللہ رب العزت اس کو فرمائیں گے کہ یہ جو تیرے اعمال ہیں جو اج تیرے گلے میں طوق کی طرح لٹکا دیے گئے ہیں ان سب کو تو پڑھ لے یہی تیرا اعمال نامہ ہی تیرے لیے کافی ہو جائے گا۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 16 میں ایک اپنا خاص جو ہے وہ اصول ذکر کیا ہے اور ایک طریقہ کار ہے اللہ رب العزت کا پکڑ فرمانے کا اللہ فرماتے ہیں ان نرادنا ان نھلک قریہ امرنا بطرفہ ففسقوا فیھا فحق علی القول فدمرنا تدبیرا جب ہم کبھی کسی بستی کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہاں پر وہاں کی جو اشرافیہ ہوتی ہے وہاں کو جو متمول طبقہ ہوتا ہے وہاں کی جو کریم ہوتی ہے جو کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں ان کو جو ایلیٹ کلاس ہوتی ہے اللہ رب العزت ان کو جو ہے وہ حرام کاریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں یعنی وہ سب سے پہلے گناہ شروع کرتے ہیں پھر اس کے بعد جو ہے وہ گناہ ہوتے ہوتے اہستہ اہستہ مڈل کلاس میں جاتے ہیں پھر اس کے بعد جو ہے وہ لوور کلاس میں چلے جاتے ہیں اور اس طرح سے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ ہماری حجت اس قوم کے اوپر قائم ہو جاتی ہے اور ہم ان کا دنیا سے نام و نشان مٹا دیتے ہیں اس ایت اس سورت کے رکوع نمبر تین میں اللہ رب العزت نے ابتدا میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اللہ تعالی نے تقریبا تقریبا قران مجید میں جب بھی اپنے حقوق کی بات کی ہے اپنی عبادت کا ذکر کیا ہے تو اس کے ساتھ ہی اللہ رب العزت نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر کیا ہے اور یہاں بطور خاص ارشاد فرمایا کہ تیرے رب نے یہ فیصلہ کر دیا ہے یہ حکم دیا ہے کہ اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور ان میں سے اگر ان دونوں میں سے وہ دونوں یا کوئی ایک اگر بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں فرمایا کہ ان کے سامنے بطور خاص اس وقت یعنی بڑھاپے میں تو بطور خاص اور جوانی میں بھی ان کے سامنے کلمہ اف تک نہ کہو ولا تنہرہما اور نہ تم ان کو ڈانٹ سکتے ہو وکلہما قولا کریما اور ہمیشہ والدین کے سامنے اچھی نرم بات کیا کرو اور جو ہے وہ جھکی ہوئی بات کیا کرو وخذلہما جناح الذل من الرحمہ ان کے سامنے اپنا جو نرمی کا کندھا ہے نرمی کا پہلو اس کو جھکا کے رکھو ورب الرحمہما کما ربانی صغیرا بڑی پیاری دعا اللہ رب العزت نے سکھائی ہے ہمیشہ ان کے لیے دعا کرو کہ اللہ رب العزت میرے والدین کے اوپر یوں رحم فرما جیسے وہ بچپن میں میرے اوپر رحم کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے قریبی رشتہ داروں کو حق دینے کا حکم دیا ہے ان کو اپنے مالوں میں شریک کرنے کا حکم دیا ہے مسکینوں کو مسافروں کو اور فرمایا کہ کبھی بھی فضول خرچی نہ کرنا کیونکہ ایت نمبر 27 میں اللہ نے فرمایا ان المبذرین فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہوتے ہیں وکان الشیطان بربی کفورا اور شیطان تو یقینا اللہ رب العزت کا بڑا ہی ناشکرہ ہے۔
[10:09]پھر اللہ رب العزت نے ایت نمبر 29 میں کنجوسی سے بچنے کا حکم دیا ہے ولا تجعل يدک مغلوله الى عنقک ولا تبسطها کل البسط نہ تو بالکل اپنے ہاتھوں کو گردن کے ساتھ لگا لو بالکل کنجوسی کے اپنی ذات پر بھی انسان خرچ نہ کرے اللہ کی راہ میں نہ خرچ نہ کرے اپنے جو ہے وہ اولاد پر اپنے بہن بھائیوں پر والدین پر بھی خرچ نہ کرے اور نہ ہی اللہ رب العزت نے فرمایا کہ بالکل ایک دم یوں کشادگی کا سلسلہ شروع کر دو کہ بس جو ہے نا وہ فضول خرچی اور جو ہے وہ سب کچھ اڑا کے رکھ دو بلکہ فرمایا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اس کا نقصان یہ ہوگا کہ فتعدل ملوما محصورا تو ایسے ملامت زدہ اور تھکا ہوا ہو جائے گا یعنی کہ تیری انتہا ہو جائے گی ان ربک یبسط رزق لمن یشاء و یقدر رزق اصل میں اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے جس کے لیے اللہ رب العزت چاہتے ہیں اس رزق کو کشادہ کر دیتے ہیں اور جس کے لیے چاہتے ہیں اللہ رب العزت جو ہے وہ اس رزق کو تنگ کر دیتے ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت نے اگلے رکوع میں رکوع نمبر فور میں بہت سارے کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا ہے جن میں سے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اپنی اولاد کو بھوک کے ڈر سے ختم نہ کرو اس کو قتل نہ کرو یہ کبیرہ گناہ ہے اسی طرح سے ولا تقربوا الزنا اللہ رب العزت نے فرمایا کہ زنا کے قریب نہ جاؤ یہ بڑا ہی بے حیائی کا کام ہے بڑا ہی برا راستہ ہے۔ ولا تقتلوا النفس التي حرم اللہ الا بالحق اللہ رب العزت نے فرمایا کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو اور اسی طرح سے ولا تقربوا مال اليتيم الا بالتی احسن یتیموں کا مال نہ کھاؤ وافو بال عہد وعدے پورے کرو کیونکہ وعدوں سے متعلق قیامت والے دن باز پرس ہوگی۔
[11:30]وافو بالکيل اذا کلتم و زنوا بالقسط المستقیم لوگوں کو جب جو ہے وہ تم وزن کر کے دو تو وزن کو ماپ اور تول کو جو ہے وہ پورا پورا کیا کرو پھر ارشاد فرمایا ولا تقفو مالیس لک بہ علم یعنی بہت ساری معاشرتی برائیوں کا اللہ رب العزت نے یہاں تذکرہ کیا ہے ولا تقفو مالیس لک بہ علم اللہ فرماتے ہیں کہ اس بے پتے بات کے پیچھے مت پڑھو جس کا تمہیں علم نہیں ہے یعنی کنسویاں لینے کی کوشش نہ کرو کیوں ان السمع والبصر والفوائد انسان کے کان انسان کی انکھیں انسان کا دل کل اولائک کان عنہ مسولہ کل قیامت والے دن ان سب کے بارے میں انسان سے پوچھا جائے گا۔ لہذا انسان جو ہے وہ ایسی باتوں کے پیچھے مت پڑھے جاسوسی نہ کرے کنسویاں نہ لے جس کے بارے میں انسان کو جو ہے وہ علم نہیں ہے اور اسی طرح سے جس سے انسان کی کوئی غرض اور مقصد نہیں ہے پھر فرمایا ولا تمش فی الارض مرحا زمین کے اندر کبھی بھی اکڑ کر مت چلو انک لن تخلق الارض ولن تبلغ الجبال طولا نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ ہی تم پہاڑوں کی بلندی کو چھو سکتے ہو۔ لہذا اللہ رب العزت نے ان معاشرتی برائیوں سے منع کیا ہے اگلے رکوع میں اللہ رب العزت نے ایت نمبر 42 میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ اگر جیسا کہ مشرکین مکہ اور دیگر مشرکین اللہ تعالی کے ساتھ دوسرے معبودوں کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود بھی ہوتے اذلبتغوا الی ذلعرش سبیلا تو یقینا اج وہ عرش تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہوتے اللہ تعالی کے سامنے جا کر اللہ تعالی سے العیاذ باللہ من ذالک اختیارات جو ہے وہ ان کو تقسیم کرنے کی بات کر رہے ہوتے جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے اللہ رب العزت نے اپنے سوا کوئی بھی ایسی ہستی جو ہے وہ پیدا نہیں کی۔ اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں کہ مشرکین مکہ اور مشرکین اج تک کے جو مشرکین ہیں ان کی صورت حال یہ ہے کہ وجعلنا علی قلوبهم کن یفقہہ و فی اذانهم مقرا ان کے دلوں پر ہم نے ایک جو ہے وہ پردہ ڈال دیا ہے اور ان کے کانوں میں ہم نے ایک ڈاٹ اور جو ہے وہ بوجھ ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے ان کو کوئی بھی بات سمجھ نہیں اتی۔ اور جب بھی قران مجید میں اکیلے اللہ تعالی کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کی طبیعتوں پر بڑا گراں گزرتا ہے اور فورا وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں یعنی اکیلے اللہ تعالی کا توحید کا ذکر سننے کو تیار ہی نہیں ہیں یہ مشرکین کی اللہ رب العزت نے فطرت اور ان کی نیچر جو ہے وہ یہاں پر بتائی ہے۔
[13:38]اگلے رکوع میں اللہ رب العزت ایت نمبر 58 میں فرماتے ہیں وما من قریہ الا نحن مہلک قبل یوم القیامۃ او معذبوہ عذابا شدیدا ذالک فی الکتاب مسورا کفار کی جتنی بھی بستیاں ہیں قیامت سے پہلے کیونکہ قیامت میں تو تمام کی تمام بستیاں ختم ہو ہی جائیں گی اللہ نے فرمایا کہ قیامت انے سے پہلے کفار کی تمام بستیوں کو ایک نہ ایک مرتبہ اللہ رب العزت کے حکم کے ساتھ ان کا مٹایا جانا ان کو عذاب دیا جانا اور شدید قسم کے جو ہے وہ سزا کا شکار کرنا اللہ فرماتے ہیں یہ بات جو ہے وہ اللہ رب العزت نے کتاب کے اندر یعنی لوح محفوظ کے اندر لکھ کے رکھ لی ہے۔
[14:11]اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 60 میں یہ بات فرمائی کہ ہم نے ایک تو اس واقعہ معراج کو اور دوسرے نمبر پر شجرہ ملعونہ یہ شجرہ ملعونہ کیا ہے شجرہ ملعونہ اصل میں تھور کا درخت ہے جس کو تھور بھی کہا جاتا ہے تھور کا درخت بھی کہا جاتا ہے اسی کو اللہ رب العزت نے دوسری سورت میں فرمایا ہے تو یہ درخت جو ہے وہ جو کہ جہنمیوں کا پھل ہے اللہ نے فرمایا کہ ان چیزوں کو ہم نے مشرکین کے لیے اور اسی طرح سے کفار کے لیے ہم نے ایک فتنہ اور ازمائش بنا دیا ہے یعنی وہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات کا انکار کرتے ہیں اسی طرح سے جنت اور جہنم کا ایک انکار کرتے ہیں اسی طرح سے اللہ رب العزت نے ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ذکر کیا جب ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کیا تو فرشتوں کو اور اسی طرح سے ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم دیا لیکن ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا پھر اس کے بعد اللہ رب العزت نے ابلیس کے حوالے سے یہ بات ارشاد فرمائی جب ابلیس نے کہا کہ اے اللہ اب میں اور بھی لوگوں کو گمراہ کروں گا تو اللہ رب العزت نے ایت نمبر 64 میں یہ بات ارشاد فرمائی اپنی اواز کے ساتھ جتنے لوگوں کو تو پھسلا سکتا ہے پھسلا لے اور اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ ان کے اوپر اپنے پیادے اپنے سوار ان کے اوپر جو ہے وہ ان کو چھوڑ دے ان کے مالوں میں ان کی اولادوں کے اندر تو شریک ہو جا ان کو جتنے تو نے وعدے دینے ہیں دے لے اللہ فرماتے ہیں کہ شیطان کے وعدے تو سارے کے سارے دھوکے کے وعدے ہوتے ہیں تو میرے بندوں پر تیری کوئی دلیل تیرا کوئی وعدہ نہیں چلے گا اللہ رب العزت ان کو کافی ہیں اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں جب تمہیں کبھی سمندر میں ہوتے ہو کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہاں پر تمہیں کشتیاں بھور میں پھنس جاتی ہیں کوئی ازمائش اتی ہے کوئی اللہ تعالی کی طرف سے افت اتی ہے تو پھر کیا کرتے ہو اللہ کے سوا پھر کس کو پکارتے ہو پھر تو صرف اللہ ہی بچتا ہے تمہارے پاس اور جب اللہ رب العزت تمہیں وہاں سے نجات دے دیتے ہیں تو تم اللہ تعالی سے اعراض کرنے لگتے ہو اور انسان تو ہے ہی ناشکرہ اسی طرح سے اللہ رب العزت فرماتے ہیں تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر تم خشکیوں میں جب تم ا جاتے ہو تو کیا اللہ تمہاری پکڑ نہیں فرما سکتے وہ اللہ جو سمندروں میں تمہاری پکڑ کرنے پر قادر ہے جہاں اسی کو پکار کے تم اپنی جان بخشی کرواتے ہو نجات پاتے ہو پھر اس کے بعد خشکیوں میں ا کے پھر اس کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہو وہ اللہ تمہیں خشکیوں میں بھی پکڑنے پر قادر ہے اور اگر وہ یہاں پکڑ لے گا تو بتاؤ پھر کہاں جاؤ گے لہذا منع یہ ہے کہ جو سمندروں کا مالک ہے وہی خشکیوں کا مالک ہے وہی جنگلات کا وہی صحراؤں کا ڈیزرٹس کا ہر ہر جگہ کا وہی اللہ رب العزت مالک ہے۔ پھر اللہ رب العزت نے ایت نمبر 70 میں انسان کی ایک جو باقی مخلوق پر اللہ رب العزت نے فضیلت عطا فرمائی ہے اس کا ذکر کیا ہے وہ فضیلت جو ہے وہ بے شمار چیزوں میں ہے۔ تمام چیزوں سے اشرف المخلوقات بنایا اللہ رب العزت نے جسامت اللہ کے عطا فرمائی ہے عقل و شعور عطا فرمایا بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں زمین کا مالک بنایا زمین کے اندر تصرف اختیارات کرنے جو ہے وہ استعمال کرنے والا بنایا ساری چیزوں کو اللہ رب العزت نے انسان کے لیے مسخر کیا ہے اس کا ذکر کیا اور یہ جو فضیلت ہے یہ ہر انسان کو حاصل ہے وہ چاہے کافر ہو چاہے جو ہے وہ مسلمان ہو چاہے کسی بھی اس سے تعلق رکھتا ہو یہ فضیلت تمام لوگوں کو حاصل ہے۔ پھر اللہ رب العزت فرماتے ہیں ایت نمبر 71 میں یوم ندعو کل اناس بامام قیامت والے دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں کے ساتھ بلائیں گے بعض لوگوں نے کہا اماموں سے مراد انبیاء ہیں بعض نے دیگر جو لوگوں نے اپنے اپنے طور پر امام بنا رکھے ہیں وہ مراد لیے اور بعض مفسرین نے جیسا کہ ابن کثیر رحمہ اللہ انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر انسان قیامت والے دن اپنا نامہ اعمال لے کر ائے گا کیونکہ اگلے الفاظ میں اللہ نے فرمایا کہ جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنی کتاب کو اپنے نامہ اعمال کو پڑھیں گے اور ان کے اوپر جو ہے وہ ایک ذرے کے برابر بھی کھجور کی جو ہے نا وہ جلی کے اندر جو ایک دھاگہ ہوتا ہے اس کے برابر بھی ان لوگوں کے اوپر ظلم نہیں کیا جائے گا تو اس سے مراد جو ہے وہ نامہ اعمال ہیں جو قیامت والے دن سب لوگوں کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس کے مطابق ان کے فیصلے ہوں گے اس کے بعد اللہ رب العزت نے دوبارہ سے ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ذکر کیا جب ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کیا تو فرشتوں کو اور اسی طرح سے ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور جو ہے وہ شیطان کے بارے میں طور خاص ارشاد فرمایا کہ جب ابلیس نے انکار کیا اور جب ابلیس نے انکار کیا کانہ من الجن بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شیطان جو ہے وہ اللہ کے مقرب فرشتوں میں سے تھا فرشتوں میں سے نہیں تھا مقربین میں ضرور شامل تھا لیکن فرشتہ نہیں تھا قران کے ہی الفاظ اسی بات پر دلالت کرتے ہیں شیطان جو ہے وہ جنوں میں سے تھا اور اس نے اللہ رب العزت کے حکم کی نافرمانی کی جس کی وجہ سے اللہ رب العزت نے اس کو راندہ درگاہ قرار دیا۔
[23:03]اس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں ایت نمبر 55 میں لوگوں کو ایمان لانے میں رکاوٹ جو ہے وہ سب سے بڑی اس بات کی ہے کہ لوگ کیا کرتے ہیں چونکہ ان کے بڑے لوگ ایمان نہیں لائے تھے تو اسی کی وجہ سے یعنی اپنے اباؤ اجداد کے دین پر چلتے ہوئے پہلے لوگوں کے دین پر چلتے ہوئے لوگوں نے جو ہے وہ شعور کا انکار کیا ایمان کا انکار کیا اور اللہ رب العزت کی طرف سے دیے گئے جو دلائل ہیں ان دلائل کا انکار کیا۔
[23:51]اس جو ہے وہ پارے کے اخری رکوع میں رکوع نمبر جو ہے وہ 21 ہے اس پارے کا اور سورت کا رکوع نمبر نائن ہے اس کا اور اس کے ساتھ جو ہے وہ رکوع نمبر 10 بھی ہے جس میں اللہ رب العزت نے دونوں رکوع کے اندر مکمل تفصیلات کے ساتھ یہ واقعہ بیان کیا ہے۔
[24:59]واقعہ دراصل کچھ یوں تھا کہ ایک شخص نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا کیا اپ کے اس علاوہ اپ سے بڑا بھی کوئی عالم دین موجود ہے تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مجھ سے بڑا کوئی عالم دین موجود نہیں ہے تو اللہ رب العزت نے موسی علیہ السلام کو فرمایا کہ اپ سے بڑے بھی عالم دین موجود ہیں۔
[25:48]اور جو ہے وہ اپ اپ سے بڑے عالم دین موجود ہیں تو موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا کہ اللہ وہ مجھے کہاں ملیں گے تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اپ مجمع البحرین پر چلے جائیے مجمع البحرین کون سی جگہ ہے یہ بحر احمر میں وہ جگہ ہے جہاں پر خلیج عقبہ اور خلیج سوئیس یہ دونوں اپس میں ملتی ہیں اور بحر احمر میں داخل ہوتی ہیں وہ جگہ ہے وہاں پر اپ چلے جائیے تو وہاں جا کر اپ کو ہمارا وہ بندہ ملے گا۔
[29:16]موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ساتھ یوشع بن نون علیہ الصلوۃ والسلام کو لیا جو موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے جانشین ہوئے تھے ان کو ساتھ لیا اور ساتھ میں کچھ کھانے کے لیے مچھلی لی اور فرمایا کہ جو ہے وہ ہم ایک خاص موقع پر پہنچیں گے اور وہاں جا کر اس بندے کا ہم انتظار کریں گے اور وہاں جا کر موسی علیہ الصلوۃ والسلام جب پہنچے اور وہاں پر اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی ملاقات جو ہے وہ خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہوئی جب خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ملاقات ہوئی تو وہاں پر اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو جو ہے وہ اپنا سارا معذرت بتایا اور انہوں نے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا کہ اپ میرے ساتھ چلیے لیکن اپ کسی بھی بات کوئی سوال نہیں کریں گے۔
[40:02]خضر علیہ السلام کون ہیں بعض لوگوں نے کہا اللہ تعالی ان کو ہدایت نصیب فرمائے وہ کہتے ہیں کہ خضر علیہ السلام ایک ولی تھے اور ولیوں کی شان العیاذ باللہ من ذالک نبیوں سے زیادہ ہوتی ہے ایسا ممکن نہیں ہے ہاں یہ ممکن ہے کہ خضر علیہ السلام کو بھی اللہ رب العزت نے نبی ہی بنایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے اگر وہ نبی نہ بھی ہوں تو اس سے ہرگز یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ کسی ولی کی جو شان ہے وہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ ہوتی ہے ایسا نہیں ہے اللہ تعالی نے انبیاء کو بھی مختلف قسم کے درجات رکھے ہیں۔ اسی طرح سے اللہ رب العزت جس بندے کے چاہیں اپنے درجات جو ہے وہ اللہ رب العزت ان کے بڑھاتے چڑھاتے ہیں لیکن یہ پکی بات ہے کہ جو دیگر عام لوگ ہوتے ہیں وہ کبھی بھی انبیاء سے بڑھ کر ان کی شانیں اور ان کی فضیلتیں نہیں ہوا کرتی تو اللہ رب العزت نے ان کا جو ہے وہ تفصیلات کے ساتھ تذکرہ کیا ہے موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جب ان کے ساتھ چلنا شروع کیا تو اتفاق یہ ہوا کہ جب وہ کسی جگہ سے گزرے اور ساتھ انہوں نے نصیحت بھی کی۔ کہنے لگے اللہ رب العزت نے چاہا تو اپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی بھی اپ کی بات کی مخالفت نہیں کروں گا اس کے بعد جو ہے وہ جب چلنا شروع کیا اب پہلا ہی واقعہ یہ ہوا کہ جب وہ کشتی میں بیٹھے تو کشتی کو توڑ دیا۔
[41:30]خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے رہا نہیں گیا فرمایا کہ کیا اپ نے یہ کشتی اس وجہ سے توڑ دی ہے تاکہ کشتی والے غرق ہو جائیں بیچارے اپ نے تو بڑا بھاری اور بڑا عجیب کام کیا ہے فرمانے لگے خضر علیہ السلام اے موسی علیہ السلام میں نے اپ سے کہا نہیں تھا اپ سے صبر نہیں ہوگا۔ فرمایا کہ ہاں ایک مرتبہ معاف کیجئے درگزر کیجئے جو کچھ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے البتہ یہ ہے کہ میرے اوپر زیادہ سختی نہیں کیجئے میں انشاءاللہ دوبارہ کوشش کروں گا کہ دوبارہ اپ سے سوال نہ کروں۔ جب وہ پھر اگے چلے ان کی ملاقات ایک بچے سے ہوئی تو خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا کیا اس بچے کو قتل کر دیا۔ جیسے ہی اس کو قتل کیا تو موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے پھر نہ رہا گیا فرمانے لگے اپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی وجہ کے یعنی بغیر کسی جو ہے وہ بدلے کے یعنی اس نے کسی اور کو قتل بھی نہیں کیا کسی کا نقصان نہیں کیا پھر بھی اپ نے ایک بچے کو قتل کر دیا۔ اپ نے تو بڑا ہی برا کام کیا ہے اس کے ساتھ ہی ہمارا اج کا جو ہے وہ درس مکمل ہوتا ہے باقی انشاءاللہ تفصیلات اگلے پارے میں ہم ڈسکس کریں گے اللہ سے دعا ہے کہ جو کچھ میں نے اپ کے سامنے بیان کیا مجھے اور اپ سب کو سمجھنے عمل کرنے اور اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے استغفراللہ لی ولکم ولل سائر المسلمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



