[0:00]حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک چرواہا جنگل میں بھیڑیں چرا رہا تھا۔ اس کے پاس ایک بھیڑیا آیا اور بولا مجھے ایک بھیڑ دے دو۔ چرواہے نے حیران ہو کر جواب دیا یہ بھیڑیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ملکیت ہیں۔ میں تو بس ان کا رکھوالا ہوں۔ بھیڑیا بولا تو جا کر حضرت سلیمان سے پوچھ لو کہ کیا وہ مجھے ایک بھیڑ دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ چرواہے نے کہا مجھے ڈر ہے کہ اگر میں چلا گیا تو تم بھیڑوں پر حملہ کر دو گے۔ بھیڑیا ہنسا اور بولا جب تک تم واپس نہ ا جاؤ میں خود بھیڑوں کی نگرانی کروں گا۔ اللہ نہ کرے کہ میں خیانت کروں لیکن اگر میں نے خیانت کی تو میں اخری امت کا قرب خیانت والا ایک ادمی بن جاؤں۔ یعنی اپنے اپ کو بد دعا دی کہ یعنی موجودہ مسلمانوں کی طرح ہو جاؤں جو کہ افسوسناک ہے۔ یہ سن کر چرواہا روانہ ہو گیا۔ چلتے ہوئے چرواہے نے تین عجیب و غریب مناظر دیکھے۔ پہلا منظر اس نے ایک گائے کو اپنی ہی بچی کا دودھ پیتے دیکھا۔ حیران ہو کر اس نے سوچا سبحان اللہ میں نے اس جیسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ دوسرا منظر اگے بڑھا تو ایسے لوگ دیکھے جو پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے مگر ان کے ہاتھوں میں سونے کی تھیلیاں تھیں۔ چرواہے نے سوچا یہ بھی بڑی عجیب بات ہے ان کے پاس سونا ہے مگر یہ پھر بھی فقیر نظر ا رہے ہیں۔ تیسرا منظر کچھ اور اگے بڑھا تو ایک بہتا ہوا چشمہ نظر ایا۔ پیاس کی شدت میں جیسے ہی قریب پہنچا تو بدبو نے اسے روک دیا۔ پانی کی بدبو اتنی شدید تھی کہ وہ پیچھے ہٹ گیا اور حیران ہو کر بولا یہ کیسی بات ہے بہتا ہوا پانی اور اتنا گندا۔ اخر وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا اور بھیڑیے کی درخواست بیان کی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہے میں نے اسے اجازت دی کہ وہ ایک بھیڑ چن کر کھا لے۔ چرواہے نے عرض کیا حکم بجا لاتا ہوں مگر راستے میں تین عجیب چیزیں دیکھی ہیں ان کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں۔ پہلے مناظر کا جواب یہ اخری زمانے کی نشانی ہے۔ مائیں اپنی بیٹیوں کو فتنہ میں مبتلا کریں گی تاکہ خود فائدہ حاصل کر سکیں۔ دوسرے مناظر کا جواب یہ لوگ ڈاکو اور چور ہیں جو مال حرام سے اتا ہے اس میں برکت ختم ہو جاتی ہے۔ اخری زمانے میں حرام کمائی عام ہو جائے گی قناعت ختم ہو جائے گی اور برکت اٹھا لی جائے گی۔ تیسرے مناظر کا جواب یہ بھی اخری زمانے کے ان جھوٹے عالموں اور دینداروں کی مثال ہے جن کا ظاہر تو بہت اچھا ہو گا مگر باطن دنیا کی لالچ اور گندگی سے بھرا ہو گا۔ یہ سن کر چرواہے نے تڑپ کر کہا میں اس زمانے کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ چرواہا واپس ایا تو دیکھا کہ بھیڑیا واقعی بھیڑوں کی نگرانی کر رہا تھا۔ اس نے کہا حضرت سلیمان نے تمہیں اجازت دے دی ہے کہ تم کسی بھی بھیڑ کو چن کر کھا سکتے ہو۔ بھیڑیے نے بھیڑوں پر نظر دوڑائی اور ایک کمزور بیمار بھیڑ کو چن لیا۔ چرواہے نے حیرت سے پوچھا تم نے یہی بھیڑ کیوں چنی؟ بھیڑیا بولا کیونکہ یہ اپنے رب کی تسبیح سے غافل تھی۔ جو اپنے رب کے ذکر سے غافل ہو وہ بہت بڑی ازمائش میں ہوتا ہے۔

Hazrat Sulaiman (A.S) aur Bhairaya Ka Waqia. #HazratSulaiman #IslamicShorts #Shorts
Roshni Ke Musafir
2m 39s579 words~3 min read
YouTube auto captions
Transcript source
YouTube auto captions
This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.
Use this transcript
Related transcript hubs
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


