[0:00]ساتھیوں پاک افغان سرحد پر بار بار کی جھڑپیں شاید آپ کو نیا فیکٹر لگتا ہو لیکن درحقیقت یہ انریسٹ صدیوں سے چل رہا ہے۔ محمود غزنوی سے احمد شاہ ابدالی تک کتنے ہی وار لارڈز انہی راستوں سے دریائے سندھ کی وادیوں پر حملہ اور ہوتے رہے اور لوٹ مار کر کے واپس چلے جاتے رہے۔ رنجیت سنگھ نے انہی کو روکنے کے لیے پشاور کے قلعہ بالاحصار پر قبضہ کیا اور موجودہ پاک افغان سرحد والی سائیڈ پر چوکیاں بنائیں۔ جب ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہوا تو افغان امیر عبدالرحمن خان نے سیکرٹری خارجہ سر مرٹیو ڈیورنڈ کے ساتھ مل کر مشرقی افغان سرحد کی مارکنگ مکمل کی تھی۔ ایک لیگل ایگریمنٹ سائن کیا گیا۔ افغان امیر عبدالرحمن اس پر بہت خوش تھے اور وہ اپنی بائیوگرافی میں لکھتے ہیں کہ سرحدوں کے طے ہو جانے کے بعد امن قائم ہو گیا ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ ہمیشہ قائم رہے۔ مگر کیا ہوا کہ برصغیر سے انگریزوں کے چلے جانے کے بعد افغانستان نے اس طے شدہ سرحد کو ڈیورنڈ لائن کہہ کر بارڈر ماننے سے انکار کر دیا۔ افغانستان کے اڑھائی ہزار سالہ تاریخ پر ہماری ڈاکومنٹری سیریز کی یہ قسط اسی ڈیورنڈ لائن پاک افغان سرحد کے بارے میں ہے۔
Transcript source
YouTube auto captions
This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.
Use this transcript
Related transcript hubs
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS



