[0:00]کیا اپ نے کبھی سوچا ہے جس زمین پر اپ کھڑے ہیں اس کے ٹھیک نیچے کیا ہے؟ ہم ہمیشہ اوپر دیکھتے ہیں اسمان کی طرف لیکن انسانی تاریخ کا سب سے بڑا راز اوپر نہیں بلکہ نیچے دفن ہے۔ پرانی کہانیوں میں ذکر ملتا ہے چھپے ہوئے راستوں کا ایسے راستے جو تباہیوں سے بچنے کے لیے بنائے گئے۔ جہاں عبادت کی جاتی تھی اور جہاں بڑی بڑی حکومتوں نے اپنے گہرے سیکرٹس چھپائے۔ ترکش شہر ڈیرنکوو جہاں 20 ہزار لوگ زمین کے اندر رہتے تھے۔ امریکہ کی وہ قدیم کہانیاں جہاں لوگ تباہی سے بچنے کے لیے نیچے اتر گئے۔ اور رشیا کا وہ ریسٹرکٹڈ پہاڑ جس کے اندر دنیا کا سب سے بڑا کمپلیکس بنا ہے۔ یہ تین الگ الگ جگہیں لیکن ایک ہی سچائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ انسانوں نے ہمیشہ اپنے سیکرٹس کو اپنے رازوں کو زمین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے۔ اخر اس گہرائی میں کیا ہے اور وہاں جانے سے اج بھی کون روک رہا ہے؟ زمین کے نیچے ایک پوشیدہ دنیا کا پہلا ٹھوس ثبوت 1960 کی دہائی میں ترکی میں سامنے ایا۔ کیپٹوشیا میں ایک شخص اپنے گھر کی مرمت کر رہا تھا۔ اس نے ایک دیوار گرائی اور دیکھا کہ اس کے پیچھے فاؤنڈیشن کے پتھر نہیں بلکہ ایک سرنگ تھی۔ وہ سرنگ اگے بڑھتی بڑھتی راستوں میں تقسیم ہوتی ہوئی زمین کی اور گہرائی میں اترتی گئی۔ اس نے جو دریافت کیا تھا وہ ایک ایسے شہر کا داخلی راستہ تھا جو صدیوں سے بند تھا۔ جس کا وجود بھلا دیا گیا ہے۔ اج ہم اس جگہ کو ڈیرن کوو کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ زمین کے نیچے تقریبا 280 فٹ کی گہرائی میں موجود ہے اور ابھی تک کی معلومات کے حساب سے 18 لیولز تک پھیلا ہوا ہے۔ ارکیولوجسٹ کا اندازہ ہے کہ اس میں ایک وقت 20 ہزار لوگ سما سکتے تھے۔ جہاں خاندان مویشی غذا کے ذخائر اور پانی کے لیے جگہ بھی تھی۔ عملی طور پر یہ ایک چھوٹے سے قصبے کے برابر تھا لیکن پوری طرح زمین کے نیچے پوشیدہ۔ اس کا اسٹرکچر اور ڈیزائن کافی حیران کن ہے۔ تنگ راستے بڑے کمیونل ہالز میں کھلتے ہیں۔ گول پتھر کے دروازے جن میں سے کچھ کا وزن ادھا ٹن ہے۔ وینٹیلیشن شافٹس کئی لیولز سے گزرتی ہوئی تازہ ہوا پہنچاتی تھیں۔ کچھ اتنی گہری ہیں جتنے جدید ہائی رائز ٹاورز کو الٹا کر دیا جائے۔ یہاں کنویں موجود تھے جن سے پانی نکالا جاتا تھا۔ اسٹوریج رومز باورچی خانے اور چھوٹے چیپلز سب اس ولکینک پتھر میں تراشے گئے تھے۔ ڈیرن کوو جلد بازی میں کھودا گیا کوئی عارضی شیلٹر نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل طور پر چلتا ہوا شہر تھا جو زمین کے نیچے لمبے عرصے تک زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے باقاعدہ انجینئر کیا گیا تھا۔ پر اسے بنایا کیسے گیا تھا؟ یہ ابھی تک ایک مسٹری ہے۔ ولکینک پتھر میں ایک کمرہ تراشنا تو سمجھ اتا ہے لیکن لاکھوں کیوبک فٹ پتھر کو کھودنا کمروں کو مضبوط کرنا ایسی ایئر شافٹس کاٹنا جو اج بھی کام کرتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ صرف ہاتھ کے اوزاروں سے کرنا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ارکیولوجسٹ کا کہنا ہے کہ اسے 100 بی سی یعنی قریب 2100 سال پہلے کھودا گیا تھا۔ لیکن پھر بھی وینٹیلیشن شافٹس کی پریسیژن اور ہٹائے گئے پتھر کا اتنا بڑا والوم ان اوزاروں سے میل نہیں کھاتا جو تاریخ دان کہتے ہیں کہ اس وقت دستیاب تھے۔ جدید انجینئرز نے تسلیم کیا ہے کہ اج بھی ایسے اسٹرکچر کو کاٹنا اور برقرار رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ لیکن اخر اسے بنایا ہی کیوں گیا؟ اس کی عام وضاحت یہ ہے کہ یہ ایک پناہ گاہ کے طور پر کام کرتا تھا۔ تاریخ میں دیکھا جائے تو کیپٹوشیا پر بار بار حملے ہوئے ہیں۔ جو پرشینز، بائیزنٹینز اور منگولز نے کیے تھے۔ زمین کے نیچے غائب ہو جانے کی صلاحیت ایک مضبوط ڈیفنس ہوتی ہے۔ اس کانسیپٹ سے دیکھا جائے تو ڈیرن کوو ایک بڑا بنکر تھا۔ ایک ایسی جگہ جہاں ہزاروں لوگ اوپر کے خطرے سے بچنے کا انتظار کر سکتے تھے۔ لیکن یہ ایکسپلینیشن اس بات کا جواب نہیں دیتی کہ اگر مقصد صرف تھوڑے وقت کے لیے پناہ لینا تھا تو یہاں عبادت گاہیں اور شراب خانے کیوں بنائے گئے۔ یعنی مقصد جو بھی تھا ٹیمپرری شیلٹر نہیں تھا۔ کچھ ریسرچرز یہ تجویز بھی دیتے ہیں کہ پتھر میں تراشی گئی مذہبی جگہیں روحانی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ ڈیرن کوو کو لیئر بائی لیئر جنریشن افٹر جنریشن بڑھایا گیا تھا۔ ڈیرن کوو 1960 کی دہائی تک گمنام رہا اس لیے نہیں کہ یہ تباہ ہو گیا تھا بلکہ اس لیے کہ اس کے داخلی راستے بند کر دیے گئے تھے۔ صدیوں تک اوپر رہنے والوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ ان کے گھروں کے بالکل نیچے کبھی ایک پورا شہر اباد ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ اب بھی اس کے کچھ حصے بند اور کچھ راستے بلاکڈ ہیں۔ ارکیولوجسٹ کو شک ہے کہ یہاں اس سے بھی گہرے لیولز موجود ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نقشہ کبھی نہیں بنایا گیا۔ یہاں کے لوکلز کا دعوی ہے کہ یہ سرنگیں میلوں تک پھیلی ہوئی ہیں جو ڈیرن کوو کو کیپٹوشیا میں ہی دوسری انڈر گراؤنڈ سٹیز کو اپس میں جوڑتی ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے اج کل کے ہائی ویز ہوتے ہیں لیکن انڈر گراؤنڈ۔ اگر یہ سچ ہے تو اب تک جو کچھ ظاہر ہوا ہے وہ اس سسٹم کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ ڈیرن کوو شاید سب سے بڑا اور مشہور ہو لیکن یہ اکیلا نہیں ہے۔ یہ صرف ایک دروازہ ہے ایک بہت بڑے انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک کا۔ ایک زمین بوز دنیا جو سینٹرل ترکی کے نیچے پھیلی ہوئی ہے اور جسے اج بھی پوری طرح سمجھا نہیں گیا۔ اگر کیپٹوشیا کی سرنگیں لوگوں کو محفوظ رکھتی تھیں تو میکسیکو میں قدیم پیرامیڈز کے نیچے کی سرنگیں ایک بہت ہی عجیب انداز میں بند کی گئی تھیں۔ ٹی او ٹی ہوا کان کے کھنڈرات کے نیچے جو کبھی ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کا شہر تھا ارکیولوجسٹ نے ایسے انڈر گراؤنڈ راستے دریافت کیے ہیں جنہیں تقریبا دو ہزار سال سے جان بوجھ کر پوشیدہ رکھا گیا تھا۔ سب سے مشہور دریافت 2003 میں ہوئی جب بھاری بارشوں نے ٹیمپل اف دا فیدرز سرپنٹ کے پاس ایک سنگ ہول بنا دیا۔ مقامی ارکیولوجسٹ سرگیو گومز نے خود کو اس گڈھے میں اتارا اور ایک ایسا داخلی راستہ پایا جسے بڑے پتھروں سے جان بوجھ کر بند کیا گیا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی اسے احساس ہوا کہ وہ ایک ایسی سرنگ میں داخل ہو گیا ہے جو سیدھی پیرامیڈز کے نیچے جاتی ہے۔ یہ راستہ تقریبا 330 فٹ تک پھیلا ہوا تھا اور مندر کے عین مرکز کے نیچے کچھ بند کمروں پر ختم ہوتا تھا۔ گومز اور اس کی ٹیم نے جو دریافت کیا وہ صرف ایک تعمیراتی کمال نہیں تھا بلکہ ایک ایسی مسٹری تھی جو اج بھی ماہرین کو الجھن میں ڈال دیتی ہے۔ سرنگ کے اندر افرنگز تھیں جن میں جیڈ یعنی سبزی قیمتی پتھر، سیپیاں اور ہزاروں قیمتی چیزیں شامل تھیں۔ ان میں عمدہ مٹی کے برتنوں سے لے کر عجیب و غریب مجسمے شامل تھے۔ لیکن سب سے پریشان کن دریافت ان کمروں میں جمع لیکویڈ مرکری تھا جو روشنی میں سپارکلنگ واٹر کی طرح چمک رہا تھا۔ کوئی قدیم پری کولمبین ثقافت انڈر گراؤنڈ سرنگوں میں مرکری کیوں لا کر بند کرے گی؟ یہ سبسٹنس نایاب اور انتہائی زہریلا ہے اور اس کی مائننگ کے لیے بہت محنت درکار ہوتی ہے۔ دہائیوں تک کسی کو یقین نہیں تھا کہ امریکہ میں مرکری استعمال ہوتا تھا جب تک کہ ان کمروں میں اس کی تصدیق نہیں ہو گئی۔ کچھ تحقیق کار کہتے ہیں کہ یہ سبسٹنس انڈر ورلڈ کے دریا یا جھیل کی علامت تھا۔ ایک ائینے جیسا سرفیس جو زندگی اور موت کے درمیان حد کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے اسے زمین کے نیچے بنائے گئے ایک کاسک لینڈ اسکیپ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ کائنات کا ایک مقدس چھوٹا ماڈل جہاں ٹرانسفارمیشن کی رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ سرنگ کی انجینئرنگ اس راز کو اور گہرا کرتی ہے۔ اس کی دیواروں پر احتیاط سے پسا ہوا پائرائیٹ اور ہیمیٹائیٹ لگایا گیا تھا۔ یہ ایسے مٹیریلز تھے جو دیے کی روشنی میں ستاروں بھرے اسمان کا منظر پیش کرتے تھے۔ یہاں ریفلیکٹو منرل سے ڈھکے ہوئے اوبس کے نشانات بھی ملے جو شاید سیاروں یا ستاروں کو ظاہر کرنے کے لیے تھے۔ یہ ڈیرن کوو کی طرح کوئی چھپی ہوئی پناہ گاہ نہیں تھی۔ یہ احتیاط سے بنائی گئی ایک پوری انڈر ورلڈ دنیا تھی۔ ایک ایسی جگہ جہاں پجاری حکمران تاریکی میں اترتے تھے تاکہ تخلیق کائنات کی کہانیوں کو دوبارہ جی سکیں اور خداؤں سے بات کر سکیں۔ سرنگ کو قدیم دور میں جان بوجھ کر بند کر دیا گیا تھا۔ بڑے پتھروں نے راستہ روک رکھا تھا اور تقریبا دو ہزار سال تک رسائی بند تھی جس نے بھی اسے بند کیا۔ وہ یہ یقین بنانا چاہتا تھا کہ کوئی دوبارہ داخل نہ ہو سکے۔ لیکن اسے بنانے کی محنت بھی بہت زیادہ ہوئی ہوگی۔ ولکینک پتھر میں سے راستہ نکالنا دیواروں کو چمکیلے منرل سے سجانا دور دراز علاقوں سے مرکری لانا یہ معمولی کام نہیں تھے۔ یہ سوچے سمجھے پوشیدہ کام تھے۔ ٹی او ٹی یوا کان کے پیرامیڈز صرف اسمان کی طرف بلند ہونے والے مونیومنٹس نہیں تھے بلکہ زمین میں غوطہ لگانے والے گیٹ ویز بھی تھے۔ اوپر ایونیو اف ڈیڈ میلوں تک پھیلی تھی نیچے خفیہ سرنگیں دریاؤں ستاروں اور کائناتی دنیاؤں کو بناتی تھیں۔ جنہیں عام شہری کبھی نہیں دیکھ پاتے تھے۔ یہ دوہرا پن اوپر کھلا منظر نیچے پوشیدہ رسومات ایک ایسی ثقافت کی نشانی کرتی ہیں جہاں سیکریسی بھی اتنی ہی ضروری تھی جتنی کے طاقت۔ پیرو کے اینڈیز ماؤنٹین رینج میں چاوین ڈی وانٹر کا مقام ہمیں کچھ اور بھی عجیب دکھاتا ہے۔ ایسی سرنگیں جو انسانی دماغ کو تبدیل کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ چاوین ڈی وانٹر ایک سیریمونیل سینٹر تھا جو 1200 سے 500 بی سی کے درمیان عروج پر تھا۔ پہلی نظر میں اس کے پتھر کے مندر اینٹیز کے دیگر قدیم مقامات جیسے ہی لگتے ہیں۔ لیکن سطح کے نیچے یعنی سرفیس سے نیچے گیلریز اور راستوں کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جیسا اس علاقے میں کہیں اور نہیں ملتا۔ یہ سرنگیں نہ تو ہزاروں لوگوں کو بسانے کے لیے تھیں نہ ہی حکمرانوں کو چھپانے کے لیے۔ انہیں اواز روشنی اور انسانی پرسیپشن کو مینیوپلیٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ جی ہاں اس مقام کو اسٹڈی کرنے والے ارکیولوجسٹ نے ان گیلریز کو گونجنے والے کمرے اور ڈس اورینٹنگ لیبرنس یعنی بھول بھلیاں قرار دیا ہے۔ کچھ راستے اتنے تنگ ہیں کہ ایک انسان مشکل سے گزر سکتا ہے۔ دوسرے اچانک بڑے کمروں میں کھلتے ہیں جہاں اواز لگانے پر ایسا لگتا ہے کہ وہی اواز واپس اپ کی طرف ا رہی ہے اور وہ بھی ہر ڈائریکشن سے۔ 1992 میں کسانوں کے ایک گروپ نے چائنہ کی زی جیینگ پروونس میں ایک تالاب کو خشک کرنے کا فیصلہ کیا۔ نسلوں سے پانی ایک قدرتی گڑھے کو بھر رہا تھا اور مقامی لوگ سمجھتے تھے کہ یہ صرف ایک قدرتی چیز ہے۔ لیکن جب پانی پمپ کر کے نکالا گیا تو جو چیز سامنے ائی اس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ تالاب کے نیچے ایک بہت بڑی ہاتھ سے تراشی گئی کوفہ کا داخلی راستہ تھا۔ اور یہ اکیلی نہیں تھی۔ اگلے کچھ سالوں میں دو درجن سے زیادہ ایسے ہی کمرے دریافت ہوئے۔ جنہیں اب لونگیو کیوز کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہر ایک کمرہ بہت بڑا ہے۔ اونچی چھتوں وسیع ہالز اور دیواروں پر ہاتھ کے اوزاروں کے وسیع نشانات ہیں۔ لیکن ان کی تعمیر کا کوئی تاریخی ریکارڈ کوئی تحریر کوئی مقامی ہسٹری نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ایک قدیم ثقافت نے ایک پورا انڈر گراؤنڈ کمپلیکس تراشا اور پھر اپنے وجود کے ہر نشان کو مٹا دیا۔ لونگیو کیوز کا سکیل واقعی حیران کر دینے والا ہے۔ الگ الگ کمرے 100 فٹ تک بلند ہیں جن کا فرش اتنا بڑا ہے کہ ان میں ایئر کرافٹ ہینگرز بھی سما جائے۔ اندرونی حصہ احتیاط سے بنایا گیا ہے۔ ہر سطح پر ایک جیسی چھینی کے نشانات ہیں۔ مجموعی طور پر ان گفاؤں کے لیے اندازا ون ملین کیوبک میٹر پتھر نکالنے کی ضرورت پڑی۔ جدید اوزاروں کے ساتھ بھی یہ ایک بہت بڑا کام ہوتا۔ ماڈرن ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی یہ تقریبا ناممکن لگتا ہے۔ ارکیولوجسٹ کا کہنا ہے کہ انہیں کم از کم دو ہزار سال پہلے تراشا گیا تھا لیکن کسی ریکارڈ میں ان کا ذکر نہیں۔ قدیم چائنہ جیسی ثقافت میں جو ریکارڈ کیپنگ میں اتنی احتیاط برتتے تھے۔ اتنے بڑے پروجیکٹ کا تاریخ سے غائب ہو جانا کیسے ممکن ہے؟ کچھ کہتے ہیں یہ پتھر کی کانیں تھیں لیکن اگر ایسا ہوتا تو دیواروں کو سجاوٹی چیزل مارک سے کیوں فنش کیا گیا۔ اور یہ کمرے بالکل خالی کیوں ہیں؟ کوئی ملبہ نہیں، کوئی ارٹیفیکٹس نہیں۔ یہ راز ابھی تک راز ہے۔ زمین کے نیچے ہمیشہ سے انسانیت نے وہ چھپایا ہے جو سب سے اہم ہے۔ شہر ہتھیار اور شاید ایسے راز جنہیں جاننے کی ہمیں اجازت نہیں۔ سب تاریکی میں دفن ہیں انتظار کر رہے ہیں کہ انہیں کھودا جائے۔ امید ہے زی ایم ٹی وی کی یہ ویڈیو بھی اپ لوگ بھرپور لائک اور شیئر کریں گے۔ اپ لوگوں کے پیار بھرے کمنٹس کا بے حد شکریہ۔ ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں۔

Why Did Ancient Humans Live 280 Feet Underground?
Zem TV
13m 28s2,223 words~12 min read
YouTube auto captions
Transcript source
YouTube auto captions
This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.
Use this transcript
Related transcript hubs
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


