[0:00]تصور کیجئے، مدینہ کی وہ خاموش رات۔ آسمان کے دروازے کھلتے ہیں، اور 70 ہزار فرشتوں کا ایک عظیم لشکر اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے زمین کی طرف اترتا ہے۔ یہ فرشتے ایک ایسی آیت لے کر اترے، جس کے زمین پہ آتے ہی شیاطین چیخ اٹھے۔ بادشاہوں کے تاج ان کے سروں سے گر گئے، اور دنیا کے سارے بت منہ کے بل گر پڑے۔ لیکن اس ایک آیت میں ایسا کیا چھپا ہے کہ اللہ کا سب سے بڑا دشمن ابلیس تھرتھرانے لگا۔ کیا وجہ تھی کہ اس نے خود اپنے منہ سے انسانوں کو اپنی بربادی کا ایک خاص راز بتایا۔ اگر تم مجھے چھوڑ دو، تو میں تمہیں ایک راز بتاؤں گا۔ کیسے یہ آیت جادو اور جنات کے لیے دہکتی آگ کی طرح ہے؟ کیا ہے اس آیت میں چھپا اسم اعظم؟ یعنی اللہ کا ایک خاص نام۔ جس کے ذریعے اگر موت کے منہ میں سے بھی دعا مانگی جائے تو تقدیر بدل جاتی ہے۔ اور سب سے ضروری بات، اس عظیم آیت کے ذریعے اللہ ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟ اسپیشلی ڈوپمین کی تلاش میں انسٹاگرام اور یوٹیوب پر سکرولنگ کرتی ہوئی جنریشن زی کے لیے۔ یہ آیت کیسے سکسس اور پیس اف مائنڈ کا سبب بن سکتی ہے؟ میں بات کر رہا ہوں قرآن کی ایک عظیم آیت، آیت الکرسی کی۔
[1:28]لیکن سوال یہ ہے کہ ہم تو روز آیت الکرسی پڑھتے ہیں۔ اگر یہ اتنی ہی پاور فل ہے تو ہماری زندگی کیوں نہیں بدل رہی؟ اس کا جواب اپ کو اسی ویڈیو میں ملے گا جو جواب اپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا۔ یعنی آیت الکرسی کا سیمیٹریکل ڈیزائن۔ الادین کے جادوئی چراغ کی کہانی تو اپ نے سنی ہوگی۔ ہم سب بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسا ہی کوئی جادوئی چراغ ہو۔ جس سے نکلنے والا جن ہماری ہر خواہش پوری کرے۔ لیکن اس ویڈیو میں میں اپ کو ایک ایسا راز بتانے والا ہوں جو الادین کے جادوئی چراغ سے کہیں زیادہ پاور فل ہے۔ اور اپ کی ہر خواہش پوری کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس ویڈیو میں میں اپ کو ایک 30 سیکنڈز کی ڈیل کے بارے میں بتاؤں گا۔ جس میں اپ اپنے صرف 30 سیکنڈز دیں گے اور بدلے میں اپ کو ایسا کچھ ملے گا جو اپ امیجن بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن اس سے پہلے چلتے ہیں اس رات میں جہاں سے یہ راز کھلا۔ رمضان کی رات ہے مدینہ کی خاموشی میں مٹی کی سرسراہٹ ہے۔ ایک صحابی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ زکات کے مال کی حفاظت پر مامور ہیں۔ اچانک سے ایک سایہ نکلتا ہے اور کھجوروں کے ڈھیر سے کھجور چرانے لگتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اسے دبوچ لیتے ہیں اور اس چور سے پوچھتے ہیں کہ کون ہو تم؟ چور گڑگڑانے لگتا ہے کہ میں محتاج ہوں میرے بچے بھوکے ہیں۔ میں ایک غریب ادمی ہوں۔ میرے بچے بھوکے ہیں۔ رحم دل صحابی اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اگلی رات وہ چور پھر سے ایا اور چوری کرنے لگا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے پھر سے پکڑ لیا۔ لیکن اس کے گڑگڑانے کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے ایک بار پھر چھوڑ دیا۔ تیسری رات یہ چور پھر سے ایا اور اس بار بھی پکڑا گیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے قسم کھائی کہ اس بار تو تمہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا کر ہی رہوں گا۔ لیکن اس چور نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا، اگر تم مجھے چھوڑ دو، تو میں تمہیں ایک راز بتاؤں گا۔ اس چور نے بتایا کہ اگر اپ رات کو سونے سے پہلے یہ ایت پڑھ لو تو اللہ اپ کی حفاظت کے لیے ایک فرشتہ تعینات کر دیں گے۔ جو پوری رات اپ کی حفاظت کے لیے کھڑا رہے گا اور شیطان اپ کے سائے کے قریب بھی نہیں ا سکے گا۔ اور یہ عظیم ایت تھی آیت الکرسی۔ صبح جب ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے ایسی بات کہی جو سن کر اپ بھی دنگ رہ جائیں گے۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس نے تم سے سچ کہا حالانکہ وہ بہت بڑا جھوٹا ہے۔ اے ابو ہریرہ جانتے ہو وہ کون تھا؟ وہ شیطان تھا۔ ذرا سوچیے کہ شیطان نے خود اپنی کمزوری بتا دی۔ اس نے بتا دیا کہ یہ ایت اس کے لیے کتنی خطرناک ہے۔ لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا شیطان نے یہ راز بتایا ہی کیوں؟ اس کا جواب تفسیر کے ان پنوں میں چھپا ہے۔ جو ہم اس ویڈیو میں کھولنے والے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے سمجھتے ہیں کہ آیت الکرسی کیسے ہمیں فزیکلی اور سپرچولی پروٹیکٹ کرتی ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب احیاء العلوم الدین میں ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک بزرگ سفر کر رہے تھے۔ جنگل میں پہنچے تو رات ہو گئی۔ انہوں نے اپنے گرد مٹی پہ ایک سرکل بنائی اور آیت الکرسی پڑھ کر اس پر دم کر دیا۔ ساری رات سانپ، بچھو، شیر اور جنگلی درندے اس دائرے کے باہر گھومتے رہے۔ لیکن اس سرکل کو کراس نہ کر سکے۔ ایسے بہت سے واقعات ہمیں ملتے ہیں۔ جن سے آیت الکرسی کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اج کی ماڈرن لائف میں ہم اپنے اکاؤنٹس کو ٹو سٹیپس ویریفیکیشن کے ذریعے پروٹیکٹ کرتے ہیں۔ لیکن آیت الکرسی وہ ویریفیکیشن ہے جو ہماری جسمانی اور روحانی حفاظت کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے سامنے شیاطین، جنات اور جادو سب ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس ایک آیت میں کائنات کے وہ راز چھپے ہیں جو ہمارے تصور سے بھی بالاتر ہیں۔ اج کل ہر دس میں سے نو لوگ پریشان ہیں۔ فیوچر اور کیریئر کی فکر جادو سحر کے مسائل۔ نظر بد، رزق کی تنگی۔ اپنے اپ کو ان سیکور اور انفیرئیر سمجھنا اور اسپیشلی ہمارے یوتھ میں انزائٹی اور ڈپریشن عام ہے۔ اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں۔ کہ اپ بھی انہی میں سے کسی مسئلے کے شکار ضرور ہوئے ہوں گے۔ لیکن فکر کس بات کی۔ جب اج سے 1400 سال پہلے ہی ان سارے مسائل کا حل ہمیں بتا دیا گیا ہے۔ بس بات یقین کرنے اور صحیح طریقے سے اس عظیم ایت کو استعمال کرنے کی ہے۔ ایمیجن اپ ایک سنسان جگہ پہ اکیلے کھڑے ہیں۔ ایک خوفناک مانسٹر تیزی سے اپ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اپ کے ہاتھ میں دنیا کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اپ کو وہ ہتھیار چلانا نہیں اتا۔ اس لیے وہ ہتھیار اپ کے لیے ایک بیکار لاٹھی کی طرح ہے۔ اسی طرح ہم آیت الکرسی تو پڑھتے ہیں۔ لیکن اپنی زندگی بدلنے کے لیے ہمیں آیت الکرسی میں چھپے راز کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ ایت الکرسی کے الفاظ میں چھپے راز تو ہم کھولیں گے۔ لیکن اس سے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا نام آیت الکرسی ہی کیوں ہے؟ عربی زبان میں کرسی اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں بیٹھا جائے۔ اللہ کی عظمت کے طور پر کرسی اس کی حکومت، قوت اور علم کی عظیم نشانی ہے۔ لیکن یہ کرسی کیا ہے؟ اس کی عظمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مثال کے ذریعے سمجھائی ہے۔ حضرت ابو زر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سات اسمان اور زمین کرسی کے سامنے اتنے چھوٹے ہیں جیسے ایک بہت بڑے میدان میں ایک چھوٹی سی انگوٹھی پھینک دی جائے۔ اس سے اپ کو کرسی کی عظمت کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔ لیکن اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ جس طرح ساتوں اسمان اور زمین کرسی کے سامنے ایک چھوٹی سی انگوٹھی کی طرح ہے۔ اسی طرح اللہ کے عرش کے سامنے کرسی بھی ایک چھوٹی سی انگوٹھی کی طرح ہے۔ ذرا سوچیے جب اپ ایت الکرسی پڑھتے ہیں۔ تو اپ اس عظمت والے رب کی پناہ میں ا جاتے ہیں۔ جس کے لیے کائنات کو سنبھالنا اتنا ہی اسان ہے۔ جتنا اپ کے لیے پلکے جھپکنا۔ لیکن یہ تو بس اس ایت کی عظمت کی شروعات ہے۔ تفسیر القرتوبی میں ایت الکرسی کی عظمت کے بارے میں بہت زبردست الفاظ ائے ہیں۔ امام القرتوبی لکھتے ہیں کہ ایت الکرسی میں کل 50 الفاظ ہیں اور ہر لفظ کی 50 برکتیں ہیں۔ اس کا مطلب پوری ایت الکرسی میں 2500 برکتیں ہیں۔ یعنی اگر اپ ایک بار یقین کے ساتھ ایت الکرسی پڑھتے ہیں۔ تو اپ 2500 الگ الگ برکتوں کا دائرہ اپنے گرت کھینچ لیتے ہیں۔ اب میں اپ کو جو چیز دکھانے والا ہوں۔ یہ دیکھ کر اپ بھی میری طرح حیران رہ جائیں گے۔ یہ ہے آیت الکرسی کا سیمیٹریکل ڈیزائن جو آیت الکرسی کے میکولس ہونے کا پروف ہے۔ آیت الکرسی کے ان سینٹنسز کو دیکھیے۔ اس کا پہلا جملہ ہے۔ اللہ وہ معبود برحق ہے کہ سوائے اس کے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اور اب اس کا اخری جملہ دیکھیے۔ وہ بڑا عالی رتبہ جلیل القدر ہے۔ ان دونوں سینٹنسز میں اللہ کی بادشاہت اور عظمت کا اعلان ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دونوں سینٹنسز ایک دوسرے کا ائینہ ہے۔ اسی طرح دوسرا جملہ اٹھویں جملے کے ساتھ ملتا ہے۔ تیسرا جملہ ساتویں جملے کے ساتھ ملتا ہے۔ چوتھا جملہ چھٹے جملے کے ساتھ ملتا ہے۔ لیکن سب سے حیرت انگیز بات اس پوری ایت کا سینٹر یعنی ففتھ سینٹنس وہ ہے جو ہمارے سب سے بڑے مسئلے یعنی انزائٹی کا علاج ہے۔
[9:07]یہ سینٹنس ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کو ہمارے پاسٹ اور فیوچر کا پورا پورا علم ہے۔ اس لیے ہمیں اس نیگیٹو تھکنگ سے اپنے اپ کو ازاد کر لینا چاہیے۔ کہ میرا فلاں کام نہ ہوا تو کیا ہوگا۔ میرے کیریئر کا کیا ہوگا۔ یہ سیمیٹریکل ڈیزائن اس خالق کا سیکرٹ کوڈ ہے۔ جو ایٹمز سے لے کر گیلیکسز تک۔ ہر چیز کو سیمیٹری میں رکھتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں آیت الکرسی میں موجود اللہ کی صفت کے بارے میں۔ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر انسان موت کے منہ میں بھی ہو۔ یا کسی بھی ایسی مشکل میں پھنسا ہو جہاں سے نکلنا ناممکن لگ رہا ہو۔ تو اس حالت میں اللہ کو اگر اسم اعظم کے ذریعے پکارا جائے۔ تو دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ ائیے جانتے ہیں کہ کیا ہے وہ اسم اعظم۔ اللہ وہ معبود برحق ہے کہ سوائے اس کے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اس ایت میں اللہ کے دو ایٹریبیوٹس ائے ہیں۔ الحی اور القیوم۔ الحی کا مطلب ہے۔ وہ ذات جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ القیوم کا مطلب ہے۔ وہ ذات جو خود قائم ہے اور جس نے پوری کائنات کے نظام کو تھاما ہوا ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کا اسم اعظم تین سورتوں میں ہے۔ سورہ البقرہ، سورہ ال عمران اور سورہ طاھا۔ جب علماء نے ان تینوں سورتوں کو کمپیئر کیا تو معلوم ہوا کہ الحی القیوم۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو ان تینوں سورتوں میں ہیں۔ اس لیے بہت سے اسلامک سکالرز کا ماننا ہے کہ الحی القیوم ہی اسم اعظم ہے۔
[10:38]اسے نہ اونگ اتی ہے نہ نیند۔ ہم تھک جاتے ہیں سستانے لگتے ہیں لیکن اللہ ان ساری چیزوں سے پاک ہے۔ نہ اسے نیند اتی ہے اور نہ ہی ایک پل کے لیے اسے اونگ اتی ہے۔
[10:56]جو کچھ اسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ یہ جملہ انسان کی ساری پریشانیاں چھین لیتا ہے۔ کیونکہ جب سب کچھ اپ کے رب کا ہی ہے تو کسی چیز کے کھونے کا ڈر، کیریئر کی فکر۔ اور کسی مخلوق کا ڈر دل میں کیوں ہی رکھنا؟
[11:20]کون ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس سے کسی کی سفارش کر سکے۔ ہم لوگ اکثر غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ ہم کسی بڑے کا واسطہ دے کر بچ جائیں گے۔ لیکن یہ ایت صاف بتاتی ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں چلنے والی۔
[11:43]جو لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہو چکا ہے اسے سب معلوم ہے۔ یہ سینٹنس ایت الکرسی کا سینٹر ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ہمارے پاسٹ کا علم بھی رکھتا ہے۔ اور یہ بھی جانتا ہے کہ فیوچر میں ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اس لیے ہمارا توکل صرف اللہ پہ ہی ہونا چاہیے۔
[12:14]اور لوگ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دست رس حاصل نہیں کر سکتے۔ ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے۔ یعنی کوئی کتنا بھی عالی رتبے والا انسان ہو وہ یہ نہیں جان سکتا کہ اللہ کے علم میں کیا ہے۔ لیکن اللہ جسے چاہے اسے معلوم کرا دیتا ہے۔
[12:38]اس کی کرسی اسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ کرسی اس بات کی دلیل ہے کہ پوری کائنات اللہ کے انڈر ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد فرماتے ہیں کہ کرسی اللہ کے علم کو ریپریزنٹ کرتی ہے۔
[12:54]اور اسے ان کی حفاظت نہیں تھکاتی۔
[13:00]وہ بڑا عالی رتبہ جلیل القدر ہے۔ اب ہمیں آیت الکرسی کی عظمت کا پتہ چل چکا ہے۔ اب چلتے ہیں اس 30 سیکنڈز کی ڈیل کی طرف۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا۔ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک چیز رکاوٹ ہے اور وہ ہے موت۔ یعنی اگر کوئی دل کے صدق اور یقین کے ساتھ ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے اور اگر اس کی موت ہو جاتی ہے۔ تو اس سے جنت کا وعدہ ہے۔ سوچیے اپ کے دیے ہوئے 30 سیکنڈز اپ کی اخرت سنوار سکتے ہیں۔ اس سے بڑی فائدہ مند ڈیل کیا ہی ہوگی۔ اج ہم نے صرف ایت الکرسی کے بارے میں نہیں سیکھا بلکہ کائنات کی اس ماسٹر کی کو ان لاک کیا ہے۔ جو عرش الہی سے سیدھا ہمارے دل تک جڑی ہوئی ہے۔ میں اج اپ کو ایک چیلنج دیتا ہوں۔ صرف سات دن ہر فرض نماز کے بعد اور سونے سے پہلے۔ دل سے یقین کے ساتھ آیت الکرسی پڑھیں۔ اور اس کی عظمت کے بارے میں سوچتے ہوئے پڑھیں۔ اور میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر اپ نے ایسا کر لیا۔ تو اپ کی زندگی سکون سے بھر جائے گی۔ اپ کے دل و دماغ سے ہر طرح کی نیگیٹیوٹی نکل جائے گی۔ اور اپ کے لیے وہ دروازے کھلیں گے جن کا اپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اگر سات دن بعد اپنی زندگی میں یہ بدلاؤ محسوس ہو تو اسی ویڈیو کے کمنٹ سیکشن میں ا کے ضرور بتانا۔ اس ویڈیو کے ذریعے اگر اپ نے کچھ سیکھا ہے۔ تو اسے کم از کم ان تین لوگوں تک ضرور شیئر کریں۔ جنہیں اپ اللہ کی حفاظت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور کمنٹس میں بتائیں کہ اگلا ویڈیو کس ٹاپک پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم ملتے ہیں اگلے ویڈیو میں تب تک اللہ اپ کا اور میرا حامی و ناصر۔

![Thumbnail for 25 MOST REPEATED Physics PYQs 🧠 | NEET 2026 | 120+ Marks Possible 😳🔥 by SUDHANSHU [MBBS]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fimg.youtube.com%2Fvi%2FFd9h0OmOPCE%2Fhqdefault.jpg&w=3840&q=75)

