[0:06]14 اور 15 جولائی 1789 کی رات لوئیس دا 16 کے قریبی درباری لیان کوٹ نے بادشاہ کو جگایا اور کہا حضور اٹھیے بستییل پر قبضہ ہوگیا ہے۔ بادشاہ انکھیں ملتے ہوئے اٹھا اور کہنے لگا اچھا تو کیا پھر بغاوت شروع ہوگئی ہے؟ درباری نے ادب سے سر جھکایا اور کہا حضور یہ بغاوت نہیں انقلاب ہے۔ میں ہوں محمد اسامہ غازی اور اج فرینچ ریولوشن کی کہانی میں ہم اپ کو پیرس کے اس بدنام زمانہ قید خانے کی داستان دکھا رہے ہیں جسے دنیا بستییل کے نام سے جانتی ہے۔ ہم اپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ مجرموں سے ہتھیار خرید کر فوج کیوں بنانا پڑی اور فرانسیسی عوام کی اخری امید کون تھا؟
[0:57]16 جولائی 1788 کو پیرس میں ایک بگی داخل ہوئی جسے چھ گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ اس بگی کے ساتھ پروٹوکول کے لیے ایک گھڑ سوار فوجی دستہ بھی تھا جو شہریوں کو راستے سے ہٹا رہا تھا۔ شہر کے لوگ حیران تھے کہ اس بگی میں کون بیٹھا ہے؟ یہ بگی شہر کے مرکزی حصے میں ایک چھوٹے سے محل کے سامنے جا کر رک گئی۔ مہمانوں کے استقبال کے لیے شہر کے بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔
[1:24]معزز مہمانوں کو محل میں ٹھہرا دیا گیا۔ وارسائی محل میں بادشاہ کو خبر کر دی گئی کہ میسور کے سلطان ٹیپو کا وفد ملاقات کی اجازت چاہتا ہے۔ لیکن بادشاہ نے ملاقات کو ایک ماہ کے لیے ٹال دیا کیونکہ وہ خود مشکلات کا شکار تھا۔ ہم پچھلی قسط میں اپ کو دکھا چکے ہیں کہ کیسے عوام نے ٹیکس دینا بند کر دیے تھے۔ وفد کی امد سے صرف ایک ماہ پہلے جون میں گرینوبیل کے علاقے میں عوام نے فوج کو اینٹیں مار مار کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ رینس شہر میں تو بغاوت کو پہلے فوج سے کچلا گیا پھر وہاں چار پیدل اور دو گھڑ سوار ریجیمنٹس کی مستقل چھاؤنی بنا دی گئی تاکہ انقلابیوں کو روکا جا سکے۔ ٹیپو سلطان کا وفد جولائی میں ایا تھا اور اگست میں پیرس میں پھر ہنگامے شروع ہو گئے۔ انقلابیوں نے پہلے دو وزیروں کے پتلے جلائے اور پھر ان کے گھر جلانے کی بھی کوشش کی۔ مسلسل بغاوتوں کے بعد اخر کار بادشاہ نے عوام کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دو ایسے بڑے فیصلے کر دیے جن پر اگر وہ قائم رہتا تو شاید فرانس میں کبھی انقلاب نہ اتا۔ ایک فیصلہ تو تھا سابق وزیر جوکس نیکر کو دوبارہ وزیر خزانہ اور چیف منسٹر بنانے کا۔
[2:37]جوکس نیکر عوام کا پسندیدہ ترین وزیر تھا وہ عوام کو ریلیف دینے اور امیروں پر ٹیکس لگانے کا بہت بڑا حامی تھا۔ جب 1779 سے 1781 تک وہ وزیر خزانہ رہا تھا تو اس نے فرانس کے سارے صوبوں میں لوکل اسمبلیاں قائم کرائی تھیں۔ انہی اسمبلیوں نے بادشاہ کی طرف سے نئے ٹیکس لگانے کے فیصلے روکے تھے۔ اسی وجہ سے لوگ نیکر کو اتنا پسند کرتے تھے کہ ایک بار جب چرچ کے ایک عہدے دار نے نیکر کو برا بھلا کہا تو لوگوں نے اسے کوڑے مارے۔ ایک عورت نے نیکر کے ایک مجسمے کو نقصان پہنچایا تو وہاں موجود عورتوں نے اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور مار مار کر اسے لہولہان کر دیا۔
[3:17]یعنی نیکر کو وزیر بنا کر بادشاہ نے عوام کے دل جیتنے کی کوشش کی اور ایسے میں جوکس نیکر انقلابیوں کی اخری امید تھا۔ دوسرا اہم فیصلہ بادشاہ نے یہ کیا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یعنی اسٹیٹس جنرل اور پولیٹیکل ریفارمز کے اعلان پر عمل کا حکم دے دیا۔ بطور وزیراعظم اسٹیٹس جنرل کا سارا انتظام کرنے کی ذمہ داری بھی جوکس نیکر کو مل گئی۔ ہم نے پچھلی قسط میں اپ کو دکھایا تھا کہ یہ اجلاس 1789 میں ہوا تھا لیکن اسٹیٹس جنرل کا اجلاس پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد ہی ہونا تھا۔ اس لیے فرانس میں الیکشن کی تیاریاں زور پکڑ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ملک میں پمفلٹس کا طوفان ا گیا۔ عوام نے لاکھوں پمفلٹس پر اپنے مطالبات لکھ کر سارے ملک میں تقسیم کرنا شروع کر دیے۔ ان میں بڑے مطالبات ٹیکسوں میں کمی اور عوام کو زیادہ اختیارات دینے سے متعلق تھے۔ فرانس میں الیکشن کا موسم چل رہا تھا اور اس کے ساتھ ٹیپو کے وفد اور لوئیس دا 16 کے مزاکرات بھی وفد نے بادشاہ اور درباریوں سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ اگر ٹیپو سلطان کو 10 ہزار فرانسیسی سپاہی دے دیے جائیں تو وہ انگریزوں کو برصغیر سے نکال باہر کریں گے۔ جب فرانس کی حکومت نے قومی خزانہ خالی ہونے کا رونا رویا تو وفد نے انہیں کہا اپ سپاہی بھیجیں ان کی ساری تنخواہیں اور خرچ ٹیپو سلطان برداشت کریں گے۔ لیکن لوئیس دا 16 خوفزدہ تھا کہ فرانسیسی عوام پہلے ہی جنگوں سے تنگ ہیں کوئی نئی جنگ شروع ہوئی تو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ اس نے ٹیپو سلطان کے وفد کو مایوس لوٹا دیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر اس وقت فرانس ٹیپو سلطان کی مدد کرتا تو شاید ہندوستان کا مستقبل مختلف ہوتا۔ نومبر 1788 میں بادشاہ نے جوکس نیکر کی سفارش پر پارلیمنٹ میں تھرڈ اسٹیٹ یعنی عوام کے نمائندوں کی تعداد دگنی کر دی۔ اب پارلیمنٹ میں نمائندوں کی کل تعداد 1214 تھی۔ ان میں چرچ کے 308، عمرا کے 285 اور تھرڈ اسٹیٹ کے 621 نمائندے شامل تھے۔ وٹرز کی تعداد 60 لاکھ تھی لیکن پھر گھریلو ملازموں اور اداکار کو ووٹ دینے سے روک دیا گیا۔ پیرس میں تو پابندی لگا دی گئی کہ ووٹ صرف وہی ڈالے گا جس کے پاس یا تو کوئی سرکاری عہدہ ہو یونیورسٹی کی ڈگری یا پھر وہ چھ شلنگ سالانہ ٹیکس دیتا ہو۔ چنانچہ پیرس کے 12 ہزار ووٹر ووٹ ڈالنے کے اہل رہ گئے۔ پیرس کے زیادہ تر ووٹروں فرانس بھر میں گھریلو ملازمین اور اداکار کو ووٹنگ کے عمل سے باہر کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ووٹروں کی تعداد 60 لاکھ سے کم ہو کر 50 لاکھ رہ گئی۔ لیکن یہ تعداد پھر بھی بہت زیادہ تھی۔ یورپ میں اتنے زیادہ لوگوں نے کبھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ فروری 1789 میں ووٹنگ شروع ہوئی اور یہ سلسلہ اپریل 1789 تک جاری رہا۔ الیکشن کا طریقہ یہ تھا کہ عوام نے اپنے نمائندے براہ راست منتخب نہیں کرنے تھے۔ بلکہ انہوں نے الیکٹورل اسمبلیوں کو سلیکٹ کرنا تھا۔ ان الیکٹورل اسمبلیوں نے بعد میں پارلیمنٹ کے نمائندے سلیکٹ کرنے تھے۔ یعنی یہ ایک ان ڈائریکٹ الیکشن تھا۔ اپریل 1789 کو پیرس میں الیکٹورل اسمبلیوں کے اجلاس شروع ہو گئے تھے۔ اسی دوران ریبیلیئن کا واقعہ بھی پیش ایا تھا جس کی کہانی ہم اپ کو دکھا چکے ہیں۔ ان ہنگاموں کے دوران جو پارلیمنٹ منتخب ہوئی اس میں تھرڈ اسٹیٹ کے تقریبا تمام ہی رکن بادشاہ کے سخت خلاف تھے۔ ان میں ایرس کا وہ نوجوان بھی شامل تھا جس نے کبھی بادشاہ کی شان میں قصیدے پڑھے تھے لیکن بادشاہ نے اسے نظر انداز کر دیا تھا۔ اس بات پر اس نوجوان یعنی میکسیملین راب سپیئر کو توہین کا احساس ہوا تھا اور یہ احساس اس کے دل میں جڑ پکڑ چکا تھا۔ اب راب سپیئر انتقام اور انقلاب کے ملے جلے جزبات لے کر اسمبلی اجلاس میں حصہ لینے پیرس پہنچ گیا تھا۔ جہاں بادشاہ کی غلطیوں سے ہی انقلاب کی تحریک کو ہوا مل رہی تھی۔ بادشاہ نے پارلیمنٹ بنوا تو دی تھی لیکن دل سے قبول نہیں کیا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ پارلیمنٹ اس کے اختیارات چھین کر بادشاہت کا خاتمہ کر دے گی۔ کیونکہ اس پارلیمنٹ میں تھرڈ اسٹیٹ یعنی عوامی نمائندوں کی اکثریت تھی جو روسو کے فلسفے سے متاثر تھے اور روسو کا فلسفہ تو ظاہر ہے بادشاہت کے خلاف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب 2 مئی 1789 کو پارلیمنٹ کے نئے اراکین بادشاہ سے ملے تو بادشاہ نے تھرڈ اسٹیٹ والوں سے سیدھے منہ بات نہیں کی۔ 5 مئی کو پارلیمنٹ کا اجلاس ہونا تھا۔ اس سے پہلے 4 مئی کو پیرس کے نوٹری ڈیم چرچ سے سینٹ لوئیس تک ایک جلوس نکالا گیا۔ اس جلوس میں پارلیمنٹ کے تمام اراکین شاہی خاندان کے افراد بادشاہ اور ملکہ بھی شریک ہوئے۔ اس جلوس کو دیکھنے کے لیے سارا پیرس امڈ ایا۔ لاکھوں لوگ راستے کے دونوں طرف کھڑے تھے یا گھروں کی چھتوں پر بیٹھے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ عوام تھرڈ اسٹیٹ کے اراکین کو دیکھ کر تو خوشی سے نعرے لگا رہے تھے لیکن جب بادشاہ اور ملکہ گزرے تو عورتوں نے ملکہ کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ کچھ عورتوں نے ملکہ کو چڑانے کے لیے ڈیوک اف ارلینز زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ ڈیوک اف ارلینز ایک شہزادے کا نام تھا جو عوام کی حمایت کرتا تھا۔ اس نے اپنی ایک بلڈنگ بھی عوام کو دے رکھی تھی جہاں عوام بادشاہت کے خلاف تقریریں کرتے تھے اور سب سے زیادہ تقریریں ملکہ کی فضول خرچی کے خلاف ہی ہوتی تھی۔
[8:37]اس لیے ہجوم ملکہ کو چڑھا رہا تھا۔ اب جانے یہ سچ ہے یا افواہ لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ ملکہ لوگوں کے طعنے سن کر بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔ وہ سنبھل تو گئی لیکن جلسہ ختم ہونے تک وہ عوام کو نفرت سے دیکھتی رہی۔ یہ جلوس تو ختم ہوگیا لیکن اگلے روز پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا جس میں بادشاہ نے تقریر کی۔ اس تقریر میں بادشاہ نے ڈھکے چھپے لفظوں میں عوام پر بڑی تنقید کی۔ اور کہا کہ پرانے دور اور روایات کو بدل کر تبدیلی کی بات کرنے والے غلط ہیں۔ یہ تقریر تھرڈ اسٹیٹ کے لوگوں کو پسند نہیں ائی۔ ایک نمائندے نے لکھا اب جنگ چھڑ گئی ہے۔ فرانس میں 1614 کے بعد پہلی باقاعدہ پارلیمنٹ بنی تھی۔ یہ ایک تاریخی واقعہ تھا لیکن پارلیمنٹ کے ساتھ ایک قانونی مسئلہ تھا۔ وہ یہ کہ جب تک پارلیمنٹ کے تینوں حصے یعنی پادری، عمرا اور تھرڈ اسٹیٹ مل کر سیشن میں حصہ نہ لیں تب تک پارلیمنٹ میں کوئی قانون پاس نہیں ہو سکتا تھا۔ بادشاہ نے اس قانون کا فائدہ اٹھایا اور اس کے اشارے پر پادریوں اور عمرا دونوں نے ہی پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ اب تھرڈ اسٹیٹ والے اکیلے ہی اجلاس میں جاتے تھے لیکن ظاہر ہے اس اجلاس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ یہ پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹامپ بنانے کی ایک اور کوشش تھی۔ لیکن اس بار عوام خاموش نہیں بیٹھے۔ عوام نے ایک کام تو یہ کیا کہ پارلیمنٹ کے ہر اجلاس میں خود جانا شروع کر دیا۔ اسمبلی میں صرف تھرڈ اسٹیٹ کے نمائندے ہی اتے تھے اور ہال کے اوپر بنی گیلریاں خالی رہتی تھیں۔ عوام نے ان گیلریوں پر قبضہ جما لیا اب کم از کم 600 لوگ روزانہ اجلاس دیکھتے تھے۔ لیکن یہ لوگ صرف خاموش تماشائی نہیں تھے بلکہ وہ اجلاس میں ہونے والی ہر بات پر کھل کر بات کرتے تھے۔ جہاں اسمبلی کا کوئی رکن عوام کے مفاد کے خلاف بولتا تو عوام اس پر ہوٹنگ کرتے اور قتل کی دھمکیاں دیتے بلکہ تھرڈ اسٹیٹ میں کوئی بھی فیصلہ ہوتا تو گیلری میں بیٹھے عوام بھی زبردستی ووٹنگ میں حصہ لیتے۔ کچھ ہی دنوں میں اسمبلی عملی طور پر عوام کی غلام بن گئی۔ اب تھرڈ اسٹیٹ کے نمائندے بھی اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے تھے اور عوام کا حال یہ تھا کہ وہ تھرڈ اسٹیٹ کے حق میں نعرے تو لگاتے تھے لیکن تھرڈ اسٹیٹ بھی اب ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں بول سکتی تھی۔ یعنی اظہار رائے اور اپوزیشن کا بنیادی حق جو جمہوریت کی بنیاد ہے وہ ختم ہو گیا تھا۔ یہ برداشت والی جمہوریت نہیں بلکہ عدم برداشت والے ایک اور طبقے کی ڈکٹیٹرشپ تھی۔ اسمبلی کے اراکین سے عوام کا سلوک کیسا تھا؟ اس کا اندازہ صرف اس مثال سے لگائیں کہ ایک بار اسمبلی کے ایک رکن نے میجورٹی کے ایک فیصلے پر تنقید کی تو گیلری سے ایک شخص نے ہال میں چھلانگ لگائی اور نمائندے کا گریبان پکڑ کر بولا اپنی زبان بند کرو۔ اجلاس کے دوران اگر عوام کو کسی پر شک ہوتا کہ یہ امیر طبقے کی حمایت کر رہا ہے تو وہ اس کا نام پرچیوں پر لکھ دیتے۔ پھر یہ پرچیاں اسمبلی کے باہر پالکیاں اٹھانے والوں اور ہاتھ رکشے کھینچنے والوں میں تقسیم کر دی جاتیں۔ یہ لوگ سارے شہر میں گھومتے تھے اور جو ملتا اسے یہ نام بتا دیتے۔ اور اس طرح اکثریت سے مختلف رائے رکھنے والے عوامی نمائندے کو جسے تھرڈ اسٹیٹ ہی سے منتخب کیا گیا ہوتا تھا اسے ایک ہی دن میں پورے شہر میں بدنام کر دیا جاتا جس سے اس کا جینا دو بھر ہو جاتا۔
[11:57]یہ تو تھا تھرڈ اسٹیٹ کا حال یعنی ان لوگوں کا جو پارلیمنٹ کے اجلاس میں جا رہے تھے۔ لیکن جو نہیں جا رہے تھے یعنی پادری اور عمرا ان کے خلاف عوام نے گلیوں بازاروں میں جنگ چھڑ دی تھی۔ لوگوں نے ایک پادری کو سرعام پیروں تلے کچلا پولیس کے مخبر کو فوارے کے تالاب میں غوطے دیے گئے۔ 25 جون کو لوگوں نے پیرس کے ارچ بشپ کی بگی پر پتھراؤ کیا ڈرائیور نے بگی بھگائی اور گھر تک پہنچ گیا۔ لیکن پیچھے انے والے لوگوں نے گھر کو گھیرے میں لے کر کھڑکیاں دروازے توڑ دیے اور بشپ کو مجبور کیا کہ وہ تھرڈ اسٹیٹ کے نمائندوں کا ساتھ دینے کی حامی بھرے۔ بادشاہ کے ایک سیکرٹری اور وزیر کے خلاف تو اتنی ہوٹنگ ہوئی کہ وہ سیکرٹری صاحب صدمے سے ہی وفات پا گئے۔ بعد میں ارچ بشپ کو بھی قتل کر دیا گیا۔ یہ سب تو جاری تھا لیکن ظاہر ہے پارلیمنٹ قانون سازی کے بغیر زیادہ دیر نہیں چل سکتی تھی۔ ان حالات میں بھی تھرڈ اسٹیٹ کے لوگوں نے ایک انوکھا فیصلہ کیا جس نے فرانس کی تاریخ ہی بدل ڈالی۔ وہ فیصلہ یہ تھا کہ پادریوں اور عمرا کو اخری بار مشترکہ اجلاس کی دعوت دی جائے اور اگر وہ اجلاس میں شریک نہ ہوں تو تھرڈ اسٹیٹ کو ہی اسمبلی قرار دے کر نیا حلف اٹھایا جائے گا اور قانون سازی شروع ہو جائے گی۔ یعنی پارلیمنٹ کے باقی دونوں حصوں پادریوں اور عمرا کو پارلیمنٹ سے ہی نکال دیا جائے گا۔ چنانچہ پادریوں اور عمرا کو اخری بار اجلاس میں انے کی دعوت دے دی گئی لیکن بہت تھوڑے پادری اور عمرا ہی اجلاس میں ائے۔ اب تھرڈ اسٹیٹ کے پاس ایکشن لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا چنانچہ 17 جون کو تھرڈ اسٹیٹ نے اپنے اپ کو قومی اسمبلی قرار دے کر سارے اختیارات اپنے کنٹرول میں لینے کا اعلان کر دیا۔ 20 جون کو نئی قومی اسمبلی نے حلف اٹھانا تھا۔ لیکن جب وہ اسمبلی ہال پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں تالے لگے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اسمبلی ہال کے قریب بنے ایک ٹینس کورٹ میں چلے گئے اور وہاں حلف اٹھا لیا۔ اس حلف کو فرانس کی تاریخ میں ٹینس کورٹ اوتھ کہتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ امریکہ کے اعلان ازادی یا 3 جون 1947 کو پاکستان اور بھارت کے قیام کے منصوبے کی جو اہمیت ہے ٹینس کورٹ اوتھ بھی فرانس کے لیے ویسا ہی اہم ہے۔ ٹینس کورٹ اوتھ کے ساتھ ہی فرانس میں اب بادشاہ سے زیادہ عوامی نمائندے طاقتور ہو چکے تھے۔ بہت سے عمرا اور پادری بھی نئی اسمبلی کے ساتھ جا ملے۔ بادشاہ نے مجبوری میں اس نئی اسمبلی کو مان تو لیا لیکن اصل میں وہ اسمبلی کو اپنا دشمن ہی سمجھتا تھا۔ اس لیے بادشاہ کے حکم پر فرانسیسی فوج نے پیرس کو گھیرے میں لے لیا۔ اب فرانس میں دو حکومتیں بن گئی تھیں۔ ایک طرف بادشاہ اس کے درباری اور پادری تھے جن کی حکومت فوج کی طاقت سے قائم تھی اور دوسری طرف عوامی پارلیمنٹ تھی جو عوام کی طاقت سے قائم تھی۔ اب جنگ طے تھی۔ شاہی فوج پیرس کے گرد گھیرا تنگ کر رہی تھی چنانچہ عوام نے بھی اپنی فوج بنانا شروع کر دی۔ پیرس میں 48 ہزار افراد کو عوامی انقلابی فوج میں بھرتی کیا گیا اور جانتے ہیں انقلابی فوج کے لیے ہتھیار کہاں سے خریدے گئے؟ چوروں اور ڈاکوؤں سے۔ ایک بندوق تین لیورس، ایک سیبر تلوار 12 ساؤ اور ایک پسٹل کی بھی اتنی ہی قیمت لگی لیکن یہ اسلحہ کافی نہیں تھا۔ اب عوام کی نظریں بستییل کے قید خانے پر پڑیں جہاں اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ عوام شاید بستییل پر حملہ نہ ہی کرتے لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ 12 جولائی کو بادشاہ نے عوام کے حامی وزیر جوکس نیکر کو برطرف کر دیا۔ جب یہ خبر پیرس میں پہنچی تو لوگ ڈیوک اف ارلینز اور نیکر کے مجسمے اٹھا کر شہر میں نعرے بازی کرنے لگے۔ پیرس کے اندر موجود شاہی محل جسے ٹویلیریز پیلس کہتے تھے اس کا راستہ کرسیوں سے بند کر دیا گیا۔ اسلحے کی ساری دکانوں، بیکریوں اور وائن شاپس کو بھی لوٹ لیا گیا۔ فرینچ گارڈز کے کچھ دستوں نے بھی بغاوت کر کے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر دی۔ اراکین پارلیمنٹ بھی عوام کو مسلح ہونے کے لیے کہہ رہے تھے۔ لوگ امیروں کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر کہتے تھے ہتھیار اور روٹی دو اور جہاں سے کچھ نہ ملتا وہاں توڑ پھوڑ شروع ہو جاتی۔ دو روز تک شہر میں بہت لوٹ مار ہوئی گلیوں میں ملبے اور ٹوٹے پھوٹے سامان کے ڈھیر لگ گئے۔ لوگ دکانوں سے لوٹی ہوئی شراب کے جام بھر بھر کر خود بھی پی رہے تھے اور قریب سے گزرنے والوں کو بھی پلاتے تھے بلکہ زبردستی پلاتے تھے۔ سڑکوں پر پھینکے گئے وائن ڈرمز کے ٹپکنے سے گلیوں میں کیچڑ ہو گیا تھا۔ گٹروں میں بھی شراب بہ رہی تھی۔ ایک طرح سے پورا پیرس ہی شراب میں ڈوب چکا تھا۔ پھر سورج طلوع ہوا 14 جولائی 1789 کا۔ بستییل کے گارڈز نے دیکھا کہ سینکڑوں لوگ قید خانے کے سامنے جمع ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ بستییل پر قبضہ کرنے اور اس میں موجود اسلحہ لوٹنے ائے تھے۔ لیکن یہ کام اتنا بھی اسان نہیں تھا کیونکہ بستییل بہت مضبوط قلعہ تھا۔ اٹھ ٹاور، 40 سے 100 فٹ تک بلند اور 30 فٹ موٹی دیواروں اور 80 فٹ چوڑی خندق کے ساتھ بستییل عوام کے لیے ناقابل تسخیر قلعہ تھا۔ قلعے کی حفاظتی دیوار کے اندر ایک بڑا صحن تھا جس میں داخل ہونے کے لیے ایک ڈرا برج یا زنجیروں سے گرایا جانے والا پل استعمال ہوتا تھا۔ صحن کے بعد قلعہ شروع ہوتا تھا جس کے اندر داخل ہونے کے لیے ایک دوسرا ڈرا برج استعمال ہوتا تھا۔ قید خانے میں ان دنوں صرف سات قیدی رہ گئے تھے اور وہ بھی کوئی سیاسی قیدی نہیں بلکہ جرائم پیشہ لوگ تھے۔ قلعے کی حفاظت کے لیے بھی صرف 120 فوجی تعینات تھے جن میں سے زیادہ تر بوڑھے اور ریٹائرڈ فوجی تھے۔ قلعے کے سامنے جمع ہونے والے لوگوں کی تعداد تو کوئی 900 کے قریب تھی لیکن تماشا دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ گلیوں اور سڑکوں میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ امیر گھرانوں کی عورتیں بھی اپنی بگیوں میں وہاں ائیں اور بگیوں کو دور چھوڑ کر تماشا دیکھنے والوں میں شامل ہو گئیں۔ حملہ اوروں نے قلعے کے 49 سالہ گورنر سے کہا کہ وہ ہتھیار ڈال کر قلعہ عوام کے حوالے کر دے۔ جو لوگ گورنر کے پاس پیغام لے کر گئے تھے گورنر ان سے بڑی عزت سے پیش ایا اس نے عوام کے وفد کو اپنے ساتھ لنچ کرنے کی دعوت بھی دی۔ عوام نے قلعے پر فائرنگ بھی کی لیکن گورنر نے جوابی فائرنگ کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ اس نے قلعے میں موجود فوجیوں کو بھی حکم دیا کہ جب تک ان پر حملہ نہ ہو وہ فائرنگ نہ کریں۔ لوگوں نے گورنر کی نرمی کا پورا فائدہ اٹھایا اور وہ پہلے زنجیروں سے بنے پل یعنی ڈرا برج پر قبضہ کر کے قلعے کے صحن میں داخل ہو گئے فرینچ گارڈز کے باغی بھی عوام سے مل چکے تھے۔ باغی فوجیوں کی مدد سے ہی عوام دو توپیں بھی قلعے کے صحن میں لے ائے اور قلعے پر بمباری کرنے لگے لیکن قلعے کی دیواریں بہت مضبوط تھیں۔ اس پر فائرنگ اور گولاباری کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ جب عوام نے یہ حال دیکھا تو وہ دوسرے ڈرا برج پر بھی چڑھنے لگے تاکہ اس کے ذریعے قلعے میں داخل ہو سکیں۔ اب گورنر کو مجبورا جوابی فائرنگ کا حکم دینا پڑا۔ پہلے گورنر نے عوام کو وارننگ دی کہ وہ فائرنگ کا حکم دینے والا ہے۔ لیکن عوام پیچھے نہیں ہٹے تو قلعے کے محافظوں نے فائرنگ شروع کر دی۔
[18:59]قلعے میں بیٹھے فوجیوں کے لیے اسانی یہ تھی کہ وہ بلندی سے عوام کو اسانی سے نشانہ بنا سکتے تھے جبکہ عوام کی فائر کی گئی گولیاں ان تک پہنچتی ہی نہیں تھیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک چلنے والی لڑائی میں 100 کے قریب حملہ اور مارے گئے جبکہ قلعے کے محافظوں میں سے صرف ایک فوجی ہلاک ہوا۔ عوام شاید اس قلعے کو کئی ہفتوں تک بھی فتح نہ کر پاتے۔ لیکن بستییل کا گورنر خون خرابے سے جلد ہی اکتا گیا۔ ایک موقع پر اس نے فیصلہ کیا کہ بستییل میں موجود بارود کو اگ لگا کر سارے قلعے کو تباہ کر دیا جائے تاکہ یہ اسلحہ عوام کے ہاتھ نہ لگے۔ اگر واقعی گورنر ایسا کر دیتا تو وہ اور اس کے فوجی تو مارے ہی جاتے لیکن ارد گرد کھڑے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ لیکن گورنر کے ایک ساتھی نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب قلعے کے محافظ اپنی بلند پوزیشن سے نیچے دیکھتے تو یوں لگتا جیسے پورا پیرس ان کے مقابلے پر اگیا ہے۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہو سکا کہ لڑنے والے صرف 900 لوگ تھے۔ باقی تو تماشا دیکھنے والے تھے لیکن بستییل کے گورنر نے عوامی دباؤ کو دیکھتے ہوئے اخر کار ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے عوام سے وعدہ لیا کہ وہ کوئی خون خرابہ نہیں کریں گے اور پھر اس کے حکم پر قلعے کے دروازے کھل گئے۔ یہ گورنر کی زندگی کی اخری غلطی تھی۔ جوش میں بھرے عوام اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ عوام اتنے پرجوش تھے کہ ان کی فائرنگ سے ان کے اپنے ہی کئی لوگ بھی مارے گئے۔ ان لوگوں نے قلعے میں موجود سوئیس گارڈز کو تو قیدی بنا لیا لیکن بوڑھے فوجیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ جس شخص نے گورنر کو قلعہ اڑانے سے منع کر کے ہزاروں لوگوں کی جان بچائی تھی اسے تلوار گھونپ کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ پھر اس کے ہاتھ کاٹ کر گلیوں میں گھمائے گئے۔ قلعے کے افسروں کو گلیوں میں بے دردی سے گھسیٹا گیا اور ان میں سے پانچ افسروں اور تین سپاہیوں کو قتل کر دیا گیا۔ اب گورنر کا حال بھی جانیں۔ لوگ اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لائے اور اسے ٹھوکروں پر رکھ لیا۔ کوئی کہہ رہا تھا اسے لٹکا دیا جائے کسی نے کہا اسے گھوڑے کی دم کے ساتھ باندھ کر گھسیٹا جائے۔ جب تکلیف اور بے بسی گورنر کے قابو سے باہر ہو گئی تو اس نے چیخ کر کہا مجھے مار دو۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اس شخص کو ٹھوکر ماری جس نے اسے پکڑ رکھا تھا۔ اس پر لوگوں نے گورنر کے جسم میں سنگین گھونپ کر اسے زندگی سے ازاد کر دیا۔ وہ اس کی لاش کو بھی ٹھوکریں مارتے ہوئے کہہ رہے تھے یہ غدار ہے ہمیں اس کا سر چاہیے۔ جسے گورنر نے ٹھوکر ماری تھی اس نے کسی سے تلوار مانگ کر گورنر کے گلے پر وار کیا لیکن کند تلوار کام نہ کر سکی تو اس نے چاقو سے گورنر کی گردن اتار دی۔ سر پر گورنر کا نام لکھا اور ایک نیزے پر ٹانگ کر گلیوں میں گھمایا گیا۔ ہجوم اس سر کو بستییل سے کچھ دور نصب انگریز بادشاہ ہینری فور کے مجسمے کے سامنے لے کر گیا اور اسے تین بار مجسمے کے سامنے جھکا کر کہا اپنے ااقا کو سلام کرو۔ عوام نے بستییل میں اسلحے کا ذخیرہ بھی لوٹ لیا اور پھر جانتے ہیں انہوں نے کیا کیا؟ عوام نے قلعے کو توڑنا شروع کر دیا۔ قلعے کا ایک ایک پتھر اکھاڑ لیا گیا اور کچھ ہی عرصے میں اس مضبوط قلعے کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ اج اگر اپ کبھی پیرس جائیں تو جس جگہ ہینری فور اور سینٹ اینٹونی کی سڑکیں ملتی ہیں اس جگہ ایک چوک ہے۔ جس میں ایک مینار بنا ہے۔ اس جگہ کو پلیس دی لا بستییل کہتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کبھی بستییل کا قلعہ ہوا کرتا تھا۔ اج قلعے کی یاد میں صرف یہ مینار موجود ہے جو بستییل کی تباہی کے تین برس بعد تعمیر ہوا تھا۔ جبکہ اصلی قلعے کے یہ چند پتھر ہی باقی ہیں۔ بستییل کی تباہی انقلاب فرانس کا اہم ترین واقعہ تھا۔ فرانس میں اج بھی 14 جولائی کو بستییل ڈے منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر عوامی چھٹی ہوتی ہے پریڈ منعقد کی جاتی ہے۔ لڑاکا طیارے پرواز بھرتے ہیں اور عوام جی بھر کے خوشیاں شیئر کرتے ہیں۔ بستییل کی تباہی کو 200 برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن بستییل میں جو کچھ ہوا یہ تو ابھی شروعات تھی۔ اس واقعے نے فرانس میں بادشاہت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی تھیں اور پھر وہ وقت بھی ایا جب ہزاروں عورتیں شاہی محل کی طرف بڑھنے لگیں پھر کیا ہوا؟ حکمران عوام کے قیدی کیسے بنے؟ جب عوام کا ہیرو واپس ایا تو کیا منظر تھا اور یہ عوام کا ہیرو تھا کون؟ یہ سب اپ کو دکھائیں گے لیکن فرینچ ریولوشن کی اگلی قسط میں۔ فرانسیسی انقلاب کی کہانی تو اپ دیکھ رہے ہیں لیکن اگر اپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ چین جو اپنے سے سینکڑوں گنا چھوٹے سے ملک جاپان سے شکست کھا جاتا تھا ارمی طاقت کیسے بنا؟ تو یہاں ٹچ کیجیے۔ پاکستانی تاریخ کے ایک ناقابل فراموش باب ناکام احتساب کی داستان جاننے کے لیے یہاں ٹچ کیجیے۔



