[0:02]دوستو کبھی آپ نے نو کنٹیکٹ رول اپنایا ہے یعنی آپ نے خود کو پیچھے کر لیا میسجز بند کر دیے کالز کا جواب دینا چھوڑ دیا صرف اس لیے کہ وہ انسان اپ کی کمی محسوس کرے اپ چاہتے تھے کہ اسے احساس ہو کہ اپ کی ویلیو کیا ہے شروع میں اپ مضبوط رہتے ہیں خود کو سمجھاتے ہیں یہ سب میرے حق میں جائے گا وہ جلد ہی واپس ائے گا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے دل بے چین ہونے لگتا ہے دماغ بار بار اسی کی طرف جاتا ہے اپ فون اٹھاتے ہیں دیکھتے ہیں کوئی میسج تو نہیں ایا پھر رکھتے ہیں اور خود سے کہتے ہیں نہیں مجھے مضبوط رہنا چاہیے مجھے قائم رہنا چاہیے لیکن اندر سے اپ ٹوٹ رہے ہوتے ہیں اور پھر سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا اپ نے سوچا تھا اپ نے سوچا تھا کہ وہ اپ کو مس کرے گا اپ کو ڈھونڈے گا اپ کے پاس واپس ائے گا لیکن حقیقت وہ بھی خاموش ہو گیا ہے نہ کوئی کال نہ کوئی میسج نہ کوئی کوشش اب یہ خاموشی جو اپ نے طاقت سمجھ کر اپنائی تھی وہی اپ کی کمزوری بننے لگتی ہے دل میں سوال اتے ہیں کہ کیا اس سے واقعی فرق نہیں پڑتا کیا میں اس کے لیے اہم نہیں ہوں ہر گزرتا دن پریشانی کو بڑھا دیتا ہے اپ پھنس جاتے ہیں ایک عجیب سی حالت میں نہ اپ پہلے بات کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ڈر ہے کہ اپ کمزور لگیں گے اور نہ ہی اپ اس خاموشی کو برداشت کر پا رہے ہیں یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں زیادہ تر لوگ غلط فیصلے کرتے ہیں یا تو وہ ٹوٹ کر واپس چلے جاتے ہیں یا مزید خاموشی میں ڈوب جاتے ہیں اور رشتہ ٹوٹ جاتا ہے لیکن سچ کیا ہے اگر نو کنٹیکٹ رول یا سائلنٹ ٹریٹمنٹ کام نہ کرے تو مسئلہ اپ میں نہیں ہے مسئلہ طریقہ کار میں ہے اس لیے اج کی یہ ویڈیو اپ کو یہ سکھائے گی کہ اگر اپ کی خاموشی کام نہ کرے تو اپ کو کیا کرنا چاہیے کیسے اپ اپنی عزت برقرار رکھتے ہوئے صورتحال کو اپنے حق میں بدل سکتے ہیں خاموشی کیوں ناکام ہوتی ہے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خاموشی ایک طاقت ہے اگر وہ پیچھے ہٹ جائیں تو دوسرا انسان انہیں مس کرے گا اور خود واپس ائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ طریقہ ہر بار کام نہیں کرتا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بغیر حکمت عملی کے خاموشی اختیار کرنا جب اپ صرف جذبات میں ا کر رد عمل کے طور پر خاموش ہوتے ہیں تو یہ طاقت نہیں رہتی یہ صرف ایک ری ایکشن بن جاتا ہے دوسرا انسان اپ کی خاموشی کو ایسے بھی دیکھ سکتا ہے اچھا اس سے مسئلہ ہے تو ٹھیک ہے رہنے دو یعنی وہ اپ کی خاموشی کو اپ کے خلاف ہی استعمال کر لیتا ہے اور اپنے رویے کو خود ہی درست سمجھنے لگتا ہے دوسری بڑی وجہ اج کے دور میں ہر انسان کے پاس اپشنز ہوتے ہیں اگر ایک شخص دور ہو جائے تو وہ اپنی توجہ کہیں اور لگا لیتا ہے مصروفیات دوست سوشل میڈیا یا کوئی نیا انسان تو اپ جس کمی کی امید کر رہے ہوتے ہیں وہ پیدا ہی نہیں ہوتی تیسری اہم وجہ انا یعنی ایگو کبھی کبھی دوسرا انسان جان بوجھ کر خاموش رہتا ہے اسے احساس بھی ہوتا ہے لیکن وہ اپنی انا کی وجہ سے اپنی ایگو کی وجہ سے پہل نہیں کرتا وہ سوچتا ہے کہ میں کیوں بات کروں اگر میں نے بات کی تو میری عزت پر حرف ائے گا اور یہی سوچ خاموشی کو اور لمبا کر دیتی ہے ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہر انسان کا اٹیچمنٹ سٹائل ایک جیسا نہیں ہوتا کچھ لوگ جذباتی دباؤ میں ا کر قریب اتے ہیں کچھ لوگ دور ہو جاتے ہیں تو اپ کی خاموشی انہیں قریب لانے کے بجائے اور دور کر دیتی ہے اخر میں سچ یہی ہے کہ خاموشی تبھی کام کرتی ہے جب اس کے پیچھے سمجھ مقصد اور کنٹرول ہو ورنہ یہ رشتہ ٹھیک کرنے کے بجائے اسے مزید کمزور کر دیتی ہے اصل سمجھ یہ کھیل جیتنے کے لیے نہیں بنا ایک بات دل سے سمجھ لیں خاموشی کوئی صحت مند بات چیت نہیں ہے یہ دراصل ایک پاور گیم ہے ایسا طریقہ جس میں ایک انسان دوسرے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے سزا دیتا ہے یا اسے جذباتی دباؤ میں رکھتا ہے اور جب اپ نے بھی یہی طریقہ اپنایا تو اپ نے اس کھیل کو ختم نہیں کیا بلکہ اسی کھیل کا حصہ بن گئے اپ نے بھی وہی اصول مان لیے جو پہلے سے ہی غلط تھے اور اس کھیل کا سب سے خطرناک اصول کیا ہے جو شخص زیادہ اہمیت دیتا ہے وہ ہار جاتا ہے جو شخص زیادہ حساس ہوتا ہے زیادہ خیال رکھتا ہے اس کو پسپائی اختیار کرنا پڑتی ہے اس لیے اپ جیت نہیں سکتے کیونکہ سچ یہ ہے کہ اپ رشتے میں زیادہ انوالو ہیں کیونکہ سچ یہ ہے کہ رشتہ توڑ کر خاموشی اختیار کر کے یا فاصلے بڑھا کر کبھی بھی رشتہ بہتر نہیں بنایا جا سکتا یہ ایسا ہی ہے جیسے اپ اگ بجھانے کے لیے اس پر پٹرول ڈال دیں کیا اگ بجھے گی نہیں بلکہ اور بڑھے گی بالکل یہی اپ کی خاموشی کے ساتھ ہوا اپ نے سوچا اسے احساس ہوگا لیکن ہوا کیا اس نے بھی خاموشی کو قبول کر لیا اور یہ رویہ اس کے لیے نارمل بنتا گیا اپ کی خاموشی نے اسے بدلا نہیں بلکہ اس کے رویے کو اور مضبوط کر دیا تو اب اصل مقصد کیا ہونا چاہیے اسے زبردستی بولنے پر مجبور کرنا نہیں اصل مقصد یہ ہے کہ اپ اپنے ذہنی سکون کو اس کی خاموشی سے ازاد کر لیں اپ کا موڈ اپ کا دن اپ کی خوشی کسی دوسرے کے رویے پر ڈیپینڈ نہ کرے یاد رکھیں اصل جیت یہ نہیں ہے کہ وہ بولے وہ واپس ائے اپ سے معافی مانگے اصل جیت یہ ہے کہ اپ اس خاموشی کے کھیل سے باہر ا جائیں اب اس کھیل سے باہر نکلنے کے طریقے کون سے ہیں سب سے پہلی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپ کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی خاموشی کا مقصد کبھی بھی کسی انسان کو واپس لانا نہیں ہونا چاہیے خاموشی اصل میں اس وقت فائدہ دیتی ہے جب اپ اسے اپنی ذات کے لیے استعمال کریں یعنی اپنی سوچ کو بہتر بنانے خود کو سنبھالنے اور اپنی ترقی پر توجہ دینے کے لیے لیکن اگر اپ کی خاموشی صرف اس لیے کہ دوسرا انسان واپس ا جائے اپ سے معافی مانگے اپ کا احساس کرے اپ کو ویلیو دے تو یہ پھر ایک خطرناک توقع بن جاتی ہے اب جب اپ دیکھ رہے ہیں کہ اپ کی خاموشی کام نہیں کر رہی بلکہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پریشانی بڑھ رہی ہے اور یہ ایک خاموشی ایک پاور گیم میں بدل چکی ہے تو پھر وقت اگیا ہے کہ اپ اس کھیل سے باہر نکل ائیں یاد رکھیں ہر کھیل جیتنے کے لیے نہیں ہوتا کبھی کبھی سب سے بڑی سمجھداری یہی ہوتی ہے کہ اپ درمیان میں رک جائیں میچ کو ڈرا کر دیں کھیل کو درمیان میں چھوڑ دیں کیونکہ کچھ حالات میں کھیل کو چھوڑ دینا اصل میں جیت کے برابر ہوتا ہے اب اپ کا اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ اپ اس خاموشی کو ختم کریں اور اپنی تمنائی واپس اپنی زندگی اپنے سکون اور اپنی ترقی پر لگائیں کیونکہ اصل طاقت کسی کو خاموش رکھنے میں نہیں بلکہ خود کو ازاد رکھنے میں ہے پرسکون انداز میں سچ بولیں اب اگلا اور سب سے اہم قدم یہ ہے کہ اپ خاموشی کے اس دائرے سے نکلنے کے لیے سچ بولنا سیکھیں لیکن صحیح طریقے سے سب سے بڑی غلطی جو لوگ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ یا تو غصے میں بات کرتے ہیں یا پھر شکایت اور الزام کے لہجے میں سب کچھ کہہ دیتے ہیں اور اس کا نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلتا ہے دوسرا انسان دفاعی ہو جاتا ہے بات سننے کے بجائے خود کو درست ثابت کرنے لگتا ہے اور مسئلہ حل ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتا ہے اس لیے اصول یہ ہے کہ غصہ نہیں شکایت نہیں طنز نہیں اور نہ ہی منتیں بس ایک سیدھا صاف اور پرسکون جملہ مثلا یہ خاموشی مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ہمیں بات کرنی چاہیے یہ جملہ بظاہر بہت سادہ ہے لیکن اس کی طاقت بہت گہری ہے کیونکہ اس میں نہ الزام ہے نہ حملہ اور نہ ہی کمزوری اپ کسی کو نیچا نہیں دکھا رہے اور نہ ہی خود کو نیچے لا رہے ہیں اپ صرف ایک حقیقت بیان کر رہے ہیں یہ صورتحال میرے لیے ٹھیک نہیں ہے یہی وہ نقطہ ہے جہاں اپ اس پورے گیم سے باہر نکل اتے ہیں یاد رکھیں خاموشی کے کھیل میں سب سے بڑی جیت خاموش رہنا نہیں بلکہ سمجھداری سے بولنا ہے اب کچھ ایسے جملے بھی سمجھ لیں جو اپ کی عزت بھی محفوظ رکھتے ہیں اور سامنے والے کو یہ بھی نہیں لگنے دیتے کہ وہ جیت گیا ہے مثلا میں لڑنا نہیں چاہتا بس مسئلہ حل کرنا چاہتا ہوں مجھے خاموشی نہیں واضح بات چیت چاہیے اگر بات نہیں ہوگی تو دوری بڑھتی جائے گی میں الزام نہیں لگا رہا بس حقیقت بتا رہا ہوں میری طرف سے دروازہ بات کے لیے کھلا ہے لیکن خاموشی کے لیے نہیں یہ جملے بہت اہم ہیں کیونکہ ان میں ایک توازن ہوتا ہے نہ اپ کمزور لگتے ہیں نہ اپ جارہانہ نظر اتے ہیں اور نہ ہی سامنے والا اپ کو اسانی سے غلط ثابت کر سکتا ہے یہاں ایک اور اہم بات سمجھیں جب اپ پرسکون انداز میں سچ بولتے ہیں تو اپ سامنے والے کو موقع دیتے ہیں کہ وہ سوچے اپ اس پر دباؤ نہیں ڈالتے لیکن اسے ائینہ ضرور دکھا دیتے ہیں اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس انداز میں اپ ہار محسوس نہیں کرتے کیونکہ اپ نے چیخا نہیں اپ نے گڑگڑایا نہیں اپ نے الزام نہیں لگایا اپ نے صرف اپنی بات صاف کی یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں اپ اپنی عزت بھی بچا لیتے ہیں اور اپنی پوزیشن بھی واضح کر دیتے ہیں اور ایک بہت اہم حقیقت یاد رکھیں جو شخص اپ کی پرسکون بات کو بھی اپنی جیت سمجھ لے وہ دراصل اس کھیل کو نہیں سمجھتا کیونکہ یہاں کوئی جیت نہیں ہوتی یہاں صرف یا تو رشتہ بہتر ہوتا ہے یا حقیقت سامنے ا جاتی ہے اس لیے بولیں لیکن سکون کے ساتھ کیونکہ اصل طاقت شور نہیں ہے بلکہ خاموشی سمجھداری کے ساتھ بولنے میں ہے اپنی حدیں واضح کریں یہ سب سے اہم اور فیصلہ کن قدم ہے اپ کو خود سے ایک فیصلہ کرنا ہوگا میں اس خاموشی کا حصہ نہیں بنوں گا یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک نیا رویہ ہے اب اپ اس کھیل کے اندر نہیں رہتے اپ اس سے باہر کھڑے ہو کر اپنی پوزیشن طے کرتے ہیں اگر دوسرا شخص پھر بھی خاموش رہتا ہے تو اپ اس کے پیچھے نہیں جاتے نہ بار بار میسج نہ مسلسل کالز نہ منتیں نہ خود کو بار بار ثابت کرنے کی کوشش اپ اپنی عزت کو ترجیح دیتے ہیں لیکن یہاں ایک بہت اہم حقیقت سمجھنا ضروری ہے جب اپ خاموشی کے بعد دوبارہ بات چیت شروع کرتے ہیں تو ہر بار یہ مثبت نہیں ہوتا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے کہ سامنے والا اسے اپ کی پسپائی سمجھ لے اور اپنی فتح وہ سوچ سکتا ہے کہ اچھا اخر کار یہ واپس ہی اگیا ہے اور یہی سوچ بعض اوقات اسے مزید طاقتور بنا دیتی ہے پھر کیا ہوتا ہے وہ پہلے سے زیادہ ٹھنڈا رویہ اپناتا ہے زیادہ نظر انداز کرتا ہے اور کبھی کبھی اپ کو مزید تنگ کرنا شروع کر دیتا ہے کیونکہ اس کے ذہن میں یہ تاثر بن جاتا ہے کہ اپ ہمیشہ واپس ائیں گے اس لیے حدود بہت ضروری ہیں اپ کو پہلے سے فیصلہ کرنا ہوگا کہ میں کتنی دیر تک اس صورتحال کو برداشت کروں گا میں کب تک خاموشی کو نظر انداز کروں گا اور کب میں خود کو مکمل طور پر پیچھے کر لوں گا یہ حدود صرف سوچنے کی نہیں ہوتی ان پر سختی سے عمل کرنا ہوتا ہے کیونکہ اگر اپ کی حدیں واضح نہیں ہوں گی تو دوسرا انسان بار بار اپ کو اسی دائرے میں واپس لے ائے گا یاد رکھیں حدود کا مطلب لڑائی نہیں ہوتا حدود کا مطلب ہوتا ہے کہ میں اپنی عزت اور ذہنی سکون کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کروں گا جب اپ یہ رویہ اختیار کرتے ہیں تو اپ کسی کو کنٹرول نہیں کر رہے ہوتے اپ صرف خود کو محفوظ کر رہے ہوتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں اپ واقعہ اس خاموشی کے کھیل سے باہر نکل اتے ہیں اپنی توجہ واپس اپنی زندگی پر لائیں یہ وہ مرحلہ ہے جہاں اصل طاقت واپس اتی ہے کیونکہ سچ یہ ہے کہ خاموشی یا سائلنس ٹریٹمنٹ اپنی طاقت خود نہیں رکھتا اس کی اصل طاقت اپ کی توجہ سے اتی ہے جتنا زیادہ اپ اس ایک انسان کے بارے میں سوچتے ہیں اتنا ہی یہ خاموشی اپ پر اثر انداز ہوتی ہے اپ بار بار فون چیک کرتے ہیں ہر نوٹیفیکیشن پر دل دھڑکتا ہے اور ہر خاموش لمحہ اپ کو اندر سے کھا رہا ہوتا ہے لیکن جیسے ہی اپ یہ صبر روک دیتے ہیں کھیل بدلنا شروع ہو جاتا ہے اب وقت ہے کہ اپ اپنی توجہ واپس اپنی زندگی پر لے ائیں فون کو بار بار دیکھنا بند کریں اس انتظار کو ختم کریں جو اپ کو کمزور کر رہا ہے اپنے ذہن کو دوبارہ اپنی روٹین میں لائیں کام پر توجہ دیں اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالیں اور ان چیزوں پر فوکس کریں جو واقعی اپ کی زندگی کو بہتر بناتی ہیں دوستوں سے ملیں گھر والوں کے ساتھ وقت گزاریں اور خود کو دوبارہ مصروف رکھیں اور خود کو دوبارہ مصروف کریں کیونکہ جتنی زیادہ اپ کی زندگی بھرپور ہوگی اتنی کم طاقت اس خاموشی کے پاس رہ جائے گی یہ ایک سادہ مگر بہت گہرا اصول ہے جس چیز کو اپ اہمیت دیتے ہیں وہی اپ پر اثر رکھتی ہے جیسے ہی اپ اپنی توجہ اس ایک انسان سے ہٹا لیتے ہیں یہ خاموشی اہستہ اہستہ کمزور ہونے لگتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپ کی زندگی کسی ایک شخص کے رویے کی محتاج نہیں ہوتی اپ کی خوشی اپ کا سکون اپ کی ذہنی حالت اپ کے اپنے کنٹرول میں ہونی چاہیے جب اپ اپنی توجہ واپس اپنی زندگی پر لے اتے ہیں تو اپ صرف خاموشی سے باہر نہیں نکلتے اپ خود کو دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں نتیجے کو قبول کرنا سیکھیں یہ سب سے مشکل مگر سب سے ضروری مرحلہ ہے کیونکہ یہاں ا کر اپ کو ایک سادہ سی حقیقت کو ماننا پڑتا ہے ہر رشتہ بچانے کے قابل نہیں ہوتا اپ چاہے جتنی بھی کوشش کر لیں چاہے اپ کتنا بھی سمجھداری سے بات کر لیں چاہے اپ اپنی طرف سے سب کچھ درست کرنے کی کوشش کریں اگر دوسرا انسان بدلنے کے لیے تیار نہیں ہے تو پھر صورتحال وہی رہتی ہے اور یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ لوگ ٹوٹ جاتے ہیں وہ سوچتے ہیں کہ اگر میں اور کوشش کروں تو شاید سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن کبھی کبھی زیادہ کوشش بھی صرف تھکن بڑھاتی ہے حل نہیں لاتی اپ کو یہ قبول کرنا ہوگا کہ خاموشی ہمیشہ ختم نہیں ہوتی کبھی کبھی رشتہ ہی ختم ہو جاتا ہے یہ بات سننے میں سخت لگتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کیونکہ تعلق دو طرفہ ہوتا ہے اگر ایک طرف صرف کوشش ہو اور دوسری طرف خاموشی تو توازن نہیں رہتا اب اپ کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو اپ اسی خاموشی میں خود کو کھوتے رہیں یا پھر حقیقت کو قبول کر کے اگے بڑھ جائیں قبول کرنا ہار نہیں ہوتا وہ ذہنی ازادی ہوتی ہے کیونکہ جب اپ یہ مان لیتے ہیں کہ سب کچھ اپ کے کنٹرول میں نہیں ہے تو اپ اپنے اپ کو ایک بوجھ سے ازاد کر لیتے ہیں یاد رکھیں کچھ دروازے بند ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ اپ اپنی زندگی کے نئے دروازے کھول سکیں اصل طاقت یہ نہیں ہے کہ اپ ہر رشتہ بچا لیں اصل طاقت یہ ہے کہ اپ خود کو ہر غیر صحت مند تعلق سے بچا لیں اور یہی اس پورے سفر کا سب سے اہم سبق ہے دوستو یاد رکھیں اپ کسی کو مجبور نہیں کر سکتے نہ اس کے جذبات بدل سکتے ہیں نہ اس کے فیصلے کنٹرول کر سکتے ہیں لیکن ایک چیز ہمیشہ کر سکتے ہیں اور وہ ہے خود کو ازاد کرنا خاموشی کے کھیل میں اکثر لوگ ایک بڑی غلطی کرتے ہیں وہ سمجھ لیتے ہیں کہ خاموشی ہمیشہ سامنے والے کو واپس لائے گی وہ اپ کی قدر کرے گا اور خود چل کر اپ کے پاس ائے گا لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ سمجھتے ہیں کہ خاموشی ناکام ہو گئی ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ خاموشی کی ناکامی نہیں ہوتی بلکہ اپ کی توقع کی ناکامی ہوتی ہے کیونکہ خاموشی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے یہ صرف ایک حکمت عملی ہے اور ہر حکمت عملی ہر صورتحال میں کام نہیں کرتی جب اپ غلط توقع کے ساتھ خاموش ہو جاتے ہیں تو نتیجہ بھی اکثر اپ کے خلاف جاتا ہے اس لیے سمجھنا ضروری ہے کہ مسئلہ خاموشی میں نہیں بلکہ اس امید میں ہوتا ہے جو اپ نے اس سے جوڑ لی ہوتی ہے دوستو یہ ویڈیو صرف تعلیمی اور اگاہی کے مقصد کے لیے ہر رشتہ ہر صورتحال مختلف ہوتی ہے اس لیے اسے کسی بھی حتمی مشورے کے طور پر نہ لیا جائے اور اخر میں ایک بات یاد رکھیں اپ کی اصل جیت یہ نہیں ہے کہ کوئی واپس ائے یا نہ ائے اصل جیت یہ ہے کہ اپ اپنے ذہنی سکون کو واپس حاصل کریں خاموشی کے اس کھیل میں جیتنے والا وہ نہیں ہوتا جو زیادہ دیر تک خاموش رہے بلکہ وہ ہوتا ہے جو سمجھ جائے کہ کب رک جانا ہے کیونکہ کبھی کبھی سب سے بڑی طاقت یہ ہوتی ہے کہ اپ کھیل ہی چھوڑ دیں اگر یہ ویڈیو اپ کو دوستوں اگر یہ ویڈیو اپ کو سمجھ ائی ہے تو اسے لائک کریں اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور کمنٹ میں ضرور بتائیں کہ اپ کس صورتحال سے گزر رہے ہیں اپ کی رائے اور اپ کا سپورٹ ہی اس چینل کی اصل طاقت ہے ملتے ہیں کسی اگلی ویڈیو میں اللہ تعالی اپ کا حامی و ناصر ہو

No Contact & Silence Didn’t Work? Do This Instead (Reverse Psychology)
Waris Ki Baat
14m 58s3,093 words~16 min read
Auto-Generated
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


