[0:00]اگر اب بھی آپ کرائے کے گھر میں رہتے ہیں اور اس سکیم کے بعد بھی کرائے کے گھر پہ رہیں گے تو پھر آپ کا اللہ ہی حافظ ہے، کیونکہ یہ وہ واحد سکیم ہے جس آپ کرائے کے گھروں سے چھٹکارہ جو ہے وہ حاصل کر سکتے ہیں۔
[0:10]اب اس سکیم کے بارے میں بہت زیادہ لوگوں نے انفارمیشن اب تک پہنچا دی ہے کل وزیراعظم پاکستان نے باقاعدہ اس کا اعلان بھی کیا اور اناؤنس بھی کیا کہ یہ سکیم ہے کیا تو خدارا اپنے قریبی بینکوں میں جائیں اور وہاں پہ جا کے انفارمیشن لیں اور اس سکیم کا حصہ بنیں اگر آپ
[0:27]کرائے کے گھر سے جان چھٹکارہ جو ہے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کرائے کے مکان جو مالک مکان ہے اس کی آئے روز کی چیخ و پکار جو ہے وہ اگر آپ نہیں سننا چاہتے تو پھر اس کے لیے آپ کو اس سکیم کا حصہ بننا پڑے گا اگر آپ پاکستان میں اپنا گھر بنانا چاہتے ہیں
[0:40]یہ وہ واحد سکیم ہے جو کہ پورے پاکستان کے لیے وزیراعظم پاکستان کی طرف سے اناؤنس کی گئی ہے اعلان کیا گیا ہے۔
[0:47]اس سے پہلے پنجاب کے اندر بھی سکیم تھی اور پنجاب کی اس میں جو سکیم تھی اس کا نام تھا اپنی چھت اپنا گھر لیکن وہ ایک محدود طبقے کے لیے تھی جو کم آمدن والا طبقہ تھا اس کے لیے لیکن یہ وہ سکیم ہے جس میں اب
[1:03]ہر کوئی اپلائی کر سکتا ہے صرف بس آپ نے آپ کے پاس ائی ڈی کارڈ پاکستان کا ہونا لازمی ہے تو وہ ائی ڈی کارڈ آپ اپنے بینک میں لے جائیں جہاں پہ آپ کا اکاؤنٹ ہے اگر اکاؤنٹ نہیں ہے تو اکاؤنٹ کھلوا لیں اور بینک کے پاس جائیں اور اپنی ایپلیکیشن جو ہے وہ دائر کریں۔
[1:13]بہت آسان طریقہ ہے اس کا کوئی اتنا مشکل نہیں ہے دو آپشنز ہیں آپ کے پاس سمپل سی بات ہے۔
[1:18]ایک تو آپ اپنے کمپیوٹر یا اپنے موبائل فون سے آن لائن ایپلیکیشن جو ہے وہ فائل کر سکتے ہیں۔
[1:24]دوسرا آپ کے پاس آپشن ہے بینک کی کہ آپ بینک کے تھرو اپلائی کر سکتے ہیں۔
[1:29]تو اپلائی کریں گے تو آپ کو آپ کی اپنا گھر وزیراعظم کی جو اپنا گھر سکیم ہے اس کے اندر آپ کو گھر میں بھی مل سکتا ہے آپ گھر خرید بھی سکتے ہیں پلاٹ لے کے کنسٹرکشن بھی کر سکتے ہیں بنا بنائے اپارٹمنٹ جو ہے وہ بھی آپ خرید سکتے ہیں۔
[1:43]اب شرائط اس میں کیا ہے شرائط صرف ایک ہی ہے کہ آپ کے پاس ائی ڈی کارڈ جو ہے وہ پاکستان کا ہونا چاہیے آپ کسی بھی علاقے کے شہری ہیں اور اس میں خاص طور پر گلگت بلتستان کے جو شہری ہیں ان کے لیے خصوصی رعایت جو ہے وہ حکومت کی طرف سے رکھی گئی ہیں۔
[1:57]تو لہذا اب جو دیگر صوبے ہیں وہ بھی اپنی اس سکیم کے تحت جو ہے وہ اپلائی کر سکتے ہیں وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ 51 ہزار رواں سال کے اندر جو درخواستیں ہیں وہ لی جائیں گی جس کے لیے 300 ارب روپے سے زائد کا بجٹ جو ہے
[2:08]وہ ایلوکیٹ حکومت کی طرف سے کر دیا گیا ہے اور 20 سے زائد بینک آپ سے ایپلیکیشن جو ہے وہ وصول کر رہے ہیں۔
[2:16]ایپلیکیشن کے لیے اگر آپ آن لائن اپلائی کرنا چاہتے ہیں گھر بیٹھ کے اپلائی کرنا چاہتے ہیں تو اس کا سمپل سا حل ہے اپنا گھر ڈاٹ جی او وی ڈاٹ پی کے
[2:29]یہ اس کا ایک یو آر ایل لنک ہے تو آپ اس لنک کو اوپن کریں گے انگلش اور اردو میں جا کے سب سے پہلے اکاؤنٹ بنائیں لاگ ان کریں اور وہاں پہ جو انفارمیشن ریکوائرڈ ہے زیادہ انفارمیشن بھی ریکوائرڈ نہیں ہے آپ نے
[2:37]اپنے ائی ڈی کارڈ کی کاپی جو ہے وہ وہاں پہ پیسٹ کرنی ہے اور اس کے بعد اگر آپ جاب ہولڈر ہیں تو آپ کے پاس جو ہے وہ آپ کی
[2:46]جو سیلری سلپ ہے وہ ہونی چاہیے اور بینک کی چھ ماہ کی سٹیٹمنٹ جو ہے وہ آپ سے مانگی جائے گی وہ آپ نے یہاں پر اٹیچ کرنی ہے۔
[2:53]اور اگر آپ ڈائریکٹ بینک کے پاس جاتے ہیں تو بینک سے وہاں پہ ایپلیکیشن جو ہے وہ لیں اور میرا آپ کو ذاتی مشورہ یہی ہے
[3:00]کہ آپ بینک کے تھرو جو ہے وہ ایپلیکیشن اپنی اپلائی کریں کیونکہ اگر بینک کے تھرو کریں گے وہ ایک سالڈ پروف ہو جاتا ہے کہ آپ کا اس بینک کے اندر اکاؤنٹ ہے اور بینک بھی آپ کو اس کے لیے نومینیٹ کر رہا ہے کہ جناب یہ اس کی ایپلیکیشن جو ہے
[3:13]وہ پروسیس ہو سکتی ہے کیونکہ بینک نے تمام تر آپ کی جو چیزیں ہیں ان کے پاس آل ریڈی موجود ہوتی ہیں اگر آپ کا اکاؤنٹ ہے۔
[3:24]اور دوسری طرف اگر کوئی بزنس مین ہے تو اگر اس کا بھی اکاؤنٹ ہے تو وہ بھی اپلائی کر سکتا ہے اب سوال ہے جس کا بینک کے اندر اکاؤنٹ نہیں ہو گا وہ کیسے اپلائی کر سکتا ہے۔
[3:32]دیکھیں سمپل سی بات ہے آپ بینک میں جا کے اپنا اکاؤنٹ کھلوائیں اگر آپ کے پاس کوئی بھی سرکاری آپ کے پاس
[3:39]اپنا گھر جو ہے وہ نہیں ہے کوئی بھی چیز آپ کے نام نہیں ہے تو آپ سمپل سی بات ہے آپ گھر اس بینک میں جائیں اپنا اکاؤنٹ کھلوائیں اگر آپ 50 ہزار دیہاڑی پہ بھی 50 ہزار سیلری پہ بھی آپ کام کرتے ہیں تو بھی آپ اپلائی اس میں کر سکتے ہیں کیونکہ یہ فار آل ہے اس میں کسی قسم کے ممانعت جو ہے وہ نہیں ہے۔
[3:55]اب آپ کے ذہن میں سوال ہو گا اگر آپ کی 50 ہزار انکم ہے تو بھئی پھر بینک کو کیا فائدہ سمپل سی بات ہے جب آپ لون اپلائی کریں گے
[4:01]تو وہ آپ کی انکم کے مطابق آپ کو لون جو ہے وہ دیا جائے گا انکم کے مطابق آپ کو اس کی ایک انسٹالمنٹ جو ہے وہ بنا کے دی دی جائے گی
[4:12]اور اس کے بعد بینک کے پاس کیا گارنٹی ہوگی کہ بینک کے پاس کیا چیز رکھنی ہو گی بینک سمپل سی بات ہے اگر آپ پلاٹ لے کے گھر بنانا چاہتے ہیں تو وہ آپ کا پلاٹ یا گھر جو ہے وہ اپنے وہ پلیج کر لے گا۔
[4:22]وہ ان کے ڈاکومنٹس اپنے پاس رکھے گا ڈاکومنٹس پاس رکھنے کے بعد ان کے پاس وہ چیزیں موجود ہوں گی تو آپ ماہانہ اپنی قسط جو ہے وہ پے کرتے رہیں گے۔
[4:30]تو لہذا جو 50 ہزار انکم والے بھی لوگ ہیں وہ بھی اس سکیم میں اپلائی کر سکتے ہیں لیکن ان کے لون کی جو ایک
[4:38]ریشو ہے وہ کم کر دی جائے گی اور دوسری طرف اس میں ایک نئی چیز یہ بھی ایڈ کی جا رہی ہے گورنمنٹ کی طرف سے
[4:44]اور وہ یہ ہے کہ ابھی میں اس کی ویب سائٹ پڑھ رہا تھا کہ 10 پرسنٹ آپ کو ا ا جو ابتدائی طور پر جب لون اپروو ہو گا آپ کا تو اس میں 10 پرسنٹ آپ کی کنٹریبیوشن جو ہے وہ ہو گی 90 پرسنٹ کنٹریبیوشن جو ہے وہ ایف پی آئی یعنی کہ بینکس جو ہیں وہ کریں گے۔
[5:00]اور 20 سے زائد بینکس اس کے اندر شامل ہیں اور وہ آپ کی ایپلیکیشن کو رد بھی نہیں کر سکتے۔
[5:05]تو لہذا دوسری طرف یہ کہ آپ اب چانسز کتنے ہیں کہ آپ کی ایپلیکیشن اپروو ہوتی ہے یا نہیں۔
[5:08]سمپل سی بات ہے بینک جب آپ کی طرف سے ایپلیکیشن موو کرتا ہے اپنا گھر اپنا ہاؤسنگ سکیم کی جو ایڈمن ہے انتظامیہ وہ پھر آپ کی سکروٹنی جو ہے وہ کرتے ہیں سکروٹنی میں انہوں نے آپ کا یہ دیکھنا ہوتا ہے کیا آپ ایلیجیبل ہیں کہ آپ اپنی قسط پے کر سکتے ہیں یا نہیں اگر تو آپ اپنی قسط پے کر سکتے ہیں
[5:21]تو پھر آپ کے لیے کوئی ایشو نہیں ہے آپ اپلائی کر سکتے ہیں آپ کی ایپلیکیشن جو ہے وہ اپروو بھی ہو گی اب اس کے فائدے کیا ہیں بھئی سمپل سی بات ہے
[5:31]اگر آپ کو ایک کروڑ کا بھی لون آپ کا اپروو ہو جاتا ہے اگر آپ کسی بھی بڑے شہر میں ہیں اس کی ایسی سکیم جو ہے وہ ڈھونڈیں ایسی سوسائٹی ڈھونڈے
[5:41]جو کہ گورنمنٹ کے ساتھ رجسٹرڈ ہو۔ یہ بات طے ہے کہ گورنمنٹ کے ساتھ رجسٹرڈ ہونے والی جو گورنمنٹ کے کاغذوں میں اپرووڈ جو سکیمیں ہیں انہی میں آپ جو ہے وہ گھر لے سکتے ہیں اس کے علاوہ آپ کہیں نہیں جا سکتے
[6:00]کیونکہ گورنمنٹ نے رجسٹری والی چیزوں کو دیکھنا ہوتا ہے بعض اوقات وہ ا فائلوں والے کیسز بھی دیکھ لیا جاتے ہیں لیکن وہاں پر ان کی جو سوسائٹی ہے وہ متعلقہ اتھارٹی سے اپروو ہونی چاہیے ریگولرٹی اتھارٹی سے
[6:07]فار ایگزیمپل اگر لاہور ہے تو ایل ڈی اے سے ملتان ہے تو ایم ڈی اے سے جو ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہے ان سے ان کا ہونا چاہیے گوجرانوالہ یا دیگر شہروں کے اندر یا دیگر صوبوں کے اندر جو جو وہاں پہ ریگولیٹری اتھارٹیز ہو گی سوسائٹیز کے حوالے سے ان کی اپروول جو ہے ان کی منظور شدہ سکیمیں جو ہے وہاں پر آپ اپلائی کر سکیں گے تو اس کے بعد آپ کے پاس ایک کروڑ کا اگر آپ کو لون ملتا ہے تو آپ ایک کروڑ روپے سے
[6:30]پانچ مرلے کا پلاٹ لیں پانچ مرلے کا پلاٹ لینے کے بعد وہاں پہ سنگل سٹوری کنسٹرکشن جو ہے وہ آپ کر لیں۔
[6:35]اب اپنے علاقے کے مطابق وہاں پہ ریٹ اور مٹیریل جو ہے وہ آپ دیکھ لیں کیونکہ لاہور کے اندر بھی 40 سے 45 لاکھ میں کسی سوسائٹیز کے اندر مختلف ایسی سوسائٹیز ہیں جو آپ کو پلاٹ جو ہے وہ دے دیتی ہیں۔
[6:47]تو لہذا پلاٹ لیں اس کے بعد گھر کنسٹرکشن جو ہے وہ اس کے اوپر آپ کریں لیکن وہ سنگل سٹوری ہو گا ڈبل سٹوری آپ نہیں کر سکتے ہیں اتنی رقم میں دوسرا پلان یہ ہے کہ آپ گھر جو ہے وہ خرید سکتے ہیں۔
[6:57]تین تین مرلے کے گھر بہت زیادہ مختلف سوسائٹیز نے تین تین مرلے کے گھر جو ہے وہ بھی اناؤنس کیے ہوئے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ گورنمنٹ سے منظور شدہ ہو یعنی کہ
[7:07]ان کی ریگولرٹی اتھارٹی سے تو تین مرلے کا گھر بھی آپ آسانی سے ایک کروڑ یا 85 لاکھ روپے تک آپ وہ گھر خرید سکتے ہیں یہ بھی اس کے اندر ایک چیز جو ہے وہ اچھی شامل کی ہے اس کے بعد اپارٹمنٹ جو ہے وہ آپ خرید سکتے ہیں۔
[7:22]تو لہذا اس لون کو زیادہ سے زیادہ کوشش کریں کہ اپلائی کریں اگر آپ کرائے کے گھر سے جان چھپانا چاہتے ہیں۔
[7:28]سمپل سی بات آپ کے نام پہ کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے آپ نے پہلے گھر کے مالک نہ ہوں یہ دو دن شرائط ہیں اس شرائط کے مطابق آپ اپلائی کر سکتے ہیں اور اپلائی کریں گے تو 10 سال میں پہلے پانچ فیصد مارک اپ ہے اور اس کے بعد مارکیٹ کے مطابق مارک اپ ہو گا
[7:40]تو یہ بہت کم مارک اپ پہ 10 سال کا جو فائدہ آپ اٹھا سکتے ہیں وہ اٹھائیں۔
[7:46]اور اس کے بعد جو مارکیٹ ہے اس کے مطابق آپ کو وہ ریٹ جو ہے وہ کرنا پڑے گا اور کوشش بھی یہی ہے حکومت کی اور اس کے علاوہ جو آنے والی جو صورتحال ہے اکنامک کی
[7:56]معاشی لحاظ سے اس میں بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں آپ کا جو 10 سال بعد وہ آپ کے جو انٹرسٹ ریٹ ہیں وہ بہت کم ہو جائیں گے۔
[8:05]اب کیونکہ 10 سال پہلے آپ دیں گے اگر 10 سال کی بات کریں تو 2040 تک جو ہے وہ آپ کی بات 2045 تک وہاں تک اس وقت حالات جو ہیں وہ مزید چینج ہو سکتے ہیں۔
[8:16]تو لہذا ابھی اگر آپ اس سکیم سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو یہ بہترین موقع ہے۔
[8:20]قرضہ لیں اپنا گھر بنائیں اور کم مارک اپ کے اوپر آپ اپنا گھر جو ہے وہ بنا سکتے ہیں اپنے گھر کے مالک بنیں گے اور سکون سے چھت اپنی چھت کے نیچے جو ہے وہ جب سوئیں گے تو پھر آپ کو احساس ہو گا کہ اپنی چھت کا کتنا سکون ہوتا ہے۔
[8:33]اور وہی جو کرایہ آپ کرایہ دیتے ہیں وہی آپ منتھلی انسٹالمنٹ پے کریں۔ انسٹالمنٹ پے کر کے آپ اپنے گھر میں سکون سے رہ سکتے ہیں۔ شکریہ



