Thumbnail for (58) Hazrat Pira Shah Qalandar Damri Wali Sarkar by Whitestone786

(58) Hazrat Pira Shah Qalandar Damri Wali Sarkar

Whitestone786

47m 24s7,946 words~40 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
[1:06]Section 1

میں نے میاں محمد بخش رحمت اللہ علیہ کھڑی شریف والے ان کی شان جو ہے وہ بیان کی حیات تو میں نے ضمن جو ہے وہ پیر شاہ غازی قلندر دمڑی والی سر...

[7:58]Section 2

اب یہ پیر کا معنی کیا ہے؟ پیر اصل میں فارسی زبان کا لفظ ہے۔ شروع میں پیر بولا جاتا تھا بوڑھے بندے کے لیے اور استاد استاد کے لیے۔ پھر پیر...

[23:44]Section 3

یہ دو ہی شعر کہ ان کی کرامت وہ زندہ پیر ہیں اور کرامت اس کی ظاہری ہے۔ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ کا وہ پھول ہے کہ جو ہمیشہ سدا...

[39:35]Section 4

اللہ اکبر جل شانہ۔ پاؤں میں جوتا نہیں پہنتے تھے۔ تو کبھی کوئی دیکھ لیتا کہ اپ کے پاؤں ذرا زخمی ہو گئے ہیں تو وہ نیا جوتا لا کے دے دیتا۔ پ...

[39:54]Section 5

میں نے اپ کو کہا نا کہ مجذوب جو ہوتا ہے اس کے پاس بیٹھنا جو ہے وہ فائدے مند بھی بڑا ہے لیکن خطرے سے خالی بھی نہیں ہوتا۔ سوال شریف اب تو خ...

[46:15]Section 6

لوگوں نے کہا حضور یہیں رک جائیے۔ اپ ان کا اخری لمحات ہیں یہیں ان کا روزہ بنا دیجیے۔ کہا نہیں مجھے یہاں نہیں رہنا۔ مجھے وہاں جانا ہے۔ چک ٹ...

Use this transcript
Related transcript hubs

[1:06]میں نے میاں محمد بخش رحمت اللہ علیہ کھڑی شریف والے ان کی شان جو ہے وہ بیان کی حیات تو میں نے ضمن جو ہے وہ پیر شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار ان کا ذکر ضمن کر دیا۔ اب ذرا تصرف دیکھیے اور محبت دیکھیے کہ جب اس کو ایڈیٹنگ کے لیے بھیجا تو اس کے اوپر جو نمبر لکھا گیا وہ 59 لکھا گیا۔ اور ایک صاحب کی کال ائی کہنے لگے وہ 58 بیچ میں سے کہاں ہے۔ میں نے پوچھا یار وہ 58 کہاں تو معلوم یہ ہوا کہ 58 بیچ میں سے رہ گیا اور 59 جو ہے وہ لکھ دیا گیا۔ اور تیاری جو شروع کی تھی وہ حضرت سلطان باہو پر کی ریسرچ جو ہے۔ کافی دل لگتے ہیں ایک ٹاپک کے اوپر۔ لیکن اتنا فورس ہوا مجھے کہ تم دمڑی والی سرکار پیرے شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر ضرور کرو۔ اور اسی لیے اپ دیکھیے کہ حالانکہ بہت ایڈیٹنگ جو ہے وہ بڑے دھیان سے کی جاتی ہے۔ 58 رہ گیا کہ یعنی گویا کہ اشارہ تھا میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے کہ پہلے میرے پیر کا ذکر پہلا نمبر ان کا ہو اس کے بعد میرا ذکر ہو تو میں نے 59 بیان ہو چکا ہے اب 58 کر رہے ہیں۔ یہ پہلے کرنا چاہیے تھا وہ یہ ان کی محبت ہے میاں صاحب کی اپنے مرشد کے ساتھ ائیے گفتگو شروع کرتے ہیں۔ حضرت پیرا شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار رحمت اللہ علیہ قبلہ حاجات عالم بارگاہ پیرا شاہ۔ ان کے بارے میں جاننے کے لیے ہمارے پاس جو سب سے مضبوط اور سکھا جو روایات ہیں وہ ہمارے پاس میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کی اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی کتاب تذکرہ مقیمی ہے۔ یہ تذکرہ مقیمی جو ہے یہ فارسی زبان کے اندر ہے۔ تو اپ نے اگر پیر شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار کھڑی شریف ان کے بارے میں جاننا ہو تو تذکرہ مقیمی پڑھیں لیکن یہ فارسی میں ہے۔ تو میرپور کے جو لوگ ہیں زیادہ تر وہ دیوانے ہیں ان کے اور انگلینڈ کے اندر کافی سارے لوگ ہیں جو دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ علیہ کے دیوانے ہیں۔ میں ابھی یوٹیوب کے اوپر دیکھ رہا تھا مفکر اسلام شیخ الاسلام حضرت علامہ سید عبدالقادر گیلانی جیلانی مدہ زلالے یہ جو ہے اس کے اوپر عرس ہو رہا تھا دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ علیہ پہ پیرے شاہ غازی پہ اور یہ تقریر فرما رہے تھے۔ بہت خوبصورت تقریر کی۔ تو یہ اس وقت کے ڈاکٹر ہیں۔ یہ مفکر اسلام عبدالقادر جیلانی یہ اس وقت ڈاکٹر تھے کہ جب مولوی میٹرک بھی نہیں ہوتا تھا اب تو خیر ڈاکٹر جگہ جگہ جگہ جگہ ڈاکٹر پھر رہے ہیں یہ اس وقت کے ڈاکٹر ہیں۔ اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر رب تعالی مجھے اتنی دولت دے دیتا اتنی دولت دیتا ہو زیادہ تو میں یہ جو علماء ہیں ان کو فائیو سٹار جگہ پہ رکھتا اور ان سے کہتا کہ اپ لوگ ہمارے عقیدے کے اوپر اپنی زندگی کا نچوڑ جو ہے وہ لکھ کے دے جاؤ تاکہ ہم بعد میں اس پہ عمل کرتے رہیں۔ تو انگلینڈ والے لوگ جتنے میرپور کے ہیں وہ بڑے خوش نصیب ہیں کہ یہ ہستی ان کو ملی ہے۔ اپ ان کے پاس جائیں ان سے فیض لیں اور اگر کوئی ادمی کیونکہ میری اواز جو ہے یہ لیکچر ماشاءاللہ بہت دور تک سنا جاتا ہے۔ اگر تمہارے پاس پیسہ ہے موقع ہے تو اس ہستی کو غنیمت جانو اور ان سے اپنے عقائد کی کیونکہ ان کے جو دلائل ہیں کوئی مائیکل لال اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ تو اگر انگلینڈ والے سن رہے ہیں تو تذکرہ مقیمی اگر ملے تو پیر عبدالقادر گیلانی صاحب کے پاس لے کر جائیے۔ وہ اپ کو پڑھ کر سنائیں گے تو اج کی گفتگو جو ہے وہ کچھ اس سے ہے اور کچھ اور تحقیق ہے سماعت کیجئے۔ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ جب لکھتے ہیں پیر شاہ غازی کے بارے میں تو شاہباز اوجے کبریائی حضرت پیر پیر شاہ قادری تو اپ تعارف کرواتے ہوئے پیر پیرا و دمڑی والا پیر شاہ قلندر۔ تو اس شعر میں انہوں نے نام بھی بتا دیا کہ پیر شاہ قلندر ان کا نام ہے پیرا شاہ۔ اب یہ جو پیرا شاہ ہے یہ کیا لفظ ہے؟ پیرے پیرا یہ دونوں جو ہیں پرونسیشن استعمال کیے گئے ہیں اپ کے بارے میں۔ تو سنیے یہ صرف لہجے کا ہیر پھر ہے۔ لہجے کا اصل لفظ جو ہے یہ پیر ہے۔ اور پیر یہ جو میرپور کے علاقے کے اندر ہے۔ اس میں یہ اور الف جو ہے یہ لفظوں کے اگے بڑھا دی جاتی ہیں۔ اس کے بڑھانے کا جو ہے وہ رواج ہے اور پنجابی کے اندر بھی یہ ہے۔ پنجابی کے اندر اگر اپ کبھی جائیں گاؤں کے علاقے میں یا اپ کا جانا ہو۔ پنجاب جو ہندوستان کے اندر ہے وہاں کے بالکل نیچے کے علاقے میں جانا ہو تو وہ عورت جب کبھی ویر کا لفظ استعمال کرے گی تو ویرے کہہ دے گی۔ یا ویرا کہہ دے گی۔ تو لفظ تو صرف ویر ہے۔ تو الف اور یہ یہ بڑھانے کا رواج جو ہے یہ پنجابیوں کے اندر ہے۔ وہ لفظ بڑھا دیتے ہیں۔ تو اصل لفظ جو ہے وہ پیر ہے یہ پیرا اور پیرے یہ الف اور یہ کا استعمال جو ہے وہ کیا گیا۔

[7:58]اب یہ پیر کا معنی کیا ہے؟ پیر اصل میں فارسی زبان کا لفظ ہے۔ شروع میں پیر بولا جاتا تھا بوڑھے بندے کے لیے اور استاد استاد کے لیے۔ پھر پیر کو اڈاپٹ کیا اردو زبان نے جب اردو زبان نے اس کو اڈاپٹ کیا تو پھر اس کے معنی تھوڑے سے چینج ہوئے ہادی کے لیے مرشد کے لیے بزرگ کے لیے بانی فرقہ کے لیے اس کے لیے جو ہے وہ استعمال ہونے لگ گئے۔ تو معلوم یہ ہوا کہ اپ کا نام پیرا شاہ ہے۔ اور اصل میں یہ لفظ پیر پیرا شاہ اب شاہ کیا لفظ ہے؟ تو میں شاہ کے بارے میں جب حضرت پیر سید واری شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے کا ذکر کر رہا تھا تو اس کے اندر میں نے لفظ شاہ کی ڈیٹیل بیان کر دی ہے اب وہ جا کے سن لیجئے گا۔ لیکن بتاتا جاؤں کہ شاہ کا معنی ہوتا ہے اصل اور جڑ۔ اس کے بعد لفظ غازی اتا ہے۔ غازی عربی زبان کا لفظ ہے۔ اور غزوہ سے لیا گیا ہے۔ غزوہ سرایا یہ ہسٹری پڑھنے والے یہ ادمی جانتے ہیں کہ یہ غزوہ اور سرایا یہ اصل میں جنگ کے دو نام ہیں ہیں جنگ ہی۔ وار کو بولتے ہیں غزوہ بھی اور سرایا بھی لیکن غزوہ وہ ہے کہ جس میں بنفص نفیس کائنات کے مالک نبیوں کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم بنفص نفیس جلوہ فرما ہوں وہ غزوہ کہلاتے ہیں اور جس میں اپ اپنا نمائندہ بھیج دیتے۔ وہ سرایا وہ تمہاری جنگ تمام جنگیں سرایا کہلوارہیں تو غزوہ جو ہے غزوہ احد نام تو سنا ہو گا نا غزوہ بدر نام تو سنا یہ لفظ تو سنے ہیں۔ تو غزوہ جو ہے یہ وار ہے تو اس غزوہ سے بنا غازی کہ جو غزوہ لڑتا ہے۔ بعد میں اس کا استعمال جو ہے وہ تھوڑا سا مخصوص ہونے لگ گیا ہے وہ کیا کہ وہ مسلمان کہ جو وار میں جاتا ہے لیکن وہ اسلامی جنگ ہے۔ اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے لڑی جا رہی ہے تو جاتا ہے تو زخم لگتے ہیں لیکن زندہ واپس ا جاتا ہے تو کہتے ہیں یہ غازی ہے۔ اور جو شہید ہو جاتا تھا وہاں وہاں جو اپنی اپنی سر کٹا دیتا تھا روح کپ سے انسی سے پرواز ہو جاتی تھی رب کی رامی خیرات کر دیتا تھا اسے شہید کہتے تھے۔ مرے تو شہید مارے تو غازی سادہ سا جملہ بن گیا۔ تو دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ علیہ کو غازی کیوں کہا جاتا ہے؟ اس لیے کہ پیر شاہ غازی شروع میں ان کو بڑا شوق تھا شہادت کا بڑا شوق تھا۔ اتنا شہادت کا شوق کہ انہوں نے جا کے ارمی جوائن کر لی۔ مغل کی جو ارمی تھی اس کو جوائن کر لیا۔ تو ارمی میں ارمی جب جاتی تھی کفار سے لڑنے کے لیے تو یہ ارمی جاتے تھے۔ لڑتے تھے۔ ان کا دل ہوتا تھا کہ میں شہید ہو جاؤں تو جا کے کینوں کو فن فی نار کرنا۔ تو اپ کی بہادری کو دیکھ کے اور لڑائی کے طریقے کو دیکھ کے اپ کے رینک کو اہستہ اہستہ بڑھاتے چلے گئے۔ تو اپ کا وہ جو شوق تھا شہادت کا وہ پورا تو نہیں ہوا لیکن زخم اپ کی باڈی پہ لگ گئے ران پہ زخم تھا۔ اپ کے بازو پہ زخم تھا۔ تو اس طرح زخم تو تھے لیکن اپ جو ہیں وہ شہید نہیں ہوئے۔ تو اخر پھر ایک دن کیا ہوا کہ فوج جو ہے وہ اپ نے چھوڑ دی۔ کسی بزرگ سے جو ہے وہ اپ کی ملاقات ہوئی بس اس کی توجہ ڈلنا تھا کہ اس نے اپ کوئی اپ کو دنیا سے نکال کر جذب کی کیفیت میں داخل کر دیا۔ یہ پھر اپ نے وہ فوج کو جو ہے وہ چھوڑ دیا ہے وجہ یہ بنی کہ پھر اس اس بزرگ نے اپ کو اپ کی کیفیت کو بالکل ٹوٹلی چیز کر دیا۔ تو اپ اسے چھوڑ کر پھر اگئے واپس۔ اور پھر غازی بھی ہیں اور شہید بھی ہیں۔ کہ جو اپ نے چاہا تھا وہ بھی ملا۔ حکمی ملا شہید کس طرح ہوئے کہ اخر اپ کو ڈاکوؤں نے ڈاکوؤں نے اپ پر حملہ کر دیا۔ تو ڈاکوؤں نے جب اپ پر حملہ کیا تو اتنا شدید انہوں نے حملہ کرا کہ اپ کے جسم کے کئی اعضاء پہ اتنی اتنی شدید انہوں نے مارا۔ خون بہ گیا چند دن کے بعد اپ کا وصال ہو گیا۔ تو یہ شہادت حکمی ہوئی۔ تو شہادت کا رتبہ بھی اللہ تعالی نے اپ کو جو ہے وہ عطا کر دیا۔ اس کے بعد لفظ اتا ہے قلندر اپ کے نام کے ساتھ پیر شاہ قلندر دمڑی والی سرکار۔ یہ جو قلندر کا لفظ اپ کے ساتھ اتا ہے یہ قلندر کا معنی کیا ہے؟ جب میں نے لال شاہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ اور ابو علی شاہ قلندر رحمۃ اللہ علیہ کی سوان حیات بیان کی ہے۔ ان کا ان کی تذکرہ کر رہا تھا میں تو میں نے لفظ قلندر پر جو ہے وہ گفتگو کی ہے۔ لیکن وہ بہت ارلی کر دی۔ تو شاید اپ کو ڈھونڈنے میں یوٹیوب پر مشکل ہو جائے۔ تو میں کوئی تھوڑی سی تشریح پھر کر دوں۔ کہ قلندر جو ہے اس کی ڈیفینیشن میں مختلف لوگوں میں دیکھتا ہوں۔ وہ مختلف کرتے ہیں وجہ کیا ہے کہ جس ادمی نے کہا میں قلندر ہوں۔ وہ قلندر مشہور ہوا تو جو صفات اس کے اندر دیکھی وہ لوگوں نے لکھ دی کہا قلندر کی یہ تعریف ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ قلندر ایک بہت اعلی مقام ہے اور نادر لوگوں کو ملتا ہے ہر ایک کو قلندری نہیں مل جاتی۔ یہ بہت نازک اور بڑا اعلی مقام ہوتا ہے عام ادمی کو نہیں ملتا۔ ائیے میں اپ کو لیے چلتا ہوں اولیاء کرام میں وہ کیا کہتے ہیں کہ قلندر کسے کہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں پرانے دور کے اندر قلندر جو ہوتے تھے ان کا سر مونڈا ہوا ہوتا تھا۔ یہ ان کی نشانی تھی۔ وہ سر منڈواتے تھے اسی لیے حافظ شیرازی نے یہ کہا ہے۔ ہزار نقطہ باریک تر از مو جاست۔ میں بہت اسان نرمی سے پڑھتا ہوں۔ ہزار نقطہ باریک تر از مو مو بال کو کہتے ہیں جاست۔ نہ ہر کے سر بتراشد قلندری دانت یہ نہیں کہ جس کی ٹنڈ ہو تم اسے قلندر سمجھ لو۔ تو پتہ یہ چلا کہ حافظ شیرازی کے دور میں قلندروں کی یہ نشانی تھی کہ وہ بال نہیں رکھتے تھے۔ ایک تعریف کی جاتی ہے کہ قلندر وہ ہوتا ہے کہ جو رسوم کی پابندی نہ کرے۔ لوگوں کے سامنے نوافل تو کجا فرائض بھی نہ پڑھے یہ بھی تعریف کی جاتی ہے۔ کہ قلندر وہ ہوتا ہے اب یہ تعریف نہیں ہے۔ قلندر کی یہ تعریف نہیں ہے یہ اس کی ایک صفت ہے کہ قلندروں کی یہ بھی عادت ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ قلندر جو ہیں یہ زیادہ تر ملامتی فرقہ کے ساتھ ملتے ہیں مشابہت رکھتے ہیں۔ ملامتی فرقہ کیا ہوتا ہے کہ وہ اپنی خوبی کو چھپاتا ہے اور خرابی جو ہے وہ بتاتا ہے۔ اور اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگ میری خرابی پہ نظر رکھیں میری خوبی پہ نظر نہ رکھیں۔ تو قلندر بھی یہی ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کے سامنے فرائض اور نوافل ادا نہیں کرتا۔ لوگوں کے سامنے یہ ایسی شکل میں رہتا ہے کہ لوگ کہیں کہ یہ یہ تو شریعت کا پابندی نہیں ہے۔ تو قلندر جو رسومات کی ظاہر طور پر پابندی نہیں کرتا۔ اور علامہ اقبال نے قلندر کی کیا تعریف کی قلندر جس دو حرف لا الہ کچھ بھی نہیں رکھتا۔ فقیہ شہر قارو ہیں لغت ہائے حجازی کا قلندر صرف دو حرف رکھتا ہے لا الہ الا اللہ اور جو فقیہ شہر ہے۔ جو مولوی ہے وہ قارو ہے قارو یہ ایک ایک تلمیق سمجھ لیجئے کہ یعنی اس کے پاس ڈکشنری ہے اس کے پاس علم ہے اس کے پاس لفظ ہیں ان کے معنی ہیں ان پہ گفتگو ہے اور قلندر کے پاس صرف الف اللہ چمبے دی بوڈی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابدال جو ہے وہ قلندر ہی بنتا ہے۔ 300 اولیاء، 40 ابدال، سات اوتاد، پانچ اقطاب، ایک قطب عالم میں نے اپ کو بتائی تھی نا کبینہ پوری۔ تو کہتے ہیں ابدال وہ بندہ ہے جو قلندر ہو۔ اور سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں زمین و اسمان کھلے ہیں مگر قلندر ان میں سما نہیں سکتا۔ لو کہ قلندر کے لیے یہ جگہ تھوڑی ہے۔ اور خواجہ مسعود بھت نے تو یہاں تک کہہ دیا مجرد شو از دین و دنیا قلندر کہ راہ حقیقت از دو پرتر۔ اور شاہ رحمۃ اللہ کیا کہتے ہیں؟ کمال کر دیا۔ انہوں نے تو بات ہی ختم کر دی۔ کہنے لگے صوفی جب انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ تو پھر قلندر بن جاتا ہے۔ لو بات ختم ہو گئی کہ جب وہ عبادت اور مجاہد و ریاضت کر کر کر کے جب بلندی پہ پہنچتا ہے تو وہ قلندر ہو جاتا ہے۔ تو شاہ حسین بلخی فرماتے ہیں قلندر کی حقیقت کو بیان کرنا ناممکن ہے۔ تو کچھ سمجھ ائی پیر شاہ قلندر اور جسے قلندر میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کہہ دیں اب مجھے ڈیفینیشن کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جن کے گن ان جس عظیم سکالر کر رہا ہے تم میاں محمد اصل میں پرابلم ہے میں ایک بتاؤں اپ کو بات کیا ہے۔ جتنے بھی علامہ اور صوفیہ کرام شاعر ہوئے ہیں نا ان کی دوسری خوبیوں کو نیچے کر دیا گیا اور شاعری کو بڑھا دیا گیا۔ یہ بڑا ظلم ہوا۔ خیر اچھی بات بھی ہے لیکن صرف اسی پہ فوکس نہیں کرنا تھا۔ اب اعلی حضرت عظیم البرکت شاہ رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ 52 علوم پر ان کو دسترست تھی۔ 52 علوم کے اوپر کیا ان علوم پہ دسترست ڈسکس ہوتی ہے نہیں مصطفی جانے رحمت پہ لاکھوں سلام۔ وصول لالا زار میں یہ نہیں کہنا کہ یہ چیزیں نہیں لیکن یہ کہ یہی تو نہیں ہے بہت کچھ ہے اور تو ہم مشہور کر دیتے ہیں ان کی شاعری میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ ایک زبردست سکالر ہیں۔ عربی اور فارسی اور لوکل زبان کے ماہر اور ایکسپرٹ اور کلاسیکل پنجابی شاعر کا اخری محل کہہ لو اخری اینٹ کہہ لو یا اخری سکالر کہہ لو۔ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کے بعد پھر کوئی کلاسیکل پنجابی کا سکالر کوئی نہیں پیدا ہوا۔ پھر ادھر ادھر کے شاعر پیدا ہوتے رہیں کلاسیکل امام جیسے بلے شاہ تھے۔ جیسے شاہ حسین ہیں جیسے وارس شاہ ہیں اور اسی طرح یہ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ۔ بہت بڑے سکالر ہیں۔ کبھی پڑھو تو صحیح یار تم کبھی سیف الملک کو پڑھو ان کی کتابوں کو پڑھو ذرا کہ کیا کیا موتی وہ لٹا کے چلے گئے۔ تو میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ جب انہیں کہہ رہے ہیں پیر جب انہیں کہہ رہے ہیں قلندر تو کیا بات ہوگی اور کیا مقام ہوگا۔ تو پیرا شاہ غازی قلندر رحمۃ اللہ کی سب سے بڑی کرامت میں ان کی کوئی بھی کرامت بیان نہ کروں تو سب سے بڑی کرامت میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ۔ اور میرا یہ وجدان یہ کہتا ہے کہ اپ کو پہلے ہی پتہ چل گیا تھا۔ پہلے ہی پتہ چل گیا تھا کہ میرا ایک مرید ہوگا جو دنیا میں میرا نام روشن کرے گا۔ اسی لیے اپ نے اپنے دو بچوں بچے ہونے کے باوجود اپ نے جس کو بچہ بنایا بابا دین محمد رحمۃ اللہ علیہ جو پردادا ہیں میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ مجھے تو یہ کہنے دیجیے کہ بابا دین محمد کے جو ناز اٹھائے گئے ہیں وہ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کی وجہ سے اٹھائے گئے ہیں۔ ان کو جو خلیفہ بنایا جو لائف پالک بنایا جو ان کو پالا جو اپنے کندھوں پہ اٹھایا وہ اصل میں اپنے کندھوں پہ بابا دین محمد کو نہیں اٹھا رہے وہ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کو اٹھا رہے ہیں۔ تو شاعر پیر شاہ غازی دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ علیہ کے نام کو جو روشن کر دیا جو نام کو ظاہر کر دیا عام کر دیا میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ ان کے ذریعے سے ہوا۔ تو میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ جب اپنا پیر تلاش کر رہے تھے لاہور میں پھر رہے تھے۔ مزارات پہ جا رہے تھے۔ تو ایک دن اپ کی انکھ لگ گئی۔ تو پیر شاہ غازی جو ہیں وہ خواب میں ظاہر ہوئے۔ فرمانے لگے میں ہوں پیر شاہ غازی تو میرا مرید میں تیرا پیر۔ چل اٹھ۔ جا کے سائیں غلام کی جا کے جو ہے وہ غلام محمد کی بیت کر۔ کیونکہ ان کے پاس فیض تو سارا ادھر ہی سے تھا ظاہری ظاہری پیر تو پکڑنا پڑتا ہے نا۔ میں اپ کو بلے شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بتا چکا ہوں کہ ظاہری پیر پکڑنا ضروری ہے۔ تو کہا چل میں تیرا پیر ہوں لیکن جا کے ظاہری پیر پکڑ۔ تو جا کے پکڑا بیت کی تعلق جڑ گیا۔ تو اسی لیے ارے فکری کھڑی جو ہیں وہ پکار اٹھے۔ پیر میرا و دمڑی والا پیر شاہ قلندر ہر مشکل وچ مدد کریندا دوئی جہانی اندر میں ویسے کم شعر پڑھتا ہوں۔ لیکن پتہ نہیں کیوں جب سے میں نے یہ پڑھا میرا دل کر رہا ہے میں ایسے اسے پڑھوں اور میں گنگنا رہا ہوں کافی دنوں سے۔ اور پھر میاں صاحب فرماتے ہیں پیر میرا و دمڑی والا لالا دا ونجا رہا۔ چن چن موتی جھولی پاوے لے لے محمد یار اب اس سے اچھی اور تعریف کیا ہو سکتی ہے۔ میں پوری تذکرہ مقیمی کا فارسی میں ترجمہ کر دوں نا میاں صاحب جو یہ جملہ کہہ گئے ہیں نا پیر شاہ غازی رحمۃ اللہ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ پیر میرا وہ دمڑی والا لالا دا ونجا رہا۔ کہ دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ علیہ جو ہیں وہ موتی موتی بیچتے ہیں موتی بانٹتے ہیں۔ تو باقی تمام کتابوں سے بری کر دیتا ہے جب میاں صاحب کے اشعار ان کے بارے میں ہم پڑھ لیتے ہیں۔ تو اپ اپنی کتاب سفر العشق میں لکھتے ہیں۔ اب میں خلاصہ بیان کرتا ہوں کہ میاں صاحب نے کیا کہا۔ تاکہ ہمیں یہ کوئی نہ کہہ سکے تم نے یہ کہاں سے بات لی ہے ہمیں تو ملی نہیں ہے۔ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ۔ اپنی کتاب سفر العشق کے اندر جسے اپ لوگ سیف الملک کہتے ہو۔ اس نے اپنے پیر کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں میرے مرشد کا نام پیر شاہ قلندر ہے۔ یہ میں اردو میں خلاصہ بیان کر رہا ہوں۔ ان کی شہرت ان کی شہرت چاروں اطراف میں ہے۔ ان کے در پر صرف مسلمان ہی نہیں۔ ہندو سکھ بھی اتے ہیں۔ ہر ایک فیض پاتا۔ اپ کی سخاوت دن بدن زیادہ ہوتی جاتی۔ اپ کی ظاہری زندگی سے لے کر اب تک کمی نہیں ہوئی۔ فیض بڑھتا ہی گیا۔ جو بھی اتا اپ کے دور میں دمڑی پاتا تھا اپ سے دمڑی چوتھا حصہ پیسے کا۔ اور یوں لاکھوں دمڑیاں اپ بانٹ دیتے تھے۔ نہ صرف غریب بلکہ بادشاہ اور عمرہ بھی پیر شاہ غازی کے در پہ اتے۔ مگر حالت یہ ہوتی کہ بادشاہوں کے سر جھکے ہوتے۔ لگتا کہ بادشاہ وہ نہیں یہ بادشاہ ہیں۔ میرے مرشد دمڑی والی سرکار ہیں۔ اور اس میں شک نہیں میرا پیر شاہ شاہ د دمڑی والی سرکار کی حمایت کا یہ عالم ہے۔ کہ اپ کا جو کتا ہے اپ اگر کتے کے اوپر نظر کر دیں تو وہ شیر کو شیر پہ حملہ کر دے۔ شیر اس کے سامنے کچھ نہیں۔ شیر پہ حاوی ہو جاتا ہے۔ اور اپ کے خانقاہ کی چڑیا باز حملہ نہیں کر سکتا۔ یہ اپ کی حمایت کا عالم ہے۔ اور اپ کا کوئی بھی خدمت گار مصیبت میں ہو اور پیر شاہ غازی قلندر پکارے تو فورا اس کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ اکبر جل شانہ۔ اور لوگو یہ مت سمجھنا کہ وہ قبر میں ہیں۔ ہر صفت حال ہے۔ وہ زندہ ہیں کرامتوں کا ظہور اج بھی اسی طرح ہو رہا ہے۔ کیا کہنا ہے۔ اب یہ میاں صاحب میں خلاصہ بیان کر رہا ہوں اپ خود جا کے پڑھ لیجئے گا پنجابی میں میرپور میں رہنے والو خوش نصیب ہو۔ یہ جملہ کتابی نہیں ہے۔ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ کے منہ سے نکلا ہے زندہ پیر کرامت ظاہر فیض ہمیشہ جا رہی ہے۔ باغ نبی دا گل عجیب کھڑیا سدا بہاری جنت شان مکان منور روپ ڈل ہر پاسے در اس دے نت نویں سوالی پاون اس نراسے۔

[23:44]یہ دو ہی شعر کہ ان کی کرامت وہ زندہ پیر ہیں اور کرامت اس کی ظاہری ہے۔ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ کا وہ پھول ہے کہ جو ہمیشہ سدا بہار کھلا رہے۔ اور اپ اللہ اکبر جل شانہ اور اپ کا در وہ در ہے کہ جہاں ناامید اتے ہیں اور ان کی امید پوری ہو جاتی ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ اس در سے صرف انسان ہی نہیں چرندے پرندے بھی روزانہ رزق پاتے ہیں۔ اور پرندوں کی جب بھوک مٹ جاتی ہے تو جاتے ہوئے بولتے ہیں پیر شاہ غازی تیرا در سدا عباد رہے کیا تعریف کر گئے میاں صاحب۔ فرماتے ہیں ہر جمعرات کی جمعرات دربار پہ میلہ سا لگ جاتا ہے۔ اور ہر ایک اپ کی ہی تعریف کرتا ہے۔ جمعرات کو اپ کے مزار پہ اولیاء کرام بھی اتے ہیں۔ میاں صاحب کی عادت تھی کہ نارمل خط بھی لکھتے تھے تو شعروں میں لکھتے تھے۔ تو یہ مت سمجھو کہ میاں صاحب صرف شعر لکھ گئے میاں صاحب نے پوری اپ کی ہسٹری کو شعروں میں بند کر دیا۔ کیونکہ اپ نارمل گفتگو بھی شعروں میں کرتے تھے۔ کسی کو خط لکھتے تھے تو شعر میں کسی کو دعا دیتے تھے تو شعر میں۔ کسی کو وہ چیز کہنا ہوتی تھی تو شعر میں اشعار کا اشعار کی امد ہوتی تھی اپ کے اوپر۔ تو اپنے پیر کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جمعرات کو اپ کے مزار پر اولیاء کرام بھی اتے ہیں۔ پیر میرے دی دھوم چفیرے اوون ولی سلام چمڑ خاک کریندے خدمت دعوی رکھ غلامی۔ پیر دمڑی والی سرکار پہ جب اولیاء کرام اتے ہیں۔ میرے پیر کی مشہوری چار دہانگ عالم ہے۔ اولیاء کرام اتے ہیں اور اتے ہی خاک کو چومتے ہیں اس لیے کہ وہ اپنے دعوے کو پورا کرتے ہیں کہ ہم اپ کے در کے غلام ہیں۔ اللہ اکبر جل شانہ۔ اور فرماتے ہیں کہ جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی۔ وہ میرے پیر کے در پہ عورتیں اتی ہیں اور ا کے مرادیں پاتی تھی۔ وہ دعا کرتی تھی اللہ تعالی ان کے صدقے سے ان کو لڑکا عطا فرما دیتا تھا۔ یہی نہیں میرے پیر کے در کی خاک میں اتنا اثر ہے۔ کہ اگر پیر شاہ غازی دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ کے در کی خاک کوڑی اپنے جسم کے اوپر ملے تو اللہ شفا عطا فرما دیتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بندہ نہیں کہہ رہا نہ میں کہہ رہا ہوں۔ یہ دنیا کا عظیم سکالر کلاسیکل پنجابی کا اخری شاعر میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کہہ رہے ہیں۔ اور اپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک مرید نے اپ کو پکارا۔ جب اس کا جہاز ڈوب رہا تھا تو اپ نے جا کر اس کو جہاز سمیت بچا لیا۔ اور اخر میں پیر شاہ غازی کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں۔ اللہ نے اپ کو لوح و قلم پہ اختیار دیا ہے۔ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ پیر شاہ غازی سے عرض کر رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپ کے ہاتھ میں لوح و قلم دیا۔ کہ یہ محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں لوح و قلم پہ اختیار دیا ہے۔ میں مسکین ایک لمحہ کے لیے بھی اللہ کا واسطہ ہے مجھے خود سے دور نہ کرنا۔ میرے پاس اپنا کچھ نہیں ہے صرف اپ کی نظر کرم ہے دمڑی والی سرکار اپ کی نظر کرم ہے۔ کھڑی شریف اور میرپور اور ضلع جہلم میں رہنے والو اس سے بڑھ کر پیر شاہ غازی کی اور کیا شان ہو سکتی ہے۔ میں تو نہیں بیان کر سکتا۔ جس کی شان میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ بیان کر گئے کتنا مقام ہوگا ان کا۔ اب ا گیا لفظ دمڑی۔ یہ دمڑی کیا ہے دمڑی ہندی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے پیسے کا چوتھا حصہ۔ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن خواب کے اندر حضرت سید عبدالقادر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ اپ کی خواب میں ائے۔ کہنے لگے۔ پیر شاہ غازی تمہیں ایک لاکھ ٹکا روزانہ دے دوں کہ جو تیرے دروازے پہ ائے سب کو دیتا جا بانٹتا جا کہا حضور پیسے اتنے سارے دے دیں گے روز کے تو یہ سارے عیش و عشرت میں پڑ جائیں گے۔ مجھے تو فیض دیجیے اپنے قدموں کی خاک دیجیے۔ اسی لیے پیر شاہ غازی قادری ہیں۔ تو غوث پاک کی خاص نظر اپ کے اوپر۔ پھر بھی اپ کے پاس غیب کا خزانہ رہا۔ یہ ایک دمڑی کیا جس کو جتنی ضرورت ہوتی تھی اپ کے دربار سے جو ہے وہ ملتی تھی۔ اپ کے دربار سے ملتی تھی۔ اللہ اکبر جل شانہ۔ غیب کا خزانہ تھا لیکن چونکہ دمڑی بانٹا کرتے تھے اس لیے دمڑی والی سرکار ہو گیا۔ اپ کا خاندان پیر شاہ غازی قلندر یہ مولا علی کی اولاد سے ہیں علوی ہیں علوی۔ مولا علی کی اولاد سے ہیں ہاں اصل میں ہوتا یہ ہے کہ جو پرانا ادمی ہوتے ہیں ان کی تاریخ ہمارے پاس کوئی نہیں جب تک کوئی ا کے لکھتا نہیں۔ تو اپ کے بارے میں یہ ہے کہ اپ مولا علی کی اولاد سے ہیں علوی اور علوی جو ہیں نا جو بی بی فاطمہ کی اولاد سے نہیں ہیں لیکن مولا علی کی اولاد سے ہیں وہ مختلف ناموں سے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ یہ بات یاد رکھیے گا وہ وہ صرف علوی کے نام سے مشہور نہیں ہے کسی جگہ علوی کے نام سے مشہور ہے۔ کسی جگہ عوان کے نام سے مشہور ہے۔ تو اس طرح وہ مختلف ناموں سے مشہور ہیں۔ تو پیر شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ مولا علی کی اولاد میں سے ہیں۔ اور اپ کے والد گرامی کا نام کچھ یوں بتایا جاتا ہے سید دین محمد علوی رحمۃ اللہ علیہ۔ میاں صاحب فرماتے ہیں کہ اپ نے شادی کی تھی۔ اپ کے دو بیٹے ہوئے۔ لیکن اکثر ہوتا ایسا ہے۔ کہ باپ جو ہے بیٹے باپ کو کم ہی پہچان پاتے ہیں۔ اپ چونکہ فوج چھوڑ کر اب جذب کی کیفیت میں ا گئے۔ بیٹے اپ سے دور ہٹ گئے۔ تو میاں صاحب فرماتے ہیں کہ میرپور گلی مسجد سراجہ میں رہتے تھے۔ مگر پیر شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ نے میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کے پردادا حضرت پیر بابا دین محمد رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ اور ان کی پرورش شروع کر دی خود ان کی تعلیم شروع کر دی۔ تصوف علم ہر چیز سکھانا شروع کر دی۔ بچے اپنے کندھے پر اٹھا کر پیر شاہ غازی میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کے پردادا کو اپنے کندھے پر اٹھا کے گھوما کرتے تھے۔ خود پڑھاتے خود اور ایک دن کیا ہوا کہ اپ میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کے پردادا کو اپنے کندھے پر اٹھا کر گھوم رہے ہیں۔ کہ راستے میں کیا ہوا۔ اپ نے دیکھا کہ یہ کبھی اپ گاؤں میں جائیں نا وہ ماچن تنور کے اوپر جسے تنور بولتے ہیں وہ تنور ہوتا ہے تنور کے اوپر روٹیاں لگا رہی ہے۔ اس نے تنور کو جلایا اپ نے میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کے دادا پردادا کو پکڑ کر اگ کے اندر پھینک دیا چھوٹے سے تھے اگ کے اندر پھینک دیا۔ چیخ اٹھی کی عورت چیخ اٹھی بابا یہ تو نے کیا کر دیا۔ بچہ تو جل گیا ہوگا اپ مسکرا کے فرمانے لگے۔ پیر شاہ غازی دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ فرماتے ہیں جل یہ تیرا تنور میرا لڑکا نہیں۔ اپ نیچے جھکے جھک کے اپ نے اگ میں سے اپنے بیٹے کو پکڑ لیا۔ انہیں میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کے پردادا کو اپنا بیٹا بنایا تھا پکڑ لیا پکڑ کر وہ مسکرا رہے ہیں۔ تو کسی نے پوچھ لیا حضور تنور میں کیوں پھینکا تھا فرمانے لگے ہم اپنے بیٹے کی تربیت کر رہے ہیں۔ اج مجازی اگ کی تپش برداشت کرے گا تو اگے چل کر حقیقی اگ کی تپش سے پریشان نہیں ہو گا۔ اوئے ہوئے مجذوب کا ایک اپنا ہی طریقہ ہوتا ہے سمجھانے کا۔ سخاوت کمال درجے کی ولی اور سید اس کی ایک صفت ہوتی ہے وہ سخی ضرور ہوتا ہے کنجوس نہیں ہوتا۔ کیونکہ کنجوس ولی نہیں بنتا یہ بات یاد رکھیے گا۔ سخی اور سید یہ سخی ضرور ہوتا ہے۔ پیر شاہ غازی سخی جہلم سے جہلم کے لوگ زیادہ تر اپ نے دیکھا ہے یہ چکوال جہلم اس ایریا کے لوگ زیادہ تر فوج میں ہوتے ہیں۔ تب بھی فوج میں ہوتے تھے۔ ایک فوجی بیچارہ بڑے سالوں کے بعد اپنی تنخواہ جمع کر کے اور سامان لے کر اپنے گھر پلٹ رہا تھا واپس۔ وہ جونہی یہاں کھڑی شریف چک ٹھاکرہ ان کے قریب سے گزرا تو کیا ہوا راستے میں ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔ اس کے پاس 500 ٹکا تھا 500 ٹکا۔ وہ پیسے بھی لے لیے سامان بھی لے لیا گھوڑا بھی لے لیا۔ اب بیچارہ اتنے سالوں کے بعد گھر جا رہا تھا اتنے پیسے اس دور میں اتنے پیسے جمع کرنے سال لگتے تھے۔ گھر نہیں گیا شرمندگی کی وجہ سے پیر شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ کے در پہ چلا گیا۔ اپ کا مچ جل رہا ہوتا تھا اپ بیٹھے تھے۔ جا کے بیٹھا تو سر جھکایا اپ فرمانے لگے کاکا کیا ہوا ہے؟ کیوں پریشان ہے؟ اپنی ساری رویداد سنائی حضور گھوڑا بھی چھن گیا۔ 500 ٹکا بھی چھن گیا۔ ہار بھی چھن گئے۔ گھر کس منہ سے جاؤں؟ اپ نے کہا اچھا چل جو ہے کھا پی بیٹھ۔ ایک دن دو دن تین دن۔ چوتھا دن جب ایا تو ایک صاحب ائے ا کے کہنے لگے حضور حاکم نے ایک گھوڑا اور 500 روپیہ 500 ٹکا بھیجا ہے۔ اپ کی نظر قبول کیجئے۔ فرمانے لگے رکھ جا۔ وہ رکھ کے چلا گیا اپ نے 500 اٹھایا اور گھوڑے کی لجام کہا لے کاکا جا اپنے گھر خوشی سے جا۔ لو اج کل لوگ پیسے اکٹھے کرتے ہیں اس دور میں 500 پیر شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ علیہ کہا جا لے جا۔ اپ زیادہ تر استغراق میں رہتے تھے۔ چص۔ اب یہ مجذوب ہوتا کیا ہے؟ تھوڑی سی اگر اجازت دیں تو مشکل تھوڑی سی گفتگو کروں مجذوب کیا ہوتا ہے؟ ایک ہوتا ہے مجذوب ایک ہوتا ہے مجذوب سالک ایک ہوتا ہے سالک مجذوب۔ تو پلیز تھوڑا سا سن لیجئے۔ مجذوب کیا ہے؟ کوئی مجاہدہ نہیں کیا ریاضت نہیں کچھ نہیں تجلی پڑی گم ہو گیا۔ یہ مجذوب ہے۔ اور اس کے پاس کم جانا چاہیے۔ جو صرف مجذوب ہے اس کے پاس کم جاؤ۔ کیوں؟ کوئی پتہ نہیں۔ کس موڈ میں ہو اور کیا کر دے مت جاؤ۔ اور کچھ اولیاء کرام مجذوب سالک ہوتے ہیں۔ کہ کسی بزرگ کے پاس گئے تجلی پڑی گم ہو گئے۔ لیکن پیچھے کوئی تھا کھینچ کے لے ایا واپس۔ کھینچ کے واپس لے ایا۔ اب وہ سلوک کے راستے پہ چل پڑا ہے۔ تو یہ جب مجذوبیت سے جب سلوک کی طرف ائیں تو اپ اس کے پاس چلے جاؤ۔ اب ایک ہوتا ہے کہ جو سالک کچھ اولیاء کرام سالک مجذوب ہوتے ہیں۔ کہ پہلے مجاہدہ ریاضت ساری چیزیں شریعت سب پہ پابندی کرتے کرتے کرتے کرتے کرتے وہ ایک مقام پہ پہنچتے ہیں کہ تجلی پڑتی ہے تو گم ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ہیں۔ ان کے پاس یہ یہ یہ یہ لوگ کامل ہوتے ہیں۔ یہ یہ لوگ سلوک سے مجذوبیت کی طرف گئے۔ اور یہ ان کا کمال درجہ ہوتا ہے۔ وہ پھر ایک ایسی گھڑی اتی ہے کہ اس گھڑی کے اندر غموں لیکن یہ واپس ا جاتے ہیں۔ یہ تربیت بھی کر سکتے ہیں ان کے پاس بیٹھیں۔ لیکن پیر شاہ غازی قلندر مجذوب اور پھر مجذوب اور پھر سالک۔ اپ کی تربیت 12 سال حضرت خضر علیہ السلام نے کی۔ 12 سال۔ 12 سال بعد اپ نے ظہور فرمایا۔ اپ کے ظاہری مرشد جو ہیں وہ تو سید شاہ محمد امیر بالا پیر کی اپ نے بیت کی تھی۔ انہوں نے راہ پہ چلا دیا۔ تو ایک روز اپ اپنے مریدین کے ساتھ دریا کے کنارے پر بیٹھے ہوئے قران پڑھا کرتے تھے وہاں جا کر۔ تو اپ کے دیوانے تھے مرید تھے ماننے والے تھے بڑی منتدع تھی اپ کی اپ وہاں بیٹھ کے قران پڑھ رہے ہیں۔ ایک دن گزرا دو دن گزرے کچھ دن مریدوں کی عادت بن گئی اپ وہاں اتے قران پڑھتے چلے جاتے ایک دن کیا ہوا نہ جانے کیا سوجھی قران مجید پکڑا دریا میں چھلانگ لگا دی۔ قران پکڑ کے دریا کے اندر چلے گئے۔ مرید بیٹھے رہے شام ہو گئی۔ پیر نہیں نکلے۔ حد ہو گئی لوگوں نے کچھ سمجھا ہر ایک نے اپنی سوچ کے مطابق جو ہے وہ تلاش کرنا شروع دیا شروع کر دیا۔ لیکن پیر ظاہر نہیں ہوا۔ لوگ اتے یار یہاں ہمارے پیر تھے مرشد تھے۔ کیونکہ پیر شاہ غازی قلندر رحمۃ اللہ علیہ کو عام تو تھے نہیں بندے کہ اگر کوئی گم ہو گیا تو لوگ چھوڑ دیں ایک پوری خانقاہ تھی ایک پورا مقام تھا۔ تو لوگ روز اتے اہستہ اہستہ کم ہونے لگے لیکن اپ کا ایک مرید تھا وہ روز وہیں ا کر بیٹھ جاتا کہ میرا پیر یہاں سے گیا ہے۔ میرا پیر یہاں سے گیا۔ ایک سال دو سال تین سال چھ سال دس سال 12 سال گزر گئے۔ لیکن وہ بیچارہ وہیں ا کے بیٹھتا۔ 12 سال کے بعد ایک دن اس نے دیکھا اسی پانی سے پیر ظاہر ہوئے ہاتھ میں وہی قران وہی کپڑے وہی حالت۔ پیر شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ علیہ 12 سال کے بعد باہر نکلے وہ قدموں میں گر گیا پیر 12 سال گزر گئے۔ اپ فرمانے لگے ہم حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام ان سے ہم جا کے پڑھتے رہے اور تربیت لیتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اپ جو ہیں وہ حضرت خضر علیہ السلام کے مرید ہیں۔ اور میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ نے بھی تذکرہ مقیمی کے اندر لکھا ہے دو ازدہ سال در صحبت حضرت خضر ولیاس بود۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام جو ہیں ان کی تربیت میں 12 سال رہے ہیں۔ میاں صاحب نے بھی لکھ دیا اپ کی کرامات بہت ہیں۔ سالک کرامات کو چھپاتا ہے۔ اور جب کبھی بطلانی ہوتی ہیں تو بتلا بھی دیتا ہے۔ لیکن چھپانا افضل ہوتا ہے۔ ضرورت ہو تو دکھانا افضل ہوتا ہے۔ اسی طرف میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کہا ہے لازم ستر ولایت تائیں اپنا حال چھپانا۔ اولیاء تحت عبائی سرور دا فرمانا کہتے ہیں کہ ولایت میں کیا ہے؟ کہ اپنا حال چھپاؤ۔ لیکن مجذوب کا مسئلہ الگ ہوتا ہے۔ سالک کے لیے یہ معیوب سمجھا جاتا ہے کہ وہ شہرت کی خاطر کرامت دکھائے۔ لیکن اج کل تو کرامتیں بنائی جاتی ہیں۔ پھر بنا کے بتلائی جاتی ہیں۔ پورا ایک گروپ چھوڑا ہوتا ہے کہ تم کرامت کو ذرا بتاؤ بڑی پرانی بات ہے کہ نورانی میاں رحمۃ اللہ علیہ شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ یکانہ روزگار شخصیت تھی۔ تو میں ان سے دو مرتبہ ملا ہوں۔ ایک مرتبہ جب میں جامع نعیمیہ میں پڑھتا تھا تو مفتی محمد حسین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ان کے دوست تھے وہ۔ ائے تشریف لائے تو ہم سڑک گیٹ کے اوپر کھڑے ہو کے میں نے ان کا ہاتھ چوما پھر رسولیہ شیرازیہ میں ایک دفعہ جلسہ تھا ان کا مجھے تقریر ابھی تک ان کی یاد ہے۔ اس وقت میں نے ان کی زیارت کی پھر یہاں جب امریکہ کے اندر ان کا بیٹا یہاں رہتا تھا ہوسٹن میں ہی تو میں ہبل میں خطیب تھا تو انہوں نے بتایا کہ قبلہ نورانی صاحب تشریف با حضور ائے ہیں۔ بڑی خوبصورت شخصیت تھی وہ۔ تو ان کو کسی نے بتایا کہ جی ایک پیر صاحب لندن سے گئے تو وہاں گاؤں میں جب پہنچے اب کہ وہ بہت دور گاؤں ہوتے ہیں جہاں لوگوں نے کبھی کوئی دیکھا نہیں تو وہاں ان کے مرید کرامتیں بتا رہے ہیں۔ پیر صاحب جب دروازے کے اگے جاتے ہیں تو دروازہ خود بخود کھل جاتا تھا۔ نعرہ لگ رہا ہے وہاں۔ نورانی صاحب مسکرانے لگے۔ اپ کو پتہ ہے کہ امریکہ اور انگلینڈ کے اندر سینسر والے دروازے ہیں۔ اپ ان کے سامنے کھڑے ہوں تو دروازہ کھل جاتا ہے اب وہ خواب بنا کر کرامت بنا کر بتلا رہا ہے۔ تو اس طرح کی کرامتیں بنائی جاتی ہیں اور بتلائی جاتی ہیں۔ سیاسی لوگوں کے ساتھ بڑے تعلقات ہوتے ہیں کسی کا کام کروا دیا تو اس بیچارے غریب کے لیے تو کرامت ہی ہوئی نا۔ امیگریشن میں شکایت لگا کے کسی کو رکوا دیا تو مرید پھر کرامت بتا دیتے ہیں۔ تو اس نے تو شکایت لگائی تھی امیگریشن میں۔ تو کچھ اج کل کیا ہوتا ہے کہ کرامتیں بنائی جاتی ہیں۔ تو کرامت مافق الفطرت کا نام ہے مافق العشرت کا نام نہیں ہے۔ عشرت سے اوپر یہاں مافو کا معنی میں اوپر لے رہا ہوں۔ لیکن مجذوب کا طریقہ ذرا جدا ہوتا ہے۔ سالک ایسا پسند نہیں کرتا۔ اپ کے بال بڑے ہوئے ہوتے۔ جب جذب کی کیفیت ہوتی ننگے پاؤں اپ چلتے۔ سر ننگا پاؤں ننگے بال بڑے ہوتے لیکن جب اللہ اکبر کہتے بال سر کے کھڑے ہو جاتے کھڑے ہو جاتے بال۔

[39:35]اللہ اکبر جل شانہ۔ پاؤں میں جوتا نہیں پہنتے تھے۔ تو کبھی کوئی دیکھ لیتا کہ اپ کے پاؤں ذرا زخمی ہو گئے ہیں تو وہ نیا جوتا لا کے دے دیتا۔ پیر شاہ غازی سرکار جوتا پہن لیجئے۔ فرماتے ہیں اچھا چل لا۔ اس کا دل رکھنے کے لیے رکھتے جب وہ چلا جاتا تو پہن کر کسی دوسرے کو دے دیتے لے تو پہن لے۔

[39:54]میں نے اپ کو کہا نا کہ مجذوب جو ہوتا ہے اس کے پاس بیٹھنا جو ہے وہ فائدے مند بھی بڑا ہے لیکن خطرے سے خالی بھی نہیں ہوتا۔ سوال شریف اب تو خیر بڑا ٹاپ کا علاقہ ہے میرپور کے لوگ جانتے ہیں۔ یہ بڑا تاریخی شہر ہے۔ بڑی راجہ سرخرو بڑا مشہور ہوا۔ یہاں کے لوگوں نے پیر شاہ غازی قلندر دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ علیہ کی توہین کر دی۔ اپ کو جلال ا گیا۔ فرمانے گئے جاؤ۔ تمہارے شہر کو اگ لگ جائے گی شہر جلا کے رکھ دیا ہر سال اگ لگ جاتی ہے شہر جل جاتا ہے۔ راجہ سرخرو بیمار ہو گیا۔ عرض کیا حضور معاف کر دیجئے کئی سے علاج نہیں ہو رہا۔ پیر شاہ غازی دمڑی والی سرکار رحمۃ اللہ کی بارگاہ میں حضور معاف کر دیجئے۔ اپ نے فرمایا اچھا جا تجھے معاف کیا ٹھیک ہو جائے گا تو۔ لیکن تیرا شہر جلتا رہے گا۔ تیری قبر بھی نہیں بنے گی یہاں۔ وہی ہوا اس کی قبر وہاں نہیں ہے سمبال میں نہیں ہے۔ اورنگ اباد میں ہے۔ اسی طرح یہ شہر جلتا رہا راجہ بندو خان کا دور ا گیا۔ راجہ بدو خان حاضر ہوتا سال میں دو مرتبہ اپ کا عرس کرواتا پھر اپ دنیا سے تشریف لے جا معافیاں مانگتا۔ لیکن غضب ٹھنڈا نہیں ہوا۔ پھر کیا ہوا کہ حافظ مقیم رحمۃ اللہ علیہ حافظ محمد مقیم رحمۃ اللہ علیہ وہ جب پڑھ کر ائے تو ان کا من چاہا کہ میں سنوال شریف میں تبلیغ کروں ان لوگوں کو کچھ بتاؤں لیکن انہیں معلوم تھا کہ اس کے اوپر تو غضب ہے۔ جیسے صابر پیا کلی رحمۃ اللہ علیہ کا غضب تھا کلی شریف کے اوپر اگ لگ گئی کوئی رہ نہیں سکتا تھا۔ اسی طرح حافظ محمد مقیم رحمۃ اللہ علیہ ائے پڑھتے رہے پڑھتے رہے بخشتے رہے پڑھتے رہے بخشتے رہے پڑھتے رہے اخر کار ایک دفعہ کرم ہو ہی گیا تشریف لائے پیر شاہ غازی دمڑیاں والی سرکار بولو کیا چاہیے تمہیں حضور اجازت دیجیئے سوال شہر کے اندر میں تبلیغ کروں میں رہوں فرمان لگے جاؤ ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں تم رہو عرض کی حضور اکیلے کیسے رہوں گا زندگی کے اندر بہت سے لوگوں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں اکیلا تو نہیں رہ سکتا فرمان لگے جاؤ پھر تمہیں اجازت ہے جسے چاہو رکھو اللہ اکبر جل شانہ پھر سوال شریف میں اہستہ اہستہ لوگ اباد ہونے لگے اگ لگنا بند ہو گئی اور اپ نے اپنے سجاد نشین کو خواب کے اندر حکم فرمایا کہ حافظ محمد مقیم یہ جا وہاں ہے تو یہاں سے لنگر اس کو پہنچایا جائے اور جب اس کا جب تک کہ یہ فائینشلی مجبور نہیں ہو جاتے تو شروع میں دمڑی والی سرکار سے لنگر جاتا تھا۔ پھر جب اللہ تعالی نے ان پر کرم کیا تو پھر وہاں سے لنگر یہاں اتا تھا۔ اپ جذب کی کیفیت میں ہوں تو میں نے اپ کو بتایا کہ مجذوب کی موج ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ کیا ہوا کہ جنگل سے گزر رہے ہیں اپ کہ ایک چرواہا اپ نے ان سے اس سے یہ کہا کہ مجھے دودھ دو وہ اس نے پاؤں میں دیکھا سر کی طرف دیکھا کپڑے پھٹے ہوئے دیکھے تو کہا پتہ نہیں کون شخص ہے کہنے لگا دودھ تو میں گھر دو ایا ہوں۔ ابھی میں جا رہا ہوں۔ فرمایا اچھا تم جا رہے ہو جاؤ پھر بس اتنا کہنا تھا۔ ایک ماہ دو ماہ تین ماہ پتہ ہی نہیں چلا بندہ گیا کہاں۔ چھ ماہ گزر گئے چھ ماہ تک کوئی خبر ہی نہیں۔ لوگ تلاش کر کر کر کے تھک گئے۔ وہ بکریوں سمیت غائب ہو گیا۔ گھر والے پریشان نہ خود نہ سامان زمین کھا گئی کہ اسمان نو ماہ گزر گئے۔ یہ سب کے سب لوگ حضرت مونگا پیر رحمت اللہ علیہ ان کے دروازے پہ گئے۔ عرض کی کہ حضور دعا تو کیجئے اپ نے مراقبہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ پیر شاہ غازی رحمت اللہ کے غضب کا شکار ہو گیا ہے۔ تو اپ خود بمعہ خاندان کے حضرت کے دربار پہ حاضر ہوئے اور عرض کی حضور اپ کا مقام اعلی ہے معاف کر دیجئے۔ فرمانے گئے اچھا جاؤ معاف کیا۔ اج شام وہ واپس ا جائے گا۔ جونہی شام ہوئی تو جس جگہ سے لوگ جو ہیں وہ ظاہر ہوتے تھے۔ اتے تھے وہاں سب لوگ کھڑے ہو گئے۔ دیکھا واقعی شام کی طرف شام سے شام کے وقت وہ بکریوں سمیت جو ہے وہ ا رہا ہے۔ اللہ اکبر جل شانہ دوڑے ا گئے۔ کہ رشتے داروں سے ملے کہ کیا ہوا تمہیں تم لوگ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کہا تمہیں معلوم نہیں ہے تم اج نو ماہ کے بعد ایا ہے۔ اپنے ناخن دیکھ اپنے بال دیکھ۔ جب اس نے دیکھے تو اسے معلوم ہوا کہ واقعی اللہ اکبر جل شانہ پھر اس کا خاندان جو ہے وہ ہر سال ایک بکرا جو ہے وہ نظر کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہا ان کے نظر میں خاندان کے اندر اور پھر دودھ جو ہے وہ اپ کی دربار پہ پہنچایا جاتا۔ ایسے ہی تو میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ نہیں فرمایا پیر میرا و دمڑی والا پیرا شاہ قلندر ہر مشکل وچ مدد کریندا دوئی جہانی اندر۔ جو ادمی دنیا میں ایا ہے اخر اس کو جانا تو ہے ہی۔ دمڑی والی سرکار غازی تو تھے ہی شہید بھی ہیں۔ شہید حکمی مغل ارمی میں تھے غازی ٹھہرے۔ کئی جہاد میں حصہ لیا اور شہید اس حساب سے کہ اپ کو ڈاکوؤں نے مارا شدید زخمی کر دیا۔ اور اپ دنیا سے چل بسے۔ پھر اپ ایک دفعہ کیفیت طاری ہوئی تو رتاس پہ اپ جو ہیں وہ پھر رہے ہیں اس علاقے کے اندر۔ وہاں ایک جگہ پہنچے جہاں چند گھر تھے انہوں نے اپ کی بڑی سیوا کی۔ اپ وہاں سے پھر چل پڑے۔ رات کا وقت ہوا جنگل سے گزر رہے ہیں۔ وہ چور جو ہیں نا وہ انہی گھروں کا مال لوٹ کر بھاگ رہے تھے۔ اپ کی ایک دم نظر پڑی اپ نے فرمایا پکڑو جانے نہ دو مارو۔ ڈاکو نے یہ سمجھا کہ شاید اس نے ہمیں پہچان لیا ہے۔ وہ اگے سے مڑ کے واپس ائے انہوں نے ا کر اتنا مارا اتنا مارا جسم جو ہے وہ پھٹ گیا۔ اب اپ لوگ سوچیں گے کہ پیر شاہ قلندر جو اتنے بڑے بزرگ ہیں تو کیا وہ ڈاکوؤں کو روک نہیں سکے یہ بات نہیں ہے جب تقدیر کا ارڈر ا جاتا ہے نا تو پھر سب چیزیں چلی جاتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اپ کے حکم سے پانی چلتا ہے اور ایک معمولی ٹکڑے کے ادمی نے ملازم نے اپ کو شہید کر دیا۔ یہ بات نہیں ہے تقدیر کے مسئلوں کے اندر مت پڑا کرو۔ پاور جب اللہ تعالی دیتا ہے وہ ٹھیک ہے جب تقدیر ا جاتی ہے تو پھر بات ختم ہو جاتی ہے۔ اب ان کو جانا تھا جسم پھٹ گیا۔ خون نکلنے لگے۔ وہ لوگ ڈاکو جو ہیں وہ مار کے چھوڑ گئے۔ اپنی طرف سے انہوں نے مار دیا۔ خون اتنا بہا پھر اپ کے منہ بولے بیٹے اپ کے خلیفہ حضرت پیر بابا پیر بابا دین محمد رحمۃ اللہ علیہ انہیں بلایا گیا۔ اپ ائے تو کہا بابا اب چلو۔

[46:15]لوگوں نے کہا حضور یہیں رک جائیے۔ اپ ان کا اخری لمحات ہیں یہیں ان کا روزہ بنا دیجیے۔ کہا نہیں مجھے یہاں نہیں رہنا۔ مجھے وہاں جانا ہے۔ چک ٹھاکرا میں وہیں چلوں گا کھڑی شریف جہاں یہ رہتے تھے وہیں واپس جاؤں۔ کہا وہاں کوئی بندہ نہیں ائے گا کہا ائے یا نہ ائے مجھے اپنے پیر کو وہیں لے کر جانا ہے۔ اپ نے اٹھایا اور اپنے پیر کو وہاں لے گئے۔ تو اج اپ جا کے ان کا مزار جو ہے وہ دیکھ سکتے ہیں۔ کہ اللہ تعالی نے کتنا کرم فرمایا ہے۔ اور کہ ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے۔ میں تقریبا دو دفعہ حاضری دے چکا ہوں۔ تب بہت پرانا تھا۔ اور جب میں نے حاضری دی اس سے پہلے جو تھا وہ اور پرانا تھا۔ لیکن اب اپ جائیں تو ایک عجیب رونق اپ کو نظر ائے گی کروڑوں روپیہ لگا کر جو ہے وہ پروجیکٹ کو جو ہے وہ تیار کیا گیا ہے۔ پروردگار عالم سے یہ دعا ہے کہ اللہ تعالی جو ہے وہ ہماری حاضری اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ پیر میرا و دمڑی والا پیرا شاہ قلندر ہر مشکل وچ مدد کریندا دوئی جہانی اندر پیر میرا و دمڑی والا لالا دا ونجا رہا چن چن موتی جھولی پاوے لے لے محمد یار واخر دعوانا الحمدللہ رب العالمین۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript