Thumbnail for Quran e Kareem - قرآن کریم - Herat Angez Waqiat - Emotional Bayan - Waqiyat - Molana Muhammad Noman by Molana Muhammad Noman

Quran e Kareem - قرآن کریم - Herat Angez Waqiat - Emotional Bayan - Waqiyat - Molana Muhammad Noman

Molana Muhammad Noman

22m 1s3,650 words~19 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[5:45]تو جنات کی جو جماعت مسلمان ہوئی وہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت سن کر مسلمان ہوئی۔ اس سے اندازہ کیجئے اللہ رب العزت نے تلاوت میں کتنی تاثیر رکھی ہے۔
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]قران کریم کے تاثیر کے حیرت انگیز واقعات دنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس کو سن کر انسان اپنے مذہب کو تبدیل کر دے۔ عقیدہ اور مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ انسان مر مٹنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، چاہے وہ باطل پر کیوں نہ ہو لیکن اپنے عقیدے کو نہیں چھوڑتا۔ اللہ رب العزت نے اپنے اس قران میں ایسی تاثیر رکھی کہ جنہوں نے قران کریم کو سنا صدق دل کے ساتھ۔ اللہ رب العزت نے ان کی زندگی کو پلٹ دیا۔ میں چند واقعات عرض کروں گا جس سے اندازہ ہو گا۔ قران کریم میں اللہ نے کیسی تاثیر رکھی ہے۔ سب سے پہلا واقعہ ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا۔ مشہور واقعہ علامہ ابن اسیر جزری نے اسد الغابہ فی معرفت الصحابہ میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ معاذ اللہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلتے ہیں۔ راستے میں نعیم بن عبداللہ سے ملاقات ہوتی ہے۔ عمر کہاں کا ارادہ؟ کہا معاذ اللہ محمد کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ کہا ذرا اپنے بہن کے گھر کی تو خبر لو وہ بھی ایمان لے کر ائی ہیں۔ حضرت عمر پہنچتے ہیں دستک دیتے ہیں اندر سے قران کریم کی تلاوت کی اواز اتی ہے۔ تو وہ قران کریم کے اوراق کو ان کے بہنوئی اور ان کی ہمشیرہ چھپا دیتی ہیں۔ حضرت عمر اندر اتے ہیں غصے میں اپنے بہنوئی کو بے تحاشہ مارتے ہیں۔ اخر اپنی بہن پر ہاتھ اٹھاتے ہیں جب مارنے لگتے ہیں۔ ان کے جسم سے بھی خون بہتا ہے حضرت عمر کو بھی ترس ا جاتا ہے تو حضرت عمر نے کہا میرے سامنے بھی پڑھو تم کیا پڑھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا ہم قران کی تلاوت کر رہے تھے اور تم ناپاک ہو۔ حضرت عمر نے غسل کیا اور جب ان کے سامنے سورہ طاہ یا سورہ حدید کی ابتدائی ایات پڑھی گئی حضرت عمر کی انکھوں سے انسو بہنے لگ گئے اور یہی قران حضرت عمر کی ہدایت کا ذریعہ بن گیا۔ تو دیکھیں حضرت عمر ایمان لے کر ائے تو اللہ رب العزت نے ہدایت کا ذریعہ ایک اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو بنایا اور دوسری چیز قران کی تلاوت کو بنایا۔ جب مکہ میں ظلم و ستم زیادہ ہوا اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اجازت دی۔ صحابہ کرام نے سب سے پہلی ہجرت کی ہے حبشہ کی طرف جب یہ لوگ حبشہ میں پہنچے تو اس وقت نجاشی حکمران تھا۔ حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ حضرت علی کے بھائی ہیں۔ نجاشی بادشاہ نے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو کیوں ائے ہو؟ حضرت جعفر نے وہاں اسلام کی حقانیت پہ تقریر کی۔ انہوں نے کہا پہلے ہم سود کھاتے تھے۔ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے۔ ہم عورتوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں زنا اور شراب عام ہو چکی تھی ہمارے ہاں جھوٹ پر زندگی گزرتی تھی لیکن وہ نبی ایا جس نے ہمیں سچائی کا حکم دیا بیٹیوں کے حقوق بتائے ماں کے حقوق بتائے۔ حضرت جعفر طیار نے تقریر کی اس کے بعد انہوں نے سورہ مریم تلاوت کرنا شروع کر دی۔ جب سورہ مریم حضرت جعفر تلاوت کر رہے تھے نجاشی کی انکھوں سے بھی انسو بہہ رہے تھے اور جو اس کے وزرا تھے ان کی انکھوں سے بھی انسو بہنے لگ گئے۔ اور یہ صورت کا پڑھنا نجاشی کی ہدایت کا ذریعہ بن گیا۔ تو دیکھیں اللہ نے قران میں کیسی تاثیر رکھی کہ ایک بادشاہ کی زندگی پلٹ گئی۔ اس کے وزرا کی زندگی پلٹ گئی تو ہمیں کیا چیز نظر اتی ہے قران کریم کی تلاوت کی تاثیر نظر اتی ہے۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس 70 ادمی ائے حضور سے فرمایا اپ جو دین لے کر ائے ہیں۔ یہ دین ہمیں بھی بتائیں یہ کیا ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ یاسین پڑھنا شروع کر دی حضور سورہ یاسین پڑھتے رہے وہ سنتے رہے اب تلاوت کریں اپ صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو حضور کو جو اللہ نے اواز دی تھی اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت وحی ہے اپ پر وحی خود نازل ہوتی تھی اللہ نے نہایت خوبصورت اواز دی تھی تو حضور کی تلاوت سن کر ان کی انکھوں سے انسو بہنے لگ گئے۔ اور یہ 70 کے 70 ادمی مسلمان ہو گئے۔ قران کریم میں اللہ رب العزت نے ان کا تذکرہ کیا ہے واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینهم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق جب ان لوگوں نے سنا رسول سے وہ جو رسول پہ نازل کیا گیا۔ ان کی انکھوں سے انسو بہنے لگ گئے اور وہ جان گئے کہ یہی قران حق ہے انہوں نے کہا ربنا امنا اے ہمارے رب ہم ایمان لے کر ائے اے ہمارے رب ہم ایمان لے کر ائے فکتبنا مع الشاهدین اور تو ہمیں لکھ دے گواہوں میں سے تو دیکھیں یہ 70 ادمیوں کے ایمان لانے کا ذریعہ قران کریم کی تلاوت ہے۔ جنات کی پوری جماعت جو مسلمان ہوئی ہے وہ قران کریم سن کر مسلمان ہوئی اپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام نخلہ پر تھے اور اپ فجر کی نماز میں قران کریم تلاوت کر رہے تھے جنات کی جماعت وہاں سے گزری تو یہ ایک دوسرے کو کہنے لگے خاموش ہو جاؤ کوئی انسان کچھ پڑھ رہا ہے۔ تو یہ سارے خاموش ہو کر سننے لگے قران کریم میں سورہ جن میں بھی اس کا تذکرہ ہے اور سورہ احقاف میں بھی۔ و اذا صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعون القران فلما حضروہ قالوا انصتو فلما قضی ولوا الی قومهم منذرین جب تلاوت مکمل ہو گئی تو یہ لوٹ کر ائے اور اپنی قوم کو ڈرانے لگے۔

[5:45]تو جنات کی جو جماعت مسلمان ہوئی وہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت سن کر مسلمان ہوئی۔ اس سے اندازہ کیجئے اللہ رب العزت نے تلاوت میں کتنی تاثیر رکھی ہے۔

[5:59]حضرت زبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ یہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد حرام میں ایا۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ طور مغرب کی نماز میں تلاوت کر رہے تھے۔ اور میں یہ سورہ طور سنتا رہا۔ حضور پڑھ رہے ہیں اور یہ سن رہے ہیں۔ جب نماز مکمل ہو گئیں تو قران کریم کی تلاوت نے ان پر اتنا اثر کیا حضور کے پاس ائے کہا یا رسول اللہ مجھے کلمہ پڑھائیے میں مسلمان ہو جاؤں اسی موقع پر زبیر ابن مطعم مسلمان ہوئے۔ تو اللہ رب العزت نے تلاوت کے اندر بڑی تاثیر رکھی ہے تو میں عرض کر رہا تھا۔ دنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں کہ جس کو سن کر انسان اپنے مذہب کو تبدیل کر دے سوائے قران کریم کے حضرت عثمان بن مزعون رضی اللہ تعالی عنہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ائے۔ کہا یا رسول اللہ اپ جو دین لے کر ائے ہیں اس کا خلاصہ بیان کریں۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف قران کریم کی ایک ایت پڑھی ان اللہ بالعدل والاحسان ایتاء ذی القربا وینہی عن الفحشاء والمنکر والبغی یعیکم لعلكم تذكرون یہ قران کی ایسی فسیح ایت ہے کہ اس میں مکمل زندگی گزارنے کا طریقہ موجود ہے۔ اس میں تین عوامل ہیں تین نواہی ہیں۔ اس لیے مفسرین نے لکھا اگر قران کریم میں کوئی اور حکم نہ بھی اتا کوئی صورت اور نازل نہ بھی ہوتی یہ ایسی جامع ایت ہے کہ اس میں پوری زندگی گزارنے کا طریقہ موجود ہے۔ انہوں نے صرف قران کی یہ ایت سنی اور حضرت عثمان ابن مزعون رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے۔ تو میں عرض کر رہا تھا اللہ رب العزت نے قران کریم میں بڑی تاثیر رکھی ہے۔ ایک اعرابی کہیں سے گزر رہا تھا۔ اس نے دیکھا ایک بچہ قران کی تلاوت کر رہا ہے اور اس نے یہ ایت پڑھی فصدع بما تؤمر خوب کھول کر وضاحت سے بیان کرو جس چیز کا تمہیں حکم دیا گیا تو وہ دیہاتی اعرابی سجدے میں گرا اور اس نے سجدہ کیا۔ کسی نے پوچھا تو کس کو سجدہ کر رہا ہے وہ چونکہ مسلمان نہیں تھا اس نے کہا میں اس کلام کی فصاحت کو سجدہ کر رہا ہوں۔ قران کریم میں جو فصاحت اور بلاغت ہے ہمیں تو چونکہ پتہ نہیں ہے ہم قران کے ترجمے سے واقف نہیں تشریح سے واقف نہیں ہمیں معلوم نہیں یا ای الذین امنو کہہ کر اللہ رب العزت پورے قران میں ایک کم 90 مقامات پر ہمیں کیا حکم دے رہے ہیں ایمان والوں ہمیں کچھ پتہ نہیں۔ زندگی گزر گئی ہم نے قران کا ترجمہ نہ پڑھا تشریح نہ پڑھی دنیا کی کتابوں کو کتنا وقت دیتے ہیں اللہ کے قران کے لیے دن میں ادھا گھنٹہ بھی نہیں۔ ادھا گھنٹہ اج مسلمان قران کو دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس نے جو قران پڑھا بچپن میں وہی غلط سلط پڑھتا رہتا ہے تلاوت کو درست کرنے کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ تو بہرحال یہ اعرابی سجدے میں گرا قران کریم کی فصاحت کو اس نے سجدہ کیا۔ عتبہ بن ربیعہ مشرکین کی طرف سے نمائندہ بن کر ایا اس وقت یہ مسلمان نہیں تھا غیر مسلم تھا۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایا حضور کو لالچ دینے لگا اپ سے کہا کہ اگر تمہیں دولت چاہیے میں تمہیں دولت دیتا ہوں تو تم اپنے دعوے سے پیچھے ہٹ جاؤ اور اگر تم یہ چاہو کہ عرب کی کسی خوبصورت لڑکی سے نکاح تو ہم اپ کا نکاح کرا دیں گے۔ بادشاہت چاہیے ہم اپ کو سلطنت دے دیں گے۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا ٹھہرو میری بات بھی سن لو انہوں نے کہا سناؤ۔ حضور نے سورہ حامیم سجدہ عتبہ بن ربیعہ کے سامنے پڑھی۔ جب اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت شروع کی عتبہ یوں اپنے ہاتھ کو اپنی تھوڑی کے نیچے رکھ کر حضور کو دیکھنے لگ گیا۔ اپ پڑھتے رہے پڑھتے رہے جب اپ نے تلاوت مکمل کی یہ اٹھ کر واپس ایا اور اس نے مشرکین سے کہا میں نے محمد سے ایسا کلام سنا ہے نہ وہ جادو ہے نہ وہ سحر ہے۔ نہ وہ مجنون ہیں نہ وہ دیوانے ہیں ایسا کلام میں نے زندگی میں کبھی نہیں سنا۔ یعنی دشمن بھی ہوتا تھا لیکن قران کی ایسی ہیبت قران کا ایسا جلال ہے کہ ہر ایک کے دل پر یہ اثر انداز ہونے والا ہے۔ اگر اج ہم کہیں کہ قران ہم پر کیوں اثر نہیں کر رہا ہمارے دلوں پر گناہوں کا زنگ لگ چکا ہے۔ جب گناہوں کا زنگ لگ جائے نا پھر ہدایت کی بات اثر نہیں کرتی ان قلوب کما یصلح ما قیامت اور تلاوت القران۔ دلوں کو زنگ لگتا ہے جس طرح لوہے کو زنگ لگتا ہے پانی لگ جائے اگر یہ زنگ اتارنا ہے انسان کثرت سے تلاوت کرے موت کو یاد رکھے اللہ دلوں کے زنگ کو اتار دیتا ہے۔ ابن مقنع ایک عیسائی گزرا ہے۔ یہ وہ انسان تھا جو کہتا تھا میں قران کریم کے مثل لے کر اؤں گا۔ ابن مقلہ بعض نے اس کا نام ابن مقفہ ذکر کیا ہے۔ روح المعانی میں علامہ الوسی نے بھی یہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس نے کہا تھا میں قران کریم جیسی کتاب لکھوں گا۔ اب یہ ایتیں لکھتا پھر دیکھتا قران کے مثل ہے یا نہیں پھر اسے پھاڑ دیتا پھر لکھتا پھر پھاڑتا۔ ایک دفعہ اس نے کچھ لکھا لکھنے کے بعد ایک گلی سے گزر رہا تھا۔ ایک بچہ اپنے گھر میں قران کریم کی تلاوت کر رہا تھا۔ اور گھر کے اندر دیوار میں کھڑکی تھی کھڑکی سے اواز باہر ا رہی تھی۔ اس شخص نے باہر قران کی یہ ایت سنی۔ قال ساوی الی جبلی یعصمنی من الم قال لا عاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم وحال بین الموج فكان من المغرقین وقبل یا ارض ابلع ماک و یا السماء اقلی وغیظ الماء وقضی الامر واستوی علی الجودی وقيل بعدا للقوم الظالمین ان ایات میں اتنی فصاحت اور بلاغت ہے کہ علم معانی علم بیان علم بدی علامہ الوسی نے ذکر کیا ہے پورا فن بلاغت قران کی اس ایک ایت میں موجود ہے۔ تو چونکہ وہ فصاحت تو سمجھتا تھا قران کی بلاغت کو جانتا تھا اس ایک ایت کو سنا اور وہ اپنے ارادے سے بعض ا گیا اس نے کہا جس کتاب کی ایک ایت میں اتنی بلاغت ہو اتنی فصاحت ہو اس کتاب کے پورے قران میں کتنی بلاغت ہوگی اس نے کہا میں قران کے مثل کتاب نہیں لا سکتا۔ ہم تو چونکہ فصاحت کو سمجھتے نہیں ہیں ہم نے تو بس قران کو ایک برکت کی کتاب سمجھا ہے کوئی بیمار ہے تعویز بنا لو۔ کوئی مر گیا ہے تیجے چالیسویں میں تلاوت کر دو کوئی پیسے نہیں دے رہا تو مسجد لا کر قران پہ پیسے رکھ دو کوئی نیا گھر بنایا بچوں کو بلا کر برکت کے لیے تلاوت کرا دو۔ بچی کو رخصت کرنا ہے قران کے سائے میں کر دو ہم نے تو قران کو اس لیے رکھا یہ قران تو زندہ انسانیت کی ہدایت کی کتاب تھی۔ حضرات سلف نے اتنی محنت کی قران پر دو لاکھ سے زیادہ تفسیریں قران کی لکھی گئی۔ قران کریم پر اتنی اہل علم نے اس کی خدمات کی اور قران کو وہ لوگ اپنی زندگی میں لے کر ائے۔ تو میں عرض کر رہا تھا اللہ رب العزت نے قران کریم کی تاثیر کے ایسی رکھی ہے کہ بہت سے لوگ اسے سن کر ایمان لے کر ائے۔ مولانا رحمت اللہ کرانوی کی کتاب ہے ازالت الشکوک اس میں انہوں نے ایک واقعہ لکھا ملا علی قوشجی رحمہ اللہ علیہ بڑے عالم گزرے ہیں۔ ایک یہودی کے ساتھ ان کا مناظرہ ہوا۔ یہودی کو یہ قائل کرنے لگے لیکن وہ قائل نہیں ہوتا تھا۔ ایک مہینے تک ان کی بات چلتی رہی چلتی رہی لیکن وہ یہودی نے اپنا مذہب بھی نہیں چھوڑا۔ ایک مہینے کے بعد کسی دن یہ ملا علی قوششی تلاوت کر رہے تھے تو اچانک وہ یہودی پیچھے سے ایا ان کو پتہ نہیں تھا۔ اور وہ ان کی تلاوت سننے لگ گیا یہ پڑھتے رہے وہ سنتا رہا یہاں تک کہ جب تلاوت اس کی مکمل ہوئی وہ اس کے سامنے ایا اور یہود کے اس عالم نے کہا مجھے کلمہ پڑھو میں مسلمان ہوتا ہوں۔ ملا علی کوششی نے کہا ایک مہینے سے مناظرہ کر رہا ہوں۔ اور اپ ایمان نہیں لائے اور اج اپ خود بخود ایمان لے کر ا رہے ہو۔ اس یہود کے عالم نے کہا کہ تمہاری جیسی بری اواز میں نے کسی کی نہیں دیکھی۔ یعنی تمہاری اواز بڑی ہی بری اواز ہے لیکن اج تم قران پڑھ رہے تھے اور میں پیچھے سن رہا تھا لیکن جب تم پڑھ رہے تھے تو مجھے سرور ا رہا تھا خوشی مل رہی تھی۔ اور میرے دل کو سکون مل رہا تھا تو میں نے کہا جس انسان کی اواز اتنی بری ہو وہ پڑھے اس کے پڑھنے سے اتنا سکون ملتا ہے جس کی اواز خوبصورت ہو اس میں کتنا سکون ہوگا۔ یہ بات میرے ایمان کا ذریعہ بن گئی۔ تو میں عرض کر رہا تھا اللہ تعالی نے دنیا کی کسی کتاب میں یہ اعجاز نہیں رکھا جو اللہ نے اس میں رکھا ہے۔ امام ابن ہشام کی کتاب ہے سیرت ابن ہشام اس میں انہوں نے واقعہ لکھا یہ تین بڑے کفار تھے ابو جہل ابو سفیان اخنس بن شریق یہ تینوں رات کے وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تلاوت کرتے تھے۔ تو یہ لوگ تینوں چھپکے چھپکے ا جاتے ایک طرف کونے میں ایک بیٹھتا دوسری جگہ دوسرا بیٹھتا تیسری جگہ تیسرا بیٹھتا۔ یہ ایک دوسرے کو بتاتے نہیں تھے۔ حضور رات کو تلاوت کرتے تو یہ باہر سنتے رہتے ایک دن ایسا ہوا یہ اٹھ کے جانے لگے اندھیرا تھا۔ اتفاق سے ان کی اپس میں ملاقات ہو گئی۔ تو انہوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا کہ صبح تو محمد کو برا بھلا کہتے ہو اور رات کو ا کر محمد کی تلاوت سنتے ہو۔ تو انہوں نے کہا چلو ائندہ نہیں ائیں گے۔ لیکن پھر برداشت نہ ہوا اگلے دن پھر یہ چھپکے سے گھر نکل کر ا گئے۔ اور یہ تینوں مختلف جگہوں پر بیٹھ کر چھپ کے سننے لگے۔ پھر جب حضور کی تلاوت پوری ہوئی تو یہ جانے لگے اتفاق سے پھر ان کی ملاقات ہو گئی۔ پھر ایک دوسرے کو برا بھلا کہا چند دن گزرے تیسری مرتبہ پھر یہ لوگ ائے بیٹھے اور تلاوت سنی جانے لگے پھر ملاقات ہو گئی تو تیسری دفعہ جب ہوئی تو اگلے دن یہ اخنس بن شریق ابو سفیان کے پاس گیا۔ کہا صبح تو تم لوگ کہتے ہو ایمان نہ لے کر اؤ یہ محمد مجنون ہے معاذ اللہ ساحر ہے رات کو تم محمد کا کلام سنتے ہو سچ بتاؤ بات کیا ہے۔ ابو سفیان نے دبے الفاظ میں کہا کہ محمد جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے۔ محمد جو پڑھتا ہے اس کا مثل کوئی نہیں اور اس کے سننے سے دل کو سکون اور راحت ملتی ہے لیکن چونکہ ہمیں اپنی بادشاہت کا ڈر ہے اس لیے اب ہم محمد پہ ایمان نہیں لاتے۔ ابو سفیان اگرچہ بعد میں ایمان لے ایا تھا لیکن اس وقت نہیں لایا۔ اب یہ اخنس بن شریق ابو جہل کے پاس گیا۔ اور اس سے کہا تم اتنی مخالفت کرتے ہو اور رات کو ان کا کلام بھی سنتے ہو۔ تو اس نے اگے سے جواب دیا کہ بات یہ ہے ہمارا قبیلہ الگ ہے محمد کا قبیلہ قریش الگ ہے۔ جس چیز میں بھی یہ لوگ اگے بڑھے ہم نے ان کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے سخاوت کی ہم نے بھی سخاوت کی انہوں نے غریبوں میں مال تقسیم کیا ہم نے بھی تقسیم کیا۔ انہوں نے بیواؤں کو گھر دیے ہم نے بھی گھر دیے یہ لوگ لڑائی میں اگے نکلے ہم بھی نکلے یہ شاہ سوار بنے ہم بھی شاہ سوار بنے۔ انہوں نے مقابلے کے دوران مقابل کو قتل کیا ہم نے بھی قتل کیا لیکن اب ان میں ایک نبی ایا اس نے نبوت کا دعوی کر دیا۔ اب ہمارے اندر تو کوئی نبی نہیں ہے اس لیے ہم اس کو نہیں مانتے باقی محمد جو پڑھتا ہے وہ ٹھیک پڑھتا ہے۔ یعنی یہ وہ شہادت تھی یہ وہ گواہیاں ہیں کہ جو دشمن بھی زبان سے کہہ رہا ہے کہ محمد جو کلام لے کر ایا اس کا مثل نہیں۔ تو میں نے یہ چند واقعات عرض کیے قران کریم کی تاثیر کے کہ دنیا کی کسی کتاب میں وہ تاثیر اللہ نے نہیں رکھی جو اللہ رب العزت نے اپنے اس کلام مقدس میں رکھی ہے اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے ہے کہ ہم اپنی زندگی میں قران کریم کو زیادہ سے زیادہ لے کر ائیں اور اپنی زندگی کا حصہ قران کی تلاوت کو بنائیں۔ میں اخری واقعہ سنا کے بات ختم کرتا ہوں۔ اللہ رب العزت نے کسی اور کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی لیکن قران کریم کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی۔ امام قرطبی رحمہ اللہ علیہ متوفی 671 ہجری تفسیر قرطبی میں انا نزلنا الذکر کے ذیل میں انہوں نے ایک واقعہ لکھا مامون الرشید کا دور تھا مامون ہر سال ایک محفل منعقد کرتا تھا۔ جس میں یہود کے علماء کو بھی بلاتا نصاری کے بھی مسلمان علماء کو بھی بلاتا تھا اور اپس میں بحث مباحثہ ہوتا علمی گفتگو چلتی۔ ایک یہود کا عالم تھا اس نے جب مامون کے سامنے گفتگو کی تو بڑی فصیح بلیغ گفتگو کی۔ مامون الرشید اس سے بڑا متاثر ہوا۔ مجلس ختم ہوئی مامون نے اسے قریب بلایا اور بلا کر اسلام کی دعوت دی کہ بھئی تم مسلمان ہو جاؤ لیکن وہ مسلمان نہ ہوا۔ اگلے سال جب دوبارہ مجلس منعقد ہوئی تو مامون الرشید نے دیکھا کہ وہی ادمی جو گزشتہ سال یہودی تھا مسلمان ہو گیا اور اسلام کی حقانیت پہ اب دعوت دے رہا ہے تبلیغ کر رہا ہے اسلام کی حقانیت پہ دلائل دے رہا ہے۔ مامون بڑا خوش ہوا۔ اور مجلس کے بعد اسے قریب بلایا انعام دیے کہا بھئی تم نے اپنا یہودی مذہب کیوں چھوڑا گزشتہ سال تو تم نہیں چھوڑ رہے تھے۔ اس نے واقعہ سنایا اس نے کہا میں جیسے یہود کا بڑا عالم ہوں ویسے میں کاتب بھی ہوں۔ میں اپنے ہاتھ سے لکھتا ہوں۔ تو میں نے یہ دیکھا کہ سچی کتاب کون سی ہے۔ تو میں نے سب سے پہلے تورات کے تین نسخے اپنے ہاتھ سے لکھے۔ لکھنے کے بعد میں نے بعض جگہ میں کمی کی بعض جگہ میں اضافہ کیا۔ لیکن میں نے ظاہر میں اس کو بڑا خوبصورت بنایا بڑا منقش بنایا یہود کے علماء کے پاس لے کر گیا انہوں نے دیکھا تو بڑے خوش ہو گئے۔ ظاہری زیب و زینت کو دیکھ کر انہوں نے مہنگے داموں میں مجھ سے خرید لیا کسی نے یہ نہ کہا کہ اس میں کمی بیشی ہوئی ہے۔

[20:52]پھر کہتے میں نے سوچا میں قران میں بھی تبدیلیاں کروں تو میں نے قران کے تین نسخے لیے اپنے ہاتھ سے لکھنا شروع کیا۔ اور میں نے بعض جگہوں میں کمی کی بعض میں اضافہ کیا بعض جگہ ایات کو بالکل چھوڑ دیا ظاہر میں خوبصورت بنایا مسلمان علماء کے پاس لے کر گیا کہ بھئی یہ تم مجھ سے ہدیے میں خرید لو۔ انہوں نے پوچھا بھئی تو کون ہے کہا میں غیر مسلم یہودی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہم اس کو پڑھیں گے کہیں اس میں کمی بیشی تو نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ہم تجھے تیرا ہدیہ دیں گے۔ اس نے کہا میں کب اؤں کہا تم چند دنوں کے بعد ا جاؤ۔ یہ یہود کا عالم کہتے ہیں میں چند دنوں کے بعد گیا تو جس جس جگہ میں نے کمی کی تھی جس جگہ میں نے اضافہ کیا تھا۔ جن جگہ میں نے ایات کو چھوڑا تھا ان مسلمان علماء اور قرا نے ان تمام جگہوں کی نشاندہی کر دی کہ یہاں اپ نے غلط لکھا یہاں اضافہ کیا یہاں کمی کی۔ یہاں ایت کو چھوڑا تو میں سمجھ گیا یہ قران اپنی اصلی حالت پر ہے ورنہ ان کو پتہ نہ چلتا میں نے کہاں کمی زیادتی کی اس واقعے کے بعد وہ ایمان لے کر ا گیا۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript