Thumbnail for Travel To Israel | Full History and Documentary | Interesting Facts about Israel | اسرائیل کی سیر by Shayan Info Tv

Travel To Israel | Full History and Documentary | Interesting Facts about Israel | اسرائیل کی سیر

Shayan Info Tv

23m 34s3,593 words~18 min read
Auto-Generated

[0:00]السلام علیکم دوستو۔ آج ہم سیر کرنے جا رہے ہیں ایک ایسی سر زمین کی، جو دنیا کے تین الہامی مذاہب، اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی مقدس ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ یروشلم مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں، تینوں کے نزدیک کیوں اہم ہے؟ ہماری بڑی عید اور چھوٹی عید، عیسائیوں کی ایسٹر اور کرسمس، اور یہودیوں کے تہوار کیا ہیں؟ کیوں منائے جاتے ہیں؟ کب ہوتے ہیں؟ یقیناً بہت سے لوگوں کو نہیں معلوم۔ ان کے پاس قیامت سے پہلے دو اہم کام کرنے ہیں۔ وہ کیا ہیں؟ کیا وہ وضو کرتے ہیں؟ نماز پڑھتے ہیں؟ ہمارے لیے زنا، شراب، چوہا اور سور حرام ہے۔ ان کے لیے کیا حرام ہے اور کیا حلال؟ ان کے سر پر جو ٹوپی ہوتی ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ اور کیوں پہنتے ہیں؟ سر کے کناروں پر لٹکیں کیوں رکھتے ہیں؟ دیوار گریہ کیا ہے اور اس پر سر کیوں مارتے ہیں؟ ماتم کیوں کرتے ہیں؟ بحر مردار میں لوگ کیوں نہیں ڈوبتے؟ اور یہ کس نبی کی امت پر نازل ہونے والا عذاب تھا؟ تابوت سکینہ میں کیا تھا؟ قیامت میں اب کتنے سال باقی ہیں؟ پاکستانی اسرائیل کی سیر کیسے کرتے ہیں؟ نہیں جانتے نا؟ کیا وجہ ہے کہ پوری دنیا ان کے پیروں تلے ہے؟ دنیا کا سارا میڈیا، بینکنگ نظام، بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ان کے ہاتھ میں ہیں۔ اس چھوٹی سی قوم میں وہ کون سی خاص چیز ہے جو آج دنیا کو کنٹرول کر رہی ہے؟ اسرائیل کی فوج میں دنیا کی خوبصورت ترین لڑکیاں کیوں بھرتی کی گئی تھیں؟ ان کا شرم ناک مقصد کیا تھا؟ اور آج ان کی بڑی تعداد کہاں ہے؟ پورے ملک میں موم بتیاں کیوں جلائی جاتی ہیں؟ ہم بتائیں گے، اس سر زمین کی وہ باتیں جن سے نئی نسل نا آشنا ہے۔ ایسی دلچسپ اور چوکا دینے والی معلومات جو آپ کی آنکھیں کھول دیں گی۔ یہ سب جاننے کے لیے ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھیں۔ لائک، شیئر اور سبسکرائب کرنا مت بھولیں۔

[2:11]دوستو، ہم اکثر اس ملک کا نام لے کر اس کو برا بھلا کہہ دیتے ہیں۔ اور کہنا بھی چاہیے۔ کیونکہ پورے امت مسلمان کے لیڈر امریکہ اور اسرائیل کے جوتے پالش کرنے میں لگے ہیں۔ اور ہم برا بھلا کہنے یا گالی دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ اسرائیل لفظ کا مطلب ہے اللہ کا بندہ۔ جی ہاں۔ یہ لقب حضرت یعقوب علیہ السلام کا تھا اور ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہتے ہیں۔ جب یہ لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو شالوم علیکم کہتے ہیں۔ بالکل ہمارے اسلام علیکم جیسا۔ بس تھوڑا سا مختلف تلفظ۔ اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس کا رقبہ وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اور اس کی وجہ ناجائز قبضوں کو کہا جاتا ہے۔ کچھ مہینے پہلے اس کا رقبہ تقریبا 21937 مربع کلومیٹر تھا اور اب 22273 مربع کلومیٹر تک پہنچ گیا ہے۔

[3:04]یعنی مسلسل توثیح ہو رہی ہے۔ خاص طور پر مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضے کی وجہ سے۔ یہ علاقہ متنازعہ ہے اور حالیہ دنوں میں بھی ویسٹ بینک میں اسرائیلی فورسز کی کاروائیاں اور سیٹلر اٹیکس بڑھے ہیں جو فلسطینیوں کے لیے بڑا مسئلہ بن رہے ہیں۔ اب آبادی دیکھو تو تقریبا ایک کروڑ سے زیادہ یعنی 1 کروڑ 1 لاکھ 78 ہزار کے آس پاس جن میں اکثریت یہودی ہے تقریبا 76 فیصد۔ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے 93 ویں نمبر پر ہے۔ لیکن اس چھوٹی سی آبادی والے ملک نے مسلم دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ حال ہی میں اس ناجائز جابر ملک نے غزہ میں کچھ ایسے ہتھیار استعمال کیے جن سے تقریبا 3 ہزار فلسطینیوں کی لاشیں تک نہیں ملی۔ جسم سیکنڈوں میں راکھ یا چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل ہو گئے۔ یہ تھرموبیرک اور تھرمل ویپنز جیسے ویکیوم بومز تھے جو 3500 ڈگری سے زیادہ گرمی پیدا کرتے ہیں۔ انسانی جسم فوری ویپرائز ہو جاتا ہے۔ سفید فاسفورس کا استعمال بھی رپورٹ ہوا جو جلد کو ہڈی تک جلا دیتا ہے اور ڈینسلی پاپولیٹڈ علاقوں میں غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ تمام مسلمان بھائی بہنوں کی حفاظت فرمائے اور مسلم ممالک کو متحد کر کے اپنے لوگوں کا ساتھ دینے کی توفیق دے۔ آمین۔ اسرائیلی ارمی میں 70 ہزار سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔ جو خوبصورت بھی ہیں اور بہادر بھی۔ لیکن یہ بھرتیاں کسی جسمانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ اسرائیل کا قانون ہے کہ ہر نوجوان لڑکا ہو یا لڑکی، سکول کے بعد دو سے تین سال کی لازمی فوجی ٹریننگ لے۔ مردوں کے لیے 32 مہینے، عورتوں کے لیے 24 مہینے۔ یہ ٹریننگ انہیں دفاعی طور پر تیار کرتی ہے اور بہت سی خواتین کمبیٹ رولز میں بھی خدمت کرتی ہیں جیسے پائلٹ، انفینٹری یا انٹیلیجنس۔ حال ہی میں کچھ خواتین نے فوج چھوڑ دی ہے یا احتجاج کیا ہے، خاص طور پر جاری جنگ اور فلسطینیوں پر حملوں کی وجہ سے، وہ نہیں چاہتے ہیں کہ ظلم کا حصہ بنیں۔ یہ لڑکیاں ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر اپنی خوبصورتی اور لائف سٹائل کی وجہ سے مشہور ہیں، لیکن اب بہت سی اخلاقی وجوہات سے فوج سے الگ ہو رہی ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے آپ یہ ویڈیو کہاں سے دیکھ رہے ہیں؟ اپنے بھائی کو کمنٹ باکس میں لازمی بتائیں۔ اور ہاں، اگر ابھی تک چینل کو سبسکرائب اور ویڈیو کو لائک نہیں کیا تو ابھی سے کر لیں۔ اگر حساب لگاؤ تو دنیا میں مسلمان اسرائیلیوں سے 99 فیصد زیادہ ہیں، لیکن پھر بھی اس ملک کے ظلم کو روکنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ سیاسی، معاشی اور اتحاد کی کمی کی وجہ سے۔ یہودیوں کا صرف ایک ہی ملک ہے اسرائیل، جو ان کی پہچان ہے۔ قومی زبان عبرانی ہے جسے انگریزی میں ہبرو کہتے ہیں اور عربی دوسری سب سے زیادہ بولی جاتی ہے۔ ایک مشہور کہاوت ہے وہاں، اگر کوئی تمہارے ساتھ غلط کرے تو فورا جواب دو۔ یعنی برداشت نہ کرو۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک خود کئی متنازعہ کاروائیوں میں ملوث رہتا ہے۔ دارالحکومت یروشلم ہے جو مغربی ایشیا کا قدیم ترین شہر ہے اور مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں، تینوں کے لیے مقدس۔ یہ شہر اسرائیل اور فلسطین دونوں کا دارالحکومت مانا جاتا ہے اور اسرائیل نے یہاں اپنے تمام سرکاری ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے جہاں مسجد اقصیٰ ہے مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس۔ یہودیوں کی دیوار گریہ بھی یہیں ہے جہاں وہ سر ٹکا کر دعائیں مانگتے ہیں۔ شہر کا رقبہ تقریبا 125 مربع کلومیٹر ہے اور آبادی تقریبا 10 لاکھ کے آس پاس۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے یہیں انسان کی تخلیق ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی تیاری کی۔ عیسائیوں کا کہنا ہے یہیں حضرت عیسی کو مصلوب کیا گیا اور چرچ آف ہولی سپل کر ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک یہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج سے پہلے تمام انبیاء کی امامت کی۔ 1 لاکھ 24 ہزار انبیاء کا شہر۔ بنیاد تقریبا 4 ہزار سال قبل مسیح کی، 638 عیسوی میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بغیر جنگ کے فتح کیا۔ جب پیٹریارک سلفرا نیوز نے چرچ دکھانا شروع کیا، نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے چرچ کے اندر نماز پڑھنے سے انکار کر دیا۔ کہ بعد میں مسلمان اسے مسجد بنا لیں گے۔ باہر ایک پتھر پھینکا، جہاں گرا، وہیں نماز پڑھی۔ آج وہیں مسجد عمر ہے۔ معاہدہ بھی سنگ مرمر پر عربی میں لکھا آج تک موجود ہے۔ مقدس ترین جگہ، جہاں حضرت یعقوب، حضرت مریم اور حضرت عیسی علیہ السلام سے جڑی باتیں ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش بھی یہیں ہوئی تھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر تاریخ، مذہب اور جذبات کا مرکز ہے۔ یہ ملک مشرقی بحر روم کے کنارے، ریڈ سی کے شمال میں بیٹھا ہے۔ شمال میں لبنان، شمال مغرب میں اردن، شمال مشرق میں شام، مغرب میں فلسطین اور غزه۔ جنوب مغرب میں مصر۔ یعنی چاروں طرف سے گھرا ہوا۔ پھر بھی اتنا پاور فل کہ دنیا کی نظر میں رہتا ہے۔ تلبب جو سمندر کے کنارے بسا ہوا، جدید، چمکدار، بلند عمارتیں، مارکیٹس، پارٹیز، یورپ جیسا کلین اور ٹرینڈری شہر۔ یہ لوگ حضرت آدم سے لے کر حضرت موسیٰ تک کے تمام انبیاء کو مانتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد والوں کا انکار کرتے ہیں۔ اسرائیل سورج کی روشنی سے سب سے زیادہ انرجی حاصل کرنے والا ملک ہے دنیا میں۔ ہاں بھائی، پر کیپیٹل سولر انرجی کا بادشاہ۔ گھروں میں سولر واٹر ہیٹر لگے ہوتے ہیں۔ تقریبا ہر گھر میں۔ اور ڈگری کا نظام؟ واہ۔ ہمارے ہاں ڈگری لے کر سوچتے ہیں نوکری ملے گی تنخواہ اچھی یا رشوت کا موقع۔ وہاں ڈگری تب تک نہیں ملتی جب تک سٹوڈنٹ کوئی بزنس ائیڈیا یا پروڈکٹ بنا کر کم از کم 10 ہزار ڈالر کا پرافٹ نہ کما لے۔ یعنی پڑھائی کے ساتھ انٹرپرینیور شپ لازمی۔ ان کی مقدس کتاب تلمود کے مطابق دنیا تقریبا چھ ہزار سال کی ہے۔ اور ان کا کیلنڈر اب 5786 چل رہا ہے۔ سال ستمبر میں شروع ہوتا ہے جسے روشے ہیشانا کہتے ہیں۔ یعنی ہیڈ آف دی ائر۔ ان کے حساب سے دنیا کے خاتمے میں اب بھی کچھ وقت باقی ہے۔ لیکن نمبر چھ ان کے لیے بہت اہم ہے۔ اللہ نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے۔ ہفتے کے چھ دن کام کی اجازت، ساتواں دن یعنی سبت کا دن آرام کا۔ جھنڈے پر بھی چھ کونوں والا ستارہ، سٹار آف ڈیوڈ، داودی ستارہ جو ان کی پہچان ہے۔ اب بچوں کی ٹریننگ دیکھو تو حیران ہو جاؤ۔ وہ مانتے ہیں ہر بچہ آنے والا لیڈر ہے۔ بلین ڈالر کمپنی بنائے گا۔ نوکری کا کوئی چکر نہیں۔ جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو گھر سے ٹی وی، موبائل، گیمز سب ہٹا دیتے ہیں۔ دن رات بچے سے باتیں کرتے ہیں، میوزک سناتے ہیں، زیادہ سے زیادہ شطرنج کھیلتے ہیں تاکہ دماغ میں سٹیٹجیکل سوچ ائے۔ گھر میں شور نہیں، سگریٹ تو دور کی بات، ڈرائی فروٹس، جوسز، ہیلتھی کھانا۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد تیر اندازی سکھاتے ہیں۔ جو قرآن میں بھی ہے نا، تیر اندازی سیکھو۔ دنیا کی ہر بڑی ٹیک کمپنی کا ریسرچ سینٹر وہاں ہے۔ کیونکہ مستقبل کی جنگ انٹرنیٹ پر ہوگی۔ ایک کلک سے ملک کا انٹرنیٹ، سیٹلائٹ، لوکیشن، جام۔ اس لیے 13 سال کے بچوں کو ہیکنگ سکھاتے ہیں، تجربات کرتے رہتے ہیں۔ پیارے بھائیوں، کئی دنوں کی ریسرچ اور ایڈیٹنگ کے بعد اپ تک ویڈیو پہنچائی جاتی ہے۔ تو اپ پلیز سبسکرائب کر کے اور ویڈیو کو لائک کر کے ہماری حوصلہ افزائی لازمی فرمایا کریں۔ شکریہ۔

[11:09]ان کی سب سے بڑی عید پیساور یعنی عید فصح جو سات دن منائی جاتی ہے۔ تقریبا اپریل میں، مصر سے ازادی کی یاد میں۔ پھر پریم۔ یہودیوں کو ہلاکت سے بچانے کی یاد اور رویشے ہیشانا۔ نیا سال۔ شہد میں روٹی اور سیب ڈبو کر کھاتے ہیں۔ میٹھی شروعات کے لیے۔ خواتین کی بات کرو تو اسرائیل میں لیبر فورس میں عورتیں تقریبا 60 سے 62 فیصد ہیں۔ یعنی مردوں کے برابر کام کرتی ہیں، بہت ہائی پارٹیسیپیشن۔ پانی کی کمی ہے، لیکن دنیا کا سب سے بڑا ڈیسالینیشن پلانٹس کا نظام یہیں ہے۔ سمندری پانی کو پینے کے قابل بناتے ہیں۔ تقریبا 80 فیصد پانی اب ڈیسالینیشن سے اتا ہے۔ سولر انرجی میں بھی لیڈر۔ چرچ اف دی ہولی سپل کر۔ عیسائیوں کے نزدیک یہ سب سے پاکیزہ جگہ ہے جہاں ان کا یقین ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا گیا تھا، دفن کیا گیا اور پھر زندہ ہو کر اٹھے۔ لیکن قران پاک میں واضح ہے کہ اللہ نے حضرت عیسی کو زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا اور ان کی جگہ کسی اور کو صلیب دی گئی۔ یہ چرچ یروشلم کے اولڈ سٹی میں ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ چوتھی صدی میں کانسٹینٹائن نے بنوایا تھا۔ اندر ان کا خیال ہے کہ گلگوٹا کا پہاڑی حصہ جہاں مصلوب کیا گیا، پھر جسم کو نیچے لایا گیا اور ایک بڑی پتھر کی سلاق پر تیل لگایا گیا۔ وہ سلاق آج بھی موجود ہے۔ عیسائی اسے چھوتے اور دعائیں مانگتے ہیں۔ پھر قبر کی طرف لے جایا گیا، لیکن ان کی روایت کے مطابق قبر سے پہلے ہی جسم غائب ہو گیا۔ ہر جمعہ کی رات یہاں رولر بلیڈنگ پارٹی ہوتی ہے۔ لوگ رولر بلیڈز پہن کر سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ میوزک، لائٹس، مزہ، بالکل پارٹی موڈ میں شہر گھومتے ہیں۔ یہ تلبیب کا ایک کلاسک فن ہے۔ اسرائیل میں موبائل فون کی ابتدا بھی دلچسپ ہے۔ پہلا ہینڈ ہیلڈ سیل فون موٹرولا نے 1973 میں تیار کیا اور اس کا آر این ڈی اسرائیل میں ہوا تھا۔ یعنی دنیا کا پہلا موبائل فون یہاں سے نکلا۔ ان کی گائیں بھی کمال ہیں۔ دنیا میں فی گائے سب سے زیادہ دودھ دیتی ہیں۔ اوسطا 12 ہزار لیٹر سے زیادہ سالانہ۔ جدید ٹیکنالوجی اور فیڈنگ کی بدولت۔ ہیفہ کی بندرگاہ بحرہ روم کے ساحل پر ہے۔ ملک کی سب سے بڑی۔ موسم گرم اور خشکوار۔ تلبب کے ہوٹلوں میں ٹوکیو اور نیویارک کے بعد سب سے زیادہ سوشی ملتی ہے۔ ہاں، سوشی کا شوقین شہر۔ تلبب کی ڈیزنگوف سٹریٹ اسرائیل کی سب سے مہنگی گلی۔ شاپنگ، کیفے، لائف سٹائل کا مرکز۔ اب یہودیوں کی عبادت دیکھو تو حیران رہ جاؤ۔ وضو جیسا، تین چار بار ہاتھ دھوتے ہیں۔ سر پر کپاہ یا کفہ پہنتے ہیں۔ ماتھے اور بازو پر تفلین باندھتے ہیں جس میں تورات کی آیات ہوتی ہیں۔ کندھوں پر تلت اوڑھتے ہیں۔ ویٹرن وال یعنی دیوار گریہ پر جاتے ہیں، روتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں۔ باہر سے لائے خطوط دیوار کی درزوں میں ٹھونس دیتے ہیں۔ نماز میں ہاتھ باندھ کر قیام، تورات بلند اواز میں پڑھتے ہیں۔ توپی پر ہاتھ رکھ کر سجدہ جیسا۔ آخری رکعت میں رکوع میں بائیں دائیں سلام پھیرتے ہیں۔ پھر بیٹھ کر دعا۔ کبھی الٹے لیٹ کر بھی دعائیں مانگتے ہیں۔ بہت جذباتی۔ دنیا کی ہزاروں بڑی کمپنیاں اسرائیل سے شروع ہوئیں۔ اسرائیل میں ماڈل بننے سے پہلے ہیلتھ کارڈ اور وزن بتانا لازمی ہے۔ ویزا لینے کے لیے پاکستانیوں کو امان، ازربایجان، کینیا، میانمار، گھانا یا نیپال جانا پڑتا ہے۔ زمینی راستے سے اردن یا مصر سے۔ اسرائیل واحد ملک جہاں خواتین کے لیے فوجی سروس لازمی ہے۔ زمین بیچتے نہیں، لیز پر دیتے ہیں۔ فی کس سب سے زیادہ کتابیں چھپتی ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ فروٹ کھانے والے اوسطا 75 کلو فی شخص سالانہ۔ ڈیڈ سی، بحرہ مردار۔ نمک کی مقدار 33 سے 35 فیصد، عام سمندر سے 10 گنا زیادہ۔ اس لیے کوئی ڈوب نہیں سکتا، جسم خود بخود تیرتا ہے۔ کشتی بھی نہیں چل سکتی، الٹ جاتی ہے۔ یہ اللہ کا عذاب ہے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر سدوم، امورا وغیرہ۔ ہم جنس پرستی کی وجہ سے تباہ ہوئیں۔ حضرت لوط کو حکم تھا، پیچھے نہ دیکھیں۔ بیوی نے دیکھا تو پتھر بن گئی۔ وہ مجسمہ آج بھی عبرت کا نشان بنا ہوا ہے۔ حضرت لوط کی بیوی کا پتھر کا مجسمہ جو اللہ کے حکم کی نافرمانی کی سزا ہے۔ بیت المقدس اس سے صرف 15 میل کے فاصلے پر ہے۔ یعنی قریب ہی۔ اب کرنسی کی بات۔ اسرائیلی شکیل کی ویلیو تقریبا پاکستانی روپے میں 90 سے 41 روپے کے اس پاس ہے۔ یعنی ایک شکیل تقریبا 90 پاکستانی روپے۔ یہودیوں کے نوٹس پر ورٹیکل تصاویر کی بجائے ہورزونٹل پرنٹ ہوتے ہیں۔ اور بینک نوٹس پر اندھوں کے لیے خاص نشانیاں ہوتی ہیں تاکہ پہچان سکیں۔ ان کا افیشل نشان منورہ ہے۔ سات شاخوں والا شمع دان جو یہودیوں کی مقدس علامت ہے۔ یہ جھاڑی منورہ سے متاثر ہے جو فلسطین میں عام پائی جاتی ہے۔ یہودیوں کی عبادت گاہوں میں بھی یہی علامت موجود ہوتی ہے۔ رومیوں نے 70 عیسوی میں جب ہکل سلیمانی کو تباہ کیا تو اس منورہ کو فتح کی یادگار کے طور پر روم لے گئے تھے۔ آج بھی آرچ اف ٹائٹس پر اس کی تصویر ہے۔ اسرائیل میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام نوم ہے۔ جس کا مطلب ہے خوشگوار، پلیزنٹنس۔ بالکل نرم اور پیارا نام، لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے۔ اور درخت لگانے کا ریکارڈ۔ اسرائیل دنیا کا وہ ملک ہے جہاں بیسویں صدی کے اخر میں درختوں کی تعداد بڑھ گئی تھی اور آج تک 250 ملین سے زیادہ درخت لگا چکے ہیں۔ جوش نیشنل فنڈ کی بدولت۔ یہودیوں کی احادیث میں بھی ذکر ہے کہ درخت لگانا برکت ہے تو وہ پورے جوش سے کر رہے ہیں۔ زبان ہیبرو۔ 3 ہزار سال پرانی جدید ہیبرو۔ یہ دیش بھی بولی جاتی ہے اور عربی دوسری سب سے زیادہ۔ مقدس کتابیں تنخ، تورات، بائبل، تنخ، قبالہ، حلاخہ، تلمود۔ وہ چاند پر کالونی بسانے میں لگے ہیں اور ہم ابھی چاند کو بھی ٹھیک سے نہیں دیکھ پا رہے۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو اپنی ضرورت کا 95 فیصد سے زیادہ فوڈ خود اگاتا ہے اور پانی کی بچت میں ماسٹر۔ ڈریپ ایریگیشن انہوں نے ایجاد کیا جو پانی 40 سے 70 فیصد کم استعمال کر کے پیداوار بڑھاتا ہے۔ ہمارے ہاں حکم ہے پانی بچاؤ، لیکن وہ عمل کر رہے ہیں۔ سہرا میں بھی سبزہ لگا رکھا ہے۔ یہودیوں کے فرقے۔ مشرقی اور وسطی یورپ والے اشکینازی کہلاتے ہیں۔ سب سے بڑا فرقہ ارتھوڈوکس، پھر الٹرا ارتھوڈوکس یا ہیریڈی۔ جو کٹر ہے، کسی تبدیلی کو پسند نہیں۔ وہ کالے ہیٹ، لمبے کوٹ، سفید شرٹ پہنتے ہیں۔ کوشر کھانے کو کوشر کہتے ہیں جیسے ہمارے ہاں جمعرات کے دنوں میں خاص کھانے۔ سکالرز کو ربی کہتے ہیں۔ ان کے حساب سے قیامت میں اب صرف 221 سال باقی ہیں۔ قیامت سے پہلے دو بڑے کام، تابوت سکینہ کی تلاش اور ہکل سلیمانی کی تعمیر۔ یہ کہانی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شروع ہوتی ہے۔ دو بیویاں، حضرت حاجرہ اور حضرت سارہ۔ 40 سال مکہ میں رہے۔ خانہ کعبہ تعمیر کیا۔ پھر فلسطین واپس آئے اور بیت المقدس تعمیر فرمایا۔ دونوں کے درمیان 40 سال کا فرق۔ انتقال بھی یہیں، قبر مبارک الخلیل میں۔ بنی اسرائیل حضرت یعقوب کی اولاد۔ قہت کی وجہ سے مصر گئے۔ فرعون کی غلامی میں رہے صدیوں۔ حضرت موسی علیہ السلام نے نکالا۔ 3300 سال پہلے واپس فلسطین۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے 1000 قبل مسیح میں یروشلم فتح کیا۔ دارالحکومت بنایا۔ دل میں خیال آیا کہ تابوت سکینہ جس میں 10 احکامات والی پتھریں، حضرت موسیٰ کا عصا، من و سلوہ کا برتن، خیمے میں ہے، محل میں رکھنا چاہیے۔ حضرت داؤد نے ہکل شروع کیا۔ حضرت سلیمان نے مکمل کیا۔ حضرت سلیمان کے دور میں جادوگر تھے۔ اللہ کے حکم سے انہیں قتل کیا۔ جادو کے نسخے تابوت میں بند کر کے چھپائے۔ یہودی اسے ہکل سلیمانی کہتے ہیں۔ 586 قبل مسیح میں بخت نصر نے تباہ کیا۔ بیرونی دیوار چھوڑ دی۔ آج وہی ویسٹرن وال یا دیوار گریہ۔ تباہی کا دن تیشہ بی آؤ پر ماتم کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے حضرت عیسی علیہ السلام بھیجے۔ لیکن یہودیوں نے مخالفت کی، قتل کی سازش کی، اللہ نے اٹھا لیا۔ اس جرم کی سزا میں رومیوں نے 70 عیسوی میں یروشلم تباہ کیا۔ یہودیوں کو 2 ہزار سال نکال دیا۔ پھر برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کیا۔ دنیا بھر سے یہودی اکٹھے کر کے بسائے اور 1948 میں ناجائز ریاست قائم کی۔ تابوت سکینہ کہاں ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ یہودی اسے ڈھونڈنے کے لیے پورا جہان تلاش کر رہے ہیں۔ یہودی مذہب میں ایک خاص سال اتا ہے جسے شمیتا کہتے ہیں۔ ہر ساتویں سال جہاں تمام قرضے معاف کر دیے جاتے ہیں، زمین کو آرام دیا جاتا ہے اور لوگوں کو مالی ازادی ملتی ہے۔ یہ تورات میں حکم ہے اور آج بھی بعض شکلوں میں عمل کیا جاتا ہے جیسے قرضوں کی معافی یا زراعی آرام۔ ایک خوبصورت تصور جو معاشرے میں مساوات لاتا ہے۔ اس سال اسرائیل میں نئے بزنس سٹارٹپس کی تعداد کم ہو رہی ہے اور بہت سے انویسٹرز بھی نئے وینچرز میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ٹیکس اور ریگولیشنز کی وجہ سے کئی کمپنیاں امریکہ میں انکاپوریٹ ہو رہی ہیں۔ لیکن یہ کوئی مکمل پابندی نہیں، غیر ملکی بھی اب بھی اکر سٹارٹ اپ شروع کر سکتے ہیں بس کچھ اضافی چیک اور پروسیسز سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسرائیلی لوگ بھی دنیا بھر میں بزنس کرتے ہیں خاص طور پر ٹیک اور انوویشن میں۔ اسرائیل اپنے یہودی بھائیوں کو اتنی اہمیت دیتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں یہودی بچہ پیدا ہو تو قانون اف ریٹرن کے تحت فورا اسرائیلی شہریت اور پاسپورٹ مل جاتا ہے۔ وہ کبھی بھی ا کر یہاں رہ سکتے ہیں۔ دفاع پر بجٹ کا تقریبا 80 فیصد لگاتا ہے۔ ارمی دنیا کی ٹاپ فورسز میں شمار ہوتی ہے، جدید ہتھیار، ائرن ڈوم جیسے دفاعی سسٹم اور خلائی ٹیکنالوجی۔ بینکرز اتنے مضبوط کہ بمباری بھی نہیں توڑ سکتی۔ ٹیکنالوجی میں تیسرا نمبر۔ دنیا بھر کے بڑے ریسرچ سینٹرز یہاں ہیں۔ ائنسٹائن بھی یہودی تھا۔ جس کی ذہانت نے دنیا بدل دی۔ اسرائیلی ہیکرز بھی ٹاپ کلاس۔ ایک پورا یونٹ ہے جو سائبر سکیورٹی اور افنس کرتا ہے۔ بزنس میں رسک لیتے ہیں اور ایک سے زیادہ انویسٹمنٹس کرتے ہیں اگر ایک فیل ہو تو باقی چلتے رہیں۔ شادی دهم دھام سے رسومات کے ساتھ۔ لڑکیوں کو 18 سال کی عمر میں ازادی دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے اس کے بعد کوئی غلطی ہو تو والدین ذمہ دار نہیں۔ جی ڈی پی تقریبا 610 بلین ڈالر۔ فی کس امدنی تقریبا 60 ہزار ڈالر۔ پاکستانی روپے میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ سالانہ۔ ڈرائیونگ رائٹ سائیڈ ہے۔ روڈز کا نیٹ ورک زبردست۔ ٹرین، میٹرو، بس۔ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔ 1952 میں ائنسٹائن کو صدارت کی افر کی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ شاید ظلم و ستم کی وجہ سے۔ ہر گھر میں بمب شیلٹر لازمی اور ڈیفنس سسٹم دنیا کا سب سے مضبوط۔ تو یہ تھی اپ کے اپنے چینل شایان انفو ٹی وی کی آج کی ویڈیو۔ ایسی ہی سیر و سیاحت سے بھری ویڈیوز دیکھنے کے لیے چینل کو لازمی طور پر سبسکرائب کر لیں۔ شکریہ۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript