[0:00]جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک کھجور فروش غلام کو ازاد کیا اور ایک درخت دکھایا اور کہا اسی درخت پر تمہیں سولی دی جائے گی۔ تو اس غلام نے وہ کام کیا جو دنیا کا کوئی بادشاہ نہ کر سکا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ بازار سے گزر رہے تھے اور ایک عورت کے پاس ایک غلام تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے خریدا اور فورا ازاد کر دیا۔ اس دن سے حضرت میسم رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صحبت اختیار کر لی۔ حضرت میسم تمار رحمتہ اللہ علیہ ایک تابعی تھے۔ یعنی یہ اس نسل میں سے تھے جنہوں نے براہ راست صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا اور ان سے علم سیکھا تھا۔ حضرت میسم رحمتہ اللہ علیہ کوفہ میں کھجوریں بیچتے تھے۔ اس لیے لوگ انہیں میسم تمار یعنی میسم کھجور فروش کہتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں علم خاص سے نوازا اور کئی باتیں ان کے کان میں سر راز بتائیں۔ ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں کوفہ کے ایک محلے میں لے گئے اور ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا میسم تمہیں میرے بعد گرفتار کیا جائے گا اور اسی درخت پر تمہیں سولی دی جائے گی اور تمہاری زبان کاٹی جائے گی۔ میں رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کیا کیا میں اس وقت بھی دین پر قائم رہوں گا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں بالکل۔ اس دن کے بعد وہ اس درخت کے پاس جاتے، اسے پانی دیتے اور اس کے مالک سے دوستی رکھتے۔ درخت کا مالک حیران ہوتا کہ یہ شخص اس درخت سے اتنی محبت کیوں کرتا ہے۔ میسم رحمتہ اللہ علیہ اسے بتاتے یہ درخت میری اخری منزل ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یزید اقتدار میں ایا اور عبید اللہ بن زیاد کوفہ کا گورنر بنا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چاہنے والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا جانے لگا۔ اس نے میسم رحمتہ اللہ علیہ کو گرفتار کیا اور کہا حضرت علی کو برا کہو اور یزید کی تعریف کرو ورنہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔ میسم رحمتہ اللہ علیہ نے انکار کر دیا اور کہا میں وہی کہوں گا جو میرے مولا علی نے مجھے بتایا تھا۔ کوئی طاقت مجھے روک نہیں سکتی۔ پھر انہیں اسی درخت پر سولی دی گئی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پہلے بتایا تھا۔ سولی پر لٹکے ہوئے بھی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کرتے رہے اور بنو امیہ کے ظلم کو بے نقاب کرتے رہے۔ جب عبید اللہ کو بتایا گیا کہ میسم سولی پر بھی لوگوں کو بھڑکا رہا ہے تو اس نے ان کی زبان کٹوانے کا حکم دیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے برسوں پہلے بتایا تھا۔ زبان کٹنے کے بعد بھی ان کے ہونٹ حرکت کرتے رہے اور کچھ ہی دیر بعد وہ شہید ہو گئے۔
Transcript source
YouTube auto captions
This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.
Use this transcript
Related transcript hubs
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS



