Thumbnail for Maulana Tariq Jameel most crying dua Very Emotional , Don't miss by Sazedul Islam Mollah

Maulana Tariq Jameel most crying dua Very Emotional , Don't miss

Sazedul Islam Mollah

22m 17s3,123 words~16 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]نہیں وہ اندر ائیں گے نہیں نہیں نہیں نہیں نہیں نہیں نہیں نہیں نہیں نہیں آپ لوگ باہر بیٹھو باہر بیٹھو میں کچھ نہیں کر سکتا باہر بیٹھو میں دعا مانگنے لگا ہوں بیٹھو سارے بیٹھو سارے بیٹھو سارے بیٹھو بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ ابھی دعا ہونے لگی ہے بیٹھ جاؤ ہمم بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ اللہم لک الحمد کما انت اہلہ فصلی علی سیدنا و مولانا محمد کما انت اہلہ و فعنا ما انت اہلہ انک اہلہ تقوی اہلہ مغفرہ یا من رفع السماء بقدرتہ وحل الارض بمشیتہ وخلق الخلائق بارادتہ واستوی علی العرش کما یلیق بجلالہ وعظیم سلطانہ یا احد الصمد الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد یا احد الصمد الذی لیس کمی مثلہ شیء وہو السمیع البصیر یا مالک الملک یا من توت الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء یا من بیدہ الخیر و علی کل شیء قدیر یا من هو یا من هو الاول والاخر والظاہر والباطن وهو بکل شی علیم اے زمین و اسمان کے شہنشاہ اے کائنات کے شہنشاہ اے بحر و بر کے شہنشاہ اے عرش و فرش کے شہنشاہ اے ترا سریہ کے شہنشاہ اے زمین اسمان کے بنانے والے تن تنہا مالک اے وہ رب جس کا شریک کوئی نہیں اے وہ رب جس کا جس کا سنگی کوئی نہیں اے وہ رب جس کا مشیر کوئی نہیں اے وہ اللہ جس کی جو بیوی سے پاک ہے اے وہ اللہ جو اولاد سے پاک ہے اے وہ اللہ جو زمان و مکان سے پاک ہے اے وہ اللہ جو مشرق و مغرب سے پاک ہے اے وہ اللہ جو شمال و جنوب سے پاک ہے اے وہ اللہ جو ہر حاجت سے پاک ہے اے وہ اللہ جسے زوال نہیں اے وہ رب جسے کسی نے نہیں بنایا اور تو نے سب کچھ بنایا اے میرے مالک اے میرے مالک ادھر دیکھ تو سہی اج تیرے کتنے حقیر فقیر ذلیل بندے بندیاں ہاتھ اٹھا کر تیری منت کرنے شب قدر میں ائے بیٹھے ہیں شب قدر میں تجھے منانے ائے بیٹھے تو ہم سے روٹھا ہوا ہے ہمیں پتا ہے ہواؤں کے تیور بدل گئے زمین اسمان کے تیور بدل گئے تو نے سمجھایا ہم نہ سمجھے تو نے روکا ہم کوئی نہ رکے تو بلاتا رہا ہم نے پلٹ کے نہ دیکھا تو سمجھاتا رہا ہم نے کانوں میں ڈاٹ دے لیے تو نے عبرت کے نمونے دکھائے ہم نے انکھوں پہ چشمے چڑھا لیے تو نے عبرت کے قصے سنائے ہم نے کان بند کیے میرے رب اے میرے رب ہمیں پتا ہے تیرا عرش پہلے اسمان پر ہے ہمیں پتا ہے تیری طرف سے اعلان ہو رہا ہے کہ اجاؤ مانگنے اجاؤ ہم اگئے دیکھو اج کروڑوں مرد عورت ہیں میرے مولا چھوٹے چھوٹے بچے بچیوں نے ہاتھ اٹھائے ہیں میرے مولا بوڑھوں نے جوانوں نے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں میرے مولا ٹوٹے دل والوں نے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں میرے مولا مظلومین کی کروڑوں کی تعداد نے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں میرے مولا غریبوں نے جھونپڑیوں میں ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں میرے مولا جو ایک وقت کی کھاتے ہیں اگلے دن کی ان کے بچے پوچھتے ہیں ابا روٹی اے میرے مولا اج بڑے فقیروں کا مجمع ایا ہے تو واحد شہنشاہ ہے جو فقیروں کو دیکھ کے خوش ہوتا ہے دنیا کے بادشاہ تو ناراض ہو جاتے ہیں دھکے دیتے ہیں دروازے بند کر دیتے ہیں تجھ سے نہ مانگیں تو تو ناراض ہوتا ہے لوگوں سے مانگیں تو وہ ناراض ہوتے ہیں اور تجھ سے نہ مانگیں تو تو ناراض ہوتا ہے تو کتنا پیارا ہے یا اللہ تو کتنا مہربان ہے یا اللہ تو کتنا اچھا ہے میرے اللہ تو کتنا اچھا ہے میرے اللہ تو اج کہہ رہا ہے اللہ اسے شب قدر بنا دے تجھے کیا لگتا ہے شب قدر گزر گئی ہے تو اس کی برکتیں عطا فرما دے اج ہم نے ہاتھ اٹھائے ہیں اج ہم تجھے راضی کرنا چاہتے ہیں جیسے بچہ ماں کے پاؤں میں پڑ جاتا ہے وہ ٹھڈے مارتی ہے کہتا ہے نہیں ماں معاف کر وہ پھر مارتی ہے کہتا ہے نہیں ماں معاف کر او میرے ربا مٹی کی بنی ہوئی ماں بھی پسیج کے نرم ہو جاتی ہے اور نافرمان اولاد کو گلے لگا لیتی ہے او میرے ربا یہ پیار تو تو نے ماں کے دل میں ڈالا اور تو خود پیار ہے تو خود پیار ہے تو خود پیار ہے تجھے اپنے گناہگاروں سے بھی پیار ہے میرے رب جب بھی تو ان کے گناہوں پہ پردے ڈالتا ان کی کمیوں کو چھپاتا ان کے درگزر کرتا جب بھی تو نے قران میں کہا اگر میں تمہیں پکڑتا تو تم سب کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتا تیرا کتنا کرم ہوا تو نے ہمیں انسان بنایا ہوا ہے ہمیں بندر نہیں بنا دیا ہمیں خنزیر نہیں بنا دیا اے میرے مولا اے میرے مولا جس نے ماؤں میں پیار رکھا تیرے اپنے اندر بندوں کے لیے کتنا پیار ہوگا اے میرے مولا تو نے جانور میں پیار رکھا تو خود اپنے بندوں سے کتنا پیار کرتا ہوگا یہ سارا مجمع اج تجھے منانے ایا ہے اجا میرے مولا تو بھی اجا تو بھی راضی کر تو بھی راضی ہو جا ہمیں ہمیں ان اندھیروں سے نکال لے ہمیں بھیڑ بکری کی طرح بیچا گیا ہمیں غیروں نے لوٹا ہمیں اپنوں نے لوٹا ہمیں اپنوں نے تباہ کیا روزانہ اخباروں میں بچیوں کی عزتیں نیلام ہوتی نظر پڑتے ہیں گردنیں کٹتی پڑتے ہیں معصوم بچوں کو بوریوں میں بند اخباروں میں پڑھتے ہیں یہ یہودی نہیں ائے یہ عیسائی نہیں ائے یہ ہمارے اپنے ہیں ہم تھک گئے ہیں میرے مولا جسے بچہ رو رو کے کہتا ہے نا اماں ہن میں تھک پیا ہوں تو میری گل سن لے میری من لے تیری عزت کی قسم یہ تھکے پڑے ہیں یا اللہ ہم تھک گئے ہیں میرے اللہ ہم تھک گئے اجا راضی ہو جا نا میرے مولا ارے عائشہ مسجد کے فرشتوں کدھر ہو ارے عائشہ مسجد کے فرشتوں کدھر ہو اجاؤ اجاؤ یہ مجمع رو رہا ہے تم بھی رو اج ہم نے رب منانا ہے اج ہم تجھے منانا چاہتے ہیں یا اللہ اللہ اللہ اے ہمارے اللہ اے ہمارے پیارے اللہ اے ہمارے محبوب محمد مصطفی کے اللہ سن رہا ہے نا تو ہم تجھ سے لاڈ کر رہے ہیں ضد بھی کر رہے ہیں لاڈ بھی کر رہے ہیں تیرے پاس نہ ائیں تو کہاں جائیں تجھے نہ منائیں تو اور کہاں جائیں نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی میرے جرم خانہ خراب کو تیرے عفو بندہ نوازی کو لوگ تو دھتکار رہے ہیں کوئی کافر کہہ رہا ہے کوئی گستاخ کہہ رہا ہے کوئی کچھ کہہ رہا ہے ہم تجھ سے پیار کرتے ہیں ہم تجھے گواہ بناتے ہیں لا الہ الا اللہ ہم تجھے گواہ بناتے ہیں محمد رسول اللہ اللہ ہم تجھ سے پیار کرتے ہیں لیکن ہم گناہگار ہیں ہم تیرے نبی سے پیار کرتے ہیں لیکن ہم گناہگار ہیں ہم جان بوجھ کے گناہ نہیں ہوتا ہو جاتا ہے پھر ہم پشمان بھی ہوتے ہیں الگ بیٹھ کے انسو بھی بہاتے ہیں تجھے راضی کرنے کی منتیں بھی کرتے ہیں میرے مولا اج کروڑوں انسانوں کی انسو بہا رہی ہیں اج کروڑوں فریادیں تیرے عرش کو ہلا رہی ہیں اج مان جا یا اللہ مان جا میرے رب مان جا میرے اللہ تو ائے گا تو کام بنے گا تیرے کرنے سے کام بنے گا تھک گئے ہم تھک گئے جیسے بچہ چل چل کے کہتا ہے ماں میں تھک پیا میںوں چا لا میںوں چا لا ہم بھی چل چل تھک گئے ہیں میرے مولا اپنی رحمت کی اغوش میں چھپا لے ساری دنیا کا باطل ہمیں ہی نشانہ بنا رہا ہے ساری دنیا کا باطل ہمارا ہی مذاق اڑاتے ہیں ہماری لاشوں پہ ناچتے ہیں ہمارے ہی گھروں کو جلاتے ہیں ہمارے ہی گھر بلڈوز ہوتے ہیں ہمارے معصوم بچوں کی لاشیں تڑپتے ہیں ہماری چھوٹے چھوٹے معصوم بچے مائیں بھیجتی ہیں سکول پڑھنے وہ چھلنی سینے لے کے واپس اتے ہیں ماں نے بھیجا سفید پوشاک پہنا کر اور وہ رنگین پوشاک میں گھروں کو واپس ائے یہ میرا دیس ہے تو اجا تو اجا ہمارے طاقتور تھک گئے ہمارے کمزور تھک گئے ہمارے مالدار تھک گئے ہمارے غریب تھک گئے یا اللہ ہمیں باطل کہتا ہے بلاؤ اپنے رب کو کدھر ہے تمہارا اللہ

[9:48]کدھر ہے کدھر ہے ہیں کائنات کے چھپے چھپے میں اس کے جلوے ہیں ہا ہا ہیں میری شرق سے زیادہ قریب ہیں میرے خون میں ہے میری بوٹیوں میں ہے میرے رب و رگ میں ہے میری روئے روئے میں ہے کائنات کے ذرے ذرے میں ہے میرا اللہ ہے میرا اللہ ہے مجھ سے روٹھ گیا ہے مجھ سے روٹھ گیا ہے میں اسے منا رہا ہوں میں اسے اج کروڑوں انسانوں کے ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں ہر گھر میں رونے والے بیٹھے ہیں رونے والیاں بیٹھے ہیں تیری منت کرتے ہیں مان جا یا اللہ بولا ہی نہیں جا رہا الفاظ ہی نہیں نکل رہے دعائیں یاد نہیں رہیں جیسے بچہ ہچکیوں پہ ا جاتا ہے رو رو تھک جاتا ہے گھٹنوں میں سر دے کے بیٹھا روتا ہے اج تیرے بے حس ہو گئی کہاں سے لائیں ابوبکر جیسے کہاں سے لائیں عمر عثمان علی جیسے ہائے تیرا عمر مسجد میں بیٹھا رو رہا تھا لوگوں نے پوچھا کیوں رو رہے ہو امیر المومنین کہا دجلہ کے کنارے کتا بھی پیاسا مرا تو عمر پوچھا جائے گا تو نے ہمیں کن کے حوالے کر دیا انہوں نے بھیڑ بکریوں کی طرح ہمیں بیچ دیا تو نے کون ہمارے اوپر بٹھا دیے یہ جن کا پیٹ بھرتا ہی نہیں ہے جن کی ہوس مٹتی ہی نہیں ہے میرے اللہ او محمد مصطفی کے اللہ اجا ہمیں اپنی رحمت کی چھاؤں میں جگہ دے دے ہمارے گناہ معاف کر دے ہم تجھ سے پیار کرتے ہیں تجھے گواہ بنا کر کہتا ہوں ہم تیرے نبی سے پیار کرتے ہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں ہم تیرے نبی کے صحابہ سے پیار کرتے ہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں ہم تیرے نبی کے گھرا حسن حسین سے پیار کرتے ہیں علی سے عباس جیسے ان کے گھر پہ مراثی ہیں نوکر ہیں ہمیں ان کے نوکروں میں جگہ دے دے ہم اپنے نوکروں کا خیال کرتے ہیں ہم تیرے حبیب کے در کے نوکر بننا چاہتے ہیں ان کے گھرانے کے نوکر بننا چاہتے ہیں ہمارے پاس عمل کوئی نہیں یہ خالی جھولی ہے یہ پھٹی ہوئی جھولی ہے زندگی گزری نیک بننے کی کوشش میں اج شام ہونے کو ہے نہیں بن سکے نہیں بن سکے ہمیں معاف کر دے ہمیں معاف کر دے ہمیں معاف کر دے معاف کر دے معاف کر دے کر دے نا معاف کر دے نا معاف کر دے نا یا اللہ ہمیں معاف کر دے نا یا اللہ تو کہہ دے میں نے کر دیا تو کہہ دے میں نے کر دیا تو کہہ دے میں نے کر دیا تو کہہ دے میں نے کر دیا ہے او ہم تیری دوزخ نہیں سہ سکتے ہائے ہم رسوائیاں نہیں سہ سکتے ہائے اللہ ارے او فرشتو اؤ ہم بھی حال ہے تم بھی انسو بہاؤ ہمیں میرا رب منا کے اٹھاؤ مان جا میرے اللہ مان جا میرے اللہ یہ معاف کرنے کی رات ہم نے سب کو معاف کیا ہم سب سے معافی مانگی تو بھی ہمیں معاف کر دے ہمیں دوزخ میں نہ ڈال نہ ہمیں رسوائی نہ دکھا نہ ہمیں ذلیل نہ کر نہ ہمارے گناہوں کو کسی کو پتا نہ چلنا یا اللہ ہم تیری محبت میں مرنا چاہتے ہیں ہمارے ہم تیری محبت میں مرنا چاہتے ہیں اے میرے اللہ ہم تجھ سے پیار کرتے ہیں ہم تیری محبت میں مرنا چاہتے ہیں ہمیں اس دل کو غیروں کی محبت سے نکال نہ کرنا چاہیے ہائے میرے رب ہائے میری بے قراری کو میرے ساتھیوں کی بے قراری او کروڑوں انسان مرد و عورتوں کی اس بے قراری کو قبول کر لے رحم کر دے رحم کر دے رحم کر دے اس دل کو اپنا عرش بنا دے اس دل کو اپنا عرش بنا دے اپنے اپنے حبیب کا پیار ڈال دے اپنے اپنے حبیب کا پیار ڈال دے ہمیں دنیا کی رسوائیوں سے بچا قبر کے جھٹکوں سے بچا قبر کے اندھیروں سے بچا میدان حشر کی ذلت و رسوائی سے بچا بڑی خوفناک گھاٹی اپ بتائی ہے تیرے قران نے جب جنت ائے گی دوزخ ائے گی تو ائے گا تیرا عرش ائے گا تو کہے گا آج مجرم الگ ہو جاؤ اوئے حال میں مر گئے میرے مولا تو نے مجرموں میں کھڑا کر دیا تو ہمارا کیا بنے گا نا کری میرے ربا نا کری میرے ربا نا کری نا کری میرے رب تینوں کیڑی تھوڑ ہے میرے ربا تینوں کیڑی تھوڑ ہے تینوں کیڑی تھوڑ تیری رحمت تیرے غصے تو اگا کھلوتی ہے میرے ربا تو خود کہہ رہا ہے ان رحمتی سب غضب میری رحمت میرے غصے سے اگے ہے ہمیں معاف کر دے میرے ساتھ جتنوں نے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں سب کو معاف کر دے میرے دیس کو خوبصورت دیس بنا دے اسے نفرتوں سے پاک کر دے اسے فرقہ واریت سے پاک کر دے اسے ظلم و ستم سے پاک کر دے میرے دیس کے ظالموں کو بھی ہدایت دے دے میرے دیس کے ڈاکوؤں کو بھی ہدایت دے دے میرے دیس کے قاتلوں کو ہدایت دے دے میرے دیس کے ظالموں کو ہدایت دے دے میرے دیس کے نافرمانوں کو ہدایت دے دے تیرے حبیب کے امتی ہیں تیرے حبیب کے امتی ہیں ان کے دلوں کو دھو دے ان کے دلوں کو پاک کر دے ہمارے دلوں کو اپنی محبت کے لیے چن لے چن لے چن لے اس دل میں کوئی اور نہ اجائے اے میرے رب اے میرے رب اے میرے رب اے میرے رب الفاظ ختم ہو گئے سمجھ میں نہیں ا رہا کیا کہوں کیا مانگوں لیکن تجھے سارا پتا ہے ہماری کیا ضرورتیں ہیں ہماری کیا خواہشیں ہیں راضی ہو گیا ہے نا ہو گیا ہے نا راضی تو کہہ دینا اسمانوں میں میں راضی ہو گیا ہوں کہہ دے نا یا اللہ میں راضی ہو گیا ہوں کہہ دے نا یا اللہ میں راضی ہو گیا ہوں میرے مولا کتھے تیری دوزخ اسی ساڑی معافی دے دے میرے مولا دنیا کی رسوائیوں سے بچا دنیا کی رسوائیوں سے بچا ہماری پردہ دری نہ کر پردہ پوشی فرما اخرت کی رسوائیوں سے بچا جہنم کی اگ سے بچا میرے مالک جنت الفردوس دے دے ہمیں اپنے حبیب کے انسوؤں کے طفیل دے دے اپنے حبیب کی اہوں کے طفیل دے دے یا اللہ حوض کوثر کا پانی دے دے حوض کوثر کا پانی دے دے جتنے لوگوں نے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں بیماروں کو صحت دے دے مقروں کے قرضے ادا کرا دے دکھیوں کے دکھ دور کر دے موزیاں امراض کے ہم مرض دور کر دے بچھڑوں کو ملا دے ٹوٹے دلوں کو اباد کر دے ٹوٹے دلوں کو اباد کر دے ٹوٹے دلوں کو اباد کر دے تجھ سے محبت کرتے ہیں ہمیں اپنی محبت کا ذائقہ چکھا دے چکھا دے چکھا دے میرے دیس کو رشوت سے پاک کر دے بدکاری کے اڈوں سے پاک کر دے یا اللہ سود سے پاک کر دے سود سے کھوٹ سے پاک کر دے شراب کے اڈوں سے پاک کر دے ظلم و ستم کو مٹا دے عورتوں میں پردہ زندہ کر دے مردوں میں حیا نوجوانوں میں پاکدامنی زندہ کر دے یا اللہ ہمارے حکمرانوں پر رحم فرما ہماری فوجوں پر رحم فرما ہمارے تاجروں پر رحم فرما ہمارے ذمہ داروں پر رحم فرما ہمارے مزدوروں پر رحم فرما ہماری عورتوں پر رحم فرما ہمارے مردوں پر رحم فرما ہمارے بچے بچیوں پر رحم فرما چاروں صوبوں اور پوری دنیا میں پوری امت پر رحم فرما پوری دنیا کے یہود کو ہدایت دے دے عیسائیوں کو ہدایت دے دے تہاریوں کو ہدایت دے دے ہندو سکھوں کو ہدایت دے دے ہم سب کے خیر خواہ ہیں ہم سب کے خیر خواہ ہیں ہمیں یا اللہ اس عالم کی ہدایت کا ذریعہ بنا دے ذریعہ بنا دے ذریعہ بنا دے یا اللہ ہمارے حکمرانوں کو رحم دل کر دے ہمارے قاضیوں کو عادل کر دے ہمارے تاجروں کو دیانت دار کر دے ہمارے مالداروں کو سخی بنا دے ہماری عورتوں کو حیا دار بنا دے ہمارے نوجوانوں کو غیرت مند بنا دے ہمارے غریبوں کو خوددار بنا دے چاروں صوبوں میں محبتیں پروان چڑھا دے یا اللہ ہم تجھ سے دنیا کی بھی خیر مانگتے ہیں اور اخرت کی بھی خیر مانگتے ہیں ہمیں موسم کی بارشیں عطا فرما بے موسم کی بارشوں سے بچا بے موسم کے طوفانوں سے طوفانوں سے بچا بے موسم کی اندھیوں سے بچا میرے مولا ہمیں نیک دل حکمران نصیب فرما رحم دل حکمران نصیب فرما یا اللہ اس اٹھے ہوئے ہاتھوں کو قبول فرما جو ایمان پہ تیرے پاس اگئے سب کی قبریں روشن فرما سب کی قبریں روشن فرما جب ہمارے جانے کا وقت ائے ہمیں ہم سے راضی ہو کر واپس بلا ہم سے راضی ہو کر واپس بلا ہم ایسے ائے تیرے پاس کہ تجھ سے ملنے کا شوق ہو تیرے اسمان سج جائیں تیری جنت کے در کھل جائیں تیرے حبیب استقبال تیرے حبیب کا تیرے حبیب کے در پر حاضری ہو تو ہمیں گلے سے لگائیں تیرے در بارگاہ میں حاضری ہو تو تو معافی کا پروانہ پکڑا ہے یہ ہمارے نصیب فرما یا اللہ تو ہماری اس مسجد محلے کو اباد فرما یہ جتنے کیمرے والے ائے انہیں ان کی نسلوں کو اباد فرما شاداب فرما خوشحال فرما نہال فرما جن جنہوں نے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں جو جو ان کے اندر میں تمنائیں تڑپ رہی ہیں تڑپ رہی ہیں اپنے خزانوں سے پوری کر دے پوری کر دے پوری کر دے پوری کر دے وصلی اللہ تعالی النبی الکریم یا اللہ اگر یہ شب قدر ہے تو اس کی ساری برکتیں ہمیں عطا فرما دے اس کی ساری برکتیں ہمیں عطا فرما دے اس کی ساری رحمتیں ہمیں عطا فرما دے اس میں تو بخشش کا اعلان کرتا ہے ہم سب کی بخشش کا اعلان کر دے جتنوں نے ہاتھ اٹھائے سب کی بخشش کا اعلان کر دے تو نے ہمیں یہاں اکٹھے بٹھایا ہمیں جنت میں بھی اکٹھے بٹھا نہ یا اللہ ہم جنت میں ایسے ہی اکٹھے بیٹھے ہوں تیری طرف سے جنت کا جام چل رہے ہوں کھانے چل رہے ہوں ہم سب کے یہ نصیب فرما ہمارے روزے بھی قبول فرما ہماری رات کی تراویح بھی قبول فرما ہماری عائشہ مسجد کی نہ تراویح قبول فرما تمام مساجد کی تراویح کو قبول فرما جو ہمارے ساتھی بیمار ہیں انہیں صحت عطا فرما یا ربنا یا غایت رغبتنا یا مالکنا یا مالکنا یا خالقنا یا رازقنا ما احسنکا ما اجمل کا ما اکمل کا ما ارفع کا ما اعذب کا ما اعلمکا ما احسنکا ما اجمل کا

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript