[0:00]ورلڈ ارڈر کی تبدیلی کی جانب پہلا بڑا قدم اٹھ چکا ہے۔ سعودیہ نے اغاز کر دیا ہے اور اب مشرق وسطی سے امریکہ کے نکلنے کا باضابطہ اغاز ہوا چاہتا ہے۔
[0:23]بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم میں ہوں مخدوم شاہاب الدین 14 اپریل 2026 منگل کا دن ناظرین کرام اس وقت ورلڈ ارڈر تبدیل ہو رہا ہے امریکہ اور ایران کی جنگ جب دوسرے ہفتے میں داخل ہوئی تب میں نے اپ کے سامنے ایک نقطہ رکھا تھا کہ اس جنگ کے بعد جب مؤرخ تاریخ لکھے گا تو وہ کچھ فیصلے سنائے گا۔ ان فیصلوں میں ایک فیصلہ یہ بھی ہوگا کہ اس جنگ میں درحقیقت اصل میں ہارا کون؟ کس کی شکست ہوئی؟ کس نے زیادہ نقصان اٹھایا؟ اور اس میں شاید امریکہ جو ہے وہ ایک لوزر کے طور پر ابھر کر سامنے ائے اور اب یوں لگ رہا ہے کہ اس کا باضابطہ اغاز ہو چکا ہے۔ میں ساری ڈیٹیلز جو ہے وہ اپ کے سامنے رکھتا ہوں لیکن اس سے پہلے اگر ابھی تک اپ نے اس ویڈیو کو لائک نہیں کیا لائک ضرور کر دیں کمنٹ سیکشن میں رائے کا اظہار بھی کیجئے گا چینل کو سبسکرائب کر لیں۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی اپ نے کمنٹ سیکشن میں ضرور لکھنا ہے۔ ناظرین کرام ایک جانب تو پاکستان کا پیس پروسیس ابھی جاری ہے اور جو اسلام اباد ٹاکس ہیں یہ کوئی ایک دن کا ایونٹ نہیں تھا یہ ایک لانگ ٹرم پروسیس ہے۔ اور اس وقت روئیٹرز سے لے کر اسوسیٹڈ پریس سب کو یہ کنفرمیشن ملی ہے کہ پاکستان اسٹیل ٹرائنگ کہ ایک اور راؤنڈ اف ٹاکس جو ہے وہ ہو جائے۔ ملٹیپل وینیوز کے حوالے سے بات ہو رہی ہے لیکن اویسلی سب کے اندر فیسیلیٹیشن پاکستان کی ہی ہوگی۔ تو اب اس سارے کے سارے سینریو میں اگر دو تین چیزیں جو ہیں وہ ہم نہ سمجھیں تو یہ غلط ہوگا۔ ناظرین کرام پاکستان اور سعودیہ کے درمیان ایس ایم ڈی اے کیوں سائن ہوا تھا پچھلے سال سٹریٹیجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ اس کی ضرورت پاک سعودی تعلقات دہائیوں پر محیط ہے ان کی اچانک ضرورت کیوں پڑی تھی اس کی وجہ بڑی سادہ تھی۔ قطر میں اسرائیل نے اپنے مخالفین پر ایک کیئر سٹرائیک کر کے انہیں مار دیا تھا۔ اور اس کے بعد پورا گلف ہل گیا اور انہیں ریلائز ہوا کہ یو ایس کی سیکیورٹی گارنٹیز شاید ناکافی ہو۔ وہ جو ایک شاید تھا سعودیہ نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور اپنے پاکستان سے بہترین برادرانہ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایس ایم ڈی اے سائن کر لیا۔ اب وہ جو اف سینڈ بٹس تھی کہ شاید امریکہ کی سیکیورٹی گارنٹیز ناکافی ہوں ایران جنگ میں وہ ایکسپوز ہو گیا امریکہ۔ امریکہ کے اڈے ان ممالک کی سرزمین پر انیشلی اس لیے تھے کہ یہ ممالک جو ہیں یہ محفوظ رہ سکیں کسی تھریٹ سے۔ لیکن امریکہ کے اڈے ان کے لیے ایسٹ کے بجائے لائبلٹی بن گئے میں شروع میں بات کرتا ایا کہ ایران جنگ کی وجہ سے امریکہ کو تین نقصانات اٹھانے پڑیں گے۔ ایک مڈل ایسٹ کے ممالک جو ہیں وہ الٹرنیٹس کی طرف جائیں گے امریکہ کا مڈل ایسٹ میں سے جو خاتمہ ہے امریکی پریزنس کا اس کی بنیاد ڈلے گی۔ دوسرا نیٹو میں دراڑ ڈلی ہے تو نیٹو کی گریٹ ڈائیورس بھی شاید اسی جنگ کی وجہ سے ہو جائے اور تیسرا یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی پاپولیرٹی جو ہے وہ نیچے جا رہی ہے اور نومبر میں مڈ ٹرم الیکشنز ہیں۔ ناؤ دیٹ از السو ون اف دا ریزنز کہ ٹرمپ اس جنگ سے ایگزٹ چاہتا ہے اسرائیل اس جنگ سے ایگزٹ نہیں چاہتا کیونکہ امریکہ اس سب کے اندر گھاٹے کا سودا کر بیٹھا ہے اور بہت زیادہ نقصان اٹھا بیٹھا ہے۔ اب ناظرین کرام سعودی عرب کے فارن منسٹر جو ہیں انہوں نے ایک بڑی امپورٹنٹ سٹیٹمنٹ دی ہے۔ اب اس سٹیٹمنٹ سے پہلے دو چیزیں سمجھیں۔ امریکہ کا بیس جو ہے پرنس سلطان ایئر بیس جو امریکہ کے کنٹرول میں تھا وہاں پر امریکہ کا اپنا تیارہ تباہ ہو گیا امریکہ نے عرب ممالک کا کیا دفاع کرنا تھا امریکہ عرب ممالک کی سرزمین پر اپنے اثاثوں کا اپنا دفاع نہیں کر پایا۔ تو یہ تو ایک متھ ٹوٹ گئی یو ایس کی نا ناقابل تسخیر ہونے کی۔ تباہی بہت بچائی ہوگی ایران نے لیکن ناقابل تسخیر کی متھ جو ہے وہ ٹوٹ گئی عرب ممالک جو ہیں وہ ری تھنک کرنے پہ مجبور ہو گئے پالیسی جو ہے۔ اب اس سینریو میں انٹری ہوتی ہے پاکستان کی بھی کیونکہ سعودی عرب نے ایران یو ایس ٹاکس کے دوران اپنے فائنینس منسٹر کو بھی بھیجا پاکستان کے لیے ایک فائنینشل پیکج فائنل ہو گیا۔ اس کے بعد اناؤنس کر دیا جب یہ ٹاکس ہو رہی تھی کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ جو ہے وہ ایکٹیویٹ ہو گیا ہے اور یہ دفاعی معاہدہ جو ہے اس کے اب جو ثمرات ہیں وہ انا شروع ہو چکے ہیں پاکستان کی ایئر فورس پاکستان کے فائٹر جیٹس پہنچ چکے ہیں سعودیہ کے دفاع کے لیے۔ اب پاکستان کے پرائم منسٹر اور فیلڈ مارشل اپنے دوروں کا اغاز سعودیہ سے کرنے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے ایک اور کمال یہ کیا کہ ایران اور سعودیہ کے درمیان برف بھی پگلی اور جب سے سیز فائر اناؤنس ہوا ہے اس کے بعد سے دو مرتبہ سعودی عرب کے فارن منسٹر جو ہیں فیصل بن فرحان شہزادہ فیصل بن فرحان کی عباس عراقچی سے گفتگو ہوئی ہے۔ اور یہ گفتگو بہت اہم ہے۔ اب اس سب کے اندر ایک چیز اپ ذہن میں رکھیے گا کہ فیصل بن فرحان جو ہیں انہوں نے سعودی عرب کی ایک پالیسی سٹیٹمنٹ جاری کی ہے جو کہ ڈائریکٹلی ہنٹ کر رہا ہے امریکہ کی طرف۔ اور اس میں پاکستان جو ہے وہ یہ گیپ فل کر رہا ہے یا نہیں یہ اپ خود اندازہ لگائیے گا۔ سعودی فارن منسٹر جو انہوں نے کہا ہے کہ ایر اف ریلائنگ ان ادر از اوور۔ یعنی دوسروں پر اپنے جو دفاع کے لیے یا کسی بھی چیز کے لیے ریلائی کرنا کا جو دور ہے وہ اب باضابطہ طور پر ختم ہو چکا ہے۔ اب یہ میسج جو ہے پوسیبلی اس کو ہنٹ کیا جا رہا ہے ٹورڈز یو ایس ود ڈرل فرام سعودی عرب یہ کوئی اوور نائٹ ایونٹ نہیں ہوگا لیٹس بی ویری اونسٹ ہیئر۔ یہ کوئی ایک رات میں نہیں ہوگا یہ اہستہ اہستہ وہ ایک گیپ بنے گا اور وہ گیپ جو ہے وہ کوئی اور ملک فل کرے گا۔ اس سب کے اندر ایون چائنہ کے ایئر ڈیفنس کی انٹری ہو سکتی ہے پاکستان تو الریڈی سعودیہ کے ساتھ ایس ایم ڈی اے سائن کر چکا ہے قطر بھی پاکستان کے ساتھ اس وقت کوئی ڈیفنس ایگریمنٹ کے لیے انٹرسٹڈ ہے۔ پاکستان سعودیہ اور ترکی الریڈی ان بورڈ ہے۔ اب پاکستان کے پرائم منسٹر کا شیڈیول بھی تبدیل ہوا سعودیہ کے بعد وہ قطر جائیں گے قطر کے بعد وہ ترکی جائیں گے اسلام اباد ٹاکس کا اگلا راؤنڈ بھی ہونے جا رہا ہے تو ایک تو پاکستان اور سعودیہ جو ہیں وہ ایران والے معاملے کے اندر بڑے بہترین انداز میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ بٹ ان دی ادر ہینڈ لیٹس بی ویری اونسٹ لیٹس بی ویری کلیئر اس وقت بہت کچھ جو ہے وہ تبدیل ہو رہا ہے اور بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور اس سچویشن کو اگر ہم سمجھیں تو اب میں اپ کو بتا دوں کہ بہت کچھ ہوگا۔ ان نیکسٹ فیو ڈیز سعودیہ عرب جو ہے نیکسٹ فیو ویکس سعودی عرب کے جو یہ پالیسی سٹیٹمنٹ ہے کہ اب دوسروں پر ہم نے ریلائی نہیں کرنا سعودی عرب اکنامیکلی کسی پر ریلائی کرتا ہے بہت مالدار ملک ہے بلکہ امریکہ سعودیہ کی انویسٹمنٹ پہ ریلائی کرتا ہے۔ ٹرمپ صدر بنتے ہی دوسری ٹرم میں عرب ممالک کا دورہ کیا اس نے کھربوں ڈالرز جو ہیں ان کی وہ پلیج لے کر گیا کہ انویسٹ ہوگا امریکہ میں اور وارے نیارے جا رہا تھا ٹرمپ لڈیاں ڈال رہا تھا ٹرمپ ساتویں اسمان میں تھا خوشیوں کے کہ بھئی بڑی انویسٹمنٹ ملی ہے۔ میں جب یہ بات کرتا ہوں کہ مڈل ایسٹ ارڈر تبدیل ہونا ہے وہ اس وقت رائٹنگ ان دا وال ہے نوشتہ دیوار ہے اور وہ سب کو نظر ا رہا ہے اور یاد رکھیے گا جب جب مڈل ایسٹ ارڈر تبدیل ہوتا ہے تب تب ورلڈ ارڈر تبدیل ہوتا ہے اور اب یوں لگ رہا ہے کہ عرب ممالک جو ہیں وہ ایران سے اپنی ڈائریکٹ سیٹنگ کر کے اپنے لیے ایک اور بہتر سیکیورٹی گارنٹی جو ہے وہ رکھ کر سامنے اس پورے کے پورے معاملے کے اندر چیزوں کو مختلف انداز میں لے کر چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور عرب ممالک کے اندر سے اگر امریکہ جاتا ہے تو ایران کا ویسے ہی ان کے ساتھ اختلاف ختم ہو جاتا ہے تو اس سب کے اندر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایران بھی انہیں یہ میسجنگ دے رہا ہو کہ بھئی اپ کی سرزمین سے امریکہ چلا گیا تو اپ ہمارے سے بھی گارنٹی لے لیں اپ ہمارے سے لکھوا لیں کہ ہمارا اپ سے کوئی پھڈا نہیں ہماری اپ سے کوئی لڑائی نہیں ہماری طرف سے اپ کے لیے ال از ویل۔ یہ بھی ایک باضابطہ پاسیبلٹی ہے کیونکہ ایران اس طرح کی سٹیٹمنٹس الریڈی دے چکا ہے کہ امریکہ کو مڈل ایسٹ سے نکل جانا چاہیے۔ تو اس سب کے اندر یہ گریجول پروسیس ہے لیکن وہی بات ہے کہ وہ جو ایک ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو ایک اغاز ہوتا ہے یوں لگ رہا ہے کہ اس سٹریٹیجک اغاز کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں بلکہ وہ ہو چکا ہے اور سعودی اب یہ جو ڈیفنس فیکٹ والی اناؤنسمنٹس پاکستان کے فائٹر جیٹس کی ویڈیوز سعودی سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے سعودی عرب کا میڈیا اس کے اوپر خوشیاں منا رہا ہے اور ابھی ایک بہت بڑے اکنامک پیکج کی اناؤنسمنٹ ہو رہی ہے ڈیفنس ایگریمنٹ کے ساتھ اکنامک پیکج کو لنک کیا جا رہا ہے کیونکہ اکنامک سیکیورٹی نیشنل سیکیورٹی کا جز ہے جس چیز میں سعودیہ لیک کر رہا ہے وہ ہم مدد کریں گے ہم لیک کر رہے ہوئے تو سعودیہ مدد کر دے گا۔ تو اس سارے سنریو میں اب جو چیزیں ہیں وہ ایک بڑے انٹرسٹنگ مرحلے کے اندر جا رہی ہیں اور سچویشن جو ہے وہ بڑی دلچسپ ہونے جا رہی ہے لیٹس بی اونسٹ ہیر اور اس سب میں پاکستان وہ گیپ فل کر رہا ہے۔ چائنہ اس سب میں ایک بہت بڑی اپرچونٹی لے کر میدان میں ائے گا اور شاید امریکہ کو بھی یہ بات ریلائز ہوئی اسی لیے امریکہ اب اس جنگ سے بھاگنا چاہ رہا ہے اور پاکستان بہترین انداز میں اپنی پالیسی کو لے کر چل رہا ہے اور نیویگیٹ کر رہا ہے اٹسیلف ا ویری بگ اچیومنٹ فار اسلامک ریپبلک اف پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے اور مڈل ایسٹ کے معاملات کی یہ جو گتھیاں ہیں یہ اب الجھیں گی نہیں یوں لگ رہا ہے کہ سلجھیں گی اور اس کے سینٹر پہ ہوگا۔ پاکستان اپنا بہت خیال رکھے اللہ نگہبان پاکستان زندہ باد



