[0:00]ایک وہ بندہ جب مرنے کے قریب تھا جیسا کہ اج کل بہت سارے لوگوں نے اپنے طور پر بھی فقیر بنا رکھے ہیں جب مرنے کے قریب تھا اس وقت تو اس بیچارے کو اپنی بیماری بھی سجھائی نہیں دیتی اور جب وہ مر جاتا ہے تو پھر وہ زندہ لوگوں کی جو ہے وہ مدد کرنا شروع کر دیتا ہے یہ کیسا عقیدہ ہے کہاں بھٹکتے پھرتے ہو اللہ رب العزت نے 200 مرتبہ قران مجید میں اس طرح کے مضمون کو بیان کیا
[0:20]جیسا کہ اج کل ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی اور سکسیس صرف یہ ہے کہ اپ کے پاس بہت سارا روپیہ پیسہ ہو اپ کے پاس جو ہے وہ بہت بڑی ویلتھ ہو اپ کی جو ہے وہ بڑا سٹیٹس ہو اپ کے پاس بہت چکا چون کرتی گاڑیاں اور بہت سارے بینگلوز ہوں فائدہ کیا ہے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کتنی ہی بستیاں جو اپنی معیشت کے اوپر اعتراعت تھے اللہ رب العزت کے نزدیک یہ چیزیں معنی نہیں رکھتی
[0:40]قارون کو اللہ رب العزت نے تمام چیزوں کے ساتھ تمام خزانوں سمیت تمام اس کے محلات کے سمیت اللہ فرماتے ہیں ہم نے زمین کے اندر غرق کر دیا اور کوئی اللہ رب العزت کے سوا اس کی مدد نہیں کر سکا
[1:00]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین رمضان المبارک میں خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری بیسویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم بیسویں پارے کے مضامین کا خلاصہ اپ کے سامنے پیش کریں گے
[1:23]اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور اپ سب کو رمضان المبارک کی ان بابرکت ساعتوں اور گھڑیوں میں قران مجید کو بہترین انداز سے سمجھنے عمل کرنے اور اس کو اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کے رمضانوں کو اللہ رب العزت اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بنائے
[1:40]بیسویں پارے میں جیسا کہ اس سے پہلے سورۃ النمل جو ہے وہ چل رہی ہے ابتداء میں کچھ حصہ سورۃ النمل کا ہے پھر اس کے بعد مکمل سورۃ القصص ہے اور اس کے بعد جو ہے وہ ابتدائی حصہ تقریبا ادھی سے کچھ زیادہ سورۃ العنکبوت ہے
[1:54]سورۃ النمل میں اللہ رب العزت نے ابتداء میں گزشتہ سے پیوستہ ایک مضمون جو ہے وہ اسی کو کنٹینیو کیا ہے پچھلی پچھلے پارے کی اخری ایت میں اللہ رب العزت نے فرمایا قل الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی ان سے کہ دیجیے تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے ہیں اور اس کی سلامتی ہو ان تمام بندوں کے اوپر جن کو اللہ رب العزت نے اپنے لیے چنا ہے اور ان کو اپنے برگزیدہ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے
[2:16]اللہ خیر ان سے پوچھیے کیا ایک اللہ رب العزت بہتر ہے یا وہ لوگ جن کو یہ اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ یا وہ جس نے اسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا تمہارے لیے اور جو ہے وہ تمہارے لیے اسمانوں سے پانی نازل کیا اور اس کے ذریعے اللہ رب العزت نے بڑے ہی بارونق باغات کو پیدا کیا
[2:47]تم اس قابل نہیں تھے کہ تم ان باغات کو پیدا کر سکتے کیا وہ اللہ رب العزت وہ زیادہ بہتر ہے یا پھر یہ اللہ رب العزت کے ساتھ جن لوگوں کو پکارتے ہیں وہ ایسا نہیں ہو سکتا اور اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے یا وہ اللہ رب العزت جو مجبوروں کی دعاؤں کو سنتا ہے جب مجبور اس کو پکارتے ہیں اور وہ زمین کے اندر نایب بناتا ہے کیا وہ اللہ رب العزت زیادہ بہتر ہے پھر بہت ہی کم لوگ ہیں جو اللہ رب العزت کے حوالے سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اس حوالے سے قران مجید کی یہ جو ایت ہے
[3:50]بعض مورخین نے دمشق کا ایک واقعہ لکھا ہے ایک شخص جو تھا وہ خچر پر لوگوں کو لے کر جایا کرتا تھا ان کو سواری کی سہولت فراہم کیا کرتا پرانے زمانے میں جیسا کہ اج کل ٹیکسز ہیں اور اسی طرح سے دیگر جو ٹریولنگ کے لیے اور جو ہے وہ ذرائع ہیں امد و رفت کے لیے تو اسی طرح سے وہ خچر کے ذریعے لوگوں کو ایک سے دوسری جگہ ڈراپ کیا کرتا تھا تو ایک دن اس کے ساتھ ایسا ہوا کہ کسی قاتل اور راہزن شخص جو ہے وہ اس کے ساتھ مسافر ہوا اور اس نے اس کو
[4:18]جو ایک نارمل راستہ تھا اس سے ہٹ کر اس نے ایک دوسرے راستے کی طرف سے اس کو جانے کا کہا اور اس راستے پر لے جا کر جب اس نے اگے جا کے دیکھا تو وہ ایک جو ہے وہ بڑا ہی بھیانک قسم کا جنگل تھا اور تھوڑا سا مزید جب اگے گئے تو وہاں پر لاشوں کے ڈھیر تھے اور اسی طرح سے بہت سے سارے لوگ جو ہے وہ خون میں لتپت پڑے تھے جس کا معنی یہ تھا کہ اب وہ شخص اس کو اپنی منزل پر لے ایا جہاں پر اس نے اس کو قتل کرنا تھا اور اسی طرح سے اس سے جو بھی سامان اس کا تھا وہ احتیا کر لے جاتا اس شخص نے اس کو کہا کہ مجھے صرف دو رکعت نماز ادا کرنے دو اور اب وہ خود اس نے بعد میں واقعہ بتایا وہ مورخین نے اس کو جو ہے وہ لکھا ہے بہت ساری کتابوں کے اندر یہ واقعہ موجود ہے وہ کہنے لگا کہ جب میں نے اس سے دو رکعت نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی تو اس کو اندازہ تھا کہ اب یہاں پر اس جنگل میں کوئی اس کی اواز سننے والا نہیں ہے یا کچھ نہیں کر سکتا اس کے ہاتھ میں تلوار تھی یہ نیہ تھا اس نے اس کو دو رکعت نماز ادا کرنے کی اجازت دی یہ کہنے لگا کہ مجھے کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ نماز کے اندر کیا پڑھوں کیونکہ سر پہ موت کی تلوار لٹک رہی تھی الغرض اس نے کیا کیا نماز پڑھنا شروع کیا اور صرف یہی اج جو ہے وہ اس کے ابتدائی الفاظ اس کی زبان پہ ائے کون ہے جو مجبوروں کی دعاؤں کو سنتا ہے جب اس کو پکارنے والے پکارتے ہیں اور مجبور شخص جب اس کو دعا جو ہے وہ اس کو پکارے اور اس سے دعا کرے اللہ رب العزت سے اور کون ہے جو غموں کو دور کرتا ہے اور کون ہے جو تمہیں زمین کے اندر نایب بناتا ہے کہنے لگا کہ بس میں یہی الفاظ ہی بار بار اپنی زبان پہ پڑھتا چلا گیا اچانک میں نے محسوس کیا کہ کچھ ہلچل ہے نماز کے دوران ہی اور جو ہے وہ اس ہلچل کے درمیان پھر میں نے کسی کے گرنے کی اواز جو ہے وہ سنی اور اس کے بعد میں نے کہنے لگا کہ جب مجھے تھوڑا سا جو ہے وہ کچھ مجھے حالات نارمل لگے تو میں نے سلام پھیرا سلام پھیر کر جب میں نے دیکھا تو وہ رہزن اور ڈکیت شخص جو تھا جو قاتل تھا وہ گرا ہوا پڑا تھا اور وہاں پر ایک جو ہے نا وہ وائٹ لباس میں ملبوس کوئی جو ہے وہ ہستی اور کوئی شخصیت تھی جو وہاں سے جو ہے وہ اسمانوں کی طرف جا رہی تھی تو میں نے اس سے پوچھا کہ اپ کون ہیں اللہ کے بندے اس جنگل میں تو مجھے کوئی امید نہیں تھی تو اس نے کہا کہ مجھے اس اللہ رب العزت نے بھیجا ہے جس کو تو نے ان تنہائیوں میں ان جنگلات میں اور جہاں پر کوئی کسی قسم کا سورس نہیں ہے یہاں پر جس اللہ رب العزت کو تو نے پکارا ہے مجھے اسی اللہ رب العزت نے تمہاری مدد کے لیے بھیجا ہے اور یہ اللہ رب العزت کی اسی طرح سے مدد ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے دوسرا اللہ رب العزت کے اوپر توکل اور بھروسہ کرتے ہیں تو یقینا اس اللہ رب العزت کے برابر کوئی نہیں ہو سکتا اس اللہ رب العزت کی اتنی نعمتیں اتنی اس کی قدرتیں ہیں اتنے اس کے جو ہے وہ مظاہر فطرت ہیں جو اس نے سب پیدا کیے ہیں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اللہ رب العزت کے سوا ایک ذرے کے برابر بھی اس کے اندر کسی معاملے میں اللہ تعالی کی جو تخلیقات ہیں اس کے اندر شریک ہو تو وہ اللہ رب العزت اس نے فرمایا کہ جو تمہیں اندھیروں میں خشکیوں میں اور اسی طرح سے تریوں میں یعنی سمندروں میں تمہیں ہدایت دیتا ہے تمہیں راستے دکھاتا ہے تمہیں جو ہے وہ رہنمائی کرتا ہے جو اپنی رحمت کے ساتھ جو ہے وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے تو کیا وہ اللہ رب العزت زیادہ بہتر ہے یا یہ جس کو اللہ رب العزت کے ساتھ یہ لوگ پکارتے ہیں وہ بہتر ہیں اللہ رب العزت ان تمام چیزوں سے بلند و برتر ہے جو اللہ رب العزت کے ساتھ یہ پکارتے ہیں اسی طرح سے اللہ رب العزت نے مزید اپنی کچھ قدرتوں کا یہاں پر ذکر کیا ہے اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اللہ رب العزت جو ابتداء سے مخلوقات کو پیدا کرتا ہے پھر اس کو واپس لوٹائے گا یعنی ریپیٹ کرے گا یعنی فوت ہو جائیں گے جیسے ارشاد فرمایا کہ جس اللہ رب العزت نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں فوت کرے گا پھر ونس اگین تمہیں ان دا ڈے اف ججمنٹ ہیر افٹر جو ہے وہ تمہیں پھر سے وہ اللہ رب العزت زندہ کرے گا تو وہ اللہ رب العزت تمہیں پھر سے ریپیٹ کرے گا جب اس کے لیے پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل نہیں ہے تو اگین اس کو پیدا کرنا تمہیں کیسے مشکل ہو سکتا ہے کہہ دیجیے اگر تمہارے پاس اللہ رب العزت کے علاوہ جن کو تم پکارتے ہو ان کے لیے کوئی دلیل ہے تو لا کر پیش کرو یہ سب کچھ تو وہ ہے جو اللہ رب العزت نے پیدا کیا تو کون سی ایسی چیز ہے جو تمہارے ان معبودوں نے پیدا کی ہے تو کوئی اس بات کی دلیل نہیں ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے مزید جو ہے وہ ارشاد فرمایا ایت نمبر 69 ہے سورۃ سورۃ النمل کی ان سے کہیے کہ زمین کے اندر چلو اور چل کے دیکھو کہ وہ قومیں جن کے حالات ہم نے تمہارے سامنے رکھے ہیں جب انہوں نے جرم کیا تو ان کا انجام کیسا ہوا لیکن ان لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں انے والی پھر اللہ فرماتے ہیں ایت نمبر 71 میں یہ کہتے ہیں یہ قیامت کب ائے گی اگر تم سچے ہو تو انبیاء سے کہتے ہیں ذرا بیان کرو تو اللہ نے ارشاد فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ان سے کہہ دیجیے کہ بعض مرتبہ وہ چیز بہت ہی قریب ہوتی ہے اور عنقریب ہے کہ وہ قیامت تمہیں ان پہنچے جیسے کہ اللہ نے فرمایا قیامت تو قریب ا چکی ہے لوگوں کا وقت قریب ان پہنچا ہے لیکن لوگ اس کے باوجود اس سے غافل بھی ہیں اعراض بھی کیے ہوئے ہیں تو اس کے بعد اللہ رب العزت نے بنی اسرائیل کے حوالے سے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ایت نمبر 76 میں یہ قران مجید جو ہے وہ ان بنی اسرائیل کے اختلافات کا قصے بیان کرتا ہے جن چیزوں کے اندر انہوں نے جو ہے وہ کنٹروورسی کا شکار ہوئے اللہ رب العزت کے بارے میں اختلاف کیا انبیاء کے بارے میں اختلاف کیا انبیاء کو قتل کیا بہت سارے عقائد اپنے پاس سے گھڑ لیے تو تورات انجیل کو چھوڑ دیا وہ سب اللہ رب العزت نے ان کے جو عقائد ہیں ان کا بیان کیا اور فرمایا اللہ رب العزت یہ قران مجید ان کے ان اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اس کے باوجود ہمارے کچھ لوگ ایسے ہیں اللہ ان کو ہدایت نصیب فرمائے کہ وہ اس قران مجید کو ہی باعث نزا بنا دیتے ہیں یعنی اسی کی ایات کے ہی معنو مفہوم کو بدل کر وہی کام کرتے ہیں جو بنی اسرائیل نے کیا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 80 میں یقینا اپ کبھی بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے نیور اٹ از امپوسیبل کہ مردے سنتے ہوں اور کبھی بھی جو ہے وہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ وہ تمہاری دعاؤں کے اوپر اواز نہیں دے سکتے اور اسی طرح سے اللہ رب العزت نے یہاں خاص طور پہ جو ہے وہ ان کے حوالے سے بھی فرمایا جو کہ کفار ہیں وہ بھی مردوں کے جیسے ہیں اللہ فرماتے ہیں کہ وہ بھی تمہاری اواز کو کبھی وہ کبھی تمہاری جو ہے وہ اس کو زبان جیسے مردے نہیں سنتے اسی طرح سے ان کو بھی یہ بات نہ صرف سجھائی نہیں دیتی سمجھ ہی نہیں اتی بلکہ ان کو سنائی بھی نہیں دیتی یہ بھی مردوں ہی کی مانند ہیں مردوں کے سننے کے حوالے سے قران مجید نے کلیئر کٹ الفاظ میں یہاں پر بھی اور سورہ جو ہے وہ روم میں بھی یہ بات ارشاد فرمائی ان اللہ فرماتے ہیں اپ مردوں کو کبھی نہیں سنا سکتے ایک تو بات یہ سمجھ ائی کہ کفار بھی مردوں کی طرح ہے صرف وہی زندہ ہوتے ہیں جیسے اللہ فرماتے ہیں جو اللہ تعالی کی بات پر لبیک کہتے ہیں وہ زندہ ہوتے ہیں اور جب زندہ نہیں ہوتے جو لبیک نہیں کہتے وہ سب مردوں کی طرح ہیں ان کو اللہ تعالی قیامت والے دن اٹھائیں گے دوسری بات یہ ہے کہ مردے قبروں میں نہیں سنتے یہ اللہ تعالی نے کلیئر کٹ الفاظ میں ارشاد فرمایا اس کے بعد میرے اور اپ کے لیے کوئی معنی نہیں ہے کہ ہم تاویل کریں ہم حجت نکال لیں ہم کچھ اور کریں جہاں تک مسئلہ انبیاء کا ہے جہاں تک ہم مسئلہ شہداء کا ہے اللہ رب العزت ان کی شہادتیں قبول فرمائے جہاں تک مسئلہ دیگر ان نیک لوگوں کا ہے جن کی قبروں کو اللہ رب العزت نے باغیچے بنا رکھا ہے تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا وہ زندہ ہیں بھی تو تم اس کا شعور نہیں رکھتے تو ان کی زندگی کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے ایسا نہیں ہے کہ تم ان کو سنا سکتے ہو وہ تمہاری باتوں کا جواب دیں گے اللہ فرماتے ہیں اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری پکار کو سنتے نہیں ہیں اور اگر وہ سن لیں تو کبھی جواب نہیں دے سکتے وہ عالم برزخ میں ہیں وہ اس دنیا سے ان کا کنیکشن ختم ہو چکا ہے ایک وہ بندہ جب مرنے کے قریب تھا جیسا کہ اج کل بہت سارے لوگوں نے اپنے طور پر بھی فقیر بنا رکھے ہیں جب مرنے کے قریب تھا اس وقت تو اس بیچارے کو اپنی بیماری بھی سجھائی نہیں دیتی اور جب وہ مر جاتا ہے تو پھر وہ زندہ لوگوں کی جو ہے وہ مدد کرنا شروع کر دیتا ہے یہ کیسا عقیدہ ہے کہاں بھٹکتے پھرتے ہو اللہ رب العزت نے 200 مرتبہ قران مجید میں اس طرح کے مضمون کو بیان کیا جہاں تک مسئلہ قلیبے بدر کے جو ہے وہ ان لوگوں کا بات سننا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بدر کے کنویں میں کفار جو ہے وہ ان کی لاشوں کو پھینکا گیا 70 کے قریب جو کفار اس میں مرے تھے ان کی لاشوں کو جب اس میں پھینکا گیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اللہ کے وعدے کو سچا پایا تو صحابہ نے پوچھا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ سن رہے ہیں تو اپ نے فرمایا ابھی یہ سن رہے ہیں اور سیکنڈ بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے اپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اپ کے اندر نبیوں والی صفات نہیں ہیں کسی بھی انسان کے اندر اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو پکارنا تو زجر و توبیہ کے لیے ہے اور ہمارے جو لوگ مردوں کو پکارتے ہیں وہ تو ان سے مدد مانگنے کے لیے پکارتے ہیں اور اللہ رب العزت رحم فرمائے اللہ کے برابر ہی ان کو قرار دیتے ہیں جبکہ اللہ تعالی کی اتنی صفات ہیں جن کا اللہ نے تذکرہ کیا اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 82 میں یہ بات ارشاد فرمائی جب قیامت قریب ا جائے گی قیامت واقع ہو جائے گی تو اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ان کے اوپر ایک ایسا جانور جو ہے وہ زمین سے پیدا کریں گے جو جانور لوگوں سے باتیں کرے گا لوگوں کے ساتھ ہم کلام ہوگا لوگوں کی زبان میں انسانوں کے کلام کی طرح وہ کلام کرے گا سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا اور دعوۃ الارض اور سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ان میں سے کوئی بھی نشانی پہلے ظاہر ہو جائے ان دونوں میں سے تو اپ نے فرمایا کہ اس کے بعد کسی بھی شخص کا ایمان اس کو فائدہ اور نفع نہیں پہنچائے گا اس کے بعد اپ نے فرمایا کہ اس کے بعد جو نشانیاں نزول ابن مریم عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا دوبارہ دنیا کے اندر تشریف لانا یاجوج ماجوج کا جو ہے وہ پیدا ہونا مشرق اور مغرب اور جزیرہ عرب یہ تین مقامات ہیں مشرق مغرب اور جزیرہ عرب یہاں سے جو ہے وہ زمین کا دھنس جانا اور اسی طرح سے یمن کی طرف سے ایک بہت بڑی اگ کا پیدا ہونا جو لوگوں کو وہاں سے اکٹھا کر کے ہانکھتی ہوئی وہ اگ جو ہے وہ لوگوں کو میدان محشر کے اندر جو کہ میدان عرفات میں قائم ہوگا وہاں پر لوگوں کو ائے گی تو یہ 10 نشانیاں ہیں جن کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہے وہ تذکرہ فرمایا فرمایا کہ اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی جب تک یہ 10 بڑی بڑی نشانیاں جن کو علامات کبرہ کہا جاتا ہے یہ لوگوں کے اوپر ظاہر نہ ہو جائیں اس کی مزید تفصیلات جو ہے وہ احادیث کی کتب کے اندر دیکھی جا سکتی ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ایت نمبر 87 میں قیامت والے دن جب سور پھونکا جائے گا صاد اور واو اور را یہ تین حروف کے ساتھ یہ لفظ ہے سور پھونکا جائے گا یہ ایک نفخہ ہے جو اسرافیل علیہ الصلوۃ والسلام کے منہ میں جو ہے وہ ایک سمجھ لیجیے کہ ایک ایسا جو ہے نا وہ ایسی ایک ڈیوائس ہے ایسا جو ہے نا وہ ایک اعلی ہے جس کے اندر وہ بڑے زور سے پھونک ماریں گے اور اس کی وجہ سے وہ اتنی شدید قسم کی اواز پیدا ہوگی کہ وہ دو سور جو ہے وہ قیامت والے دن پھونکے جائیں گے پہلا وہ ہوگا جس کی وجہ سے تمام کے تمام لوگوں کے اوپر ایک شدید قسم کی گھبراہٹ پیدا ہوگی اور لوگ جو ہے وہ ختم ہو جائیں گے اور دوسرا سور جب پھونکا جائے گا تو اس میں تمام کے تمام لوگ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اللہ رب العزت کے سامنے میدان محشر میں پیش ہو جائیں گے تو یہ سور کا پھونکا جانا جو ہے وہ قیامت کی جو ہے وہ یہ قیامت قائم ہونے کے بعد ہے یعنی جب قیامت قائم ہو جائے گی تو اس کے بعد جب علامات کبرہ گزر جائیں گی تو اس کے بعد یہ سور پھونکا جائے گا اور اس طرح سے اللہ رب العزت تمام لوگوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں قیامت کی گھڑی اتنی خطرناک ہوگی کہ یہ پہاڑ جو اپ کو اس وقت مضبوطی میں ایک سائن اور مثال کے طور پر نظر اتے ہیں یہ چل پڑیں گے اور اپ کو لگے گا کہ یہ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے ہیں اور اللہ رب العزت نے دوسری جگہوں پر ارشاد فرمایا کہ یہ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھونی ہوئی روئی ہوتی ہے اس طرح کی کیفیت ہو جائے گی اللہ رب العزت ہمیں قیامت کی جو ہے وہ ان ہولناکیوں سے محفوظ رکھے اللہ رب العزت ہمیں بغیر حساب کے جنت میں لے جائے اس کے بعد اللہ نے فرمایا جو نیکی کرتا ہے اس کے لیے وہ بہت ہی بہتر ہے اور وہ قیامت والے دن جو ہے وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے امن میں ہوں گے اور جو کوئی برائی کرتا ہے تو ان لوگوں کو الٹا کر کے اوندھے منہ کو جہنم کی اگ کے اندر پھینک دیا جائے گا اج جو تمہیں بدلہ دیا جا رہا ہے یہ تمہارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اس میں اللہ رب العزت نے کسی بھی شخص کے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا ہے اس کے بعد سورۃ القصص ہے اپنے نام سے واضح ہے قصص جو ہے وہ جس کا معنی اللہ رب العزت نے بہت سارے قصے انبیاء کے اس صورت کے اندر بیان فرمائے ہیں ابتداء میں ایت نمبر تھری سے لے کر ایت نمبر 48 تک اس میں بہت ساری تفصیلات کے ساتھ جو ہے وہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا قصہ ہے جس میں اللہ رب العزت نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو فرعون کی طرف مبعوث فرمایا اس کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا اس کا ذکر ہے ایت نمبر فور میں اللہ نے فرمایا کہ فرعون جو ہے وہ اپنے علاقے کے اندر بہت متکبر تھا بہت جو ہے وہ اپنے اپ کو بلند و برتر سمجھتا تھا اور اس نے جو ہے وہ بنی اسرائیلیوں کے اوپر بہت سارے مظالم ڈال رکھے تھے ان کے بچوں کو قتل کر دیتا ان کی بچیوں کو زندہ چھوڑتا یہ بات دو مرتبہ ریپیٹ ہوئی ایک مرتبہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے تشریف لانے کے بعد اور ایک مرتبہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش سے پہلے جب پیدائش اپ کی ہوئی تو اس وقت بھی انہی حالات میں ہوئی کہ اس وقت بھی بچوں کو قتل کیا جا رہا تھا اور ایک مرتبہ جب موسی علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہ ان کے سامنے اپنا دین پیش کیا اور یہ لوگ ہار گئے تو دوبارہ پھر سے انہوں نے اسی چیز کو پھر سے اگین ریپیٹ کیا اس وقت دوسرا فرعون تھا پہلے جو ہے وہ فرعون کا والد تھا اور سیکنڈ پہ جو ہے وہ جس کو ریمیسز ٹو کہا جاتا ہے یہ والا فرعون تھا جس کے سامنے موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی نبوت کو جا کر پیش کیا تو یہ دو مرتبہ یہ چیز ریپیٹ ہوئی اس کے بعد اللہ رب العزت نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ذکر کیا جو موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش ہوئی تو اس وقت بھی بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کیا جا رہا تھا بیٹیوں کو زندہ چھوڑا جا رہا تھا تو اللہ رب العزت نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ کی طرف وحی کی یعنی القاع کیا میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ اللہ رب العزت نے کسی بھی خاتون کو نبی بنا کر نہیں بھیجا یہ اللہ تعالی کا وحی کرنا اللہ تعالی کی طرف سے القاع کرنا ہوتا ہے تو موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ کی طرف اللہ رب العزت نے جو ہے وہ یہ القاع فرمایا کہ اپ جو ہے وہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک تابوت میں بند کریں اور اس تابوت کو دریا برد کر دیں وہ دریا جو ہے وہ اس کا بہاؤ فرعون کے محل کی طرف تھا فرعون جو ہے وہ اپنی بیوی اسیہ علیہ الصلوۃ والسلام جو ایمان لے ائی تھیں مسلمان ہو گئی تھیں ان کے ساتھ ہی اللہ رب العزت کی مرضی ہے لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی بیوی کو اللہ تعالی کی طرف سے ایمان لانے کی توفیق نہیں ملتی اور فرعون کی بیوی جو ہے وہ دنیا جہان کا جو سب سے بڑا بدترین ادمی تھا اس کی بیوی اس کے گھر کے اندر ایمان والی بن جاتی ہے یہ اللہ رب العزت کی توفیق ہے اپ جس کو پسند کرتے ہیں اپ اس کو ہدایت نہیں دے سکتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے لیکن اللہ رب العزت جس کو چاہتے ہیں ہدایت نصیب فرماتے ہیں تو بہرحال وہ اپنی بیوی اسیہ کے ساتھ جو ہے وہ اسی دریا کے کنارے بیٹھا جو ہے وہ انجوائے کر رہا تھا تو وہیں پر ایک تابوت نظر ایا اس تابوت کو پکڑا اس میں سے جو ہے وہ دیکھا تو ایک بچہ تھا اور اتفاق سے ان کے پاس اولاد نہیں تھی اس وقت تو انہوں نے کہا کہ ہم کیوں نہ اس کو اپنا بچہ ہی بنا لیں اور اس کی بیوی نے کہا فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ تو انکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرو ہو سکتا ہے کہ یہ بڑا ہو کر ہمیں فائدہ پہنچائے ہم اس کو اپنی اولاد ہی بنا لیں اللہ فرماتے ہیں ان کو نہیں پتا تھا کہ یہی بیٹا جس کو بنایا جا رہا ہے یہی موسی علیہ الصلوۃ والسلام بڑے ہو کر فرعون کے تخت کو تاراژ کر دیں گے اور اللہ رب العزت نے جو ہے وہ ادھر سے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ پریشان تھیں انہوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ وہ جو ہے وہ پیچھا کرتے ہوئے جائے اور دیکھے کہ وہ تابوت کہاں جاتا ہے اس نے دیکھا وہ تو فرعون کے محل میں چلا گیا پریشانی بھی ہوئی کہ اچانک یہ کیا ہو گیا جس سے ہم بچانا چاہتے تھے جو بچوں کو قتل کر رہا تھا وہیں پر جو ہے وہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ تابوت جو ہے وہ جس کے اندر اپ اس صندوق کے اندر بند تھے وہ وہیں پر پہنچ گیا ہے اب اللہ رب العزت نے وہاں سے ایک سٹوری کو جو ہے وہ ایک سمجھ لیجیے کہ ایک جو ہے وہ ٹوسٹ سٹوری کے اندر اتا ہے کہ اسی موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو فرعون کے گھر سے اللہ رب العزت نے واپس موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ کی طرف لوٹا دیا اللہ فرماتے ہیں اور اپ نے فرمایا کہ میں اپ کا ساتھ دیتا ہوں جب اپ علیہ الصلوۃ والسلام ابراہیم جو ہے وہ اتش نمرود سے اللہ تعالی نے اپ کو نجات عطا فرمائی تو اس کے بعد لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے اللہ رب العزت نے اپ کی مدد فرمائی انہوں نے اسلام قبول کیا اور لوط علیہ الصلوۃ والسلام بعض روایات کے مطابق ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے بھتیجے تھے اور بعض تفسیری روایات کے مطابق اپ کے چچا زاد تھے بہرحال اپ کا زمانہ ایک ہی ہے جیسا کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو خوشخبری دینے والے بیٹے کی خوشخبری دینے والے فرشتے وہی لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم پر عذاب لے کر گئے تھے جس کا تذکرہ سورہ ہود کے اندر موجود ہے تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام پر لوط علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہ ایمان لائے پھر اللہ رب العزت نے ان کی قوم کا تذکرہ کیا ہے وہ جیسا کہ رستوں میں بیٹھتے لوگوں کو پریشان کرتے نوجوانوں کے ساتھ جو ہے وہ غلط کاریاں کرتے اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو سمجھایا لیکن وہ سمجھنے کی طرف نہیں ائے بلکہ ان کو فرمایا کہ تم لوگوں کو رستے میں پریشان کرتے ہو اور جو ہے وہ لوگوں کی مجلسوں کے اندر جو ہے نا وہ تم ایسی ایسی مجلسیں تم قائم کرتے ہو جن کا قائم کرنا گناہ کی بات ہوتی ہے لیکن ان لوگوں نے لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی ہی ذات کے دشمن بن گئے اللہ رب العزت نے جو ہے وہ لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی مدد فرمائی اپ کو اور کچھ ایمان والے جو تھے ان کو نجات عطا فرمائی اور باقی سب لوگوں کو اللہ رب العزت نے پتھروں کا عذاب بھیج کر دنیا سے ختم فرما دیا اس کے بعد اللہ رب العزت نے مزید جو ہے وہ اگے شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کا تذکرہ کیا ہے اور شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی طرح سے اپنی قوم کو سمجھایا اے لوگوں اللہ رب العزت کی عبادت کرو اخرت کے دن کی امید رکھو زمین کے اندر فساد نہ مچاؤ ان لوگوں نے بھی شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلا دیا اور اللہ رب العزت نے ان کو بھی عذاب کا شکار کیا اور اللہ فرماتے ہیں ان کو ایک شدید قسم کے زلزلے نے پکڑا اور اس طرح سے اللہ رب العزت نے ان کو اوندھے منہ گرایا اور ان کے اوپر اللہ رب العزت نے عذاب نازل کیا قوم عاد اور قوم ثمود کا اللہ رب العزت نے اسی طرح سے تذکرہ کیا ہے پھر قارون فرعون اور حامان کا تذکرہ کیا ہے قارون اور حامان دونوں فرعون کے جو وزیر تھے اور فرعون جو ہے وہ ان کا بادشاہ تھا اللہ نے ان کا تذکرہ کیا ہے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے اور جو ہے وہ اللہ رب العزت نے ان کو غرق کرنے کا تذکرہ کیا ہے پھر اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 40 میں اللہ تعالی کی پکڑ کے مختلف طریقے ہیں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں سے سب لوگوں کو ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کی پکڑ فرمائی اور جیسے اللہ رب العزت فرماتے ہیں اللہ انہیں چاہتا تو ان کو پکڑ لیتا اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا کہ یہ نہ سمجھ سکیں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ جو لوگ اس کے بعد ہم نے وارث بنائے ہیں وہ کیا سمجھتے ہیں کہ اب ہم ان لوگوں کو پکڑنے پر قادر نہیں ہیں جیسے پہلے ہم نے لوگوں کو گناہوں کی بدولت پکڑا تو اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے کچھ کے اوپر ہم نے پتھروں کی بارش نازل کی کچھ لوگوں کو ہم نے زوردار قسم کی چیخ کے عذاب نے ان لیا کچھ لوگوں کو ہم نے زمین کے اندر دھنسا کر غرق کر دیا اور کچھ لوگوں کو ہم نے غرق کر دیا جیسے فرعون اور اس کی قوم کے لوگ تھے اور اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتے بلکہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالی نے ایت نمبر 41 میں جو ہے وہ مشرکین کی اور ان کے اعمال کی مثال بیان فرمائی ہے اللہ فرماتے ہیں جو اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو پکارتے ہیں ان کو اپنا معبود سمجھتے ہیں ان کی مثال تو ایسے ہے جیسے مکڑی کا جالا ہوتا ہے مکڑی کا جیسے گھر ہوتا ہے جیسے ہوتا ہے اپ ہاتھ لگائیں تو وہ گھر ختم ہو جاتا ہے اپ کپڑے کے ساتھ جھاڑیں تو وہ گھر ختم ہو جاتا ہے اپ اس کے اوپر جو ہے وہ پھونک مار دیں تو وہ گھر ختم ہو جاتا ہے تو یہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں جو اللہ کے سوا لوگوں کو پکارتے ہیں ان کے اعمال ان کے عقائد ان کے ساری کی ساری زندگی اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے یہ عنکبوت کا گھر ہے جیسے یہ مکڑی کا گھر ہے اسپائڈر ہاؤس ہے جیسے اس کو پھونک سے ختم کر دیا جائے گا قیامت والے دن ان لوگوں کے عقائد ان کے اعمال ان کی عبادات ان کی زندگیاں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی اللہ رب العزت ہمیں اللہ رب العزت کے ساتھ سچا ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں اللہ نے اسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے یقینا اس کے اندر ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اللہ سے دعا ہے کہ جو کچھ میں نے اپ کے سامنے بیان کیا مجھے اور اپ سب کو سمجھنے عمل کرنے اور اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے استغفر اللہ العظیم ولکم والمسلمین والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



