[0:00]اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کے دین کے لیے کھڑے ہوا جائے جو لوگ اللہ کے دین کے لیے کھڑے ہیں ان کو سپورٹ کیا جائے اللہ رب العزت کے دین کے جو پریچرز ہیں جو تبلیغ کرنے والے ہیں مبلغین ہیں ان کو سپورٹ کیا جائے ورنہ اللہ تعالی کی مدد کی کوئی گارنٹی نہیں ہے امام مالک رحمہ اللہ بڑی خطرناک بات ارشاد فرماتے ہیں فرماتے ہیں کہ ہر وہ بندہ جو کوئی ایسا عمل کرتا ہے جو شریعت سے ثابت نہیں ہے اور اس کو پھر بھی ثواب اور نیکی سمجھ کر کرتا ہے اور اس کو شریعت کا درجہ دیتا ہے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خیانت کا الزام لگاتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا دین ہمیں نہیں پہنچایا علیا اس بلال من زادک اسلام ظاہری اعمال کا نام ہے جیسے نماز روزہ حج زکات ہے اور ایمان جو ہے وہ اصل میں انسان کے دل کی کیفیت کا نام ہے دل کے عقیدے کا نام ہے دل کی فرمابرداری کا نام ہے
[0:58]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین آج انشاء اللہ تعالی رمضان المبارک میں خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے ہماری چھبیسویں نشست ہے جس میں انشاءاللہ تعالی ہم چھبیسویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر جائزہ آپ کے سامنے رکھیں گے چھبیسویں پارے میں سب سے پہلے سورۃ الاحقاف ہے پھر سورۃ محمد ہے پھر سورۃ فتح ہے پھر اس کے بعد سورۃ الحجرات ہے پھر سورۃ قاف ہے اور سورۃ ذاریات کا تقریبا آدھا حصہ اس میں شامل ہے سب سے پہلے سورۃ الاحقاف ہے سورۃ الاحقاف میں یہ مکی سورہ ہے اللہ رب العزت نے ابتداء میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ حم تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم یقینا اللہ رب العزت نے کی طرف سے یہ کتاب نازل کردہ ہے جو بڑا ہی غالب اور حکمت والا ہے اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو جو پیدا کیا ہے اور جو کچھ بھی اس کے درمیان ہے یہ سب حق کے ساتھ ہے اور ایک وقت مقررہ تک ہے جب اللہ رب العزت چاہیں گے اس وقت یہ ختم ہو جائے گا اور جو کافر لوگ ہیں وہ جن چیزوں سے ان کو ڈرایا جاتا ہے وہ اس سے اعراض کرنے والے ہیں اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں آیت نمبر فور میں کہ قل رايتم ما تدعون من دون الله ما خلوقا من ال في السماوات کیا تم کوئی ایسی پہلی دلیل یا کوئی ایسی علمی کتاب اسمان سے نازل ہونے والی اس سے پہلے کی کوئی دکھا سکتے ہو
[2:22]جس کے اندر یہ لکھا ہو کہ جو تم اپنے اللہ تعالی کے ساتھ جن کو تم شریک کہلاتے ہو ان کا کہیں نہ کوئی وجود ہے ان کے بارے میں کوئی ایسی دلیل تمہارے پاس اگر موجود ہے اگر تم سچے ہو تو پھر وہ لا کر دکھا دو لیکن یقینا یہ سب کا سب جھوٹ پرمبنی ہے اور یہ سب ان کا اپنا بنایا ہوا ہے اور اللہ رب العزت کی طرف سے اس پر کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی گئی آیت نمبر سکس میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت والے دن یہ جو شرکاء ہیں واذا قوشل الناس کان لہم اذان وکان بعبادت کافر یہ جو جن کو یہ لوگ اللہ تعالی کے سوا پکارتے ہیں قیامت والے دن یہ سب ان کے دشمن بن جائیں گے
[2:57]اور حتی کہ ان کی اس عبادت کا بھی انکار کر دیں گے آیت نمبر نائن میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بطور خاص قل ما کنت بدعا من الرسل وما ادری ما یفعل بی ولا بکم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ان کو بتا دیجیے کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں کوئی ایسا نیا اور جو ہے وہ انوکھا یا نرالا رسول نہیں ہوں کہ جو تمہیں یہ میرا مبعوث کیا جانا اور میرا اللہ تعالی کی طرف سے نبی بنا کر بھیجا جانا جو تمہیں عجیب لگتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں پہلے کی طرح جو پہلے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تشریف لائے انہی کی طرح اللہ تعالی کی طرف سے مجھے بھی مبعوث کیا گیا ہے سو میں کوئی نئی جو ہے وہ شریعت لے کر یعنی نئی شریعت سے مراد کہ میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو تم نے تم نے اس سے پہلے ہسٹری کے اندر ایسا موجود نہ ہو جیسے اللہ نے فرمایا تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے تو یعنی یہ پہلی شریعتوں کا ہی ایک تسلسل ہے یہ اس کا اپڈیٹڈ ورژن ہے تو اس وجہ سے تمہیں یہ چیز اچنبے میں نہ ڈالے سیکنڈ بات یہ ہے کہ وما ادری ما یفعل بی ولا بکم میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کل کیا کیا جائے گا میں تو وحی کی پیروی کرتا ہوں اور میں اللہ تعالی کی طرف سے ڈرانے والا ہوں اور میں واضح طور پر اللہ تعالی مجھے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے
[4:10]ام علا انصاریہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ عثمان بن معون رضی اللہ تعالی عنہ ہمارے جو ہے وہ اسلامی بھائی بنائے گئے بطور خاص ہجرت کے بعد جب اخوت اور مساوات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی تو ان کو کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد عثمان بن معصوم فوت ہو گئے جب فوت ہوئے تو وہ فرماتی ہیں کہ میں نے جو ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو میں نے کہا کہ یقینا تمہیں بڑا بہترین مقام دیا گیا ہے عثمان بن معصوم کے بارے میں تو ان کی نیکی کی وجہ سے ایسا کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیسے جانتی ہو تم نے یہ بات کیسے کہی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس کے باوجود میں نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ ایون کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی کل کیا کیا جائے گا یہ بھی اپ نہیں جانتے تھے
[5:03]اس کے بعد اللہ رب العزت نے آیت نمبر الیون میں یہ بات ارشاد فرمائی کفار سے متعلق کفار کہتے ہیں کہ وقل الذین کفر الذین امنو ایمان والوں سے کہتے ہیں لو كان خیرا ما سبقنا اگر ایمان والوں کی بابت یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ دین کوئی زیادہ اچھی اور بہتر چیز ہوتی تو یہ جو لوگ ہم سے پہلے ایمان لے ائے ہیں چونکہ وہ نادار طبقہ تھا وہ کمزور طبقہ تھا فائنینشلی اور جو ہے وہ معاشرتی اعتبار سے ان لوگوں سے زیادہ مضبوط نہیں تھا تو کہنے لگے کہ اگر یہ کوئی بہتر چیز ہوتی تو یہ لوگ اس میں سبقت نہ لے کر جاتے بلکہ جیسے ان لوگوں کی روٹین ہے چوہدری وڈیرے اور سردار جو ہوتے ہیں
[5:38]چونکہ نواز شاہد ساری دنیاوی اعتبار سے انہی سے شروع ہوتی ہیں تو اس وجہ سے ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر یہ کوئی اتنی جو ہے وہ خیر کی بات ہوتی تو پہلے ہمیں ملتی پھر اس کے بعد ہم چاہتے تو اپنی مرضی سے غریب و فقیروں کو اس میں شامل کرتے نہ چاہتے تو نہ کرتے تو کہنے لگے کہ یہ تو کوئی زیادہ بہتر چیز نہیں ہے واذا لم فضل الحق قدیم اور جب یہ ہدایت نہیں پا سکے تو کہتے ہیں کہ یہ تو کوئی پرانا جھوٹ ہے یعنی ہدایت اللہ تعالی کی طرف سے ان کے مقدر میں نہیں ہے تو اب یہ اسی کو جھوٹ قرار دینے پر تل گئے ہیں شریعت کے بارے میں اللہ تعالی نے یہ بات ارشاد فرمائی آیت نمبر ففٹین میں اللہ رب العزت نے والدین کے حوالے سے بطور خاص یہ بات ارشاد فرمائی کہ ہم نے انسان کو وصیت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اسی طرح سے اس کے بعد اللہ رب العزت نے جو رضاعت کی مدت ہے یعنی دودھ پلانے کی مدت ہے اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے ماں کی جو تکلیف ہے اللہ تعالی نے اس کا تذکرہ کیا ہے تکلیفوں پر تکلیفیں اٹھا کر ایک ماں جو ہے وہ اپنے پہلے اپنے جینیٹک کو جنین کو اٹھاتی ہے پھر اس کے بعد وہ جو ہے وہ بچہ بن جاتا ہے انسان بن جاتا ہے پھر اس کی تکالیف کو برداشت کرتی ہے
[6:44]اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی جو پریگننسی کی جو مدت ہے کم از کم اس کا اللہ نے تذکرہ کیا ہے کہ وہ اور اسی طرح سے دودھ چھڑانے کی جو مدت ہے ثلاثین شہرا یہ تیس مہینے ہیں تو اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ دودھ پلانے کی مدت تیس مہینے ہیں بلکہ دودھ پلانے کی مدت جیسا کہ سورۃ البقرہ میں جو ہے وہ یہ بات موجود آیت نمبر ٹو تھرٹی تھری میں کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ والدہ اولاد صرف دو سال دودھ پلانے کی مدت ہے
[7:12]دو سال سے کم کی جا سکتی ہے دو سال سے بڑھائی نہیں جا سکتی خاص طور پر یہ اس وجہ سے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ دو سال کے بعد اگر کوئی بھی جو ہے وہ کسی خاتون کا دودھ پیتا ہے تو وہ اس کی محرم رشتہ داروں میں شامل نہیں ہو گا اس کے بچوں کی طرح نہیں ہو گا سوائے ایک ایک واقعہ کے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا تھا سالم رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے تو اس کے علاوہ جو ہے وہ کوئی بھی شخص جو بعد میں دو سال کی مدت کے بعد دودھ پیتا ہے تو وہ اس کا جو ہے وہ اپس میں محرم کا رشتہ نہیں ہو گا تو اس طرح سے اللہ رب العزت نے یہاں پر دودھ چھڑوانے کی مدت اور اسی طرح سے پریگننسی کی جو کم از کم مدت ہے اس کا ذکر کیا ہے تو یوزلی جو پریگننسی کی مدت ہے وہ تقریبا نائن منتھس ہوتی ہے اللہ رب العزت نے یہاں پر اس کی جو کم از کم اور منیمم جو مدت ہے اس کا ذکر کیا ہے اس کا فائدہ یہ ہے اس سے یہ مسئلہ سمجھ میں اتا ہے کہ اگر سکس منتھ سے پہلے بچے کی پیدائش ہو جاتی ہے تو اس بچے کو بھی جو ہے وہ والد سے نہ سمجھا جائے گا وہ بچہ یقینا وہ گناہ کا نتیجہ ہو گا اور وہ ان والد جو ہے وہ میاں بیوی کا بچہ خاص طور پر اس شوہر کا بچہ نہیں سمجھا جائے گا تو اس وجہ سے ان باتوں کو بطور خاص جو ہے وہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے آیت نمبر الیون میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب انسان چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اس کو کون سی دعا پڑھنی چاہیے اللہ فرماتے ہیں رب مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری نعمتوں پر شکر ادا کروں جو میرے اوپر نعمتیں ہیں میرے والدین پر نعمتیں ہیں اور میں بہترین اور نیک اعمال کروں ایسے جو اللہ رب العزت مجھے راضی کر دینے والے ہوں
[8:48]اللہ میری اولاد کی اصلاح فرما دے انی بے شک میں تیری طرف جھکنے والا رجوع کرنے والا ہوں اور بے شک میں فرمانبرداروں میں شامل ہونے والا ہوں تو یہ بڑی بہترین دعا ہے بطور خاص چالیس سال کے ہر شخص کو مرد اور عورت کو یاد کر لینی چاہیے اور بہتر ہے کہ اس سے پہلے ہی یاد کر لی جائے اپنے لیے والدین کے لیے اور اولاد کے لیے بڑی ہی جامع دعا ہے آیت نمبر ففٹین میں اس کے بعد اللہ رب العزت نے آیت نمبر ٹونٹی میں ارشاد فرمائیں کہ جب یہ لوگ جہنم پر پیش کیے جائیں گے بطور خاص کافروں کے متعلق فرمایا تو اس وقت ان سے کہا جائے گا
[9:24]تم دنیا کے اندر اپنے جو بھی فوائد تھے وہ تم اٹھا چکے ہو تم نے وہاں پر استفادہ کر لیا تم نے استمتع کر لیا جو مزے اڑانے تھے تم نے اڑا لیے اج کے دن تمہیں رسوائی کا عذاب تمہارے تکبر کی بنا پر چکھنا ہو گا
[9:45]جو حق کے بغیر تم کرتے تھے اور جو تم نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بعد اللہ نے قوم عاد کا ذکر کیا ہے جن کا بطور خاص احقاف سے متعلق اللہ نے ارشاد فرمایا احقاف جو ہے وہ ریت کے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے یہ قوم عاد کا مسکن تھا جس کا موجودہ نام جو ہے وہ اس کو رب خادی کہا جاتا ہے اور یہ حضرے موت کا شمالی علاقہ پڑتا ہے تو اس علاقے کو جو ہے وہ احتاف کہا جاتا ہے آج بھی یہ ٹیلے ریت کے اتنے خطرناک ہیں کہ اگر ان علاقوں میں اس علاقے میں کوئی شخص داخل ہو جائے تو وہ ریت میں ریت ہی بن جاتا ہے یعنی اتنے خطرناک ہیں اور اتنی شدید گرمی وہاں پڑتی ہے اور اس کی جو ٹیلے ہیں وہ ایسی بھول بھلیوں میں ہے کہ ان میں اگر کوئی شخص داخل ہو جائے تو اس کا واپس نکلنا بہت ناممکن ہو جاتا ہے تو خیر یہ قوم عاد کا مسکن تھا اللہ رب العزت نے ان کا ذکر کیا ہے اور اسی طرح سے جس طرح سے ان کو انبیاء نے دعوت دی اللہ رب العزت نے اس کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد اللہ رب العزت نے اسی سورت میں آیت نمبر ٹونٹی نائن سے تھرٹی ٹو تک اللہ رب العزت نے بطور خاص ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا کہ انہوں نے جا کر قران مجید سنا
[10:54]جب وہ وہاں پر حاضر ہوئے تو کہنے لگے خاموش ہو جاؤ جب وہ تلاوت کمپلیٹ ہو چکی ہو گی فجر کی نماز میں تو وہ گئے اور واپس جا کر انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا اور اسی طرح سے ان سے جا کر کہنے لگے
[11:21]اے ہماری قوم کے لوگوں اللہ تعالی کی طرف سے جس کو داعی بنا کر بھیجا گیا ہے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات پہ لبیک کہو ان کے دین کو قبول کر لو اس پر ایمان لے اؤ اللہ رب العزت تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ رب العزت تمہیں جو ہے وہ دردناک عذاب سے نجات عطا فرمائیں گے اور جو اللہ تعالی کی اس داعی کی اواز پر لبیک نہیں کہے گا وہ اللہ تعالی کو عاجز نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کے لیے جو ہے وہ اللہ تعالی کے سوا کوئی دوسرے دوست اور ولی کام ائیں گے یہی وہ لوگ ہیں جو کہ دور کی گمراہی میں ہوں گے جو دعوت کو قبول نہیں کرتے مختصر طور پر یہ واقعہ کچھ اس طرح سے ہے
[12:00]کہ اللہ تعالی کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قران مجید کے نزول سے پہلے یعنی نزول کے وقت اسمان کے دروازے بند کر دیے گئے اس سے پہلے جنات اوپر جاتے تھے اور فرشتوں کی باز مرتبہ اپس میں ہونے والی کنورسیشن کو سنا کرتے تھے جس کے بارے میں شہاب ثاقب سے متعلق ہم پہلے بھی پڑھ چکے ہیں اور انشاءاللہ پھر بھی سورہ طارق میں بھی اس کے بارے میں ڈسکس کریں گے تو ان کو پھر فرشتے جو ہے وہ شہاب ثاقب مارا کرتے تھے جس سے وہ شیطان منتشر ہو جاتے اور باتیں سننے سے جو ہے وہ رہ جاتے تو ایک دم ان کو احساس ہوا کہ جب یہ اوپر جانے لگے تو اسمان کے راستے ان کے لیے بند کر دیے گئے ہیں جس کی تفصیلات سورۃ الجن کے اندر موجود ہیں جب یہ راستے بند ہوئے تو فورا یہ سارے جنات مشرق و مغرب میں چاروں طرف یہ پھیل گئے اور پھیلتے پھیلتے ان لوگوں نے جو ہے وہ دیکھا کہنے لگے کہ اخر کون سا ایسا واقعہ دنیا کے اندر رونما ہوا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اوپر اسمان کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں تو خیر یہ وادی نخلہ میں پہنچے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت موجود ہے وادی نخلہ میں وہاں پر پہنچے اور وہاں جا کر ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہے وہ فجر کی نماز میں قران مجید کی تلاوت سنی اور تلاوت سننے کے بعد پھر ان کو اندازہ ہوا کہ یہ جو کلام ہے یقینا یہ اتنا شیری اور اتنا خوبصورت کلام ہے کہ اسی کلام کے نزول کی وجہ سے ہی اللہ تعالی کی طرف سے اتنا جو ہے وہ بہترین اور بندوبست کیا گیا ہے اس کو سیکرٹ رکھنے کا اس کے نزول کا معاملہ اور یہ سب کچھ جو ہے وہ تو خیر پھر یہ اپنی قوم کے پاس گئے جا کر ان کو ڈرایا اور اس کے بعد عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی دوسری روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ اوقاز کے مارکیٹ میں موجود تھے تو اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے غائب ہو گئے کہنے لگے ہم بہت پریشان ہوئے ساری رات ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا صبح جو ہے وہ پریشانی کے عالم میں کہنے لگے ہمیں یہ لگا کہ شاید یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی انسیڈنٹ ہو گیا ہے یا جو ہے وہ اللہ نہ کرے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنوں کی طرف سے بھی واقعہ ہو گیا ہے تو خیر صبح کے وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرا کی طرف سے آ رہے تھے جب اپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ائے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہ کے ہم نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم بہت پریشان تھے اپ کی وجہ سے تو اپ نے فرمایا کہ مجھے جنوں کی طرف سے ایک نمائندہ بلانے ایا تھا اور میں پھر ان کے ساتھ چلا گیا تھا تو ان کو میں نے جا کے دعوت دی اور اس طرح سے ان کو میں نے قران مجید سنایا تو ہم لوگوں نے اسلام قبول کر لیا سورہ رحمن کے حوالے سے بھی ان کے بارے میں موجود ہے کہ جب ان کے سامنے فبیار ربک بڑھا جاتا تو وہ کہتے ہیں یا اللہ کوئی نعمت تیری ایسی نہیں ہے
[14:10]جس کو جھٹلایا جا سکے تو خیر یہ ساری تفصیلات ہیں جو اللہ رب العزت نے یہاں پر ذکر فرمائی ہیں اس کے بعد سورہ محمد ہے سورہ محمد بنیادی طور پہ اس کے اندر اللہ رب العزت نے بہت ہی کچھ اہم ٹاپکس جو ہیں وہ ان کا ذکر کیا ہے جیسا کہ اپنے نام سے ظاہر ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں یہ مدنی سورہ ہے اور اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالی کے رستے سے روکا ان کے اعمال ضائع ہو گئے اور جو لوگ ایمان والے ہوئے اور نیک اعمال انہوں نے کیے اور وہ محمد پر ایمان لائے اس آیت کے اندر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی موجود ہے اور اسی طرح سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور یہ اللہ تعالی کی طرف سے حق پرمبنی ہے کفار ان کی کوتاہیاں بھی معاف فرما دیں گے اور اللہ رب العزت ان کے احوال کی اصلاح بھی فرما دیں گے یہ کس وجہ سے ہے یہ اس وجہ سے کہ کفار نے باطل کی پیروی کی اور ہر وہ چیز باطل ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے رستے سے ہٹانے کا ذریعہ بنے تو انہوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان والوں نے اللہ تعالی کی طرف سے انے والے حق کی پیروی کی اللہ فرماتے ہیں اسی طرح سے اللہ رب العزت جو ہے وہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتے ہیں تو مقصد کہنے کا یہ ہے کہ باطل کی پیروی کسی بھی طرح سے انسان کو نہ دنیا میں فائدہ دے سکتی ہے نہ ہی آخرت میں فائدہ دے سکتی ہے دنیا میں بھی حق کی تباہی فائدہ دے سکتی ہے اور حق احق انیت ہے حق زیادہ حق رکھتا ہے اس بات کا کہ اس کی پیروی کی جائے لہذا باطل کی طرف نہ جایا جائے باطل باطل پرست لوگ جو ہیں دنیا میں بھی نقصان اٹھائیں گے اور قیامت کے دن بھی ان کو نقصان ہی اٹھانا پڑے گا آیت نمبر سیون میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں اے ایمان والو اگر تم اللہ کی خاطر کھڑے ہو گئے تم اللہ کی مدد کو نکل ائے یعنی دین کو غالب کرنے کے لیے تم کھڑے ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے نکل آئے دین والوں کی مدد کے لیے نکل ائے تو پھر دیکھو اللہ تعالی بھی تمہاری پھر مدد کرے گا اور پھر تمہیں ثابت قدمی بھی عطا فرمائے گا اس سے یہ بات سمجھ اتی ہے کہ اللہ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کے دین کے لیے کھڑے ہوا جائے جو لوگ اللہ کے دین کے لیے کھڑے ہیں ان کو سپورٹ کیا جائے اللہ رب العزت کے دین کے جو پریچرز ہیں جو تبلیغ کرنے والے ہیں مبلغین ہیں ان کو سپورٹ کیا جائے ورنہ اللہ تعالی کی مدد کی کوئی گارنٹی نہیں ہے اور اگر اللہ کے دین کے لیے کھڑے ہو جائیں تو پھر اللہ رب العزت کی مدد کی گارنٹی ہے اللہ فرماتے ہیں تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور پھر تمہیں ثابت قدمی بھی عطا فرمائے گا اس کے بعد اللہ رب العزت نے آیت نمبر ٹونٹی ٹو میں بطور خاص جو ہے وہ حرام اور حلال میں تمیز کے حوالے سے یہ بات ارشاد ذکر فرمائی ہے اللہ فرماتے ہیں کہ یقینا بے شک یہ وہ لوگ اللہ تعالی بے شک اللہ تعالی ایمان والوں کو نیک اعمال کرنے والوں کو جنتوں میں داخل فرمائیں گے جس کے نیچے نہریں چڑھتی ہیں اور کافر تو ایسے فائدہ اٹھاتے ہیں ایسے کھاتے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں یعنی کافر کو حرام اور حلال کی کوئی تمیز نہیں ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ حرام اور حلال میں تمیز کرنے والا کون ہے
[17:02]وہ اصل میں مومن ہی ہوتا ہے کافر تو ایسے ہی ہیں جیسے جانور کے سامنے اپ چارہ رکھیں تو جانور کو کوئی قرض نہیں ہے اپ نے چوری کا چارہ اس کو لا کر کھلایا ہے یا اپ نے جو ہے وہ اس کو اپنا اپنے مال میں سے لا کر کھلایا ہے جانور کو اس بات سے کوئی قرض نہیں ہے وہ اس بات کو نہیں جانتا وہ اس بات کا عقل و شعور نہیں رکھتا اور قیامت والے دن اس کا جرم بھی جانور کے سر پر نہیں ہے اس کا ظلم مالک کے سر پر ہے تو اس طرح اللہ فرماتے ہیں کہ کافر کے سامنے بھی حرام پڑا ہو یا حلال پڑا ہو وہ بھی جانور کی طرح تمیز نہیں کرتا تو تمیز کرنے والے اہل ایمان ہوتے ہیں اللہ رب العزت ہمیں توفیق عطا فرمائے اور خاص طور پر اج کل سوشل میڈیا کے حوالے سے ہمیں یہ بڑا فیم اور جو ہے وہ بڑا چام نظر اتا ہے کہ فلاں نے سوشل میڈیا سے اتنا کما لیا فلاں نے سوشل میڈیا سے گیمنگ سے کما لیا گیمبلنگ سے کما لیا ان لائن ٹریڈنگ کے نام سے بہت ساری چیزیں اس طرح کی لوگوں نے معروف کر رکھی ہیں اور اسی طرح سے یوٹیوب چینل سے ٹک ٹاک سے اور دیگر سوشل ایپس جو ہیں ان کے حوالے سے تو ہمیں اس کے اندر بڑی جو ہے وہ ایک دم اپرچونٹیز نظر اتی ہیں یہ سارا کچھ حرام ہے شریعت طور پر جائز نہیں ہے لہذا جہاں پر بطور خاص جو ہے وہ اپنا ایسا کنٹینٹ ڈالا جاتا ہے جس میں فیملی و لاگنگ ہوتی ہے اور اسی طرح کی دیگر چیزیں ہوتی ہیں تو یہ اور پھر اس کے بعد اگر اپ کا ایسا بھی چینل یا کچھ اس طرح کی موجود ہے جہاں پر اپ کے جو ہے نا وہ غیر شرعی ایڈز اس کے اوپر چل رہے ہیں اور اپ نے اس کا پرمیشن دے رکھا ہے تو یہ ساری کمائی اس طرح کی حرام کی ہوتی ہے اور یہ تمیز اللہ رب العزت نے ایمان والوں کو عطا فرمائی ہے اس کے بعد آیت نمبر ففٹین میں اللہ رب العزت نے جنت میں چہنے والی نہروں کی مثال کے ساتھ ذکر فرمایا ہے مثال اس جنت کی جس کا مومنوں کو متقین کو وعدہ دیا جاتا ہے اللہ فرماتے ہیں ایسے فیہ انار من ما غیر اسن ایسے پانی کی نہریں ہیں جس پانی کو باسی نہیں ہونا کیونکہ دنیا کے اندر اگر پانی کسی جگہ پہ کچھ دن کے لیے کھڑا رہے تو وہ باسی ہو جاتا ہے اس میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے اس کا ذائقہ بدل جاتا ہے اس کا کلر بدل جاتا ہے جبکہ جنت کے اندر اتنا ہردم صاف شفاف اور تازہ پانی رہے گا کہ وہ کبھی بھی باسی نہیں ہو گا دودھ کی نہریں ہیں جن کا ذائقہ نہیں بدلتا شراب کی نہریں ہیں جو کہ پینے والوں کے لیے بڑی لذت کا ذریعہ ہے اور بڑا ہی صاف منقا اور مصفا قسم کا جو ہے نا وہ بالکل کرسٹل کلین ٹائپ کا جو ہے وہ شہد جس کے اندر سے جو ہے وہ ہار پار نظر اتا ہو گا اس طرح کے شہد کی نہریں ہیں اور اللہ تعالی کی طرف سے ہر طرح کے انواع و اقسام کے فروٹس اور اللہ تعالی کی طرف سے مغفرت ان لوگوں کو دی جائے گی
[19:27]اللہ تعالی ہمیں بھی ان میں شامل فرمائے دوسری طرف کافر ہیں جو مستقل طور پر جہنم میں رہے گا جہنم کی اگ میں رہے گا اور ایسا کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جائے گا
[19:40]جو ان کی انتڑیوں کو جو ہے وہ اندر سے کاٹ کے رکھ دے گا صحیح حدیث میں موجود ہے اللہ رب العزت ہمیں ایسے انجام سے محفوظ فرمائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمیوں کو جب ٹھور کا درخت زقوم جب ان کو کھلایا جائے گا پھر اوپر سے گرم کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا تو اس کے ذریعے سے اہل جہنم کی انتڑیاں ان کے پھانے کے رستے سے باہر ا جائیں گی
[20:05]اللہ رب العزت ہمیں ایسے معاملات اور ایسے اعمال کرنے سے محفوظ رکھے جو جہنم میں جانے کا ذریعہ بنتے ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت نے آیت نمبر نائنٹین میں فرمایا ہے فا علمو انہ لا الہ الا اللہ استغفر لذنبك والمومنین والمومنات اس بات کا علم اپ کو رکھنا ضروری ہے علم حاصل کیجئے اس بات کو جان لیجئے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے ایمان والوں کے لیے اور ایمان والے خواتین کے لیے اللہ رب العزت تمہارے الٹ پلٹ ہونے کو اور تمہارے ٹھکانے کو جانتا ہے اس میں بطور خاص اللہ رب العزت نے جو بات بیان فرمائی ہے وہ یہ کہ جس چیز کو
[20:40]ایمان والوں پر فرض قرار دیا گیا ہے اس کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے جیسے توحید کا جاننا فرض ہے تو توحید کا توحید کے اوپر عمل کرنا فرض ہے یعنی شرک سے بچنا فرض ہے اسی طرح سے توحید کے بارے میں علم حاصل کرنا بھی فرض ہے تاکہ انسان کو پتہ ہو توحید کی کتنے قسمیں ہوتی ہیں توحید ربوبیت ہے توحید الہیت ہے توحید اسماء و صفات ہے یہ ساری توحید کے بارے میں انسان کو علم ہونا چاہیے پھر اسی طرح سے اسی کے اگینسٹ جو ہے وہ شرک کی کتنے قسمیں ہیں وہ سب کے بارے میں اویرنس ہونی چاہیے یہ عقیدہ رکھنا فرض ہے تو اس کے ساتھ اس کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے نماز فرض ہے تو نماز کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اس کا علم حاصل کرنا اس کی رکعت کی تعداد کیا ہے اس کی جو ہے وہ دیگر اس کے اندر کیا معاملات ہیں اس کے رکوع سجود کیا ہے قیام کیا ہے یہ ساری چیزوں کا شرعی اعتبار سے علم حاصل کرنا فرض ہے جہاد فرض ہے تو اس کی تعلیم حاصل کرنا فرض ہے زکات دینا فرض ہے تو اس کی تعلیم حاصل کرنا فرض ہے تو اس طرح سے جتنی بھی چیزیں فرض ہیں ان کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے آیت نمبر ٹونٹی میں جب ان لوگوں کے اوپر بطور خاص منافقین کی بابت ارشاد فرمایا جب ان پر کوئی صورت نازل ہو جاتی ہے اور اس صورت کے اندر جہاد کا ذکر کیا جاتا ہے اور اپ ان کو دیکھتے ہیں یہ ایسے ہو جاتے ہیں جیسے ان کے اوپر موت کی غشیاں طاری ہونے لگی ہیں کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے جان جان چھڑاتے ہیں جی چھڑاتے ہیں جہاد سے جی چھڑاتے ہیں اللہ فرماتے ہیں ان کے لیے زیادہ بہتر تھا اطاعت اور اچھی بات کہتے جب معاملے کا فیصلہ ہو جائے
[22:12]تو اگر یہ سچ بولتے تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ان کے لیے بہت ہی بہتر ہو جاتا ایت نمبر ٹونٹی فور میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کیا یہ لوگ قران مجید پر غور و فکر نہیں کرتے یا پھر ان کے دل بند ہو چکے ہیں
[22:30]یعنی غور و فکر کرنا نہیں چاہتے یا کرتے ہیں تو پھر ان کے اوپر اثر نہیں ہوتا تو دونوں میں سے کوئی ایک بات ہے یا تو غور و فکر کرتے نہیں ہیں قران و حدیث کو توجہ سے پڑھتے نہیں ہیں یا پھر یہ ہے کہ ان کے دلوں پہ تالے لگ چکے ہیں ان کے دلوں پہ مہریں لگ چکی ہیں اللہ رب العزت ہمیں اس سے محفوظ فرمائے اور اللہ رب العزت ہمیں قران و حدیث کا فہم اور تدبر حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ایت نمبر تھرٹی تھری میں اللہ رب العزت نے خاص بات جو ہے وہ ارشاد فرمائی ہے اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو کیا معنی ہے جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بغیر کوئی عمل کیا جاتا ہے اور اس کو نیکی سمجھا جاتا ہے اس کو دین سمجھا جاتا ہے اس کو شریعت سمجھا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس کو کرنے میں حرج ہی کیا ہے یہ تو اچھا ہے اچھا ہی تو ہے فلاں موقع پر قران پڑھنے میں کیا حرج ہے قران خانی کرنے میں کیا حرج ہے ختم کرنے میں کیا حرج ہے یعنی ختم پڑھنے میں کیا حرج ہے رسمیں کرنے میں کیا حرج ہے اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ وہاں قران ہی تو پڑھا جاتا ہے وہاں قران کی ایتیں ہی تو پڑھی جاتی ہیں اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز ثابت نہیں ہے اطاعت سے ثابت نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہیں ہے کسی عمل کے اندر تو وہ عمل نہ صرف قبول نہیں ہوتا بلکہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عمل برباد ہو جاتا ہے صحیح حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں صحیح بخاری کی حدیث ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی شخص اگر کوئی شخص اگر اس نے ایسا عمل کیا جس کے اوپر ہماری رولنگ ہماری ٹیچنگ موجود نہیں تھی ہماری شریعت سے ہٹ کر اس نے دین سمجھ کر کیا اور جو ہے وہ شریعت سمجھ کر کیا تو گویا کہ وہ عمل اس کا قیامت والے دن رد کر دیا جائے گا اللہ کے ہاں قبول نہیں ہو گا امام مالک رحمہ اللہ بڑی خطرناک بات ارشاد فرماتے ہیں فرماتے ہیں کہ ہر وہ بندہ جو کوئی ایسا عمل کرتا ہے جو شریعت سے ثابت نہیں ہے اور اس کو پھر بھی ثواب اور نیکی سمجھ کر کرتا ہے اور اس کو شریعت کا درجہ دیتا ہے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خیانت کا الزام لگاتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا دین ہمیں نہیں پہنچایا علیا اس بلال من زادک تو یہ بڑی ہی خطرناک بات ہے اللہ رب العزت اس کے بعد ارشاد فرماتے ہیں آیت نمبر تھرٹی ایٹ میں اللہ فرماتے ہیں کہ جب ان لوگوں کو خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جب ان لوگوں کو خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے تو پھر کیا کرتے ہیں تم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں کنجوسی کرتے ہیں اپنے ہاتھ کو تنگ اور روک لیتے ہیں جو کوئی اپنے ہاتھ کو روکے گا تو اس کا نقصان اس کو خود ہی اٹھانا پڑے گا اللہ غنی ہے اللہ بے پروا ہے اور تم فقیر ہو اور اگر تم ان حرکتوں سے باز نہیں ائے اللہ تعالی کی فرمانبرداری کی طرف نہیں ائے اللہ کی نافرمانی کرتے رہے خرچ کرنے میں جہاد کرنے میں دیگر چیزیں کرنے میں شریعت پر عمل کرنے میں
[25:13]تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم لے ائے گا پھر وہ تمہارے جیسے نہیں ہوں گے اس کے بعد سورۃ الفتح ہے سورۃ الفتح بنیادی طور پہ اس کے اندر اللہ رب العزت نے بہت ہی کچھ اہم ٹاپکس جو ہیں وہ ان کا ذکر کیا ہے جیسا کہ اپنے نام سے ظاہر ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں یہ مدنی سورہ ہے اور اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا یقینا ہم نے اپ کو ایک بڑی ہی عظیم فتح عطا فرمائی ہے
[25:40]تاکہ اللہ اپ کے اگلے پچھلے کوتاہیاں اور لغزشیں معاف کر دے اور اللہ تعالی اپنی نعمت کو پورا کرے اور اپ کو سیدھے راستے پر رکھے تو وہ بڑی فتح کیا تھی بڑی فتح سے مراد مفسرین نے لکھا ہے اللہ نے گویا کہ چھ ہجری میں ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو فتح مکہ کی بشارت دے دی تھی اگرچہ صلح حدبیہ کی شرائط کو دیکھا جائے تو شرائط یوں لگتا ہے کہ جیسے مسلمانوں کے ساری کی ساری مسلمانوں کے نے جو ہے وہ ذلت والی شرائط برداشت کی تھی لیکن حقیقت میں اللہ رب العزت کا اس کے اندر جو ہے وہ ایک اور ہی کچھ مقصد تھا تو خیر اس کے اندر جو شرائط طے پائیں وہ یہ تھیں کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان دس سال کی جنگ بندی رہے گی اور دس سال جو ہے وہ اپس میں کوئی جنگ نہیں ہو گی اسی طرح سے جو قبائل ہیں وہ سارے کے سارے آزاد ہیں وہ جس کے ساتھ چاہیں جو ہے وہ مناسب سمجھیں اس کے ساتھ وہ اس کے حلیف بن جائیں
[26:37]کفار کے ساتھ ملنا چاہیں ان کے ساتھ مل جائیں مسلمانوں کے ساتھ ملنا چاہیں ان کے ساتھ مل جائیں اسی طرح سے تیسری شرط اس کی یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ چلا جاتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو وہ اہل مکہ کو واپس لوٹایا جائے گا یعنی کوئی کافر اسلام قبول کر لیتا ہے تو مسلمان پابند ہیں کہ وہ اس کو واپس لوٹائیں گے اور اگر کوئی شخص کافر ہو کر مکہ چلا جاتا ہے مسلمانوں میں سے یعنی مرتد ہو جاتا ہے اور مکہ چلا جاتا ہے تو کفار اس کو واپس نہیں لوٹائیں گے یہ اسی طرح سے جو ہے نا وہ کچھ اس طرح کی شرائط تھیں اور پھر چوتھی شرط اس کی یہ تھی کہ مسلمان جو ہے وہ اس سال واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال تین دن کے لیے مسلمان دوبارہ ائیں گے اور جو ہے وہ تین دن کے اندر اپنا عمرہ ادا کر کے واپس ائیں گے ان شرائط کے اوپر عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو تامل تھا
[27:40]دیگر صحابہ کرام کے دلوں میں اس کے حوالے سے بڑی جو ہے وہ مطلب جو ہے وہ بڑی پریشانی اور اضطراب کی کیفیت تھی کہ یہ اس طرح کی جو ہے نا وہ بظاہر ذلت والی جو شرائط ہیں یہ ہم کیوں قبول کر رہے ہیں جبکہ اللہ اس کو فتح مبین قرار دیتے ہیں تو اخر اس کے اندر ایسی وجہ کیا ہے مفسرین نے مختلف جو اس کے پہلو لکھے ہیں ان میں سے ایک بطور خاص یہ ہے کہ اس موقع پر اللہ رب العزت نے
[28:10]مسلمانوں کے لیے پہلا موقع تھا جب مسلمانوں کو باقاعدہ ایک طاقت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا تھا پھر اسی طرح سے جنگیں لڑ لڑ کے مسلمانوں کو بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ تھوڑا سا تیاری کے لیے ان کو وقت دیا جائے اور مسلمان تیار ہوں اللہ رب العزت نے جیسے اس کے بارے میں ایت نمبر ٹونٹی فور میں ذکر کیا ہے اللہ تعالی نے حقیقت میں تو تمہیں کامیابی عطا فرما ہی دی تھی لیکن پھر بھی اللہ تعالی نے تمہیں ان سے روکا ان کو تم سے روکا تاکہ اللہ رب العزت جو ہے وہ دیکھے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو اور اسی طرح سے اللہ تعالی تمہیں مزید چانس دے تاکہ تم بہتر تیاری کے ساتھ جو ہے وہ پھر ان کے اوپر اٹیک کر سکو کیونکہ فتح مکہ ایک بہت بڑی جنگ تھی اور اس جنگ کی تیاری کے لیے صحابہ کو بھی وقت چاہیے تھا مسلمانوں کو بھی وقت چاہیے تھا یہ حکمتیں تھیں تو گویا کہ پہلی مرتبہ مسلمانوں کو ایک ایسی طاقت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا تھا جن کے ساتھ معاہدہ کیا جاتا ہے کیونکہ معاہدے ہمیشہ برابر کی قوموں کے ساتھ کیے جاتے ہیں ورنہ جن قوموں کو کمتر سمجھا جاتا ہے جن کو غلام سمجھا جاتا ہے ان کے اوپر تو اپنے ارڈرز جو ہیں ان کو مسلط کیا جاتا ہے تو اگر مسلمانوں کے ساتھ باقاعدہ ایگریمنٹ کیا جا رہا تھا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اب مشرکین مکہ بطور خاص اس بات پر مجبور ہو چکے ہیں کہ مسلمانوں کو ایک قوم سمجھیں اور مسلمانوں کے ساتھ برابری کی سطح پر ا کر معاہدہ کریں تو یہ معاہدہ تھا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ابوبکر صدیق سے بھی کہا انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو ہے وہ پریشانی کا اظہار کیا لیکن اخر کار اللہ رب العزت نے جب اس کا نتیجہ دو ہی سال کے اندر ایسا دکھایا کہ اٹھ ہجری میں اللہ رب العزت نے مکہ فتح کروا دیا تو پھر ان صحابہ کرام کو اندازہ ہوا کہ یقینا یہ صلح حدیبیہ جو تھی یہ فتح مکہ اور اسلام کی کامیابیوں کا پیش خیمہ تھی تو اس طرح سے یہ معاملہ سرانجام جو ہے وہ پائے
[31:49]تو خیر یہ اس کا سارا پس منظر تھا جو یہاں پر جو ہے وہ اس کا ذکر کیا ہے اللہ رب العزت نے اور اسی کے حوالے سے اللہ رب العزت نے مزید جو ہے وہ چیزیں ذکر فرمائی ہیں اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے ہی تمہارے دلوں پر مومنین کے دلوں پر سکینت کو نازل کیا تاکہ ان کا ایمان بڑھ جائے اللہ رب العزت کے جو ہے وہ اسمان اور زمین کے اندر لشکر ہیں تاکہ اللہ رب العزت جو ہے وہ اپنے مومن بندوں کو جنتوں میں داخل کریں اور ان کی کوتاہیوں کو معاف فرمائیں اور اللہ رب العزت کے نزدیک یہ بڑی کامیابیاں ہیں پھر اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے حوالے سے فرمایا ہے تاکہ تم اللہ رب العزت پر ایمان لاؤ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور ان کے وقار کا خیال رکھو ان کی مدد کرو اور اللہ رب العزت صبح و شام تسبیح بیان کرو تو خیر یہ ساری چیزیں چیزیں اللہ رب العزت نے یہاں ذکر فرمائی ہیں
[32:38]اسی طرح سے ایت نمبر سیونٹین میں اللہ رب العزت نے بطور خاص ان لوگوں کو جہاد سے مستسنا قرار دیا ہے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتے اور اللہ نے فرمایا کہ نہ بینا پر کوئی حرج کی بات نہیں ہے جو بلائنڈ ہے اس کو جہاد سے مستسنا قرار دیا جاتا ہے ایکسیپشن ہے اس کے لیے اسی طرح سے اگر کوئی جو ہے وہ ٹانگ سے لنگڑا ہے یا اسی طرح سے اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہے اس طرح کا اگر کوئی معاملہ ہے یا اسی طرح سے کوئی زیادہ ایسا پیشنٹ ہے جو طاقت نہیں رکھتا لڑنے کی یا کمزور ہے بوڑھا ہو چکا ہے تو ان سب سے اللہ رب العزت نے جہاد کے حکم کو جو ہے وہ ساقط کیا ہے اور اصل جو چیز ہے وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے جو کہ جہاد میں بھی ہو سکتی ہے اور جہاد کے علاوہ بھی ہو سکتی ہے اللہ رب العزت ان لوگوں کو اپنی جنتوں میں داخل کرتے ہیں اور جو کوئی اس سے اعراض کرتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالی نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے اور اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر ایٹین میں بعت رضوان کا تذکرہ کیا ہے بعت رضوان چونکہ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلقہ افواہ پھیل گئی تھی کہ ان کو شہید کر دیا گیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ سے بیعت لی تمام صحابہ نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیعت کی اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دہنا ہاتھ جو ہے وہ وہ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے رکھا اور فرمایا کہ یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے حالانکہ عثمان کے لیے بیعت کی جا رہی تھی لیکن پھر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شرکت کو ضروری سمجھا تاکہ کل کلا کسی کو کوئی اعتراض کرنے کا موقع نہ مل سکے جس کا معنی یہ تھا کہ اگر عثمان یہاں موجود ہوتے جن کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا گیا ہے تو یقینا وہ اس بیعت کے اندر سب سے اگے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گارنٹی ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عثمان کی طرف سے اپنا ہاتھ مبارک رکھ کے بیعت کی اللہ تعالی نے ان تمام صحابہ سے متعلق یہ بات ارشاد فرما دی کہ جن لوگوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر ببول کے درخت کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اللہ رب العزت ان سب سے راضی ہو چکا ہے اللہ ان کے دلوں کو جانتا ہے اللہ نے ان پر اپنی سکینت نازل فرما دی ہے اور اللہ رب العزت ان کو بدلے میں بڑی بہت بڑی اور بڑی قریب فتح جو ہے وہ عطا فرمائی ہے اللہ رب العزت ان کو مال غنیمت عطا فرمائے ہیں اس کا اللہ رب العزت نے یہاں پر ذکر فرمایا ہے اس کے بعد اللہ تعالی نے آیت نمبر ٹونٹی سیون میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی خواب کا ذکر فرمایا فرمایا کہ یقینا وقتی طور پر صلح حبیبہ کی وجہ سے اور اسی طرح سے بیعت رضوان اور دیگر معاملات کی وجہ سے یہ سلسلہ موقوف ہو گیا ہے لیکن اپ اگلے سال جائیں گے اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کو سچا کر دکھایا آپ اگلے سال جائیں گے مسجد حرام میں اللہ رب العزت کے حکم سے اللہ تعالی نے چاہا امن کے ساتھ ہوں گے اپنے سروں کو منڈوانے والے یا بال کتروانے والے اپ پر کوئی ڈر نہیں ہو گا تم نہیں جانتے ہو جو اللہ تعالی جانتا ہے اور اللہ رب العزت نے تمہیں اس طرح سے فتح مبین اور فتح قریب عطا فرمائی ہے اللہ رب العزت نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے اس لیے تاکہ تمام دینوں کے اوپر اپنے دین کو غالب کر دے اور اللہ رب العزت کافی ہے گواہی کے طور پر ایت نمبر ٹونٹی نائن جو کہ اس سورت کی اخری ایت ہے اللہ رب العزت نے صحابہ کرام کے مقام کے حوالے سے یہ بات جو ہے وہ ذکر فرمائی ہے اللہ فرماتے ہیں کہ محمد رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے کفار کے بارے میں بڑے سخت ہیں اپس میں مومنوں کے بارے میں بڑے رحمدل ہیں اپ ان کو دیکھیں گے رکوع کرتے ہوئے سجدے کرتے ہوئے اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے اللہ کی رضا تلاش کرتے ہوئے ان کے چہروں پر اپ کو سجدے کے اثار نظر ائیں گے یہ ان کی تو رات کے اندر بھی اسی طرح کی مثالیں ہیں انجیل کے اندر بھی اسی طرح کی مثالیں ہیں گویا کہ کمپل ہے جو مضبوط ہو گئی پھر وہ اپنے تنے کے اوپر کھڑی ہو گئی اللہ فرماتے ہیں کہ وہ کسانوں کو کتنا خوش کرنے لگتی ہے تو گویا کہ یہ صحابہ یہ اسلام کی بنیدی ہیں یہ اسلام کی بنیاد ہے اور ان کے اوپر اگر کوئی طعن کرتا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اسلام کی عمارت کو منہدم کرنے کی کوشش کرتا ہے لہذا صحابہ میں سے کسی ایک بھی صحابی کے کردار کے حوالے سے اگر ہمارے دل میں ذرے کے برابر بھی شک و شبہ پیدا ہوتا ہے تو ہمیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے اللہ رب العزت ہم سب سے راضی ہو چکے ہیں اللہ نے ان کو کسی بھی طرح کا کوئی معاملہ تھا اللہ رب العزت ان کو معاف کر دیا ہے ہمیں اپنے ایمان کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے اللہ فرماتے ہیں کہ ان تمام ایمان والوں سے اور نیک اعمال کرنے والوں سے مغفرت کا وعدہ کر لیا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کر لیا ہے اس کے بعد سورۃ الحجرات ہے معاشرتی حوالے سے اس سورت کے اندر اللہ رب العزت نے بڑے ہی جامع قسم کے احکام بیان فرمائے ہیں جن کو تفصیل سے پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ابتداء میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں آیت نمبر فرسٹ میں اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اگے مت بڑھو اپنے قدموں کو روک لو جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں روکا ہے وہیں رک جاؤ اس سے بہت ساری باتیں سمجھ میں اتی ہیں جن کی کئی تفصیلات اس سے پہلے میں بے شمار جگہوں پر اپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اگے بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کو چھوڑ کر اپنے طور پر جن چیزوں کا ثواب سمجھا جاتا ہے بدعات ہیں خرافات ہیں رسومات ہیں ان کو ثواب اور دین سمجھ کر کرنا یہ سب اللہ اور اس کے رسول سے اگے بڑھنا ہے دین کے معاملے میں غلو کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں غلو کرنا اور اس طرح سے جو ہے وہ ایسے ایسے مراقبے اور اس طرح کی جو ہے نا وہ اعمال اور اس طرح کی جو ہے نا وہ اپنے طور پر تصوف کے نام پر صوفیت کے نام پر ایسے ایسے اعمال کو جو ہے وہ کریٹ کر لینا ایجاد کر لینا جن کا اسلام میں وجود نہیں ہے کسی کو کہنا کہ کوئی بارہ سال کنویں میں لٹکا رہا کوئی بارہ سال جنگلوں میں گزارے کوئی ایک رات کے اوپر کھڑا رہا کسی نے شیر اور بکری کے ساتھ پانی پیا لاحول ولا قوۃ الا باللہ یہ سب اسلام کے اندر مبالغہ ہے اور یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اگے بڑھنے والی باتیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین لوگوں کا تذکرہ ہوا جنہوں نے کہا کہ ایک نے کہا میں شادی نہیں کروں گا صرف اللہ کی عبادت کروں گا دوسرے نے کہا میں روزہ کبھی نہیں چھوڑوں گا ہمیشہ روزہ رکھوں گا تیسرے نے کہا کہ میں جو ہے وہ ساری رات سوؤں گا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کو منع فرما دیا فرمایا تمہارے لیے جو ہے وہ صدقہ تمہاری بیویوں کے تم پر حقوق ہیں تمہارے جو ہے وہ مہمانوں کے تم پر حقوق ہیں اسی طرح سے تمہارے اپنے جسم کے تم پر حقوق ہیں فرمایا میں روزہ رکھتا بھی ہوں افطار بھی کرتا ہوں سوتا بھی ہوں عبادت بھی کرتا ہوں میں نے شادیاں بھی کر رکھی ہیں اسلام اعتدال کا دین ہے اسلام سختیوں کا دین نہیں ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں روک دیا وہاں رک جاؤ جہاں تمہیں انہوں نے چلنے کا حکم دیا وہاں چلو اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں آیت نمبر سیکنڈ میں اے ایمان والو اپنی اوازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اوازوں سے بلند نہ کرو بیک گراؤنڈ تو بطور خاص جو ہے وہ اس کا سپیسیفک ہے لیکن عمومی طور پر اس سے حکم یہ مراد ہے کہ جہاں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تک موجود تھے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اوازوں سے کسی کی اواز بلند نہیں ہونی چاہیے ابوبکر اور عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان اپس میں کسی بات پر تھوڑا سا ہو گئی تو دونوں کی اوازیں بلند ہو گئیں اللہ رب العزت نے ان کو بھی اس بات سے جو ہے وہ فورا منع فرما دیا سرزنش فرمائی اور فرمایا کہ ائندہ کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اواز سے اوپر کسی کی اواز نہ ہو بطور خاص جو ہے وہ مسجد نبوی کے اندر کسی کی اواز جو ہے وہ بلند نہیں ہونی چاہیے اور اس کے علاوہ جتنی بھی مساجد ہیں ان سب میں کسی کی اواز بلند نہیں ہونی چاہیے بطور خاص دین کے معاملات کے علاوہ دنیا داری کے اور دیگر چیزوں کے بارے میں بطور خاص جو ہے وہ ہمیں یاد ہو گا چند سال پہلے جو ہے وہ مسجد نبوی کے اندر پاکستان کے حوالے سے ایک جو ہے وہ سیاسی قسم کا شور و غل وہاں پر کیا گیا اللہ رب العزت ہمیں محفوظ فرمائے کوئی بھی پارٹی کرنے والی ہو اللہ ان کو ہدایت نصیب فرمائے یہ بڑی ہی بدتمیزی کی باتیں ہیں جو اللہ رب العزت نے یہاں ذکر فرمائی ہیں جن سے بچنا ضروری ہے اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں نہ بلایا کرو جیسے اپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتہ تک نہ چلے
[39:55]اس کے بعد اللہ رب العزت نے صحابہ کرام کے کردار کی تعریف فرمائی ایت نمبر تھری میں اللہ تعالی نے ان کے دلوں کا امتحان لیا تقوی کے لیے اس کے بعد اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ صبر کرتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو تمہارے پاس اگر کوئی فاسق خبر لے کر ائے تو پہلے اس خبر کی تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کے خلاف جو ہے نا وہ تم کوئی کاروائی کر گزرو اور تمہیں جو ہے وہ احساس ہی نہ ہو اور بعد میں تمہیں ندامت اٹھانا پڑے اس حوالے سے جو ہے وہ ایک غزوہ بنی مصطلق کے حوالے سے ولید بن عقبہ کے بارے میں ایک روایت جو ہے وہ بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے ا کر کہا کہ انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے بنی مسلق کے لوگوں نے لیکن یہ روایت جو ہے وہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ درست اس وجہ سے نہیں ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے اس میں فاسق کا لفظ استعمال کیا ہے اور فاسق کا لفظ جو ہے وہ کسی صحابی کے ساتھ خاص کرنا یہ درست نہیں ہے بہرحال عمومی طور پر حکم یہی ہے کہ جب کوئی بھی خبر لے کر ائے تو اس خبر کی پہلے تحقیق جو ہے وہ کر کر لیا کرو اس کے بعد اللہ رب العزت نے دیگر جو ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ارشاد فرمایا کہ تمہارے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہوتے ہیں اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اللہ رب العزت نے تمہارے لیے ایمان کو پسند کر لیا ہے تمہارے لیے کفر اور نافرمانی اور جو ہے وہ فسق کو اللہ تعالی نے ناپسند کیا ہے پھر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ایت نمبر نائن میں اگر تم میں سے ایمان والوں کی دو جماعتیں اپس میں لڑ پڑیں تو ان کی اپس میں صلح کروا دیا کرو اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے پھر ارشاد فرمایا کہ تمام کے تمام مومن اپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں پھر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو تم میں سے کوئی قوم کسی کا مذاق نہ اڑائے ہو سکتا ہے جن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ زیادہ بہتر ہوں کوئی عورت کسی دوسری عورت کا مذاق نہ اڑائے ہو سکتا ہے جس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ عورت اس عورت سے مقام اور مرتبے میں زیادہ بہتر ہو پھر ارشاد فرمایا کہ اپس میں ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو ایک دوسرے کو طعن و تشنیع نہ کیا کرو اسی طرح سے ارشاد فرمایا کہ ایمان والوں آیت نمبر ٹول میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ بدگمانیوں سے بچو کیونکہ بدگمانیاں گناہ ہوتی ہیں جاسوسی نہ کیا کرو ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم ایسی بات کو ناپسند کرتے ہو تو پھر غیبت کرنا اپنے جو ہے وہ مسلمان بھائی کا مردہ جو ہے وہ اگر بھائی ہے تو اس کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھانے کے مترادف ہے تو اللہ رب العزت نے اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ایمان والو تمہیں ہم نے ایک جان سے ایک مرد و عورت سے پیدا کیا ہے تمہارے قبیلے اور تمہاری جو ہے وہ قومیں بنائی ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف ایک دوسرے کا تعارف ہے اس کے علاوہ کسی قوم کو کسی قوم کے اوپر کوئی برتری نہیں ہے اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تقوی میں زیادہ بہتر ہے پھر اللہ رب العزت نے ایمان اور اسلام کے حوالے سے اس کا فرق بیان کیا ہے اسلام ظاہری عمل کا نام ہے جیسے نماز روزہ حج زکوۃ ہے اور ایمان جو ہے وہ اصل میں انسان کے دل کی کیفیت کا نام ہے
[42:43]جیسا کہ اج کل ہم صرف مسلمان ہیں ہم ایمان والے نہیں ہیں جیسے عرابیوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تم یہ نہ کہو کہ تم ایمان لا چکے ہو ابھی صرف تم نے اسلام قبول کیا ہے
[42:57]تو اسی طرح سے ہم بھی صرف مسلمان ہیں ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو مومن ہیں اللہ رب العزت ہمیں ایمان بھی عطا فرمائے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ اپ پر احسان جتلادے احسان چڑھاتے ہیں کہ وہ اسلام لے ائے یہ ان کا احسان نہیں ہے یہ اللہ تعالی کی توفیق ہے کہ اللہ رب العزت کس کو اپنے دین کے لیے اور اسلام کے لیے چن لیتا ہے اس کے بعد سورہ قاف ہے جس میں اللہ رب العزت نے ابتدا میں کفار کے بارے میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ ان کو قران مجید کے نزول کے اعتبار سے بڑا تعجب ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کو تعجب ہوتا ہے قران مجید کے نزول پر ان کو تعجب ہوتا ہے پھر یہ کہتے ہیں کیا جب ہم فوت ہو جائیں گے مٹی میں مٹی ہو جائیں گے تو کیا دوبارہ پھر ہمیں اٹھایا جائے گا
[43:40]اللہ رب العزت نے اس کے بعد جو ہے وہ اسی طرح قیامت کے حوالے سے اس میں کچھ چیزوں کا ذکر فرمایا ہے پھر اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم اس کے دل میں پیدا ہونے والے جتنے بھی وسوسے ہیں جو اس کے دل میں کوئی چیز پیدا ہوتی ہے اس کو بھی ہم جانتے ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں تو یہاں سے اندازہ لگائیے کچھ لوگ وسیلے کی بات کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ بناتے ہیں اور پیر و فقیروں کو وسیلہ بناتے ہیں اور کہتے ہیں جی جیسے بادشاہ تک پہنچنے کے لیے وزیر سے بات کرنی پڑتی ہے بہت سا پروٹوکول ہوتا ہے سیکرٹری سے بات کرنی پڑتی ہے اللہ تعالی کے لیے مثالیں بیان کرتے ہو اللہ کی کوئی مثل نہیں ہے تم نے اللہ رب العزت کو دنیا کے گھٹیا ترین لوگوں کے ساتھ ملا دیا جو لوگ جو ہے وہ اپنے در پر غریب فقیر کو انے نہیں دیتے تم نے ان کے ساتھ اللہ رب العزت کو ملا دیا اللہ رگ جان سے زیادہ قریب ہے جب وہ رگ جان سے زیادہ قریب ہے تو پھر اس کو پکارنے کے لیے کسی سیڑھی لگانے کی ضرورت نہیں ہے کسی وسیلے کی ضرورت نہیں ہے وہ ڈائریکٹ اللہ رب العزت سنتا ہے ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا ہم پڑھ چکے ہیں اے اللہ ہم سے ظلم ہو چکا ہے اگر تو نے ہمیں نہیں بخشا تو نے ہمارے اوپر رحم نہیں کیا تو اللہ ہم تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے
[44:54]پھر اس کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ایت نمبر ایٹین میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں انسان اپنی زبان سے جو بھی لفظ نکالتا ہے ایک فرشتہ اللہ رب العزت کا فورا اس لفظ کو لکھ لیتا ہے لہذا اپنی زبان کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے اللہ کی فرمابرداری کے کاموں میں استعمال کرنا چاہیے اس کے بعد اللہ رب العزت نے موت کے حوالے سے ذکر کیا ہے ایت نمبر نائنٹین سے اللہ فرماتے ہیں اللہ فرماتے ہیں کہ یہ موت کی سختیاں ہیں جو حق کے ساتھ اپ ا پہنچی ہیں اور یہی وہ چیز ہے جس سے یہ انسان بھاگنے کی کوشش کرتا تھا اللہ فرماتے ہیں جب صور پھونکا جائے گا نفخہ ہو گا تو یہ وعدے کا دن ہے اللہ فرماتے ہیں اس وقت ان کے ساتھ ایک ہانکنے والا ڈرائیور کی طرح جو ہے وہ ان کو ہانکنے والا ہو گا جو ان کو ایک فرشتہ ہو گا جو ان کے ساتھ لگایا جائے گا اس وقت شیطان کہے گا اے اللہ میں نے تو اس کو گمراہ نہیں کیا یہ تو خود ہی بڑی دور کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا اللہ فرمائیں گے اج کسی طرح کا کوئی جھگڑا میرے سامنے پیش نہ کرو اپ میں نے جو ہے وہ اس کو تمہیں تمہارے سامنے پہلے سے ہی ذکر کر دیا تھا وہ وعدہ اج تیار ہے لہذا ہمارا کلام نہیں بدلتا جو فیصلہ ہم نے کر لیا ہے وہ چینج نہیں ہو گا ہاں یہ پکی بات ہے کہ ہم کسی بندے کے اوپر ظلم کرنے والے نہیں ہیں اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں جب ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی ہے تو وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے تو لا دو کچھ اور بھی ہے تو لا دو کچھ اور بھی ہے تو لا دو اتنی خطرناک ہے جہنم کہ وہ کہے گی
[46:17]اللہ کچھ اور بھی ہے تو لا دو کچھ اور بھی ہے تو لا دو کچھ اور بھی ہے تو لا دو انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب جہنم کہے گی کہ اور دو اور دو اور دو جب وہ مزید اور مزید کا تقاضا کرے گی کہے گی تو اللہ رب العزت پھر اپنی پنڈلی مبارک جہنم میں رکھیں گے تو جہنم پکار اٹھے گی کہے گی بس اس کے بعد اب کچھ نہیں چاہیے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اہل جنت کا تذکرہ کیا ہے ان کو ہمیشہ کی زندگی کا تذکرہ کیا ہے ان کے اوپر سلامتی کا تذکرہ کیا ہے اسی طرح سے ان کو جن نعمتوں والے باغات میں نہروں والے باغات میں رکھا جائے گا اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے اس پارے کی اخری سورت ہے
[47:04]جس میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا وہ جو ہے وہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ ہواؤں کے بارے میں اللہ رب العزت نے یہاں تذکرہ کیا ہے بوجھ اٹھانے والی ہوائیں ہیں
[47:20]اسی طرح سے اللہ فرماتے ہیں جو کہ چلنے والی بڑی اسانی کے ساتھ معاملات کو تقسیم کرنے والی ہیں یہ ہواؤں کی قسمیں کھانے کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں یقینا تمہیں جو وعدہ دیا گیا تھا وہ وعدہ سچا ہے
[47:40]وہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا اور یقینا یہ قیامت جو ہے یہ قائم ہو کر رہے گی اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے فرمایا کہ وہ اسمان والے جو راستوں والا اسمان ہے اس کی قسم ہے
[48:00]یقینا تم سارے کے سارے مختلف جو ہے وہ قوموں میں اختلافات میں پڑے ہوئے تھے تو خیر اس کے بعد اللہ رب العزت نے یہ پوچھتے تھے قیامت کا دن کب ائے گا اس کا تذکرہ کیا ہے اللہ فرماتے ہیں جس دن ان کو اگ کے اوپر پیش کیا جائے گا اور ان کو فتنے میں ڈالا جائے گا چکھو اس عذاب کو جس کو تم اس سے پہلے جلدی طلب کیا کرتے تھے
[48:25]پھر اللہ رب العزت نے اس کے بعد متقین کا تذکرہ کیا ہے جو جنتوں میں ہوں گے چشموں میں ہوں گے اللہ کے وعدوں کو پا رہے ہوں گے اس سے پہلے یہ نیکی کرنے والے تھے
[48:39]دنیا کے اندر اللہ نے ان کے کردار کی تعریف فرمائی ہے اور یہ بہت کم سوتے تھے اور یہ سحری کے وقت میں اللہ رب العزت کو یاد کرتے تھے استغفار کرتے تھے سحری کے وقت میں استغفار کرنے کی بڑی فضیلت ہے صحیح حدیث میں موجود ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماتے ہیں ہر رات کے پچھلے حصے میں کچھ خیرات بانٹی جاتی ہے جو جاگت ہے سو پاوہ ہے جو سووت ہے سوو کھووت ہے



