[0:00]میرے چارہ غر کو نوید ہو۔ صفی دشمنا کو خبر کرو۔ میرے چارہ غر کو نوید ہو۔ صفی دشمنا کو خبر کرو۔ جو وہ قرض رکھتے تھے جہاں پر وہ حساب اج چکا دیا۔ جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جہاں سے گزر گئے۔ جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جہاں سے گزر گئے۔ راہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا۔ جناب صدر، محترم اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیوں السلام علیکم! اج کی اس عظیم الشان اور پروقار تقریب میں مجھے جس موضوع پر لب کشائی کا موقع ملا ہے اس کا عنوان ہے بنیادن مخصوص آپریشن۔ صدر ذی وقار! یوم معرکہ حق بھارتی جنگی جارحیت کے خلاف پاکستان کی تاریخی فتح کی یادگار کے طور پر ہمیشہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں جگمگاتا رہے گا۔ اج کا دن اس عظیم سچائی کی گواہی دے رہا ہے کہ فتح صرف اسلحے، ٹیکنالوجی، للکار یا تعداد سے نہیں بلکہ ایمان، حوصلے اور اللہ کی مدد سے حاصل ہوتی ہے۔ بھارت نے رافیل طیاروں، عددی برتری اور جدید جنگی سازوسامان کے غرور میں پاکستان پر جنگی جارحیت کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ اللہ تعالی نے ایک بار پھر حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کر دیا۔ پاکستان نے وہ تاریخ رقم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی اور دشمن کو پیغام دیا کہ خون دل دے کر نکھاریں گے رخ برگی گلاب خون دل دے کر نکھاریں گے رخ برگی گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔ صدر عالی وقار! ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو قدرت حق کے سپاہیوں کو بیدار کر دیتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے۔ پاکستان نے بھارتی جارحیت کو خاموشی سے نہ صرف برداشت کیا بلکہ صبر ایمان اور حکمت کے ساتھ بھرپور جواب دیا۔ آپریشن بنیادن مخصوص کے تحت پاکستانی افواج نے دشمن کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ زمین کانپی اور اسمان گواہ ہوا۔ کہ سچ ہمیشہ غالب آتا ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف۔ گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی۔ جناب صدر! دوسرے ملک کی فضا میں جانا، وہاں جا کر ائیر ڈیفنس سسٹم سے بچنا، دشمن ملک کی فضائیہ سے بچنا اور ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانا اس کو پاک فضائیہ کہتے ہیں۔ جرات اور بہادری کے کارنامے پر اج کا دن ہم اپنے شاہینوں کے نام کرتے ہیں۔ میں چپ تھا کہ برباد نہ ہو جائے گلشن کا سکوں۔ میں چپ تھا کہ برباد نہ ہو جائے گلشن کا سکوں۔ نادان یہ سمجھ بیٹھے کہ مجھ میں قوت للکار نہیں ۔ صدر ذی وقار! جنوبی ایشیا میں ایک نیا سورج طلوع ہوا۔ صرف ایک رات میں اس خطے میں فضائی برتری کا توازن بدل گیا۔ مورخ لکھے گا کہ پاکستان ایمان، شجاعت اور برداشت کے ساتھ بہادری اور دلیری کی تاریخ لکھ گیا۔ ایک ایسا ملک جس نے بھارتی فضائیہ کو روکا اور ثابت کیا کہ دفاع صرف تعداد سے نہیں بلکہ تحمل اور درستگی سے ہوتا ہے۔ جنگ للکار اور نعروں سے نہیں بلکہ حکمت عملی اور قوت بازو سے جیتی جاتی ہے۔ باطل سے دبنے والے اے اسماں نہیں ہم۔ سو بار کر چکا ہے تو امتحان ہمارا۔ صدر عالی وقار! مودی کا خواب تھا پاکستان کو مٹا دینا اور اسے تقسیم کرنا۔ پاکستان کو نیچا دکھانا اور بھارت کی علاقائی برتری کو مستحکم کرنا۔ یہ سب کچھ جدید طیاروں اور جنگی سازو سامان کے غرور کی بدولت تھا۔ یہ طلسم ٹوٹ گیا اور بھارت کا غرور دب چکا ہے۔ ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ تزویراٹی نقشہ بدل چکا ہے۔ مودی کی غلطی خطے میں نئے طاقت کے توازن کا اغاز ہے۔ جناب صدر! یوم معرکہ حق پر ہم اپنی افواج پاکستان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے۔ یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے۔ جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی۔ دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا۔ سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی۔ شکریہ۔

Best speech on Bunayan Marsoos | Speech on Maarka e Haq | War 2025 | Youme Maarka-e-Haq | معرکہ حق
Pacific learning zone
5m 23s663 words~4 min read
Auto-Generated
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


