[0:08]اس کا رشتہ نہ ہونے کا باعث اس کا ابا تھا. اس کا رشتہ نہ ہونے کا باعث اس کا ابا تھا. سب ہری ہان تھے اس نے ایسا ابا کہاں سے لبھا تھا؟
[0:26]اس جگہ پر سارے لوکی منتیں منگنے آئے۔ اس جگہ پر سارے لوکی منتیں منگنے آئے۔ پچھلے وارے جا پہلا ککڑ دبا تھا۔ اب ایک فنی تقریر کے لیے کیونکہ یہ فن کالا ہے سریہ صاحب گھر میں بھی ہوتے ہیں اور کانسپٹ میں تو میری وجہ سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ تو اس وقت اپ کو انجوائے کروانا ہے اپ کر رہے ہیں۔ دوستو ایک تقریر کے لیے فرسٹ ایئر کے اصف علی کو دعوت دیتا ہوں۔ پلیز ویلکم اینڈ جوائن اس۔ مسٹر اصف علی فرام فرسٹ ایئر۔
[1:08]بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ جناب صدر محترم اساتذہ کرام اور میرے سامنے بیٹھی کولی گوری کالی نیلی پیلی اونچی لمبی۔ شخصیتوں کو سلام۔ اور میرے ہم مکتب بھائیوں اور ان کی بہنوں کو بھی سلام۔ جناب اعلی جب میں نے کل کواڈینیٹر کو فون کیا اور کہا مجھے ذرا کل کے موضوعات بتا دیجئے تو انہوں نے کہا ابھی بتا دیتے ہیں۔ نمبر ایک یہ تیرے بس کی بات نہیں۔ نمبر دو دنیا میں ٹھکانے دو ہی ہے۔ نمبر تین اور منظر بدل گیا۔ اب تیرا کیا ہوگا کالیا۔ جناب اعلی ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرا دوست جس کا اسم گرامی پپو عرف کالیا۔
[2:07]اس نے مجھے اپنی دکھ بھری داستان سنائی تو میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں اسی ٹوپک کے تقریر کروں گا۔ جناب اعلی کالا ہونے کے دو بہت بڑے فائدے ہیں۔ کالا دنیا کا وہ واحد رنگ ہے جو ہر رنگ پہ چڑھ جاتا ہے۔ اور دوسرا کالے بندے کو اپ سورج غروب ہونے کے بعد دیکھ نہیں سکتے صرف محسوس کر سکتے ہیں۔ جناب اعلی میری اج کی تقریر میرے اس دوست کے نام جس کا نام پپو عرف کالیا۔ میری اج کی تقریر اس دن کے نام کہ جس دن پپو پیدا ہوا۔ میری اج کی تقریر لاہور کی ان خوبصورت لڑکیوں کے نام۔ جو یہاں پائی ہی نہیں جاتی۔ میری اج کی تقریر اس مینجمنٹ کے نام جنہوں نے لگتا ہے پروگرام کے ساتھ ساتھ ولیمے کا بھی ٹچ دیا ہوا ہے۔ جناب اعلی تو بات شروع کرتے ہیں یوم پیدائش سے 30 اگست 2002 اماوس کی رات تھی ہر طرف گھپ اندھیرا۔ اماوس کی رات تھی ہر طرف گھپ اندھیرا بجلی معمول کے مطابق غیر حاضر۔ کالے کوٹ والے اگلے دن یوم سیاہ منانے کا ارادہ رکھتے تھے کہ گنگا رام ہاسپٹل میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ گنگا رام ہاسپٹل میں سناٹا چھایا ہوا تھا مریض گھوڑے بیچ کے سوئے ہوئے تھے کہ اچانک زچہ بچہ خانے میں سے خاموشی نے دم توڑا۔ اور پورا ہسپتال استغفر اللہ استغفر اللہ کی اوازوں سے گونج اٹھا۔ نفسا نفسی کا عالم نفسا نفسی کا عالم نہ باپ کو بیٹے کی فکر نہ بہن کو بھائی کی فکر۔ جناب علی وہاں کوئی بمب نہیں پھٹا۔ نہ ہی جناب علی وہاں کوئی خودکش حملہ اور گھسا۔ جناب علی وہاں میرا دوست پپو عرف کالیہ پیدا ہوا۔ جناب علی اس کے باپ کو یہ بات ناگوار گزری اور ہڑبڑا کے اپریشن تھیٹر کی طرف بڑا جہاں سے ہستک ایٹل کرسی پڑتی ہوئی نرس باہر ائی کہتی ہے بھائی جان بندہ کالا ہوتا ہے۔ بندہ شدید کالا ہوتا ہے۔ بندہ توت کالا ہوتا ہے پر یہ کیا ہوتا ہے۔ جناب اعلی یہ در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد میرے دوست کو ٹی وی پر کام کرنے کا بہت شوق تھا۔ چچا وہ ٹی وی پر گیا ٹی وی پر گیا اور اس نے ایڈیشن دینے کے لیے گیا تو وہاں ایک بندہ اس سے یوں مخاطب ہوتا ہے پپو صاحب ایک اپ کو بات نہ بتائیں۔ بتا دیتے ہیں کام ائے گی۔ اپ کا سائز ٹی وی کے حساب سے قدر زیادہ ہے اور ٹی وی کا سائز اپ سے بہت چھوٹا۔ چلو اس نے سینما کا رخ کیا۔ مجھے اج بھی وہ یاد ہے وہ دن۔ نہ تاروں نے ڈوبنے سے انکار کیا نہ سورج نے طلوع ہونے سے انکار کیا۔ چڑیاں چہچہا رہی تھی کہ کوے بیت الخلا سے ہو ائے تھے اور وہ گھر سے نکلا۔ ایڈیشن دیا ایک کیمرہ ادھر ایک کیمرہ ادھر نہ جانے کتنے کلو الیکٹران اس کے منہ پر مارے گئے اور اخر کار وہ سلیکٹ ہو گیا۔ وہ تو بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ فلم یا ڈرامہ نہیں وہ تو فیر اینڈ لولی کی ایڈ تھا۔ جس میں اس کی تصویر کے ساتھ ایک میرے جیسا خوبصورت نوجوان کی تصویر لگائی۔ خوبصورت نوجوان کی تصویر اس اس کی تصویر پر لکھا استعمال سے پہلے استعمال کے بعد۔ یہی نہیں کہ مفکر اسلام نے صدقہ خیرات کی اپیل کی اور کہا قوموں پر ایسی بلائیں اتی جاتی رہتی ہیں لہذا گھبرائیے گا نہیں حکومت پاکستان نے اس دن یوم سیہ نہیں بلکہ یوم کالا سیاہ منانے کا ارادہ کیا تھا۔ اور پھر جناب اعلی اس نے ایک در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد پرچون کی دکان کھول لی۔ وہاں بھی اس کے ساتھ کچھ یوں ہوا کہ ایک بندہ ایا کہتا ہے بھائی جان دال کس طرح لگائی ہے۔ کہتا ہے 80 روپے کلو۔ کہتا ہے ذرا ہاتھ دھو کر دو کلو پیک کر دیجیے۔ جناب اعلی وہاں اس کا دل مایوس ہوا اس نے بہت بڑا بزنس سٹارٹ کیا۔ جی ہاں بہت بڑا بزنس اس نے تیل کی فیکٹری نہیں ریڈی لگائی۔ وہاں بھی اس کے ساتھ کچھ یوں ہوا کہ ایک بندہ ایا کہتا ہے بھائی جان تیل اصلی ہے۔ کہا جی ہاں بالکل اصلی ہے۔ جی ہاں بالکل اصلی ہے نہیں یقین تو چیک کر لیجئے گا۔ لہذا اس نے ماچس نکالی جناب اس نے ماچس نکالی اور چیک کیا۔ تیل واقعی اصلی نکلا۔ اور پپو کالا جہاں جہاں سے نہیں بھی کالا تھا وہاں سے بھی کالا ہو گیا۔ جناب اعلی میرا دوست پوچھیں اب اس کا کیا ہوگا۔ میرا دوست پروفیسر ہے۔ کالے علم کا۔ میرا دوست جناب اعلی میرا دوست کے پیچھے لیکس والی کمپنی بھاگ رہی ہے کہ انہیں ڈر ہے کہیں ان کا صابن نہ استعمال کر لے۔ جناب اعلی میرا دوست تو سپرائٹ نہیں پی سکا اور ہاتھ لگائیں تو کوک ہو جاتی ہے۔ اور اخر پہ یہی کہوں گا کیا ہوا اگر اس کا رنگ ہے کالا۔ کھاتا ہے وہ بھی بسکٹ ڈالا اسے بھی اس قوم کی گوشے محبت نے پالا۔ بزرگ جن کے چلایا کرتے تھے ایم ایل سی کا ڈالا نہ لگ سکے گا اج میرے منہ کو تالا۔ ہر پر پھر بھی پپو گینگ سالا پپو گینگ سالا۔



