Thumbnail for Amazing Miracles of Laylatul Qadr & Einstein’s E=MC² | A Hidden Connection? by Infomentry

Amazing Miracles of Laylatul Qadr & Einstein’s E=MC² | A Hidden Connection?

Infomentry

9m 59s1,529 words~8 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]کیا اپ نے کبھی سوچا ہے کہ جس دنیا کو ہم اپنی انکھوں سے دیکھتے ہیں جسے ہم چھوتے ہیں جسے ہم حقیقت سمجھتے ہیں شاید وہ حقیقت ویسی نہیں جیسی ہمیں نظر اتی ہے یہ زمین یہ پہاڑ یہ سمندر اور حتی کہ ہمارا اپنا جسم سائنس کہتی ہے کہ یہ سب مادہ ہے لیکن 20ویں صدی میں ایک سائنسدان نے ایک ایسا انکشاف کیا جس نے اس تصور کو بدل کر رکھ دیا اس سائنسدان کا نام تھا البرٹ ائنسٹائن اس نے ایک چھوٹا سا فارمولا پیش کیا ای ایکلز ایم سی سکوار یہ فارمولا بظاہر بہت سادہ ہے لیکن اس کے اندر کائنات کا ایک بہت بڑا راز چھپا ہوا ہے یہ فارمولا کہتا ہے کہ مادہ اور توانائی دراصل ایک ہی چیز کی دو شکلیں ہیں یعنی جو چیز ہمیں ٹھوس نظر اتی ہے وہ دراصل توانائی کا مرتکز روپ ہے اگر مادے کو توڑا جائے تو اس سے بے حد طاقتور توانائی پیدا ہو سکتی ہے یہی اصول ایٹمی توانائی میں استعمال ہوتا ہے یہی اصول سورج کے اندر بھی کام کر رہا ہے لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اگر مادہ دراصل توانائی ہے تو پھر یہ توانائی ائی کہاں سے جدید سائنس کہتی ہے کہ کائنات کی ابتدا ایک عظیم دھماکے سے ہوئی جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ایک لمحہ ایسا ایا جب بے پناہ توانائی وجود میں ائی پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ توانائی مادے میں تبدیل ہوتی گئی ستارے بنے کہکشائیں بنی سیارے بنے اور اخر کار زمین پر زندگی پیدا ہوئی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ قران مجید صدیوں پہلے ایک مختلف انداز میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے قران میں اللہ تعالی فرماتے ہیں انما امرہ اذا اراد شی ان يقول له كن فيكون یعنی جب اللہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف کہتا ہے ہو جا اور وہ چیز وجود میں ا جاتی ہے یہاں ایک اہم لفظ استعمال ہوا ہے وہ لفظ ہے امر قران میں ایک اور جگہ خاص طور پر لیلتہ القدر کے بارے میں فرمایا گیا ہے یعنی اس رات فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے ساتھ نازل ہوتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ امر کیا ہے ظاہری طور پر اس کا مطلب اللہ کا حکم ہے لیکن کچھ روحانی علماء کہتے ہیں کہ امر صرف ایک لفظی حکم نہیں بلکہ اللہ کی تخلیقی طاقت بھی ہو سکتی ہے یعنی وہ طاقت جس کے ذریعے کائنات وجود میں اتی ہے اسلامی روحانیت میں ایک اور تصور بھی موجود ہے اور وہ ہے نور کا تصور بعض روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ نے سب سے پہلے نور کو پیدا کیا اور وہ نور تھا پرافٹ محمد کا نور اگر ہم اس تصور کو سادہ انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں تو ایک حیران کن بات سامنے اتی ہے کائنات کی بنیاد توانائی ہے اور روحانیت کی زبان میں نور بھی ایک طرح کی توانائی کی علامت سمجھا جا سکتا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ کائنات کی اصل بنیاد نور اور توانائی ہو اور کیا لیلتہ القدر وہ لمحہ ہے جب اسمان سے اللہ کا امر زمین کی طرف نازل ہوتا ہے اگر ایسا ہے تو شاید ہم ایک بہت بڑی حقیقت کے قریب کھڑے ہیں ایک ایسی حقیقت جو سائنس اور روحانیت کو اپس میں جوڑتی ہے لیکن اس کہانی کا سب سے حیران کن حصہ ابھی باقی ہے کیونکہ جب ہم نور توانائی اور کائنات کے راز کو مزید گہرائی سے دیکھتے ہیں تو ہمیں ایسے اشارے ملتے ہیں جو انسانی سمجھ سے کہیں زیادہ بڑے ہیں اور شاید اسی لیے لیلتہ القدر کو قران میں ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ اس رات کائنات کے وہ راز زمین پر اترتے ہوں جنہیں انسان ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں پایا اور اصل سوال یہی ہے کیا انسان کبھی واقعی نور کی حقیقت کو سمجھ پائے گا یا یہ راز ہمیشہ اللہ کے علم میں ہی پوشیدہ رہے گا جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ حرکت میں ہے ہر ایٹم کے اندر توانائی کی لہریں موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ جب سائنسدانوں نے ایٹم کو توڑا تو اس کے اندر سے بے پناہ توانائی خارج ہوئی اسی اصول پر دنیا میں ایٹمی توانائی وجود میں ائی اسی حقیقت کو البرٹ ائنسٹائن نے ایک سادہ فارمولا میں بیان کیا تھا ای از ایکول ٹو ایم سی سکوئر یعنی مادہ دراصل توانائی ہے لیکن جیسے جیسے سائنس اگے بڑھتی گئی ایک اور حیران کن سوال سامنے ایا اگر کائنات توانائی سے بنی ہے تو پھر اس توانائی کو کنٹرول کون کر رہا ہے کیونکہ کائنات میں ہر چیز ایک حیران کن ترتیب کے ساتھ چل رہی ہے زمین سورج کے گرد گھومتی ہے چاند زمین کے گرد گردش کرتا ہے اور اربوں کہکشائیں ایک عظیم نظام کے اندر حرکت کر رہی ہیں یہ سب کچھ اتنا منظم ہے کہ سائنسدان بھی حیران رہ جاتے ہیں یہاں روحانیت ایک اور زاویہ پیش کرتی ہے قران ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات کا نظام اللہ کے امر سے چل رہا ہے اور خاص طور پر ایک رات ایسی ہے جسے قران نے انتہائی اہم قرار دیا ہے وہ رات ہے لیلتہ القدر اس رات کے بارے میں قران کہتا ہے تنزل الملائکہ والروح فیها باذن ربهم من کل امر یعنی اس رات فرشتے اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے ساتھ زمین پر نازل ہوتے ہیں یہ ایت ایک بہت بڑا راز بیان کرتی ہے کیونکہ اس میں صرف فرشتوں کے نزول کی بات نہیں کی گئی بلکہ امر کے نزول کی بات کی گئی ہے کچھ علماء کہتے ہیں کہ اس سے مراد اللہ کے فیصلے ہیں لیکن بعض روحانی مفسرین کے مطابق امر کائنات کی وہ طاقت بھی ہو سکتی ہے جس کے ذریعے یہ نظام چلایا جاتا ہے اگر ہم اس تصور کو ایک مثال سے سمجھیں تو یوں کہہ سکتے ہیں جیسے ایک بہت بڑا کمپیوٹر سسٹم ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک مرکزی پروگرام ہوتا ہے جو ہر چیز کو کنٹرول کرتا ہے اسی طرح ممکن ہے کہ کائنات بھی ایک عظیم نظام ہو جو اللہ کے امر کے تحت چل رہا ہو اور لیلتہ القدر وہ لمحہ ہو جب اس نظام کے نئے فیصلے زمین تک پہنچائے جاتے ہوں اسی لیے قران کہتا ہے لیلتہ القدر خیر من الف شہر جب ہم نور توانائی اور انسانی شعور کے تعلق کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک اور حیران کن سوال ملتا ہے کیا انسان خود بھی نور اور توانائی کا ایک نظام ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا انسان کبھی اس حقیقت کو سمجھ کر کائنات کے رازوں تک پہنچ سکتا ہے یا یہ راز ہمیشہ صرف اللہ کے علم میں ہی رہے گا شاید جواب ابھی باقی ہے لیلتہ القدر یعنی فیصلے یا تقدیر کی رات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں قران میں اس کے خاص نشانات دیکھنے ہوں گے سب سے پہلے سورہ قدر میں غور کریں یہ سورہ 30 الفاظ پر مشتمل ہے جو رمضان کے مہینے کے ممکنہ دنوں کی علامت ہیں کیونکہ ایک قمری مہینہ زیادہ سے زیادہ 30 دن کا ہوتا ہے اور اس کی درست مدت 29.53059 دن ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سورہ کا 27واں لفظ حی ایک مؤنث ضمیر ہے جو لیلتہ القدر کی طرف اشارہ کرتا ہے اگر ہم سورہ 97 کے الفاظ کو اخر سے گنتے ہیں تو 27واں لفظ پہلے لفظ رات میں اتا ہے جو لیلتہ القدر کے جملے کا حصہ ہے لیلتہ القدر ایک نو حروف والا لفظ ہے جو نوے مہینے یعنی رمضان کی علامت کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے یہ سورہ میں تین بار اتا ہے یعنی 27 برابر تین ضرب نو اور قران کے باقی حصوں میں کہیں نہیں اتا اس طرح پورے سورہ میں 27 حروف لیلتہ القدر کے لیے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ رمضان کی 27ویں رات ہے مزید برا قران میں لیلتہ القدر کا اخری ذکر سورہ 97 کی ایت نمبر تین میں ہوا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ سورہ 97 25واں پرائم نمبر ہے اخری ذکر کی ایت تین نمبر دوسرا پرائم نمبر ہے 25 جمع دو برابر 27 یہ ایک رمزی اشارہ ہے کہ سورہ اور ایت کے نمبر 27ویں رات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جبکہ اس کے علاوہ ایک اور رات کا ذکر قران میں سورہ 44 کی ایت نمبر تین میں ملتا ہے لیلتہ مبارکہ ایک بابرکت رات یہ بھی نو حروف والا جملہ ہے لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ قران میں رات کے ذکر کے دو مختلف گروہ ہیں لیلتہ القدر کا گروہ برابر 27 حروف سورہ 97 ایک بابرکت رات کا گروہ برابر نو حروف سورہ 44 یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ لیلتہ القدر کی 27 حروف والی ترتیب اور سورہ 44 کی نو حروف والی بابرکت رات الگ الگ گروہوں میں اتی ہیں اور دونوں کا قران میں خاص رمزی مطلب ہے اگلی بار جب اپ رات کے اسمان کی طرف دیکھیں گے تو اپ کو صرف ستارے نظر نہیں ائیں گے بلکہ اپ کو محسوس ہوگا کہ یہ پوری کائنات ایک عظیم راز ہے اور اس راز کی کنجی صرف اس کے خالق کے پاس ہے

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript