[0:00]انتظار کی گھڑیاں ختم اب اپ حضرات کے سامنے تشریف لاتے ہیں۔ نعرہ ختم نبوت زندہ باد نعرہ قران زندہ باد نعرہ قران زندہ باد قیامت تک زندہ رکھیں گے۔ ان شاءاللہ۔ شہزادہ اہل سنت خطیب اہل سنت وکیل اہل سنت ہم سب کے دلوں کی دھڑکن ایک نہیں، سو نہیں، ہزار نہیں، لاکھوں دلوں کی دھڑکن تشریف لاتے ہیں اپ حضرات کے نعروں کے استقبال میں حضرت مولانا ڈاکٹر پروفیسر قاضی مطیع اللہ سعیدی صاحب نعرہ تکبیر اللہ اکبر نہیں نہیں ایسے استقبال نہیں کرنا۔ اپ کے ہاتھ لہراتے ہوں اللہ کی تکبیر کا نعرہ ہے ہاتھ اٹھائیں پوری جرات کے ساتھ نعرہ تکبیر اللہ اکبر در و دیوار سے آواز ائے بلند آواز سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر تاجدار ختم نبوت زندہ باد دو دفعہ تاجدار ختم نبوت زندہ باد دو مرتبہ زندہ باد زندہ باد تاجدار ختم نبوت زندہ باد زندہ باد شان صحابہ زندہ باد عظمت صحابہ زندہ باد شان اہل بیت زندہ باد ڈاکٹر قاضی مطیع اللہ سعیدی الحمد للہ وحدہ والصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ لا رسالت بعد رسالتی ولا نبوت بعد نبوتی ولا کتاب بعد کتابی ولا شریعت بعد شریعتی ولا معصوم بعد عصمتی ولا سنت بعد سنتی ولا امامت بعد امتی اما بعد فقد قال اللہ تبارک وتعالیٰ فی کلامہ المجید والفرقان الحمید اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ان ھذا القرآن یہدی للتی هی اقوم صدق اللہ مولانا العظیم درود شریف کی تلاوت فرما لیں۔
[2:29]اللهم صل علی روضہ محمد فی الریاض اللهم صل علی بلاد محمد فی البلاد اللهم صل علی قبر محمد فی القبور اللهم صل علی جسد محمد فی الاجساد اللهم صل علی روح محمد فی الارواح اللهم صل علی نور محمد فی الانوار صلاۃ تکون للنجاة وسیلة وعلو درجات کفیلہ صلاۃ تلو بھا العقد و تفرج بھا القرب یارب صل وسلم دائما ابدا علی حبیب خیر الخلق کلہم حبیب الذی ترجی شفاعتہ من الاحوال مقتمین قابل صد تعظیم جامعہ مسجد مدینہ لاہور کے غیور سنی دوستوں
[3:41]آج کی اس پر وقار تقریب میں مدیر جامعہ زا حضرت مولانا قاری محمد زاہد نعمان حفظہ اللہ انہوں نے بڑی محبت سے عزیزم حافظ سمیع اللہ فاروقی کی وساطت سے دعوت دی میں حاضر ہوگیا۔ اللہ رب العزت ہم سب کا یہاں جمع ہونا اپنی رضا کے لیے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمین اور یہاں اپ نے دیکھا کہ دارالقران کے وہ طلباء جنہوں نے لارہیب کتاب کو اپنے سینے میں محفوظ کیا ہے ان کی دستار بندی ہوئی انہیں شیلڈ سے نوازا گیا۔ ان کے والدین میں سے کچھ یہاں پر موجود ہوں گے یقینا آج وہ خوش ہوں گے۔ کہ ان کے بچوں کے سروں پر دستار فضیلت رکھی گئی ہے۔ یہ ایک تقریب ہے جس میں اپ تشریف فرما ہیں علماء تشریف فرما ہیں میں حاضر ہوا ہوں۔ ان بچوں کے اعزاز میں اور ان کے والدین کے اعزاز میں ایک بہت بڑی تقریب ہونے والی ہے۔
[5:25]قران مجید مجھ سے قبل آپ یقینا اس موضوع پر حضرات نے گفتگو فرمائی ہوگی اپ نے سنی ہوگی۔ میں نے تو بیانات جو پہلے ہوئے وہ نہیں سماعت کر کر سکا۔
[5:42]قران مجید اللہ رب العزت کی لاریب کتاب ہے بےعیب کتاب ہے۔ اور اللہ رب العزت فرماتے ہیں نون والقلم وما یسطرون نون حروف مقطعات میں سے ہے والقلم اللہ فرماتے ہیں مجھے قلم کی قسم۔ لکھیں ہوئی سطروں کی قسم سطریں لکھنی تھی تو پہلے قلم بنایا۔ اور علماء نے لکھا ہے کہ حضرت آدم کو بنانے سے 50 ہزار سال پہلے اللہ نے قران لکھا۔ لیکن میں اپنے ذوق میں اپ تک جملہ یوں عرض کرنا چاہوں گا مجھ ناچیز سے پوچھو تو عرض کروں۔ آدم کا صحیفہ بعد میں لکھا نوح کا سفینہ بعد میں لکھا ابراہیم کا کرینہ بعد میں لکھا یوشع کا جہد بعد میں لکھا الیاس کا تقوی بعد میں لکھا موسی کا جلال بعد میں لکھا یوسف کا جمال بعد میں لکھا دن اور رات بعد میں لکھے تدبیر اور تقدیر کے فیصلے بعد میں لکھے سب سے پہلے زہرہ کے بابا کے لیے قران لکھا۔ سبحان اللہ نون والقلم وما یسطرون لاریب کتاب بےعیب کتاب اپ یقینا اب میری بات سن رہے ہیں جی لفظ پہنچ رہے ہیں آپ تک جی اس علاقہ میں میں پہلی دفعہ آیا نا تو میں پریشان تھا کہ پتہ نہیں تعارف ہے نہیں ہے اور آپ پریشان ہوں گے کہ اتنے زیادہ مولوی اکٹھے کیوں بلا لیے مولانا زاہد نعمان صاحب نے۔
[7:47]موبائل خریدتے ہوں گے۔ اور نیا بھی لیتے ہوں گے موبائل یا میری طرح سیکنڈ ہینڈ لیتے ہیں پن پیک بھی خریدتے ہوں گے۔ تو جب آپ اسے پن پیک خریدتے ہیں نا ڈبہ کھولیں گے اس میں ایک چھوٹی سی کتاب ہو گی۔
[8:08]ہوتی ہے آپ ریفریجریٹر خریدتے ہیں نیا فرج اس میں ایک چھوٹی سی کتاب ہے۔ کوئی اور ایسی مشینری خطیب خریدتے ہیں ساتھ کمپنی ایک کتاب دیتی ہے۔ وہ کتاب کیا ہے۔ وہ کتاب آپ کو بتاتی ہے کہ یہ مشین کیا ہے۔ کیوں ہے کس لیے ہے کیسے چلے گی رک جائے گی تو چلانی کہاں سے ہے۔ خراب ہو گئی تو ٹھیک کیسے کرنی۔ ایسے ہی ہے نا بے شک ہر کمپنی صاحبان تھوڑی سی توجہ رکھیے گا پھر میں انشاءاللہ اس طرف بھی ا جاؤں گا جو آپ چاہ رہے ہیں۔ ہر کمپنی جو چیز بنائے وہ ساتھ ایک کتابچہ بناتی ہے۔ ایک پمفلٹ تیار کرتی ہے جس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ مشین ہے کیا ہے۔
[9:10]اگلی بات یہ ہے کہ یہ مشین کیا ہے کیوں ہے کس لیے ہے کیسے چلے گی کہاں رکے گی رک گئی تو چلانی کیسے ہے۔ اب میرا جملہ اگر اپ تک پہنچ جائے تو فیڈ بیک تھوڑا سا مجھ تک پہنچا دیجیے گا۔ اللہ رب العزت نے یہ جو چھ فٹ کی ایک مشین بنائی ہے نا ساتھ یہ کتاب قران بھیجا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے بے شک سبحان اللہ اس اس قران نے مجھے بتانا ہے کہ یہ مشین کیا ہے پریشان ہو گئے ہو۔ میں بتاؤں گا آپ کو ڈھونڈ کے قران سے بتاؤں گا انشاءاللہ۔ اس کتاب نے مجھے بتایا کہ یہ مشین کیا ہے کیوں ہے کس لیے ہے۔ یہ خراب ہو جائے گی تو ٹھیک کیسے کرنا ہے۔ وہ یہ کتاب نے مجھے بتایا۔ کیوں ایک حفاظ کے اعزاز میں تقریب رکھی گئی اور قران سے منسلک ہے۔ یہ عمارت ہے اس کا ایک تعارف ہے۔ یہ شہر ہے اس کا ایک تعارف ہے۔ میں حاضر ہوا میرا ایک تعارف ہے یہاں جتنے حضرات آپ تشریف فرما ہیں سب کا ایک تعارف ہے۔ حضرت مفتی صاحب تشریف فرما ہیں ان کا ایک تعارف ہے۔ حضرت شاہ جی تشریف فرما ہیں ان کا ایک تعارف ہے حضرات علماء بیٹھے ہیں سب کا ایک تعارف ہے۔ قران کا تعارف کیا ہے۔ چوم لیتے ہیں ہم سبھی بس یہی ہے کافی ہے۔ اسے پڑھنے سے ثواب ملتا ہے۔ یہ ہے ہمارا قران سے تعارف ہے ایک دکان بنائی مکان بنایا مدرسے سے بچے بلا لیے خیر و برکت کے لیے یہ ہمارا ایک تعارف ہے۔ یہ یہ میں اور آپ سمجھتے ہیں۔ قران سے تو پوچھیے قران تیرا تعارف کیا ہے۔ تھوڑا سا بولیے میرے ساتھ قران سے تو پوچھیے قران تو کیوں آیا ہے۔ اور یہ کیوں یہ اس لیے پوچھنا ضروری ہے کہ قران کا دعوی ہے ان هذا القران يهدي التي هي اقوم قران کہتا ہے جو میرے سینے میں ائے جو میرے سفینے میں ائے جو میرے کرینے میں ائے میں اسے دنیا کے گٹا ٹوپ اندھیروں سے اٹھا کر بام ثریا کی بلندیوں تک پہنچا دے گا۔ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ قران سے تو پوچھیے قران تو کیوں آیا ہے۔ اور میں نے جب قران سے پوچھا قران تو کیوں آیا تو اللہ رب العزت نے تین لفظ بیان فرمائے تین لفظ میں شاید اس میں سے ایک ہی سنا سکوں تین لفظ اللہ نے بیان فرمائے اللہ فرماتے ہیں حد الناس۔ جی اس قوم نے کہا کہ صحابہ تمہاری ڈیوٹی ہے دین تمہارا ہے۔
[11:47]وبينات من الهدی والفرقان تین لفظ حد الناس اللہ فرماتے ہیں یہ ہدایت ہے انسانوں کے لیے۔ کیوں ہدایت ہے وبينات من الهدی والفرقان ہدایت کی نشانیاں لے کر ائے فرقان اللہ فرماتے ہیں اسے میں نے فرقان بنایا ہے سمجھنا اسے میں نے فرقان بنایا فرقان کہتے ہیں فرق کرنے والا۔ اللہ فرماتے ہیں یہ ملی جلی بات نہیں رہنے دیتا یہ فرق کر دیتا ہے سچ علیحدہ کر دیتا ہے جھوٹ علیحدہ کر دیتا ہے کھرا علیحدہ کر دیتا ہے کھوٹا علیحدہ کر دیتا ہے مومن علیحدہ کر دیتا ہے منافق علیحدہ کر دیتا ہے۔
[12:32]تھوڑے تھوڑے پریشان ہو رہے ہو جبکہ میں پریشان نہیں کرنے آیا ہوں اپ کو مسکرائیے تھوڑا سا مسکرا کے کہو سبحان اللہ۔ اگر کوئی میرا پروگرام لائیو چلا رہا ہے تو اسے لائیو چلانے کی اجازت نہیں ہے ریکارڈنگ کر سکتے ہیں آپ لائیو چلانے کی اجازت نہیں لائیو چلانے کا مطلب تو یہ ہے کہ میاں تم اپنے گھر میں ٹھہرو مسجد میں آنے کی ضرورت نہیں۔ پتا نہیں میری بات سمجھ ائی ہے کہ نہیں میری اکثر باتیں قوم کو اگلے سال سمجھ اتی ہے۔ لائیو چلانے کا مطلب یہ ہے کہ میاں اپنے گھر میں رضائی لے کر لحاف لے کر مونگ پھلی اور چلوزے کھاؤ بچوں کے ساتھ بیٹھ کے مسجد میں آنے کی ضرورت نہیں۔ ریکارڈنگ کر سکتے ہیں آپ لائیو چلانے کی اجازت اخلاقی طور پر نہیں ہے اگر کوئی چلاتا ہے تو وہ خیانت کر رہا ہے حشر کے دن پوچھ لوں گا۔
[14:13]صاحبان میں نے یہ جملہ اپنی طرف سے نہیں بولا ام المومنین سیدہ عائشہ کے دروازے پر صحابی پوچھنے کے لیے آتا ہے۔ حضور کا اخلاق تو بتائیے حضور کی سیرت تو بتائیے تو ام عائشہ جواب دیتی ہے کیا تو نے قران نہیں پڑھا قران پڑھ لے جیسا قران ہے ویسا محمد ہے۔ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے کہ یہ عجیب جملہ ہے۔ آپ حضرات سے سنتے رہتے ہیں نا کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہیں یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالہ وہ قران بھی نرالہ یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے۔ فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
[17:02]یہ لفظ وہ معنی سبحان اللہ سبحان اللہ کہے دو ذرا سبحان اللہ اور یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہے کیا تو نے قران نہیں پڑھا جیسی کتاب قران ہے ویسا نبی محمد ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قران کو صرف ثواب کی کتاب بنا کے بیٹھ گئے ہیں۔ مردے بخشوانے کے لیے قران پڑھنے کی ایک کتاب ہے صرف یہ کتاب جو ہے یہ مردوں کی کتاب ہے۔ جیسی قران ہے ویسا محمد ہے سبحان اللہ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے اپ حضرات سنتے رہتے ہیں۔ کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہے یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالا وہ قران بھی نرالا یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
[20:03]یہ لفظ وہ معنی سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ دو ذرا سبحان اللہ اور یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کیا تو نے قران نہیں پڑھا جیسی کتاب قران ہے ویسا نبی محمد ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قران کو صرف ثواب کی کتاب بنا کے بیٹھ گئے ہیں۔ مردے بخشوانے کے لیے قران پڑھنے کی ایک کتاب ہے صرف یہ کتاب جو ہے یہ مردوں کی کتاب ہے۔ جیسی قران ہے ویسا محمد ہے سبحان اللہ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے اپ حضرات سنتے رہتے ہیں۔ کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہے یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالا وہ قران بھی نرالا یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
[23:03]یہ لفظ وہ معنی سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ دو ذرا سبحان اللہ اور یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کیا تو نے قران نہیں پڑھا جیسی کتاب قران ہے ویسا نبی محمد ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قران کو صرف ثواب کی کتاب بنا کے بیٹھ گئے ہیں۔ مردے بخشوانے کے لیے قران پڑھنے کی ایک کتاب ہے صرف یہ کتاب جو ہے یہ مردوں کی کتاب ہے۔ جیسی قران ہے ویسا محمد ہے سبحان اللہ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے اپ حضرات سنتے رہتے ہیں۔ کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہے یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالا وہ قران بھی نرالہ یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے۔ فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
[26:07]یہ لفظ وہ معنی سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ دو ذرا سبحان اللہ اور یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کیا تو نے قران نہیں پڑھا جیسی کتاب قران ہے ویسا نبی محمد ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قران کو صرف ثواب کی کتاب بنا کے بیٹھ گئے ہیں۔ مردے بخشوانے کے لیے قران پڑھنے کی ایک کتاب ہے صرف یہ کتاب جو ہے یہ مردوں کی کتاب ہے۔ جیسی قران ہے ویسا محمد ہے سبحان اللہ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے اپ حضرات سنتے رہتے ہیں۔ کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہے یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالا وہ قران بھی نرالہ یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے۔ فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
[29:07]یہ لفظ وہ معنی سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ دو ذرا سبحان اللہ اور یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کیا تو نے قران نہیں پڑھا جیسی کتاب قران ہے ویسا نبی محمد ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قران کو صرف ثواب کی کتاب بنا کے بیٹھ گئے ہیں۔ مردے بخشوانے کے لیے قران پڑھنے کی ایک کتاب ہے صرف یہ کتاب جو ہے یہ مردوں کی کتاب ہے۔ جیسی قران ہے ویسا محمد ہے سبحان اللہ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے اپ حضرات سنتے رہتے ہیں۔ کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہے یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالا وہ قران بھی نرالہ یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے۔ فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
[32:07]یہ لفظ وہ معنی سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ دو ذرا سبحان اللہ اور یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کیا تو نے قران نہیں پڑھا جیسی کتاب قران ہے ویسا نبی محمد ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قران کو صرف ثواب کی کتاب بنا کے بیٹھ گئے ہیں۔ مردے بخشوانے کے لیے قران پڑھنے کی ایک کتاب ہے صرف یہ کتاب جو ہے یہ مردوں کی کتاب ہے۔ جیسی قران ہے ویسا محمد ہے سبحان اللہ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے اپ حضرات سنتے رہتے ہیں۔ کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہے یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالا وہ قران بھی نرالہ یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے۔ فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
[35:07]یہ لفظ وہ معنی سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ دو ذرا سبحان اللہ اور یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کیا تو نے قران نہیں پڑھا جیسی کتاب قران ہے ویسا نبی محمد ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قران کو صرف ثواب کی کتاب بنا کے بیٹھ گئے ہیں۔ مردے بخشوانے کے لیے قران پڑھنے کی ایک کتاب ہے صرف یہ کتاب جو ہے یہ مردوں کی کتاب ہے۔ جیسی قران ہے ویسا محمد ہے سبحان اللہ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے اپ حضرات سنتے رہتے ہیں۔ کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہے یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالا وہ قران بھی نرالہ یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے۔ فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
[38:07]یہ لفظ وہ معنی سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ دو ذرا سبحان اللہ اور یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کیا تو نے قران نہیں پڑھا جیسی کتاب قران ہے ویسا نبی محمد ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قران کو صرف ثواب کی کتاب بنا کے بیٹھ گئے ہیں۔ مردے بخشوانے کے لیے قران پڑھنے کی ایک کتاب ہے صرف یہ کتاب جو ہے یہ مردوں کی کتاب ہے۔ جیسی قران ہے ویسا محمد ہے سبحان اللہ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے اپ حضرات سنتے رہتے ہیں۔ کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہے یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالا وہ قران بھی نرالہ یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے۔ فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
[41:07]یہ لفظ وہ معنی سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ دو ذرا سبحان اللہ اور یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کیا تو نے قران نہیں پڑھا جیسی کتاب قران ہے ویسا نبی محمد ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قران کو صرف ثواب کی کتاب بنا کے بیٹھ گئے ہیں۔ مردے بخشوانے کے لیے قران پڑھنے کی ایک کتاب ہے صرف یہ کتاب جو ہے یہ مردوں کی کتاب ہے۔ جیسی قران ہے ویسا محمد ہے سبحان اللہ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے اپ حضرات سنتے رہتے ہیں۔ کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہے یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالا وہ قران بھی نرالہ یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے۔ فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
[44:07]یہ لفظ وہ معنی سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ دو ذرا سبحان اللہ اور یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کیا تو نے قران نہیں پڑھا جیسی کتاب قران ہے ویسا نبی محمد ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قران کو صرف ثواب کی کتاب بنا کے بیٹھ گئے ہیں۔ مردے بخشوانے کے لیے قران پڑھنے کی ایک کتاب ہے صرف یہ کتاب جو ہے یہ مردوں کی کتاب ہے۔ جیسی قران ہے ویسا محمد ہے سبحان اللہ اور ذرا کہیں سبحان اللہ یہ میں اپنی طرف سے جملہ نہیں بول رہا ہوں۔ بعض لوگوں کو یہ جملہ بڑا عجیب بھی لگتا ہے اپ حضرات سنتے رہتے ہیں۔ کہ قران مجید کا ترجمہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث نے لکھا حضرت لاہوری نے لکھا حضرت مدنی نے لکھا حضرت تھانوی نے لکھا فلاں نے لکھا فلاں نے لکھا میں اپنے ذوق میں کہا کرتا ہوں قران کا پہلا ترجمہ رب نے خود لکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے رب نے خود لکھا امنہ کے لال کی صورت میں عبداللہ کے در یتیم کی صورت میں تو پھر مجھے ذوق میں کہنے دے ایک یہ قران جو 30 پاروں میں بند ہے ایک یہ قران جو آپ کے گھروں میں ہے اور ایک وہ قران جو اماں عائشہ کے گھر میں ہے۔ میرا میرا میرا موقف میری میرا ذوق میرا تخیل یہ بھی قران ہے جو جہاں پہ بچوں نے پڑھا ہے اور اس قران کا ترجمہ ہے نا امنہ کا لال تو مجھے پھر کہنے دے وہ حضور بھی قران ہے یہ بھی قران وہ بھی قران یہ قران بھی اعلی وہ قران بھی اعلی یہ قران بھی بالا وہ قران بھی بالا یہ قران بھی نرالا وہ قران بھی نرالہ یہ قران بھی سچا وہ قران بھی سچا یہ قران بھی حسین وہ قران بھی حسین یہ قران بھی لاریب وہ قران بھی لاریب یہ قران بھی بےعیب وہ قران بھی بےعیب یہ بھی حسین جو 30 پاروں والا ہے۔ وہ بھی حسین جو والضحی کے چہرے والا ہے۔ فرق یہ اس قران کے پارے حسین اس قران کے نظارے حسین فرق یہ اس قران کی سطریں کالی اس قران کی زلفیں کالی فرق یہ یہ قران ہدایت وہ قران ہادی یہ قران وعظ وہ قران واعظ یہ قران رحمت وہ قران رحمت اللعالمین فرق یہ یہ قران نور وہ قران سراج منیر فرق یہ یہ قران لفظ وہ قران معنی یہ قران متن وہ قران تشریح یہ قران تشریح وہ قران تفسیر یہ قران کنایہ وہ قران تعریف یہ قران دعوی وہ قران دلیل یہ قران قندیل وہ قران تنویر یہ قران خاموش وہ قران بولتا ہوا یہ قران سینوں میں اترنے والا وہ قران روحوں میں اترنے والا یہ قران کتابوں کے سردار وہ قران نبیوں کے سردار جو اسے پڑھے قاری بنے جو اسے پڑھے صحابی بنے۔



