Thumbnail for Dr Israr Ahmad..💯💯 by Abdullah Shafiq Official

Dr Israr Ahmad..💯💯

Abdullah Shafiq Official

3m 0s595 words~3 min read
Auto-Generated

[0:00]ہم نے انسان کو محنت اور مشقت ہی میں پیدا کیا۔ محنت، مشقت، تکلیف یہ ہر انسان کا مقدر ہے۔ کرنی ہی ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی کی مشقت اور محنت جسمانی زیادہ ہے۔ اینٹیں ڈھو رہا ہے غریب۔ کسی چڑھا رہا ہے۔ کسی کی محنت مشقت ذہنی زیادہ ہوتی ہے۔ بیٹھا ہوا تو ہے آرام کرسی پر، ریوالونگ چیئر ہے، بڑی آرام دہ ہے، لیکن اس کی جو ذہنی مشقت جو وہ کر رہا ہے۔ جو جسمانی مشقت کرتا ہے۔ وہ رات کو پاؤں پھیلا کر سوتا ہے، چاہے روٹی بھی پوری نہ ملی ہو۔ لیکن اسے پتہ نہیں ہوتا رات کب گزر گئی۔ اور یہ دوسرے جو ہوتے ہیں انہیں رات کو بھی نیند نہیں آتی۔ مخملی گدوں پر بھی نہیں آتی۔ انہیں ضرورت ہوتی ہے ہپناٹکس کی بھی، سیڈیٹوز کی بھی، ٹرینکولائزر کی بھی، یہ ساری چیزیں وہاں چلتی ہیں۔ اس لیے کہ ان کی جو کوفت ہے وہ کسی اور قسم کی ہے۔ لیکن بچا ہوا کوئی نہیں ہے محنت مشقت۔ قرآن نے اتنی قسمیں کھا کر اللہ نے کہا ہے، ہم نے انسان کو، یہاں کسی انسان کی تخصیص نہیں ہے۔ محنت مشقت، اور اس محنت مشقت کے ساتھ اس میں غالب نے ایک اور رنگ داخل کیا ہے اس کے ساتھ غم بھی۔ مثلاً حیوان اور انسان میں کیا فرق ہے؟ بیل ہے وہ اوا لو چلا رہا ہے، مشقت تو وہ بھی کر رہا ہے۔ بار برداری کا ان اونٹ ہے۔ بوجھ ڈھو رہا ہے ادھر سے ادھر تک۔ محنت تو وہ بھی کر رہا ہے۔ انسان محنت بھی کرتا ہے، مزید اس کو رنج اور غم جو سابقہ اس کو پیش آتا ہے۔ بیل کو پتہ بھی نہیں ہو گا میری کوئی اولاد بھی ہے، نسل بھی ہے، وہ کوئی بیمار ہے، کس حال میں ہے، گائے کو بھی اپنے بچے کی خبر ہو گی، وہ چھوٹا سا جب ہے، دودھ پیتا ہے اس کے بعد اسے کیا پتہ وہ کہاں گیا کہاں نہیں ہے۔ انسان کو جو تکلیفیں جھیلنی پڑتیں، پھر جو غم جھیلنے پڑتے، وہ حیوان کے لیے نہیں ہے یہ انسان کے لیے ہے۔ اسی لیے کہا غالب نے کہ قید حیات و بند غم، اصل میں دونوں ایک ہیں، موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟ تو یہ مشقت اور غم دونوں کو شامل کر لیجیے۔ انسان کا معاملہ حیوان سے بدتر ہے اس پہلو سے۔ کبھی کسی بیل کو، اونٹ کو وہ صدمہ نہیں ہوا ہو گا کہ بیٹے نے سینہ تان کر کہا ابا جان اپ چھوڑیے آپ کیا باتیں کرتے ہیں؟ آپ دکھیانوسی باتیں کرتے ہیں۔ اب زمانے کا رنگ بدل گیا۔ وہ جو بوڑھے باپ کو جو اس وقت صدمہ پہنچتا ہے۔ یہی ہے وہ جس پر میں نے اپنی جوانی کھپائی ہے، جس میں میں نے اپنے آپ کو انویسٹ کیا ہے، آج یہ میرے سامنے کھڑا ہو کر کیا کہہ رہا ہے۔ اور یہ تو میں نے بڑی ہلکی مثال دی ہے۔ گالیاں دینے والے بھی ہیں۔ ماں باپ کو قتل کرنے والے بھی ہیں۔ مرتا نہیں ہے بڑھا کہ یہ مرے تو مجھے یہ ساری جائیداد ملے اور مجھے آزادی حاصل ہو۔ یا ایھا الانسان انک کادح الی ربک کدحا فملاقی اے انسان! تجھے مشقت پر مشقت جھیلتے ہوئے، محنت پر محنت کرتے ہوئے ہی آگے بڑھنا ہے اور پھر اپنے رب کے حضور میں پیش ہونا ہے۔ یہ اور مصیبت ہے۔ کسی اونٹ اور کسی بیل سے محاسبہ نہیں ہے وہاں۔ اس روز کہے گا کافر، کاش میں مٹی ہوتا، انسان بنا ہی نہ ہوتا، جسے آج ہم بہت بڑا شرف سمجھ رہے ہیں، شرف انسانیت۔ کاش کہ میں مٹی

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript