[0:00]بسم اللہ الرحمن الرحیم
[0:08]ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یهدی الله فلا مضل له ومن یضلل فلا هادی له ونشهد ان لا اله الا الله وحده لا شریک له ونشهد ان سیدنا ومولانا محمدا عبده ورسوله صلی اللہ علیہ وسلم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم یا ایہا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ ولا تموتن الا وانتم مسلمون وقال تبارک و تعالی واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم المسلم اخ المسلم لا يظلم ولا يسلمه صدق اللہ و صدق رسولہ النبی الکریم
[1:52]اللہ رب العزت نے ہمیں جو زندگی عطا فرمائی ہے۔ اس زندگی کے گزارنے کے اصول بھی اللہ نے سکھائے ہیں۔ یہ انسان ان اصولوں کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ تو سکون والی زندگی گزارتا ہے، برکت والی زندگی گزارتا ہے، عافیت والی زندگی گزارتا ہے، رحمت والی زندگی گزارتا ہے۔ اور جب یہ انسان اپنی زندگی میں ان اصولوں کو چھوڑ کر زندگی گزارتا ہے۔ تو برکت اٹھ جاتی ہے، اس کی جگہ لعنت آجاتی ہے، اللہ کی رحمت دور ہو جاتی ہے۔ یہ انسان بے سکون ہو جاتا ہے۔ پھر سوچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔
[2:49]اور اللہ نے ان اصولوں میں سے ایک اصول سورہ مائدہ کی آیت میں بیان فرمایا وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاسم والعدوان یہ ایک ایسا زندگی کا اصول ہے کہ آج ہمیں اس اصول پر اپنے گھروں میں بھی عمل کرنا پڑے گا۔ اپنی بازاروں میں اپنے کاروبار میں بھی عمل کرنا پڑے گا، ہمیں اپنے رشتہ داروں میں بھی اس اصول پر عمل کرنا پڑے گا۔ ہمیں اس معاشرے کے اندر، اس ملک کے اندر یہاں تک کہ بین الاقوامی طور پر بین الممالک بھی اس اصول پر عمل کرنا پڑے گا۔ اور زندگی گزارنے کا اصول اللہ نے سمجھایا۔ وتعاونوا علی البر والتقوی نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، ایک دوسرے کی مدد کرو۔ ولا تعاونوا علی الاسم والعدوان گناہ کے بارے میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو۔ والعدوان اور زیادتی کے کاموں میں ظلم کے کاموں میں حد سے اگے بڑھ جانے والے کاموں میں لوگوں کے ساتھ مدد مت کرو۔ نیکی میں، تقوی میں مدد کرو، گناہ کے کاموں میں مدد مت کرو۔ گناہ کا کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی۔ اس میں تعاون نہ کرو۔ اس لیے کہ ظلم میں تعاون کرنے والا، مدد کرنے والا وہ ظلم میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔
[4:41]اس گناہ میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ گناہ میں تعاون کرنے والا وہ گناہ کے کام میں شریک ہوتا ہے۔
[5:27]یہ اللہ نے قرآن مجید میں سمجھایا سورۃ المائدہ میں من یشفع شفاعت حسنة یكن له نصیب منھا ومن یشفع شفاعت سیئتہ یكن له كفل منھا من یشفع شفاعت حسنة جو بندہ اچھی سفارش کرتا ہے۔ اس کو اس میں سے حصہ ملتا ہے ثواب کا۔ ومن یشفع شفاعت سیئتہ اور جو برے کام کی سفارش کرتا ہے، گناہ کی سفارش کرتا ہے، غلط بات کی سفارش کرتا ہے۔ یكن له كفل منھا تو اس کے کندھوں پر اس کا بوجھ بھی ہوتا ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے۔ کہ ہم اپنے گھروں کے اندر، معاشرے کے اندر، رشتہ داروں کے اندر، بیوی بچوں میں نیکی کے کام میں تعاون کریں۔ گناہ کے کام میں ظلم اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کریں۔ اگر یہ انسان یہ سوچ کر کہ یہ میرا گاؤں کا رہنے والا ہے، میرے علاقے کا رہنے والا ہے، میری برادری کا ہے، میری ذات کا ہے، میری زبان کا ہے، میرے صوبے کا ہے، میرے علاقے کا ہے
[6:54]ظلم میں اگر تعاون کرے گا، زیادتی میں تعاون کرے گا تو اسے تعصب کہتے ہیں۔ اسے عصبیت کہتے ہیں۔ تعصب کی بنا پر اگر یہ انسان ظلم میں کسی کا ساتھ دیتا ہے تو ایسی صورت میں وہ ظلم میں مکمل شریک ہوتا ہے۔ مکمل گناہ گار ہوتا ہے۔ یہ آج ہمارے معاشرے میں جو روش چل پڑی کہ یہ میرے علاقے کا ہے، یہ میری برادری کا ہے۔ غلط بھی ہے تو میں اس کے ساتھ کھڑا ہوں۔ یہی غلطی ہے۔ یہی غلطی ہے۔ اور یہیں سے انسان کے رشتے ٹوٹتے ہیں۔ بہو ہوتی ہے، بیٹا ہوتا ہے۔
[7:50]گھر کے اندر ساس کھڑی ہو جائے یعنی دولہا کی ماں اپنے بیٹے کے ساتھ ہو جائے چاہے وہ غلط ہو۔ بس یہیں سے فساد پیدا ہو گا۔ یہیں سے گھر ٹوٹیں گے۔
[8:15]میں نے کہا نا اللہ نے ایک اصول سمجھایا وتعاونوا علی البر والتقوی نیکی کے کاموں میں اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ گناہ کے کام میں تعاون نہ کرو۔ اس کو ایک بہت ہی مستند حدیث سے سمجھنا ہو گا۔
[9:10]ان تنصروا اللہ ینصرکم اگر تم اللہ کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا۔
[9:21]جب ہم ترجمہ پڑھتے ہیں تو تھوڑا سا چونکتے ہیں اس لیے کہ اللہ کو ہماری مدد کی کیا ضرورت ہے؟
[10:29]اللہ تو بے نیاز ہے۔ ہم اللہ کی مدد کے محتاج ہیں۔ اور اللہ کی مدد کیسے آتی ہے؟ اللہ نے یہ اصول سمجھایا ان تنصروا اللہ ینصرکم تم اللہ کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے دو باتیں لکھی۔
[10:51]نمبر ایک یہ انسان اللہ کے کہنے پر عمل کرے گا
[11:03]میں اس کو آسان سی مثال سے سمجھانے لگا ہوں۔ میں نے ابھی کہا وتعاونوا علی البر والتقوی نیکی کے کاموں میں اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ اگر گھر میں باپ کوئی کہہ رہا مانگ رہا اگر باپ کوئی بات کہہ رہا ہے بچے اس کا کہنا مان رہے ہیں تو اپ اس کو کیا کہتے ہیں یہ بچے میرے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
[12:44]حالانکہ اس کو کچھ چندہ نہیں دیتے، پیسے نہیں دیتے وہ جو تعاون کرتے ہیں، کہنا مانتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ان تنصروا اللہ اگر تم اللہ کی مدد کرو گے یعنی اس کا کہنا مان کر زندگی گزارو گے۔
[13:05]ینصرکم وہ تمہاری مدد کرے گا۔ بالکل اسی طرح دوسری تفسیر اس کی ان تنصروا اللہ اگر تم اللہ کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ اس کو ایک اور دوسرا رخ اس کا ایک حدیث سے سمجھیے گا۔ بہت مستند حدیث۔ قیامت کے دن اللہ بندے سے کہے گا۔ بڑی عجیب سی حدیث ہے۔ الفاظ بھی عجیب سے ہیں۔ اس لیے اس کے لیے تھوڑی سی توجہ چاہیے ہو گی۔ کیونکہ حدیث کے ترجمے پر انسان بڑا کھٹکتا ہے یہ کیا ہے۔ لیکن اس حدیث شریف میں جواب بھی ہے۔ کہ اللہ کہے گا قیامت کے دن بندے سے میں بھوکا تھا اللہ کہے گا۔ میں بھوکا تھا۔ تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا اللہ کہے گا۔ میں تکلیف میں تھا۔ بیمار تھا تو نے میری بیمار کرسی نہیں کی اللہ کہے گا۔ میں نے کہا تھوڑا سا سمجھنا پڑے گا بات کو۔ اسی حدیث میں سوال ہے بندہ کہے گا اے اللہ تجھے کھانے کی کیا ضرورت، تجھے پانی کی کیا ضرورت۔ تجھے بیمار کرسی تو تو بیماری نہیں ہوتی۔ اللہ کہے گا ہاں۔ فلاں بندہ میرا بھوکا تھا۔ تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا۔ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ فلاں میرا بندہ پیاسا تھا اگر تو اس کو پانی پلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ فلاں بندہ بیمار تھا اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ یعنی گویا کہ اللہ کہنا کیا چاہتا ہے؟ ان تنصروا اللہ ینصرکم اگر تم اللہ کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ یہ انسان کسی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے۔ یہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ کسی پیاسے کو پانی پلاتا ہے یہ بھی اس میں شامل ہے یہ کسی بیمار پرسی کی بیمار پرسی کرتا ہے بیمار کی اور اس بیمار کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ یہ اللہ کی نصرت میں شامل ہے۔
[15:42]اچھا اللہ مدد کیسے کرتا ہے؟ وہ ہمیں آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے۔ لیکن اگر ایک حدیث ذہن میں رکھ لی جائے متفق علیہ حدیث ہے۔ یہ میں اس بات کو عرض کرنے لگا ہوں کہ ہمیں ملتا کیا ہے اگر ہم دوسرے کے کام ا جائیں۔ یہ تو سمجھ میں آ گیا۔ کہ اگر اللہ کی مدد کی جائے تو اللہ انسانوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ کی مدد کے دو معنی مفسرین نے بتائے۔ نمبر ایک اللہ کا کہنا مانیں۔ اللہ کا کہنا مانو۔ بالکل اسی طرح جیسے میں نے مثال عرض کی ماں باپ کا کہنا مانتے ہیں تو ہم کہتے ہیں یہ بچے ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح اللہ کا کہنا مانو تو اسی صورت میں یہ اللہ کے ساتھ مدد کا طریقہ ہے۔ نمبر دو اللہ کے بندوں کی مدد کریں۔ یہ بھی اللہ کی مدد۔ یہ بھی اللہ کے ساتھ تعاون کیا ہم نے یعنی اللہ کا کہنا مانو۔ اور میں نے بتایا اس حدیث کو ذہن میں رکھیے گا پھر پتہ چلے گا ملتا کیا ہے؟ اگر ہم خلق خدا کی خدمت کرتے ہیں تو ہمیں کیا ملتا ہے؟ متفق علیہ حدیث بخاری شریف مسلم شریف دونوں میں حدیث موجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال المسلم اخ المسلم لا یظلمہ ولا یسلم یہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ لا ظلمہ ایک تو وہ ظلم نہیں کرتا اس پر۔ نمبر ایک ظلم نہیں کرتا۔ ولا یسلمہ اس کا ترجمہ بڑے غور سے سمجھنے والا ہے۔ اسلم یسلم اسلام کا ایک معنی ہوتا ہے اسلام لانا۔ ایک معنی ہے سلامتی دینا۔ ایک عجیب و غریب معنی ہے اس حدیث کا۔ جو اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہوتا۔ المسلم اخ المسلم مسلمان مسلمان کا بھائی ہے لا یظلمہ نہ ظلم کرتا ہے ولا یسلمہ نہ اس کو دشمن کے سپرد کرتا ہے۔ میں نے کہا نا ذرا اتنا آسانی سے معنی ہضم نہیں ہو گا۔ محدثین نے اس کا ترجمہ کیا لکھا لا یسلمہ وہ اس کو دشمن کے سپرد نہیں کرتا۔ دشمن کے ہاتھوں میں جانے نہیں دیتا۔ اپنے مسلمان بھائی۔ تڑپتا ہے اس کے لیے دکھ رکھتا ہے۔ پھر اسی حدیث میں اگے ہے۔ کہ جو بندہ کسی مسلمان سے ایک مصیبت دور کرتا ہے من فرج قربہ من فرج عن مسلم قربتہ فرج اللہ عنہ قربتہ من قربت یوم القیامہ۔ اسی حدیث میں۔
[18:57]دیکھیے گا تعاون کیسے کرنا ہے؟ ایک دوسرے کی مدد کیسے کرنی ہے؟ من فرج عن مسلم قربتہ جو شخص کسی مسلمان سے ایک مصیبت دور کرتا ہے فرج اللہ عنہ قربتہ من قربت یوم القیامہ تو اللہ قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت اس کی دور کر دے گا۔ دنیا میں تو اس کو کچھ نظر نہیں آیا اس بندے سے۔ اس لیے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ انسان ہمیشہ مایوس ہوتا ہے جب بندوں سے توقعات لگا کے رکھتا ہے۔ اور جب اللہ سے توقعات لگا کے رکھتا ہے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔
[20:27]میں نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا وہ مجھے سلام بھی نہیں کرتا۔ میں نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ میرے کام ہی نہیں آتا۔ وہ میں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں وہ میری تو کبھی کسی مصیبت میں کام نہیں آتا کبھی بیمار ہوتا ہوں پوچھنے بھی نہیں آتا۔ یہ انسان مایوس تب ہوتا ہے جب بندوں سے توقع، انسان اس سے توقع لگا کے رکھتا ہے۔ اور جب وہ نیک کام کر کے تعاون کر کے اللہ پہ توکل کرے گا اللہ پہ بھروسہ کرے گا اللہ اس کا بدلہ دے گا۔ اور دنیا کے اندر بھی اللہ اس تعاون کرنے والے اس مدد کرنے والے اس خدمت خلق کرنے والے کے لیے اللہ دنیا میں کیا کرتا ہے؟ اسی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو بندہ کسی بندے کی حاجت کو پورا کرتا ہے۔ اللہ تعالی اس بندے کی حاجت کو دنیا میں پورا کر دیتا ہے۔
[21:32]اور پھر ساتھ یہ فرمایا اس ایک حدیث میں ما کان العبد فی عون اخیه کان اللہ فی عون مدد۔ ہمیں کیا ملتا ہے؟ دوسرے کے ساتھ مدد کرنے سے۔ جواب دے رہا ہوں۔ ما کان العبد فی عون اخیه بڑے حوصلے کے ساتھ بڑی ایمانی قوت کے ساتھ ترجمہ سمجھنا ہو گا۔ ما کان العبد فی عون اخیه جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے کان اللہ فی عونہ اللہ اس بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ ماننا پڑے گا اللہ انکھوں سے دکھاتا ہے دنیا کے اندر کر کے دیکھ لو۔ وہ بندہ مدد کرے یا نہ کرے جواب میں اس کی فکر نہ کرو۔ اس کی فکر نہ کرو۔ بہن کی مدد کی بہن سے کچھ نہیں ملا بھائی کی مدد کی اس سے کچھ نہیں ملا بھتیجے کو پتا نہیں کتنے سال تک پڑھاتا رہا لکھاتا رہا پیسے دیتا رہا یوں کرتا رہا۔ مولانا بڑی مدد کی میں نے رشتہ داروں کی مجھے کچھ نہیں ملا۔ جی نہیں بہت کچھ ملا۔ کیوں رشتہ داروں سے توقع نہ رکھیں۔ ما کان العبد فی عون اخیه جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے کان اللہ فی عونہ اللہ اس بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ ماننا پڑے گا ایمان رکھنا پڑے گا۔ اللہ کا نظام ہے۔ بندہ کرتا کہیں اور ہے، دیتا اللہ کہیں اور سے ہے۔
[23:07]کر کے دیکھو۔ اس دنیا میں اس دنیا میں۔ جو بندہ محسوس کرے کہ میں مشکلات میں گھرا رہتا ہوں۔ وہ لوگوں کی مشکلات دور کرنا شروع کر دے اللہ اس کی مشکلات دور کر دے گا۔ جو بندہ سمجھے کہ میں پھنس گیا ہوں گلی میں نہیں نکل سکتا آگے بند گلی ہے وہ جو بند گلی میں ہے نا ان کے ساتھ مدد کرنا شروع کر دے اللہ اس کو بند گلی سے نکالے۔ یہ دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا شروع کر دے اللہ اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اس کو گمان نہیں ہوتا۔ یہ جو میں نے ابھی بڑا زور دے کر اصول بتایا ہے نا یہ اللہ نے 28ویں پارے میں سورہ طلاق کی آیت نمبر تین میں بتایا ہے۔ دہرائیے گا کبھی بیٹھ کر آرام سے اس آیت کو اس آیت کے ترجمے کو ذہن میں لائیے گا اللہ نے کیا کہا ہے یہ جو جملے میں نے ابھی کہے ہیں۔ اللہ نے اصول بتایا من یتق اللہ یجعل له مخرجا ویرزقه من حیث لا یحتسب من یتق اللہ جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ تقوی اختیار کرتا ہے۔ خدمت خلق کرتا ہے۔ دوسروں کو کھانا کھلا دیتا ہے دوسروں کے لیے راشن کا انتظام کر دیتا ہے دوسروں کی پیاس کا انتظام کرنے کے لیے گھر میں کہیں جا کے کنویں لگا دیتا ہے شہروں میں پانی پینے کا انتظام کر دیتا ہے مصیبت زدہ بیماروں کے کام آتا ہے کبھی دوائیوں کے ذریعے کبھی ڈسپینسروں کے ذریعے کبھی کسی چیز کے ذریعے ادویات فراہم کرتا ہے۔ من یتق اللہ جو بندہ اللہ سے ڈرتا ہے تقوی اختیار کرتا ہے۔ یجعل له مخرجا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ مخرج نہ آپ ہوائی جہاز میں بھی دیکھتے ہیں ہوٹلوں میں بھی دیکھتے ہیں مخرج لکھا ہوتا ہے ساتھ انگلش میں لکھا ہوتا ہے ایگزٹ
[25:21]مخرج کے ساتھ لکھا ہوتا ہے ایگزٹ نکلنے کی جگہ۔ اس ایگزٹ کو سمجھیے گا۔ جب بندہ مشکلات میں پھنس جائے نا۔ تقوی اختیار کر لے۔ گناہوں سے بچنا شروع کر دے۔ لوگوں کی خدمت کرنا شروع کر دے۔ ماں باپ کی خدمت کرنا شروع کر دے۔ بہن بھائیوں کی خدمت کرنا شروع کر دے۔ اللہ کا وعدہ ہے یجعل له مخرجا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کے لیے ایگزٹ بنائے گا۔ نکلنے کا راستہ بنائے گا۔ یہ اللہ نے اپنی ذمے لیا ہے۔ اور اگلا جملہ بھی اس آیت کا سمجھنے والا ہے۔ یجعل له مخرجا ویرزقه من حیث لا یحتسب پھر اللہ وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس بندے کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ میں نے بتایا نا بندہ کرتا کہیں اور ہے دیتا اللہ کہیں اور سے ہے۔ اس دنیا میں اس دنیا میں۔
[26:18]یہ انسان اللہ نے نظام ایسا بنایا ہے۔ اور جب انسان یہ سمجھ لے کہ میں حرص میں مبتلا ہو جاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس معاشرے کو ایسا بنایا تھا۔ معاشرہ ایسا تھا کہ کوئی انسان دوسرے پر ظلم نہیں کرتا تھا۔ وہ معاشرہ ایسا تھا جو ایک دوسرے کے کام آتا تھا۔ وہ معاشرہ ایسا بنایا تھا جس میں انسان ایثار کرتا تھا۔ اپنے اپ پر دوسروں کو ترجیح دیتا تھا۔ آج وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ کہ ہمیں اپنے گھروں کے اندر بھی اس اصول پر عمل کرنا ہو گا وتعاونوا علی البر والتقوی نیکی کے کاموں میں اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ اور ہمیں اس اصول پر بھی عمل کرنا ہو گا ولا تعاونوا علی الاسم والعدوان گناہ کے کام میں زیادتی کے کام میں تعاون نہیں کرنا۔ اپنے گھر کی سطح پر بھی، اپنے رشتہ داروں کی سطح پر بھی، اپنے صوبے کی سطح پر بھی، اپنے ملک کی سطح پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی مسلمان کو ایسا ہونا چاہیے۔ ظلم میں کسی کے ساتھ تعاون نہ کرے۔ ہاں اگر کوئی لڑے آپس میں آپ صلح کروائیں یہ تعاون ہے۔ یہ تعاون ہے۔ انما المومنون اخوة فاصلحوا بین اخویک۔
[27:51]ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اگر یہ لڑنے لگیں تو ان کے درمیان صلح کروا دیا کرو۔ صلح کروانا نیکی کا کام ہے۔ جس طرح نیک کاموں میں شریک ہونے والے کو اللہ ثواب دیتا ہے۔ فساد پیدا کرنے والوں کے ساتھ تعاون کرنے والے کو اللہ گناہ بھی دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح گناہ کے کام میں تعاون کرنے والے کو گناہ بھی ہو گا۔ آج وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاشرے کو کیسا بنایا تھا آپس میں تعاون کرنے والا۔
[28:33]نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا ایمان والوں کو کیسا ہونا چاہیے اپنے گھروں میں، اپنے معاشرے میں بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کو کیسا ہونا چاہیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تر المومنین فی تراحمہم وتوادیهم وتعاطفهم کمثل الجسد ایک جسم کی طرح دیکھو گے۔ اذا اشتقا شیئا منه اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف پہنچے تدا اللہ سال جسد مسار والحم سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے اس بیماری کو اس تکلیف کو دور کرنے میں لگ جاتا ہے
[32:54]تکلیف دور ہو جاتی ہے۔ اللہ دور کر دیتا ہے۔ اللہ کا نظام ہے۔ عام طور پر یہ نہیں ہوتا کہ انگلی میں تکلیف ہو۔ تو دماغ ٹانگوں کو کہے چلو ڈاکٹر کے پاس۔ ٹانگیں کہیں ہم نہیں جاتے جسے تکلیف ہے وہ جائے۔ باتوں کو بڑی گہرائی سے سمجھنا ہو گا۔ سمجھنے والی ہے۔ جس ٹانگ پہ فالج گرا ہوتا ہے نا وہ ٹانگ کبھی باقی بدن کو ڈاکٹر کے پاس لے کر نہیں جاتی۔
[33:51]جس بازو پہ فالج گرا ہوتا ہے وہ کبھی جیب میں نہیں جاتا دوسرے کو پیسے دینے کے لیے ڈاکٹر کو پیسے دینے کے لیے فالج والا ہاتھ نہیں جاتا کیوں وہ بے حس ہے۔ اس کے اندر دکھ درد کا احساس ختم ہو گیا۔
[36:06]مرتا ایک دوسرا ملک مرتا رہے ہمیں کیا ہم تو ٹھیک ہیں نا ہمیں کیا ضرورت ہے۔ ہمیں اس کے ساتھ تعاون کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ رشتہ دار مر رہا ہے مرتا رہے۔ یہ ہم تو ٹھیک ہیں نا ہمارے بیوی بچے ٹھیک ہیں ہمارا گھر ٹھیک ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے دوسروں کے ساتھ تعاون کرنے کی۔ ایک گھر کے افراد میں کبھی کبھی فالج گر جاتا ہے۔ جب تندرست گھر ہوتا ہے نا تندرست گھر ایک گھر کا فرد بیمار ہو گیا۔ باپ نے کہا دوسرے بیٹے کو جاؤ موٹر سائیکل لو اس کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤ وہ ڈاکٹر کے پاس لے گیا دوسرے بھائی نے پیسے دے دیے۔ باپ نے دماغ کا کام کیا دوسروں نے تعاون کیا دوائی لے کر ائے گھر میں ماں نے کھچڑی بنا کر دی بخار تھا اس کو تیز بہن نے دوائی کھلائی سارا گھر لگ گیا اس بیماری کو دور کرنے کے لیے وہ بندہ اللہ ٹھیک ہو جاتا ہے وہ شفا دے دیتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی گھر کے افراد پر فالج گر جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں اور وہ کیسے ایک بھائی بیمار ہوا باپ کہتا ہے اس کو لے جاؤ ڈاکٹر کہتا ہے ہٹا کٹا اچھا خاصا خود چلا جا۔ میں تو بیمار نہیں ہوں یہ ہے جو بیمار ہے باپ کہتا ہے اچھا ٹھیک ہے پیسے تو دے دو اس کو کہتا ہے جس کو جو بیمار ہے وہ خود پیسے دے میں کیوں دوں۔ گھر ایا ماں کو کہا تھوڑی سی کھچڑی بنا دو بیمار ہو بخار بڑا تیز ماں کہتی ہے اس وقت بڑا قیمتی ڈرامے کا وقت ہو گیا ہے اس وقت کھچڑی اتنی بنتی باہر سے بند لے کر کھا لو۔ بہن کے پاس بھی وقت نہیں ہے آج بھائی کے ساتھ اس کو دوا دینے کے لیے گھر کے افراد پر فالج گرا ہوا ہے۔ وہ بے سکون گھر ہے۔ وہ اللہ کی رحمت سے دور گھر ہے۔ وہ بے برکتی والا گھر ہے۔ جہاں فالج گرا ہوا ہے بعض لوگوں پر بے حسی یہی بے حسی اگر امت مسلمہ میں آجائے۔ میں ٹھیک ہوں میں سکون سے ہوں۔ میرے پاس سب کچھ ہے دوسروں کو ہو رہا ہے وہاں جو مرضی ہو رہا ہے مجھے کیا مر رہے ہیں لوگ مرتے رہے۔
[38:13]اور امت مسلمہ میں کیا شان ہوتی ہے کہ نہیں یہ انسان کیوں مر رہا ہے اس پر کیوں ظلم ہو رہا ہے میں ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا میں تعاون کروں گا میں ان کے درمیان صلح کرواؤں گا آج وقت کی ضرورت ہے ایک گھر سے لے کر امت مسلمہ تک آج ضرورت ہے اس آیت کی وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاسم والعدوان ایک دوسرے سے نیکی اچھے کاموں میں تعاون کیجیے مدد کیجیے ایک دوسرے کی۔ اسے بہت کچھ ملے گا میں نے بتایا کیا ملتا ہے مدد تعاون کرنے سے۔ لیکن ظلم زیادتی میں کسی کے ساتھ انسان تعاون نہ کرے۔ آج امت مسلمہ پر بین الاقوامی طور پر آج جو پاکستان کردار ادا کر رہا ہے۔ اللہ ایک ایک کو ہمت عطا فرمائے اور ان کے اس باہمی تعاون میں اللہ برکت عطا فرمائے اس کے نتائج بہت اچھے پیدا کر دے خاص طور پر حکومت پاکستان ہمارے محترم جناب حافظ سعید عاصم منیر صاحب اور جناب اسحاق دار صاحب سیاسی بات میں عموما نہیں کر پاتا یہاں لیکن جو بات عرض کر رہا ہوں اس پر توجہ دیجیے گا اس وقت جو ملک پاکستان پوری دنیا کے اندر فساد کو ختم کر کے اور ایک سکون پیدا کرنے کی فضا پیدا کر رہا ہے آج دعا کیجیے گا ہر ایک کی اللہ رب العزت اس میں سکون عطا فرما دے اور امت مسلمہ کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی توفیق عطا فرما دے اور واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا پر عمل کرنے کی اللہ توفیق دے دے امت مسلمہ یہ طاقتور بن جائے اس کے لیے بہت دعا کرنی ہے۔ اور جب انسان صرف پیسے کے پیچھے پڑ جائے اور صرف انسان اپنے اپ کو پیش کرنے سے صلح کروانے سے اپنے اپ دراصل ان تمام کاموں میں مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہیں اچھا یہ حلوہ نہیں ہے۔ پاکستان کے جو ذمہ داران اس وقت جو کچھ کر رہے ہیں وہ حلوہ نہیں ہے۔ بہت بڑا کام ہے۔ اتنا آسان نہیں ہے۔ بہت بڑا کام ہو رہا ہے اس وقت۔ اور یہ وہ بات ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھائی مشکات شریف میں حدیث ہے۔ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک وقت ائے گا امت مسلمہ پر ایسا کہ لوگوں کو کہا جائے گا اؤ کھا جاؤ ان مسلمانوں کو۔ اگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال دی کما تدعو الاکلتہ علی قصعاتہ جیسے کہ کھانا کھلانے والی اپنے پیالے کی طرف دعوت دیتی ہے اؤ کھا جاؤ۔ صحابہ کے ذہن میں وہی سوال ایا جو آپ کے ذہن میں آیا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا مسلمان اس وقت اتنی کم تعداد میں ہوں گے کہ ان کو کہا جائے گا اؤ ان کو کھا جاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گی۔ ولکنکم غسا کا غسا السیل لیکن وہ سمندر کے جھاگ کی طرح پھوک ہوں گے ان کے اندر طاقت نہیں ہو گی۔ ان کے اندر طاقت نہیں ہو گی۔ کمزور ہوں گے۔ ان کے اندر کمزوری ہو گی۔ صحابہ نے پھر پوچھا ما الوهن یا رسول اللہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ وہن اور کمزوری کیا ہوتی ہے؟ فرمایا حب الدنیا وکرہیۃ الموت۔
[41:31]حب الدنیا وکرہیۃ الموت دنیا کی محبت اور موت کو ناپسند کرنا جس وقت مسلمان یہ سوچنے لگے گا۔ کہ بس میں بیٹھا کھاتا رہوں میں ٹھیک ہوں اور دنیا کی محبت میرے پاس پیسہ میرے پاس سب کچھ آج وقت کا تقاضا ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے۔ کہ اس امت مسلمہ کو ناصیہ نفسی سے نکلنا پڑے گا۔ اس امت مسلمہ کو مال کی محبت سے نکلنا پڑے گا۔ اس امت مسلمہ کو موت سے جو خوف اور ایک ڈر ہے اس سے نکلنا پڑے گا یہ وہ چیز ہے جب انسان طاقتور ہو تو ایسی صورت میں پھر آکر یاد رکھ لیجیے گا۔ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ ایک قرآن مجید کی ایک آیت پر عمل کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ کہ اللہ نے کہا و اعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخیل ترهبون به عدو اللہ و عدوکم دیکھو تم اپنے اپ کو مضبوط کرو۔ اعدوا لهم ما استطعتم جتنا ہو سکتا ہے تم اپنے اپ کو طاقتور بناؤ۔ ترهبون به عدو اللہ و عدوکم اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو ڈراؤ۔ اپنے اپ کو طاقتور بناؤ۔ آج امت مسلمہ اتفاق اور اتحاد پیدا کر کے طاقتور بنائے۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے ایک جسم کی طرح اپنے اپ کو مضبوط بنا لے۔ پھر کوئی نہیں کہہ سکے گا کہ اؤ مسلمانوں کو کھا جاؤ۔ اللہ رب العزت پوری دنیا میں انسانیت کے اندر جو فساد ہو رہا ہے ظلم ہو رہا ہے اللہ اس کو ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان اس وقت جو کردار ادا کر رہا ہے یا اللہ امن کی فضا کو قائم کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے یا اللہ ایک ایک کی کوشش کو قبول فرما لے اس میں خیر عطا فرما دے برکتیں عطا فرما دے یا اللہ ہم سب کو سکون والی زندگی عطا فرما برکت والی زندگی عطا فرما اس خصوصا اس ملک کے پاکستان کی یا اللہ حفاظت فرما یا اللہ اج دشمن طرح طرح سے یا اللہ ان معاہدوں کو ان صلح کی کوششوں کو یا اللہ ریزہ ریزہ کرنا چاہتا ہے توڑنا چاہتا ہے یا اللہ تو اس سے مسلمانوں کی حفاظت فرما لے یا اللہ جتنے بھی حاضرین موجود ہیں دلوں میں دعائیں ہیں اے اللہ سب کی دعاؤں کو قبول فرما سب کی پریشانیوں کو دور فرما اور یا اللہ جتنے بھی یا اللہ رزق کی تنگی میں مبتلا ہیں ان کو یا اللہ رزق کشادہ عطا فرما دے اور یا اللہ اج معاشرے کے اندر یا اللہ ایک جسم کی طرح مسلمانوں کو ہونا چاہیے تھا لیکن کچھ ذہنوں پر یا اللہ فالج گرا ہوا ہے مفلوج ہیں ہمدردی دکھ اور دوسرے کا دکھ محسوس کرنے کا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے اے اللہ ہمیں اپس میں ہمدردی عطا فرما اپس میں محبت عطا فرما نفرتوں کا خاتمہ فرما دے ہم سے کوئی ایسا کام نہ ہو جس سے توڑ پیدا ہو یا اللہ جوڑ پیدا کرنے کی توفیق عطا فرما دے ہمیں ایمانی قوت عطا فرما دے تقوی عطا فرما دے اور ہم سب کی دعاؤں کو قبول فرما لے و صلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ محمد و علیہ واصحابہ وسلم یا اللہ



