Thumbnail for الأربعين النووية | Deen Islam Iman aur Ihsan Ki Haqiqat | Dr. Maqbool Ahmed | حدیث 02 by Youth Flix

الأربعين النووية | Deen Islam Iman aur Ihsan Ki Haqiqat | Dr. Maqbool Ahmed | حدیث 02

Youth Flix

45m 17s5,026 words~26 min read
Auto-Generated

[0:00]لونڈی اپنے مالک کو جنم دے گی اور ننگے پاؤں والے اور ننگے بدن والے اور غریب کنگال بکریوں کے چرانے والے بڑی بڑی عمارتوں پر فخر کریں گے یعنی بہت امیر ہو جائیں گے جس کے اندر دین کے مراتب اسلام، ایمان احسان کا تذکرہ ہے اور یہ حدیث حدیث جبرئیل کے نام سے محدثین کے ہاں مشہور ہے کہ اسلام کے معنی اسلام ہے اطاعت ہے، فرمانبرداری ہے، سر تسلیم خم کرنا ہے، ماننا ہے ظاہری عبادات کا تعلق ہے اسلام سے اور ایمان کا تعلق ہے باطنی امور سے، غیبی امور سے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انسان کوئی بھی دنیا میں اللہ تعالی کو نہیں دیکھ سکتا کسی نبی نے اللہ کو دنیا میں نہیں دیکھا اللہ نے کسی کو ایسی انکھ ہی نہیں دی کہ وہ اللہ تعالی کو دنیا میں اللہ کی زیارت کر سکے، اللہ کا دیدار کر سکے

[1:12]الحمدللہ الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ اللھم صلی وسلم علی عبدک نبیک حبیبک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اما بعد ان عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ قال بینما نحن جلوس عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذات یوم اذا طلع علینا رجل شدید بیاض الثیاب شدید سواد الشعر لا یری علیہ اثر السفر ولا یعرف منا احد اربعین نوویہ کی یہ دوسری حدیث مبارکہ ہے اس حدیث کا اگر عنوان دیں تو مراتب دین اسلام ایمان اور احسان بنتا ہے یہ حدیث مبارکہ بھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں بینما نحن جلوس عند رسول اللہ ایک دن ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے اس طلع کہ اچانک ظاہر ہوئے علینا ہمارے اوپر رجل ایک ادمی جن کی کیفیت یہ تھی شدید بیاض الثیاب جن کے کپڑے گہرے سفید تھے شدید سواد الشعر جن کے بال بہت زیادہ سیاہ تھے لا یروا علیہ اثر السفر ان پر سفر کے کوئی اثار نہیں تھے یعنی مسافر نہیں لگتے تھے کہ کہیں سے سفر کر کے ائے ہیں ولا یعرف منا احد اور ہم جتنے لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے ہم میں سے کوئی بھی انہیں جانتا نہیں تھا حتی جلس النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھ گئے

[3:59]اور فسناد رقبہ الا رقبہ انہوں نے اپنے دونوں گھٹنے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملا دیے

[4:15]اور وضع کف الا فخذ اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنی رانوں پر رکھ لیا فقالا یا محمد تو انہوں نے کہا اے محمد

[4:31]اخبری عن الاسلام مجھے اسلام کے بارے میں بتا دیجئے اسلام کیا ہے اسلام کسے کہتے ہیں فقالا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الاسلام اسلام یہ ہے انت تشہد الا الہ الا اللہ کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وان محمدا رسول اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں وتقیم الصلا اور تو نماز قائم کر وت زکا اور تو زکوۃ ادا کر وت رمضان اور تو رمضان کے روزے رکھ وتحج البیت سبیل اور تو اللہ کے گھر کا حج کر اگر تیرے پاس استطاعت ہے قال صدق وہ جو انے والے تھے جو سوال کر رہے تھے وہ تصدیق کرتے ہیں کہ اپ نے سچ کہا فاجنا لہ سوالہ و صدقنا ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اس بات پر تعجب کیا کہ عجیب سائل ہیں سوال بھی کر رہے ہیں اور اس کی تصدیق بھی کر رہے ہیں ہم حیران ہوئے اس کے بعد وہ کہتے ہیں قال فاخبی عن الایمان ایمان کے بارے میں بتائیے کہ ایمان کیا ہے ایمان کسے کہتے ہیں قال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تؤمن باللہ وملائکہ و کتب و رسولہ ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لائے اور اس کے فرشتوں پر ایمان لائے اس کی کتابوں پر ایمان لائے ور رسول اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے والیوم الاخر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے وتؤمن بالقدر خیر و شر اور تقدیر کے اچھا اور برا ہونے پر ایمان لائے قال صدق پھر وہ کہتا ہے کہ اپ نے سچ کہا پھر وہ ایک اور سوال کرتا ہے وہ کہتا ہے قال فخبری عن الاحسان احسان کے بارے میں بتائیے کہ احسان کیا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قال انت تعبد اللہ کانہ ترا تو اللہ کی عبادت اس طرح کر

[7:31]گویا کہ تو اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہے یعنی یہ تصور کر کہ اللہ تعالی کو تو دیکھ رہا ہے فلم تک ترا اگر تو ایسا نہیں کر سکتا اگر تو اللہ کو نہیں دیکھ سکتا فانہ یرا تو اللہ کی عبادت ایسے کر کہ گویا کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے اور اس کے بعد اس میں صداقتہ کا لفظ استعمال نہیں کرتا اگلا سوال کرتا ہے قال فخبری عن الساعہ

[8:10]قیامت کے بارے میں بتا دیجئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مال المسعول عنھا بعلم من السائل سوال کرنے والا اور جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ دونوں برابر ہیں جس طرح سوال کرنے والے کو نہیں معلوم کہ قیامت کب قائم ہو گی اسی طرح مجھے بھی نہیں معلوم ہم دونوں اس میں برابر ہیں قال فخبری عن امارتا وہ سوال کرنے والے اگلا سوال کرتے ہیں کہ اگر قیامت کے وقوع پذیر ہونے کا نہیں پتا تو یہ بتا دیجئے کہ اس کی نشانیاں کیا ہیں علامات کیا ہیں قیامت کی

[9:02]تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی علامات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں قال ان تلد الامت ربتہ یہ کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنم دے گی وان تر الحفا اور یہ کہ اپ دیکھو گے الحفا ننگے سر والے رات ننگے بدن والے الہ کنگال غریب رایا شاہ بکریوں کے چروہے بکریوں کے چرانے والے فخر کریں گے البنیان عمارتوں کے بنانے میں

[9:50]اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے اگے بڑھیں گے یعنی یہ قیامت کی نشانیاں بتائی جا رہی ہیں پھر وہ ادمی جو ایا تھا وہ چلا گیا ہم تھوڑی دیر اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر رہے بیٹھے رہے پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یا عمر اے محمد کیا اپ کو معلوم ہے کہ یہ سوال کرنے والا کون تھا یہ سائل کون تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اللہ رسول اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے ہمیں تو نہیں خبر ہمیں تو نہیں معلوم یہ کون تھے تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی فرماتے ہیں قال فانہ جبرئیل یہ جبرئیل امین تھے ایا تھا تمہارے پاس یعلمکم دینکم تمہیں تمہارا دین سکھلانے کے لیے ائے تھے یہ مکمل حدیث ہے اور اس کے ساتھ اس کا ترجمہ اور معانی بیان کر دیے گئے ہیں اور یہ حدیث مبارکہ مسلم شریف کے اندر بھی ہے اور دیگر جتنی بھی کتابیں ہیں احادیث کی بخاری، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد، دیگر کئی کتابوں کے اندر کہیں یہ تفصیل کے ساتھ ہے کہیں مختصر ہے کہیں یہاں پر صحابی سیدنا عمر بن خطاب ہیں باقی جگہوں پر دیگر صحابہ ہیں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی یہ روایت مروی ہے اور یہ مسلم کی اگر روایت ہے بخاری کی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ صحیح ترین حدیث ہے تو یہ حدیث مبارکہ جس کے عنوان سے ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ یہ حدیث مبارکہ بہت عظیم حدیث ہے جس کے اندر دین کے مراتب اسلام، ایمان احسان کا تذکرہ ہے اخرت کا تذکرہ اور قیامت کی نشانیوں کا تذکرہ اور اس کے اندر اگر ہم غور کریں تو یہ حدیث بہت ہی عظیم حدیث ہے اگر اس حدیث کو سمجھ لیا جائے تو ہم دین کی بہت ساری بنیادی جو ہماری ضروریات ہیں وہ ہمیں سمجھ ا جاتی ہیں

[13:10]سب سے پہلے تو کہ جبرئیل امین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور دو زانو ہو کر بیٹھتے ہیں جس طرح ادمی تشہد میں بیٹھتا ہے اور ادب و احترام کا پورا خیال رکھتے ہیں اور جب اپ جبرئیل امین اتے ہیں تو ان کے جسم پر جو لباس ہے وہ سفید ہے اور اس سے بھی یہاں یہ بات ہمیں پتہ چلتی ہے کہ طالب علم کے لیے سفید لباس ہونا چاہیے اللہ کے رسول اس کو پسند کرتے تھے پہنتے بھی تھے اکثر اور یہاں طالب علم بن کر ائے ہیں اور سفید لباس میں ہیں اور سیاہ بال ہیں اور سیاہ بال سے جو ہمیں تعلیم ملتی ہے کہ جوانی کے اندر ابتدائی عمر کے اندر انسان علم حاصل کرے تیسری بات جو ہمیں ملتی ہے کہ ان کے اوپر سفر کے اثار نہیں تھے مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر تھکان نہیں تھی تھکے ہوئے نہیں تھے جمائیاں نہیں ا رہی تھی یا پراگندہ حال نہیں تھا صاف ستھرے سفید لباس میں تھے ادب و احترام سے اپ کے سامنے ا کر دوزانو ہو کر بیٹھتے ہیں اور حشاش بشاش نشید ہو کر سوال کرتے ہیں پوچھتے ہیں اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سوال کرنا پوچھنا علم حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے اور ادب و احترام کا تقاضا ہے کہ سوال ادب و احترام سے کیا جائے تو ان تمام باتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ علم اسی وقت اتا ہے علم اسی وقت دل میں اترتا ہے جب علم حاصل کرنے والا جس سے علم حاصل کر رہا ہے قطع نظر وہ کوئی بھی ہو اس کے اندر خامیاں کوتاہیاں ہو سکتی ہیں یہاں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے لیکن اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ علم حاصل کرنے والا با ادب ہو، با ادب ہو

[15:52]ادب کے پہلو سے ہر ہر اس کے اعضاء سے ادب ظاہر ہو رہا ہو اور ادب پہلا کرینہ ہے محبت کے کرینوں میں با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب اور یہ احادیث ہمارے سامنے جو ہم پڑھتے ہیں سنتے ہیں تو یہ عمل کرنے کے لیے ہوتی ہیں اور اس سے سبق حاصل کرنا ہوتا ہے کہ یہاں جبرئیل امین اپ کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ادب و احترام سکھلانا چاہتے ہیں اور اخر میں اپ نے فرمایا بھی کہ یہ تمہیں تمہارا دین سکھلانے کے لیے ائے تھے جبرئیل امین تھے انسانی شکل میں تھے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے فرشتوں کو یہ بھی طاقت بخشی ہے کہ وہ انسانی شکل میں بھی ا سکتے ہیں دین سکھلانے کے لیے وہ انسانی شکل میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتے تھے بہت کم مرتبہ ائے ہیں لیکن ائے ہیں اور جب بھی اتے تھے ایک مشہور صحابی ہیں دہیہ قلبی ان کی شکل میں اتے تھے لیکن اس دن کسی نے نہیں پہچانا تھا اور ا کر یہ سوال کرتے ہیں اور جو پہلا ہی سوال کرتے ہیں یا محمد اخبی عن الاسلام اسلام کیا ہے اسلام کسے کہتے ہیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی جو ظاہری شکل و صورت ہے وہ بتاتے ہیں اور فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہ تو اس بات کی گواہی دے اپنی زبان سے نطق الشہادتین اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کر گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں اور اس کے بعد اس کے جو عملی تقاضے ہیں یہ اسلام میں داخل ہونے کا سرٹیفیکیٹ ہے اور یہ اپ کے پاس کارڈ ہے تو اس کارڈ کا اس مسلمان ہونے کا اسلام میں داخل ہونے کا اس کے بعد اپ کے پروف کیا ہے اس کے بعد عملی قولی فعلی بدنی عبادات کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں بتا رہے ہیں کہ نطق شہادین کے بعد و تقیم الصلاۃ کہ تو نما نماز قائم کر نماز قائم کرنے کا مطلب کہ جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اپ نے پڑھائی جیسے اپ نے سکھلائی صلوا کما رای تمونی صلی کہ جس طرح میں نماز پڑھتا ہوں مجھے نماز پڑھتا ہوا دیکھتے ہو اسی طرح نماز پڑھو وہ سنت طریقہ نماز کا مکمل جو طریقہ ہے اسی طرح نماز قائم کی جائے یہ قولی عبادت ہے بدنی عبادت ہے نماز و توتی زکوۃ اس کے بعد مالی عبادت ہے کہ زکوۃ ادا کر تو رمضان اور رمضان کے روزے رکھ تحج البیت ان استطاع سبیل حج قولی بھی ہے فعلی بھی ہے مالی عبادت بھی ہے زکوۃ مالی عبادت ہے تو اس کے بعد اگر تیرے پاس استطاعت ہے مالی اور جسمانی دونوں طاقتوں کی ضرورت ہوتی ہے یہاں پر زاد راہ بھی اور جسمانی طور پر صحت بھی ساتھ دیتی ہو تو اس پر حج ہے کہ اگر تیرے پاس یہ استطاعت ہے تو تو اللہ کے گھر کا حج کر اس کی زیارت کر تو یہ جب انہوں نے اسلام کے بارے میں پوچھا تو اپ نے یہ بتایا چونکہ وہ اللہ کی طرف سے ائے تھے اللہ نے ان کو یہ ساری چیزیں بتائی ہوئی تھی تو ساتھ میں وہ تصدیق بھی کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں صدقت کہ اپ صحیح کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں تو اس پر صحابہ کرام جو بیٹھے ہوئے تھے اب یہ دیکھیں کہ مجلس کے اندر بیٹھے ہوئے لوگوں نے کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا کہ یہ کون بندہ ہے کہاں سے ایا ہے ہم اسے جانتے نہیں ہیں اور یہ اللہ کے رسول سے ا کر سوال کر رہا ہے اور عجیب ہے کہ سوال کر رہا ہے اور ساتھ میں جواب بھی دے رہا ہے تو خاموشی سے سن رہے ہیں تعجب کیا انسانی فطرت انسان کو ایسی کوئی بات یا ایسی چیز سامنے اتی ہے مجلس کے اندر تو تعجب تو کر سکتا ہے لیکن کچھ بولا نہیں کسی نے کسی نے ٹوکا نہیں کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا کہ تم کون ہوتے ہو کہ اس طرح ہم تمہیں جانتے بھی نہیں اور سوال کر رہے ہو اور اور ساتھ میں تصدیق بھی کر رہے ہو اس کے بعد اگلا جو سوال وہ کرتے ہیں کہ یا محمد اخبر عن الایمان ایمان کے بارے میں بتائیے کہ ایمان کیا ہے ویسے تو اگر ہم ان کی تشریح کریں تو بہت ہمیں وقت چاہیے کہ اسلام کے معنی اسلام ہے اطاعت ہے فرمانبرداری ہے سر تسلیم خم کرنا ہے ماننا ہے ظاہری عبادات کا تعلق ہے اسلام سے اور ایمان کا تعلق ہے باطنی امور سے غیبی امور سے اور ایمان کی اگر ہم تعریف کریں تو ایمان کی لغوی تعریف تصدیق ہے اور اصطلاحی تعریف اقرار بالسان وتصدیق بالقلب و عمل بالجواری ایمان یہ ہے کہ زبان سے اقرار کیا جائے دل سے اس کی تصدیق کی جائے اور اعضاء سے اس پر عمل کیا جائے عملی جامہ پہنایا جائے تو یہ ایمان ہے تو اللہ کے رسول سے جب ایمان کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایمان کیا ہے تو اپ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے ان تؤمن باللہ کہ تو اللہ پر ایمان لائے اس کے فرشتوں پر ایمان لائے اس کی کتابوں پر اسمانی کتابوں پر ایمان لائے رسول اس کے رسولوں پر ایمان لائے والیوم الاخر اور اخرت کے دن پر ایمان لائے قیامت کے دن پر ایمان لائے بالقدر خیر اور تو اس بات پر بھی ایمان لائے کہ تقدیر میں جو اچھا اور برا ہے یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہی تقدیر ہے کہ جو بھی انسان کو دنیا میں اچھائی یا بھلائی ملتی ہے خیر یا شر ملتا ہے تو یہ اللہ کی طرف سے ہے وہ الگ بات ہے کہ ہم ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اچھائی ملے تو اس کی نسبت اللہ کی طرف کی جائے اور اگر کوئی برائی ائے تو اس کی نسبت اپنے نفس کی طرف یا شیطان کی طرف کی جائے جس طرح ہمیں قران بھی اس بات کی تعلیم دیتا ہے سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں فذا مرضی وہ شفینی جب میں بیمار ہوتا ہوں بیماری چونکہ ایک کمی ہے ایک نقص ہے تو جب میں بیمار ہوتا ہوں حالانکہ بیماری بھی اللہ کی طرف سے اتی ہے لیکن بیماری کی نسبت اپنی طرف کی جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ اللہ مجھے شفا دیتا ہے تو یہاں پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ ایمان کے ارکان بتا رہے ہیں پہلے جو بتائے گئے ہیں وہ اسلام کے ارکان ہیں یہاں پر ایمان کے ارکان ہیں ان اللہ و ملک و کتب و رسل و الاخر و من القدر خیر و شر یہاں پر ایمان کے ارکان چھ ہیں اسلام کے ارکان پانچ ہیں پھر وہ تصدیق کرتے ہیں صدقت اور اس کے بعد پھر اگلا ایک سوال کرتے ہیں یا محمد اخبر عن الاحسان احسان کے بارے میں بتائیے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مخسر اور جامع احسان کی تعریف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہلا درجہ اسلام ہے دوسرا درجہ ایمان ہے تیسرا درجہ احسان ہے جب انسان محسن ہو جاتا ہے جب اس میں احسان ا جاتا ہے جو اللہ کے مراقبہ میں انسان ا جاتا ہے تو اس وقت اس کی کیفیت یہ ہونی چاہیے کالہ ترا تو اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا کہ تو اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہے اس قدر اللہ کی عبادت کا اللہ کے ساتھ محبت کا اس کا تعلق باللہ ہو

[24:59]اس قدر اللہ کی عبادت کا اللہ کے ساتھ محبت کا اس کا تعلق باللہ ہو اس قدر اللہ کی عبادت میں وہ مشغول ہو کہ وہ گویا کہ اللہ کو دیکھ رہا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انسان کوئی بھی دنیا میں اللہ تعالی کو نہیں دیکھ سکتا کسی نبی نے اللہ کو دنیا میں نہیں دیکھا اللہ نے کسی کو ایسی انکھ ہی نہیں دی کہ وہ اللہ تعالی کو دنیا میں اللہ کی زیارت کر سکے اللہ کا دیدار کر سکے

[25:44]اور موسی علیہ السلام نے جب کہا تھا کہ میں اپ کو دیکھنا چاہتا ہوں تو وہ نہیں دیکھ سکے تھے تو یہ ایک تمثیل ہے ایک مثال ہے مثال کے طور پر ہے کہ انسان اس طرح عبادت کرے گویا کہ وہ اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہے اس قدر اللہ کی عبادت کا اللہ کے ساتھ محبت کا اس کا تعلق باللہ ہو

[26:17]اس قدر اللہ کی عبادت کا اللہ کے ساتھ محبت کا اس کا تعلق باللہ ہو اس قدر اللہ کی عبادت میں وہ مشغول ہو پرندے یہ سمجھتے تھے کہ یہ کوئی سوکھا ہوا بے جان درخت ہے یا کوئی ٹیلا ہے کوئی دیوار ہے پرندے صحابہ کرام کے سروں پر ا کر بیٹھ جاتے تھے اس طرح عبادت کرتے تھے اور بعض سے یہ بھی ملتا ہے کہ دنیا میں کہیں اگ لگی ہوئی ہے اور صحابہ کرام عبادت کر رہے ہیں تو ان کو دنیا کی خبر نہیں لوگ بتاتے ہیں کہ اگ لگی ہوئی تھی اپ کو پتہ نہیں ہے تو وہ اگے سے یہ کہتے ہیں کہ میں تو اخرت کی اگ کو بجھا رہا تھا مجھے دنیا کی اگ سے کیا کیا خبر اور ایسے دیگر کئی واقعات اتے ہیں کہ صحابہ کرام جب عبادت کرتے تھے تو اس قدر عبادت کے اندر اللہ کی محبت کے اندر سرشار ہوتے تھے سرشار ہوتے تھے اس قدر اللہ کی محبت میں وہ مشغول ہوتے تھے کہ انہیں دنیا جہان کی خبر نہیں ہوتی تھی تو یہاں بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ اگر احسان کا درجہ پانا ہے

[27:48]تو اس طرح عبادت کی جائے جو بھی عبادت ہو چاہے وہ قولی ہو فعلی ہو مالی ہو بدنی ہو خاص طور پر نماز اور دیگر جو عبادتیں ہیں وہ اس طرح کی جائیں یہ تصور رکھا جائے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں تو جو حقیقت یہ ہے کہ انسان اللہ کو نہیں دیکھ سکتا دنیا میں وہ اخرت میں ہی اللہ تعالی کی دی ہوئی طاقت سے دی ہوئی انکھ سے اللہ تعالی کا دیدار ہوگا اور وہ سب سے بڑی خوشخبری اور سب سے بڑی خوشی اور سب سے بڑی نعمت ہوگی اس سے بڑی کوئی نعمت اہل جنت کو نہیں نصیب ہوگی کہ جو اللہ کا دیدار ہوگا تو پھر اپ نے فرمایا کہ اگر ایسا ممکن نہ ہو اور ایسا ممکن نہیں ہے ہر ادمی کے لیے اور ہو بھی نہیں سکتا تو پھر وہ اس طرح تصور کرے کم از کم یہ وہ تصور رکھے کہ اللہ جب میں عبادت کر رہا ہوں تو میرا رب مجھ سے غافل نہیں ہے

[29:29]وہ مجھے ضرور دیکھ رہا ہے تو جب انسان کو پتہ ہو کہ میرا مالک میرا اقا میرا خالق میرا رازق میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر اس کو عبادت بھی اسی طریقے سے کرنی چاہیے جب اس کو یہ کیفیت نصیب ہو جائے تو پھر وہ احسان کے درجے کو پہنچتا ہے تو یہ تین درجے یہاں پر بیان کیے گئے ہیں اسلام، ایمان اور احسان اس کے بعد وہی جبرئیل امین جن کا ابھی تک پتا نہیں تھا اخر میں ا کر پتہ چلتا ہے کیونکہ ہم شرح میں پڑھ چکے ہیں کہ وہ جبرئیل امین تھے جو سوال کر رہے تھے

[30:26]تو وہ پہلے سوال یہ کرتے ہیں تو وہ پہلے سوال یہ کرتے ہیں فانی عن الساعہ قیامت کے بارے میں بتائیے کہ قیامت کب قائم ہوگی

[30:40]تو اللہ کے رسول کو تو پتا تھا کہ یہ جبرئیل ہیں تو وہ انہیں کہتے ہیں کہ جن سے اپ سوال کر رہے ہیں جن سے پوچھا جا رہا ہے اپ اور میں اس کے بارے میں دونوں برابر ہیں اپ کو بھی نہیں پتہ مجھے بھی نہیں پتا یہ قیامت اللہ تعالی نے کب قائم ہونی ہے کب واقع ہونی ہے اس کا علم اللہ تعالی نے کسی کو نہیں بتلایا حتی کہ جبرئیل امین کو نہیں بتایا اللہ کے رسول کو نہیں بتایا جو سید الانبیاء ہیں امام الانبیاء ہیں اس کے علاوہ دیگر کسی نبی کو نہیں بتایا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا کسی کو نہیں پتہ کہ کب قائم ہوگی

[31:49]ہاں البتہ اس کی کچھ نشانیاں ہیں اس کی کچھ علامات ہیں تو پھر وہ کہتے ہیں کہ وہ بتا دیجئے تو پھر وہ کہتے ہیں کہ وہ بتا دیجئے فانی امارتا اس کی نشانیوں کے بارے میں بتا دیجئے تو اپ کچھ اس کی نشانیاں اس حدیث کے اندر بتاتے ہیں پہلی نشانی جو ہے وہ یہ بتائی جا رہی ہے ان الامت ربتہا ادمہ کہتے ہیں غلام کو لونڈی کو خادمہ کو کہ لونڈی خادمہ اپنی مالکن کو جنم دے گی اس کا مطلب کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرب قیامت میں اولاد بیٹا بیٹی ماں باپ کے اوپر حکم چلائے گی ماں باپ ان کے مطی ہو گے ماں باپ فرمانبردار ہو گے ماں باپ ان سے ڈریں گے اور ہونا یہ چاہیے کہ اولاد کو ماں باپ سے ڈرنا چاہیے ان کو ماں باپ کی اطاعت فرمانبرداری کرنی چاہیے ان کی بات پر لبیک کہنا چاہیے لیکن وقت ایسا ائے گا کہ اولاد سے والدین ڈریں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بیٹی ماں باپ کے اوپر یا بیٹا ماں باپ کے اوپر حکم چلائے گا ان کی بات نہیں مانے گا بلکہ اپنی بات منوائے گا ان کو مجبور کرے گا یہ ایک علامت ہے ایک اور بتائی ان الحفا الورا ننگے پاؤں جنہوں نے کبھی جوتا نہیں پہنا ہوگا وہ الحفا العرا ننگے بدن جن کے بدن پر بھی کپڑا نہیں ہوگا یعنی غربت اتنی ہوگی اتنے غریب تھے وہ کہ پاؤں میں جوتا نہیں تھا جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا العالت غریب کنگال وہ ایک وقت ائے گا شاہ بکریوں کے چرانے والے ایک وقت ائے گا کہ ان کے پاس اتنا پیسہ ا جائے گا اتنا مال و دولت ا جائے گا اس قدر امیر ہو جائیں گے کہ وہ اونچی اونچی عمارتوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے لمبی لمبی اونچی اونچی عمارتیں بنائیں گے اور ایک دوسرے سے فخر کریں گے ان عمارتوں کے اوپر

[34:19]اور یہ جتنی بھی یہ علامات یہاں بیان ہو رہی ہیں کہ لڑکی لڑکا ماں باپ کے اوپر حکم چلائے گا یہ تقریبا پورا ہو چکا ہے اور اسی طرح کنگال ننگے بدن ننگے جسم والے غریب فقیر لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر وہ فخر کر رہے ہیں

[34:57]تو یہ قیامت کی چھوٹی نشانیاں جو ہیں ان کا ظہور تقریبا ہو چکا ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری ہیں قیامت کی نشانیاں دیگر حدیثوں میں اتی ہیں کہ قتل بہت ہو جائے گا اور زنا بڑھ جائے گا فساد پیدا ہو جائے گا مسجدوں کے اندر گانا بجانا ہوگا وہ یہ ساری پوری ہو گئی ہیں موبائل نے گانے بجانے کی بات جو تھی وہ بھی پوری کر دی جو کل تک ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے اب اپ دیکھ رہے ہیں کہ نماز پڑھی جا رہی ہوتی ہے اور نماز میں درس ہو رہا ہوتا ہے نماز میں وعظ و نصیحت ہو رہی ہے جمع ہو رہا ہے اور وہاں پر گانا بج رہا ہوتا ہے

[35:56]تو یہ نشانیاں تقریبا ساری پوری ہو چکی ہیں اس کے بعد پھر یہ وہ تو چلے جاتے ہیں جبرئیل امین تھوڑی دیر گزرتی ہے کچھ وقت کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھتے ہیں کہ یہ پتا ہے اپ کو کون تھے اور ظاہر سی بات ہے کہ جب نہ پتہ ہو تو کہہ دینا چاہیے کہ نہیں مجھے نہیں پتا اللہ کو پتا ہے تو اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا جائے

[36:37]تو جبرئیل امین کے بارے میں نہیں پتا تھا کہ کون ہیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے یہی جواب دیا اللہ ورسولہ اعلم پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم

[38:52]خود جواب دیتے ہیں اور یہ سوال کرنا بھی یہ علم سیکھنے کا ایک حصہ ہے

[39:57]اگر سوال کر کے طالب علم کو طلباء کو کلاس کو یا اپنے مقتدیوں کو پہلے سوال دیا جائے اور اس سے سوال کا جواب لیا جائے کیونکہ جب سوال کیا جاتا ہے تو ہر بندہ سوچنے کی کوشش کرتا ہے غور و فکر کرتا ہے جب غور و فکر کرتا ہے تو اس کے بعد اگر اسے جواب نہیں اتا غور و فکر ضرور کرے لیکن اگر اسے کسی جواب کا یقین ہے تو جواب دے وگرنہ خاموش ہو جائے اور جب اس کو نہیں جواب اتا اس کے بعد اگر سوال کرنے والا استاد ہو یا والد ہو یا کوئی بھی ہو اس کا جب وہ جواب دیتا ہے تو وہ جواب اس کے ذہن میں پختہ رہتا ہے تو اللہ کے رسول نے بھی یہاں پر سوال کیا کہ بتائیں یہ کون تھا تو انہوں نے جواب دیا ہمیں نہیں معلوم یہ کون ہے اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتا ہے تو پھر اپ نے بڑے نرم طریقے سے جس طرح اوپر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ادب و احترام سے سوالات کر رہے تھے اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسی طریقے سے بڑے نرم لہجے میں اور بڑے اسان الفاظ میں اس کا جواب دے رہے تھے یہاں پر بھی اپ نے جواب دیا یہ جبرئیل امین تھے ائے ہیں تمہارے پاس یعلمکم دینکم تمہیں تمہارا دین سکھلانے کے لیے ائے تھے تو دین سیکھنے کی چیز ہے دین سیکھنا چاہیے بغیر سیکھے دین نہیں اتا دین کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے اللہ تعالی نے اپنے مقرب فرشتے کو بھیجا کہ وہ دین سیکھنے کا طریقہ بھی بتائے دین بھی سکھائے اور ان کو اسلام ایمان احسان اور قرب قیامت کی نشانیوں کے بارے میں بھی بتائیں تو یہ طریقہ ہے دین سیکھنے کا اس طریقے سے دین حاصل کیا جاتا ہے اور اس طریقے سے جو دین حاصل کیا جاتا ہے وہ دل پر بھی اثر کرتا ہے دل پر بھی اترتا ہے اور دین کا تعلق ظہر سے نہیں ہے دین کا تعلق بہت زیادہ دل سے ہے اگر وہ دین دل میں اتر گیا ہے علم دل میں اتر گیا ہے اور علم کا اصل فائدہ ہی یہ ہے کہ اگر دل کو وہ صاف کر دیتا ہے اور دل میں وہ اپنا گھر بنا لیتا ہے اور دل کی صفائی کر دیتا ہے اور دل میں اس کا اثر ہوتا ہے تو وہ اس کے لیے مفید ہے وہی علم فائدہ مند ہے یہی اسی طرح علم سکھا جائے تو وہ فائدہ دیتا ہے اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس طرح دین کو علم کو سیکھنے کی سمجھنے کی اور دل میں اتارنے کی اللہ ہمیں توفیق عطا کرے حدیث کے فوائد یہ حدیث چونکہ لمبی حدیث ہے اس کے فوائد بھی کافی ہیں تو ہم اس میں سے بعض کا تذکرہ کرتے ہیں اس حدیث میں ارکان اسلام قواعد ایمان اور حقیقت احسان کو بیان کیا گیا ہے اور اسی طرح اس میں قیامت کی علامات کا تذکرہ ہے اور وہ قیامت کی چھوٹی نشانیاں علامات صغرا کا تذکرہ ہے اور قیامت وہ غیبی چیز ہے جس کا علم سوائے اللہ تعالی کے کسی کو نہیں اس لیے اس کے بارے میں زیادہ سوال و جواب کرنا منع ہے درست نہیں ہے جو شخص کسی بات کا علم رکھتا ہو اسے وہ بات معلوم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ علماء سے سوال کرے تاکہ اس کے سوال کرنے پر حاضرین کو اور جن کو وہ علم نہیں ہے جن کو اس چیز کا معلومات اس چیز کی معلومات نہیں ہے ان تک بھی وہ بات پہنچ سکے جس طرح جبرئیل امین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ا کر سوالات کیے تھے اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ سوال کرنے والے کو طالب علم کا انداز اختیار کرنا چاہیے طالب علم کی طرح علم کی طلب رکھنے والے کی طرح اس کا رویہ ہو سوال کرنے والے سے ادب و احترام کے ساتھ پیش ایا جائے ادب و احترام سے بیٹھا جائے اور ادب کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے اور جواب دینے والے کو بھی سوال کرنے والے کے سوال کا پوری بیانداری سے جواب دینا چاہیے جس طرح کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل امین کے سوالات کا جوابات دیے ہیں اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ظاہری اعمال کا نام ہے اور ایمان باطنی اعمال کا نام ہے

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript