[0:06]نفس شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا کلام۔ شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا۔ اللہ سب کو لے جائے۔ اپنے گھر کی بار بار زیارت کرائے۔ اب میرے ساتھ مل کے کہو۔ شکر ہے تیرے۔ ایک بات یاد ائی ایک حاجی صاحب عرفات کے میدان میں کھڑے کہتا لبیک اللہم لبیک۔ لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد وال نعم لک والملک لا شریک لک اواز اتی جواب میں لا لبیک۔ یہ کہتے ہیں لبیک اللہ لبیک اواز اتی ہے لا لبیک ایک بچہ کھڑا تھا وہ کہتا انکل اپ کہتے ہو لبیک اواز اتی ہے لا لبیک۔ وہ چپ ہو گئے کہتے ہیں تم نے بھی سنا کہا ابھی تو اواز ائی۔ اچھا تو کہنے لگے بزرگ بوڑھے بابا کہ بیٹا تو نے ابھی سنا ہے نا میں تو 70 سال سے سن رہا ہوں۔ تو بچہ کہنے لگا اپ کیوں ٹائم ضائع کرتے ہو کیوں اتنا خرچہ کرتے ہو چھوڑو پھر جب نہیں قبول ہو رہی نہیں لگ رہی صدا اور لبیک کا جواب انکار میں ا رہا ہے چلے جاؤ۔ تو بابا جی کہنے لگے بیٹا میرے اللہ کے پاس تو مجھ جیسے بہت سارے ہوں گے۔ میرے پاس اللہ جیسا کوئی نہیں ہے۔ اگر میری نہیں قبول ہوتی نا میں پھر بھی اسی در پہ صدا لگاتا رہوں گا۔ اسی وقت اواز ائی میرے بندے یہ گمان ہے میرے بارے میں تو جا یہ بھی قبول کر لی 70 پچھلی بھی قبول کر لے۔ سبحان اللہ یہ تو اللہ ہے۔ ایک بار کہو یا اللہ میری تو توبہ سارے معاف کر دے گا۔ سارے معاف کرے گا۔ یہ نہیں کوئی ٹیکس دینا پڑے گا کوئی فیس کوئی لائن نہیں یا اللہ توبہ ختم۔ اللہ سے دوستی بڑی اسان ہے سنو۔ خاص اپنے در کر رکھا تو نے ا مولا مجھے یوں نہیں در در پھرا میں تو اس قابل نہ تھا۔ یوں نہیں در در پھرا میں تو اس قابل نہ تھا۔ شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا۔ تیری رحمت تیری شفقت سے ہوا مجھ کو نصیب تیری رحمت تیری شفقت سے ہوا مجھ کو نصیب گنبد خضرا کا سایہ میں تو اس قابل نہ تھا۔
[3:22]گنبد خضرا کا سایہ میں تو اس قابل نہ تھا شکر ہے مل کے کہہ دو ایک بار شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا۔ تو نے اپنے گھر بلایا میں تو اس قابل نہ تھا سوچتا ہوں کیسے ایا میں تو اس قابل نہ تھا۔ حضرت نفی شاہ صاحب فرماتے ہیں اسی شعر کو دوسرے انداز میں بارگاہ سید کائنات میں ا کر نفیس بارگاہ سید کونین میں ا کر انس سوچتا ہوں کیسے ایا میں تو اس قابل نہ تھا۔ سوچتا ہوں کیسے ایا میں تو اس قابل نہ تھا۔ تو نے اپنے گھر بلایا میں تو اس قابل نہ تھا شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا



