Thumbnail for Iran vs USA: The War Nobody Expected — Full Breakdown by HASI TV

Iran vs USA: The War Nobody Expected — Full Breakdown

HASI TV

21m 30s5,136 words~26 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
[0:03]Section 1

ایران پر حملے سے پہلے طاقت اور تکبر کے نشے کے اندر فرعونی لہجہ رکھنے والے اس شخص کا ذرا کانفیڈنس دیکھیں۔ Our country is winning again in...

[4:18]Section 2

دوسری خبر یہ ہے کہ مودی صاحب نے اخر کار نیتن یاؤ سے اپنی یاری نبھا دی ہے کیونکہ دو ہفتے پہلے ایک ایرانی شپ انڈیا کے وساقہ پٹنم کے اندر نی...

[12:10]Section 3

اسی لیے ہمیں بہت ہی زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور کسی بھی خبر پر یقین کر کے ری ایکشن دینے کی بجائے انتظار کریں پراپر خبر انے کا۔ اسی و...

[18:03]Section 4

پر امریکن ڈرونز کی اے ائی نے بیوقوف بن کر جن کو ٹارگٹ کیا وہ دراصل پینٹنگ تھی اور اس پینٹنگ پر جو بم گرایا گیا وہ ایک ملین ڈالر سے زیادہ...

[19:33]Section 5

اور ہم نادان ہیں کیونکہ ہم نے امریکہ سے ہی خبریں لینی ہیں تو ظاہر ہے ہم بھی دکھا دیتے ہیں ان کو۔ پر اگر ویسٹرن میڈیا کو دیکھیں تو ان کے م...

[20:46]Section 6

پاکستان صحافی حامد میر کے مطابق امریکن کمانڈر اپنے فوجیوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ کو اشارہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اخری جنگ عظیم کی...

Pull quotes
[0:03]ایران پر حملے سے پہلے طاقت اور تکبر کے نشے کے اندر فرعونی لہجہ رکھنے والے اس شخص کا ذرا کانفیڈنس دیکھیں۔ Our country is winning again in fact we're winning so much that we really don't know what to do about it.
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:03]ایران پر حملے سے پہلے طاقت اور تکبر کے نشے کے اندر فرعونی لہجہ رکھنے والے اس شخص کا ذرا کانفیڈنس دیکھیں۔ Our country is winning again in fact we're winning so much that we really don't know what to do about it. لیکن جب پلٹ وار کے اندر پہلی بار کوئی ٹکر کا دشمن ملا تو اس سے مار کھانے کے بعد اس شخص کی حالت دیکھیں جیسے ایک ہارا ہوا اور تھکا ہوا انسان ہو جس کا تکبر ٹوٹ چکا ہو۔ خبر یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسٹیم فائلز کے اندر اپنی مزید لیک سے بلیک میل ہو کر ایران پر بنا سوچے حملہ تو کر دیا لیکن جیسا اس نے سوچا تھا ویسا بالکل نہیں ہوا۔ آیت اللہ خمینی کی شہادت کے بعد ٹرمپ اور نیتن یاہو کا پلان یہ تھا کہ اس ملک کے اندر افراتفری اور خانہ جنگی شروع ہو جائے گی جیسے باقی مڈل ایسٹ کے ملکوں کے اندر انہوں نے کیا تھا۔ پھر اسی افراتفری کا فائدہ اٹھا کر یہاں پر کامیاب قسم کا ریجیم چینج اپریشن ہو گا یہاں پر اپنی کوئی پپٹ حکومت لا کر بٹھا دیں گے۔ پر ہوا یہ ہے کہ آیت اللہ خمینی اپنی شہادت کے بعد ان کے لیے مزید ڈینجرس ہو گئے ہیں اور اس کے علاوہ 280 کے قریب چھوٹی بچیوں کی سکول پر بم گرا کر جس طرح سے شہادت کی گئی اس امریکن اور اسرائیلی جاریت نے ایرانی عوام کو اکٹھا کر دیا ہے اور ایران مزید طاقت کے ساتھ ہر جگہ پر حملے کر رہا ہے مڈل ایسٹ کے اندر کوئی جگہ اس کے حملوں سے محفوظ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اس نے امریکہ کے ابراہیم لنکن بیری جہاز کو بھی نشانہ بنایا اور امریکہ کے ایف 17 تیارے ایران نے انتہائی چالاکی سے گوا دیے ہیں۔ ان طیاروں کے گرنے کے بعد امریکہ کا یہ کہنا تھا کہ یہ فرینڈلی فائر کے اندر گر گئے ہیں غلطی سے کہ ایئر ڈیفنس سسٹم نے اس کو غلطی سے مار گرایا ہے۔ پر دوستو پوری بات یہ ہے کہ ایران کے شاہی ڈرون جو کہ سوسائڈل ہوتے ہیں وہ جان بوجھ کر ان ایف 17 فائٹر جیٹس کے پاس گئے ایئر ڈیفنس سسٹم ان کو ٹارگٹ کرتے ہوئے۔ امریکہ کے ان ایف 17 جہازوں کو بھی اڑا دے اور یہ ٹرک کامیاب رہی۔ دوسری اہم خبر یہ ہے کہ ایک ایک کر کے امریکہ کے اتحادی اس کا ایران پر حملے کے لیے ساتھ چھوڑ کر جا رہے ہیں کیونکہ یو کے نے اس جنگ کے اندر شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے اور وہ بھی امریکہ کے پریشر پر اپنی ایئر اسپیس دینے کے لیے حامی بھری ہے۔ اس کے علاوہ اسپین نے اپنی ایئر اسپیس دینے سے منع کر دیا ہے اور اس جنگ کے اندر بھی کودنے سے صاف انکار کر دیا۔ وہ کہتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا یہ ایران پر حملہ دراصل انٹرنیشنل قانون کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ اسپین نے غزہ پیس اف بورڈ کا حصہ بننے سے بھی انکار کر دیا ہے جس کے بعد ٹرمپ شدید غصے کے اندر ہے۔ اور اس سے سفارتی تعلقات سمیت اپنی ٹریڈ بھی ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اسپین کھلے عام یہ صاف طور پر کہہ رہا ہے کہ یہ تمام حملہ دراصل صرف اسرائیل کو راضی کرنے کے لیے ہے دنیا کا اس کے اندر کوئی مفاد نہیں ہے۔ اسپین از بین ٹیریبل۔ اسپین نے مایوس کیا۔ دراصل میں نے اسکاٹ بیسنٹ سے کہا ہے کہ اسپین کے ساتھ تمام معاملات معطل کر دیں۔ میں چاہوں تو کل ہی یا اج ہی اسپین سے متعلق ہر چیز روک سکتا ہوں اسپین کے ساتھ تمام اقتصادی تعلقات ختم کر سکتا ہوں۔ مجھے یہ حق حاصل ہے۔ میں بریٹین سے بھی خوش نہیں ہوں۔ دراصل بریٹین نے امریکہ کو اپنے ایئر بیس کا استعمال ایران پر حملے کے لیے کرنے دینے میں ہچکچاہٹ دکھائی۔ اسپین بہت برا رہا ہے اسے سارا واپار ختم کریں گے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اسپین کے پردھان منتری پیڈرو سانچز نے بھی ٹرمپ کو جواب دیا ہے۔ صرف کچھ لوگوں کی بدلے کی کاروائی کے ڈر سے ہم کسی ایسی چیز میں شامل نہیں ہو جائیں گے جو دنیا کے لیے بری ہے اور ہمارے مولوں اور ہتوں کے الٹ ہے۔ اس کے علاوہ فرانس اور جرمنی جو کہ امریکہ کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں انہوں نے بھی ملٹری طور پر امریکہ کی مدد کرنے کی بجائے صرف بیان کی حد تک یا پھر اسلحے کی حد تک اس کی مدد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کے مڈل ایسٹ پر ایک کے بعد ایک حملے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ مڈل ایسٹ سے ایک ایک کر کے یو ایس اے کے جہاز واپس جا رہے ہیں کیونکہ وہاں پر مزید کبھی بھی اٹیک ہو سکتا ہے۔ ایران سے بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ نے قطر بحرین نے اڈوں سے اپنے سینکڑوں فوجی نکال لیے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا دعوی لکھا اقدام اقدام احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا۔ اب ذرا سوچ کے دیکھیں کہ کیا کبھی اپ یہ سوچ بھی سکتے تھے کہ ایک اسلامی ملک ایران اکیلے یو ایس اے وقت کی سپر پاور کی یہ حالت کر دے گا کہ وہ وہاں سے دم دبا کر اپنے وطن واپس بنے گا۔ ذرا سوچیں یہ خود کو سپر پاور کہنے والے ملک کے لیے کتنی ذلت کی بات ہے کہ وہ اپنا بوریا بستر اٹھا کر اپنے اڈوں سے بھاگ جائیں۔ اور اسرائیل کی یا تلاویب کی تو بات ہی نہ کریں کیونکہ وہاں پر لگاتار ایران کے حملے جاری ہیں جو کہ کبھی کلستر بم کی صورت میں تو کبھی سوپرسونک میزائل وہاں پر تباہی مچا رہے ہیں۔ ایران سے مسلسل مار کھانے کے بعد اسرائیلی ربائی رو رو کر دجال کو پکار رہے ہیں۔

[4:18]دوسری خبر یہ ہے کہ مودی صاحب نے اخر کار نیتن یاؤ سے اپنی یاری نبھا دی ہے کیونکہ دو ہفتے پہلے ایک ایرانی شپ انڈیا کے وساقہ پٹنم کے اندر نیول ایکسرسائز کے لیے انڈیا کے دعوت پر یہاں پر ائی تھی۔ لیکن وہ جیسے ہی بھارت کے زیر کنٹرول انڈین اوشن سے واپس جا رہی تھی تو اس کی مخبری اس نے امریکہ اور اسرائیل کو کر دی جس کے بعد امریکن چپس نے اس کو ٹارگٹ کر کے وہیں پر ڈسٹرائے کر دیا۔ اس ایرانی شپ کے اندر 87 لوگ مارے گئے اور اس کے اندر سینکڑوں لوگ زخمی اور ابھی تک لاپتہ ہیں۔ حالانکہ ایران کو اس بات کا پہلے سے خطرہ تھا اور اسی لیے اس نے جنگ کی وجہ سے کچھ دن یہاں پر انڈیا کے اندر ہی اس شپ کو روکنے کی درخواست کی تھی جس کو ریجیکٹ کر دیا گیا تھا۔ اخر اس انکار کے بعد یہ جہاز سری لنکا روانہ ہوا تو بھارت نے اس کی لوکیشن امریکہ کو دے دی اور اسے سری لنکا کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ پر ابھی تک مودی کے منہ سے ایک لفظ مذمت کا نہیں نکلا۔ مجھے کریڈٹ نہیں چاہیے۔ یہ وہی ایران تھا جس نے بھارت کو چاہا بہار پورٹ دی تھی سستا تیل دیا بھارت کو اچھے ہمسائے کی طرح ٹریٹ کیا اور اس بندے نے اس مہمان نوازی کا اس احسان کا بدلہ اج ایران کو دے دیا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایران پر مسلسل یو ایس اے اور اسرائیل کی بمباری جاری ہے خاص طور پر اصفہان شہر پر لگاتار کارپورٹ بمباری کی جا رہی ہے جیسا کہ اسرائیل نے غزا میں کی تھی۔ تاکہ ایران کی ملٹری تنسیبات اور اس کا انفراسٹرکچر تباہ ہو جائے لیکن ایسا پوسیبل نہیں ہے کیونکہ ایران کا انفراسٹرکچر جہاں سے وہ میزائل لانچ کرتا ہے وہ زمین کے نیچے بنے ہوئے ہیں۔ ان دونوں ملکوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان کو تباہ کرنے کی بجائے اس انفراسٹرکچر کو ڈھونڈنا ہے۔ اس سے بھی اچھی خبر یہ ہے کہ خبروں کے مطابق ایران کے اندر 4.4 میگنیٹیوڈ کا زلزلہ رپورٹ کیا گیا ہے جو کہ اسرائیل اور یو ایس اے کے مطابق نیچرل نہیں ہے بلکہ دنیا کو یہ شک ہے کہ شاید ایران نے نیوکلیئر بمب بنا کر اس کی ٹیسٹنگ کی ہے۔ اور یہ اسی کا دھماکہ تھا۔ دیکھیں اس وقت ایران کے پاس اتنا انریچ یورینیم موجود ہے جو کہ 99 پرسنٹ تک انریچ ہو گیا تو ایران صرف ایک دو نہیں بلکہ پورے 11 نیوکلیئر بمب ایک ساتھ بنا سکتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اپ دیکھیں گے کہ پوری گیم ہی پلٹ جائے گی۔ کسی ملک کی جرات نہیں ہوگی ایران پر ڈائریکٹ جنگ کرنے کی۔ اس کے علاوہ ایران کے گلف کنٹریز پر حملوں کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان ملکوں کی ایئر لائن بند ہونے کی وجہ سے اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے ان کی ٹریڈ بند ہو چکی ہے وہاں سے تیل کی سپلائی نہیں ہو رہی۔ اور یہ گلف کنٹریز سٹیٹ اف ہرموس بلاک ہونے کے بعد مسلسل ٹرمپ پر پریشر بنا رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ بیک ڈور سے ٹرمپ منتوں پر اتر ایا ہے۔ اور خبروں کے مطابق پاکستان سمیت گلف ملکوں کو کہہ رہا ہے کہ ایران سے ہماری ڈیل کرا دو تاکہ یہ جنگ ختم ہو جائے کیونکہ اگر ایران نے اس جنگ کا فائدہ اٹھا کر نیوکلیئر بمب بنا لیا تو یہ مڈل ایسٹ کے اندر امریکہ اور اسرائیل کی موت ہے۔ دیکھیں آیت اللہ خمینی جب زندہ تھے تو انہوں نے ہمیشہ یہ فتوی دے کر کہا کہ نیوکلیئر بمب بنانا حرام ہے کیونکہ اس سے عام لوگ مرتے ہیں۔ ایران کو انہوں نے یہ ہتھیار بنانے سے روکے رکھا پر اب نہیں کیونکہ جب آیت اللہ خمینی کو شہید کر دیا گیا ہے تو اس وجہ کو ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ اور یقینا ایران تیزی سے اس پر کام کر رہا ہے۔ اور امریکہ کی دوسری سردردی یہ ہے کہ امریکہ کے پاس ایئر ڈیفنس سسٹم کے جو انٹرسیپٹ میزائل موجود ہیں جو کہ ایران کے حملوں کو ہوا کے اندر ہی تباہ کر دیتے ہیں وہ اہستہ اہستہ ختم ہو رہے ہیں۔ جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ ہم جتنے میزائل ان کو مار رہے ہیں اس سے زیادہ ہر دن بنا رہے ہیں یعنی ہم ایک دن کے اندر 500 میزائل بھی بنا سکتے ہیں۔ اور مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کیونکہ انٹرسیپٹ میزائل کی قیمت لاکھوں اور ملین ڈالرز کے اندر بھی ہوتی ہے جبکہ ایران کا میزائل صرف چند ہزار ڈالر کے اندر بن جاتا ہے۔ تقریبا 20 سے 30 ہزار ڈالر کے اندر تو اب اپ اندازہ لگائیں کہ اس انٹرسیپٹ میزائلوں کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کو معاشی طور پر کتنا زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ سعودی افیشل نے لائیو ٹی وی پر ا کر یہ کہا کہ یو ایس اے نے جس طرح سے ہمیں دشمنوں سے پروٹیکٹ کرنے کا وعدہ کیا تھا اس وقت وہ صرف اسرائیل کو ہی پروٹیکٹ کر رہا ہے ہماری کوئی فکر نہیں ہے۔ اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یو ایس اے فیوچر کے اندر مڈل ایسٹ کے ملکوں کے اندر اپنا ٹرسٹ کھوتا جا رہا ہے ڈیفنس کے معاملے میں۔ اب بظاہر تو امریکہ نے اپنے ٹام ہاک میزائل سے ایران پر حملہ شروع کر دیا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ ہم بہت جلد اپنی ارمی کو ایران کے اندر گراؤنڈ اپریشن کے لیے اتار سکتے ہیں۔ پر دوستو سچ یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ یو ایس اے کی سب سے بڑی غلطی ہوگی کیونکہ ایران، افغانستان، شام کے اندر جب یہ زمینی فوج اتاری گئی تھی تو صرف یہ یو ایس اے کی فوج نہیں تھی۔ بلکہ یونائیٹڈ نیشن کے ملکوں کی جوائنٹ فورسز تھی لیکن اس وقت یو ایس اے بالکل اکیلا پڑ چکا ہے۔ اور اس کی وجہ صاف ہے کہ یہ امریکہ کی یا پھر ان کے سروائیو کی جنگ نہیں ہے بلکہ صرف اسرائیل کے سروائیول کی جنگ ہے جس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ایران نے کھلے عام یہ دھمکی بھی دے دی ہے کہ اگر فرانس، برطانیہ یا کوئی بھی اور ملک اس جنگ کے اندر شامل ہوتا ہے تو اس کو بھی دشمن سمجھا جائے گا اور اس سے بھی اسی طرح سے جنگ ہوگی۔ اور یہ بات سینس بھی بناتی ہے کیونکہ یہ سب ڈویلپ کنٹریز ہیں کیونکہ شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال کر یہ اپنے ملک کی تباہی کبھی نہیں کروائیں گے۔ ایران زخمی شیر کی طرح لگاتار حملے کر رہا ہے اس کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے پر یو ایس اے سمیت ان ملکوں کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔ اسی لیے بار بار ایران کو مذاکرات کی افر ہو رہی ہے پر اس نے جواب دیا ہے کہ اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو اس چیز سے مایوس ہو کر اس کا اگلا پلان جس پر امریکہ غور کر رہا ہے وہ یہ ہو سکتا ہے کہ عراق اور شام کے اندر موجود کرد فورسز کو ہتھیار دے کر ان کو ایران سے جنگ کے اندر الجھا دے۔ ایران کو شکست دینے میں ناکامی کے بعد امریکہ نے کر د جنگجوؤں سے مدد مانگ لی ہے الجزیرہ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کے لیے امریکہ نے کر د جنگجوؤں سے رابطہ کیا۔ امریکہ کی ایران میں بغاوت کی کوششیں ماہرین کے مطابق کر د فورسز سے ہاتھ ملانے کا منصوبہ خطے کو غیر مستحکم کرے گا۔ پر یہ اتنا اسان نہیں ہے جتنا سننے میں لگ رہا ہے کیونکہ ایران سے لینڈ پر کاروائی کرنا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ اس کی ٹف جیوگرافی ہے۔ یہ چاروں طرف سے اونچے پہاڑی سلسلوں اور سمندر سے گھرا ہوا ہے جو کہ جنگ کی مشکلیں حد سے بڑھا دیتی ہیں اور اس کے علاوہ اس کے سر بہت زیادہ لمبے ہیں جو کسی بھی زمینی فوج کا قبرستان بن سکتی ہیں۔ اور اس سب سے بڑھ کر ذرا تصور کریں کہ اگر یو ایس فورسز ایران کے اندر داخل بھی ہو گئی تو وہاں کی عوام جو کہ شدید غصے کے اندر ہیں ان کا کیا حال کرے گی؟ ایران میں ریجیم چینج کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ وہاں کے لوگ اس حکومت کے خلاف کھڑے ہو جاتے لیکن ہم نے دیکھا کہ ایت اللہ خمینی کی شہادت کے بعد اور چھوٹی بچیوں کو مارنے کے بعد ان کا غصہ مزید بڑھ گیا ہے۔ ویسٹرن میڈیا نے بہت پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی کہ یہ دکھائیں کہ وہاں پر عوام اب سڑکوں پر نکل ائی ہے اپنی حکومت کے خلاف اور وہاں پر لوگوں نے جشن منائے ایت اللہ کی وفات کے بعد لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو لوگ خلاف تھے بھی وہ بھی ایران اور اسرائیل کے اس حملے کے بعد ایک ہو کر ایک قوم بن چکے ہیں۔ اس بندے کا خیال تھا اس کا تکبر تھا کہ میرے پاس فرعون کی طاقت ہے۔ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔ پر جب ایران نے اوقات دکھائی اور تھوڑی سی ہمت دکھائی تو اللہ نے اس کی دہشت اس سپر پاور کے دل میں بٹھا دی۔ اس بندے نے اپنا انجام سوچے بغیر اس جنگ کے اندر سینگ پھنسا لی بس نیتن یاؤ سے بلیک میل ہو کر۔ لاسٹ ویڈیو میں میں نے اپ کو بتایا تھا کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی ائل ریفائنری پر میزائل اٹیک ہوا ہے جو کہ ایران نے کیا ہے پر یہ سچ نہیں تھا کیونکہ سچ اب سامنے ایا ہے۔ کیونکہ ایران نے کہا ہے کہ سعودی عرب ہمارا مسلم بھائی ہے ہمارا ٹارگٹ صرف یہاں کے یو ایس اے کے اساسی تھے ہم نے ارام کو ریفائنری پر کوئی اٹیک نہیں کیا۔ یہ اسرائیل نے کیا ہے۔ جی ہاں اسرائیل نے۔ پھر ایک اور انکشاف ہوا ہے کہ امریکن براڈ کاسٹر نے خفیہ خبر دی ہے کہ سعودی عرب سمیت قطر سمیت گلف ملکوں کے اندر اسرائیلی جاسوسوں کو پکڑا گیا ہے جو کہ ایسی صاف جگہوں پر بم لگا رہے تھے۔ ان لوگوں کا پلان تھا کہ ان ملکوں کے اندر دھماکہ کر کے اس کا الزام بھی ایران پر ڈال دیں تاکہ یہ گلف کنٹریز غصہ ہو کر ایران کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ ان سنی مسلم ملکوں کو ایران کے خلاف جنگ کے اندر شامل ہونے کی وجہ دی جائے۔ اس کے علاوہ لاسٹ ویڈیو کے اندر میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ محمد بن سلمان پر یو ایس اے کی نیوز ایجنسی واشنگٹن پوسٹ نے یہ الزام لگایا ہے کہ ایران پر حملے کے لیے محمد بن سلمان ہی لگاتار ٹرمپ کو فون کرتا رہا۔ اور میں نے اپ سے کہا تھا کہ اپ دیکھ لینا کہ فیوچر کے اندر جا کر یہ ثابت ہوگا کہ یہ خبر جھوٹی تھی اور یہ شیعہ سنی اختلافات کو بڑھا کر مسلمانوں کو توڑنے کی اور ان کو اپس میں لڑوانے کی چال ہے۔ اور دوستو ایسا ہی ہوا ہے۔ ابھی ابھی خود محمد بن سلمان کا بیان ایا ہے کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے میں نے ایسا کبھی نہیں کہا۔ اور ویسے بھی دوستو کامن سینس کی بات ہے کہ اگر ان لوگوں کے پاس کوئی ثبوت ہوتے تو ٹرمپ ایک منٹ نہ لگاتا اس کو سامنے لانے میں اور امریکہ اور اسرائیل کے پاس اس سے اچھا موقع اور کیا تھا اگر ان کے پاس ثبوت ہوتے تو سعودی عرب کو ایران کے خلاف کرنے کے لیے۔ اسی لیے اگر اپ ان تمام چیزوں پر غور کریں اور ان تمام کڑیوں کو ملاتے جائیں تو اپ سمجھ جائیں گے کہ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں ہے بلکہ مینٹل لیول سازشی اور پروپیگنڈا بھی زوروں شور سے ان دونوں ملک کی خفیہ ایجنسیاں چلا رہی ہیں۔

[12:10]اسی لیے ہمیں بہت ہی زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور کسی بھی خبر پر یقین کر کے ری ایکشن دینے کی بجائے انتظار کریں پراپر خبر انے کا۔ اسی وجہ سے میں دو تین دن تک انتظار کر کے تمام صورتحال کو دیکھ کر خبر کنفرم کر کے پھر اپ کے سامنے لاتا ہوں۔ اگلی خبر یہ ہے کہ ایران نے سٹیٹ اف ہرموز کو بلاک کر کے بہت بڑا سٹیپ لیا ہے جس کو عام بندہ نہیں سمجھ سکتا۔ ایران کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہونا کیونکہ اس پر پہلے سے پا بندیاں ہیں وہ اپنا ائل کسی کو نہیں بھیج سکتا۔ چائنہ کے علاوہ اس کا کوئی مستقل کسٹمر ائل اور گیس کا پہلے بھی نہیں تھا۔ لیکن اگر بات کریں مڈل ایسٹ کی یا پھر گلف کنٹریز کی جیسا کہ عراق، یو اے ای، بحرین، قطر، سعودی عرب تو ان کا تیل 70 ٹو 80 پرسنٹ اسی سٹیٹ اف ہرموس کے رستے سے ہو کر جاتا ہے جس کو ایران کنٹرول کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان ملکوں کی ایک ایک دن کی کمائی بند ہو رہی ہے اور پوری دنیا کے اندر پٹرول کی قیمتیں بڑھنے والی ہیں سٹاک مارکیٹ کریش کرنے والی ہے۔ اور گلف کنٹریز مجبور ہو کر یہ جنگ کسی بھی حال کے اندر رکوائیں گے زیادہ دیر تک اپنا نقصان برداشت نہیں کر سکتے۔ حالانکہ ٹرمپ کو اس بات کا پہلے سے اندازہ تھا کہ شاہ فیصل کے دور کی طرح ان کی ائل سپلائی بند ہونے سے ان کی یو ایس مارکیٹ کریش کر سکتی ہے تو اس نے پہلے سے ہی وینزویلا کے ائل ریزرو پر قبضہ کر لیا تھا۔ تاکہ اپنی ضروریات یہاں سے پوری کرتا رہے اور دوسرا اس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ہم اپنی نیول شپس کو بھیج کر اس راستے کو کھلوائیں گے اور ان جہازوں کو باہر نکالیں گے جو کہ یہاں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ ایران نے چائنہ کے علاوہ تمام بیری جہازوں کو یہاں سے گزرنے سے روک دیا ہے کیونکہ چائنہ بیک ڈور سے ایران کو واقعی مدد بھی کر رہا ہے۔ جبکہ رشیا اپنی یوکرین جنگ کی وجہ سے اس کی ملٹری طور پر تو مدد نہیں کر سکتا لیکن ہتھیاروں کی مدد سے اس کی کافی حد تک سپورٹ کر رہا ہے۔ اور ابھی کی خبروں کے مطابق اس نے ایران کے ساتھ ہتھیاروں کی خفیہ طور پر ایک بہت بڑی ڈیل کی ہے۔ ایران نے روس کے ساتھ تقریبا 11 کھرب 64 ارب روپے مالیت کا دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران کندھے پر رکھ کر فائر ہونے والا جدید میزائل نظام حاصل کرے گا ڈھائی ہزار 9 ایم 336 میزائل فراہم کیے جائیں گے۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ کچھ یونٹس پہلے ہی ایران کو فراہم کیے جا چکے ہوں۔ دیکھیں اگر ایسا ہوتا ہے کہ یو ایس اپنے شپس کو یہاں پر واقعی سٹیٹ اف ہرموس کو کھلوانے کے لیے بھیج دیتا ہے تو یہ جنگ مزید پھیل سکتی ہے اور اب کی بار ایران ان شپس کو ضرور ٹارگٹ کرے گا تو یہ جنگ پورے خطے کے اندر پھیل سکتی ہے۔ حماس نے ابھی اسرائیل پر راکٹ سے حملہ کیا ہے لیکن یہ خبر ابھی تک کنفرم نہیں ہے کیونکہ پاکستانی میڈیا تو اس کو رپورٹ کر رہا ہے لیکن انٹرنیشنل میڈیا نہیں۔ سب سے پہلے اپ کو بتائیں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے اسرائیل پر زمین سمندر اور فضا سے حملے 22 اسرائیلی ہلاک سینکڑوں زخمی اور درجنوں یرغمال بنا لیے گئے عرب میڈیا کے مطابق حماس کی القسام برگیڈ نے پہلے ہزاروں راکٹ داغے اور پھر پیدل دستے سرحدی باڑ توڑ کر اسرائیل میں داخل ہوئے القسام برگیڈ کے مزاحمت کار موٹر گلائیڈرز کے ذریعے فضا سے بھی اسرائیل میں داخل ہوئے حماس کے اچانک حملوں میں متعدد افراد ہلاک سینکڑوں زخمی اور متعدد اسرائیلی یرغمال ہیں اسرائیلی اخبار اس وقت پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ شیعہ سنی فساد کو بھڑکایا جائے اور غلط فہمیوں میں ڈال کر گلف ملکوں کو جن کو دین کا حکم تھا کہ کافروں کو دوست نہ بناؤ ان کو اپنا ڈیفنس دے رکھا تھا۔ انہیں ایران سے نفرت میں ڈال کر لڑوایا جائے۔ مثال کے طور پر لاسٹ ویڈیو کے اندر میں نے بتایا تھا کہ سائپرس یعنی ترکیہ کے اندر موجود برطانیہ کی نیٹو کی ایئر بیس پر بھی ایران نے ڈرون حملہ کیا تھا لیکن سچ یہ ہے کہ وہ حملہ بھی ایران نے نہیں کیا تھا بلکہ ایران کے شہیدی ڈرون جیسا ایک ڈرون تھا جو کہ اسی کی طرح دکھتا تھا جس کو اسرائیل نے مارا تھا۔ اور اس کا مقصد یہ تھا کہ ترکی سمیت یونائیٹڈ نیشن کے ملک بھی اس جنگ کے اندر ایران کے خلاف شامل ہو جائیں۔ اب اپ سمجھ رہے ہیں نا کہ کتنی زیادہ ساسیں چل رہی ہیں میدان جنگ کے علاوہ بھی۔ یہ جنگ اسرائیل اور امریکہ نے تب شروع کی جب ان دونوں ملکوں کے درمیان امن معاہدہ فائنل ہو چکا تھا اور ایران نے مان لیا تھا کہ ہم جوری ہتھیار نہیں رکھیں گے۔ ہم ائی اے ای اے کی انسپیکشن ٹیم کو بھی الاؤ کریں گے پر امریکہ کو اس جواب کی بالکل امید نہیں تھی۔ اس کو تو اسرائیل مسلسل پریشرائز کر رہا تھا کہ تم نے ہر صورت ایران پر حملہ کرنا ہے سو اگر یہ ڈیل ہو جاتی تو یہ حملہ کس طرح سے کرتے۔ سو اسی لیے ہم نے دیکھا کہ عین مذاکرات کے دوران اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا اور بہانہ یہ دیا کہ اگر ہم حملہ نہ کرتے تو ایران ہم پر پہلے حملہ کر دیتا۔ پر مسئلہ یہ ہوا ہے کہ امریکن ڈیفنس منسٹر نے خود میڈیا پر ا کر یہ بتا دیا ہے کہ ایران کی طرف سے کسی بھی پیش کی حملے کی انٹیلیجنس رپورٹ ہمارے پاس تھی ہی نہیں۔ سو بالکل اویس ہی ہے کہ اسرائیل کو یہ حملہ امریکہ سے کروانا ہی تھا کیونکہ اس خطے کے اندر صرف خطرہ ایران، ترکی اور پاکستان سے اسرائیل کو ہے۔ جو کہ پلٹ کر جواب دے سکتے ہیں اپنا ڈیفنس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اپ نے خود دیکھا کہ جب ایک بزنس مین اور بیوقوف شخص کے ہاتھ کے اندر دنیا کی سب سے طاقتور ملک کی کمانڈ دے دی جائے تو وہ اس ملک کا یہی حال کرتا ہے جو کہ اس بندے نے کیا ہے۔ اسٹن فائلز کے اندر اس کا بنا سینسر نام 10 لاکھ بار ایا ہے اور اس نے اتنے گھناؤنے کام کیے ہیں کہ اگر سب سامنے ا جائیں تو خود امریکن عوام اس کو چوک پر لٹکا دے گی۔ بچوں کے ساتھ جو کچھ زیادتی کی گئی اس کو اسرائیل کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی ملک برداشت نہیں کرتا۔ امریکہ میں اس پر زیرو ٹالنس ہے۔ ابھی امریکن سینٹر نے بھی یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ ٹرمپ کس وجہ سے بلیک میل ہو رہا ہے کیونکہ 40 سال سے اسرائیل یہ حملہ ہر امریکی صدر سے کروانا چاہتا تھا۔ پر ٹرمپ کو یہ اچانک سے کس وجہ سے کرنا پڑ گیا؟ جموکریٹک پارٹی کے سینٹر ایلیزبتھ وارن نے کہا ہے کہ اسرائیل پچھلے 40 سال سے امریکہ کے ذریعے ایران پر حملہ کرنا چاہتا تھا سینٹر ایلیزبتھ وارن۔ لیکن تمام امریکی صدر اتنے مضبوط تھے کہ وہ اسرائیل کو نو بول رہے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلا صدر ہے جو اسرائیل کے ہاتھوں بلیک میل ہو گیا۔ وجہ یہ تھی کہ اس بندے نے ایسٹن فائلز کو دبانے کے لیے اور اگلے صدارتی الیکشن کو جو کہ اسی سال نومبر کے اندر ہے واہ واہ سمیٹنے کے لیے ایران پر حملہ تو کر دیا پر اب باہر نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں ا رہی اور یہ جنگ لمبی تر اور مہنگی تر ہوتی جا رہی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل کو اس طرح کا پپٹ صدر دوبارہ کبھی نہیں ملنا تھا اسی لیے خاص طور پر اس موقع پر اس کو اس حملے کے لیے چنا گیا۔ پر امریکہ کی 90 پرسنٹ عوام ایران پر حملے کے حق میں نہیں ہے اور ابھی ابھی کی خبروں کے مطابق یو ایس سب مرین نے بھرے مجمعے کے اندر کھڑے ہو کر کہا کہ ہمارے فوجیوں کو اسرائیل کے لیے مرنے کیوں بھیج رہے ہو؟ یہ ہماری نہیں بلکہ اسرائیل کی لڑائی ہے جس کی خاطر ہمارے فوجیوں کو مروایا جا رہا ہے۔ اس بات پر اس بیچارے کو زبردستی ہال سے باہر نکال دیا گیا اور اس دوران اس کا بازو بھی ٹوٹ گیا۔ سچ یہ ہے کہ اگر مزید یہ جنگ ایک مہینہ بھی اور چل جاتی ہے تو امریکہ اکنامیکلی طور پر بہت ویک ہو جائے گا کیونکہ ابھی کی خبروں کے مطابق اے ائی کا استعمال کر کے ایران کے اندر جن ٹھکانوں پر نشانہ بنایا گیا۔ وہ دراصل کوئی ملٹری کا سامان کوئی تیارے نہیں تھے بلکہ 20 ڈالر لگا کر تھری ڈی پینٹنگ سے بنائے گئے یہ جہاز تھے جو کہ دیکھنے کے اندر اسمان سے بالکل اصلی لگتے تھے۔

[18:03]پر امریکن ڈرونز کی اے ائی نے بیوقوف بن کر جن کو ٹارگٹ کیا وہ دراصل پینٹنگ تھی اور اس پینٹنگ پر جو بم گرایا گیا وہ ایک ملین ڈالر سے زیادہ قیمت کا تھا۔ جبکہ ایران نے اس پینٹنگ کو بنایا ہوگا زیادہ سے زیادہ 10 ڈالر کے اندر۔ ٹ ا سمارٹ موو۔ اس بات سے بالکل صاف ہے کہ جس امریکہ کو موویز کے اندر دنیا کے اندر سپر پاور ہونے کا برمب بنایا ہوا ہے وہ قابل شکاست ہے اس کی بھی کمزوریاں ہیں۔ اس ملک کو بھی گھٹنوں پر لانا پوسیبل ہے جیسا کہ شاہ فیصل نے اپنے ٹائم کے اندر کیا تھا بس ضرورت ہے تو ارادوں کی۔ اس وقت ایران کے اندر معاملات زندگی بالکل نارمل ہیں ہر جگہ پر سٹور کھلے ہوئے ہیں گروسری سٹور چل رہے ہیں ضرورت سے زیادہ سامان گروسری سٹورز کے اندر موجود ہے۔ پٹرول پمپ پر کوئی رش نہیں ہے ان کی ارمی بھی نارمل طریقے سے کام کر رہی ہے۔ سال میں نام محمد حسن ہے 5 مارچ میں تہران سے اپ کے ساتھ موجود ہوں ایۃ اللہ خاہن کی شہادت کی وجہ سے چھٹیاں بھی چل رہی ہیں جنگ بھی ہے تو حالات دیکھتے ہیں کیا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں بھئی تہران میں تو کہرام مچا ہوا ہے ہر جگہ بم گر رہے ہیں اور کھانے کو نہیں ہے لوگوں کے پاس پینے کو نہیں ہے راشننگ ہو رہی ہے پلیز یہ جھوٹی خبروں پہ اپ دھیان نہ دیں۔ یہاں پہ لائف ریلیٹو نارمل ہے۔ میں ابھی گروسری سٹورز میں بھی جاؤں گا اپ کو دکھاؤں گا کہ بھرے ہوئے ہیں گروسری سٹور۔ بھرے ہوئے ہیں مطلب اوور سپلائی ہے خریدنے کو شاید لوگ کم ہوں گے لیکن کوئی ایسی بات نہیں کہ تہران خالی ہو چکا ہے اور یہاں قہت پڑ چکا ہے اور یہاں پہ کوئی لوگ جو ہیں وہ یہاں پہ چھپ کے بیٹھے ہوئے ہیں اندر بنکروں میں یا پلیز تھوڑا سا دھیان رکھیں یہ بڑا سینسٹو ٹائم ہے فف جینریشن وار فیئر میں پروپیگنڈا میں اپ کو بہت ساری چیزیں جو ہے وہ امریکہ کی طرف سے پروجیکٹ کی جا رہی ہوتی ہیں

[19:33]اور ہم نادان ہیں کیونکہ ہم نے امریکہ سے ہی خبریں لینی ہیں تو ظاہر ہے ہم بھی دکھا دیتے ہیں ان کو۔ پر اگر ویسٹرن میڈیا کو دیکھیں تو ان کے مطابق ایران حملوں کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے بس ایک پروپیگنڈا میڈیا پر مسلسل چل رہا ہے۔ اور ابھی جب میں یہ ویڈیو بنا کر فارغ ہوا تو یہ خبر ملی کہ ازبائیجان پر بھی اسرائیل نے ڈرون حملہ کر کے اس کا الزام بھی ایران پر ڈالنے کی کوشش کی لیکن پھر سے پکڑا گیا۔ پر سب سے اہم خبر یہ ہے کہ امریکن فوج نے بھی اس جنگ کو جنگ حرمزون یعنی ان کی مذہبی لڑائی کی اخری ورلڈ وار کی شکل دے دی ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا یہ رپورٹ کر رہا ہے کہ جو امریکن فوج کے کمانڈوز ہیں وہ اپنے ٹروپس کو یعنی اپنے سولجرز کو یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ جو ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا یہ ایک مذہبی جنگ ہے اور ایک غیبی اشارہ ہوا ہے جی ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کو اور اس حوالے سے کہا جا رہا ہے۔ کمڈوز ٹروپ ایران وار پارٹ اف گڈ پلان ٹو ٹرگر ڈون جو کہ ایک مذہبی جنگ کا انگلش نام ہے۔

[20:46]پاکستان صحافی حامد میر کے مطابق امریکن کمانڈر اپنے فوجیوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ کو اشارہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اخری جنگ عظیم کی تیاری کرو۔ جس کے بعد ہی عیسی علیہ السلام کی دنیا میں واپسی ہوگی یعنی اس جنگ کو وہ مذہبی طور پر ایک جنگ ڈکلیئر کر چکے ہیں۔ اور یہی بات میں نے اپ کو بار بار بتائی ہے کہ یہ صرف ایران کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی اور کفر کی جنگ ہے اور خود اس کا اقرار فوجیوں کو بتا بتا کر یہ لوگ خود کر رہے ہیں۔ پر ساتھ ساتھ ناکام بھی ہو رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ امریکہ کے پیچھے اسرائیلی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ انے والے ٹائم کے اندر جیت کس کی ہوتی ہے حالات کس طرف رخ لیتے ہیں کیونکہ یہ جنگ طاقت یا غرور جیتتا ہے یا پھر جذب ایمانی اور بدلے کی اگ اس کو جیت جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سمجھنے کی اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript