[0:00]گرامی کے ساتھ کہ جن کے لیے یہ لفظ ہی ان کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے کے لیے کافی ہے کہ یہ اسمان عصمت کی وہ کہکشاں ہے جس کے قمر کو عباس کہتے ہیں۔
[0:37]کیوں کہ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے اور اس چینل کے توسط سے کیوں کہ یہ معلوماتی اور تاریخی اعتبار سے ہم تمام ان ہستیوں تمام ان انوار تمام ان شخصیات کے اصرار تاریخی اور معلوماتی اعتبار سے اپ کے سامنے پیش کریں جن پر گفتگو کم کی جاتی ہے۔
[1:02]شہزادی زمانے میں اپنے لقب سے مشہور ہیں اور نام نامی اسم گرامی کم لیا جاتا ہے جب بھی بات ہوتی ہے کہ حضرت عباس کی ماں کون تھی تو ایک ہی جواب ائے گا کہ بی بی ام البنین۔
[1:19]ام البنین شہزادی کا نام نہیں شہزادی کا لقب ہے ام البنین کہتے ہیں بیٹوں کی ماں جمع کا صیغہ ہے۔
[1:29]لہذا یہاں پر بی بی ام البنین کا جو القابات میں سے ایک لقب ہے وہ ہے بیٹوں کی ماں اصل نام شہزادی کا فاطمہ ہے۔
[1:40]اور میں ہمیشہ یہ کہا کرتا ہوں کہ یہ وہ بی بی ہے کیوں کہ اہل بیت علیہم السلام میں جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے بعد اور سیدہ سے پہلے اس خاندان میں لفظ فاطمہ متعارف ہو چکا تھا۔
[1:58]جیسا کہ حضرت مولا امیرالمومنین کی والدہ ان کا نام فاطمہ بنت اسد۔ تو یہ نام تاریخ میں صرف اسی خاندان میں ملے گا اسی گھر میں ملے گا۔
[2:11]لیکن اس بی بی کو زیادہ نام سے نہیں زیادہ بی بی کو ان کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
[2:17]مولا امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی زوجیت میں کب ائیں کس خاندان سے تعلق تھا شجرہ مبارک کیا تھا بی بی کے صفات کیا تھی شہزادی کے فضائل و کمالات کیا تھے یہ تمام وہ باتیں ہیں جو ہم اج کی اس گفتگو کے سیشن میں اپ کی سماعتوں کو ہدیہ کریں گے۔
[2:42]مولا امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی جو ازواج ہیں جو ان کے نام نامی ہمیں مختلف تواریخ سے ملتے ہیں اس میں پہلا نام سیدۃ النساء العالمین شہزادی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا مادر حسنین کریمین۔
[3:00]پھر اس کے بعد مولا امیرالمومنین کی دوسری زوجہ ہے جناب امامہ بنت ابی العاص یہ بیٹی ہیں جناب زینب کی زینب بیٹی ہیں جناب حالہ کی حالہ بہن تھی بی بی خدیجہ کی۔
[3:15]جناب خدیجہ کی بہن کی وفات کے بعد یہ بیٹی جناب خدیجہ کے گھر میں پلی جناب خدیجہ کے گھر میں اس کی پرورش ہوئی جس کی وجہ سے مورخین کو یہ اشتباہ ہوا کہ شاید یہ نبی کی سلبی بیٹی ہے۔
[3:32]لیکن یہ جناب خدیجہ کی بہن حالہ کی بیٹی نام جن کا زینب تھا۔ پھر انہی کی اگے بیٹی جو ہے جناب امامہ یہ امامہ جو ہے یہ مولا علی کی زوجیت میں رہیں یہ بھی مولا امیرالمومنین کی زوجہ ہے۔
[3:50]تیسری زوجہ ہے جناب امیرالمومنین کی شہزادی خولہ بنت جعفر بن قیس یہ وہ زوجہ ہے جس سے مولا امیرالمومنین کے فرزند جناب محمد بن حنفیہ جو ہیں وہ پیدا ہوئے۔
[4:10]ایک زوجہ ان کا نام جناب اسماء بنت عمیس ہے یہ وہ رسول مولا امیرالمومنین کی پاک زوجہ ہیں جو پہلے خلیفہ اول کے عقد میں تھیں پھر مولا امیرالمومنین کا شرف زوجیت انہیں حاصل ہوا۔
[4:27]مولا امیرالمومنین کی دہلیز کی کنیزی کی انہوں نے اور ان سے مولا امیرالمومنین کے دو بیٹے ہیں تفصیلات ہم ائندہ ابھی اپ کے سامنے اس کو واضح کریں گے۔
[4:41]پھر جناب ام البنین نام ان کا فاطمہ ہے بنت حزام ہیں۔ بن خالد اور یہ بنی کلاب خاندان کی وجہ سے خالد کلابی ان کے فرزند حزام اور حزام کی بیٹی ہیں فاطمہ وحیدیہ کلابیہ اور لقب ام البنین۔
[5:07]ایک مولا امیرالمومنین کی زوجہ ہیں ان کا نام ہے لیلی بنت مسعود ایک مولا امیرالمومنین کی زوجہ ہیں ان کا نام ہے ام سعید بنت اروا بن مسعود ثقفی۔
[5:19]ایک زوجہ ہیں ان کا نام ہے ام شعیب مخزومیہ ایک زوجہ ہے محیہ دختر امراؤ القیس ایک زوجہ ہے جن کا نام نامی اسم گرامی صاحبہ صبیحہ دو طرح کے نام بنت عباد بن ربیہ۔
[5:36]اب جناب سیدہ صلوات اللہ علیہا سے مولا امیرالمومنین کا عقد یکم ذی الحج دو ہجری کو ہوا۔ جناب سیدہ کی شہادت کے کیوں کہ بہت سے ایسے واقعات ہیں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کی تفصیل اپ کو مجالس میں نہیں ملتی کتابوں میں ملتی ہے۔
[5:54]اور جو تفصیلات مجالس یا تقاریر میں ملتی ہے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہی روایات جو ہیں یہ ٹھیک ہیں بعض اوقات خطبہ ذاکرین اور علماء جب گفتگو کو پیش کرتے ہیں تو مختصر وقت میں زیادہ گفتگو کرتے ہوئے بہت سی چیزوں کے ماخذ جو ہیں وہ بیان نہیں کیے جاتے۔
[6:14]جناب سیدہ صلوات اللہ علیہا کے کیوں کہ یہ مشہور ہوگا اور یقینا بہت سے افراد کے لیے یہ بات بالکل نئی ہوگی کہ جناب سیدہ صلوات اللہ علیہا کی شہادت کے فورا بعد مولا امیرالمومنین نے فورا جو پہلا عقد کیا وہ بی بی ام البنین سے کیا۔
[6:33]جب کہ تاریخ اور تاریخی اعتبار سے جو ہم کیلکولیشن اپ کے سامنے بیان کریں گے اس اعتبار سے بی بی ام البنین سے فورا عقد نہیں ہوا۔ جناب امیرالمومنین نے بعد از شہادت جناب سیدہ جو شادی کی ہے وہ عقد ہوا ہے وہ جناب امامہ سے ہوا ہے۔
[6:50]جو میں نے اپ کو بتایا کہ جناب زینب جو حالہ کی بیٹی ہیں جو ان کی بیٹی ہیں جناب امامہ ان کے ساتھ ہوا۔ اور یہ جناب سیدہ کی شہادت کے چھ مہینے بعد ہوا۔
[7:26]مولا امیرالمومنین نے چھ ماہ یعنی کہ 11 ہجری میں ہی امامہ بنت زینب بن سے عقد کیا ان سے مولا امیرالمومنین کے ایک فرزند جو ہیں وہ دنیا میں ائے جن کا نام محمد اوسط ہے۔
[7:39]محمد اوسط ابن علی جو 61 ہجری کو کربلا میں شہید ہوئے۔ پھر اگلی زوجہ جو میں نے اپ کے سامنے بیان کیا خولہ ان سے مولا امیرالمومنین کا عقد جو ہے وہ 12 ہجری کو ہوا۔
[7:55]11 ہجری کو جناب امامہ سے 12 ہجری کو صحابی رسول مالک بن نویرہ کو جب خالد بن ولید نے شہید کر دیا تو جناب مالک بن نویرہ کے قبیلے کی خواتین کو جب اسیر بنایا گیا تو انہی میں قید ہو کے جناب خولہ بنت جعفر بن قیس حنفیہ مولا امیرالمومنین کی بارگاہ میں پیش ہوئیں۔
[8:24]اور مولا امیرالمومنین نے 12 ہجری کو ان کو اپنی کنیزی میں اپنی زوجیت میں لیا جن سے حضرت محمد حنفیہ کی ولادت ہے۔
[8:33]اور یہ 15 ہجری میں جناب محمد حنفیہ دنیا میں پیدا ہوئے ظاہر ہوئے اور یہ بعد از واقعہ کربلا بھی زندہ رہے اور 8 ہجری تک ان کے تاریخ میں نشان ملتے ہیں کہ 81 ہجری تک یہ دنیا میں موجود رہے۔
[8:55]اور واقعہ کربلا کے بعد کافی دیر قیام امیر مختار میں ان کا ایک واضح کردار نظر اتا ہے اور یہ 65 سال کی عمر تھی جب یہ دنیا سے رخصت ہوئے۔
[9:06]پھر اگلا عقد جو ہے وہ جناب اسماء بنت عمیس سے ہے۔ جناب اسماء بنت عمیس خلیفہ اول کے عفت میں تھی 22 جماد الثانی 13 ہجری کو۔ جب یہ خلیفہ کی مرنے کے بعد 12 ہجری بنتی ہے یہ جناب اسماء بنت عمیس اپنے دو بیٹوں کے ساتھ۔
[9:34]محمد بن ابی بکر اور عبدالرحمن بن ابی بکر اور ایک بیٹی ام کلثوم ان کے ساتھ مولا امیرالمومنین کی بارگاہ میں پیش ہو جاتی ہیں۔
[9:44]اور محمد بن ابی بکر اور جناب کلثوم ان دو کی پرورش جو ہے وہ عبدالرحمن کی نہیں جناب محمد بن ابی بکر کی کیوں کہ یہ چھوٹے تھے اور جناب کلثوم ایک بیٹا اور ایک بیٹی ان کی پرورش مولا امیرالمومنین کے گھر میں ہوئی۔
[9:59]ان کی تربیت مولا امیرالمومنین نے کی اور جناب محمد بن ابی بکر کے لیے اپ نے اکثر سنا ہوا ہے کہ مولا فرمایا کرتے تھے کہ یہ صلب کسی اور کا ہے لیکن فرزند میرا ہے۔
[10:12]جناب محمد بن ابی بکر کی مسلسل تربیت جو تھی وہ مولا امیرالمومنین نے کی تھی اور دوسری جو بیٹی خلیفہ اول کی بیٹی تھی لیکن جناب اسماء بنت عمیس کی گود میں تھی جب مولا امیرالمومنین کے گھر ائی تو ان کا نام کلثوم بنت ابی بکر تھا۔
[10:32]لیکن ان کو بھی مولا امیرالمومنین نے پالا اسی کلثوم کے بارے میں تاریخ کے مورخین کو یہ اشتباہ گزرا کہ جو دوسرے خلیفہ کے اپنا رشتہ مانگا تھا تو اس شادی کی جو خواہش کا اظہار کیا تھا وہ مولا علی کی بیٹی کے ساتھ کیا تھا کلثوم کے ساتھ تو ایسا ہرگز نہیں ہے یہ کلثوم بنت ابی بکر تھی جس کے لیے شادی کی خواہش اس نے کی تھی لیکن یہ مولا امیرالمومنین کی بیٹی نہیں تھی یہ خلیفہ اول کی بیٹی تھی لیکن مولا امیرالمومنین کے گھر میں انہوں نے پرورش پائی ہے۔
[18:55]مولا حسن نے عزت کے ساتھ سلام کیا۔ مولا امیرالمومنین نے کہا اے فاطمہ کلابیہ یہ میری دو بیٹیاں اور میرے دو بیٹے اتنا کہنا تھا بی بی فاطمہ کلابیہ بی بی ام البنین نے مولا امیرالمومنین کے قدموں پہ ہاتھ رکھ کے کہا مولا اپ نے کہا دو بیٹیاں دو بیٹے بیٹیاں بھی دروازے پہ مل گئیں بیٹے نے بھی سلام کیا۔



