Thumbnail for Para 22 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 22 | Inspiring Quranic Summary by Youth Flix

Para 22 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 22 | Inspiring Quranic Summary

Youth Flix

33m 53s7,589 words~38 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
[0:00]Section 1

جو مختلف قسم کے جیسے اج کل پرفیومز خواتین یوز کرتی ہیں اور ایسے ہوتے ہیں کہ اس کے اندر اتنا فریگرنس ہوتا ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر گرویدہ ہ...

[5:07]Section 2

نماز کو قائم کرتی رہو زکوۃ ادا کرتی رہو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتی رہو کیونکہ بے شک اللہ رب العزت اے اہل بیت تم...

[11:15]Section 3

رسول اللہ اپ اللہ کے رسول ہیں وخاتم النبیین اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ رب العزت نے نبوت کی عمارت کو پایا تکمیل تک پہنچا دیا ہے نبو...

[16:54]Section 4

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لیے بھی کیونکہ وہ امہات المومنین ہیں تو یہاں سے وہ لوگ جو بطور خاص کہتے ہیں کہ چہرے کے پردے کا کہیں...

[23:04]Section 5

اس اس سورت کے سورہ صبا کے سیکنڈ رکوع میں اللہ رب العزت نے جو ہے وہ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام اور سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کو جو نعمتیں ع...

[28:07]Section 6

اور جو باغات ان کو اللہ رب العزت نے عطا فرمائے تھے وہ باغات کی جگہ پر خود رو جھاڑیاں اور بیری کے کچھ درخت صرف یہ ان کے پاس خوراک بچی باقی...

Pull quotes
[0:23]اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا بہت سارے مسائل کا حل ہے۔ اس سے اللہ رب العزت غم دور فرما دیتے ہیں اللہ رب العزت کا قرب انسان کو حاصل ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا انسان مستحق قرار پاتا ہے۔
[0:35]صبح و شام جو دس دس مرتبہ درود پڑھتا ہے رب العزت اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے جو ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا ہے اللہ رب العزت اس کے اوپر جو ہے وہ اپنی دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں
[0:46]لوگو انتم الفقراء الی اللہ تم سارے کے سارے اللہ کے در کے فقیر ہو یہ سب سے بڑی سعادت ہے انسان اللہ رب العزت کے لیے اپنے اندر عاجزی پیدا کر لے اس سے بڑی انسان کی کوئی سعادت نہیں ہے
[0:57]اور اگر اللہ کا در انسان چھوڑ دے تو دنیا کے بے شمار دروں پہ دھکے کھاتا ہے لیکن انسان کو کچھ حاصل نہیں ہوتا
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]جو مختلف قسم کے جیسے اج کل پرفیومز خواتین یوز کرتی ہیں اور ایسے ہوتے ہیں کہ اس کے اندر اتنا فریگرنس ہوتا ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے ہیں تو اپ نے فرمایا کہ کوئی بھی ایسی خاتون جو اس طرح کا پرفیوم یوز کر کے اگر وہ باہر چلی جاتی ہے مارکیٹ میں بازار میں مردوں کے پاس سے گزرتی ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فہی زانیہ وہ خاتون بدکارہ ہے

[0:23]اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا بہت سارے مسائل کا حل ہے۔ اس سے اللہ رب العزت غم دور فرما دیتے ہیں اللہ رب العزت کا قرب انسان کو حاصل ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا انسان مستحق قرار پاتا ہے۔

[0:35]صبح و شام جو دس دس مرتبہ درود پڑھتا ہے رب العزت اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے جو ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا ہے اللہ رب العزت اس کے اوپر جو ہے وہ اپنی دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں

[0:46]لوگو انتم الفقراء الی اللہ تم سارے کے سارے اللہ کے در کے فقیر ہو یہ سب سے بڑی سعادت ہے انسان اللہ رب العزت کے لیے اپنے اندر عاجزی پیدا کر لے اس سے بڑی انسان کی کوئی سعادت نہیں ہے

[0:57]اور اگر اللہ کا در انسان چھوڑ دے تو دنیا کے بے شمار دروں پہ دھکے کھاتا ہے لیکن انسان کو کچھ حاصل نہیں ہوتا

[1:13]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین و علی الہ وصحبہ اجمعین

[1:24]من تبعہ باحسان الی یوم الدین رمضان المبارک میں خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری بائیسویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم بائیسویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر خلاصہ اپ کے سامنے پیش کریں گے

[1:38]اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور اپ سب کو قران مجید کے ساتھ صحیح معنی میں اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور رمضان کی ان بابرکت ساعتوں میں اور ان گھڑیوں میں اللہ رب العزت ہمیں

[1:51]صحیح معنی میں رمضان سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے بائیسویں پارے کی ابتدا میں سورۃ الاحزاب کا کچھ حصہ ہے اس کے بعد سورہ صبا مکمل ہے پھر سورہ فاتح مکمل ہے اور تقریبا جو ہے وہ ڈیڑھ رکوع سورہ یاسین کا ہے۔

[2:05]سورۃ الاحزاب کا بقیہ حصہ اس میں جیسا کہ اللہ رب العزت نے پچھلے جو ہے وہ اس کے پارے کے اخر میں امہات المومنین سے کچھ خطاب کیا تھا اور ان کو اللہ رب العزت نے جو ہے وہ کچھ ایڈوائسز دی تھیں

[2:20]تو اسی سلسلہ کو اللہ رب العزت نے یہاں پر جو ہے وہ جاری فرمایا ہے۔ تو اللہ رب العزت نے ابتدا میں امہات المومنین ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہ ان کو اللہ رب العزت نے نصیحتیں فرمائی ہیں

[2:32]اور اس کے ساتھ ہی اللہ رب العزت نے دیگر جو مومن خواتین ہیں ان کو بھی اس میں نصیحت فرمائی ہے۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ جو اللہ اللہ رب العزت کے لیے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فرمانبرداری کرتی ہیں

[2:45]اور اسی طرح سے نیک اعمال کرتی ہیں ان کو ہم دوہرا اجر عطا فرمائیں گے جیسے پیچھے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اگر ان سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو ان کو دگنی سزا دی جائے گی اور اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کے لیے بڑا ہی بہترین رزق تیار کر رکھا ہے۔

[2:59]اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں تم دیگر خواتین کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ تعالی سے ڈرتی ہو تو پھر یاد رکھو یہ نصیحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو بھی ہے امہات المومنین کو بھی اور ان کے ساتھ جو ہے وہ دیگر خواتین کو بھی اگر تم اللہ رب العزت سے ڈرتی اور تقوی اختیار کرتی ہو تو پھر تمہیں اپنی اواز کے اندر کسی طرح کی لچک پیدا نہیں کرنی۔

[3:20]اس کا معنی یہ ہے کہ اس ایسا انداز اختیار کرنا جس کے اندر اٹریکشن ہو جیسا کہ اج کل یوزلی ہماری جو مختلف خواتین جو ریسیپشنسٹ ہوتی ہیں اور بنیادی طور پر ان کو اسی وجہ سے پریفر کیا جاتا ہے

[3:32]کیونکہ ان کی اواز کے اندر ایک اٹریکشن ہوتی ہے ان کے انداز میں اور پھر وہ ان کا جو طریقہ کار ہے تو یہ شرعی طور پر اس طرح کا طریقہ کار اختیار کرنا خواتین کو صرف وہاں پر ایز ا ریسیپشنسٹ یا اسی طرح سے جابز کے حوالے سے صرف وہاں پوائنٹ کیا جا سکتا ہے

[3:47]جہاں پر ان کا مردوں کے ساتھ اختلاط اور میل جول نہ ہو ورنہ باقی چیزیں جو ہیں وہ شرعی اعتبار سے منع ہیں۔ تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو تو تمہیں اپنی اواز کے اندر ایسی اٹریکشن اور ایسی لچک نہیں پیدا کرنی ایسا جو ہے نا وہ نرمی پیدا نہیں کرنی کہ جو جس میں اللہ نے فرمایا کہ فیتمع الذی فی قلبہ مرض و قلنا قول معروفا

[4:05]جس کے دل میں کوئی مرض ہے یعنی وہ شیطان کے اس کے بہکاوے میں اتا ہے تو کہیں وہ تمہاری اس جو ہے وہ اٹریکشن میں نہ ا جائے اور تمہاری اواز کی اس نرمی کی وجہ سے جو ہے وہ اس کے دل میں کوئی غلط خیال پیدا نہ ہو اور بات بھی اچھی کرنی ہے یعنی اخلاق کا مظاہرہ بھی کرنا ہے

[4:25]لیکن اواز میں تھوڑا سا ترش پن ہونا چاہیے تھوڑی سی سختی ہونی چاہیے تاکہ کسی کے دل میں کوئی اس طرح کی لچک پیدا نہ ہو پھر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں پہ ٹکی رہو یہ ازواج مطہرات کو اللہ رب العزت نے فرمایا ہے اور ان کے ذریعے دیگر امہات دیگر مومن خواتین کو تو جب ان کو اللہ رب العزت نے یہ بات ارشاد فرما دی ہے

[4:45]تو ہماری اج کی خواتین جو یہ کہتی ہیں کہ پردہ تو اصل میں دل کا ہوتا ہے یہ ازواج مطہرات سے زیادہ جو ہے وہ ایمان والی نہیں ہے تو اللہ رب العزت نے ان کو بھی فرمایا کہ تم اپنے گھروں پہ ٹکی رہو ولا تبرجنا تبرج الجاہلیت الاولی پہلے جو جہالت ہوتی تھی اس طرح کی جہالت بناؤ سنگار اور اس طرح کی طرح طرح کے جیسا کہ اج کل میک اپ ہے اور اس طرح کی چیزیں ہیں وہ بناؤ سنگار کر کے باہر نہ نکلو

[5:07]نماز کو قائم کرتی رہو زکوۃ ادا کرتی رہو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتی رہو کیونکہ بے شک اللہ رب العزت اے اہل بیت تم سے اس طرح کی جو نجاستیں ہیں جو دیگر لوگوں کے اندر موجود ہیں وہ اللہ رب العزت تم سے ان کو دور کرنا چاہتے ہیں اور تمہیں اللہ رب العزت پاکیزہ کرنا چاہتے ہیں پھر اللہ نے فرمایا ایت نمبر 34 میں

[5:25]اور ہمیشہ قران مجید کی تلاوت کرتی رہو اپنے گھروں کے اندر رہتے ہوئے اللہ رب العزت کی ایات کی تلاوت کرتی رہو حکمت اور بصیرت جو ہے وہ اس کو دین کی جو حکمت اور بصیرت ہے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتی رہو

[5:40]تو یہ ساری نصیحتیں اللہ رب العزت نے ازواج مطہرات کے ساتھ دیگر مومن خواتین کو بھی فرمائی ہیں۔ یہ جو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں پہ ٹکی رہو اور باہر بناؤ سنگار کر کے اس طرح کا جو ہے وہ سلسلہ کر کے نہ نکلو صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ خاتون جو

[5:58]مختلف قسم کے جیسے اج کل پرفیومز خواتین یوز کرتی ہیں اور ایسے ہوتے ہیں کہ اس کے اندر اتنا فریگرنس ہوتا ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے ہیں تو اپ نے فرمایا کہ کوئی بھی ایسی خاتون جو اس طرح کا جو ہے وہ پرفیوم یوز کر کے اگر وہ باہر چلی جاتی ہے مارکیٹ میں بازار میں مردوں کے پاس سے گزرتی ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فہی زانیہ وہ خاتون بدکارہ ہے گویا کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے

[6:23]اور بعض مفسرین بعض محدثین کہتے ہیں کہ ایسی خاتون کو واپس ا کر غسل بھی کرنا چاہیے کیونکہ اس نے جو ہے وہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور اسی طرح سے اس کو اللہ تعالی کے سامنے توبہ کرنی چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی خوشبو استعمال کرنے سے خواتین کو منع کیا۔

[6:37]اس کے بعد اللہ رب العزت نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے ان مسلمانوں کا ان مومن اور مومن مردوں اور عورتوں کا جن کے لیے اللہ رب العزت نے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے اللہ فرماتے ہیں وہ مسلم مسل مان مرد ہیں مسلمان عورتیں ہیں

[6:50]مومن مرد ہیں مومن عورتیں ہیں فرمانبرداری کرنے والے مرد اور عورتیں ہیں اسی طرح سے سچ بولنے والے مرد اور عورتیں صبر کرنے والے مرد اور عورتیں اللہ تعالی سے ڈرنے والے مرد اور عورتیں صدقہ خیرات کرنے والے مرد اور عورتیں روزہ رکھنے والے مرد اور عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور عورتیں اللہ رب العزت کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور عورتیں

[7:14]اللہ رب العزت نے ان کے لیے بہت بڑی مغفرت اور اجر تیار کر رکھا ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 34 اور 35 میں اور اس کے بعد جو ہے وہ 36 میں 37 میں اس میں اللہ رب العزت نے جو ہے وہ ایک خاص مضمون بیان کیا ہے

[7:28]جو اس سورت کے اندر اللہ رب العزت نے ابتدا میں جس کا ذکر کیا تھا مضمون دراصل مختصر طور پر یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک لے پالک بیٹے تھے جن کا نام تھا زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ ان کی مختصر ہسٹری یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر غلام نہیں تھے۔

[7:41]یہ ازاد تھے ان کو کسی نے پکڑ کر بیچ دیا اور یہ بکتے بکاتے خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس اگئے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح ہوا تو خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ غلام حبہ کر دیا یعنی ان کو تحفے کے طور پر دے دیا۔

[7:58]نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ازاد کیا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہسٹری کا بھی اندازہ ہوا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نہ صرف ازاد کیا بلکہ ازاد کر کے اپ نے اپنا لے پالک متبنا بیٹا بنا لیا عربی زبان میں اس کو متبنا بیٹا کہا جاتا ہے یعنی ایڈاپٹڈ چائلڈ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بنا لیا۔

[8:14]اب چونکہ ان کی ہسٹری تو ایسی نہیں تھی اس وجہ سے اس وجہ سے پھر ایسا ہوا کہ جب یہ بڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی پھوپھی زاد زینب بنت جہش رضی اللہ تعالی عنہ ان کا رشتہ مانگا تو ان کی شادی اپس میں کر دی گئی۔

[8:30]اب یہ شادی جو ہے وہ ہو گئی۔ شادی ہونے کے بعد جو ہے وہ دو طرح کے مسائل تھے۔ جن سے اللہ رب العزت نے بطور خاص قران مجید کے اس سورت کے اندر ان کا جو ہے وہ حل اور سلیوشن دیا ہے۔ پہلا یہ تھا کہ اللہ رب العزت نے جیسے ہم ابتدا میں پڑھ چکے ہیں کہ جیسے لوگ سمجھتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ چونکہ بیٹے ہیں تو بیٹے ہونے کے ناطے سے اللہ رب العزت نے اس عقیدے کا رد فرمایا

[8:52]اللہ نے فرمایا کہ جو لے پالک اور ایڈاپٹڈ چائلڈ ہوتے ہیں وہ اپنے ماں باپ کے ہی بیٹے ہوتے ہیں ان کو ان ہی کے باپوں کے نام سے پکارا جائے جس نے ان کو اپنا لے پالک بیٹا بنا رکھا ہے اس کے نام سے نہ پکارا جائے جیسے صحابہ ابتدا میں رضوان اللہ علیہم اجمعین زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

[9:10]تو پہلے اس چیز کا اللہ رب العزت نے رد کیا یعنی وہ ان کے بیٹے بھی نہیں ہوں گے اسی طرح سے وراثت کے حوالے سے ان کے جو قوانین ہیں وہی جو ہے وہ امپلیمنٹیشن ہوگا جو ان کے اپنے والدین کی وراثت ہے اس باپ کی وراثت میں وہ حصہ دار نہیں ہوں گے

[9:24]اور اسی طرح سے پردے کے جو احکام ہیں وہ بھی یہاں پر ہر طرح سے لاگو ہوں گے۔ جب اس عقیدے کا رد ہو گیا تو دوسرا مسئلہ پھر کیا پیدا ہوا جب زینب رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کا معاملہ نہیں بن پایا زینب بنت جہش کا تو زید رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو طلاق دے دی۔

[10:07]طلاق دینے کے بعد اب زینب رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کی خواہش کے مطابق اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپ سے نکاح کر لیا۔ اب جیسے ہی یہ نکاح ہوا تو لوگوں نے دوسری باتیں بنانا شروع کر دیں کہ محمد نے تو اپنے بیٹے کی بیوی سے یعنی اپنی بہو سے نکاح کر لیا۔

[10:25]تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جب یہاں پر اللہ رب العزت نے بطور خاص ایت نمبر 38 میں فرمایا ایت نمبر بلکہ 40 میں فرمایا ما محمد ابا احد من رجالکم رسول اللہ خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہے چونکہ جو اپ کے بیٹے تھے وہ تو بچپن میں ہی دنیا سے چلے گئے اب کوئی ایسا مرد نہیں ہے

[10:45]جس کے اپ صلی اللہ علیہ وسلم باپ ہوں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں ہی تھیں تو اس وجہ سے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زید کے باپ نہیں ہیں تو یہ اللہ رب العزت نے اس عقیدے کا یہاں پر رد فرمایا یہ دور جہالت سے ایسا سلسلہ چلتا ا رہا تھا کہ جو لے لے پالک بیٹا ہوتا وہ حقیقی بیٹے کی طرح ہی سمجھا جاتا تھا

[11:03]تو اس وجہ سے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ یہ فیصلہ ہم نے اس وجہ سے بھی کروایا ہے تاکہ یہ باطل رسوم و رواج جو ہے اس کا سلسلہ ختم ہو سکے۔ اور اسی طرح سے اس ایت میں ایت نمبر 40 میں اللہ رب العزت نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا ہے

[11:15]رسول اللہ اپ اللہ کے رسول ہیں وخاتم النبیین اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ رب العزت نے نبوت کی عمارت کو پایا تکمیل تک پہنچا دیا ہے نبوت کی عمارت مکمل کر دی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انا خاتم النبیین لا نبی بعدی میں سب سے اخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ائے گا

[11:33]اب قیامت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی دین چلے گا دین بھی اللہ رب العزت نے سب سے اخری دنیا کے اندر بھیج دیا ہے سب سے اخری نبی اللہ رب العزت نے دنیا میں بھیج دیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں انا والساع کہا میں اور قیامت یوں ائے ہیں گویا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امد بھی قیامت کی نشانی ہے۔

[11:51]دجال والی حدیث کے اندر بھی یہ چیز موجود ہے کہ اس نے جو ہے وہ صحابہ کرام سے پوچھا کہ تم کون ہو انہوں نے بتایا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں تو کہنے لگا کہ اگر محمد اگئے ہیں تو پھر میرا انتظار کرو میں بھی انے ہی والا ہوں یہ ساری اس بات کے اوپر دلالت کرتی ہیں یہ سارے جو دلائل ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اخری نبی ہیں اپ کے بعد کوئی نبی نہیں ا سکتا

[12:10]عیسی علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائیں گے بھی تو وہ بحیثیت نبی نہیں بلکہ بحیثیت امتی تشریف لائیں گے اور اسی طرح سے قادیان کا وہ شخص جو ملعون ہو کر مرا ہے جس کے بارے میں لوگ جو ہے وہ غلام احمد قادیانی جو تھا جو اپنے اپ کو جھوٹا نبوت کا دعویدار کہتا تھا یہ سارے کے سارے جھوٹے لوگ ہیں

[12:28]نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوئے بعد میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوئے اللہ رب العزت نے ان کو دنیا کے اندر ہی ان کا انجام دکھا دیا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ائے گا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ بھی ہے اپ کا اعجاز بھی ہے کہ اللہ رب العزت نے اپ کو اخری نبی بنا کر دنیا کے اندر مبعوث فرمایا۔

[12:44]اس کے بعد اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ صفات کا تذکرہ کیا ہے ایت نمبر 45 اور 46 میں اے نبی ہم نے اپ کو خوشخبری دینے والا گواہ بنا کر اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے گواہ ایسے ہی جیسے دیگر انبیاء جب اپنی امتوں پر گواہی دیں گے اور ان کی امتوں کے لوگ ان کو جھٹلائیں گے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اوپر ان انبیاء کے اوپر بطور گواہ کے پیش کیا جائے گا

[13:09]اور اللہ رب العزت نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو داعی بنا کر بھیجا ہے اور اسی طرح سے روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے داعی یعنی اللہ تعالی کی طرف دعوت دینے والے ایت نمبر 49 میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے بطور خاص ایک مسئلہ یہاں پر وضاحت کی ہے

[13:24]اللہ فرماتے ہیں کہ اے ایمان والوں جب تم ایسی خواتین سے نکاح کرو کہ پھر ان کو طلاق دے دو اور ان کے ساتھ تمہارا کسی بھی طرح کا کوئی ریلیشن نہ ہو یعنی وداؤٹ اینی ریلیشن ان کو ڈیورس ہو جائے تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں ایسی خواتین کی کوئی عدت نہیں ہے۔

[13:42]وہ ڈے فرسٹ سے ہی یعنی افٹر ڈیورس فرسٹ ڈے سے ہی وہ اپنا نکاح دوسری جگہ کر سکتی ہیں جیسا کہ نارمل عورت کی جو عدت ہے وہ تین مینسچریشن ہوتی ہے اور اسی طرح سے دیگر خواتین کی عدت جو ہے وہ ہم نے پارہ نمبر سیکنڈ میں اس کی کمپلیٹ جو ہے وہ وضاحت اپ کے سامنے رکھ دی تھی

[13:58]تو اللہ رب العزت نے یہاں پر اس مسئلے کی جو ہے وہ اس کا ذکر فرمایا ہے کہ جس عورت کو وداؤٹ ریلیشن اس کو ڈیورس کر دی جائے اس کی کوئی عدت نہیں ہوتی وہ ڈے فرسٹ سے ہی اپنا نکاح کر سکتی ہے اس کے بعد ایک اور مسئلہ جو اللہ رب العزت نے یہاں ذکر فرمایا ہے ایت نمبر 53 ہے

[14:12]اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں سب سے پہلے تو اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوا کرو اور جب کبھی کھانے کے لیے دعوت کے لیے تمہیں بلایا جائے تو فوری طور پر وہاں سے اپنے کام سے فارغ ہو کے فورا وہاں سے نکل جایا کرو

[14:28]جیسے ہی کھانے سے فارغ ہو جاؤ تو وہاں سے نکل جایا کرو اور وہاں پر اپنی گپ شپ میں یا دیگر جو ہے وہ معاملات میں مشغول نہ ہو جایا کرو یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حیا کی وجہ سے تمہیں کچھ کہہ نہیں پاتے مسئلہ کچھ یوں ہوا اس ایت کا پس منظر یہ ہے

[14:44]کہ جب یہی زینب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا تو ولیمے پر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صحابہ کو دعوت دی وہ ائے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہ بیٹھ کے کھانا کھایا اور کھانے کے بعد جو ہے وہ وہاں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چیز تکلیف میں ڈال رہی تھی

[14:59]اپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چیز سے جو ہے وہ کچھ کمفرٹیبل فیل نہیں کر رہے تھے لیکن اپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کی وجہ سے حیا کی وجہ سے کچھ کہہ بھی نہیں پا رہے تھے اللہ رب العزت نے قران مجید میں یہ حد جاری فرما دی یہ حکم جاری فرما دیا فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے تکلیف ہوتی ہے

[15:15]اور اس کے بعد اللہ رب العزت نے اگلا حکم اس کے ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا اور جب کبھی تمہیں ازواج مطہرات سے کسی طرح کے جو ہے وہ کوئی کوئی مسئلہ ہو تمہیں جو ہے وہ کوئی ان سے ضرورت ہو تو وہ تم اب ان سے پردے میں جو ہے وہ بات کیا کرو گے اب وہ تمہارے سامنے نہیں ائیں گی اللہ رب العزت نے اس بات کو بطور خاص جو ہے وہ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی مشاورت پر یعنی ان کی

[15:40]خواہش پر اللہ رب العزت نے پردے کا یہ حکم نازل کیا۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے صحیح بخاری کی حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپ کے پاس ہر طرح کے لوگوں کا انا ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اپ ازواج مطہرات کو پردے کا حکم دے دیں

[15:54]یہاں سے ایک بڑا ہی پوائنٹ کی بات جو سمجھنے والی ہے تو خیر اللہ رب العزت نے اپ اپ رضی اللہ تعالی عنہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے تو اللہ رب العزت نے قران مجید کی یہ ایت نازل فرما دی

[16:07]جس میں اللہ رب العزت نے پردے کا حکم دے دیا مزید اگے جا کر ایت نمبر 59 میں اللہ رب العزت نے مزید تفصیل کے ساتھ پردے کا حکم دیا ہے۔ تو اب یہاں پہ جو سمجھنے والی بات ہے وہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ نیکسٹ ٹائم تمہیں جب بھی کوئی ان سے ضرورت اور حاجت ہوگی

[16:20]تمہیں کوئی جیسے بعد میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے جانے کے بعد صحابہ ازواج مطہرات سے جو گھریلو مسائل تھے ان کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے متعلق ان سے جو ہے وہ مشاورت کیا کرتے ان سے رہنمائی لیتے ان سے حدیث کا درس لیتے تو اللہ نے فرمایا کہ اب تم پردے میں ان سے بات کیا کرو گے

[16:38]اس کا معنی یہ ہے کہ اس سے پہلے کتنا پردہ تھا جو اترا ہوا ہوتا تھا ظاہری سی بات ہے چہرے ہی کا پردہ ہوتا تھا تو اللہ رب العزت نے چہرے کا ہی چھپانے کا حکم دے دیا کہ اب جو ہے وہ پردے کے پیچھے سے تم سوال کرو گے اس کے بغیر تم سوال نہیں کر سکو گے اور نکاح تو اللہ رب العزت نے ویسے ہی ازواج مطہرات سے حرام قرار دے دیا تھا

[16:54]نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لیے بھی کیونکہ وہ امہات المومنین ہیں تو یہاں سے وہ لوگ جو بطور خاص کہتے ہیں کہ چہرے کے پردے کا کہیں پر حکم نہیں ہے یہاں پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ رب العزت نے چہرے کو ہی بنیادی طور پہ پردے کے لیے لازم قرار دیا ہے کیونکہ یہیں سے ابتدا ہوتی ہے اور اس کے بعد معاملات اگے بڑھ جاتے ہیں۔

[17:13]اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس سورت کے اندر جو ہے وہ ایت نمبر 56 میں ارشاد فرمایا کہ یقینا اللہ رب العزت اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں یعنی اللہ رب العزت اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جو ہے وہ رحمتیں نازل فرماتے ہیں

[17:27]فرشتے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں تو اے ایمان والو تم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا کرو صحابہ کہتے ہیں ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا صحیح بخاری کی حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے یہ تو جان لیا کہ ہم اپ کے اوپر سلامتی کیسے بھیجا کریں

[17:43]التحیات للہ و الصلوۃ والسلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ اس کے اندر جو الفاظ موجود ہیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپ کے اوپر درود کیسے بھیجا کریں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو درود ابراہیمی سکھایا ہے اللہم صلی علی محمد و علی ال محمد جو کمپلیٹ درود ہے

[18:02]یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا خود ساختہ کوئی درود اپنے پاس سے بنا کر اور اس کو جو ہے وہ اس میں مختلف طرح کے عقیدے شامل کر کے یہ پڑھنا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا بہت سارے مسائل کا حل ہے۔

[18:15]اس سے اللہ رب العزت غم دور فرما دیتے ہیں اللہ رب العزت کا قرب انسان کو حاصل ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا انسان مستحق قرار پاتا ہے صبح و شام دو دس دس مرتبہ درود پڑھتا ہے رب العزت اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے جو ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا ہے

[18:31]اللہ رب العزت اس کے اوپر جو ہے وہ اپنی دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں تو اس لیے درود کی بہت زیادہ فضیلت ہے درود و سلام پڑھنے کی تو سب سے بہترین درود ابراہیمی ہے یا وہ درود ہیں جو مختلف احادیث کے اندر موجود ہیں ان کا اہتمام کرنا چاہیے ایت نمبر 59 میں اللہ رب العزت نے اگین پوری انسانیت کو پوری جو ہے وہ مومن خواتین کو پردے کا حکم دیا ہے

[18:51]اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے اپنی بیٹیوں سے کہہ دیجیے مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر جلباب ڈال لیا کریں جناب جلباب کی جمع ہوتی ہے جلباب اس بڑی چادر کو کہا جاتا ہے جو ہمارے بھی اگر 30 35 سال 40 سال ہم پیچھے چلے جائیں تو دیہاتوں کی خواتین جو ہیں وہ ایک بڑی چادر کے ساتھ حجاب کیا کرتی تھیں

[19:14]اج کل بھی جیسے فار ایگزمپل ایرانی چادریں جس طرح کی اتی ہیں تو ایسی چادریں جو پورے باڈی کو کور کر لیتی ہیں اور اس کے اندر چہرہ بھی چھپا ہوا ہوتا ہے اس کے اندر پاؤں اور ہاتھ بھی چھپے ہوئے ہوتے ہیں اس طرح کی بڑی چادر جو ہے وہ اس کو جلباب کہا جاتا ہے

[19:40]اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ان کو چاہیے کہ وہ جو ہے وہ پردہ کر لیا کریں اور اپنے پورے جسموں کو ڈھانپ لیا کریں اللہ فرماتے ہیں یہ بات زیادہ قرینے قیاس اور قریب ہے کہ جب یہ عبایہ میں ہوں گی یہ اپنے پردوں میں ہوں گی بڑی چادروں میں ہوں گی تو پھر ان کو شیطان اپنے جو ہے وہ چار اپنی چالوں میں نہیں پھنسا سکے گا

[20:06]اور ان کو تکلیفیں نہیں پہنچیں گی اللہ رب العزت یقینا بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اس سورت کے اخر میں اللہ رب العزت نے اخری رکوع میں بطور خاص ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو تم موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے اصحاب کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو تکلیف میں ڈالا

[20:23]تم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کی تکلیف میں نہ ڈالنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ حوالے سے پس منظر کیا تھا معاملہ کچھ یہ تھا کہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام بھی چونکہ بہت زیادہ حیا والے تھے اس کی وجہ سے اپنا اپنا باڈی جو ہے وہ کسی کے سامنے شو نہیں کرتے تھے اپنے اپ کو انکور نہیں کرتے تھے انڈریس نہیں کرتے تھے

[20:40]تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے طرح طرح کی باتیں بنانا بنانے لگے موسی علیہ السلام کو یہ بیماری ہے فلاں بیماری ہے فلاں بیماری اللہ تعالی نے ایک جو ہے وہ اپنی حکمت کے ساتھ ایک ایسا معاملہ کیا کہ ایک مرتبہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام تنہائی میں کسی پونڈ کے اوپر غسل کر رہے تھے تو وہاں پر غسل کرتے ہوئے جس پتھر پر اپ نے اپنے کپڑے رکھے تھے چونکہ وہاں کوئی دیکھنے والا نہیں تھا

[20:59]وہ کپڑے لے کر پتھر بھاگ کھڑا ہوا جیسے ہی پتھر جو ہے وہ تفسیری روایات کے اندر موجود ہے وہ پتھر ایک مجلس کے پاس پہنچا اب موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دیکھا تو فورا اس کے پیچھے بھاگے اپنے کپڑے لینے کے لیے اب اس مجلس میں پہنچا تو موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا جسم بہت ہی خوبصورت تھا

[21:13]وہ لوگ دیکھ کر ان کی عقلیں دنگ رہ گئیں اللہ رب العزت نے اصل میں تو ان پر ثابت کرنا تھا کہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو کسی طرح کی کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ وہ صرف اور صرف اس وجہ سے انڈریس نہیں ہوتے کہ وہ ان کے اندر بہت زیادہ اخلاق اور حیا ہے تو اللہ رب العزت نے مومنوں کو بھی منع کیا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس طرح کی جو ہے وہ سوچ نہ رکھو

[21:30]اس طرح کی اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اخلاق اور حیا ہے اس کو کسی بھی طرح سے چیلنج نہ کرو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اے ایمان والو ہمیشہ سچ بولا کرو اور ہمیشہ اللہ تعالی سے ڈرتے رہا کرو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ رب العزت تمہارے اعمال کی اصلاح فرما دیں گے گھروں کی اصلاح فرما دیں گے اللہ تمہارے گناہ بخش دیں گے اور جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے

[21:50]وہی اصل میں کامیاب ہے اللہ رب العزت نے قران مجید جیسی امانت کے لیے انسان کا انتخاب کیا اس کا ذکر کیا ہے اللہ رب العزت فرماتے ہیں ہم نے اپنی امانت کو قران مجید کو اسمانوں پر زمین پر پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس بار کو اٹھانے سے انکار کر دیا اور انسان نے اس کو اٹھا لیا

[22:07]لیکن انسان بڑا ہی نادان ہے اس کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کتنا بڑا بار ہے جو اللہ تعالی کے پاس سے اٹھا رہا ہے یہ بہت بڑا شرف اور اعجاز ہے کہ اللہ رب العزت نے ہمیں اپنی مقدس کلام قران مجید کا ہمیں جو ہے وہ اہل سمجھا اور یہ کتاب ہمیں عطا فرمائی

[22:22]تو اب ہمیں ہر صورت میں اس پر عمل کرنے کی اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے اس کے بعد سورہ صبا ہے سورہ صبا میں اللہ رب العزت نے ابتدا میں فرمایا کہ کافر لوگ ایت نمبر تھرڈ ہے اس میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ کافر لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ قیامت نہیں ائے گی وہ کہتے ہیں کہ کہتے ہیں قیامت نہیں ائے گی

[22:41]اللہ فرماتے ہیں ان سے کہیے میرے رب کی قسم ہے وہ تو ا کر ہی رہے گی جب اس اللہ رب العزت سے ایک رائی کے دانے کے برابر کوئی چیز نہیں چھپ سکتی اسمان و زمین کے اندر نہ اس سے چھوٹی نہ اس سے بڑی تو پھر قیامت کیوں نہیں ائے گی تم نے کیسے سمجھ لیا ہے کہ قیامت نہیں ائے گی یہ سب کچھ تو اللہ رب العزت نے الریڈی لوح محفوظ کے اندر لکھ کے رکھا ہوا ہے

[23:04]اس اس سورت کے سورہ صبا کے سیکنڈ رکوع میں اللہ رب العزت نے جو ہے وہ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام اور سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کو جو نعمتیں عطا فرمائی تھیں ان کا ذکر کیا ہے ایت نمبر 10 سے لے کر 14 تک اللہ فرماتے ہیں کہ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کو ہم نے جو نعمتیں عطا فرمائی اس میں سے ایک حسن صوت کی نعمت تھی۔

[23:20]بڑی خوبصورت اواز اسی سے جو ہے وہ مزامیر ال داؤد جو ہے وہ یہ لفظ ہمارے عموما سننے کو ملتا ہے یعنی اتنی خوبصورت اواز تھی کہ اللہ رب العزت مختلف تفسیری روایات کے اندر موجود ہے بلکہ قران مجید کی ایت بھی اس بات کے اوپر شاہد ہے

[23:34]اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے پہاڑوں کو پرندوں کو ہر چیز کو حکم دے رکھا تھا کہ جیسے ہی داؤد علیہ الصلوۃ والسلام اللہ کی تسبیح بیان کرتے اپ کے ساتھ پہاڑ تسبیح میں مشغول ہو جاتے پرندے تسبیح میں مشغول ہو جاتے ہر چیز ایک ردم بن جاتا

[23:50]ایک جو ہے وہ لے کے ساتھ اللہ رب العزت کی تسبیح بیان کرتے اور یہ اللہ رب العزت نے اپ کو بہت زیادہ معجزات عطا فرمائے اسی طرح سے لوہے کو مولڈ کرنے کی جو اللہ رب العزت نے اپ کو معجزہ دیا تھا اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا

[24:06]یعنی بغیر کسی بھٹی میں تپائے بغیر کسی جو ہے وہ فیکٹری لگائے بغیر کسی اس طرح کے جو ہے نا وہ سورسز کے سلیمان داؤد علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ہاتھوں کے ساتھ جو ہے وہ لوہے کو جیسے موم کو مولڈ کر لیا جاتا ہے

[24:19]اسی طرح سے جو چیزیں بنانا چاہتے ہیں وہ اس سے بنا لیتے تھے اور اس کا اللہ رب العزت نے یہاں پر یہ بھی ذکر کیا ہے کہ وہ اس سے جو ہے وہ زریں بناتے اور اسی طرح سے دیگر اپنی ضروریات کی چیز بناتے۔

[24:27]پھر سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ہم نے سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے اللہ رب العزت نے ہواؤں کو مسخر کر دیا تھا اور ان کا جو اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا صبح کا جو سفر ہوتا وہ صبح سے لے کر دوپہر تک ہواؤں کو حکم دیتے اپ علیہ الصلوۃ والسلام اپ کا لشکر اپ کے جتنے بھی ساتھی ہوتے وہ سارے اپ کے ساتھ ہوتے

[24:50]اپ ہوا کو حکم دیتے ہوا صبح سے لے کر دوپہر تک اپ کو ایک مہینے کی مسافت جو ہے وہ طے کروا دیتی اور اس کے بعد فرمایا کہ پھر دوپہر سے لے کر شام تک دوسرے مہینے کی مسافت ان کو طے کروا دیتی

[25:01]یعنی دو مہینے کا سفر وہ ایک ہی دن کے اندر طے کر لیا کرتے تھے یہ اللہ رب العزت نے اپ کو جو ہے وہ معجزات عطا فرمائے پھر اسی طرح فرمایا اسی طرح سے ہم نے ان کو تانبے کی دھات جو ہے اس کا باقاعدہ ایک چشمہ جاری کر کے

[25:21]یہ اللہ رب العزت نے ان کو معجزہ دیا اور اس سے وہ اپنی مختلف طرح کی چیزیں بنایا کرتے تھے پھر اس کے بعد اللہ رب العزت نے جو ہے وہ مختلف دیگر اس کا ذکر کیا ہے جو ان کو معجزات دیے گئے تھے

[25:28]اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام اتنے بڑے بڑے محلات اتنی شاندار عمارتیں اور اتنے بڑے بڑے حوز اور ان حوز جیسے لگن یعنی جس کو اج کل لیگون کہا جاتا ہے وہ لیگون جو تھے وہ اس انداز کے بنائے گئے تھے اتنے بڑے بڑے برتن ہوتے تھے کہ ہزاروں افراد کا کھانا

[25:46]ایک ہی وقت میں ایک ہی برتن کے اندر پک جایا کرتا تھا اور وہ برتن یوں بنائے جاتے کہ پہاڑ کو اوپر سے تراش کر نیچے اس کے جو ہے وہ جگہ بنا دی جاتی اگ لگانے کے لیے اور اوپر سے اس کو تراش کر اسی کو جو ہے وہ برتن نما بنا لیا جاتا اور ہزاروں افراد کا کھانا ایک ساتھ پک جاتا اس کا اللہ رب العزت نے ذکر کیا ہے

[26:04]پھر سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق بہت سارے لوگ جنات بھی بطور خاص یہ سمجھا کرتے تھے کہ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام علم غیب رکھتے ہیں یا اسی اسی طرح سے جنات سے متعلق لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جنات جو ہیں وہ علم غیب رکھتے ہیں

[26:17]اللہ رب العزت نے ایک عجیب فیصلہ کیا جب سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے عمارت بنانے کا خاص طور پر بعض روایات کے اندر موجود ہے کہ جس کو جو ہے وہ یہ مسجد اقصی ہے اس کو بنانے کا جنات کو حکم دیا

[26:33]اور خود ایک کرسی پر ٹیک لگا کے بیٹھ گئے اپنی لاٹھی کے ساتھ اور سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہ بیٹھے رہے اسی حالت میں اللہ رب العزت نے اپ کے اوپر موت طاری کر دی جنات کو پتہ ہی نہیں چلا وہ کئی کافی عرصہ وہ کام کرتے رہے کرتے رہے حتی کہ یہ ہوا کہ اپ کے ہاتھ میں جو لاٹھی تھی اس لاٹھی کو گھن کے کیڑے نے کھایا

[26:50]اور کھانے کے بعد جب وہ لاٹھی جو ہے وہ گر گئی تو سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے چونکہ انبیاء کے جسموں کو مٹی نہیں کھاتی تو سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہاں سے کرسی سے اپ علیہ الصلوۃ والسلام گر پڑے جیسے ہی گرے تو پھر ان کو اندازہ ہوا کہ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام تو کب سے فوت ہو چکے ہیں

[27:08]تو اللہ رب العزت نے اس عقیدے کا رد کیا کہ جنات جو ہیں وہ کسی بھی طرح سے غیب نہیں جانتے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 15 سے 19 تک قوم صبا کا ذکر کیا ہے بہت بڑی بہت مضبوط قوم تھی

[27:17]اللہ رب العزت نے ان کو بڑے ہی خوبصورت سرسبز و شاداب قسم کے باغات عطا فرما رکھے تھے اس کا ذکر کیا ہے بڑے چشمے ان کے پاس چلتے تھے بہت بڑے بڑے ڈیم بنا رکھے تھے ان کا جو سب سے مرکزی ڈیم تھا وہ سد معارب تھا جو ان کے کیپیٹل میں تھا اور اس کی وجہ سے وہاں سے پانی نکلتا باغوں کو سیراب کرتا ہوا

[27:35]اس کے اندر نہریں چلتی تھیں اتنا خوبصورت نظام کہ جیسے اللہ رب العزت نے یہاں پر ارشاد فرمایا ہے اللہ رب العزت فرماتے ہیں بلدۃ طیبۃ و رب غفور یعنی اتنا خوبصورت اور پاکیزہ ماحول کہ جب ہوائیں چلتی تو اس کے اندر پھولوں اور پھلوں کی خوشبو مکس ہو کے ایک جو ہے وہ جنت نظیر جو ہے نا وہ ماحول کریٹ کر دیتی

[27:53]لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالی کی نافرمانی کی نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ہم نے پھر کیا کیا اس کو مجاز الکفور پھر اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے پھر ہم نے ان کے وہ چشمے ختم کر دیے انہی چشموں کو اللہ رب العزت نے سیلاب کا ذریعہ بنا دیا

[28:07]اور جو باغات ان کو اللہ رب العزت نے عطا فرمائے تھے وہ باغات کی جگہ پر خود رو جھاڑیاں اور بیری کے کچھ درخت صرف یہ ان کے پاس خوراک بچی باقی سب کچھ اللہ رب العزت نے ختم کر دیا تو جب کسی قوم کے اندر ناشکری پیدا ہوتی ہے تو اسی طرح سے اللہ رب العزت ان سے بدلہ لیتے ہیں

[28:28]اس کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ایت نمبر 28 میں اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اپ کو پوری انسانیت کے لیے نبی بنا کر بھیجا ہے۔ یہاں سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پچھلی تمام کی تمام جو شریعتیں تھیں وہ منسوخ ہو چکی ہیں۔

[28:42]صحیح حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اللہ رب العزت نے کچھ خاص چیزیں عطا فرمائی ہیں جو اس سے پہلے کسی کو کسی نبی کو نہیں دی گئیں

[28:55]ارشاد فرمایا مجھے اللہ نے پانچ چیزیں خاص طور پر عطا فرمائی ہیں نمبر ایک میں ایک مہینے کی مسافت پر ابھی دور ہوتا ہوں تو دشمن کے اوپر میرا رعب ڈال دیا جاتا ہے

[29:08]سیکنڈ ارشاد فرمایا اللہ رب العزت نے پوری کی پوری زمین کو میرے لیے مسجد اور جو ہے وہ پاکیزہ بنا دیا ہے اب میری امت کا کوئی بھی شخص دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہو وہ جہاں اس کو نماز کا وقت ہو جائے وہیں پر نماز پڑھ سکتا ہے اس سے پہلی امتیں صرف اپنی مخصوص عبادت گاہوں میں ہی عبادت کر سکتی تھیں

[29:28]پھر ارشاد فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ رب العزت نے میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دے دیا ہے اس سے پہلے امتوں پر مال غنیمت حلال نہیں تھا وہ اکٹھا کر کے رکھتے اور اس کو اگ کھا کے چلی جاتی پھر ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت نے مجھے کا اللہ رب العزت نے مجھے اس سے پہلے جو انبیاء اتے تھے وہ مخصوص علاقوں میں مخصوص قوموں کی طرف اتے

[29:47]اللہ رب العزت نے مجھے قیامت تک انے والی تمام بنی نوع ادم کے لیے نبی بنا کر بھیجا ہے اور پانچویں چیز ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت نے مجھے قیامت والے دن شفاعت کا حق دیا ہے قیامت والے دن میں سفارش کروں گا یہ خاص ایسے اعجاز ہیں جو اس سے پہلے کسی دوسرے نبی کو حاصل نہیں ہو سکے

[30:05]اس کے بعد اللہ رب العزت نے اگلے رکوع میں رکوع نمبر فور ہے اس میں اللہ رب العزت نے سورہ صبا کا اللہ تعالی نے کمزور لوگوں کا اور طاقتور لوگوں کا مکالمہ اس کا ذکر کیا ہے قیامت والے دن جو کمزور ہوں گے وہ متکبر لوگوں سے کہیں گے تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے اتے

[30:22]وہ کہیں گے کیا ہم نے تمہیں روکا تھا کہ تم ہدایت کو قبول نہ کرو بلکہ تم خود ہی مجرم تھے پھر اس کے بعد جو کمزور ہوں گے وہ ان سے کہیں گے بلکہ بات دراصل یہ ہے کہ ہم بھی دنیا کے دھوکے میں اگئے تم بھی دنیا کے دھوکے میں اگئے تم ہمیں حکم دیتے تھے ہم جو ہے نا وہ تمہاری اطاعت کرتے رہے

[30:40]اور اس کے نتیجے میں ہم نے اللہ رب العزت کو چھوڑ دیا اور اس طرح سے اللہ رب العزت دونوں کو اکٹھا کر کے ان کو جہنم کے اندر پھینک دیں گے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ایت نمبر 42 میں اج کے دن کوئی بھی کسی بھی طرح کے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہے

[31:00]ہم ظالموں سے کہیں گے کہ اپنے کیے ہوئے اعمال کا اج تم عذاب چکھو اور اسی کا تمہیں بدلہ دیا جا رہا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس سورت کے اخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے یہ بات ارشاد فرمائی کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ان سے کہہ دیجئے

[31:16]اگر تم سمجھتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اصل راہ پر نہیں ہے ڈیٹیک ہو چکے ہیں اور اس طرح کا معاملہ جیسے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مشرکین کہا کرتے تو اللہ نے فرمایا ان سے کہیے اگر میں گمراہ ہوتا بھی ہوں تو اس کا وبال میرے ہی اپنے سر پہ ہوگا اور اگر میں ہدایت پاتا ہوں تو یہ اس وحی کی بدولت ہے جو اللہ رب العزت نے عطا فرمائی ہے

[31:38]بے شک میرا رب بڑا ہی جو ہے وہ قریب ہے اور بڑا ہی ہر چیز کو سننے والا ہے اس کے بعد سورہ فاطر ہے جس کے ابتدا میں اللہ رب العزت نے پہلی ایت میں فرشتوں کا ذکر فرمایا ہے

[31:54]اللہ رب العزت جس نے بڑے بڑے فرشتوں کو بنایا ہے بطور خاص چار جو مقرب فرشتے ہیں اللہ رب العزت کے جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام میکائیل علیہ الصلوۃ والسلام اسرافیل علیہ الصلوۃ والسلام اور عزرائیل علیہ الصلوۃ والسلام اللہ فرماتے ہیں کسی کے دو پر ہیں کسی کے تین پر ہیں کسی کے چار پر ہیں اور بعض روایات میں موجود ہے

[32:11]کہ جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام کے 600 پر ہیں اور ایک پر ان کا اتنا بڑا ہے کہ وہ اسمان و زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے اس کے بعد اللہ رب العزت نے فرمایا ایت نمبر سیکنڈ میں جس کے لیے اللہ تعالی اپنی رحمت کھول دے اس کو کوئی روک نہیں سکتا

[32:29]اور جس کو اللہ تعالی اپنی رحمت سے محروم کر دے اس کو اللہ تعالی کی کوئی رحمت سے نواز نہیں سکتا اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں شیطان کے بارے میں پہلے ارشاد فرمایا ایت نمبر فائو میں اے لوگوں اللہ کا وعدہ سچا ہے تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ نہ ڈال دے اور اسی طرح سے یہ تمہیں اللہ تعالی کے بارے میں جو ہے وہ مختلف طرح کے دھوکے جو ہے وہ تمہیں کہیں گمراہ نہ کر دیں

[32:55]اور شیطان کے بارے میں فرمایا یقینا شیطان تمہارا کھلا اور ازلی دشمن ہے تو تم بھی اس کو ایز ا دشمن ہی ٹریٹ کیا کرو اس کو دشمن کے طور پہ ہی سمجھا کرو کیوں کیونکہ وہ جو اپنا لشکر اکٹھا کر رہا ہے اپنا گروہ جو بنا رہا ہے اپنے فالوورز جو اکٹھے کر رہے ہیں وہ سارے کے سارے کس لیے

[33:15]تاکہ ان سب کو جہنم میں لے جا کر پھینک دیں اس کے بعد اللہ تعالی نے انسان کی پیدائش کے مختلف مراحل کا ذکر کیا ہے پھر اس کے بعد اللہ رب العزت نے اپنی صفات کا تذکرہ کیا ہے راتوں کو لانے لے جانے کے حوالے سے دن کو تبدیل کرنے کے حوالے سے سورج اور چاند کو مسخر کرنے کے حوالے سے ہر چیز کا وقت مقرر اللہ رب العزت نے کیا ہے

[33:33]اس کا ذکر ایک فرمایا ہے اور اللہ فرماتے ہیں کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر جو ایک دھاگہ اور جلی ہوتی ہے وہ اس کے بھی مالک نہیں ہیں ایت نمبر 13 میں اللہ فرماتے ہیں وہ اس گٹھلی کے اوپر موجود جلی اور دھاگہ کے بھی مالک نہیں ہیں

[33:53]جن کو تم اللہ رب العزت کے سوا پکارتے ہو پھر اللہ فرماتے ہیں اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے اور اگر ان میں سے کوئی زندہ ہوتا اور سن بھی لیتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں کہ وہ تمہیں جواب نہیں دے سکتے تمہیں ریپلائی نہیں کر سکتے تمہاری بات کو وہ ایکسیپٹ نہیں کر سکتے

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript