[0:15]الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
[0:36]رب اشرح لی صدری ویسر لی امری واحلل عقدت من لسانی یفقهو قولی رب یسر ولا تعسر وتم بالخیر امین یا رب العالمین
[0:48]عزیز طلباء و طالبات لسان القران کورس 2024 آپ سب کے پیش خدمت ہے
[0:57]یہ کورس خاص طور پر ان طلباء و طالبات کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جو فزیکل کلاسز نہیں لے پاتے یا نہیں لے سکتے
[1:07]لے پاتے اس لیے کہا ہے کہ ان کے اوقات اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ان کے لیے فزیکلی کلاس لینا تقریبا ناممکن ہوتا ہے
[1:19]تقریبا اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ ناممکن کچھ بھی نہیں ہوتا اگر انسان کرنے کا فیصلہ کر لے تو سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے
[1:31]سوائے ان چیزوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فیصلہ کر دیا ہو کہ یہ نہیں ہو گا اور لے سکتے اس لیے کہا ہے کہ ظاہر بات ہے جس شہر میں یہ کلاسز منعقد ہو رہی ہوتی ہیں
[1:40]وہ طلباء و طالبات اس شہر سے یا اس ملک سے تعلق نہیں رکھتے وہ وہاں سے بہت دور ہوتے ہیں تو اسپیشل ان کے لیے میں نے یہ کورس جو ہے لسان القران کورس 2024
[2:00]ڈیلیور کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کورس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ سٹوڈنٹس جو ہیں وہ میرے سامنے نہیں ہوں گے تو مجھے ہر ٹاپک جو ہے وہ تفصیل سے اور اس کے ہر پہلو کو کور کرتے ہوئے سمجھانے کا موقع ملے گا
[2:16]کیونکہ فزیکل کلاسز میں جب میں کوئی بات بتا رہا ہوتا ہوں تو طلباء و طالبات کے چہرے جو ہے وہ بتا دیتے ہیں کہ انہیں کون سی بات جو ہے وہ سمجھ نہیں آ رہی
[2:28]تو بعض اوقات ہمیں کچھ چیزیں جو ہیں سکپ کرنی پڑتی ہیں اور انہیں آگے کے ٹاپکس میں کسی اور وقت بیان کرنے کی صورت نکالنی پڑتی ہے
[2:40]لیکن اس وقت چونکہ میرے سامنے کوئی طالب علم یا طالبہ نہیں ہوگی تو میرے لیے آسان ہو گا کہ میں جو بھی ٹاپک شروع کرواؤں اس کو
[2:50]اینڈ تک اچھی طرح سے مکمل کروا دوں تاکہ وہ ایک کمپرینسو ٹاپک کے طور پر آپ کے سامنے آ جائے تو اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے
[3:02]کہ الحمدللہ الذی هدانا لہذا وما کنالنهتدی لولا أن ہدانا اللہ اور اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہ رب یسر ولا تعسر وتم بالخیر
[3:17]ہم لسان القران کورس کا آغاز کرتے ہیں اسکرین پہ آپ کورس کا نام لکھا ہوا دیکھ رہے ہیں جو ہے لسان القران
[3:24]دو الفاظ ہیں اس میں ایک لسان ہے اور ایک قرآن ہے اردو بولنے اردو پڑھنے اردو جاننے والوں کے لیے
[3:33]یہ دونوں لفظ نئے لفظ نہیں ہیں قرآن تو ہر زبان بولنے والا شخص سمجھ سکتا ہے ہاں لسان لفظ جو ہے یہ عربی کا لفظ ہے
[3:47]لفظ تو قرآن بھی عربی کا ہے لیکن چونکہ ہماری اردو زبان میں یا کسی بھی زبان میں قرآن کا لفظ ایز اٹ از استعمال ہوتا ہے تو سب جانتے ہیں کہ قرآن سے مراد کیا ہے
[3:59]تو لسان عربی کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں زبان تو لسان القران کا مطلب ہوا قرآن کی زبان انگریزی میں اسے کہیں گے لینگویج آف دا قرآن
[4:11]تو آپ کو یہیں سے عربی زبان کی وسعت کا اندازہ ہو جائے گا کہ لفظ دو لکھے ہوئے ہیں ایک ہے لسان اور ایک ہے قرآن
[4:21]لیکن جب میں ٹرانسلیشن کر رہا ہوں اردو میں کر رہا ہوں تو دونوں لفظوں کے درمیان میں کی کا اضافہ کر رہا ہوں
[4:30]یعنی کہہ رہا ہوں قرآن کی زبان حالانکہ کی کے لیے کوئی لفظ موجود نہیں ہے اسی طرح جب میں انگریزی میں ٹرانسلیٹ کر رہا ہوں اسے تو آپ کے سامنے
[4:44]ترجمہ کر رہا ہوں لینگویج آف دا قرآن تو آف کا لفظ آپ کو ان دو لفظوں کے درمیان میں نظر نہیں آ رہا
[4:55]تو یہیں سے طلباء و طالبات کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ عربی زبان جو ہے وہ ایک وسیع فصیح اور بلیغ زبان ہے
[5:05]تو ہمارے کورس کا نام ہے جی لسان القران قرآن کی زبان لینگویج آف دا قرآن قرآن کی زبان عربی زبان ہے
[5:13]اور عربی زبان قرآن مجید پر ایمان لانے والے اکثر لوگوں کی زبان نہیں ہے اسی لیے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب اگرچہ قرآن مجید ہی ہے
[5:30]لیکن سب سے کم سمجھے جانے والی کتاب بھی یہی ہے ہم اسے پڑھتے تو ہیں روزانہ پڑھتے ہیں شوق سے ذوق سے محبت سے
[5:41]ادب سے احترام سے پڑھتے تو ہیں لیکن اس کو سمجھتے نہیں ہیں تو انشاء اللہ تعالی اس کورس میں ہم اس قابل ہونے کی کوشش کریں گے کہ
[5:54]اللہ کے کلام کو ہم سمجھ سکیں جب ہم قرآن پڑھ رہے ہوں یا قرآن سن رہے ہوں تو ہمیں کم از کم یہ تو پتہ ہونا چاہیے کہ ہمارا رب ہم سے کیا کہہ رہا ہے
[6:06]جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ قرآن کی زبان عربی زبان ہے اور سب یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ عربی زبان ہم میں سے اکثر لوگوں کی زبان نہیں ہے
[6:18]تو عربی زبان سیکھنے کے لیے سب سے پہلے ہم عربی زبان کے الفابیٹس جنہیں حروف تہجی بھی کہا جاتا ہے سیکھنے کی کوشش کریں گے
[6:29]کیونکہ کسی بھی زبان کو سیکھنے کے لیے اس کے الفابیٹس کا جاننا بہت ضروری ہے عربی زبان کے جتنے بھی الفابیٹس ہیں
[6:36]جتنے بھی حروف تہجی ہیں یہ سب کے سب اردو زبان میں بھی استعمال ہوتے ہیں تو ان الفابیٹس کو یا حروف تہجی کو
[6:53]عربی گرامر میں حروف الہجا کا نام دیا جاتا ہے ان حروف کی تعداد کتنی ہے اور یہ کون کون سے ہیں ان دونوں سوالوں کا جواب میں آپ کے سامنے یہ حروف لکھ کر اور پڑھ کر دینے کی کوشش کر رہا ہوں
[7:06]تو پہلا حرف جو ہے وہ ہے جی الف الف حرف اردو میں بھی پایا جاتا ہے لیکن انگریزی میں الف نہیں ہے
[7:15]دوسرا حرف آپ کو نظر آ رہا ہے جو کہ اردو میں بے کے طور پر پڑھا اور بولا جاتا ہے اب یہاں پر میں ایک اصول آپ کو بتاتا چلوں
[7:25]جس اصول کے بعد آپ ان حروف کی عربی میں پرونسیئشن انشاء اللہ تعالی صحیح طریقے سے کر سکیں گے
[7:36]اصول یہ ہے کہ جو بھی حرف آپ کے سامنے آئے اور چونکہ ہر حرف جو ہے وہ اردو زبان میں بھی موجود ہے تو سب سے پہلے آپ اسے اردو میں پڑھیں
[7:48]اردو میں پڑھنے پر اگر آپ کو اس حرف کے آخر میں آ کی آواز سنائی دے تو آپ نے اس حرف کو عربی میں
[7:56]ا کی آواز کے ساتھ نہیں بلکہ آ کی آواز کے ساتھ پروناؤنس کرنا ہے الف اردو میں بھی ایسے ہی پڑھا جاتا ہے
[8:10]عربی میں بھی ایسے ہی پڑھا جائے گا کیوں اس لیے کہ الف حرف کے آخر میں بولنے میں آ کی آواز نہیں آ رہی
[8:20]دوسرا حرف ہے بے اردو میں یہ بے کے طور پر پڑھا جاتا ہے اور چونکہ اس کے آخر میں ا کی آواز آ رہی ہے
[8:27]تو جب آپ کے سامنے عربی میں یہ حرف آئے گا تو آپ نے اسے بے نہیں کہنا یا بے نہیں پڑھنا بلکہ آپ نے اسے با پڑھنا ہے
[8:38]تو اس اصول کو آپ سامنے رکھیں گے تو انشاء اللہ تعالی تمام کے تمام حروف آپ صحیح طریقے سے پروناؤنس کر لیں گے انشاء اللہ تعالی
[8:48]تو پہلا حرف ہے جی الف دوسرا با تیسرا تا اس لیے کہ اردو میں ہم اسے تے پڑھتے ہیں اس کے بعد اگلا حرف ہے ثا
[8:58]اس لیے کہ ہم اردو میں اسے ثے پڑھتے ہیں اگلا حرف ہے جیم جیم اردو میں بھی جیم ہوتا ہے عربی میں بھی جیم ہی ہو گا
[9:10]اس کے بعد اگلا حرف ہے حا اب میں ساری تفصیل نہیں رکھوں گا آپ کے سامنے آپ کو امید ہے اصول جو ہے وہ سمجھ آ گیا ہے
[9:20]اس کے بعد اس لائن کا آخری حرف میں بول رہا ہوں آپ کے سامنے وہ ہے خا تو پہلی لائن میں آپ کے سامنے سات حروف آ گئے ہیں
[9:30]یہ سات حروف اب میں ایک ہی بار آپ کے سامنے بولتا ہوں الف با ثا جیم حا خا آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ایک لائن میں میں نے سات حروف لکھنے ہیں
[9:46]تو میں جتنی لائنز لکھوں گا آپ سات کو اتنی لائن سے ملٹی پلائی کریں گے تو آپ کے سامنے ان حروف کی کل تعداد آ جائے گی انشاء اللہ تعالی
[9:58]تو دوسری لائن میں پہلا حرف ہے دال اگلا حرف ہے ذال پھر را اس کے بعد زا سین شین صاد
[10:11]تو صاد دوسری لائن میں مکمل ہو گئے اب ہم چلتے ہیں تیسری لائن کی طرف تیسری لائن کا پہلا حرف ہے ضاد عربی میں سب سے مشکل پروناؤنس کرنے والا حرف آپ کے سامنے ہے
[10:24]اور یہ حرف بہت مشکل سے ادا ہوتا ہے کچھ لوگ اسے دال کی آواز میں ادا کرتے ہیں کچھ لوگ اسے
[10:30]ظوئے کی آواز میں ادا کرتے ہیں لیکن یہ حرف جو ہے دونوں کی درمیانی آواز میں پروناؤنس ہوتا ہے لہذا اس کو
[10:46]ادا کرنے کے لیے بہت زیادہ پریکٹس چاہیے لیکن چونکہ یہ کلاس جو ہے تجوید کی کلاس نہیں ہے
[10:51]تو میں اس کلاس میں آپ کو اس حرف کی ادائیگی کے بارے میں تو نہیں بتاؤں گا بس درخواست یہ کروں گا کہ آپ کی زبان سے منہ سے جو بھی حرف نکلے
[11:04]وہ ذہن میں یہ ہونا چاہیے کہ یہ ضاد ہے دال یا ظوئے نہیں ہے اگلا حرف ہے طوئے یہ توئے تھا اردو میں تو چونکہ آ کی آواز آ رہی تھی تو ہم نے اسے طا پڑھا
[11:16]اس سے پہلے تا گزری ہے تو تا اور طا میں آپ نے تھوڑا سا فرق کرنا ہے ورنہ بولنے میں ایسے ہی لگے گا کہ آپ ایک حرف بول رہے ہیں حالانکہ یہ دو الگ الگ حروف ہیں
[11:29]اگلا حرف ہے جی ظا پھر عین غین فا قاف یہ قاف ہے تھوڑا سا منہ گول کر کے آپ نے اسے ادا کرنا ہے
[11:40]تو تین لائنز پوری ہو گئی ہیں چوتھی لائن کا پہلا حرف ہے کاف یہ بالکل وہی کاف ہے جو آپ کے زبان سے آپ کے منہ سے اردو میں بھی نکلتا ہے
[11:50]بس دونوں میں آپ نے تھوڑا فرق کرنا ہے کہ اس کو آپ نے بالکل اسی طرح کاف بولنا ہے اور اس سے پہلے جو گزرا ہے اس کو تھوڑا سا منہ گول کر کے قاف کر کے بولنا ہے
[11:59]اگلا حرف ہے لام پھر میم اس کے بعد نون اور نون کے بعد آپ کے سامنے آ رہا ہے ہا آپ ایکسپیکٹ کر رہے تھے کہ آئے گا واؤ
[12:11]لیکن یہ ترتیب جو میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں یہ ڈکشنری کی ترتیب ہے ڈکشنری میں آپ کو جب کوئی لفظ ڈھونڈنا ہو گا
[12:21]تو جو الفابیٹس ہیں حروف تہجی ہیں حروف الحجا ہیں وہ آپ کو اسی ترتیب سے ملیں گے
[12:28]اب آ رہا ہے واؤ اور آخری حرف اس لائن کا میں آپ کے سامنے لکھ رہا ہوں اور بول رہا ہوں وہ ہے یا یوں ہماری چار لائنز مکمل ہو گئی ہیں
[12:41]اور ہر لائن میں ہم نے سات حروف لکھے تو سات کو جب آپ نے چار سے ملٹی پلائی کیا تو جواب آیا 28 تو حروف الحجا کی تعداد عربی زبان میں 28 ہے
[12:54]اور یہ جمہور علماء کی رائے ہے یعنی اکثر علماء حروف الحجا کی تعداد 28 قرار دیتے ہیں ایک سوال آپ کے ذہن میں پیدا ہو رہا ہو گا
[13:45]کہ ان حروف میں حمزہ حرف نہیں آیا جبکہ حروف الحجا جو آپ کے سامنے لکھا گیا ہے
[13:57]حروف الحجا کے آخر میں آپ کو حمزہ لکھا ہوا نظر آ رہا ہے تو میں اس کا جواب دینے لگا ہوں اب
[14:04]کہ میں نے حمزہ ان حروف میں کیوں نہیں لکھا کیا حمزہ حروف الحجا کا حصہ نہیں ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ
[14:13]علماء کے نزدیک حمزہ الگ سے کوئی حرف نہیں ہے الف ہی حمزہ کہلاتا ہے الف ہی حمزہ ہو جاتا ہے
[14:26]الف ہی حمزہ بن جاتا ہے لیکن کب جب الف پر کوئی حرکت آ جائے الف پر زیر آ جائے
[14:35]زبر آ جائے پیش آ جائے یا الف پر سکون کی علامت آ جائے تو علماء کے نزدیک اب وہ الف نہیں کہلاتا
[16:04]بلکہ حمزہ ہو جاتا ہے یا حمزہ کہلاتا ہے اور جب الف ان چاروں علامات میں سے کوئی علامت نہیں ہوتی
[16:17]تو وہ ڈنڈے کی شکل میں جو سیدھی لائن آپ کو نظر آ رہی ہوتی ہے ایک لمبی لائن اس کو الف کہا جاتا ہے
[16:32]تو الحمدللہ جی آپ کو الف اور حمزہ کا فرق جو ہے وہ معلوم ہو گیا پاکستان کے مصحف میں حمزہ آپ کو اسی طرح پہچاننا ہو گا
[16:40]جبکہ سعودیہ کے مصحف میں الف کے اوپر یا نیچے بعض اوقات ایک چھوٹا سا حمزہ ڈال بھی دیا جاتا ہے تاکہ پہچان ہو جائے
[16:53]اب یہاں پر ایک چیز آپ کو اور نظر آ رہی ہوگی کہ الف کے اوپر آپ کو سعودیہ کے مصحف میں ایک چھوٹا سا صاد بھی لکھا ہوا نظر آ رہا ہے
[17:00]جو کہ پاکستان کے مصحف میں نہیں ہے تو اب آپ نے اس کو الف کہنا ہے یا حمزہ کہنا ہے تو یہ بات تو انشاء اللہ تعالی آپ کو آگے جا کے
[17:10]صحیح طور پر سمجھ آئے گی اس وقت آپ اگر پاکستان کا مصحف پڑھ رہے ہیں تو آپ الف کی صورت میں اسے دیکھیں گے لکھا ہوا
[17:21]لیکن سعودیہ کے مصحف میں جب آپ کو الف کے اوپر چھوٹا سا صاد نظر آئے تو ذہن میں یہ رکھیے گا کہ یہ اصل میں حمزہ تھا
[17:28]پھر حمزہ سے اس کو جب الف میں کنورٹ کیا گیا تو علامت کے طور پر سعودیہ کے مصحف میں اس الف پر چھوٹی سی صاد ڈال دی گئی تو ابھی آپ کے لیے اتنا ہی کافی ہے
[17:41]اصل میں انشاء اللہ تعالی جب آگے ٹاپک میں یہ چیز آئے گی تو میں تفصیل سے آپ کو سمجھا دوں گا تو امید ہے یہ بات بھی آپ کو کلیئر ہو گئی ہوگی
[17:50]چونکہ ہمارا واسطہ زیادہ تر پاکستان میں پرنٹ ہوئے مصحف کے ساتھ ہی رہتا ہے تو میں کوشش کروں گا کہ آپ کو پاکستان میں پرنٹ ہونے والا مصحف جو ہے اس کے الفاظ کے حوالے سے بات سمجھاؤں
[18:10]تو جب بھی آپ کو الف کے اوپر کوئی حرکت نظر آئے چاہے وہ زبر حرکت ہو چاہے وہ زیر حرکت ہو چاہے وہ پیش حرکت ہو
[18:18]چاہے اس پر سکون کی علامت ہو تو آپ نے اس کو الف نہیں کہنا بلکہ حمزہ کہنا ہے اور جب آپ کو الف ان چاروں علامات کے بغیر نظر آئے تو اب آپ نے اس کو الف کہنا ہے
[18:32]تو میں نے آپ کو الف اور حمزہ کا فرق بتا دیا اور آپ کے سامنے کچھ الفاظ اگر میں رکھوں تو امید کرتا ہوں کہ آپ ان الفاظ میں سے الف اور حمزہ کا فرق بخوبی کر سکتے ہیں
[18:50]نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی تھی اس کا پہلا لفظ تھا اقرا
[18:58]تو اقرا لفظ کو آپ دیکھیں اس میں آپ کو شروع میں اور آخر میں الف نظر آ رہا ہے لیکن اس الف پر یا حرکت ہے یا سکون کی علامت ہے
[19:10]تو پہلا الف جو ہے اس پہ زیر حرکت ہے اور دوسرا الف جو کہ آخر میں آ رہا ہے اس لفظ کے اس پہ سکون کی علامت ہے
[19:19]تو اقرا لفظ میں آپ نے ان دونوں کو الف نہیں کہنا بلکہ حمزہ کہنا ہے اور آپ کو سعودیہ کے مصحف میں آپ دیکھیں گے باقاعدہ آپ کو ایک حمزہ لکھا ہوا بھی نظر آئے گا
[19:35]اس کے بعد دوسرا لفظ آپ کے سامنے ہے انسان اب انسان بھی عربی زبان کا لفظ ہے اور انسان لفظ میں جو شروع میں آپ کو الف نظر آ رہا ہے اس کو آپ نے حمزہ کہنا ہے
[19:48]کیونکہ اس کے نیچے زیر حرکت ڈلی ہوئی ہے اور سین کے بعد جو آپ کو الف نظر آ رہا ہے اسے آپ نے الف ہی کہنا ہے کیونکہ اس پر کوئی بھی علامت نہیں ہے نا کوئی حرکت ہے نا ہی سکون ہے
[20:05]تو الحمدللہ جی آپ کو الف اور حمزہ کا فرق سمجھ میں آ گیا حمزہ لکھنے کے طریقے جو ہیں ان پہ پورا ایک لیکچر جو ہے وہ ریکارڈ کروایا جا سکتا ہے
[20:12]لیکن اس وقت وہ ہمارا موضوع نہیں ہے حمزہ کو واؤ کے اوپر لکھا جاتا ہے کبھی حمزہ کو یا کے اوپر لکھا جاتا ہے
[20:25]اور کبھی حمزہ کو الگ سے حمزہ کے طور پر بھی لکھا جاتا ہے تو یہ حمزہ کی کتابت کے قواعد ہیں جو اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے
[20:41]آپ کو سمجھانا مقصود یہ تھا کہ حمزہ آپ کو مصحف میں لکھا ہوا نظر آ جائے حمزہ کی شکل میں ہی تو وہ تو آپ پہچان لیں گے کہ حمزہ ہے
[20:50]لیکن جس الف پر آپ کو کوئی حرکت نظر آئے یا وہ الف آپ کو ساکن نظر آئے تو اس الف کو بھی آپ نے حمزہ ہی کنسیڈر کرنا ہے
[21:06]یہ بات اچھی طرح سے ذہن میں رکھیے گا یہ جو الفاظ ابھی آپ نے دیکھے ہیں ان میں ایک لفظ جو سواء آپ کو نظر آیا ہے
[21:11]اس لفظ کے آخر میں آپ کو ڈبل پیش جو ہے وہ بھی نظر آ رہی ہے تو میں یہ بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ عربی زبان میں یہ جو ڈبل حرکت ہے
[21:28]چاہے وہ ڈبل زبر ہو ڈبل زیر ہو یا ڈبل پیش ہو یہ تنوین کہلاتی ہے اب یہ ڈبل حرکت لکھنے کا اسٹائل بھی
[21:40]پاکستان کے اور سعودیہ کے مصحف میں فرق ہے جیسے آپ دیکھیں ڈبل پیش میں آپ کو دکھاتا ہوں پاکستان کے مصحف میں عذاب عظیم میں آپ دیکھیں عذاب کے آخر میں بھی ڈبل پیش ہے
[21:50]اور عظیم کے آخر میں بھی ڈبل پیش ہے اور ڈبل پیش کو اس طرح ہی لکھا جاتا ہے لیکن سعودیہ کے مصحف میں عذاب عظیم میں دیکھیں پہلا جو عذاب کے آخر میں ڈبل پیش ہے اس کو اور طریقے سے لکھا گیا
[22:00]اور عظیم کے آخر میں جو ڈبل پیش ہے اس کو اور طریقے سے لکھا گیا ہے تو یہ بھی فرق آپ نے نوٹ کرنا ہے ڈبل زبر جو ہے پاکستان کے مصحف میں آپ دیکھیں مرضا لفظ پہ آپ کو نظر آ رہی ہے
[22:13]اور سعودیہ کے مصحف میں مرضا میں ڈبل زبر جو ہے وہ آپ کو دو زبریں جو ہیں وہ تھوڑی سی ایک دوسرے سے اوپر نیچے کر کے لکھی گئی ہیں اور کبھی جو ہے یہ
[22:25]سعودیہ کے مصحف میں بالکل اسی طرح لکھی جاتی ہیں جیسے پاکستان کے مصحف میں لکھی جاتی ہیں جیسے رغدا لفظ کو دیکھیں یہاں پر اب دونوں زبریں جو ہیں وہ بالکل برابر لکھی گئی ہیں
[22:36]اسی طرح ظلمت میں دو زیریں آپ کو نظر آ رہی ہیں پاکستان کے مصحف میں اور سعودیہ کے مصحف میں بھی ظلمت میں دو زیریں نظر آ رہی ہیں لیکن وہ دونوں زیریں جو ہیں تھوڑی سی اوپر نیچے کر کے لکھی گئی ہیں
[22:49]لیکن یہ دونوں زیریں جو ہیں سعودیہ کے مصحف میں کبھی بالکل برابر بھی لکھی جاتی ہیں تو یہ اصل میں الگ سے ایک ٹاپک ہے جو اس وقت ہمارا لسان القران کا موضوع نہیں ہے
[22:59]تو بتانا مقصود آپ کو صرف یہ تھا کہ قرآن مجید پڑھتے ہوئے آپ کو لفظ کے آخر میں ڈبل حرکت بھی نظر آ جائے گی اور ڈبل حرکت جو ہے یہ تنوین کہلاتی ہے
[23:10]ایک سوال آپ کے ذہن میں اور پیدا ہو گا کہ لسان القران جو لکھا ہوا ہے اسکرین پہ آپ کو اس وقت نظر بھی آ رہا ہے اس میں جو لسان کے بعد دوسرا لفظ ہے قرآن
[23:22]اس میں الف کے اوپر ایک کھڑی زبر سی نظر آ رہی ہے آپ کو یعنی الف کے اوپر ایک چھوٹا سا الف نظر آ رہا ہے یہ کیا ہے تو یہ بھی میں آپ کو بتاتا چلوں
[23:31]کہ بنیادی حرکتیں عربی زبان میں تین ہی ہیں زیر زبر اور پیش آپ کو مصحف میں پاکستان کے مصحف کی بات کر رہا ہوں کہیں پر کھڑی زبر نظر آئے
[23:42]کہیں پر کھڑی زیر نظر آئے یا کہیں پر الٹی پیش نظر آئے اور آپ کو وہ کثرت سے نظر آئیں گی پاکستان کے مصحف میں
[23:50]لیکن سعودیہ کے مصحف میں نہ آپ کو کھڑی زبر نظر آئے گی نہ کھڑی زیر نظر آئے گی نہ الٹی پیش نظر آئے گی
[23:58]آپ کو پاکستان کے پرنٹڈ مصحف میں جب بھی کھڑی زبر نظر آئے تو کھڑی زبر ایکول ٹو زبر پلس الف تو یہ کوئی الگ سے حرکت نہیں ہے ذہن میں رکھیے گا
[24:08]کھڑی زبر جو ہے یہ زبر اور الف کا مجموعہ ہے اور اس کو زبر کی نسبت لمبا پڑھا جاتا ہے
[24:16]کھڑی زیر الگ سے کوئی حرکت نہیں ہے یہ اصل میں زیر اور یا کا مجموعہ ہے اور اسے زیر سے ذرا زیادہ لمبا پڑھا جاتا ہے
[24:28]الٹی پیش کوئی الگ سے حرکت نہیں ہے یہ اصل میں پیش اور واؤ کا مجموعہ ہے اور اسے پیش حرکت کی نسبت زیادہ لمبا پڑھا جاتا ہے
[24:40]تو پاکستان کے پرنٹڈ مصحف میں آپ کو کھڑی زبر بھی نظر آئے گی کھڑی زیر بھی نظر آئے گی الٹی پیش بھی نظر آئے گی لیکن سعودیہ کے مصحف میں جہاں بھی کھڑی زبر انہوں نے ڈالنی ہوگی
[24:55]وہ وہاں پر زبر اور الف ہی ڈالیں گے کھڑی زیر جہاں انہوں نے ڈالنی ہوگی وہاں پر وہ زیر اور بڑی ی ڈالیں گے
[25:02]جہاں انہوں نے الٹی پیش ڈالنی ہوگی وہاں پر وہ پیش اور واؤ ہی ڈالیں گے تو یہ فرق بھی میں نے آپ کے سامنے ذکر کر دیا
[25:12]تو کھڑی زبر الگ سے کوئی حرکت نہیں ہے کھڑی زیر الگ سے کوئی حرکت نہیں ہے الٹی پیش الگ سے کوئی حرکت نہیں ہے تفصیل میں نے آپ کو بتا دی ہے
[25:21]پھر ایک سوال آپ کے ذہن میں اور پیدا ہو رہا ہوگا اور وہ یہ ہے کہ یہ جو دعا لکھی ہوئی ہے رب یسر ولا تعسر وتم بالخیر اس میں با پر شد کی علامت بھی ڈلی ہوئی ہے
[25:33]یسرمیں سین پر شد کی علامت ڈلی ہوئی ہے تو اسرمیں بھی سین پر شد کی علامت ڈلی ہوئی ہے اور تمم میں میم جو ہے وہ بھی اسی طرح ہیں کہ دو مرتبہ میم ہے
[25:40]پہلی مرتبہ ساکن میم اور دوسری مرتبہ زیر والا میم تو الحمدللہ جی اس وقت بورڈ پہ جو کچھ آپ کے سامنے لکھا ہوا تھا وہ میں نے ذکر کر دیا
[28:09]لسان القران کورس اس کا آغاز اس کورس کا مطلب پھر رب سے دعا دعا کا ترجمہ بھی آپ کے سامنے ذکر کرتا چلوں
[28:19]کہ ربی اے میرے رب اب دیکھیے کہ لفظ ایک لکھا ہوا ہے آپ کے سامنے لیکن ترجمہ میں تین الفاظ میں کر رہا ہوں اے میرے رب یہاں پر نہ آپ کو اے نظر آ رہا ہے
[28:30]نہ میرے کے لیے کوئی لفظ نظر آ رہا ہے صرف رب نظر آ رہا ہے تو انشاء اللہ تعالی اسی کورس میں آپ ایک لیکچر میں اس قابل ہوں گے کہ آپ پہچانیں گے کہ اے کہاں ہے اور میرے کہاں ہے
[28:44]تو ربی اے میرے رب یسر تو آسان کر دے ولا تعسر اور مشکل مت فرما وتم بالخیر اور خیر کے ساتھ مکمل فرما
[28:57]تو الحمدللہ جی ہم نے دعا کے ساتھ لسان القران کورس کا آغاز کر دیا ہے میں نے بہت تفصیل کے ساتھ آپ کو حروف الحجا کے بارے میں بتا دیا ہے
[29:06]حرکات کے بارے میں بتا دیا ہے اور مزید کچھ علامات کے بارے میں بتایا ہے اور انشاء اللہ تعالی دوسرے لیکچر میں ہم یہیں سے گفتگو کو آگے بڑھائیں گے
[29:19]اجازت چاہوں گا سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک



