Thumbnail for Gharoor Ka Anjaam | Mulla Nasruddin Ka Zabardast Qissa | Islamic Moral Story In Urdu Hindi | Urdu | by Ibrat Ke Qissey

Gharoor Ka Anjaam | Mulla Nasruddin Ka Zabardast Qissa | Islamic Moral Story In Urdu Hindi | Urdu |

Ibrat Ke Qissey

9m 39s1,777 words~9 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]بہت پرانی بات ہے ایک دور دراز کے ملک سے ایک شخص سلطنت روم میں آیا۔ وہ شخص اپنے اپ کو دنیا کا سب سے بڑا عقل مند اور عالم سمجھتا تھا۔ اس کا تکبر اتنا زیادہ تھا کہ وہ ہر شہر جا کر وہاں کے سب سے بڑے عقل مند کو ہرانے کا دعوی کرتا۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا میں ایسا کوئی سوال نہیں بنا جس کا جواب اس کے پاس نہ ہو اور ایسا کوئی شخص نہیں جو اس کی عقل کا مقابلہ کر سکے۔ ایک دن وہ شخص اس شہر کے دربار میں پہنچا جہاں ملا نصیرالدین رہتے تھے۔ اس نے بھری محفل میں بادشاہ کے سامنے اعلان کیا میں نے پوری دنیا کی سیر کی ہے۔ بڑے بڑے علماء کو ہرا چکا ہوں۔ اج میں یہاں کے سب سے بڑے عقل مند کو للکارتا ہوں۔ میرے پاس تین ایسے سوال ہیں جن کا جواب اگر کسی نے دے دیا۔ تو میں اپنی ساری دولت اسے دے دوں گا اور ہمیشہ کے لیے اس ملک کا غلام بن جاؤں گا۔ لیکن اگر کوئی جواب نہ دے سکا تو سب کو یہ ماننا پڑے گا کہ مجھ سے بڑا کوئی عقل مند نہیں بادشاہ پہلے تو تھوڑا پریشان ہوا۔ کیونکہ وہ شخص واقعی بہت بڑا عالم لگ رہا تھا۔ بادشاہ نے شہر کے سب سے بڑے قاضی اور علماء کو بلوایا۔ مگر اس شخص نے سوال ہی ایسے پوچھے کہ سب کی عقل دنگ رہ گئی کوئی بھی اس کے سوالوں کا جواب دینے کی ہمت نہ کر سکا دربار میں خاموشی چھا گئی اور بادشاہ کی ناک کٹنے کا وقت آ گیا۔ اچانک بادشاہ کو ملا نصیرالدین کا خیال ایا اس نے فورا حکم دیا نصیرالدین کو عزت و احترام کے ساتھ دربار میں پیش کیا جائے صرف وہی اس مغرور عالم کا غرور مٹی میں ملا سکتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ملا نصیرالدین اپنے پرانے اور وفادار گدھے پر سوار سر پر ایک بڑی سی پگڑی باندھے دربار میں داخل ہوئے۔ ان کا انداز ہمیشہ کی طرح سادہ اور بے فکر تھا۔ انہوں نے بادشاہ کو سلام کیا اور پوچھا جہاں پناہ اج اس غریب ملا کی کیا خدمت ہے بادشاہ نے سارا قصہ سنایا اور اس مغرور شخص کی طرف اشارہ کیا ملا نے اس شخص کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولے ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔ پوچھھیے اپنے سوال لیکن یاد رکھیے گا اگر میرے جواب نے اپ کی عقل کو تھکا دیا تو پھر اپ کو اپنی شکست تسلیم کرنی ہوگی۔ وہ مغرور شخص ملا کی سادگی دیکھ کر اندر ہی اندر ہنسنے لگا۔ اس نے سوچا کہ یہ دیہاتی ملا میرے سوالوں کا بوجھ کیسے اٹھائے گا۔ اس نے اپنا پہلا سوال پوچھنے کی تیاری کی جبکہ پورا دربار سانس روکے ملا نصیرالدین کی طرف دیکھ رہا تھا۔ نصیرالدین بڑے ارام سے اپنے گدھے کے پاس کھڑے ہو گئے اور بولے بھائی وقت جایا نہ کرو پہلا سوال کرو دربار میں موجود ہر شخص کی نظریں اب اس مغرور عالم پر جمی تھیں۔ اس نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ملا نصیرالدین کی طرف دیکھا اور اپنا پہلا سوال داغا اے ملا تم خود کو بڑا دانا سمجھتے ہو تو بتاؤ اس پوری زمین کا وہاں کون سا نقطہ ہے جہاں سے یہ زمین شروع ہوتی ہے اور وہیں پر اس کا بیچ کا حصہ ہے سوال سن کر دربار میں موجود بڑے بڑے علماء ایک دوسرے کا منہ تاکنے لگے۔ یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب دینے کے لیے بڑی بڑی کتابیں اور نقشے درکار تھے۔ سب کا خیال تھا کہ ملا اب بری طرح پھنس جائیں گے کیونکہ زمین کی پیمائش کرنا کسی انسان کے بس میں نہ تھا۔ ملا نصیرالدین نے ایک لمحے کے لیے بھی سوچنے میں وقت جایا نہیں کیا۔ انہوں نے بڑی سنجیدگی سے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لاٹھی اٹھائی اور اپنے گدھے کے پچھلے بائیں پاؤں کے عین نیچے زمین پر گاڑ دی۔ پھر وہ اس عالم کی طرف مڑے اور بڑے اعتماد سے بولے جناب زمین کا مرکز بالکل یہی جگہ ہے جہاں میرے گدھے کا یہ پیر رکھا ہوا ہے۔ اگر اپ کو میری بات پر یقین نہیں ایا تو پیتا اٹھائیے اور ابھی پوری زمین کو دونوں طرف سے ناپ کر دیکھ لیجئے۔ اگر ایک انچ کا بھی فرق نکلا تو میں اپنی ہار مان لوں گا۔ وہ عالم حقہ بقا رہ گیا۔ اس نے غصے سے کہا یہ کیا مذاق ہے ملا میں بھلا اس پوری زمین کو کیسے ناپ سکتا ہوں ملا نصیرالدین نے اطمینان سے جواب دیا۔ اگر اپ کے پاس زمین ناپنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے تو اپ یہ دعوی کیسے کر سکتے ہیں کہ میرا جواب غلط ہے اپ نے سوال پوچھا میں نے جواب دے دیا۔ اب اسے غلط ثابت کرنا اپ کا کام ہے پورا دربار میں واہ واہ کا شور مچ گیا۔ بادشاہ بھی ملا کی اس حاضر جوابی پر مسکرائے بنا نہ رہ سکے پہلے سوال کا منہ توڑ جواب سن کر وہ مغرور عالم تھوڑا تل ملا گیا تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید پہلا جواب ملا نے تکے میں دے دیا ہے لیکن اگلا سوال اتنا مشکل ہوگا کہ ملا کی عقل ٹھکانے ا جائے گی۔ دربار میں خاموشی چھا گئی تھی۔ سب لوگ اگلے سوال کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ شخص تھوڑا اگے بڑھا اور اسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ٹھیک ہے ملا تم نے زمین کا مرکز تو بتا دیا۔ لیکن اب میرے دوسرے سوال کا جواب دو۔ اگر تم واقعی دنیا کے سب سے بڑے عقل مند ہو تو یہ بتاؤ کہ اس وقت اسمان میں کل کتنے ستارے ہیں یاد رکھنا جواب بالکل صحیح ہونا چاہیے۔ یہاں سوال سنتے ہی دربار میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ لوگ کہنے لگے یہ کیسا عجیب سوال ہے بھلا انسان کے ستاروں کو کس نے گنا ہے بادشاہ بھی تھوڑا فکرمند نظر انے لگا کیونکہ یہ واقعی ایک ناممکن سوال تھا۔ ملا نصیرالدین نے اسمان کی طرف دیکھا پھر تھوڑی دیر خاموش رہے جیسے کوئی گہری حساب کتاب کر رہے ہوں۔ پھر انہوں نے اپنے گدھے کی طرف دیکھا اور نہایت سنجیدگی سے بولے میرے عزیز دوست یہ تو میرے لیے بچوں کا کھیل ہے۔ میرے گدھے کی دم میں بالکل اتنے ہی بال ہیں۔ نہ ایک کم نہ ایک زیادہ وہ عالم یہ سن کر اگ ببولہ ہو گیا اس نے چلا کر کہا ملا یہ تم کیسی بے ہودہ بات کر رہے ہو بھلا گدھے کے بالوں کا اسمان کے ستاروں سے کیا مقابلہ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تمہارا جواب صحیح ہے ملا نصیرالدین نے اطمینان سے جواب دیا۔ جناب ثبوت تو بالکل واجب ہے۔ اگر اپ کو میری بات پر شک ہے تو اپ گدھے کے بال گننا شروع کریں اور میں اسمان کے ستارے گنتا ہوں۔ اگر گننے کے بعد ایک بھی بال ستاروں سے کم یا زیادہ نکلا تو میں اپنی شکست تسلیم کر لوں گا۔ کیوں ہے نا منصفانہ سودا پورا دربار کہکاہوں سے گونج اٹھا۔ وہ مغرور شخص شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ اسے پتہ تھا کہ نہ وہ اسمان کے ستارے گن سکتا ہے اور نہ ہی گدھے کے بال ملا نے اس کی اپنی ہی چالاکی کو اس کے خلاف استعمال کر لیا تھا بادشاہ نے خوش ہو کر ملا کو شاباشی دی۔ اب وہ شخص غصے اور شرمندگی کی اخری حد پر تھا۔ اس نے طے کر لیا کہ وہ تیسرا اور اخری سوال ایسا پوچھے گا جس کا کوئی منطقی جواب ہی نہ ہو سکے۔ وہ ملا کے قریب ایا اور اپنی مٹھی بند کرتے ہوئے بولا ملا دو سوالوں نے تمہیں مغرور کر دیا ہے لیکن اب تیسرا سوال تمہاری عقل کا ڈھیر کر دے گا۔ ملا تم نے زمین اور اسمان کی باتیں تو کر لیں لیکن اب میرے اس سوال کا جواب دو جو تمہارے بالکل سامنے ہے۔ اگر تم واقعی عقلمند ہو تو بتاؤ کہ تمہارے اس گدھے کی دم میں کل کتنے بال ہیں۔ دربار میں سناٹا چھا گیا۔ سب نے سوچا کہ اب ملا کیا کہیں گے۔ لیکن ملا نصیرالدین کے چہرے پر وہی پرسکون مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے بلا تاخیر جواب دیا۔ میرے دوست یہ تو میرے لیے بچوں کا کھیل ہے۔ میرے گدھے کی دم میں بالکل اتنے ہی بال ہیں جتنے تمہاری اس لمبی سی داڑھی میں ہے۔ نہ ایک بال کم نہ ایک بال زیادہ وہ شخص حیرت سے چیخا ملا تم یہ کیسے ثابت کر سکتے ہو یہ تو سراسر مذاق ہے۔ ملا نے نہایت سنجیدگی سے اس کی داڑھی کی طرف ہاتھ بڑھایا اور بولے ثابت کرنا تو بہت اسان ہے۔ ائیے ایک بال اپ کی داڑھی سے اکھاڑتے ہیں اور ایک بال میرے گدھے کی دم سے ہم تب تک یہ سلسلہ جاری رکھیں گے جب تک دونوں جگہ بال ختم نہ ہو جائیں۔ اگر اخر میں دونوں برابر نکلے تو میرا جواب صحیح ثابت ہو جائے گا۔ ملا کا یہ جواب سنتے ہی وہ مغرور عالم تھر تھر کانپنے لگا۔ اسے اپنی قیمتی داڑھی کے بال اکھڑنے کا خیال ہی دہشت زدہ کر گیا۔ پورا دربار کہکاہوں سے گونج اٹھا۔ بادشاہ نے خوش ہو کر ملا کو انعام دینے کا اعلان کیا۔ وہ شخص اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے سر جھکا کر دربار سے خاموشی سے نکل گیا۔ ملا نے ایک بار پھر اپنی حکمت سے سلطنت کی لاج رکھ لی تھی۔ جب وہ مغرور شخص دربار سے ذلیل ہو کر نکل گیا تو پورا دربار ملا نصیرالدین کے نعروں سے گونج اٹھا۔ بادشاہ اپنی تخت سے اٹھا اور ملا کے پاس ا کر ان کا ہاتھ تھاما۔ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا ملا اپ نے اس شخص کو ایسے لاجواب کیا کہ وہ اپنی ساری دانائی بھول گیا کیا واقعی اپ کو ان سب چیزوں کا صحیح حساب معلوم تھا؟ ملا نصیرالدین نے نہایت سادگی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ جہاں پناہ علم اور حکمت کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا یا مشکل سوال پوچھنا نہیں ہوتا۔ وہ شخص علم کے نشے میں اتنا اندھا ہو چکا تھا کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ عقل صرف کتابوں میں ہوتی ہے۔ میں نے صرف اس کی اپنی ہی منطق کو اس کے خلاف استعمال کیا تاکہ اسے احساس ہو کہ انسان کی عقل کی ایک حد ہوتی ہے۔ بادشاہ ملا کی اس گہری بات پر دنگ رہ گیا۔ انہوں نے ملا کو سونے کی اشرفیاں اور ایک قیمتی خلعت انعام میں دی۔ ملا نے وہ انعام لیا۔ اپنے پرانے گدھے پر سوار ہوئے اور اپنی بستی کی طرف نکل گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ پورے شہر میں یہ بات پھیل گئی کہ اصلی عقل مند وہ نہیں جو سوال اٹھائے بلکہ وہ ہے جو الجھنوں کو سلجھائے۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اصلی عالم وہ ہے جس کے علم میں عاجزی نہ کہ وہ جو دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript