Thumbnail for Quran se Hamara Taaluq | Quran Ki Ahmiyat Aur Fazilat | Islah e Aamaal | Abdul Habib Attari by Abdul Habib Attari

Quran se Hamara Taaluq | Quran Ki Ahmiyat Aur Fazilat | Islah e Aamaal | Abdul Habib Attari

Abdul Habib Attari

33m 17s6,384 words~32 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
[0:11]Section 1

الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھئے الصلوۃ والسلام ع...

[6:18]Section 2

تم کیا تم نے ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے یہ کفار مکہ تمہارے خلاف ہیں تو نجاشی بادشاہ سے صحابہ نے کہا ہم اپ کو قران پڑھ کر سناتے ہیں ہم اللہ...

[8:11]Section 3

اللہ فرماتا ہے جب یہ سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف نازل کیا گیا تو تم دیکھو گے کہ ان کی انکھیں انسو سے ابل پڑتی ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان...

[16:22]Section 4

حال یہ تھا کہ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا قتل و غارت گری سے پوری دنیا اندھیر تھی اور اب نبی پاک تشریف لائے اور اجالا پھیلانا...

[24:33]Section 5

کیا کمال کا میسج ہے کون سی چیز خرچ کرنی ہے پیاری چیز ہم کون سی خرچ کرتے ہیں گھٹیا چیز جو نئی چاہیے وہ اللہ کی راہ میں دینا ہے ہمارا تو عج...

[32:20]Section 6

یاد رکھو وہ دل ویران ہے جس میں کچھ قران نہیں ہے اللہ کرے کہ اج کا یہ اجتماع کنری میں انے والے عاشقان رسول کے دلوں میں یہ فکر پیدا کر دے ک...

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:11]الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھئے الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلی الک واصحابک یا حبیب اللہ الصلوۃ والسلام علیک یا نبی اللہ وعلی الک واصحابک یا نور اللہ درود پاک پڑھنے کے بے شمار فضائل و برکات ہیں بہت ساری فضیلتیں درود پاک کے ابواب میں ملتی ہیں ایک وہ صحابی کہ جو ون آف دا بگیسٹ بزنس مین اس زمانے کے بہت بڑے تاجر بھی تھے اور عشرہ مبشرہ میں سے بھی تھے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ وہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے گھر سے باہر ایک باغ کی طرف تشریف لے گئے کہتے ہیں میں بھی پیارے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے پیچھے جانے لگا وہاں جا کر دیکھا کہ نبی پاک نے قبلہ رخ اپنا رخ کیا اور اپ سجدے میں چلے گئے اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں اللہ کریم نے نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی روح مبارکہ کہیں سجدے ہی میں تو نہیں قبض فرما لی اقا دنیا سے تشریف تو نہیں لے گئے کافی لمبے سجدے کے بعد نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے جب سر مبارک اٹھایا تو اقا علیہ الصلوۃ والسلام کو یقینا احساس ہوا کہ کوئی ساتھ ہے فرمایا کون ہے کہا حضور عبدالرحمن کہا کیا کام ہے کہا حضور اپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ میں تو سمجھا بلکہ مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں کہیں سجدے میں ہی اپ کی روح مبارکہ قبض نہ فرما لی گئی ہو تو نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا خوب جواب ارشاد فرمایا فرماتے ہیں جبرائیل امین میرے پاس ائے تھے اور انہوں نے مجھے خوشخبری دی کہ اے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اللہ فرماتا ہے جو اپ پر درود پڑھے گا میں اس پر رحمتیں نازل فرماؤں گا جو اپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی اتاروں گا اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے میں نے اتنا طویل سجدہ کیا ہے اللہ اکبر ذرا سوچیں ہم درود پڑھیں اقا پر اللہ فرماتا ہے میں اس پر رحمتیں نازل فرماؤں گا جو سلام بھیجے اللہ اس پر سلامتی نازل فرمائے گا مگر ایک اور عشق والی بات سمجھنی یہ ہے درود ہم پڑھیں رحمتیں ہم پر برسیں گی سلام ہم پڑھیں سلامتی ہم پر برسے گی مگر سجدہ کون کر رہا ہے شکرانہ کون ادا کر رہا ہے نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام ادا کر رہے ہیں اس کا مطلب انہیں ہم غلاموں سے کتنا پیار ہے کہ ہم پر رحمت نازل ہو ہم پر سلامتی نازل ہوگی اتنا بڑا انعام رب نے دے دیا اس خوشی میں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اتنا طویل سجدہ ادا کیا تو اے پیارے اسلامی بھائیوں اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں کہ درود و سلام کی برکت کتنی ہے اج فضول باتوں میں گھنٹوں لوگ ضائع کرتے ہیں تو اپنا وقت ضائع نہ کریں فضول باتوں میں بلکہ درود و سلام پڑھتے رہا کریں اور دوسرا پیارے آقا علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کتنا محبت فرماتے ہیں نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام کتنے مہربان ہیں تو جو اتنے مہربان اقا ہوں انہیں ناراض نہیں کیا جاتا ان کی سنتوں پر عمل کیا جاتا ہے ان کی باتوں پر فالو کیا جاتا ہے تو اللہ کرے کہ ہم ایسی زندگی گزاریں کہ سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہم سے راضی ہوں اور ہم ان کی برکتیں حاصل کر سکیں ائیے محبت کے ساتھ با اواز بلند درود پاک پڑھ لیں صلو علی الحبیب صلی اللہ تعالی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اج جس موضوع پر چند مدنی پھول میں نے پیش کرنے ہیں ہمارے صحابہ ہمارے اسلاف ہمارے بزرگان دین اللہ کے مبارک کلام قران پاک سے کتنے اٹیچ تھے ان کا دل کیسا قران میں لگتا تھا وہ قران کو سمجھتے کتنا تھے اور پھر اس کی تلاوت کیسے کرتے تھے اور اج کے اس دور میں ہمارا قران پاک سے تعلق کیسا ہے اس بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کریں گے پیارے آقا علیہ الصلوۃ والسلام جب اعلان نبوت فرمایا تو ہر طرف سے ظلم و ستم کی اندھیاں بڑھنے لگیں مسلمانوں کو جینا مشکل کر دیا گیا جو اسلام لاتا اس کو مارنا شروع کر دیتے ذرا سوچیں ہم مسلمان ہیں اور اج اجتماع کر رہے ہیں میں کوئی پرابلم نہیں اللہ رسول کا نام لینے پر مگر ایک وقت وہ تھا جب رب کا نام لینے پر مارا جاتا تھا جب کلمہ پڑھنے پر لہو لہان کر دیا جاتا تھا تو اس مشکل دور میں نبی پاک نے صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرمائی حبشہ کہاں ہے اج کے دور میں حبشہ دنیا کے نقشے پہ دیکھیں تو حبشہ نام کا کوئی ملک تو نظر نہیں اتا تو ایکچولی جو حبشہ ہے وہ ایتھوپیا ہے ایتھوپیا جو ہے وہ اس زمانے میں حبشہ تھا جو افریقہ کا ملک ہے اور مسلمانوں نے جو سب سے پہلی ہجرت کی تھی وہ حبشہ کی جانب کی تھی اور حبشہ ہی وہی جگہ ہے کہ جہاں سے حضرت بلال حبشی بھی ائے تھے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں وہ نجاشی بادشاہ بھی تھا اچھا اب ہوا یہ کہ جب حبشہ میں نجاشی بادشاہ کی حکومت تھی اور نجاشی جو بادشاہ تھا رحمتہ اللہ تعالی علیہ اس نے صحابہ کرام کو اپنے دربار میں بلایا اور وہاں ہوا یہ کہ جب صحابہ پہنچ گئے نا تو ان کفار مکہ کو چین نہیں ا رہا تھا کہ یہ ہمارے چنگل سے نکل گئے ہم تو ان کو مارنا چاہتے تھے یہ افریقہ پہنچ گئے تو وہ ظالم وہ بھی افریقہ پہنچے وہ بھی حبشہ پہنچے اور نجاشی بادشاہ سے کہتے ہیں کہ ہمارے کچھ مہمان ہمارے کچھ مجرم تمہارے پاس اگئے ہیں بھاگ کر اگئے ہیں واپس کرو تو نجاشی بادشاہ نے کہا اچھا ایسا ہے تو مسلمانوں کو بھی بلایا اب اسی دربار میں کفار مکہ بھی موجود ہیں دشمنان اسلام بھی موجود ہیں اور نجاشی بادشاہ بھی موجود ہے اب مسلمان اگئے اب نجاشی بادشاہ نے کہا کہ تمہارا پیغام کیا ہے

[6:18]تم کیا تم نے ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے یہ کفار مکہ تمہارے خلاف ہیں تو نجاشی بادشاہ سے صحابہ نے کہا ہم اپ کو قران پڑھ کر سناتے ہیں ہم اللہ کا کلام اپ کو پڑھ کر سناتے ہیں چنانچہ حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ نے نجاشی بادشاہ کے سامنے سورہ مریم کی تلاوت فرمائی اور کیا کمال کی صورت اپ نے چوز کی کیونکہ وہ اس وقت عیسائی تھا وہ عیسائی مذہب کو ماننے والے تھے تو حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے اور کیا اسلام کی تعلیمات ہیں وہ حضرت جعفر نے ان کے سامنے تلاوت کی جیسے ہی اپ نے تلاوت کی وہ پرفوس تلاوت تاثیر کا تیر بن کر نجاشی بادشاہ کے دل میں اتر گئی اپ تلاوت کرتے جاتے تھے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتا جا رہا تھا اور اس نے یہ جملہ کہا کہ قران اور جو انجیل ہے یہ ایک ہی نور کے دو چراغ ہیں ایک ہی نور کی ہدایت ہے اور یہ ہمیں وہی رب کی طرف بلانے والے کلام ہیں اس واقعے کے بعد نجاشی بادشاہ نے اپنا ایک وقت بھیجا نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں اس وقت میں 70 افراد تھے یہ لوگ جب نبی پاک کے پاس پہنچے تو اب سرور کائنات علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے سامنے یاسین شریف کی تلاوت شروع کر دی اور جب انہوں نے یاسین شریف سنی تو اللہ کا پاکیزہ کلام سن کر یہ سارے لوگ بھی زار و قطار رونے لگے یعنی پہلے کے لوگ قران سنتے تھے قران ان کے دل پر اثر بھی کرتا تھا اور ان کی انکھوں سے انسو بھی روانہ ہوتے تھے جب یہ لوگ رونے لگے نا تو ان کی شان میں قران کی ایت نازل ہوئی اللہ قران میں فرماتا ہے

[8:11]اللہ فرماتا ہے جب یہ سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف نازل کیا گیا تو تم دیکھو گے کہ ان کی انکھیں انسو سے ابل پڑتی ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے پس تو ہمیں حق کے گواہوں کے ساتھ لکھ دے یعنی کیسے لوگ تھے کہ جب قران سنتے تھے تو ان کی انکھوں سے انسو نکلتے تھے یاد رہے کہ تلاوت قران پڑھنا کرنا اور اس وقت انسو بہانا یہ سعادت مندوں کا طریقہ ہے اللہ کریم قران مجید میں ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابها مثانی تکشعر منه جلود الذین یخشون ربهم ثم تلین جلودهم وقلوبهم الی ذکر اللہ اللہ قران میں فرماتا ہے اللہ نے سب سے اچھی کتاب اتاری کہ ساری ایک جیسی ہے بار بار دہرائی جاتی ہے اس سے ان لوگوں کے بدن پر بال کھڑے ہو جاتے ہیں ان لوگوں کے بدن پر بال کھڑے ہوتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کی یاد کی طرف نرم پڑ جاتے ہیں حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں صحابہ کرام کی حالت یہ تھی کہ جب ان کے سامنے قران تلاوت کیا جاتا تو ان کی انکھوں سے انسو جاری ہو جاتے ان کے رونگٹے کھڑے ہو جایا کرتے تھے یہ ہے قران سننے کا صحیح طریقہ یہ ہے قران سے محبت کا انداز کہ انکھوں سے انسو بہیں اور جسم پر ایک کیفیت طاری ہو جائے کیونکہ ایکچولی کبھی سمجھا اپ نے کہ تلاوت یہ قران ہے کیا یہ کس کا کلام ہے مولا علی شیر خدا کرم اللہ تعالی وجہ الکریم سے پوچھے کہ قران کیا ہے وہ کہتے ہیں جب میرا جی چاہتا ہے کہ اللہ مجھ سے بات کرے اللہ مجھ سے کلام کرے تو میں تلاوت کرنا شروع کر دیتا ہوں قران کلام اللہ ہے نا اور جب میرا جی چاہتا ہے میں رب سے بات کروں میں دعا کرنا شروع کر دیتا ہوں ذرا سوچو اللہ سے بات کرنا کتنا اسان ہے اج دنیا والوں سے بات کرنا اسان نہیں ہے کسی بہت بڑے ادمی وڈیرے سائیں منسٹر بزنس مین سے ملنا ہو تو ٹائم لینا پڑتا ہے اپوائنٹمنٹ لینا پڑتا ہے مگر اگر اللہ سے بات کرنی ہے تلاوت کرو اللہ تم سے بات کر رہا ہے دعا کرو تم رب سے بات کر رہے ہو مگر اس کے لیے ٹائم ہی نہیں ہے کسی کے پاس سب اس سے بات کرنے کا ٹائم ہے رب سے بات کرنے کا ٹائم نہیں ہے سب کے پاس جانا ہے مگر رب کے پاس نہیں جانا ہے قران پڑھنے کا شوق ہی نہیں ہے اول تو پہلے قران پڑھنا نہیں اتا ائے تو پھر اس کیفیت میں کہاں سے پڑھیں اور یہ کیفیت کب بنے گی جب قران کو ہم اچھے انداز سے پڑھنے والے بنیں گے اور نبی پاک خود بھی صحابہ کو ترغیب دیا کرتے کہ قران پڑھو تو سمجھو اور پھر اس پر انسو بھی بہاؤ ایک بار نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت جریر بن عبداللہ راوی ہیں کہتے ہیں نبی پاک نے صحابہ کرام کے سامنے فرمایا میں تمہارے سامنے سورہ تکاثر کی تلاوت کرتا ہوں کون سی سورت الحاکم التکاثر حتی زرتم المقابر صرف یہ دو ایتیں سمجھ لینا صرف دو ایتیں کاش یہ دو باتیں ہم سمجھ لیں کیا ہے ان دو ایتوں میں قران کہتا ہے الحاکم التکاثر تمہیں ہلاک کر دیا مال کی زیادہ طلبی نے اور تکاثر اور کثرت اور چاہیے اور چاہیے اینڈ اف دا ڈے ہوتا کیا ہے حتی زرتم المقابر یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا پلاننگ پانچ سال کی ہے دس سال کی ہے بیس سال کی ہے بس تھوڑا ٹائم کے بعد یہ کر لوں گا پھر یہ زمین بیچ کر یہ کر لوں گا پھر یہ کام کروں گا تو یہ فیکٹری کھول لوں گا اگلے 15 سال کی تمہاری پلاننگ ہے وہ پلاننگ ادھر ہی رہ گئی حتی زرتم المقابر تم نے قبروں کا منہ دیکھا اج ہم ٹریول کر رہے ہیں کوئی یہاں سے کراچی جا رہا ہے کوئی کہیں اور جا رہا ہے ہم کبھی نہیں سوچتے کہ ہو سکتا ہے یہ سفر اخری سفر ہو کیا روڈوں پہ ایکسیڈنٹ نہیں ہوتے ہمیں ایک منٹ پہلے پتہ نہیں ہوگا کہ ہم دنیا سے جانے والے ہیں حتی زرتم المقابر یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا اج کل موبائل کمپنیاں ہمیں میسج کرتی ہیں نا کہ اپ کا بیلنس ختم ہونے والا ہے ذرا بیلنس دلوا لیں ورنہ اپ کا اپ ڈیٹا یوز نہیں کر سکیں گے فون یوز نہیں کر سکیں گے مگر زندگی میں کوئی میسج نہیں ائے گا کہ جناب اج اخری دن ہے توبہ کر لیں تین دن رہ گئے ہیں قضا کر لیجئے اللہ کو راضی کر لیجئے ٹوڈے از لاسٹ ڈے اب صرف چھ گھنٹے رہ گئے ہیں اخری لمحات ہیں نو پتہ ہی نہیں ہوتا صبح بندہ گھر سے نکلتا ہے بعض اوقات تو گھر والوں کو کہہ کر جاتا ہے کہ یہ والا کھانا بنانا رات کو ا کے کھاؤں گا اور وہ والے کپڑے بھی استری کر کے رکھنا پھر دوستوں میں جانا ہے کپڑے بھی استری ہوتے ہیں کھانا بھی تیار ہوتا ہے بندہ نہیں اتا جنازہ اتا ہے اگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں سوچیے ہمیں یہ بات غور کرنی ہے کہ کبھی بھی ہم دنیا سے جا سکتے ہیں پیارے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا کہا صحابہ سے کہ میں تمہارے سامنے یہ صورت کی تلاوت کر رہا ہوں اور اقا فرما رہے ہیں کہ جو تم میں سے روئے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اب نبی پاک نے صحابہ کے سامنے سورہ تکاثر تلاوت کی حضرت جریر کہتے ہیں کچھ تو روئے کچھ نہیں رو سکے جو نہیں رو سکے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے رونے کی کوشش تو کی مگر رو نہیں سکے پیارے آقا نے فرمایا تمہیں تمہارے سامنے دوبارہ پڑھتا ہوں جو روئے گا اس کے لیے جنت ہے جو نہ رو سکے وہ رونے جیسی صورت ہی بنا لے دو باتیں پتہ چلی سمجھ کر قران پڑھنا قران کے پیغام کو انڈرسٹینڈ کرنا بینگ مسلم ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے کتنا ضروری ہے اور پھر دوسرا قران کے اس اثر کو دل میں اتارنا مگر یہاں تو حال یہ ہے کہ پورا پورا سال گزر جاتا ہے قران کو ہاتھ ہی نہیں لگاتے ہم نے تو قران کو سمجھا ہے کہ یہ یہ قران جو ہے یہ ہمارے لیے کتاب ہے اور یہ کتاب برکت کے لیے ہے یقینا قران برکت کے لیے بھی ہے مگر یہ قران صرف برکت کے لیے نہیں یہ کتاب برکت بھی ہے اور کتاب عمل بھی ہے ہم نے کیا کیا ہے قران کو کتاب برکت سمجھا ہے کوئی ایسی نئی دکان لیں گے فورا قران خوانی کروائیں گے قران لے کے جلدان میں بھی رکھ دیں گے جلدی بھائی ایک اچھا سا قران پاک اچھی پیکنگ میں لے کر اؤ کیونکہ نیا گھر لیا ہے اس میں رکھنا ہے اچھا اب کس لیے چاہیے وہ نئی دکان کے لیے اچھا اب کس لیے چاہیے وہ بچی کی شادی ہے نا تو اس کی رخصتی کے لیے سر پہ رکھنا ہے بس کیا یہی قران کا کام تھا افسوس یہ ہوتا ہے کہ برکت میں بھی اب پتہ ہے کیا کرتے ہیں جس کے گھر میں قران خوانی ہے نا پھر بھی اس نے قران نہیں پڑھنا ہے بچوں سے مدرسے کے بچوں سے قران پڑھانا ہے خود بریانی تیار کروا رہا ہوگا ارے بھائی تمہارے گھر میں قران خوانی خود تو پڑھ لو اپ کی دکان پر قران خوانی ہو رہی ہے کم از کم یہاں تو وہ بھی نہیں پڑھنا ہے اپ بتائیں اتنا دور قران سے رہ کر ہم کیسے کامیاب ہوں گے اللہ کے کلام سے دور رہنا اچھا نہیں ہے نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں وہ دل ویران ہے جس میں کچھ قران نہیں ہے اپنے اپ سے پوچھے کہ ہم کتنا قران سے اٹیچ ہیں کتنا پڑھتے ہیں قران اور کتنا سمجھتے ہیں ہمارے اسلاف قران کیسا پڑھتے تھے ائے ہائے اور کیسے اس سے برکتیں لوٹتے تھے قران پتہ ہے کیا ہے سنو اللہ سورہ ابراہیم ایت نمبر ایک میں فرماتا ہے کتاب انزلناہ الیک لتخرج الناس من الظلمات الی النور اللہ فرماتا ہے ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو اندھیروں سے اجالے میں لاؤ سرکار کو کیا فرما رہا ہے اللہ اے محبوب ہم نے کتاب اس لیے اتاری ہے کہ تم اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لاؤ اور اپ کو پتہ ہے اندھیرا کیسا تھا جب قران نازل ہوا ان لوگوں کا حال کیا تھا اللہ اکبر کیسے اندھیرے تھے عقائد کے اندھیرے تھے نظریات کے اندھیرے تھے اخلاق و کردار کے اندھیرے تھے کفر و شرک کا اندھیرا دنیا میں پھیلا ہوا تھا انسان جو اشرف المخلوقات ہے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہی ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں کو خدا ماننے لگ گیا تھا کوئی سورج کو سجدہ کرتا کوئی درختوں کو سجدہ کرتا کوئی جناب بے حیائی کتنی عام تھی کہ لوگ اپنی سگی ماں سے نکاح کو جائز قرار دیتے تھے استغفراللہ

[16:22]حال یہ تھا کہ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا قتل و غارت گری سے پوری دنیا اندھیر تھی اور اب نبی پاک تشریف لائے اور اجالا پھیلانا شروع کیا وہ لوگ جو جناب لوگوں کو قتل کرتے تھے اج لوگوں کے محافظ بن گئے وہ لوگ جو بیٹیوں کو دفن کرتے تھے وہ بیٹیوں کے محافظ بن گئے وہ لوگ جو عزتیں لوگوں کی اتار لیتے تھے اب عزتوں کے محافظ بنے نبی پاک نے قران پڑھ پڑھ کر صحابہ کرام کے دلوں میں ایسا نور داخل کیا کہ جو اسلام کے ماننے والوں کو قتل کرنے کے لیے اتے تھے اب اسلام کے لیے جان دینے والے بن گئے جو نبی پاک کو گرفتار کرنے اتے تھے اقا کا جلوہ جانا دیکھتے تلاوت قران سنتے خود نبی پاک کے عشق میں گرفتار ہو جاتے سرور کائنات نے نور پھیلانا شروع کیا قران کے نور سے دلوں کو منور کرنا شروع کیا سبحان اللہ اب پیارے اسلامی بھائیوں غور کیجئے اج کیا حال ہے وہ نور اس زمانے میں تو پیارے اقا نے پھیلایا کیسا پھیلایا ڈاکٹر اقبال کہتے ہیں نا وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا میرے اقا نے تو جس کو کہتے ہیں اندھیرے سے اجالا کر دیا مبارک ہو وہ شاہ پردے سے باہر انے والا ہے گدائی کو زمانہ جس کے در پر انے والا ہے سرور کائنات تو کیا ائے ہر طرف گویا نور پھیلنا شروع ہوا اپ سوچیں نا اس اندھیرے میں اس جاہل قوم میں تبلیغ کرنا کتنا مشکل تھا جو خون کے پیاسے تھے مگر جب یہ ایمان والے بنے اور نبی پاک کے ساتھی بنے تو وہ روشن ستارے بنے جس کے بارے میں نبی پاک فرماتے ہیں اصحاب کنجوم فبی ایہم اقتدیتم اہتدی تم میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ایک لاکھ 24 ہزار صحابہ کرام کا ایک لشکر میرے اقا اس امت کی رہنمائی کے لیے چھوڑ کر گئے اور ایسی تربیت فرمائی کہ اج دنیا کا کون سا کونا ہے جہاں مسلمان نہیں بتایا جاتا ہے دنیا میں 200 کروڑ کے قریب مسلمان ہیں یہ کیسے ہوا یہ وہ تربیت تھی نبی پاک کی یہ وہ نور تھا جو میرے اقا نے قران پڑھ پڑھ کر صحابہ کی تربیت کی صحابہ لے کر پوری دنیا میں گئے اولیاء کرام نے یہ پیغام لیا اور اگے بڑھے مگر اج ایسا لگتا ہے کہ قران سے دور ہو کر پھر ظلمتیں بڑھ رہی ہیں پھر اندھیرے بڑھ رہے ہیں پھر بدکاریاں بڑھ رہی ہیں پھر دین سے دوری بڑھ رہی ہے لوگ کہتے ہیں یار کفار بڑے اگے بڑھ گئے ہیں جس کو دیکھو یہی بات کرتا ہے دیکھو یار ترقی ان کی کتنی ہے ان کے پاس کتنی جناب جو ہے وہ ہر طرف سے ان کے پاس اسانیاں ہیں ایکچولی یہ ہماری بھول ہے ترقی کے سارے اسباب ہمارے پاس ہیں ہم اس کو بروئی کار ہی نہیں لا رہے ایک ایگزیمپل کے ذریعے کسی بندے کے پاس گاڑی ہو اور وہ اس کو 40 کی رفتار سے چلا رہا ہے اور ایک موٹر سائیکل والا برابر سے گزرے اور 80 کی رفتار سے نکل جائے تو کوئی یہ کہے گا کہ یار موٹر سائیکل والے تو اگے بڑھ گئے اس کے پاس زیادہ ترقی ہے ترقی تو اسی کے پاس تھی اس کو گاڑی چلانی نہیں ارہی یہ سپیڈ ہی نہیں دے رہا تو موٹر سائیکل والا اگے بڑھ گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ موٹر سائیکل والے کے پاس ترقی کے پاس چیزیں تھیں اس کے پاس تو موٹر سائیکل ہے تمہارے پاس گاڑی ہے اللہ کے بندو تمہیں رب نے قران دیا ہے مصطفی کریم کی سیرت دی ہے عمل ہم نہیں کر رہے اور دوش دے رہے کہ جناب وہ اگے بڑھ گئے جس دن عمل کرنا شروع کیا دنیا میں مثالی قوم مسلمان ہوں گے اور ایسا نہیں کہ پہلے نہیں ہوا نبی پاک کے دور میں ہوا سیدنا ابوبکر صدیق کے دور میں ہوا عمر فاروق کے دور میں ہوا ارے اپ اور دور نہ جائیں اپ دیکھیں ڈیڑھ سو سال سے دنیا میں ایک نظام لایا جا رہا ہے کبھی کمیونزم لایا جاتا ہے کبھی جناب کوئی اور نظام لایا جاتا ہے کسی طرح غربت ختم کر دی جائے اور اراؤنڈ دا ورلڈ ایسے معاشی پلان لائے جاتے ہیں کسی طرح غربت ختم ہو جائے مگر دنیا سے ڈیڑھ سو سال ہو گئے بہت سارے نظام لانے کی کوشش کی گئی غربت ختم نہیں ہوئی غریب غریب ہو رہا ہے امیر امیر ہو رہا ہے مگر جب اسلام کا قران کا نظام سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ نے نافذ کیا تھا حضرت عمر بن عبدالعزیز کی کتنی حکومت رہی اونلی 30 منتھز ڈھائی سال مگر ڈھائی سال میں اپ نے قران کا ایسا نظام نافذ کیا اسلام کا ایسا نظام نافذ کیا کہ ڈھائی سال کے اندر یہ حال ہو گیا تھا کہ لوگ زکات لے کر گھومتے تھے زکات لینے والا کوئی نہیں تھا حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھتے تھے گورنر کہ حضور زکات جمع ہو گئی ہے مگر ہمارے شہر میں کوئی غریب نہیں مل رہا جس کو ہم زکات دے دیں اور واللہ اج بھی یہ نظام ا سکتا ہے جو لوگ جانتے ہیں نا تاجر میری بات کو ایگری کریں گے کہ اللہ نے کچھ لوگوں کو اتنا مال دیا ہے اتنی زمینیں ہیں اتنی فصلیں ہیں کہ اگر پاکستان کے اندر سب لوگ پوری زکات دے دیں جتنی بنتی ہے تو ایک بھی غریب باقی نہیں بچے گا پرابلم یہ ہے کہ اج مال تو مل گیا ہے چونکہ قران سے دوری ہے حدیث سے دوری ہے دین سے دوری ہے خوف خدا بچا نہیں ہے کہ اگر زکات نہیں دوں گا تو یہ مال تو میرے لیے انگارا بن جائے گا یہ عذاب بن جائے گا بندہ کہتا ہے یار اتنا مال کیسے نکالوں اب ڈھائی پرسنٹ بھی بھاری لگتا ہے کروڑ روپے ہو جائیں تو ڈھائی لاکھ دینے پڑیں گے دس کروڑ ہو جائیں 25 لاکھ دینے پڑیں گے سو کروڑ ہو جائیں تو ڈھائی کروڑ دینے پڑیں گے بندہ سوچتا ہے ڈھائی کروڑ ہر سال کیسے دے سکتا ہوں یہ نہیں سوچتا کہ رب نے 100 کروڑ دیے تو ڈھائی کروڑ بنے ہیں رب نے لاکھ دیے ہیں تو ڈھائی ہزار دینے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ ڈھائی پرسنٹ بھی مسلمانوں کو وبال لگتا ہے ان کے دلوں پر بوجھ لگتا ہے یہی وہ وجہ ہے کہ دین کی دوری ہے بے برکتی ہے یہ مال ادھر ہی رہ جائے گا قران کہتا ہے الحاکم التکاثر حتی زرتم المقابر یہ پیسے کون لے کے جاتا ہے کبھی دیکھا کسی کی قبر میں تجوری ہو کسی کے کفن میں جیب ہو خالی ہاتھ جائیں گے ہم لیکن اگر زکات نہیں دی ہوگی تو یہی مال انگارا بن جائے گا عذاب بن جائے گا لیکن اصل میں ہم ہم اصل میں کیلکولیٹر پہ چلتے ہیں تاجر لوگ ہوتے ہیں کہتے ہیں یار مولوی صاحب بات تو صحیح کر رہے ہیں مگر ڈھائی پرسنٹ جب دوں گا تو پیسے تو کم ہو جائیں گے یہ پیسے کم نہیں ہوں گے واللہ ہی کم نہیں ہوں گے خدا کی قسم کم نہیں ہوں گے اب اپ کہہ رہے ہیں ابھی بھائی اپ نے قسم کھا لی میں کیوں نہ قسم کھاؤں میرے اقا نے قسم کھائی ہے سرور کائنات علیہ الصلوۃ والسلام کی حدیث ہے اور میرے اقا فرماتے ہیں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا اب جو لوگ زکات پوری دیتے ہیں میری بات کو ایڈمٹ کریں گے کہ جو اپنی زکات پوری دیتا ہے وشر پورا نکالتا ہے وہ مجھے بتا دے کیا ہر سال اپ کی زکات بڑھتی نہیں ہے کیا ہر سال اپ کا وش بڑھتا ہے کیسے بڑھ رہا ہے اس کا مطلب اپ کا مال بھی بڑھ رہا ہے اپ زکات دے رہے ہیں اپ کی ویلتھ بڑھ رہی ہے ادھر بھی بڑھ رہی ہے انشاءاللہ ادھر بھی بڑھ رہی ہے ادھر الگ ثواب ملے گا ادھر الگ اجر ملے گا تو یہ قران سے جو دوری ہے نا یہ ہمیں بڑی ذلت کی طرف لے جا رہی ہے ہمارے اسلاف اللہ اکبر قران سمجھتے کیسا تھے اور اس کو اس کو اس پر عمل کیسا کرتے تھے اپ کو پتہ ہے کہ حضرت فضیل بن ایاز رحمتہ اللہ تعالی علیہ یہ بہت بڑے ڈاکو تھے ہاں اور ان کی ہدایت کا سبب کیا بنا قران کا نور دیکھو کیسا اثر کرتا ہے اپ قران سے دوستی کر لو قران اپ کو ٹھیک کر دے گا حضرت فضیل بن ایاز کے سامنے ایک بار ایک قران پاک کی ایت پڑھی جا رہی تھی وہ ایت ہے ستائیسویں پارے کی سورہ حدید ایت نمبر 16 ایت میں میسج کیسا ہے سمجھ ائے تو پتہ چلے نا حالانکہ ہو سکتا ہے یہ ایت ہم نے بھی کئی بار سنی ہو سمجھتے تو ہیں نہیں قران کو انڈرسٹینڈ کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے ایت کیا ہے اللہ فرماتا ہے قران میں الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبهم للہ اللہ فرماتا ہے کیا ایمان والوں کو اب یہ وہ وقت نہ ایا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے اللہ اکبر یہ سننا تھا اپ زار و قطار رونے لگے اپ نے توبہ کی جتنے لوگوں کا مال لوٹا تھا سب واپس لوٹایا اب علم دین سیکھنے لگے عبادت و ریاضت پہ مصروف ہو گئے اللہ اکبر اللہ کے اتنے بڑے ولی بن گئے کہ اج زمانے میں ولیوں کے سردار کہلاتے ہیں حضرت فضیل بن ایاز کا یہ مرتبہ ہے تو علماء اسلاف اللہ کے نیک بندے جو قران سمجھتے تھے قران ان کے دل پر اثر بھی ایسے کرتا تھا اور وہ اس پر انڈرسٹینڈ کر کے عمل کرتے تھے بہت سارے واقعات ہیں اب چوتھے پارے کی پہلی ایت ہے لن تنال البر حتی تنفقوا مما تحبون اللہ قران میں فرماتا ہے تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو

[24:33]کیا کمال کا میسج ہے کون سی چیز خرچ کرنی ہے پیاری چیز ہم کون سی خرچ کرتے ہیں گھٹیا چیز جو نئی چاہیے وہ اللہ کی راہ میں دینا ہے ہمارا تو عجب مائنڈ ہے نا کھانا بچ گیا مدرسے بھجوا دو کپڑے پرانے ہو گئے غریب کو دے دو جرابیں نکلی ہوں گی پرانے جیکٹ نکلے ہوں گے رضائیاں نکلی ہوں گی جو رضائی پھٹ گئی جو جراب میں سراخ ہو گیا چلو یار اب اللہ کی راہ میں دے دو اللہ کی راہ میں وہ دینا ہے جو میرے کام کا نہیں ہے یہ ضرور اگر جو سامان ہمارے کام کا نہیں وہ دینا چاہیے لیکن اللہ کی راہ میں جب دینے کی باری ائے تو اچھا دینا ہیں کبھی ایسا ہوا کہ یار میں سویٹر خریدنے گیا اپنے لیے بھی ایک خرید لوں یہ کسی غریب کے لیے بھی خرید لوں جیسا میں پہنوں ایسا پہناؤ جو کھانا ہم کیا کرتے ہیں کھانا بچ جائے وہ غریب کو دینا ہے کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپنی ہنڈیا میں سے سب سے پہلی پلیٹ ہی غریب کے لیے نکال لیں کہ پہلے وہ کھا لے پھر میں کھاؤں کیونکہ قران کہہ رہا ہے تم ہرگز بھلائی کو نہیں پہنچو گے جب تک اپنی پیاری چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو اچھا ہمارا مائنڈ سیٹ تو ایسا ہے کہ جس کام میں فائدہ نہ بھی ہو نا وہ بھی گھٹیا دینی ہے مثال کے طور پہ کبھی نماز پڑھی جمعہ کی مسجد میں امام صاحب نے اعلان کیا کہ مسجد کے لیے چندہ دیں ہماری جیب میں ہاتھ بھی گیا چلو یار اج 10 روپے دے دیتے ہیں کسی دن سخاوت کا ذریعہ اور جوش میں اگیا 50 100 روپے کی نیت کی اب سچ بتاؤ جیب میں دو نوٹ ہیں ایک 50 کا پرانا والا ایک 50 کا نیا والا مسجد کے ڈبے میں کون سا ڈالیں گے پرانا والا ارے جو نیا والا ہے کوئی 51 روپے کا ہے وہ ہے 50 کا لیکن اللہ کی راہ میں دینا ہے نا پرانا والا خود سوچیں کہ میری رب سے محبت کیسی ہے دین کی راہ میں جب خرچ کرنا ہے مجھے کیوں گھٹیا والا ہی خرچ کرنا ہے پیسوں کی بات تو اور ہے ہمارا تو حال یہ ہے کہ اگر ہمارے دو تین بچے ہوں نا اور ایک بچہ بڑا ہوشیار ہو سمجھدار ہو تو گھر والے کہتے ہیں ارے اس کو تو ڈاکٹر بنائیں گے جو دوسرا والا بڑا حساب کتاب میں تیز ہو اس کو انجینئر بنائیں گے تیسرا والا بہت شرارتی ہو سبق بھی یاد نہ کرتا ہو اٹکتا بھی ہو زبان بھی اس کی ٹھیک نہیں بولتا ہو اس کو مدرسے میں دے دو بچہ بھی وہ دینا ہے اللہ کی راہ میں جو تمہارے کام کا نہیں ہے اچھا پھر کہتے ہیں علماء جو ہیں وہ اپ ٹو دا ڈیٹ نہیں ہیں علماء جناب دنیا کے تقاضے پورے نہیں کر رہے علماء جناب صحیح طریقے سے سمجھاتے نہیں ہیں تم نے مدرسے میں بچے کون سے دیے ہیں جو تمہارے کام کے نہیں تھے دو نا اپنے خاندان کا سب سے بہترین بچہ جس کا بریلینٹ مائنڈ ہے کہ دیکھو کیسا مفتی بن کر دین کی خدمت کرتا ہے ہمارا تو ذہن ہی یہ بن گیا ہے کہ جب اللہ کی راہ میں دینا ہے تو بچا ہوا دینا ہے اللہ سے امید رکھتے ہیں یا اللہ تو بھی نواز دے یہ اللہ کے غضب کو دعوت دینے کی بات نہیں کہ جب اپنے بچے کے لیے خریدنا ہے تو برینڈڈ خریدنا ہے اپنے لیے خریدنا ہے تو بہترین خریدنا ہے اللہ کے لیے دینا ہے تو گھٹیا دینا ہے یاد کرو یہ غلطی ہے جو ہم کر رہے ہیں اللہ قران میں فرماتا ہے تم اپنی بہترین چیز اللہ کی راہ میں اور صحابہ نے جب یہ ایتیں پڑھی نا تو صحابہ ائے نبی پاک کے پاس کہا حضور میرے سارے مال میں سب سے بہترین مال یہ تھا یہ میں اپ کو باغ پیش کرتا ہوں حضور یہ کنواں میرا سب سے بہترین تھا میں یہ کنواں پیش کرتا ہوں ہم بھی کریں نا کہ یا اللہ یہ سب سے بہترین چیز میرے مال میں ہے وہ میں تیری راہ میں خرچ کرتا ہوں پھر دیکھو اللہ اچھا اب شیطان کیا دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ یار میرے مال میں تو ایک ہی چیز سب سے اچھی ہے وہ دے دوں گا تو مجھے دوسری کہاں سے ملے گی تو تمہارے پاس ایک ہے نا میرے رب کے پاس ایک تھوڑی ہے تم ایک خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور عطا فرمائے گا اصل وہ اللہ پر بھروسہ ہے اور یہ قران سے ڈائریکٹ جب نور ملتا ہے تو اس کا مزہ ہی اور ہوتا ہے اس کی سیکھنا ہی اور ہوتا ہے ایک اخری واقعہ سنا کر اپنی بات کو ختم کرتا ہوں ورنہ باتیں تو بہت ساری ہیں کہ قران پاک سے کس طرح صحابہ کرام علیہم الرضوان جو ہے وہ سبق لیا کرتے تھے امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ یہ امام حسین کے شہزادے ہیں ایک مرتبہ اپ کی کنیز اپ کو وضو کروا رہی تھی اچھا اور اچانک اس کے ہاتھ سے برتن چھوٹ کر گرا اور امام زین العابدین کے چہرے پر لگا اور اپ کا چہرہ زخمی ہو گیا اب جیسے ہی اپ نے چہرہ اٹھا کر دیکھا نا دیکھو پہلے کی کنیزیں بھی کیسی تھیں خادمائیں خادم کیسے تھے سب کو قران اتا تھا اج بڑے بڑے ڈگری ہولڈر بیٹھے ہوتے ان کو قران نہیں اتا کیا موقع کی ایت پڑھی اس خاتون نے وہ پڑھتی ہیں والکاظمین الغیظ قران کہتا ہے اور غصہ پینے والے امام زین العابدین فورا یہ ایت سنی تو اب اچھا تلاوت کس کے سامنے ہو رہی ہے خاندان نبوت کے چشم و چراغ کے سامنے وہ نہیں قران سمجھیں گے تو کون سمجھے گا جیسے ہی قران کی ایت پڑھی نا اور غصہ پینے والے حضرت زین العابدین فرماتے ہیں میں نے غصہ پی لیا اس خاتون نے جو اگلی ایت کا حصہ تھا وہ پڑھا والعافین عن الناس اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اپ نے فرمایا کہ میں نے رضائے الہی کے لیے تجھے معاف کر دیا پہلے غصہ پی لیا اب ایت کا اگلا حصہ سنایا کہ اللہ کی خاطر معاف بھی کرتے ہیں کہتا ہے میں نے تجھے معاف کیا کنیز ایت کا اگلا حصہ پڑھتی ہے واللہ یحب المحسنین اور نیک لوگ اللہ کو محبوب ہیں امام زین العابدین کہتے ہیں جا میں نے تجھ کو ازاد کر دیا معاف بھی کیا درگزر بھی کیا ازاد بھی کر دیا کیونکہ اللہ کو غصہ پینے والے پسند ہیں معاف کرنے والے پسند ہیں میں نے تجھے غلامی سے بھی ازاد کیا اے پیارے اسلامی بھائیوں سچ بتاؤ اس خاتون نے اس کنیز نے رائٹ ٹائم قران کی تلاوت کی اللہ نے قران کی کیسی برکت عطا فرمائی امام زین العابدین نے فورا قران پر عمل کیا اللہ کرے کہ میں اور اپ اس طرح قران سمجھنے والے بن جائیں اب اپ کہیں گے جناب باتیں تو اپ بہت اچھی کر رہے ہیں مگر اج کے دور میں ہم کہاں قران پڑھیں بچپن میں پڑھا نہیں عمر زیادہ ہو گئی اب کیسے قران سیکھیں یاد رکھیے دعوت اسلامی والے صرف پرابلم نہیں بتاتے ہم سولوشن بھی بتاتے ہیں پہلے تو میں یہ ہائی لائٹ کرنا چاہتا ہوں کہ ایک مسلمان کو قران انا چاہیے ایک مسلمان کی دوستی قران سے ہونی چاہیے اس کو روز قران پڑھنا چاہیے ورنہ ایک ایک ایگزیمپل کے ذریعے بات سمجھاتا ہوں ہماری زندگی میں پیغامات کی بڑی اہمیت ہے نا اج کل واٹس ایپ اگیا ہے ضروری میسج فورا سنتے ہیں ٹھیک ہے پیغام سننے چاہیے مگر ایک بات تو بتاؤ قران کس کا پیغام ہے بتاؤ نا اللہ کا پیغام ہے 40 سال ہو گئے اپ کو ملے ہوئے 30 سال ہو گئے جو 30 سال کا ہے وہ سوچے 40 سال والا سوچے 50 سال والا سوچے اب تک نہیں پڑھا ہے اللہ کو کیا جواب دو گے کہ یا اللہ ٹائم نہیں ملا قران پڑھنے کا مل تو گیا تھا میں نے اپنی دکان پہ بھی رکھا تھا یا اللہ میرے گھر پہ بھی قران تھا ہاں میں نے قران خوانی بھی کرائی تھی پڑھنے کا ٹائم نہیں ملا تیرا پیغام سمجھنے کا ٹائم نہیں ملا سچ بتاؤ یہ جواب چلے گا اپنے دل سے پوچھو نہیں چلے گا تو پلیز مرنے سے پہلے قران پڑھیں سمجھیں اور عمل کریں دعوت اسلامی اپ کو سولوشن دے رہی ہے حل دے رہی ہے الحمدللہ ہم نے پوری دنیا میں اچھا یہ سولوشن یا یہ حل پوری دنیا میں اپ کو کہیں اور ملے گا بھی نہیں بچوں کے مدرسے اپ نے سنے ہوں گے بڑوں کے مدرسے نہیں ہوتے مگر دعوت اسلامی نے ایک یونیک کام کیا کہ مدرسۃ المدینہ بالغان بنایا اور ہزاروں ہزار کی تعداد میں ہر دوسری مسجد میں اپ کو مدرسہ مل جائے گا دعوت اسلامی کا جو بڑوں کے لیے ہوگا بچوں کے لیے نہیں اور وہ کب ہوگا مغرب کے بعد اب شام میں ائیں 15 منٹ کے لیے ا جائیں 20 منٹ کے لیے ا جائیں استاد صاحب کے سامنے اپنا تلفظ ٹھیک کریں اپنے مخارج ٹھیک کریں اور قران پڑھنا شروع کر دیں انشاءاللہ جب اپ قران پڑھنے لگیں گے اور اب تو ماشاءاللہ ہم نے اردو ترجمہ اسان پھر اردو تفسیر صراط الجنان اس کی ایپلیکیشن الگ بنا دی ڈاؤن لوڈ فیسلیٹی میں فری ڈاؤن لوڈ الگ دے دیا کہ پیسے خرچ نہیں کرنے بھائی بوٹی بوٹی اور بہت ساری چیزیں خرید لیں گے نہیں خریدیں گے تو قران اور تفسیر نہیں خریدیں گے چلو بھائی فری میں موبائل میں ڈاؤن لوڈ کر لو فری میں ایپلیکیشن ڈال لو اب تو الحمدللہ ہم اڈیو تفسیر قران بھی دے رہے ہیں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں میں پڑھنا نہیں اتا چلو ان کا بھی بہانہ ختم ہو جائے سننا تو اتا ہے سننا شروع کر دو اپ کو اڈیو میں تفسیر قران دے رہے ہیں پھر بھی قران نہیں پڑھنا ہے پھر بھی قران نہیں سمجھنا ہے تو قصور کس کا ہے

[32:20]یاد رکھو وہ دل ویران ہے جس میں کچھ قران نہیں ہے اللہ کرے کہ اج کا یہ اجتماع کنری میں انے والے عاشقان رسول کے دلوں میں یہ فکر پیدا کر دے کہ اب روز قران پڑھوں گا کچھ ایتیں اس کی سمجھنے کی بھی کوشش کروں گا اور انشاءاللہ اس پر عمل بھی کروں گا دعوت اسلامی قران و سنت پھیلانے والی ایک عالمگیر تحریک ہے اس تحریک سے وابستہ رہیں میں گزارش کروں گا کہ جو اپ تعاون کر رہے ہیں اپنے تعاون کو جاری رکھیں انے والی نسلوں کو اگر ہم نے قران و حدیث کی طرف لانا ہے ہماری نسلوں کو گناہوں سے بچانا ہے تو یہ دعوت اسلامی ہمارے پاس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے کہ جتنا اس کو بڑھائیں گے انشاءاللہ انے والے بچے بچیاں ان سب کے لیے بہت کچھ سیکھنے سکھانے کو ملے گا اللہ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اج کے اجتماع کی برکتیں عطا فرمائے مزید ایسے بیانات سننے کے لیے مدنی چینل دیکھتے رہیے انشاءاللہ مزید بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا صلو علی الحبیب صلی اللہ تعالی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript